#indiandrama #hindidubbed #aladdin #movies #latestmovies #famousdrama #magicmovies #magicdrama #magicshow #yasmine #rukhsaar #zafar #sardar #jinnu #omar #nazneen #chqchi #piddi #gulbadan #mallika #mehjabeen
Category
😹
FunTranscript
00:00मुसा के तीन को छोड़ दो, कहो कि फिराउन के सिवा कोई खुदा नहीं, वरना मैं तुम्हें जान से मार
00:06दूंगा
00:06तुम सिर्फ एक कमजोर इनसान हो, फिर भी तुम खुदा होने का दावा करते हो फिराउन, अल्ला की कसम मैं
00:14कभी इंकार नहीं करूंगी
00:15मिसर की अजीम मलिका को, उनके आलिशान महलाद से घसीट कर, जल्दी हुई रेट के बीचो बीच लाया गया
00:24और आखिर कार, उनके हाथ और पाउं लकडी की मीखों से जड़ दिये गए, उन्हें उनकी अपनी कौम के सामने
00:32रुस्वा किया गया
00:33कोडों की जालिमाना जर्बों ने उनका जिस्म चलनी कर दिया
00:39मगर फिर भी उन्होंने यही कहा, मेरा रब अल्ला है
00:43यहां तक के कोडों की नाकाबले बरदाश तकलीफ में भी, आसिया के चेहरे पर सिर्फ मुस्वराहट थी
00:50अपनी तमाम तर बेबसी के साथ, वो अपने रब के तरफ मतवचा हुई और कहा
00:54एए मेरे रब, मेरे लिए जन्नत में अपने पास एक घर बना दे
00:59और मुझे फिरॉन और उसके अमल से निजात दे
01:02और मुझे जालिम कौम से छुटकारा अता फर्मा
01:06जैसे ही उन्होंने आखरी सासे ली, उनके रब ने उन्हें जन्नत में उनका घर दिखा दिया
01:12बिलाखिर वो फिरॉन के कुफर के महल को छोड़ कर अपने रब के महल में ताखिल हो रही थी
01:18ये एक ऐसी खातून की कहानी है जिनकी तारीफ नभी पाक ने जन्नती खवातीन के दर्मियान फरमाई
01:24एक ऐसी खातून जिन्होंने अपने इमान को एक रास की तरह दिल में बसाई रखा
01:28और एक ऐसी खातून जो मुस्कुराते हुए जन्नत की तरफ कामसन हो गई
01:32This is a story of the S.A.A.I.S.
02:03Can you wait to see the
03:01Firaun نے اپنے آدمیوں کو دریا کے بیچ و بیچ چپوترے بنانے کا حکم دیا
03:05جہاں دن رات جشن منائے جاتے
03:07موسیقی کی آواز ہواوں میں بکھرتی
03:10اور ہر طرف کہکائے گونشتے
03:13بھونے ہوئے گوشت ہر قسم کی مٹھائیوں سے بھرے میس
03:16اور مشروبات اور سونے کے پیالے
03:19ہر کسی کو حیرت میں ڈال دیتے
03:21لیکن اس تمام تر دولت کے باوجود
03:24آسیا کو وہ سکون نہیں مل رہا تھا
03:26جس کی انہیں تلاش تھی
03:28اور جیسے جیسے دن گزرتے گئے
03:31ایک رات گہری نیند کے عالم میں
03:33Firaun نے ایک چانکہ دینے والا خواب دیکھا
03:36اے Firaun
03:38اللہ جو اس کائنات کا خالق ہے
03:41اور جس نے تمہیں یہ بادشاہت دی
03:43وہ بنی اسرائیل میں ایک بیٹا پیدا کرے گا
03:46وہ بچہ تمہاری سلطنت اور تمہارے تخت کو تباہ کر دے گا
03:51وہ تمہاری خوشیاں چھین لے گا
03:54اور تمہاری زندگی عجیرن کر دے گا
03:56زمین کی بادشاہت ان کے ہاتھوں میں چلی جائے گی
04:01اور تمہاری قوم ان کے ہاتھوں غلام بن جائے گی
04:05Firaun ہاپتے ہوئے پسینے میں شرابوں اور نیند سے جاک اٹھا
04:09وہ پوری رات سو نہ سکا
04:11اس خواب کی وجہ سے بھی چینی سے بستر پر کروٹے بدلتا رہا
04:15اپنی وہ خلاہت میں اس نے شہر کے جادوگروں اور نجومیوں کو اپنے دربان میں طلب کیا
04:20اس نے کھڑے ہو کر انہیں اپنا خواب سنایا
04:26نجومیوں نے خاموشی سے اس کی بات سنی
04:29اور وقفے وقفے سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
04:31ان کے چہروں پر خوف پھیل گیا
04:35جی ہاں اس کے خواب کی تابیر واضح تھی
04:39جادوگر حقیقت سمجھ چکے تھے
04:42بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا
04:46وہ آپ کی سلطنت کو تباہ اور آپ کے مذہب کو ختم کر دے گا
04:51ویرون کا چہرہ زرد پڑ گیا
04:53اس کا سانس رکنے لگا
04:54یہ پیشنگوئی نہ صرف اس کی بادشاہت کے لیے چیلنج تھی
04:58بلکہ اس کے خدا ہونے کے دعوے کے لیے بھی
05:00کیا کوئی اس سے بھی زیادہ طاقتور آنے والا تھا
05:03کیا ایک بچہ اس ظالمانہ نظام کو تباہ کرنے کے لیے پیدا ہوگا
05:07جو اس نے بنایا تھا
05:08یہ خیال ہی اسے پاگل کرنے کے لیے کافی تھا
05:11اس کا خوف جلد ہی غصے میں بدل گیا
05:14غصے نے اسے اندھا کر دیا
05:16بلاخر اس نے وہ خوفناک حکم جاری کر دیا
05:19بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو
05:24پیدائش کے فوراں بعد قتل کر دیا جائے
05:27مگر لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا جائے
05:31اس دن کے بعد سے مصر کی ماں کے لیے
05:34زندگی ایک جاکتے ہوئے بھیانہ خواب میں بدل گئی
05:37ہنو زائدہ لڑکے کو فیرون کے سپاہی
05:39زندگی سے محروم کر دیتے
05:41اس سے پہلے کہ وہ اپنی ماں کی خوشبو پہچان بھی باتا
05:44گھروں کے دروازے توڑ دیئے گئے
05:47ماں کی چیخوں سے گلیاں بھر گئی
05:50اور آسمان ماسوموں کے رونے کی آوازوں سے گونج اٹھا
05:54اور وہ مایوس کنچیخیں
05:56محل کی موٹی دیواروں کو چیرتی ہوئی
05:59آسیا کے دل تک جا پہنچی
06:01ایک طرف فیرون تھا
06:03جس نے اپنے خوفناک ظلم سے ہر کسی کو لرزا رکھا تھا
06:07دوسری طرف آسیا تھی
06:09جو اپنے پاکیزہ دل میں رحم اور شفقت لے ہوئے تھی
06:13وہ ایک ہی محل میں رہتے تھے
06:15مگر ان کی دنیا ایک نہیں تھی
06:19ہر چیخ کسی دوسری ماں کا درد اپنے ساتھ لاتی تھی
06:22اور یہ ان کے دل کو بھی جلا دیتی تھی
06:25اور ظلم کے ان تاریخ ترین دنوں میں
06:27آسیا کا دل آہستہ آہستہ
06:30ان جھوٹی طاقتوں سے دور ہوتا جا رہا تھا
06:32اور صرف واحد حقیقی طاقت کو تلاش کر رہا تھا
06:35کیونکہ معصوم لوگوں پر اس تمام ظلم کے پیچھے
06:39ایک قیبی منصوبہ کام کر رہا تھا
06:42فیرون منصوبے پر منصوبے بنا رہا تھا
06:45اپنی فوجوں اور نجومیوں کو متحرک کر رہا تھا
06:49مگر اپنی تمام تر طاقت کے باوجود
06:51وہ اللہ کے فیصلے کے سامنے ٹھہر نہ سکا
06:54وہ ظالم جو خدا ہونے کا دعویٰ کرتا تھا
06:58خوف زدہ تھا کہ اس کا تخت
07:00ایک بچے کی ساس سے لرز اٹھے گا
07:03اس کی تمام تر شان و شاکت کے نیچے
07:05ایک بہت ہی کمزور اور ڈرہ ہوا دل تھا
07:10انہی دنوں میں
07:11تمام تر دباؤ اور سخت پہروں کے باوجود
07:14ایک ماں نے جس کا دل خوف سے دھڑک رہا تھا
07:18چھپ کر ایک بیٹے کو جنم دیا
07:20یہ وہ بچہ تھا جو فیرون کی بادشاہت کا خاتمہ کرنے والا تھا
07:25اور ظلم کے تخت کو ہلانے والا تھا
07:27وہ بچہ جس کا سب کو انتظار تھا
07:31اور فیرون کے تمام تر انتظامات کے باوجود
07:33وہ اللہ کی حفاظت میں دنیا میں تشریف لے آئے
07:37مگر پیدا ہونا ہی صرف مسئلہ نہیں تھا
07:40اصل امتحان اس ظالمانہ نظام کے اندر زندہ رہنا تھا
07:44ہاں وہ بچہ موسیٰ علیہ السلام تھے
07:48اور انہوں نے اپنے رب کی حفاظت میں زندگی کا دامن تھامے رکھا
07:52ایک طرف متقبر فیرون تھا
07:56جو پوری نسل کو مٹانے پر طلا ہوا تھا
07:59اور دوسری طرف ایک بے بس بچہ
08:02پہلی نظر میں اس جنگ کا فاتح یقینی نظر آتا ہے
08:06مگر جب اللہ چاہتا ہے
08:08تو سارے منصوبے خاک میں مل جاتے ہیں
08:10اور سارے توازن بدل جاتے ہیں
08:12تب بھی ایسا ہی ہوا تھا
08:14اور یقین کیجئے آج بھی کچھ نہیں بدلا
08:17ہاں شاید آپ کے سامنے فیرون اور اس کی فوجیں نہیں کھڑی
08:22لیکن آپ ایسی مشکلات اور پریشانیوں میں گھرے ہیں
08:25جو ناکابل تسقیر لگتی ہیں
08:27اور آپ کو ندھال کر دیتی ہیں
08:29جس لمحے آپ کہتے ہیں کہ اب سب ختم
08:31اور آپ اپنی بیبسی میں ہوتے ہیں
08:33بس اسی وقت اللہ کی مدد شروع ہوتی ہے
08:36قرآن ہمیں یہ طاقتور حقیقت یوں بتاتا ہے
08:40اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا
08:44اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے
08:45تو پھر کون ہے جو تمہاری مدد کر سکے
08:48ہاں بچہ پیدا ہو چکا تھا
08:50مگر ماں کو فیرون کے شر کا خوف تھا
08:53اور سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اپنے بچے کو کیسے بچائیں
08:56تو این اسی مایوسی کے لمحے میں
08:58اللہ نے ان کے دل میں بات ڈالی
09:00اسے دودھ پلاتی رہے
09:02پھر جب تجھے اس کے متعلق خطرہ محسوس ہو
09:04تو اسے دریاں میں ڈال دے
09:06اور نہ ڈرنا اور نہ غم کرنا
09:08ہم یقیناً اسے تیری طرف لوٹائیں گے
09:10اور اسے رسولوں میں سبنائیں گے
09:12اس الہام نے انہیں سکون بکشا
09:15انہوں نے فوراں ایک بڑھائی سے لکڑی کا
09:17ایک چھوٹا صندوق خریدا
09:18اور گھر واپسی پر انہیں گلی میں
09:20فیرون کی آتھ میں نظر آئے
09:24ان کا دل جیسے حلق میں آ گیا
09:29مقابرہت میں گھر کی طرف بھاگی
09:33لیکن موسیٰ وہاں نہیں تھے
09:36انہوں نے خوف صدا ہو کر اپنی بیٹی کو دیکھا
09:38موسیٰ کی بہن نے اپنے بھائی کو چھپا دیا تھا
09:41ماں نے سکون کا ایک گہرا سانس لیا
09:44لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ اب اس راس کو مزید چھپا نہیں سکتی
09:48فیرون کی سباہی کسی وقت بھی اندر گھس سکتے تھے
09:53اسی وقت انہیں وہ الفاظ یاد آئے
09:55جو اللہ نے ان کے دل میں ڈالے تھے
09:57بلاخر موسیٰ کو دریائے نیل کے سپرت کرنے کا وقت آ گیا تھا
10:03کاکتے ہوئے ہاتھوں سے
10:05موسیٰ کی والدہ نے اپنے بچے کو سندوق میں رکھا
10:08اور آخری بار اس کے ماسون چہرے کو دیکھا
10:13ان کی آنکھوں سے آنسو بہن نکلے
10:15جیسے ہی انہوں نے ڈھکن بند کیا
10:17انہیں محسوس ہوا جیسے ان کا دل چیر دیا گیا ہو
10:20اور ان کی آنکھیں عشقبار ہو گئیں
10:22انہوں نے سندوق کو دریائے نیل میں ڈال دیا
10:27سندوق آہستہ آہستہ لہروں پر بہنے لگا
10:29انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا
10:31کہ وہ اس سندوق پر نظر رکھے
10:33جو اس کے بھائی کو لے جا رہا ہے
10:34کسی کی نظروں میں آئے بغیر
10:36موسیٰ کی بہن دریائے کے کنارے کنارے چلتی رہی
10:39جیسے جیسے سندوق پانی کے بھاو کے ساتھ تیرتا جا رہا تھا
10:42اور کچھ دیر بعد وہ ٹھٹک کر رک گئی
10:45کیونکہ اس نے دیکھا
10:46کہ دریائے اس سندوق کو سیدھا
10:48اسی خطرے کے جبروں میں لے جا رہا تھا
10:50جس سے وہ بھاگ رہے تھے
10:51یعنی فیرون کے محل کی طرف
10:54فیرون باہر کھڑا
10:55دریائے کی طرف دیکھ رہا تھا
10:57اچانک پانی پر تیرتے ہوئے سندوق نے
10:59اس کی توجہ کھیچ لی
11:00اس نے فوراں اپنے خادموں کو پکارا
11:03اس سندوق کو میرے پاس لے آؤ
11:07خادموں نے حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھا
11:09پھر سندوق کو پانی سے نکالنے کے لیے دوڑ پڑے
11:12تھوڑی دیر بعد
11:18ان کی نظریں سندوق پر جمی ہوئی تھی
11:21آہستہ آہستہ ڈھککن کھولا گیا
11:24یہ بچہ لڑکا ہے
11:27اسے قتل کر دو فوراں
11:29مگر جس لمحے آسیا نے بچے کو دیکھا
11:32ان کے دل میں ممتہ کی لہر دوڑ گئی
11:34کیونکہ وہ اولاد کی نیمت سے محروم تھی
11:36یہ بچہ ہم دونوں کی آنکھوں کی تھنڈک بنے گا
11:40اسے قتل نہ کرو
11:41شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے
11:43یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں
11:45مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے
11:47لیکن آسیا اس کے لئے بہت خاص تھی
11:50فیرون نے خود کو خدا قرار دے رکھا تھا
11:52اور وہ فوجوں پر حکمرانی کرتا تھا
11:54لیکن وہ آسیا کو نا نہیں کہہ سکتا تھا
11:57اور بلاخر
11:58وہ سنگ دل فیرون بھی آسیا کی درخواست کو رت نہ کر سکا
12:03اور یوں اس نے بچے کو قبول کر لیا
12:05وہ ننہ بچہ
12:08اب اس سرد مہر مہل میں
12:09آسیا کی گرم جوش اور شفیق گود میں پروان چڑھے گا
12:14آسیا نے اپنی باہو میں موجود بچے کو محبت سے دیکھا
12:18پھر انہوں نے کہا
12:19تمہارا نام موسیٰ ہوگا
12:22اور قرآن اس لمحے کو یوں بیان کرتا ہے
12:25پھر فیرون کے گھر والوں نے اسے اٹھا لیا
12:28تاکہ وہ آگے چل کر ان کے لئے دشمن اور غم کا باعث بنے
12:34تقدیر کا کیا ہی خوبصورت مور تھا
12:37ایک جان جو فیرون کے ظلم سے بھاگ رہی تھی
12:40اب اسی ظلم کے مرکز میں آسیا کے مہربان دل میں پناہ پا رہی تھی
12:44آسیا نے اس آلی شان محل کو
12:47ایک محفوظ پناہ کا بنا دیا تھا
12:49جہاں ایک نبی نے پرورش پانی تھی
12:53لیکن ایک مسئلہ تھا
12:55ننہ موسیٰ نے کسی بھی دایا کا دودھ پینے سے انکار کر دیا
12:59جو وہ ان کے پاس لاتے تھے
13:02انہوں نے جتنی بھی کوشش کی
13:03بچہ اپنی ماں کی خوشبو تلاش کرتا رہا
13:06اور اسے اجنبی بازووں میں سکون نہ ملا
13:10مصر کی بہترین خواتین کو محل میں لایا گیا
13:14لیکن ہر بار
13:15ننہ موسیٰ نے روتے ہوئے اپنا چہرہ پھیر لیا
13:18بچے کو اس حال میں دیکھ کر آسیا کا دل ٹوٹنے لگا
13:23آخر کار مایوسی کے عالم میں انہوں نے حکم دیا
13:26جتنی بھی دایا تم تلاش کر سکتے ہو محل میں لے آؤ
13:29خواتین ایک کے بعد ایک آتی گئی
13:32لیکن ہر بار موسیٰ مو پھیر لیتے
13:35اور ایک کترہ بھی پینے سے انکار کرتے تھے
13:37اللہ تعالیٰ قرآن میں اس لمحے کو اس طرح فرماتا ہے
13:40اور ہم نے پہلے ہی اس پر دایا کا دودھ حرام کر دیا تھا
13:46آسیا کے دل میں ایک ناقابل بیان درد جاگا
13:50کیا ہوگا اگر یہ بچہ بھوک سے مر گیا
13:53کیا ہوگا اگر یہ میرے بازووں میں دم توڑ دے
13:55محل کی عورتوں میں سراسیمگی پھیل گئی
13:58اے معزیز ملکہ اگر یہ لڑکا مصری عورتوں کا دودھ نہیں پیتا
14:03تو شاید یہ بنی اسرائیل کی ان عورتوں کا دودھ پیلے
14:06جن کے لڑکے قتل کر دیے گئے ہیں
14:08آئیے پیغام بھیجیں
14:10ہر جگہ خبر پھیلا دو
14:12جو بھی عورت آ کر اس بچے کو دودھ پلائے گی
14:15میں اس کی حفاظت کروں گی
14:17میں اسے امان اور بڑا انام دوں گی
14:20اسی اصنام بے موسیٰ کی والدہ
14:22اپنے بچے کی جدائی میں تڑپ رہی تھی
14:24آنسو ان کے رکھساروں پر بہ رہے تھے
14:27ان کا دل سوالوں سے بھرا ہوا تھا
14:29اب اسے کس نے تھاما ہوگا
14:31کیا وہ بھوکا ہے
14:32کیا وہ رو رہا ہے
14:34جی ہاں
14:35انہوں نے اپنے رب پر بھروسہ کیا تھا
14:37لیکن پھر بھی وہ ایک ماں تھی
14:40یہ سوچ کے جس بچے کو انہوں نے
14:43اپنے ہاتھوں سے فراؤن سے بچایا
14:45وہ اب تک دیر کے اُلٹ پھیر سے
14:47اسی ظالم کے محل میں ہے
14:50یہ سوچ ان کے دل کو آگ کی طرح چلا رہی تھی
14:53بیچینی ان کے لئے نا کابلے برداشت تھی
14:55تو انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا
14:57جاؤ اپنے بھائی کی خبر لاؤ
14:59دیکھو وہ کس حال میں ہے
15:01موسا کی بہن نے محل کے اندر کی پریشانی کے بارے میں سن رکھا تھا
15:05جیسے ہی اسے معلوم ہوا
15:07کہ عورتیں بچے کے لئے مناسب دایا نہیں ڈھونڈ سکی
15:10وہ محل میں داقل ہونا چاہتی تھی
15:12اس نے ان کے پاس جا کر کہا
15:14کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا بتاؤں
15:16جو تمہارے لئے اس کی پرورش کرے
15:18اور اس کا خیال رکھے
15:20جلدی بولو
15:21تم اس بچے کی کیا لگتی ہو
15:23اور تم نے یہ کیوں کہا
15:24اور تم کس خاندان کی بات کر رہی ہو
15:27میں ایک غریب خاندان کی بیٹی ہوں
15:29اس بچے نے کسی کا دودھ نہیں لیا
15:31لیکن میں ایک ایسے خاتون کو جانتی ہوں
15:32جن کا دودھ پینے سے یہ کبھی انکار نہیں کرے گا
15:35اگر آپ چاہے تو میں انہیں آپ کے پاس لا سکتی ہوں
15:37جاؤ انہیں لے آؤ فوراں
15:39اگر یہ بچہ دودھ پی لے
15:41تو ہم تمہیں انعام دیں گے
15:44خوشی اور جوش کے ساتھ
15:45بہن اپنی ماں کی طرف بھاگی
15:47جب اس نے انہیں خوشخبری دی
15:49تو ماں کا دل اچھل کر باہر آنے کو تھا
15:52انہوں نے اپنے بچے سے ملنے کی
15:54کتنی تڑپ کے ساتھ دعا مانگی تھی
15:57اور اب وہ لمحہ بلاقر آ ہی گیا
16:02خادماؤں نے موسیٰ کو ان کی ماں کی گودھ میں دے دیا
16:06ننے بچے نے فوراں اپنی ماں کی خوشبو پہچان لی
16:10اور دودھ پینا شروع کر دیا
16:13آزیا کا چہرہ کھل اٹھا
16:14خوشی کے آسو ان کے رکھ ساروں پر بہ نکلے
16:18انہوں نے موسیٰ کی والدہ
16:20اور ان کے خاندان کو محل میں مدو کیا
16:22اور قرآن اسے یوں بیان کرتا ہے
16:25اس طرح ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا
16:28تاکہ اس کی آنکھیں تھنڈی ہوں
16:30اور وہ غمگین نہ ہو
16:32اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے
16:35لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
16:37اور یوں
16:38ننے موسیٰ نے اپنی ماں کی محبت کی گرمی محسوس کی
16:42وہ اسی ظالم کے محل کے این درمیان
16:45آزیا کی شفقت کی بدولت
16:47حفاظت سے پروان چڑھنے لگے
16:49وقت کے ساتھ ساتھ
16:51فیرون بھی موسیٰ کا عادی ہو گیا
16:53جب موسیٰ اس کے پاس نہ ہوتے
16:56تو وہ بے چین ہو جاتا
16:57اسے تب تک چین نہ آتا
16:59جب تک وہ انہیں گود میں نہ اٹھا لیتا
17:01محل کی آسائشیں
17:02ننے موسیٰ کے سامنے بچھا دی گئیں
17:04کھانا
17:05سونے کے پیالے
17:06ریش میں لباس
17:07اور وقت آہستہ آہستہ گزرتا گیا
17:10ایک دن فیرون نے بیچ اینی محسوس کی
17:13اور کہا
17:13جاؤ موسیٰ کو میرے پاس لے آؤ
17:16اس نے ننے موسیٰ کو اپنی گود میں اٹھایا
17:19اور ان کے ساتھ کھیلنے لگا
17:21مگر اچانک
17:22اپنے ننے ہاتھوں سے
17:23موسیٰ نے فیرون کی داڑی پکڑ لی
17:25اور اسے کھینچا
17:26فیرون اپنا توازن کھو بیٹھا
17:28اور اس کا تاج زمین پر گر گیا
17:31محل میں خاموشی چھا گئی
17:33جادو کر خبر آ گئے
17:35یہ لڑکا
17:36بہت خطرناک ہے
17:38اسے قتل کر دو فوراں
17:41اے بادشاہ
17:42یہ صرف ایک بچہ ہے
17:43یہ نہیں جانتا کہ کیا کر رہا ہے
17:45اسے نقصان نہ پہنچاؤ
17:47مجھے در ہے کہ یہ بچہ
17:49وہی ہو سکتا ہے
17:50جس کی پیشن گوئی کی گئی ہے
17:52کیا تم نے نہیں دیکھا
17:54اس نے میرے ساتھ کیا کیا
17:55اس نے میرا تاج گرا دیا
17:57میری داڑی نوچ ڈالی
17:59اگر آپ چاہے تو
18:00اسے آزما لیں
18:01اس کے سامنے سونا اور آگ رکھ دیں
18:04اگر وہ سونے کی طرف ہاتھ بڑھائے
18:05تو وہ سمجھ بوچ رکھتا ہے
18:07لیکن اگر وہ آگ کی طرف جائے
18:09تو جان لے کہ وہ معصوم ہے
18:10پھر آپ خاموخہ
18:12اس کا خون بہائیں گے
18:14اگر اس نے سونے کو ہاتھ لگایا
18:16تو اسے قتل کر دو
18:17لیکن اگر اس نے آگ کو چھوا
18:18تو اسے چھوڑ دو
18:19ایک بڑا تھان لائیا گیا
18:21اس پر شمکتے ہوئے سونے کے ٹکڑے
18:24اور دہکتے ہوئے انگارے تھے
18:25سب نے سانسے روک کر دیکھا
18:27کہ موسا کیا کریں گے
18:29نن نے ہاتھ آہستہ سے
18:31سونی کی طرف بڑھے
18:32لیکن این اسی لمحے
18:34اللہ کے حکم سے
18:36جبرائیل علیہ السلام نے آ کر
18:38ان کا ہاتھ آگ کی طرف مور دیا
18:41موسا نے انگارے کو پکڑا
18:43اور اپنے مو تک لے آئے
18:44پل بھر میں
18:45ان کا ہاتھ اور زبان چل گئے
18:48ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے
18:50اور وہ درد سے رونے لگے
18:52اس وقت کسی کو احساس نہیں ہوا
18:55لیکن اس جلن نے ان کی زبان پر
18:57ایک دائمی نشان چھوڑ دیا
18:58برسوں بعد جب وہ بڑے ہوئے
19:01تو ان کی الفاظ روانی سے
19:02عدا نہیں ہوتے تھے
19:03ان کی زبان میں لکنت تھی
19:05فیرون نے سکون کا گہرا سانس لیا
19:07اس کے چہرے سے تناؤ غائب ہو گیا
19:10تو یہ نادان ہے
19:12اور آسیہ اپنی تمام تر ہمت کے ساتھ
19:15مستقبل کے نبی کے لیے
19:16ایک ڈھال بن گئی
19:17اور اپنی باتوں سے ایک بار
19:19پھر ظالم کا فیصلہ پدل دیا
19:23برسوں بیٹ گئے
19:24موسا محل کی دیواروں کے اندر
19:26ایک مضبوط
19:27صاف سمیر اور باقردان
19:29روجوان کے طور پر پروان چڑھے
19:31انہوں نے اسکری کمان سے لے کر
19:33قیادت اور اچھے اخلاق تک
19:35کئی شعبوں میں تربیت حاصل کی
19:37وہ اپنے اردگرد کے گناہوں سے دور رہے
19:40اور ایک پاکیزہ جوانی گزاری
19:42آسیہ نے ہمیشہ محسوس کیا تھا
19:44کہ وہ کوئی عام بچے نہیں تھے
19:46موسا کو محل کی جھوٹی آسائشوں میں
19:48کبھی دلچسپی نہیں تھی
19:49اس کے بجائے انہیں باہر کے
19:51مظلوم لوگوں کی تکلیفوں کا احساس تھا
19:54وہ نائنصافی کے سامنے
19:55کبھی خاموش نہیں رہتے تھے
19:57اور اپنے اندر کی اس آواز کو
19:58کبھی دبا نہیں سکتے تھے
20:00جو کس ظلم کے خلاف بولتی تھی
20:02پھر ایک دن
20:03اللہ کی مرضی سے انہیں محل سے بھاگنا پڑا
20:06وہ قتل ہونے والے تھے
20:07آٹھ دن تک
20:09وہ ویران زمینوں اور سہراؤں سے کسرے
20:11بغیر کھانے کے
20:12دور دراز علاقوں کی طرف بڑھتے ہوئے
20:15وہی رائے احمر کے ساحلوں کے قریب
20:17مدین کی طرف
20:19آسیہ کی آنکھیں آسوں سے بھر گئی
20:21اور ان کا دل بھاری تھا
20:23ایک ناقابل بیان غم کے ساتھ
20:25ماضی کی یادیں ان کے ذہن میں گردش کرنے لگیں
20:28ایک ایک کر کے
20:29دریائے نیل کی لہروں سے نکالا گیا
20:31وہ نننا بچہ
20:32وہ پہلا لمحہ
20:33جب انہوں نے اسے اپنی باہو میں لیا
20:35وہ مشکلات جو انہوں نے اس کی حفاظت کے لیے جھیلی
20:38وہ دن جب اس کی حسی نے
20:40محل کی سر دیواروں کو گرمایا تھا
20:42سب ان کے ذہن میں واپس آ گئی
20:46اور اب وہ بچہ
20:48جسے انہوں نے سینے سے لگایا اور حفاظت کی
20:51ایک مقدس امانت کی طرح اب بڑا ہو چکا تھا
20:54اور ان کے ہاتھوں سے نکل رہا تھا
20:55دراصل یہ سفر حضرت موسا کو
20:58ایک عظیم مشن کے لیے تیار کر رہا تھا
21:00جو ایک دن ظلم کو شکست دینے والا تھا
21:03موسا کئی سال مدین میں رہے
21:05انہوں نے وہاں اپنا گھر بسایا
21:07اور زندگی گزاری
21:08اپنے پیاروں کے ساتھ
21:09پرسکون دن گزارتے ہوئے
21:11پھر بھی ان کے دل کی گہرائیوں میں
21:12موجود تڑپ
21:13کبھی مدھم نہیں ہوئی
21:15انہیں اپنی پیدائش کی سرزمین
21:16اپنی ماں اور بہن بھائیوں کی یاد ستاتھی تھی
21:19کئی سال بیٹ چکے تھے
21:20انہوں نے سوچا کہ شاید فیرون مر چکا ہوگا
21:23اور وہ اس امید پر قائم رہے
21:24کہ خطرہ ٹل چکا ہے
21:26انہی جذبات کے ساتھ
21:27انہوں نے اپنے اہل خانہ کھولیا
21:29اور اس مصر کی طرف روانہ ہو گئے
21:30جس کی انہیں حسرت تھی
21:32اور اس سفر کے دوران
21:33جب انہوں نے تور پہاڑ کے دامن میں رات گزاری
21:36تو اچانک انہیں دور
21:38ایک آگ چمکتی ہوئی نظر آئی
21:40تجسس اور جوش کے ساتھ
21:42وہ اس روشنی کی طرف بڑھے
21:43اور جیسے ہی قریب پہنچے
21:45تو انہیں اپنے رب کی آواز سنائی تھی
21:47اے موسا
21:49بے شک میں ہی تیرا رب ہوں
21:51لہٰذا اپنے جوتیں اتار دو
21:53بے شک تم توا کی مقدس وادی میں ہو
21:56فیرون کے پاس جاؤ
21:58کہ اس نے واقعی سرکشی کی انتہا کرتی ہے
22:03اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہنے والا تھا
22:06موسا
22:07جو کبھی فیرون کے محل میں پلے بڑے تھے
22:10اب ایک نبی تھے
22:12جو اپنے رب کا پیغام لے کر جا رہے تھے
22:14اور اللہ کے حکم سے
22:16وہ ظلم کے مرکز کی طرف واپس چلنے لگے
22:20یعنی فیرون کے محل کی طرف
22:22وہ ان پتھریلی دیواروں کی طرف لوٹ رہے تھے
22:25جہاں انہوں نے اپنا بچپن گزارا تھا
22:28اس بار خاموش رہنے کے لیے نہیں
22:30بلکہ حق کا اعلان کرنے کے لیے
22:32تو اپنی تمام تر آجزی کے ساتھ
22:35وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا کی
22:37اے میرے رب
22:39میرا سینہ کھول دے
22:40اور میرا کام میرے لئے آسان کر دے
22:43اور میری زبان کی گرہ کھول دے
22:45تاکہ وہ میری بات سمجھ سکے
22:48اور میرے خاندان میں سے میرا ایک مددگار بنا دے
22:51میرے بھائی حارون کو
22:52اس کے ذریعے مجھے مضبوط کر اور اسے میرے کام میں شریک کر دے
22:56اور سب سے زیادہ رحم کرنے والے نے جواب دیا
22:59اے موسیٰ تمہیں تمہاری مانگی ہوئی چیز عطا کر دی گئی
23:02ان کی دعا قبول ہوئی
23:05اللہ نے ان کے بھائی حارون کو بھی نبی مقرر کر دیا
23:10اور یوں دو نبی چلنے کے لیے تیار تھے
23:13شانہ بشانہ اپنے رب کے مشن کے لیے
23:16جب موسیٰ اور حارون محل میں داخل ہوئے
23:19تو وہاں سب موجود تھے
23:22آسیہ وہ نرم خود شفیق خاتون
23:24جنہوں نے کبھی انہیں پالا تھا
23:26اور فیرون جس کا تکبر آسمانوں کو چھو رہا تھا
23:30خدا ہونے کا دعوے دار
23:31اس آلی شان محل میں
23:34سنگے مرمر کے سیتونوں کے سائے
23:36اور سنہری تختوں کے درمیان
23:38پہلی بار کسی اور رب کا نام پکارا گیا
23:42موسیٰ نے اپنے رب کے حکم سے کلام کیا
23:45وہ اس شخص سے کہہ رہے تھے
23:46جو خدا ہونے کا دعویٰ کرتا تھا
23:48تم خدا نہیں ہو
23:49کیا ہم نے بچپن میں تیری پرورش نہیں کی تھی
23:53کیا تم برسوں سے ہمارے ساتھ نہیں رہے
23:55پھر تم نے وہی کیا جو تم نے کیا
23:58پھر بھی تم نا شکرے ہو
24:01مگر موسیٰ کی الفاظ
24:03آسیہ کے دل پر گہرا اثر کر رہے تھے
24:05ایک نئی حقیقت کے دروازے کھول رہے تھے
24:08ہر جملے کے ساتھ جو وہ سن رہی تھی
24:10وہ ہل کر رہ گئی
24:12اور قدم با قدم
24:13وہ ایمان کے قریب ہوتی جا رہی تھی
24:15جی ہاں
24:17ان کے سامنے کھڑا شخص اب وہ بچہ نہیں تھا
24:19جسے انہوں نے کبھی نیل سے بچایا
24:21اور پالا تھا
24:23وہ اللہ کا رسول بن چکا تھا
24:25حق کی پکار لگاتے ہوئے
24:29لیکن فیرون انکار کرتا رہا
24:31وہ دھمکیاں دیتا رہا
24:32اور سننے سے انکار کرتا رہا
24:35تاہم موسیٰ نے حمد نہیں ہاری
24:37بار بار وہ فیرون کے سامنے کھڑے ہوئے
24:40اب آسیہ زیادہ واضح طور پر سمجھ چکی تھی
24:44وہ سچائی جس کی وہ تلاش کر رہی تھی
24:47ان تمام سالوں سے
24:48وہ موسیٰ کی پکار میں تھی
24:50اور اس پیغام میں جو وہ لائے تھے
24:52اب انہوں نے واحد حقیقی خدا کو چن لیا
24:55حضرت موسیٰ کے رب کو
24:58لیکن ابھی ان میں اتنی حمد نہیں آئی تھی
25:00کہ وہ بلند آواز میں اس کا اظہار کر سکے
25:02محل کے خاموش کمروں میں وہ چپکے سے دعائے کر رہی تھی
25:06انہوں نے اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھائیں
25:09اپنے دل میں ایک ہی نام سرگوشی سے لیا
25:12اللہ
25:14فیرون اب بھی ان سے مشورہ کرتا
25:16ان کی باتوں کی قدر کرتا
25:17اسے ذرا سا بھی شک نہیں تھا
25:19ان کی وفاداری پر
25:20مگر آسیہ کی وفاداری اب اس کے ساتھ نہیں تھی
25:24وہ صرف اپنے رب کے ساتھ تھی
25:26ہر دن ایک بھاری بوجھ بنتا گیا
25:29تکپور میں دوبے ہوئے شخص کے غزب کو دیکھنا
25:32حجوم کو بھتوں کے سامنے جھکتے ہوئے دیکھنا
25:35یہ سب ایک عصیت تھی
25:37جسے سہنا مشکل تھا
25:39وہ محل
25:40جو باہر سے اتنا شاندار تھا
25:43آسیہ کے دل میں ایک قید خانے میں بدل چکا تھا
25:46ایک نظر
25:47ایک لفظ
25:48یہاں تک کہ خاموشی بھی ان کا ایمان ساہر کر سکتی تھی
25:52مگر وہ صبر سے رہی
25:53انہوں نے اپنا ایمان چھپائے رکھا
25:55اور اس نور کے ساتھ چون کے دل میں تھا
25:57وہ ہر دن مصبوط ہوتی گئی
26:00موسیٰ کی پکار
26:01نہ صرف باہر کے لوگوں کے دلوں تک پہنچی
26:04بلکہ محل کے اندر موجود
26:06خادموں کے دلوں میں بھی اتر گئی
26:08دن با دن
26:09انہوں نے اس سچائی کو قبول کرنا شروع کر دیا
26:12جو وہ اللہ کی طرف سے لائے تھے
26:14کچھ چھپ کر عبادت کرتے
26:15کچھ اپنی نمازی رات کے لیے بچا رکھتے
26:18یہ چھوٹا سا خفیہ گروہ
26:21محل کے اندر
26:27ان میں ایک عورت تھی
26:28جو فیرون کی بیٹی کی خدمت کرتی تھی
26:31ایک دن جب وہ کنگھی کر رہی تھی
26:33فیرون کی بیٹی کے بالوں میں
26:34تو کنگھی اس کے ہاتھ سے گر گئی
26:36جیسے ہی وہ اسے اٹھانے کے لیے جھکی تو اس نے کہا
26:38بسم اللہ
26:39فیرون کی بیٹی ساکت ہو گئی
26:41اس کا کیا مطلب ہے
26:42کیا تم میرے باپ کی بات کر رہی ہو
26:45یہ اللہ کا نام ہے
26:47جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا
26:49وہ ساتھ جس نے فیرون کو بھی
26:51اس کی بات چاہت عطا کی صرف وہی ہے
26:53لڑکی دنک رہ گئی
26:55وہ سیدھا اپنے باپ کے پاس بھاگی
26:57اور اسے بتایا کہ کیا ہوا
26:58فیرون نے
26:59اس عورت کو اپنے حضور طلب کیا
27:02محل کے بھاری درواز سے کھل گئے
27:04یہ میں نے کیا سنا ہے
27:05کیا یہ واقعی سچ ہے
27:08میں موسیٰ کے رف پر ایمان لاتی ہوں
27:12تو پھر تم میرا عذاب چکھو گی
27:15کوئی رحم نہیں
27:17ان کے لیے جو نہیں جھکتے
27:19میرے سامنے
27:21اسے فوراں میخو سے جڑ دو
27:23اس کے ہاتھ اور پیر زمین پر گاڑ دو
27:26اس کے سر پر کھولتا ہوا
27:29دھات کا برطن انڈیل دو
27:32اس کی تکلیف ناقابل برداشت تھی
27:35لیکن عورت خاموشی سے
27:37اپنے ہوت ہلا رہی تھی
27:38اب بھی اپنے رب کو یاد کر رہی تھی
27:40جب فیرون نے دیکھا
27:41کہ وہ اب بھی اپنا ایمان نہیں چھوڑ رہی
27:43اس کے بچے کو میرے پاس لے آؤ
27:47کچھ لمحو بات
27:49سپاہی اس کے ننے بچے کو لے آئے
27:51اپنے بچے کو
27:53ظالموں کی چنگل میں دیکھ کر
27:55بیبس ماں کا دل ایسے دھڑکا
27:57جیسے سینے سے باہر آ جائے گا
28:00جیسے ہی اس نے اسے دیکھا
28:02اس کے چہرے پر آنسو بہنے لگے
28:07اسے آگ میں ڈال دو
28:09بغیر ایک لمحے کی ہچکچا ہٹ کے
28:12سپاہیوں نے حکم کی تعمیل کی
28:14ننے بچے کو
28:15تہکتے ہوئی بھٹی میں ڈال دیا گیا
28:19اس لمحے
28:20ماں کا کلیجہ پھٹ گیا
28:22لیکن اللہ نے اپنی قدرت
28:24ظاہر کرنا چاہیی
28:25اور شولوں کے درمیان سے
28:28وہ ننہ بچہ بول اٹھا
28:31اے میری ماں
28:32اپنا ایمان کبھی مت چھوڑنا
28:34صبر کرنا
28:35میں اپنے رب کے پاس جا رہا ہوں
28:37تمہارے اور جنت کے درمیان
28:39صرف ایک قدم باقی ہے
28:42عورت کی آنکھیں آسووں سے بھر گئی
28:45اگرچہ اس کا دل آگ میں جل رہا تھا
28:47اس کا ایمان نہیں دکھ مگایا
28:50اس نے اپنے رب پر بھروسہ کیا
28:52اور اپنی جان نچھاور کر دی
28:54جیسے ہی آسیا نے وہ منظر دیکھا
28:57ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا
29:00ایک عورت نے سب سے بھاری قیمت چکائی تھی
29:03صرف یہ اعلان کرنے کے لیے
29:05کہ میرا رب اللہ ہے
29:06ایسا ظلم دیکھنے کے بعد
29:09ہاموش رہنا ناممکن تھا
29:12آسیا اب اس کی آتاعت نہیں کر سکتی تھی
29:15انہوں نے اپنا سر اٹھایا
29:16فیرون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی
29:18اور کہا
29:19تم صرف ایک کمزور انسان ہو
29:22پھر بھی تم خدا ہونے کا دعویٰ کرتے ہو فیرون
29:25اب آسیا موسیٰ اور حارون کے رب پر ایمان لا چکی تھی
29:29انہوں نے وہ سچائی پالی تھی
29:32جس کی وہ تلاش کر رہی تھی
29:33ایک ایسے سکون کے ساتھ جو بیان سے باہر ہے
29:36وہ اب فیرون کے ظلم سے نہیں ڈرتی تھی
29:38نہ ہی اس دنیا کی آرزی اسائشوں کے کھونے سے
29:43آسیا کی ایمان نے محل میں فوراں ہی
29:46فضاں بدل کے رکھ دی
29:47ایک خاموشی محل میں چھا گئی
29:50فیرون نے اپنے سب سے قریبی شخص کو کھو دیا تھا
29:53اس کی آسیا نے اس سے مو موڑ لیا تھا
29:56یہ کیسے ہو سکتا ہے
29:57مصر کا سب سے طاقتمر آدمی
30:00نام نہات خدا
30:01اپنی بیوی کے دل پر بھی حکومت کرنے میں ناکام رہا
30:05اس کا غصہ ایک ایسی جنگ میں بدل گیا
30:07جس نے محل کو ہلا کر رکھ دیا
30:09وہ عورت جسے وہ چاہتا تھا
30:11اب اس کے سامنے کھڑی تھی
30:13انہوں نے اس کی خدائی کا انکار کر دیا
30:15اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا
30:16اس کا غصہ دراصل ایک چیخ تھی
30:19اس کی شکست اور بیبسی کی
30:21اب صرف ایک ہی کام باقی تھا
30:23آسیا کو جھکانا
30:25یا اسی تباہ کر دینا
30:27آسیا پاگل ہو گئی ہے
30:29کیا وہ مجھے چیلنج کرنے کی جررت کرتی ہے
30:32مصر کے زندہ خدا کو
30:34اے فیرون
30:36تم ہو جو پاگل ہو گئے ہو
30:38تم صرف ایک کمزور انسان ہو
30:40پھر بھی خدا ہونے کا دعویٰ کرتے ہو
30:42فیرون نے ان کی ماں کو بلایا اور کہا
30:45تمہاری بیٹی پاگل ہو گئی ہے
30:47اگر اس نے موسیٰ کا تین نہ چھوڑا
30:49تو میں اسے اتنی سخت سزا دوں گا
30:51کہ یہ سب کے لیے عبرت بن جائے گی
30:53خدا ہرا اس کی بات مان لو
30:55بس وہ کرو جو یہ کہتا ہے
30:58لیکن آسیا نے یہ قبول نہیں کیا
31:00اور پھر
31:01فیرون کے حکم پر
31:03انہیں محل سے لے جایا گیا
31:05تب تے ہوئے سہرا کے این درمیان
31:07ان کے ہاتھ اور پاؤں
31:09زمین پر گھڑ دی گئے
31:11ان کی انگلیاں جو کبھی محل میں
31:13ریشم میں لپٹی رہتی تھی
31:15لیکن اب وہ زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی
31:18انہیں بلکل تنہا چھوڑ دیا گیا
31:20آگ برساتے سورج کے نیچے
31:22تب تے ہوئے پتھروں پہ
31:25ان پر بے رحمی سے تشدد کیا گیا
31:27ہر ساس کے ساتھ ان کی تکلیف بڑھتی گئی
31:31ان میں حرکت کرنے کی طاقت نہیں بجی تھی
31:34ان کے ہوت پہلے ہی پھڑ چکے تھے
31:36اور ان کی زبان تالو سے چپک گئی تھی
31:39انہوں نے نگلنے کی کوشش کی لیکن
31:41ان کا گلہ پوری طرح خوشک تھا
31:43انہوں نے انہیں پانی کا ایک قطرہ تک نہیں دیا
31:46جب کوڑے ان کی کمر پر برسنے لگے
31:49ہر ذر پر ایک دھمکی اور تنس تھا
31:54کہاں ہے تمہارا رب
31:56پکارو اسے کہ وہ تمہیں بچائے
31:58تم کتنی جلدی اپنا محل بھول گئیں
32:01اور اپنا آرام دے بستر
32:03فیراؤن کی عظمت کو تسلیم کر لو
32:05تم اپنا سب کچھ بلا وجہ
32:07کو رہی ہو
32:09کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں تھی
32:11انہوں نے اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھائیں
32:14اگرچہ ان کا جسم درد سے تڑپ رہا تھا
32:17ہر ذرب کے ساتھ ان کی روح
32:18اپنے رب کے قریب ہوتی گئی
32:20اور اس لمحے وہ عذیت جو وہ برداشت کر رہی تھی
32:24در حقیقت ان کے لیے جنت کے دروازے کھول رہی تھی
32:28موسا بھی وہی تھے
32:30وہ جسے انہوں نے برسوں پہلے
32:31اپنی باہوں میں پالا تھا
32:33اب اللہ کے رسول تھے
32:35سچائی کا اعلان کر رہے تھے
32:37اپنی تمام تر تکلیف کے باوجود
32:39آسیا نے انہیں اپنی نگاہوں سے تلاش کیا
32:41ان کے ہاتھ بندے ہوئے تھے
32:43اور وہ بول نہیں سکتی تھی
32:45وہ صرف اپنی انگلی سے اشارہ کر سکتی تھی
32:48انہوں نے وہ دکھانے کی کوشش کی
32:50جو وہ فیرون کے ہاتھوں سہ رہی تھی
32:53وہ خاتون جنہوں نے کبھی ان کی دیکھ بھال کی تھی
32:56آج اپنے ایمان کی خاطر تشدد سہ رہی تھی
32:59موسیٰ علیہ السلام کا دل یہ درد پرداش نہیں کر سکا
33:02انہوں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے
33:05اور اپنے رب سے دعا کی
33:06کہ آسیا کی تکلیف آسان فرما دے
33:09آسیا کے دل پر سکون ناصل ہوا
33:11اس لمحے کے بعد سے
33:13انہیں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی
33:15یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملی
33:17جب وہ اس دنیا میں اپنی آخری سانس لینے والی تھی
33:20تو انہوں نے اپنے رب سے
33:22ان الفاظ میں دعا کی
33:24اے میرے رب
33:26میرے لیے جنت میں اپنے پاس ایک گھر بنا دے
33:28مجھے فیرون اور اس کے عمل سے نجات دے
33:31اور مجھے ظالم قوم سے چھٹکارہ عطا فرما
33:35یہ سب سے طاقتور دعا تھی
33:37جو کسی عورت نے ظالم کے سامنے مانگی
33:40یہ اپنے رب کے خلاف بقاوت نہیں تھی
33:43بلکہ ایک سپردگی تھی
33:44اس دل کی سپردگی
33:46جس نے اللہ کے محل کو چنا
33:48فیرون کے محلات کے مقابلے میں
33:51اللہ نے آسیا کی دعا قبول کی
33:53اور انہیں اپنا سر اٹھانے کا الہام کیا
33:56جیسے ہی انہوں نے اوپر دیکھا
33:58انہیں موٹیوں کا وہ محل نظر آیا
34:00جو جنت میں ان کے لیے تیار کیا گیا تھا
34:04ان کے چہرے پر ایک پرسکون تاثر اُبھرا
34:06اور پھر وہ مسکرہ دی
34:08کیونکہ آسیا کے لیے
34:11اس دنیا کو چھوڑنے کا وقت آ گیا تھا
34:13وہ اپنے رب سے ملنے جا رہی تھی
34:15جس کے لیے انہوں نے اتنی بڑی قربانی دی تھی
34:19موٹیوں کا وہ محل
34:20جس کی انہوں نے دعا کی تھی
34:22اور جسے دیکھنے کے لیے وہ ترس رہی تھی
34:24اب انہیں بلا رہا تھا
34:25لیکن فیرون
34:26جس کے دل پر کفر کی موہر لگی ہوئی تھی
34:29جہالت میں ہسا
34:32اس پاگل کو دیکھو
34:34یہ تکلیف میں ہے
34:36پھر بھی ہس رہی ہے
34:40مگر آسیا پہلے ہی
34:42اس دنیا فانی سے
34:43رخصت ہو چکی تھی
34:45ان کی روح اب اللہ سے
34:47ملاقات کے سکون سے سرشار تھی
34:50جی ہاں
34:51آسیا انتقال کر چکی تھی
34:53لیکن موسیٰ نے وہ فریضہ پورا کر دیا
34:55جو اللہ نے انہیں سوبا تھا
34:58فیرون اور اس کی فوج
34:59بہرہ احمر کے این درمیان پھز گئے
35:01جیسے ہی اس کی موت قریب آئی
35:03اس نے توبہ کرنے کی کوشش کی
35:05لیکن اب بہت دے ہو چکی تھی
35:06اللہ نے اس متقبر بادشاہ کو
35:08وہیں تباہ کر دیا
35:11آسیا کا صبر رائے گا نہیں گیا
35:13ظلم کا محل اب گر چکا تھا
35:16اور ایمان کی جیت ہوئی تھی
35:18اس دن فیرون ہار گیا
35:22اور ایک عورت کی حمد
35:24صدیوں تک سنائی جانے والی داستان بن گئی
35:27ایسے حالات میں بھی
35:28جو ناممکن لگتے تھے
35:30آسیا نے ہمیں یقین کرنا سکھایا
35:32بغیر بہانوں کے
35:34بغیر تاخیر کے
35:35وہ ایک ایسے ظالم کے محل میں تھی
35:38جس نے خود کو خدا قرار دیا تھا
35:40لیکن انہوں نے ایمان لانے کے لیے
35:42بہترین حالات
35:43بہتر ماحول
35:43یا اپنے خوف کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کیا
35:46اس کے بجائے
35:48ہر مشکل کا سامنا کرتے ہوئے
35:49وہ آگے بڑھیں اور کہا
35:51میرے لیے میرا رب ہی کافی ہے
35:54اور وہ قدم جنت کا دروازہ بن گیا
35:58اور آسیا نے اپنا سفر مکمل کر لیا
36:01لیکن وہ ہمارے لیے ایک سوال چھوڑ گئی
36:04کیا ہم بھی موت کا استقبال
36:06مسکراہت کے ساتھ کر سکیں گے
36:07تمام مشکلات اور آزمائشوں کے باوجود
36:10کیا ہم کہہ سکیں گے
36:12لا الہ الا اللہ
36:14اپنی اخری ساس میں
36:15ہاں میرے رب
36:17میں سمجھتی ہوں کہ تیری رضا حاصل کرنے کا
36:20واحد طریقہ
36:21بہانوں اور خوف کے پیچھے چھپنا چھوڑ دینا ہے
36:24اور پھر بھی
36:25میں ہار مان لیتی ہوں
36:27اپنے نفس کے بہانوں کے آگے
36:28میں مسلسل تیری طرف سیدھے راستے پر
36:31اپنے قدم موقع کر رہی ہوں
36:34ازان ہوتی ہے
36:35اور میرے اندر سے ایک آواز آتی ہے
36:37آؤ اللہ بلا رہا ہے
36:39مگر میں پھر بھی تاخیر کرتی ہوں
36:42میں کہتی ہوں
36:43بس پانچ منٹ اور
36:44میں جلد اٹھ جاؤں گی
36:46اور وہ جلد
36:47کبھی نہیں آتا
36:49اپنے ہجاب کے لیے
36:50اپنی نماز کے لیے
36:51میں خود سے کہتی ہوں
36:52ایک دن انشاءاللہ
36:54لیکن اس ایک دن کے لیے
36:56میرے بہانے کبھی ختم نہیں ہوتے
36:58میں ہر رات خود سے وعدہ کرتی ہوں
37:01کہ فلا گناہ چھوڑ دوں گی
37:02لیکن صبح تک
37:04میں خود کو پھر سے
37:05اپنے نفس کے آگے ہارتا ہوا پاتی ہوں
37:07میں اب شیطان سے نہیں لڑ رہی
37:09میں خود سے لڑ رہی ہوں
37:12اور اس جنگ میں
37:14ہمیشہ میں ہی وہ ہوتی ہوں
37:15جو ہار جاتی ہے
37:16اور مجھے جس چیز کا
37:18سب سے زیادہ ڈر ہے
37:19وہ موت ہے میرے رب
37:20جب وہ لمحہ آئے گا
37:22اور میں بلکل بھی تیار نہیں ہوں گی
37:24میرے ہاتھ خالی
37:25میری روح تھکی ہوئی
37:27تو میں اپنے ساتھ کیا لاؤں گی
37:29جب تیرے سامنے موجود ہوں گی
37:31اس کل کا جھوٹا وعدہ
37:32جو کبھی آیا نہیں
37:34جب میری موت آئے گی
37:36تو اس دنیا میں
37:37میری کہانی ختم ہو جائے گی
37:38اسی پہلے لمحے سے
37:40میرا نام مٹنا شروع ہو جائے گا
37:43کوئی میرا نام بھی
37:44استعمال نہیں کرے گا
37:45وہ پوچھیں گے
37:47جنازہ کہاں ہے
37:49صرف چند گھنٹوں میں
37:51وہ نام جسے میں زندگی میں
37:52اتنا عزیز رکھتی تھی
37:54اس سرد
37:54اجڑبی لفظ سے بدل دیا جائے گا
37:57میری ماں میرا باپ
37:59میرا شریک حیات
38:00جسے میں اپنی محبت کہتی تھی
38:02میرا بچہ جس پر میں جان دیتی تھی
38:04میری سہیلیاں
38:06ان میں سے ہر کوئی
38:07میرے لئے فاتحہ پڑے گا
38:09مجھ پر مٹی کی وہ آخری مٹھی ڈالے گا
38:12اور پھر مڑ کر چلا جائے گا
38:15وہ اپنا پہلا کھانا کھائیں گے
38:17میرے بغیر
38:18اپنے گرم گھروں میں
38:19جب میرے لئے زندگی ختم ہو چکی ہوگی
38:23ان کے لئے یہ وہیں سے جاری رہے گی
38:25جہاں سے چھوٹی تھی
38:26مگر میرا کیا
38:28میرا کیا بنے گا میرے رب
38:30میں اس اندھیرے
38:32تنگ گڑھے میں اکیلی کیا کروں گی
38:34وہ کام
38:35وہ امتحانات
38:36وہ ڈگریان
38:37جن کے لئے میں نے اپنی نمازیں قضاء کی
38:39کیا ان میں سے کوئی بھی میرے ساتھ ہوگا
38:41وہ لوگ جن سے میں ڈرتی تھی
38:44پریشان ہوتی تھی
38:45کہ وہ کیا کہیں گے
38:46جب وہ اپنی زندگیہ گزار رہے ہوں گے
38:49زمین کے اوپر
38:50کیا وہی خوف
38:51مجھے قبر میں بچائے گا
38:53جب فرشتے اپنے سوال پوچھیں گے
38:56تو کیا وہ ہشیار بہانے
38:57جو میں خود کو دھوکہ دینے کے لئے بتاتی تھی
39:00تب بھی کوئی مانی رکھیں گے
39:02نہیں نہیں
39:04ہرگز نہیں
39:06وہاں
39:07ہر بہانہ خاموش ہو جائے گا
39:09صرف سچائیاں اور پشتاوے بولیں گے
39:13اور اس لمحے
39:14سب سے زیادہ مایوس کن الفاظ
39:17انسان کے ہوتوں سے نکلیں گے
39:19جب ان میں سے کسی کی موت آتی ہے
39:21تو وہ پکارتا ہے
39:22اے میرے رب
39:23مجھے واپس بھیج دے
39:25تاکہ میں نیک عمل کر سکوں
39:27اس دنیا میں جسے میں چھوڑ آیا ہوں
39:29ہرگز نہیں
39:31یہ بس ایک بیکار التجاہ ہے
39:33جو وہ کر رہے ہیں
39:34وہ جگہ جہاں
39:35کاش کا
39:37کوئی فائدہ نہیں
39:38ہمارا عبدی گھر ہوگی
39:40میرے رب
39:41میرا انجام ایسا نہ ہونے دینا
39:43جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے
39:45ہمیں بیدار کرتے
39:46اس سے پہلے کہ ہم اس پشتاوے میں گر جائیں
39:49جہاں سے کوئی واپسی نہیں
39:50کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ
39:51ہماری عبدی زندگی کو بچانی کے ابتداء
39:54تیری طرف رجوع کرنے سے ہوتی ہے
39:56یہاں تک کہ بظاہر ناممکن حالات کے درمیان بھی
40:01انتہائی مشکل لمحے میں
40:02آسیا نے ایک انتخاب کیا
40:04انہوں نے ایک قدم اٹھایا
40:06اور وہ قدم
40:07ان کا جنت کا راستہ بن گیا
40:09وہ راستہ
40:11آج بھی ہمارے سامنے ہے
40:13وہی پکار
40:14وہی دروازہ ہمارے لیے آج بھی کھلا ہے
40:17شاید اب وقت آ گیا ہے
40:19کہ اس سفر کا آغاز کیا جائے
40:21صرف ایک قدم اٹھانے کا
40:23بغیر خوف بغیر تاخیر کے
40:25کیونکہ ہمیں ایک کامل زندگی کی ضرورت نہیں
40:27بلکہ ایک مخلسانہ کوشش کی ضرورت ہے
40:30ایک چھوٹی لیکن سچی جدو جہت
40:32اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں
40:35ہم ضرور انہیں اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے
40:38اور بے شک اللہ نیک لوگوں کے ساتھ ہے
40:43جی ہاں
40:44آسیا کی کہانی اب اختتام کو پہنچ چکی ہے
40:46لیکن یہ سلسلہ جاری ہے
40:48اب ہم ایک ایسی ماں کی کہانی کی طرف بڑھتے ہیں
40:51جو سہرہ کے این درمیان بلکل تنہا رہ گئی
40:55بی بی حاجرہ علیہ السلام کی کہانی
40:58وہ ایک ایسا دل تھی جس نے اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کیا
41:02جب تمام امیدیں ختم ہو چکی تھی
41:04اور شاید وہ سکون جسے آپ اپنے انتہائی مایوس کو لمحے میں تلاش کر رہے ہیں
41:08اس سفر میں آپ کا مندزر ہے
Comments