- 16 hours ago
- #shaneramzan
- #ramzan2026
- #aryqtv
Bazm e Ulama | Naimat e Iftar - Topic: Hazrat Hud A.S
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Syed Salman Gul Noorani
Guest: Mufti Muhammad Sohail Raza Amjadi, Mulana Imran Bashir, Mufti Ahsen Naveed Niazi
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Syed Salman Gul Noorani
Guest: Mufti Muhammad Sohail Raza Amjadi, Mulana Imran Bashir, Mufti Ahsen Naveed Niazi
#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00:09شان رمضان
00:00:30He has a good idea.
00:01:00अरकर तो बार इसकी कश्टी फिर बार लग जाती है तिर वोग ही पिर यौoma की मिसल होता है और
00:01:04आज़े से हदायत नहीं
00:01:05देता या नहीं देना चाहता भरक होता है इऻरत बनता है उसका अजाम अच्छा नहीं होता आज भी हमने
00:01:12قوم آت کو سنا قرآن کی زبانی
00:01:14اللہ کے کلام سے
00:01:15میں خیر مقدم کرتا ہوں ملک پاکستان کے عالم
00:01:18گیر شورتی آفتہ حضرات
00:01:19علم و دانش جناب
00:01:21الحافظ الحاج القاری مفتی
00:01:23محمد سحیل رضا
00:01:25امجدی صلی اللہ علماء
00:01:27اور ہمارے ماشاءاللہ استاذ العلماء
00:01:29مفتی عاصن نوید نیازی صاحب
00:01:31اور ہمارے قبلہ ماشاءاللہ
00:01:33بہترین آپ موڈریٹر بھی ہیں منٹور بھی ہیں
00:01:35استاذ بھی ہیں پڑھتے بھی ہیں
00:01:38یہی آپ کا مزاج ہے حضرت علامہ
00:01:40مولانا عمران بشیر صاحب
00:01:42تشریف فرما ہے اور ایک نوجوان
00:01:43فازل ماشاءاللہ مفتی بھی ہیں
00:01:46اور مجھے
00:01:47بہت
00:01:48ام ریلی ہپی ٹو ٹیل یو
00:01:50کہ چارٹر اکاؤنٹ بھی ہیں ماشاءاللہ
00:01:52چارٹر اکاؤنٹ بھی ہیں
00:01:53اور میری پسے پردہ ان سے ایک دن
00:01:56بات ہوئی مفتی صاحب بھی حضرت تشریف فرما
00:01:57میں ان سے کہا کہ آپ چارٹر اکاؤنٹ
00:01:59تو اس ڈومین میں آپ پڑھیں پڑھائیں معاملات کریں
00:02:01تو بہت زبردست معاملہ ہے
00:02:03خیر کسیر ہے
00:02:04تو کہنے لگے یہ جو بچے ہیں
00:02:06یہ جو اس دور کی جنریشن ہے
00:02:08ان کو اگر دین نہیں سکھائیں گے
00:02:10تو یہ ہاتھ سے نکل جائیں گے
00:02:11تو یہ ذمہ داری کندوں پر ہے
00:02:13تو ماشاءاللہ
00:02:14یہ اس عمر میں استاذ ہیں
00:02:15ماشاءاللہ
00:02:16یہ چاروں اسادزہ بیٹھے ہوئے
00:02:17ماشاءاللہ
00:02:18اسادزہ بیٹھے ہوئے
00:02:19جو پڑھا رہے ہیں
00:02:20اللہ تعالیٰ ان اسادزہ کو سلامت رکھے
00:02:22یہ ہماری آنے والی نسلوں کو بچا رہے ہیں
00:02:24ان پر کام کر رہے ہیں
00:02:25محنت کر رہے ہیں
00:02:25جناب مفتی ابوبکر صدیق صاحب
00:02:27سلامت رہیے
00:02:28اور ماشاءاللہ
00:02:29اسادزہ یہاں بھی تشریف فرمائے
00:02:31اسادزہ وہاں بھی تشریف فرمائے
00:02:32اللہ تعالیٰ ان کا اقبال بلند کرے
00:02:34انہیں صحت والی دراز عمر اطا کرے
00:02:36کہ یہ ہمارے آنے والے بچوں کو بچا رہے ہیں
00:02:39ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لا رہے ہیں
00:02:41مفتی صاحب سے میں آغاز کرتا ہوں
00:02:43مفتی صاحب
00:02:43یہ یہود علیہ السلام کی قوم کا ذکر ہوا
00:02:46قرآن مجید فرقان حمید میں
00:02:47ایک بار پھر خوف خدا کی لہر
00:02:49ایک بار پھر عبرت
00:02:50ایک بار پھر نصیحت
00:02:52کیا ارشاد فرمائیں
00:02:54بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:02:57اللہم صلی علیہ سیدنا و مولانا محمد و علیہ
00:03:02و صحابہ و بارک وسلم
00:03:06حود علیہ السلام کی قوم کا ذکر
00:03:09سورہ اعراف میں بھی ہے
00:03:12سورہ شعرہ میں بھی ہے
00:03:14اور اسی طرح سورہ فجر میں
00:03:18سورہ قمر میں
00:03:19سورہ الحاقہ میں
00:03:21تمام صورتوں میں
00:03:23حود علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر آیا
00:03:27خاص طور پر جو سورہ اعراف ہے
00:03:31سب سے پہلے یہاں پر ذکر آیا ہے
00:03:34تمام اقوام کا
00:03:35جس میں اللہ رب العالمین نے فرمایا
00:03:38وَإِلَىٰ عَادٍ أَخْخَوْهُمْ هُودَا
00:03:40کہ آدھ کی طرف ہم نے
00:03:43انہی کے ہم قوم
00:03:44حود علیہ السلام کو مبغوث فرمایا
00:03:47ظاہر ہے کہ یہ آدھ جو ہے یہ
00:03:50نو علیہ السلام کے بعد
00:03:52ان کی قوم کے بعد
00:03:54اس قوم کا ذکر ہے
00:03:55اور یہ آدھ اولہ کہلاتی ہے
00:03:58اس سے پہلے آپ کو یاد ہوگا
00:04:00کہ صالح علیہ السلام کی قوم کا ذکر تھا
00:04:03وہ آدھ سانی کہلاتی ہے
00:04:05اور آدھ اولہ جو ہے یہ
00:04:07ظاہر ہے کہ
00:04:08نو علیہ السلام کی قوم میں
00:04:11بد پرستی تھی
00:04:12تو یہاں پر بھی
00:04:13بد پرستی بہت زیادہ تھی
00:04:15وہاں پر
00:04:16وَدْ سُوَا
00:04:18يَغُوس
00:04:19نَسْرَا
00:04:20یہ تمام کی تمام
00:04:21انہوں نے بد بنائے تھے
00:04:22انہوں نے بھی اپنے
00:04:24جو ہے وہ
00:04:25صدا
00:04:26سمود
00:04:27اور حبا
00:04:27ان تین ناموں کے انہوں نے
00:04:29بد بنائے ہوئے تھے
00:04:30اور ان کی پوجہ کیا کرتے تھے
00:04:32اچھا اس قوم
00:04:34کا جو واضح امتیاز تھا
00:04:36وہ یہ تھا
00:04:36کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو
00:04:38ایک قد و قامت بہت زیادہ دی تھی
00:04:40اور دوسرا طاقت
00:04:42ان کے پاس بہت زیادہ تھی
00:04:43یہ بڑی بڑی چٹانوں کو
00:04:45یوں کر کے اٹھا لیا کرتے تھے
00:04:46اللہ حکم
00:04:46اور اسی کا ان کو گھمند تھا
00:04:49اور آس پاس کی
00:04:51جتنی اور قبائل تھے
00:04:53جتنی اور اقوام تھی
00:04:54ان سب کو انہوں نے
00:04:55طاقت کے زور پر
00:04:57زیر کیا ہوا تھا
00:04:58اللہ حکم
00:04:59اور انتہائی گھمندی قسم کے لوگ تھے
00:05:02اور بہت
00:05:03تکبر بہت زیادہ تھا ان میں
00:05:05ان کی بارے میں آتا ہے
00:05:06کہ یہ امان اور حضر موت
00:05:08ان کے درمیان
00:05:09جو ریگستانی علاقہ یمن کا
00:05:11یہاں پر موجود تھے
00:05:13وہاں پر رہتے تھے
00:05:14اور روپ الخالی
00:05:15اس سے کہا جاتا ہے
00:05:16کہتے ہیں کہ
00:05:17آج اگر آپ غور سے بھی دیکھیں
00:05:18پورے علاقے کو چھان مارے
00:05:20تو آپ
00:05:21یعنی یہ فیصلہ نہیں کر سکتے
00:05:24یہ سوچ نہیں سکتے
00:05:25کہ صدیوں پہلے
00:05:26یا ہزار ہاتھ سال پہلے
00:05:28یہاں پر کوئی
00:05:30عظیم الشان طاقت والی
00:05:31اور عظیم الشان گھروں والی
00:05:34یہاں پر قوم رہتی تھی
00:05:35آپ اندازہ نہیں لگا سکتے
00:05:36یعنی اس طرح یہ
00:05:37ریگستانی علاقہ ہے
00:05:38کہ لگتا ہی نہیں
00:05:39کوئی پہلے یہاں پر رہتا تھا
00:05:41غود علیہ السلام کو
00:05:43لرب العالمین نے مبعوث فرمایا
00:05:45اور یہ قوم وہ ہے
00:05:46جس کے بارے میں فرمایا
00:05:47کہ اروم ذات العماد
00:05:49سورہ فجر میں
00:05:50یہ بڑے ستونوں والی
00:05:52عمارتیں بناتے تھے
00:05:53اور فرمایا
00:05:57ہم نے ان جیسا شہروں میں
00:05:59پیدا ہی نہیں فرمایا
00:06:00کتی طاقتیں تھیں
00:06:02کتی لمبے قط تھے ان کے
00:06:03تو اب جب غود علیہ السلام
00:06:05نے ان کو
00:06:06تبلیغ فرمائی
00:06:07تو انہوں نے واضح انداز میں
00:06:09اس کو ماننے سے انکار کیا
00:06:11نو علیہ السلام کو
00:06:13ان کی قوم نے کہا تھا
00:06:14کہ آپ گمراہی میں
00:06:16آپ
00:06:17اِنَّا لَنَا رَاقَ فِي دُلَالِ مُبِين
00:06:19حود علیہ السلام کو
00:06:21اس سے بڑھ کر کہا
00:06:21انہوں نے کہا
00:06:22کہ اِنَّا لَنَا رَاقَ فِي صَفَاحَ
00:06:24وَإِنَّا لَنَا زُنُّكَ مِنَا الْقَازِمِينَ
00:06:27کہ ہم آپ کو
00:06:28بے وقف بھی سمجھتے ہیں
00:06:29ہم آپ کو
00:06:31جھوٹا بھی سمجھتے ہیں
00:06:32دو چیزیں انہوں نے کہیں
00:06:34اور اس کے بعد
00:06:35انہوں نے بڑے ناسیحانہ انداز میں
00:06:37لڑے نہیں
00:06:37غود علیہ السلام
00:06:39کہا کہ
00:06:39یا قومی
00:06:40لَنَا سَبِي صَفَاحَ
00:06:41میں بے وقوف نہیں ہوں
00:06:43لیکن
00:06:43میں تو
00:06:45رب العالمین کا بھیجا ہوا رسول ہوں
00:06:47اور پھر یہ فرمایا
00:06:49کہ
00:06:50وَإِنَّا لَكُمْ نَاسِحُنْ عَمِينَ
00:06:52اُبَلِّهُكُمْ رِسَالَاتِ
00:06:53وَبِّ
00:06:54کہ میں تمہاری طرف جو آیا ہوں
00:06:56تو میں کچھ پیغام پہنچانے کیلئے آیا ہوں
00:06:58اور یاد رکھ رہا ہے
00:06:59کہ جو تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہوں
00:07:01یہ میں اپنی طرف سے نہیں دے رہا
00:07:03اور یہ میں اللہ کی طرف سے دے رہا ہوں
00:07:05اور میں تمہیں نصیت کر رہا ہوں
00:07:07میں تمہارا خیر خواہ ہوں
00:07:09اس کے باوجود وہ قوم نہیں مانی
00:07:11تو پھر اللہ تبارک وضا نے بتا کیا فرمایا
00:07:14کہ ہم نے وَقَطَعْنَا دَابِ وَالَّذِينَ كَذَّبُ بِعَایَاتِنَا
00:07:18طاقتور تھے نا
00:07:19طاقت میں تکبر تھا
00:07:21گھمن تھا
00:07:22اللہ رب العالمین نے فرمایا
00:07:24کہ ہم نے ان کی جڑھ کاٹ دی
00:07:25کس طریقی کاٹی
00:07:27وہ آپ آئندہ سنیں گے
00:07:28اللہ اکبر
00:07:30میں مفتی حسن نوی نیازی صاحب
00:07:33تشریف فرمائے
00:07:34مفتی صاحب قبلہ
00:07:35ویسے تو جرائم برسبیل تذکرہ
00:07:37ہم نے ابھی سنے کہے بھی ہیں
00:07:40اسپیسیفک اللہ تعالیٰ نے
00:07:41ہر قوم کا جو جرم ہے
00:07:42اس کو بڑا انڈورز کیا ہے
00:07:44انٹیکٹ کیا ہے
00:07:45اور بتایا ہے کہ
00:07:46بھئی یہ والا جو جرم ہے
00:07:47یہ اس قوم کے ساتھ خاص ہے
00:07:49اور
00:07:49حود علیہ السلام کی قوم کے بھی
00:07:51جرائم بے شمار تھے
00:07:52لیکن
00:07:53کیا جرم تھا ایسا جو
00:07:54اللہ رب العالمین سخت ناراضی کا باعث بنا
00:07:56بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:07:57صلی اللہ علیہ السلام
00:07:59سیدنا
00:08:00حود علیہ السلام کی جو قوم ہے
00:08:03آد عاد علیہ السلام
00:08:04یہ جو آد ہے
00:08:06ان کو
00:08:06اللہ تعالیٰ نے
00:08:08جس طرح
00:08:08ڈیل ڈول
00:08:09اتا فرمایا تھا
00:08:10جیسی جسامت
00:08:11اتا فرمائی تھی
00:08:12جیسے قد
00:08:12کٹ ان کو
00:08:13اتا فرمایا تھا
00:08:14کسی اور
00:08:15کو
00:08:15بطور
00:08:16امت
00:08:16ایسا قد
00:08:17کٹ نہیں ملا
00:08:17اللہ حالی اللہ
00:08:18اور بلکہ
00:08:19کتابوں کے اندر
00:08:19یہاں تک ذکر ہے
00:08:20کہ ان میں
00:08:21the goods of small andare on, so that is at 60 rehabilitations,
00:08:2590áveis pts.
00:08:26And the goods of big order came on 100 going on 100 ۱۴z 아닙 þetta,
00:08:29basically 1500 feet.
00:08:31Thus, Vollıld склад방 is 90 feet.
00:08:34The goods of small andare on 1000 feet is not 100 feet.
00:08:37So, this kind of a variety of어� ».
00:08:41This might not becomes an ᵢ clinics in this country.
00:08:44This is the way a place that is n anche per side pro stuck nós.
00:08:46E uranium in various contexts such as many people,
00:08:50قد کات والا آدمی ہے
00:08:51یہ چند لوگ ہیں
00:08:52لیکن بطور امت
00:08:53بطور قوم
00:08:54ایسی قد کات والی
00:08:55قوم یا امت
00:08:56نہیں گزری
00:08:57ان کو اللہ تبارک و تعالی نے
00:08:58کہ ظاہری طور پر بھی
00:09:00ایسا
00:09:00یہ عظمت
00:09:01عطا فرمائی تھی
00:09:02تو اب ہونا تو یہ چاہیے تھا
00:09:03کہ اس عظمت کے نتیجے میں
00:09:05یہ اللہ رب العالمین
00:09:06جللہ وعالا
00:09:07کہ حضور جھک جاتے
00:09:08سجدہ ریز ہوتے
00:09:09اللہ کی عبادت کرتے
00:09:11اللہ کے رسولوں کی
00:09:12بات مانتے
00:09:13لیکن انہوں نے کیا کیا
00:09:14جو کہ ہمیں نظر آتا ہے
00:09:16جو ہمارا عام مشاہد ہے
00:09:17کہ جب کسی کو طاقت ملتی ہے
00:09:19تو وہ طاقت کی نشے میں
00:09:20چور ہو کر
00:09:20تکبر کا مدہرہ کرنا
00:09:22شروع کر دیتا ہے
00:09:23اور پھر یہ تکبر
00:09:24اسے آگے ظلم تک لے جاتا ہے
00:09:26تو اس تکبر کو
00:09:27بطور خاص
00:09:27اللہ تعالیٰ کے بات
00:09:28تعالیٰ نے بیان فرمایا
00:09:29تو فرمایا
00:09:35جہاں تک آدھ کی بات ہے
00:09:37تو ان لوگوں نے
00:09:38ناحق زمین میں تکبر کیا
00:09:40اور یہ کہا
00:09:43طاقت میں بڑھ کر ہے
00:09:44یعنی ناحق تکبر کر رہے تھے
00:09:46یہ طاقت تو ان کو
00:09:47اللہ کی دی ہوئی تھی
00:09:48تو یہ سے
00:09:49اللہ کا فضل گردانتے
00:09:50اور اس پر
00:09:51اللہ کا شکر ادا کرتے
00:09:52اور اسے خلق خدا کے
00:09:54فائدے کے لیے استعمال کرتے
00:09:55لیکن انہوں نے
00:09:56خلق خدا کے فائدے کے لیے
00:09:57استعمال کرنے کی بجائے
00:09:59اللہ کا فضل سمجھنے کی بجائے
00:10:00انہوں نے اسے
00:10:01اپنی طرف منصوب کیا
00:10:02تکبر کرنا شروع کر دیا
00:10:03جو اللہ کو سخت ناپسند ہے
00:10:13might is right
00:10:13جس کی لاٹھی
00:10:14اس کی بہنس
00:10:15جس کا نظارہ
00:10:16ہمیں ہر دور کے اندر نظر آیا
00:10:18اور آج بھی نظر آ رہا ہے
00:10:19جس کی لاٹھی
00:10:19اس کی بہنس
00:10:20جس کے بعد طاقت ہوتی ہے
00:10:22تو بس might is right
00:10:23وہ جیسے چاہتا ہے
00:10:24کرتا ہے لوگوں کے ساتھ
00:10:25اور کوئی اس میں
00:10:26انصاف کو
00:10:27عدل کو
00:10:27پیشے نگاہ نہیں رکھتا
00:10:29ایک تو یہ ان کی برائی
00:10:30دوسری طرح
00:10:31خود قرآن مجید فرغانمین
00:10:32نے یہ بیان فرمایا
00:10:39کہ یہ آدھ ہیں
00:10:40انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں
00:10:42کو جھٹلایا
00:10:43اور اس کے رسولوں کی
00:10:44نافرمانی کی
00:10:45اور ہر سرکش کے
00:10:47متکبر کے
00:10:48حکم کی پیروی کی
00:10:49یعنی خود بھی سرکش تھے
00:10:51پھر بات بھی
00:10:52کس کی مانتے تھے
00:10:53اللہ کے رسولوں کی مانتے
00:10:54اللہ کے رسولوں کی
00:10:55نافرمانی کی
00:10:56ان کی بات نہیں مانی
00:10:57اچھا یہ تو
00:10:58حود علیہ السلام کی
00:10:59امت تھے
00:10:59تو پھر رسولوں کیوں
00:11:00کہا جا رہا ہے
00:11:00جمعہ کا سیہ
00:11:01کیوں استعمال کیا گیا
00:11:02تو ایک نبی کی
00:11:04تقذیب کرنا بھی
00:11:05گویا تمام
00:11:06انبیاء کی
00:11:06تقذیب کرنا ہے
00:11:07ایک رسول کی
00:11:08نافرمانی کرنا
00:11:09گویا سارے رسولوں کی
00:11:10نافرمانی کرنا ہے
00:11:11اسی لئے
00:11:12اللہ تعالیٰ نے
00:11:13کئی مقامات پر
00:11:14اسی انداز کو
00:11:15اختیار فرمایا
00:11:15کہ جب کسی امت کی
00:11:16بات ہوتی ہے
00:11:17تو حالانکہ ان کی طرف
00:11:18ایک سپیسیفائی
00:11:18ایک خاص رسول
00:11:20خاص نبی مبوس ہوتے ہیں
00:11:22تو کہا جاتے ہیں
00:11:23انہوں نے
00:11:23رسولوں کو
00:11:24جھٹلایا
00:11:24انہوں نے
00:11:25رسولوں کی
00:11:25نافرمانی کی
00:11:26تو ایسے یہاں بھی
00:11:27کہا گیا
00:11:27انہوں نے
00:11:27رسولوں کی
00:11:28نافرمانی کی
00:11:28پھر سرکش
00:11:29اور جو جابر
00:11:30قسم کے لوگ ہیں
00:11:31ان کی باتوں
00:11:32کو انہوں نے
00:11:32ماننا شروع کیا
00:11:33اور بدپرستی
00:11:34کا ارتکاب کیا
00:11:35شرکی ظلمت میں
00:11:37تاریخی میں
00:11:37ڈوبے ہوئے تھے
00:11:38توحید سے
00:11:39کوسوں دور تھے
00:11:40اور پھر
00:11:55اور جب
00:12:01تم گرفت کرتے ہو
00:12:02تو ایسے گرفت کرتے ہو
00:12:03جیسے جابر
00:12:04اور ظالم
00:12:04لوگ گرفت کرتے ہیں
00:12:05یہ ان کی برائی
00:12:07اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا
00:12:08کہ ایک تو
00:12:08بے فائدہ
00:12:09امارتیں بناتے ہیں
00:12:10اونچی اونچی
00:12:11آج بھی آپ دیکھیں
00:12:12لوگ جو ہے
00:12:13وہ فخر اور غرور
00:12:13کے ادھار کے لیے
00:12:14اونچی اونچی
00:12:15امارتیں بناتے ہیں
00:12:16گھروں میں بھی دیکھ لیں
00:12:16گھر اگر گلی کے اندر
00:12:17بنے ہوتے ہیں
00:12:18ایک گھر تھوڑا سا
00:12:19اونچہ ہوتا ہے
00:12:19دوسرے والا پھر
00:12:20اس سے اونچہ کر کے
00:12:21بناتا ہے
00:12:21تسرے والا
00:12:22اس سے اونچہ کر کے
00:12:23بناتا ہے
00:12:23تو اس کو جو ہے
00:12:24یہ فخر اور غرور
00:12:25کے لیے ایسا کرنا
00:12:26یہ بھی یہ قوم آدھ
00:12:27کا طریقہ
00:12:27یہ ایسے ہی ہو گیا
00:12:28بے فائدہ تعمیر
00:12:29بے لذت گناہ
00:12:30بالکل ایسے ہی
00:12:30بے لذت گناہ
00:12:31دوسرے لوگوں کا
00:12:32مداک اڑاتے تھے
00:12:33بعض مفسرین نے یہ بھی
00:12:34لکھا کہ لوگوں کا
00:12:35مداک اڑانے کو
00:12:35اونچی جگہ پہ
00:12:36نشانی بنا دیتے تھے
00:12:37جا کے جو بھی
00:12:37رہگیر گزرے
00:12:38اس کو تنگ کریں
00:12:39تو یہ لوگوں کو
00:12:40تنگ کرنا
00:12:41عذیت دینا
00:12:42پھر بعض
00:12:42ایسے بیریئر
00:12:43بنا دیتے تھے
00:12:44جو گزرے
00:12:44اسے یہ چنگی
00:12:45حاصل کریں
00:12:46اس سے ٹیکس
00:12:46وصول کریں
00:12:47ظالمانہ
00:12:47یہ بھی بقیادہ
00:12:49انہی ہے جو آیت
00:12:49اس آیت کی تفسیر میں
00:12:54مفسرین نے
00:12:55مختلف اقوال
00:12:55دکھر کی ہیں
00:12:56الگ الگ
00:12:56اس کی تشریحات
00:12:57بیان کی ہیں
00:12:58کس سے کیا
00:12:58کیا مراد ہے
00:12:59بے فائدہ
00:12:59تعمیر بھی
00:13:00اس میں شامل ہے
00:13:01ظالمانہ
00:13:02ٹیکس لینا بھی
00:13:02اس میں شامل ہے
00:13:03لوگوں کا مداک
00:13:04اڑانا بھی
00:13:05اس میں شامل
00:13:06لوگوں کا
00:13:06مداکڑا کرتے تھے
00:13:07پھر آگے
00:13:07جو بلند و بالا
00:13:08محل بناتے تھے
00:13:09کہ ایسے گویا
00:13:10ہمیشہ اس میں رہنا
00:13:11بلکہ یہاں تک
00:13:12ملتا ہے
00:13:12کہ دعوے میں
00:13:13گرمیوں کے لئے
00:13:14الگ گھر بناتے تھے
00:13:15سردیوں کے لئے
00:13:15الگ گھر بناتے تھے
00:13:16یعنی ایسی
00:13:17لگزری لائف
00:13:17یہ گدار رہے تھے
00:13:18ہونا یہ چاہیے تھا
00:13:20کہ اس لگزری لائف
00:13:21کے نتیجے میں
00:13:22اللہ کے ان اناموں
00:13:23کو دیکھ کر
00:13:23یہ اللہ کے حضور
00:13:24سیدہ ریز ہوتے
00:13:25لیکن یہ اللہ کے
00:13:26حضور سیدہ ریز نہیں ہوئے
00:13:27تو پھر کیا ہوا
00:13:28وہ تبعو
00:13:28فی حادہ الدنیا لعنا
00:13:30کہ ان کو
00:13:31اس دنیا میں
00:13:32ان کے پیشے لعنت
00:13:32لگا دی گئی
00:13:33وَيَوْمَ الْقَيَامُ
00:13:34اور قیامت کے روز
00:13:35بھی لعنت ہوگی
00:13:35اَلَا اِنَّ عَادًا
00:13:36قَفَرُ رَبَّهُمْ
00:13:38اور ایک آدھ
00:13:38انہوں نے اپنے رب کا
00:13:39کفر کیا
00:13:40رب کو جھٹلایا
00:13:41تو کیا ہوا
00:13:41اَلَا بَعْوْدًا لِعَادٍ
00:13:43قَوْمِ هُود
00:13:44یہ ہود کی قوم
00:13:45آدھ جو ہے
00:13:45ان کے لیے دوری ہے
00:13:47اللہ کی رحمت سے دوری ہے
00:13:48اللہ کی رحمت سے دور کر دیئے گئے
00:13:50نشان بنا دیئے گئے
00:13:51اللہ اکبر
00:13:52بہت خوب
00:13:53امی ملانا
00:13:54قبلہ
00:13:54یہ جو ہود علیہ السلام
00:13:56کی بیست کا
00:13:57ذکر ہے
00:13:58قرآن مجید میں
00:13:58تو اس کی
00:13:59اللہ رب العزت نے
00:14:00اس کا ذکر کیسے فرمایا
00:14:01اس کے
00:14:02مقاسی تو ظاہر ہے
00:14:03پیغمبرانِ خدا کے
00:14:04سیم ہی ہوتے
00:14:04لیکن اس کی
00:14:06بیست کا
00:14:06جو ذکر قرآن میں
00:14:07ملا ہے
00:14:07عہود علیہ السلام کا
00:14:08کیسے اللہ رب العزت
00:14:09یاد کرتا ہے
00:14:10اپنے پیارے پیغمبر
00:14:11بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:14:13احمد و نصول
00:14:14یا رسول اللہ
00:14:15کریم و مواد
00:14:16قرآن پاک کی
00:14:17مختلف صورتوں کے اندر
00:14:19صورت
00:14:19حضرت سینا حود
00:14:21علیہ السلام کا
00:14:22تذکرہ ملتا ہے
00:14:23اور
00:14:31قرآن کہتا ہے
00:14:32کہ اس جیسا
00:14:34ان جیسی
00:14:36شخصیات جیسا
00:14:37اللہ نے
00:14:37کسی بستی کے اندر
00:14:39لوگ پیدا نہیں کی
00:14:40جو ان کو قد
00:14:40اور طاقت
00:14:41اور قوت
00:14:42اتا فرمائی تھی
00:14:42اتنا اللہ نے کرم کی
00:14:43اتنا ان کو
00:14:44اللہ نوازا
00:14:44اور سینا
00:14:45حود علیہ السلام
00:14:47اور جتنے بھی
00:14:48انبیاء گزرے ہیں
00:14:49آپ قرآن اٹھا کے دیکھیں
00:14:50ہر ایک
00:14:51نبی علیہ السلام
00:14:53تو اسلام کا
00:14:54تذکرہ
00:14:55اور جو
00:14:55مقصود ہوتا تھا
00:14:56وہ دعوت
00:14:57الاللہ
00:14:58اللہ کی طرف
00:14:59لوگوں کو بلانا
00:15:00وَإِلَى عَادٍ
00:15:01أَخَاهُمْ هُودَ
00:15:02قَالَ يَا قَوْمِ عَبُدُ اللَّهِ
00:15:04مَا لَكُمْ مِنِ الٰہٍ غَيْرُ
00:15:06اللہ کی طرف آجو
00:15:07کیا ہو گیا تمہیں
00:15:08کہ تم اللہ سے دور ہوتے جا رہے ہو
00:15:09مجھا دو بتا دو
00:15:10کیا چیز ہے جو تمہیں دور کر رہی ہے
00:15:12آگے ان کے اندر جو
00:15:13انانیت گسی ہوئی تھی
00:15:15کہ
00:15:15مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّ
00:15:16ہم سے بڑا طاقت ورکو
00:15:17اللہ نے قرآن میں خود کہا
00:15:19وَلَمْ يَرَوْ أَنَّ الَّذِي
00:15:21وَخَلَقَهُمْ وَاشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّ
00:15:22وَكَانُوا بِي آیَاتِنَا جَحَدُونَ
00:15:24کیا ان کو یہ پتا نہیں ہے
00:15:26کہ جس نے پیدا کیا
00:15:27وہ ان سے زیادہ طاقتور ہے
00:15:28ان کا خالق ہے
00:15:29اسی کو یہ بول بیٹھے ہیں
00:15:31تو آج ہمیں اس سے سبق ملتا ہے
00:15:33کہ کہیں ہم بھی تو نہیں بول بیٹھے
00:15:35اپنے مالک اور خالق کو
00:15:36یہ خالق ان کا نہیں ہے
00:15:37کہ جن کے قد کار لمبے تھے
00:15:39قد چھوٹے ہو یا لمبے ہو
00:15:40اس کو نہیں ہم نے دیکھنا
00:15:41دیکھنا یہ ہے
00:15:42کہیں ہم بھی تو نافرمانی پر نہیں آرہے
00:15:44دو چیزوں کا ذکر ملتا ہے
00:15:45وَإِلَعَادِنْ أَخَاہُمْ هُوْدَا
00:15:54استغفار پہ آجو
00:15:55رب سے معافی مانگلو
00:15:56رب تمہیں اس توبہ کی برکت سے
00:15:58استغفار کی برکت سے
00:16:00طاقت بھی عطا فرمائے گا
00:16:02آسمانوں سے رحمت کی بارش بھی نازل فرمائے گا
00:16:05اور تمام نعمتوں سے مالا مال فرمائے گا
00:16:07بجائے اس کے کہ وہ اس طرف آتے
00:16:09الٹا اپنے تکبرانہ انداز
00:16:11اور تکبر کی کیفیت میں اتنا چلے گئے
00:16:14کہ رب کوئی چیلنج کرنا شروع کر دی
00:16:16کہ ہم سے بڑا طاقتور کون ہو سکتا ہے
00:16:18پھر اللہ نے جو ان کی طرف عذاب بیجا
00:16:20وہ بھی صورت الحاقہ کے اندر موجود ہے
00:16:22الحاقت ملحاقہ وما ادراک ملحاقہ
00:16:26قذب السمود وعادم بالقارعہ
00:16:29فأما سمود فأہلکو بالتاغیہ
00:16:31واما عادن فأہلکو بریح سرسر عاطیہ
00:16:35سخرہا علیہم سبع لیال
00:16:38وسمانیت ایام حصوما فطر القوم فیہ سرعہ
00:16:43قَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَا
00:16:45فَهَلْتَرَا لَهُمْ مِن بَاقِيَا
00:16:47اللہ اکبر
00:16:48بدھ کو یہ عذاب شروع ہوا
00:16:49بدھ کی صبح کو
00:16:51اور اگلے بدھ کی شام کو جا کے یہ ختم ہوتا ہے
00:16:55اور اللہ قرآن پاک میں کہتے ہیں
00:16:56کہ یوں پڑے ہوئے تھے جیسے
00:16:58خجور کے تنے ہوتے ہیں
00:17:00دکھنے میں جسم تھے لیکن روح اس میں نہیں تھی
00:17:02کھوکلے تنے جیسے ہوتے ہیں
00:17:04یوں تباہ کر کے رب نے وہاں پھینک دیا
00:17:06اور جو بھی تکبر کرے گا
00:17:08یہ قیامتہ کے لئے قیدہ کلیا بتا دیا
00:17:10کہ جو انسان بھی تکبر کرے گا
00:17:12وہ یوں ہی تباہ و برباد ہوگا
00:17:14جیسے یہ تباہ و برباد ہوگا
00:17:15اللہ اکبر
00:17:16عجیب
00:17:17اللہ انسان کو عبرت پکڑنی چاہیے
00:17:20خوف خدا
00:17:21ان باتوں سے انسان کے اندر پیدا ہونا چاہیے
00:17:24اور جو اللہ کے آگے کھڑے ہونے سے
00:17:26ڈر گیا
00:17:27اس کے لئے دو جنتیں ہیں
00:17:54شامدید ناظرین خیر مقدم ہے
00:17:55آپ کا بزم علماء میں
00:17:56ملک پاکستان کے بہترین علماء
00:17:58رفیق سفر مفتی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جلی صاحب
00:18:00مفتی آسن نوید نیازی صاحب
00:18:01حضرت مولانا عمران بشیر صاحب
00:18:03اور جناب مفتی ابوبکر صدیق
00:18:04آپ چاروں کو ایک بار پھر ویلکم کرتے ہوئے
00:18:06پروگرام کو آگے لے کر بڑھتے ہیں
00:18:08مفتی ابوبکر صدیق صاحب کے
00:18:11بارگاہ میں عرض ہے
00:18:12کہ جب
00:18:13حود علیہ السلام نے اپنی قوم سے
00:18:15جب آ کر ان کو پیغام دیا
00:18:17اللہ کا رد عمل ان کی طرف سے دیکھنے میں آیا
00:18:28سوال ایک تھا کہ معبودان باطل کو ہٹا دو
00:18:30کبر سے نکل جاؤ
00:18:32سود نہیں کرو لہندے نابطول میں
00:18:34کمی نہیں کرو آج بھی کہتے ہیں
00:18:35آج دیکھیں میں یہی کہتا ہوں کہ بھائی
00:18:38جو
00:18:39ہر شخص پہ یہ فرض ہے
00:18:41ہر امتی پہ
00:18:43کہ کار نبی کار نبی سے مراد دعوت
00:18:46تبلیغ اصلاح
00:18:47اصلاح معاشرہ یہ کام کرے
00:18:49آج یہ حضرات علماء کو اللہ نے
00:18:51ذمہ داری دیا تو بارہل آج آپ لوگ
00:18:54بھی بچاتے ہیں چیزوں سے کہتے ہیں
00:18:55آپ کے پاس بھی رد عمل آتا ہوگا
00:18:58لیکن وہ عجیب و غریب رد عمل تھا
00:19:00تو بتائیے جب حود علیہ السلام نے
00:19:01اپنی قوم سے ان کو دعوت دی
00:19:04تو کس طرح کا سلسلہ دیکھنے میں
00:19:14دیکھیں جب ہم
00:19:15انبیاء کرام علیہ السلام کی زندگی مبارکہ
00:19:18کو پڑھتے ہیں اور ان کی دعوت
00:19:20اور تبلیغ کے سلسلے کو دیکھتے ہیں
00:19:21تو حضور علیہ السلام کا دور مبارک ہو
00:19:23یا آپ سے پہلے جتنے انبیاء کرام علیہ السلام
00:19:26آئے جن کا ذکر ہمیں قرآن و حدیث میں ملتا ہے
00:19:28ہم کافی پیرللز ڈراؤ کر سکتے ہیں
00:19:30یعنی کافی چیزیں ایسی ہیں
00:19:32جو ہمیں بہت زیادہ سیمیلر نظر آتی ہیں
00:19:34اور لوگوں کے رد عمل میں بھی
00:19:36جو ہے وہ ہمیں ایک سیمیلارٹی نظر آتی ہے
00:19:38اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے جو لوگ ہوتے ہیں
00:19:40جو نبی کو جھٹلاتے ہیں
00:19:42یا نبی کے خلاف آ کر کھڑے ہوتے ہیں
00:19:53سیمیلر ہو جاتا ہے اور یہی معاملہ
00:19:55ہمیں یہاں بھی نظر آتا ہے
00:19:57آپ دیکھیں ہتھ حود علیہ السلام نے اپنی قوم کو
00:19:59بہت ہی مخلصانہ انداز میں
00:20:01اور بہت ہی
00:20:03یعنی سمجھ لے کہ نرم انداز میں آپ نے
00:20:05ان کو اللہ رب العزت کے بارے میں بتایا
00:20:06اور ایک رب کی عبادت کا حکم دیا
00:20:08تو انہوں نے ماز اللہ ہتھ حود علیہ السلام
00:20:11کو جو ہے وہ انہوں نے
00:20:13جو پہلے بھی ذکر کیا گیا
00:20:15کہ اللہ تعالی ہمیں بچائے ایسے جملوں سے
00:20:16لیکن انہوں نے ان کو کہا
00:20:18کہ آپ جو ہے وہ ماز اللہ دیوانے ہو چکے ہیں
00:20:20اور آپ تو جھوٹ بولنے والے ہیں
00:20:21آپ نے ان کے خلاف جو ہے
00:20:23وہ کوئی نیگٹیف ریاکشن نہیں دیا غصہ نہیں کیا
00:20:26بلکہ آپ نے وائلنس نہیں ہے
00:20:27کیونکہ انہیں دین کے قریب لانا تھا
00:20:29اور دین کے قریب جو ہے وہ
00:20:31احسن انداز میں اور اچھ انداز میں ہی لائے جا سکتا ہے
00:20:33تو آپ نے ان کو پھر دوبارہ سمجھایا
00:20:35تو انہوں نے ایک نیا اعتراض قائم کی
00:20:37اور کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو کسی کو بھیجنا ہی ہوتا
00:20:39تو اس نے ایک بشر کو ہی کیوں بھیجا
00:20:42اور ہمارے دنمیان ہی ایک مرد کو کیوں بھیجا
00:20:44وہ فرشنے کو بھیجا جا سکتا تھا
00:20:45اور یہ اعتراض بھی ہمیں کافی
00:20:47قوموں کے رد عمل میں جو ہے وہ نظر آتا ہے
00:20:50کہ اللہ تعالیٰ نے اگر بھیجنا تھا
00:20:51تو ہم میں سے کسی بندے کو کیوں بھیجا
00:20:53کسی بندہِ بشر کو کیوں بھیجا
00:20:55فرشنے کو کیوں نہیں بھیجا
00:20:56اور یہ اشارہ کرتا ہے
00:20:58ان کے اندر کی تکبر و انانانیت کو
00:21:00کیونکہ وہ اس بات کو ماننے کے لئے
00:21:02تیار نہیں ہو رہے تھے کہ ہم سے زیادہ افضل
00:21:04اور ہم سے زیادہ اہم بھی کوئی اور
00:21:06ہو سکتا ہے یعنی ہم سے زیادہ
00:21:07important بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ جو اللہ
00:21:09رب العزت کی بارگاہ میں ہم سے زیادہ
00:21:11یا خدا کی بارگاہ میں زیادہ محبوب و مقبول ہو
00:21:13یہی بات حضور علیہ السلام کے مقابلے میں
00:21:16کفار مکہ نے بھی کی تھی
00:21:17انہوں نے پھر ایک اعتناص یہ کیا
00:21:20تو حضور علیہ السلام نے ان کو جو
00:21:21اللہ رب العزت کی طرف سے انہیں انعامات دیے گئے تھے
00:21:24بار بار جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں
00:21:25وہ بھی یاد دلائے اور کہا کہ دیکھو نو علیہ السلام کے بعد
00:21:28تمہاری قوم کو اور تمہیں جو ہے
00:21:30اللہ تعالیٰ نے اتنی طاقت دی
00:21:31اللہ تعالیٰ نے اتنے انعامات دیے
00:21:33تو تم رب کے انعامات کو یاد کرو
00:21:35یہ بھی ایک طریقہ ہوتا ہے کہ بندہ یہ
00:21:37یاد کرے کہ مجھ پر کس نے احسان
00:21:39کیا اور احسان کرنے والے
00:21:42کے احسان کو فراموش نہ کرے
00:21:43بلکہ احسان کرنے والے کے احسان کو مانے بھی
00:21:46اس کا اعتراف بھی کرے
00:21:47اور اس کے آگے پھر اپنے آپ کو بڑا نہ کرے
00:21:50بلکہ اس کے آگے جھک جائے
00:21:51اور ہم پر سب سے زیادہ احسان وہ ہمارے رب کا ہے
00:21:54یہ بات انہیں یاد دلائے گے
00:21:55کہ تمہارے پاس بڑی بڑی عمارت ہے جو تم بنا سکتے ہو
00:21:58جو تمہاری طاقتیں ہیں
00:22:00جتنی یہ شان و شوقت ہے
00:22:01یہ سب رب کا دیا ہوا ہے
00:22:03تو اسی رب کی طرف جب تمہیں بلا رہے ہیں
00:22:05تو اس کی عبادت کی طرف آؤ
00:22:06اس رب کی طرف اس رب کے آگے جھکو
00:22:08بدھو کی عبادت کو چھوڑ دو
00:22:10تکبر کو چھوڑ دو
00:22:11لوگوں پر ظلم کرنا چھوڑ دو
00:22:12تو انہوں نے اس بات کا بھی انکار کیا
00:22:14تو اب ہاتھِ حود علیہ السلام نے ان کو
00:22:16حشر کے میدان سے
00:22:18اور قیامت کے احوال سے ڈرائیا
00:22:20آپ دیکھیں سٹیپ بائی سٹیپ چل رہے ہیں
00:22:22اور اب سٹیپ یہ ہے کہ پہلے اب ان کو ڈرائیا جا رہا ہے
00:22:33تم غلط استعمال کر رہے ہو
00:22:34اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا
00:22:35تو انہوں نے کہا کہ
00:22:36رب کا یہ جو آپ حشر کی بات کرتے ہیں
00:22:39یہ تو بہت دور ہے
00:22:40یہ تو بہت بات کی بات ہے
00:22:42اور اصل زندگی تو دنیاوی ہی زندگی ہے
00:22:44آپ دیکھیں وہ لوگ کے جو دنیاوی زندگی کو اصل مانتے ہیں
00:22:48یا حشر پر ایمان تو رکھتے ہیں
00:22:50آخرت پر ایمان تو رکھتے ہیں
00:22:52لیکن موت کو بھول جاتے ہیں
00:22:54اور ان کے ذہن میں یہ بات آتی ہے
00:22:56کہ جب رب کے سامنے پیش ہوں گے
00:23:03ابھی ہمارے پاس جو مال ہے
00:23:04اس کو ہم جیسے چاہیں
00:23:05مرضی ایاشی میں استعمال کریں
00:23:07یہی حال اس قوم کا تھا
00:23:08کہ وہ آخرت کو بھولا چکے تھے
00:23:11اور ان کو بتایا جا رہا ہے
00:23:12کہ آخرت ہے
00:23:13رب کے حضور پیش ہونا ہے
00:23:14لیکن ماننے کے لئے تیار نہیں تھے
00:23:16پھر اس کے بعد جو ہے
00:23:17ان کو یہ کہا گیا
00:23:19کہ تم پر رب کا عذاب آئے گا
00:23:21تو ہونا تو یہ چاہیے تھا
00:23:22کہ وہ عذاب سے ڈرتے
00:23:23لیکن انہوں نے کیا کیا
00:23:24عذاب کے سامنے کھڑے بھی ہو گئے
00:23:27جو بار بار ذکر کیا جا رہا ہے
00:23:28کہ ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے
00:23:29بلکہ اس سے بڑھ کر انہوں نے کیا کیا
00:23:31انہوں نے عذاب پر
00:23:33عذاب کا مطالبہ بھی کیا
00:23:34بتائیے
00:23:35انہوں نے کہا
00:23:36اگر عذاب آ سکتا ہے
00:23:37تو پھر لے آؤ
00:23:38اگر تم دعوے میں سے چکے لے آؤ
00:23:40پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان پر
00:23:42پہلے تین سال تک کہت ہوا
00:23:43ان کے عورتیں بانچ کر دی گئی
00:23:46اور پھر ہاتھِ حود نے کہا
00:23:47تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ
00:23:48ہمیں توبہ کرو
00:23:48استغفار کرو
00:23:49سیکھ جاؤ
00:23:50تو انہوں نے کہا
00:23:51نہیں ہمیں اس بات سے کوئی پرواہ نہیں ہے
00:23:52یہ تو وقتی ہے
00:23:53پھر ایک بہت بڑا جب کالا
00:23:55انہوں نے جو ہے
00:23:55بادل آسمان پر دیکھا
00:23:57تو کہنے لگے
00:23:58یہ بارش کا بادل ہے
00:23:59ہاتھِ حود بتانے لگے
00:24:00دیکھو یہ بادل تمہارے سر پہ آ چکا
00:24:01یہ آندھی کا بادل ہے
00:24:02یہ تمہیں ختم کر دے گا
00:24:03اب بھی توبہ کر لو
00:24:05نہیں کی
00:24:06اور پھر وہ آندھی
00:24:07وہ جو بادل تھا
00:24:08اس نے ایسی آندھی پیدا کی
00:24:10کہ وہ ساری قوم ہلاک ہو گئی
00:24:12تب وہ برباد ہو گئی
00:24:13ہماری ماں ام الممین نے
00:24:14حتائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ نہ بیان کرتی ہے
00:24:16کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم
00:24:17جب آسمان پر کوئی بادل دیکھتے تھے
00:24:19تو حضور علیہ السلام کا
00:24:20چہرہ مبارک کا جو رنگ ہوتا تھا
00:24:22وہ تبدیل ہو جائے کرتا تھا
00:24:23اللہ اکبر
00:24:24اور جب تک وہ بادل بارش نہیں برساتا
00:24:26سرکار علیہ السلام کا
00:24:28چہرہ مبارک جو ہے
00:24:29وہ تبدیل رہتا
00:24:29اس چہرہ مبارک کا جو رنگ ہوتا
00:24:31وہ تبدیل رہتا
00:24:32اور ہماری ماں نے پوچھا
00:24:33تو آپ نے فرمایا
00:24:34قوم آدھ جو تھی
00:24:35ان کو بھی یہی تھا
00:24:37کہ یہ بارش کا بادل ہے
00:24:38لیکن وہ آندھی کا بادل تھا
00:24:39جب بارش برس جاتی ہے
00:24:40رب کی رحمت آ جاتی ہے
00:24:41تو پھر میں مطلب ہو جاتا ہوں
00:24:42اللہ اکبر
00:24:44مفتی صاحب قبلہ
00:24:45یہ تکبر سے نہ نکلنے والی قوم
00:24:47جو قومیں ہود ہے
00:24:50آج کیا جو اثر حاضر ہے
00:24:51آج کی جو ہماری امت
00:24:54تکبر پایا جاتا ہے بھارا
00:24:55تو یہ بتائیے
00:24:57کہ ان کے لئے کیا پیغام دے رہا ہے
00:24:58یہ تمام تر واقعہ ہے
00:24:59کہ مطلب سر پہ آندھی کا عذاب بھی کھڑا ہوا ہے
00:25:02پھر بھی تکبر یہ کہہ رہا ہے
00:25:04کہ نہیں ہمیں کوئی پروہ ہی نہیں ہے
00:25:05یہ تو بارش کا بادل ہے
00:25:06اب بھی تو اب اگلے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا
00:25:14دیکھیں بات یہ کہ یہ تمام جو واقعات
00:25:18اقوام عالم کے پیش کیے گئے
00:25:20یہ تمام کی تمام واقعات
00:25:23ہماری عبرت کے لئے ہیں
00:25:24کہ ہم اس سے عبرت حاصل کریں
00:25:26اور اپنے لئے اسباق نکالیں
00:25:29اپنے لئے زندگی جینے کے جو ڈھنگ ہیں
00:25:33ہم وہ اخص کرنے کی کوشش کریں
00:25:35کہ اللہ تعالیٰ کی نفرمانی سے کیا نقصان ہوتا ہے
00:25:39اور اس کی فرمبرداری سے کیا فائدے ہوتے ہیں
00:25:42دیکھیں ایک واحد قوم تھی قوم یونس
00:25:45جن پر عذاب کے اثار آ چکے تھے
00:25:49لیکن اس قوم نے سچی توبہ کی
00:25:51اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا
00:25:53اللہ حکم
00:25:54اللہ حکم
00:25:55لما آمنو کشفنا عنو مذاب الخزی بالحیات الدنیا
00:25:59تو بات یہ کہ سچی توبہ کی
00:26:01معاف کر دیا
00:26:02لیکن یہاں پر آپ دیکھیں
00:26:04کہ ان کو بار بار کہا جا رہا ہے
00:26:07بار بار کہا جا رہا ہے
00:26:08کہ جی آپ اللہ کے راستے کی طرف آئیں
00:26:11توحید کی طرف آئیں
00:26:12یہ بتوں کی پوجہ
00:26:13تو انہوں نے جوابا کیا کیا
00:26:15کہ آپ ہمیں
00:26:20کہ کیا ہم تم ہمیں
00:26:24اس علاق کی طرف بلاتے ہو
00:26:26اس توحید کی طرف بلاتے ہو
00:26:27جو ہم سے
00:26:29ہمارے اباؤ اجداد کی روایتیں چھین رہی ہیں
00:26:32ان کا طریقہ ہم سے چھین رہے ہو
00:26:34تو یہ کیسے ہو سکتا ہے
00:26:35ہم اپنے اباؤ اجداد کی اندھی تقلید کرتے ہیں
00:26:38کرتے رہیں گے
00:26:39یعنی بار بار سمجھانے کے باوجود
00:26:41یاد رکھے گا
00:26:42کہ جس کے پاس طاقت ہونا
00:26:44چاہے مال کی صورت میں ہو
00:26:46چاہے صحت کی صورت میں ہو
00:26:48چاہے ڈیسیگنیشن کی صورت میں ہو
00:26:50کسی صورت میں بھی طاقت ہو
00:26:52یہ طاقت کا ویڈا نشہ ہوتا ہے
00:26:54یہ طاقت کا نشہ ہکمرتبہ لگ جائے نا کسی کو
00:26:56تو وہ اتنی آسانی سے اترتا نہیں ہے
00:26:59وہ نیچی دیکھنے کو تیار اتنی آسانی سے نہیں ہوتا
00:27:02اب آج کوئی بڑے منصب پر ہے
00:27:09یہ چھن بھی سکتا ہے
00:27:10تو اس کے ذہن میں یہ تو ہوگا
00:27:12کہ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا
00:27:13اس کے ذہن میں یہ کبھی نہیں آئے گا
00:27:15مجھ سے چھن سکتا ہے
00:27:16کیوں
00:27:16وہ اپنے آپ کو تصورات میں
00:27:18بلکہ امیجن کر رہا ہوتا ہے
00:27:20کہ یہ ہمیشہ کا میرے پاس ہے
00:27:22یہ کبھی چھنے کا نہیں
00:27:24جو بھی کسی بڑے منصب پر فائز ہوتا ہے
00:27:26اسی طریقے سے
00:27:27کسی کے بعد بہت پیسہ ہے
00:27:29بہت مال ہے
00:27:30آپ اسے کہیں کہ دیکھ بیٹا
00:27:31دیکھ بھائی
00:27:32یہ اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا ہے
00:27:34یہ کسی وقت جا سکتا ہے
00:27:36تو اس کے ذہن میں یہ تو ہے
00:27:38کہ اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا ہے
00:27:39لیکن اس کے ذہن میں یہ کبھی نہیں آئے گا
00:27:41کہ یہ جا سکتا ہے
00:27:42یہ ہمیشہ کیونکہ نہیں میرے پاس ہے
00:27:44آج آپ یہ دیکھ رہے ہیں نا
00:27:45ہم سب کی خبریں سنتے ہیں
00:27:47کہ فلان شخص کا انتقال ہو گیا
00:27:49فلان شخص کا انتقال ہو گیا
00:27:50اچانک اچانک بھی
00:27:51ڈیتھ ہو رہی ہیں
00:27:53صحیح نا ساری چیزیں ہیں
00:27:54کبھی ہمارے ذہن میں خیال آئے
00:27:56کہ ہمیں بھی مرنا ہے
00:27:56اللہ اکبر
00:27:58مجھے بتا ہے نا کبھی
00:27:59ہم یہ سمجھتے ہیں
00:28:00یہ صحت
00:28:01یہ آفیت
00:28:01یہ ساری چیزیں
00:28:02ہمیشہ کی ہیں
00:28:03کوئی چیز ہمیشہ کی نہیں ہے
00:28:05یہی بات
00:28:06ان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی
00:28:08یہی تکبر
00:28:09یہی گھمن
00:28:10اور ہر چیز کے
00:28:12یہ چیزیں ہمارے پاس
00:28:13ہمیشہ کے لیے ہیں
00:28:14یہ چیزیں انہیں
00:28:15راہ راست پر نیل آ رہی تھی
00:28:18اسی لیے آج
00:28:19اور جاتی ہوئی
00:28:20انسان کو مرنے سے پہلے
00:28:21مار دیتی ہیں
00:28:22کہ میری نعمت چلی جائے گی
00:28:23جی جی
00:28:23چھن جائے گی
00:28:24انسان اتنا زیادہ
00:28:25ڈیپینڈنٹ ہوا ہوئے
00:28:26اور ہوتا کیا ہے
00:28:27کہ غریب آدمی
00:28:28جو ہوتا ہے نا
00:28:28جو فقیر ہے غریب ہے
00:28:30وہ سرکشی کی طرف
00:28:32اتنی آسانی سے نہیں آتا
00:28:33دائر ہے
00:28:33لیکن جو
00:28:34جس کے بعد
00:28:34مال و دولت ہو
00:28:35منصب ہو
00:28:36طاقت ہو
00:28:36وہ آسانی سے
00:28:38سرکشی کی طرف آتا ہے
00:28:47فرمایا کہ
00:28:48جب ہم کسی پر
00:28:49حضاب نازل کرتے ہیں
00:28:50تو ان کی قوم
00:28:52جو مالدار لوگ ہوتے ہیں
00:28:53جو چوٹی کے لوگ ہوتے ہیں
00:28:54ہم ان کو ہدایت بیشتے ہیں
00:28:56وہ پھر ہدایت
00:28:58قبول نہیں کرتے
00:28:58اور زمین کو
00:29:00فق سے بھر دیتے ہیں
00:29:02تو پھر اس کے بعد
00:29:03ہمارا حکم ان پر آتا ہے
00:29:04ان کا معاملہ کیا تھا
00:29:06کہ ان کو
00:29:07اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے
00:29:09قیسالی ہوئی
00:29:10کئی سال تک
00:29:11تو ان کا طریقہ تھا
00:29:12کہ جب کوئی قیسالی ہوتی
00:29:14تو یہ مکہ مکرمہ جاتے ہیں
00:29:15زیادہ قریب ہی رہنے والے تھے
00:29:17یہ آقاف کا علاقہ
00:29:18روب الخالی کا وہیں پر ہے
00:29:19تو یہ وہاں پر جاتے ہیں
00:29:21اچھا یہ وہاں پر گئے
00:29:23تو وہاں پر جو
00:29:24اس وقت مکہ کا بڑا تھا
00:29:25اس کا نام معاویہ تھا
00:29:26یہ کوئی تھا
00:29:28اس کا نام
00:29:28تو وہ ان کی قوم میں سے
00:29:30کچھ تعلق تھا
00:29:31اس کا
00:29:31تو اس نے بڑی آو بغت کی
00:29:32یہ وہاں جا کر بھی
00:29:33ناش گانے میں
00:29:34مصروف ہو گئے
00:29:35دیکھتے دیکھتے
00:29:36کئی دن کو ذرکے
00:29:37اس کو خیال آئے
00:29:38کہ بھئی کس کے لیے
00:29:39یہاں پر آئے
00:29:39اور یہاں کس کاموں میں لگے
00:29:40تو اس نے جو باندیاں
00:29:42ناش کے لیے پیش کی
00:29:43تو ان کو اشار ایسے دیئے
00:29:45کہ جس میں ان کی قوم کی
00:29:46کہسالی کا ذکر ہو
00:29:48اچھا اسی میں اشار سن کر
00:29:49ان کو خیال آئے کہ
00:29:50یہ تو
00:29:50ہم جس کام کے لیے آئے تھے
00:29:52وہ تو ہم کر ہی نہیں رہے
00:29:53اچھا ان میں ایک مرصد تھا
00:29:55وہ ان سے علیدہ تھا
00:29:56وہ اسلام لا چکا تھا
00:29:58جو دو تھے
00:29:59نوعیم اور قیل
00:29:59یہ کافر تھے
00:30:01اب انہوں نے پھر جا کر دعا کی
00:30:02حاطف غیبی آئی
00:30:04قیل
00:30:05اے قیل
00:30:05یہ تین بادلوں میں سے
00:30:07ایک بادل منتخب کر لو
00:30:08تین بادل تھے
00:30:10ایک جو ہے وہ
00:30:11کالا تھا
00:30:12ایک سفید
00:30:12اور ایک جو ہے سرخ
00:30:14تو انہوں نے
00:30:14کالا بادل دیکھا کہا
00:30:15کہ اس میں بارش زیادہ ہوگی
00:30:17اس کو اختیار کر لو
00:30:19تو اس کے بعد
00:30:20وہ بادل بقاعدہ
00:30:22ان کی قوم کی طرف چلا
00:30:23اور اس کے بعد
00:30:24اس میں سے جو ہوا چلی ہے
00:30:26جو بارش
00:30:26جس نے ان کو
00:30:27وَقَطَعْنَا دَابِوَ الَّذِينَ كَذَّبُ بِي آئیَتِنَا
00:30:30جڑ سے اکھار کر رکھ دیا
00:30:32اور کہتے ہیں کہ
00:30:33قَأَنَّهُمْ عَعْجَازُ نَقْلِ مُنْقَعِرِ
00:30:35ایسے پڑے ہوئے تھے
00:30:36جس سے خجور کے
00:30:37لمبے درخت ہوتے ہیں
00:30:38اور زمین پر
00:30:39بے جان پڑے ہوئے ہوں
00:30:40اور پھر ان کی
00:30:41طاقت اور گھمن
00:30:42ایسے نکالا
00:30:43اللہ رب العالمین نے
00:30:44کہ اللہ رب العالمین نے
00:30:45سیاہ پرندے
00:30:46اس کے بعد بیجے
00:30:47جو ان کو
00:30:48اٹھا اٹھا کر لے گئے
00:30:49اور ان کو
00:30:50پھنگ دیا گیا
00:30:51اللہ اکبر
00:30:52گمنام ہوئے
00:30:53ایسے ہوئے
00:30:54کہ نام و نشان تک
00:30:55مٹ گیا
00:30:56کیا
00:30:57اللہ نے عطا کیا تھا
00:30:58اور کیا بے قدری کر کے
00:31:00کیا قبر اپنے اندر
00:31:02یہ نہیں سوچ رہے
00:31:03کہ آؤٹ سوڑ سے
00:31:04کہیں سے کچھ آیا ہے
00:31:05ماخص تک نہیں پہنچتے لوگ
00:31:07السلام علیکم ورحمت اللہ
00:31:09السلام
00:31:10جی کیا سوال ہے آپ کا
00:31:12میرے دو سوال ہیں
00:31:14جو ہماری زمین
00:31:15ہے ٹھیکے پہ دی ہوئی ہے
00:31:17ان میں جو درخت بیج دیں
00:31:18ان کا
00:31:19ان کے اشر ہوگا
00:31:21یہ کہہ رہی ہیں
00:31:22ہم نے جو زمین
00:31:22ٹھیکے پہ دی ہوئے
00:31:23اس میں درخت اگ گئے
00:31:24ان کا اشر ہوگا
00:31:26آپ وہ بیچتے ہیں نا
00:31:27جب بیچتے ہیں
00:31:28اس درخت
00:31:28علیہ آپ نے
00:31:29اگائے تھے درخت
00:31:31جی جی
00:31:32درخت تک ہی ہوتے ہیں نا
00:31:33تو بیچتے ہی ہے نا
00:31:35جی بیچتے ہیں
00:31:35بیچتے ہیں
00:31:36آپ نے اگائے تھے نا
00:31:37مطلب باقاعدہ
00:31:38خود اگائے
00:31:39وہ ٹھیکے والوں کے
00:31:40نہیں ہوتے
00:31:41وہ خود مالک کے ہوتے ہیں
00:31:42اچھا وہ مالک کے ہوتے ہیں
00:31:44وہ ٹھیکے والے کے نہیں ہوتے
00:31:45ٹھیک ہے آپ بیچتے ہیں
00:31:46ہمارے حاصل ہے نا
00:31:50My second question is that if there is a mistake, what is this?
00:31:59What is this?
00:32:01What is this?
00:32:03What is this?
00:32:04What is this?
00:32:08Let's tell you.
00:32:09That this is a mistake that has been blown away.
00:32:12That is a mistake.
00:32:13One more callers.
00:32:14Assalamualaikum.
00:32:17What question?
00:32:20My question is that I have paid money.
00:32:25My wife has paid money for 10,000.
00:32:29She says that my three thousand dollars is a mistake.
00:32:37What am I like?
00:32:38I can do it.
00:32:39It's a mistake.
00:32:41They have paid money for 10,000 dollars.
00:32:45Yes, I have paid money.
00:32:47I have paid money.
00:32:48I have paid money.
00:32:49You have paid money for 3,000 dollars.
00:32:53The rest of me will pay money.
00:32:55So I have paid money.
00:32:57Okay.
00:32:57We will tell you.
00:32:58One more callers.
00:33:00Assalamualaikum.
00:33:01Assalamualaikum.
00:33:02Assalamualaikum.
00:33:03Assalamualaikum.
00:33:03Yes.
00:33:04The first question is that if you can keep your mother,
00:33:07how can you keep your mother?
00:33:08Three or four months?
00:33:09Okay.
00:33:11That's right.
00:33:12One more callers.
00:33:13Yes.
00:33:14Assalamualaikum.
00:33:18Yes.
00:33:18Hello.
00:33:21Assalamualaikum.
00:33:22What is your question?
00:33:25What is your question?
00:33:27My question is,
00:33:29if it is a murder of the accusation,
00:33:31if it is a murder of the accusation,
00:33:36then it is a murder of the accusation.
00:33:37Yes.
00:33:38Let's go.
00:33:39Assalamualaikum.
00:33:40Hello.
00:33:41Assalamualaikum.
00:33:44Assalamualaikum.
00:33:45Assalamualaikum.
00:33:46You can stop TV.
00:33:47Yes.
00:33:49You can stop TV.
00:33:50It will stop TV.
00:33:51I don't know.
00:34:21talk to me, what do you do?
00:34:29I do that.
00:34:32I'm a very careful work.
00:34:34I don't know the time.
00:34:35That's why I don't do this.
00:34:38How do you know that he talks to his own own son?
00:34:42He talks to his own son?
00:34:43I talk to his own son.
00:34:45He talks to his own house.
00:34:47He talks to Allah.
00:34:48สาพ , ༼ རར༱ད ཤཟད སླས hac དགོ૦f , རུས རངསf འྷྱད , ཁརད , བླད རངསf z encontramos ,
00:34:58རངསf , རངསf རྷྱསf ,
00:35:14Okay, let's go, Inshallah.
00:35:15This is a program of service.
00:35:17It is not a program of service. It is a good thing.
00:35:19The service is in tension because they are there.
00:35:21Now they are in tension.
00:35:23Every time this is tension.
00:35:25The body is in tension. I am here.
00:35:26Let's go.
00:35:27One more call.
00:35:28We have to finish.
00:35:28Peace be upon you.
00:35:30Peace be upon you.
00:35:32Peace be upon you.
00:35:32Yes, what are your questions?
00:35:33I have to ask you to give someone money.
00:35:36Like someone who was giving money.
00:35:40And he was still here.
00:35:41Now, do you have to give money?
00:35:43Do you have to give money?
00:35:44If you have to give money, you have to give money.
00:35:46There is no relationship.
00:35:47Do you have to give money?
00:35:49Now, you have to find a problem.
00:35:50What a way of giving money is a way of giving money.
00:35:51Keep it.
00:35:52Let's give it.
00:35:53Let's give it a break.
00:35:54You can also call us in break.
00:35:56After break, I will send a message to the scholars.
00:35:58You can call us live telephone calls.
00:36:00You can join with Mufthi Muhammad Suleil Azam-Jadir Sahib.
00:36:02You will know that you have to know.
00:36:03Your situation and their situation will be a segment.
00:36:06And you will give them the answers.
00:36:08So, in break, you will call us in break.
00:36:09Mufthi Sahib Sahib.
00:36:15coughing and coughing'.
00:36:16You can find the remnants of Qura essential,
00:36:18which one to remember.让iriars
00:36:47Thank you very much.
00:36:49Al-Fatihah
00:37:19عود علیہ السلام نے جس اخلاق اور محبت سے پیغام دیا
00:37:23یا جواب دیا
00:37:25یا قوم لیس بی صفاہ
00:37:28ولیکنی رسول من رب العالمین
00:37:30کہا میرے قوم میں بے وکوف نہیں ہوں
00:37:33میں اللہ کی طرح سے رسول بنا کر بیجا گیا ہوں
00:37:36ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمارے ساتھ کوئی بتمیزی کرے
00:37:40آپے سے باہر ہو
00:37:41کوئی اس طریقے سے اس قیفیت میں آئے
00:37:43تو ہمیں ان انبیاء علیہ السلام کے واقعات کو ہم نے باہر خالی سننا نہیں ہے
00:37:48بلکہ اس پر عمل کی قیفیت میں ہمیں آنا چاہیے
00:37:51جس کو علامہ صاحب فرماتے ہیں
00:37:52گر نہ ہو تیرے ضمیر پر نزولِ کتاب
00:37:54گرہ کشاہ ہے نہ راضی نہ صاحبِ کشاف
00:37:57اگر ضمیر پر قرآن کا نزول نہیں ہو رہا
00:38:00کیونکہ حدیث پاک میں آتا ہے
00:38:06جیسے لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے
00:38:07دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے
00:38:08تو پوچھا گیا
00:38:09اس کا طریقہ کیا ہے
00:38:11کیسے ٹھیک ہو گئے یہ دلوں کا زنگ
00:38:13تو فرمائے
00:38:16بار بار موت کا تذکرہ کرنا
00:38:19اور قرآن پاک کی تلاوت کا احتمام کرنا
00:38:21تو قرآن پاک کی تلاوت کا احتمام کر کے
00:38:23اس سے جو اللہ تعالی ہم سے چاہ رہے ہیں
00:38:25کیا ہم اس قیفیت پر جا رہے ہیں
00:38:28کہ نہیں جا رہے ہیں
00:38:32کہیں در قفل تو نہیں لگ چکے
00:38:33تالے تو نہیں لگ چکے
00:38:34تو ایک تو یہ سبق ملتا ہے
00:38:36دوسرے نمبر پر
00:38:37جو بندہ بھی تکبر کرتا ہے
00:38:39یہاں تک لکھا ہے کتابوں میں
00:38:42کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے
00:38:43چاہے وہ بڑی سیٹ پر ہے
00:38:44چھوٹی سیٹ پر ہے
00:38:45اور سامنے لوگ اس کے لئے کھڑے ہیں
00:38:47تو فرمائے اس کی تباہی کے لئے
00:38:48اتنے ہی کافی ہے
00:38:49یا تو وہ خود بھی کھڑا ہو
00:38:50یا ان کے بیٹھنے کا بندباس کرے
00:38:53یا خود کھڑا ہو
00:38:54یا ان کے بیٹھنے کا بندباس کرے
00:38:57یا ان کے حدیثیں دوسرے حدیث میں
00:38:59تبیحسب میرے من الشر
00:39:00ان یشارہ الیہی بالاسابع من دین او دنیا
00:39:04اللہ من عصمہ اللہ
00:39:06کہ انسان کی تباہی اور بربادی کے لئے
00:39:08اتنے ہی کافی ہے
00:39:09کہ اس کی طرف اشارے شروع ہو جائیں
00:39:10فلان صاحب آ رہے ہیں
00:39:12فلان چاہے وہ دینی اعتبار سے تعرف ہو رہا ہو
00:39:14چاہے دنیاوی اعتبار سے تعرف ہو رہا ہو
00:39:16فلان
00:39:17فلان سیلیبیٹ
00:39:18فلان شخص
00:39:19فلان حضرت صاحب
00:39:22اللہ اس کو بچا دے تو بچا دے
00:39:24باقی اس کے اندر تکبر کی کیفیت شروع ہو جاتے
00:39:26کہ مجھے لوگ اشارہ کر رہے ہیں
00:39:28اللہ
00:39:28اس لیے کہیں ہیں کابین کا ملتا ہے
00:39:30کہ وہ اپنے آپ کو مخاطب کر کے کہا کرتے تھے
00:39:32کہ تجھے تو کوئی لوگ تجھ پر تھوکے نہ
00:39:34یہ اللہ کا کرم ہے
00:39:35کہ تیرے عیبوں پر اس نے پردے ڈالے ہوئے ہیں
00:39:37تو اس لیے اس عیب کو چھپانے کے لئے
00:39:39اپنی گندگوں کو چھپانے کے لئے
00:39:41روزانہ ایک تو سلام کرنے میں پہل کریں
00:39:43اور اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھیں
00:39:45اور روزانہ اس کا ورد کریں
00:39:46میں کچھ نہیں
00:39:47میرا کچھ نہیں
00:39:48تو سب کچھ
00:39:49تیرا سب کچھ
00:39:50اللہ اکبر
00:39:51کیا اچھی بات
00:39:52کیا بات ہے
00:39:54جزاک اللہ
00:39:54کہ آپ ماشاءاللہ تشریف بھی لائے
00:39:56اور بہت خوبصورت کلام بھی کیا
00:39:57ہمارے ساتھ ماشاءاللہ
00:39:59مفتی حسن نوید نیازی صاحب تشریف فرمائے
00:40:02قومیں آج سے متعلق آپ نے ارشاد فرمایا
00:40:05ان کے جرائم بھی ہم نے سمجھے
00:40:06مفتی صاحب
00:40:08لیکن
00:40:08آج بھی تو
00:40:09دیکھیں ہم
00:40:11ہی نہ کئی قوم آہد
00:40:12والا جو مزاج ہے
00:40:14وہ ایگزسٹ کر رہا ہے
00:40:15اور آدمی
00:40:16آپ دیکھیں آپ علماء ہیں
00:40:17آپ کے سامنے ایسی چیزیں
00:40:18روزانہ آتی ہیں
00:40:19صبح شام آپ مسائل بتاتے ہیں
00:40:21آپ کے سامنے بھی ایسا قبر آتا ہوگا
00:40:23لوگ آنکے شکایت کرتے ہوں گے
00:40:25وہ سننے کو تیار نہیں ہے
00:40:26وہ مسجد آنے کو تیار نہیں ہے
00:40:28وہ اللہ سے ڈرنے کو تیار نہیں ہے
00:40:30ایک تو کمپیریزن بھی کریں
00:40:32کہ آج دیکھیں اللہ تعالیٰ
00:40:33مسلسل ڈیل دے رہا
00:40:34کوئی بادل نہیں آرہا
00:40:35اوپر حضرت
00:40:36مچ بھی نہیں ہو رہا
00:40:37دیکھیں جو ہے وہ
00:40:38ہم قوم آت ہو
00:40:40یا دیگر اقوام ہو
00:40:41اقوام آلم جتنی بھی ہیں
00:40:42جب ہم ان کی بیو گرافی کو دیکھتے ہیں
00:40:45ہسٹری کو دیکھتے ہیں
00:40:46تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں
00:40:47تو جو کومن چیز
00:40:48ہمیں نظر آتی ہے
00:40:52کہ جو دنیا کی بے سباتی ہے
00:40:55اس کا ادراک
00:40:57اور اس کا احساس
00:40:59یہ ہمیں نظر نہیں آتا
00:41:00کہ جتنی بھی قومیں ہیں
00:41:02جن کو بھی طاقت ملی
00:41:03جن کو قوت ملی
00:41:04وہ طاقت کے نشے میں چور ہو کر
00:41:06اپنے آپ کو ناغوزیر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں
00:41:09ہم ہی ہیں ہم ہی ہیں ہم ہیں
00:41:10اور پھر اس کے بعد
00:41:12یہ ان کو جو موت کے بعد کی زندگی ہے
00:41:16اس پر ان کا ایمان اٹھ جاتا ہے
00:41:17کہ موت کے مرنا بھی ہے
00:41:19اور مرنے کے بعد حساب بھی دینا ہے
00:41:21اس پر ان کا ایمان نہیں ہوتا
00:41:22اور وہ پھر
00:41:23موج مستی
00:41:24اللے تلے
00:41:25اس میں جو ہے وہ
00:41:26اپنا وقت سارے کا سارا گذارتے ہیں
00:41:28بلکہ ضائع کرتے ہیں
00:41:29وہ کیا قاوت بھی ہے
00:41:31بابر با عیش کوش
00:41:32کیا عالم دوبارہ نیست
00:41:33کہ بابر جتنا عیش کرنا ہے
00:41:35کر لو
00:41:35کیا عالم دوبارہ نہیں ہوگا
00:41:36یعنی بس کھل کھیلو
00:41:38تو ایسے لوگوں کے لیے
00:41:39ہم اکثر یہ کہتا ہوں میں
00:41:40اور تکبر کا بھی یہ علاج ہے
00:41:42اور یہ
00:41:43دنیا کی بے سواتی کا
00:41:45ادراک اور احساس بھی
00:41:46دل میں راسے کرنے کے لیے
00:41:48کہ بندہ جا کر
00:41:49ایک چکر قبرستان کا لگا لے
00:41:51جب بندہ قبرستان جاتا ہے
00:41:53نا قبرستان واقعی
00:41:54جائے عبرت ہے
00:41:55جب بندہ قبرستان جاتا ہے
00:41:56تو ایک دفعہ تو
00:41:58کچھ دیر کے لیے
00:42:00اس کی طبیعت جو ہے
00:42:01وہ بالکل اپنے ٹھکانے آ جاتی ہے
00:42:02عقل ٹھکانے پر آ جاتی ہے
00:42:04آدمی کو سمایے آ جاتی ہے
00:42:12زمانے کا فیرون بنا ہوا تھا
00:42:14کوئی نمرود بنا ہوا تھا
00:42:15کوئی قارون بنا ہوا تھا
00:42:17زندہ دیکھا تھا لوگوں نے
00:42:18ان کی حالتیں بھی نہیں
00:42:19اب دیکھیں
00:42:20اب جہے
00:42:20اور یہ کہ
00:42:21اب کوئی فاتحہ پڑھنے والا بھی نہیں ہے
00:42:23اور قبر
00:42:24کبھی کوئی پرسان حال نہیں ہے
00:42:25ان کا تو دور کی بات
00:42:26قبر کا پرسان حال بھی نہیں
00:42:28تو پھر بندے کو پتا چلتا ہے
00:42:29بندے کو لگتا ہے
00:42:30کہ ہاں موت جو ہے
00:42:31وہ یہ ایک حقیقت ہے
00:42:32ہوئے نامور بے نشان کیسے کیسے
00:42:35زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے
00:42:37اب مفظم ایک نصیحت میں
00:42:39ایک آپ کا کلام بالا ہوتا ہے
00:42:40دیکھیں اس معاشرے میں
00:42:42ہمارے پاس دو تین قسم کے مزاج پائے جاتے ہیں
00:42:45ایک تو کلیتاں گناہ گار ہے
00:42:47اللہ کی اس سے پناہ
00:42:48اللہ وہ بھی پناہ مانگے
00:42:49ہم بھی مانگے
00:42:50کلیتاں نیکوکار بھی بظاہر نظر آتا ہے
00:42:52ان دونوں سے ہٹ کے دو طرح کے لوگ بھی ہیں
00:42:54مجھ سے کسی نے کہا تھا
00:42:57ایک وہ ہے جو عادی نیکیوں کا ہے
00:43:00عادی متقی ہے
00:43:01لیکن اس سے گناہ بھی ہو جاتے ہیں
00:43:02ایک وہ ہے جو عادی گناہ گار ہے
00:43:05لیکن اس سے نیکیاں بھی سرزد ہو جاتی ہیں
00:43:07تو ان دونوں سے مطالق کچھ آگئی
00:43:09میں دیکھیں یہ ہے کہ ایک جو
00:43:11عادتاں نیک ہے
00:43:12کبھی بتقادہ بشری گناہ ہو گیا
00:43:15تو وہ دوسرے والے کے مقابلے میں
00:43:16یوں بہتر ہے
00:43:17کہ بہرحال وہ اللہ کی حکم کو مانتا ہے
00:43:20کبھی نفس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر
00:43:23اگر اس سے غلطی ہو جاتی ہے
00:43:24تو وہ یقینا نگر نیک ہے
00:43:25تو توبہ کرتا ہوگا
00:43:26اور توبہ کے بارے میں
00:43:28تو ہم بارہا بتا چکے
00:43:29کہ تائبو من ارمبی کم اللہ زنبالہ
00:43:31حدیثوں بارے کہ
00:43:32کہ توبہ کرنے والا ایسا ہے
00:43:33جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں
00:43:35تو یہ بندہ براہر اچھا ہے
00:43:38اور دوسرا والا جو گروپ ہے
00:43:39اس کو بھی ہم
00:43:40مایوس تو کسی کو بھی نہیں ہونا چاہیے
00:43:41کہ وہ بھی اگرچہ گناہ گار ہے
00:43:45اللہ کی رحمہ سے مایوس نہ ہو
00:43:46اور پھر نیکی تو کر ہی رہا ہے
00:43:47اللہ کرے گا اس کی برکت سے
00:43:49اس نیکی کی برکت ظاہر ہوتی ہے
00:43:51اور ایک وافسی کا دروادہ
00:43:52بندے نے کھلا چھوڑ رکھا ہوتا ہے
00:43:53اس پر بڑے واقعات بھی ہیں
00:43:54صوفیاء کرام کے بھی وقت نہیں ہے
00:43:56ورنہ شیئر کرتے ہیں
00:43:56کہ میں کہتا ہوں نا
00:43:57کہ علماء کے آپ قریب آئے ہیں
00:43:59لوگ کے سمجھتے ہیں
00:43:59کہ علماء آپ جنہیں صرف مضمت کرتے ہیں
00:44:01صرف ڈانٹتے ہیں
00:44:02صرف یہ دیکھیں اثر نہیں ہے
00:44:03میں نے جو ایکسپیکٹ کیا تھا
00:44:04آپ نے اس سے اچھا خلاف طبق جواب دیا
00:44:06اور دوسری بات
00:44:07یہ جو نیکی والا ہے نا
00:44:08جس عادتہ نیک کرتا ہے
00:44:09اس میں لیکن ایک آزمائش کا پہلو بھی ہے
00:44:11کہ بعض وقت ایسا ہوتا ہے
00:44:12کہ جو عادتہ نیک ہوتا نا
00:44:14وہ کبھی پھول جاتا ہے
00:44:15ریاکاری کا پہلو آگیا
00:44:17تکبر کا پہلو آگیا
00:44:18عجب کا پہلو آگیا
00:44:19جس نے عامال کو ضائع کر دیا
00:44:20تو ایسے کبھی آزمائش زیادہ ہے
00:44:23تو اس کو تو بہرحال زیادہ ڈرنا چاہیے
00:44:25اور اللہ کی حضور سجدہ ریز بھی ہونا چاہیے
00:44:28اور تکبر سے بھی بچنا ہے
00:44:30توازو اور انکسار
00:44:32اس کے روئیے سے زیادہ ظاہر ہونے چاہیے
00:44:33اللہ کی حضور تو متوازے ہے
00:44:35اسے ہی طبیل نیک ہے
00:44:36خلق خدا کے آگئی متوازے ہو
00:44:38اس کا اٹیچوڈ ایسا نہ ہو
00:44:39کہ اس کو دیکھ کر لوگ بولیں
00:44:40کہ اس کو اپنی نیکی کا خمار ہے
00:44:42اس کو اپنے تقوی کا زوم ہے
00:44:44تو نیکی اور تقوی کا زوم نہیں ہونا چاہیے
00:44:46ایک ہونا چاہیے
00:44:47تقوی بھی ہونا چاہیے
00:44:48لیکن اس کا زوم نہیں ہونا چاہیے
00:44:50پندار نہیں ہونا چاہیے
00:44:51ایک وہ پروین کا آپ کی بات سے شیر یاد آگیا
00:44:54میں نے کہا آپ کے ذوق
00:44:54آپ کے دل کے تار بھی چاہتے ہیں
00:44:57میں اپنے زوم میں
00:44:58اس بازیافت پر خوش ہوں
00:45:00میں اپنے زوم میں
00:45:01اس بازیافت پر خوش ہوں
00:45:03یہ واقعہ ہے
00:45:04کہ مجھ کو ملا وہ اب بھی نہیں
00:45:06اللہ
00:45:06It's true.
00:45:07It's true that I get it.
00:45:09I don't need it.
00:45:09But sometimes, some people are like,
00:45:11they can give a little attitude to them.
00:45:13They have to do something with it.
00:45:15They have to stop them.
00:45:17I've said that they have to stop them.
00:45:19They have to stop them.
00:45:20They have to stop them.
00:45:22They are very good.
00:45:23We have a caller.
00:45:26Let's go.
00:45:27Peace be upon you.
00:45:29Drop it.
00:45:31The next caller is our way.
00:45:32Peace be upon you.
00:45:35Assalamualaikum.
00:45:36Hello?
00:45:37Assalamualaikum.
00:45:39Assalamualaikum.
00:45:40Assalamualaikum.
00:45:40This is the volume of the TV.
00:45:41Please call it.
00:45:42So, the television will hold the volume.
00:45:44So, it will be easier to talk to us.
00:45:46One caller is with us.
00:45:47Assalamualaikum.
00:45:49Assalamualaikum.
00:45:50Yes.
00:45:50What is your question?
00:45:51I have to ask you.
00:45:54I have to ask you.
00:45:55What is your question?
00:45:57Yes.
00:45:58What is your question?
00:46:00Yes.
00:46:00What is happening?
00:46:01What is happening?
00:46:02Yes.
00:46:04Yes.
00:46:04What is happening?
00:46:06Yes.
00:46:06I am saying that my ears are planted both sides.
00:46:09Yes.
00:46:10Yes.
00:46:11Yes.
00:46:11Yes.
00:46:11I am going to tell you what you are saying.
00:46:15Yes.
00:46:16Yes.
00:46:17Yes.
00:46:18Yes.
00:46:20Yes.
00:46:24Yes.
00:46:25Yes.
00:46:29Yes.
00:46:30Yes.
00:46:31Yes.
00:46:32Yes.
00:46:33Yes.
00:46:34Yes.
00:46:35Yes.
00:46:36Yes.
00:46:36Yes.
00:46:37Yes.
00:46:38Yes.
00:46:38Yes.
00:46:40Yes.
00:47:07Or a
00:47:10Yes, I'm fine. How are you?
00:47:13Thank you, sir.
00:47:14Yes, sir.
00:47:15Yes, sir.
00:47:16Yes, sir.
00:47:18Yes.
00:47:26Yes.
00:47:31Yes.
00:47:35Yes.
00:47:35Yes.
00:47:39Yes, sir.
00:47:45Yes.
00:47:45Yes.
00:47:46Yes.
00:47:47Yes.
00:47:48Yes, sir.
00:47:49Yes.
00:47:50Yes, sir.
00:47:52Yes.
00:48:02Yes.
01:00:34And
Comments