Skip to playerSkip to main content
Huqooq ul Ibaad | Naimat e Iftar - Topic: Walid ke Huqooq

Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Host: Dr. Sarwar Hussain Naqshbandi

Guest: Mufti Abu Bakar Siddique Al-Azhari, Qari Younas Qadri, Prof. Taimoor Farooqi

Sana Khuwan: Muhammad Shehzad Liaqat

#shaneramzan #ramzan2026 #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:02। । ।
00:30। ।
01:05। ।
01:12। ।
01:44
02:09
02:10
02:11
02:11
02:12
02:16
02:16
02:17
02:17
02:17
02:19
02:20
02:22
02:22
02:22
02:23
02:26
02:28
02:30
02:35
02:37
02:37
02:39
02:42
02:44
02:46
02:58Thank you very much.
09:07. . . . . . . . . . . . . .
09:36as well as possible.
10:34Elinanihanahu alaikum.
10:36...
10:36They will be the same.
10:37They will be the same.
10:38So this is a fact that,
10:41the human being does not want to be the same.
10:47There is no harm to be the same.
10:49It is just what the secret is not.
10:51This is what the secret is about this.
10:53ي اسے تض�حات فاطر برلوی علی will Products
11:01الفضل برلوی علی الحمد نے 12 آہ انہوں نے نقاط بیان فرمایا ہے
11:04انہوں نے انہوں نے رکلاح زندگی کے اندر امیلامسے محبت کریں
11:09بلکل ٹھیک اچھا پروفسر جو دعا ہے والد کی خاص طور پی وہ کس طرح
11:17سے زندگی کے تمام امور میں اثر انداز ہوتی ہے معاون ہوتی ہے اس
11:21foreign
11:21what is the effect of what is the effect of the society in the end?
11:25I'm going to go with you.
11:27I'm going to go with you.
11:29I'm going to go with you.
11:29Doctor, this is the second segment that is the effect of our children.
11:36We have determined that we have children in our own.
11:40We have to be a child who will be in our own way.
11:44You can ask if a child will have a child.
11:50is
11:51But one thing that you have, that is why the devil is a male.
11:56If a child is a male, he should be a male.
12:02If a child is a male, did not only a man who can be a male.
12:04But one thing about what is one of the first things that does?
12:07What about the who have left?
12:09Most people can be in their own judge.
12:11These people can see a number of men.
12:15But there are some who existem in people who do not exist.
12:19. . .
12:50So
13:48society's idea.
13:49but just give it to me
13:52I want to do this
13:52I want to do this
13:53but then my children
13:54which I want to do this
13:55and my children
13:55and I want to do it
13:57and I want to do this
13:59and my children
14:00are a good thing
14:02I want to join
14:08and now we'll be the best
14:13in this journey
14:14and we'll be the best
14:15we must do this
14:16and we'll be able to go
14:16to the site
14:29We'll see you next time.
14:48and today we are going to be talking about the laws of the Lord.
14:51We are going to go ahead and pray.
14:53Our Lord, our Lord, our Lord, God bless you.
15:18This is a desire to keep this joy
15:26In my heart, keep this joy
21:44حصوں میں حقوق کو تقسیم کر لے ایک ہے تعظیم اور احترام کا اور ایک ہے
21:49عدب اور خدمت کا جب عدب اور خدمت کی بات آئے گی تو ماں ہی کو ترجی
21:54دی جائے گی ماں کی مشقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور جب بات آئے
21:59گی احترام اور تعظیم کی تو پھر باپ کو ترجی دی جائے گی کیوں اس وجہ
22:05سے کہ اس کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں سٹرگل بھی وہ زیادہ کر رہا ہے
22:08کفالت بھی وہ کر رہا ہے اور پھر سب سے بڑی بات جو اس مسئلے کو
22:12بلکل آسانی سے حل کر دیتی ہے اس وجہ سے کہ وہ جہاں آپ کا آقا ہے
22:17وہاں آپ کی والدہ کا بھی تو آقا ہے نا تو اس کی تعظیم اس اعتبار سے
22:23زیادہ ہوگی تعظیم کا مرحلہ جہاں پہ آئے گا تو باپ کو ترجی دیں
22:27گے ماں پر اسی تناظروں میں علماء نے لکھا ایک مثال دیتے ہوئے فرمایا
22:32اگر وہ پاؤں دمانا چاہتا ہے تو اس کا تعلق ہے خدمت کے ساتھ تو اسے
22:37دمانے دونوں کے ہیں لیکن خدمت میں ترجی دینی ہے ماں کو
22:42پہلے ماں پھر باپ وہ اپنی عزاز کے لیے ان کی خدمت کرنا چاہتا ہے
22:48سپوز وہ ایک لاکھ روپیہ پیش کرنا چاہتا ہے تو پہلے ماں کے پاس
22:52اور دیتے ہوئے دونوں کا انداز یہ ہے کہ ہاتھ اوپر نہیں ہاتھ نیچے
22:57تعظیم پیش نظر کسی کے سامنے نہیں دعاوں کا حصول انٹینشنلی
23:02اور یہ سمجھنا اور یہ پیش کرتے ہوئے کہنا مال کی کیسیت ہے
23:07میرا بدن میری جان یہ سب کچھ آپ کا ہے میں تو آپ کا غلام ہو
23:11اگر آپ بیچنا چاہیں تو آپ مجھے بیچ بھی سکتے ہیں
23:13اور ماں کو پچھتر ہزار پیش کرے گا اور باپ کو پچیس ہزار پیش کرے گا
23:19لیکن اگر دونوں والدین کہیں اس کو ملاقات کا شرط دینے کے لیے آتے ہیں
23:25تو اب چونکہ معاملہ ہے تعظیم کا تو اب باپ کے لیے وہ کھڑا ہوگا
23:29ماں کی بنسبت باپ کو ترجیح دے گا
23:32اس کے لیے سیٹ اس کے لیے پروٹوکول اس کے لیے کیفیات والدہ سے ذرا مختلف ہوں گی
23:38کنکلوٹ ہم یہی اسی بات پہ کرتے ہیں
23:41کہ دونوں کی رسپیکٹ پیش نظر رہے گی
23:44البتہ دو حصوں میں تقسیم کر کے
23:46عدب کی اور تعظیم کی بات ہوگی
23:49تو والد کو اور خدمات کی بات ہوگی
23:51تو والدہ کو ترجیح دی جائے گی
23:53بلکل ٹھیک
23:53کاری صاحب بڑی خوبصورت بات جو ہے وہ
23:56مفتی صاحب نے کی اس کو مزید ذرا تھوڑا سا
23:59موجودہ ہمارا جو معاشرتی
24:01منظر نامہ ہے
24:02اس میں باپ تو حساب نہیں مانگتا
24:05اولاد سے جتنا بھی ان کے اوپر خرچ کرتا ہے
24:07بچپن سے لے کر ان کے کمانے تک
24:09اور برسر روزگار ہونے تک
24:12لیکن یہ ہوتا ہے کہ جب بچے برسر روزگار ہو جاتے ہیں
24:15تو وہ حساب کتاب شروع کر دیتے ہیں
24:17اور حساب مانگنا شروع کر دیتے ہیں
24:19تو یہ جو ایک غیر متوازی
24:22نظام شروع ہو جاتا ہے
24:24باپ کی ضرورت کے موقع پر
24:26اور اس سے حساب مانگنا جو ہے وہ کیسا ہے
24:28اور اس کو کس تناظر میں دیکھیں
24:30ڈاکسر کی بات یہ ہے
24:32کہ جو والدین سے حساب مانگتا ہے
24:35وہ مجھے ڈر ہے
24:36کہ وہ قیامت کے دن حسابوں کتاب میں نہ آ جائے
24:39اور کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا
24:41جو حسابوں کتاب میں آ گیا وہ بھس گیا
24:43تو ماں باپ دیکھیں
24:45وہ بچپن سے لے کر جناب
24:47ابھی وہ رحم مادر میں ہے
24:49تو وہاں پہ خرچ ہو رہا ہے
24:50جناب ڈلیوری ہو رہی ہے پھر خرچ ہو رہا ہے
24:53پھر میڈیکل پہ خرچ ہو رہا ہے
24:54پھر جناب تعلیم پہ خرچ ہو رہا ہے
24:56پھر صحت پہ خرچ ہو رہا ہے
24:58میں کہتا ہوں اتنے پہلو ہیں
24:59کہ میں پہلو نہیں گنا سکتا
25:01ساری زندگی وہ باپ
25:03اپنا آپ وقف کر دیتا ہے
25:05صرف کر دیتا ہے
25:05اور میں پھر احران یہ بھی ہوتا ہوں
25:07کہ جناب لوگ کچھ چیز نعمت ملتی ہے تو لکھا ہوتا گاڑی کے پیچھے
25:11ماں کی دعا میں کہتا ہوں ماں باپ کی دعا وہ باپ کی طرح یہ کہاں سے جملہ
25:15نکلا ہے ماں باپ دونوں اپنی زندگی گال دیتے ہیں صرف کر دیتے ہیں
25:20اپنے بچے کے لیے دیکھیں نا پھر بیٹے کو اپنا تن مندن سب کچھ
25:24اپنے باپ پہ اپنی ماں پہ قربان کر دینا چاہیے بخاری کے اندر آتا ہے
25:28کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا باپ کی رضا میں رب کی رضا ہے
25:33تم خرج کر رہے ہو باپ راضی ہو گیا بیڑا ہی پار ہو گیا
25:35فرمایا یہ بھی فرمایا اور دوسری جانت ترمزی کی روایت ہے فرمایا
25:40ہما جنت اکا وہما نان اکا فرمایا تمہارے لیے دونوں جنت بھی ہیں
25:45تمہارے لیے دونوں کو لیے جہنم بھی ہیں ان کی خدمت کرے گا تو پا جائے گا
25:49جس طرح ایک بڑی معروف حدیث پاک کہ کریم آقا علیہ السلام نے جب آپ نے
25:54ممبر پہ قدم رکھا تو آمین فرمایا پھر قدم رکھا تو آمین فرمایا تین مرتبہ آمین فرمایا
25:58تو کریم آقا علیہ السلام سے پوچھا یا رسول اللہ کوئی بظاہرین کچھ چیز دعا ہوئی بھی نہیں
26:03اور آپ نے آمین فرمائی ہے اور یہاں قبلہ ڈاکس اپ بڑی روک ایک بات کہوں گا
26:07سرکار نے کبھی دعائی ضرر نہیں کی لیکن مجھے یہاں دعائی ضرر نظر آ رہی ہے
26:12جناب وہ تین دعائیں سے میرا نام لیا جائے جس نے درود نہ پڑا تو وہ اس پر
26:15جناب اس کی نا خاک لدہ ہو جائے فرمایا جس نے رمضان پایا اور
26:19رمضان پا کے فمن شہید آمین کو مشہر اس نے روزے نہ رکے اس کی نا خاک لدہ ہو جائے
26:24یہاں خاص بات یہ ہے فرمایا جس نے والدین کو پایا یا دونوں میں سے کسی ایک کو پایا
26:30اور ان دونوں میں سے کسی ایک کو پا کے جنت کو نہ پایا فرمایا اس کی بھی نا خاک
26:36لدہ ہو جائے
26:36So, there is, our boyhood of love behind us.
26:40Then our your boyhood.
26:41The paradox was, which is the first time and we get out of this violence.
26:47Kiddo Estonia came back.
27:06beithe ga na, apne walid ki paas beithe ga, apne walidah ke paas beithe ga,
27:10صرف eek lamha unki ziyaret ke rege ga, ڈاکسہ kibla, eek lamha,
27:14acis me koi peisha nie lag raha, koi mehenaza nie lag raha, eek lamha,
27:18eek lamha o apnei muhabbat ke saat, apne walidayan ka chehra dhekta hai,
27:21furma hai, usse mokbool hajj ka svaab hata hoja,
27:24wakad kharaj kere,
27:25اور ڈاکسہ, yaha me eek baat kehoon ga,
27:27و nazirin ke liye, nazirin tawajah furmaayin,
27:29اگر صرف دیکھنے میں اتنا عجر ہے,
27:32صرف تکنے میں, اگر ابھی نہیں یہ بھی کہا تھا,
27:33یاسول کوئی سو مردبہ دیکھے,
27:35فرمایا اللہ کے خزانے میں کمی ہے,
27:37جملات دینا چاہتا ہوں یہ,
27:38کہ دیکھنے میں اتنا عجر ہے,
27:40دیکھنے میں اتنا عجر ہے,
27:42میں زور دے رہا ہوں اس بات پہ,
27:43دیکھنے میں اتنا عجر ہے,
27:44کہ مقبول hajj ka svaab ہے,
27:46اگر دیکھنے میں اتنا عجر ہے,
27:48تو خدمت کا ترک کرنے میں کتنا عجر ہو,
27:50سبحان اللہ,
27:51سبحان اللہ,
27:51ناظرین اکرام,
27:52بہت اہم پہلو ہے,
27:54کہ اس وقت جو,
27:55آہ,
27:56زمانہ ہے,
27:57ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے,
27:58اس نے ہمارے ڈشتوں کو کمزور کر دیا ہے,
28:01تعلقات کو کمزور کر دیا ہے,
28:03بچوں کا والدین کے ساتھ جو انٹریکشن ہے,
28:05وہ بہت کم ہو گیا ہے,
28:07اس کے اوپر بات کرتے ہیں,
28:08کہ کس طرح سے,
28:09اس مسمیچ ایریے کو,
28:11کور کیا جا سکتا ہے,
28:12کہ اس طرح سے,
28:13ہم اس کو دوبارہ,
28:14ان ڈشتوں کے توازن کے اندر,
28:16واپس لاسکتے ہیں,
28:17بہت اہمیت کا حامل یہ سوال ہے,
28:19لیکن اس پہ بات کرتے ہیں,
28:21چھوٹے سے وقفے کے بعد.
28:30شان رمزان
28:37ہے مومینوں کے دل کا
28:40اجالہ شان رمزان
28:42ہے مومینوں کے دل
28:44ناظرین خوش آمدیت کہتے ہیں,
28:46وقفے کے بعد آپ کو پرگرام دیکھ رہے ہیں,
28:48اب حقوق علیباد اور والد کے حقوق کے اوپر بات کر رہے ہیں.
28:51بریک پہ جانے سے پہلے,
28:52میں نے آج کے زمانے میں جو ایک گیپ پیدا ہو گیا ہے,
28:55بچوں کے درمیان اور خصوصاً والد اور بچوں کے درمیان,
28:59اس کو کس طرح سے فل اپ کیا جا سکتا ہے,
29:01کس طرح سے بچوں کی رہنمائی کی جا سکتی ہے,
29:05کس طرح سے جو پیرنٹس اور بچوں کے درمیان جو
29:08میس انڈرسٹینڈنگز جو ہیں وہ بڑھتی جا رہی ہیں,
29:11ان کو کس طرح سے دور کیا جا سکتا ہے.
29:13پروفیسر تمہور فاروقی صاحب,
29:14چونکہ براہ راست طلبات سے اور
29:17تعلیم و تعلیم سے ان کا تعلق ہے,
29:20تو یہ زیادہ بہتر انداز سے اس کا جواب دے سکتے ہیں.
29:23کیا فرماتے ہیں؟
29:23جی, ڈاکٹس صاحب اس میں سب سے پہلی چیز یہ ہے
29:26جس رنگے دیگر احباب نے یہ بات بیان کی
29:29کہ ہم باپ کی قدر و قیمت کو بلکل فراموش کر دیتے ہیں.
29:34اور اس حوالے سے ایک چیز یاد رکھنی چاہیے
29:37کہ گلشن انسانیت کا جو آغاز ہے
29:40وہ اب البشر حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا.
29:43اور انہی سے یہ حضرت امہ ہوا کو تخلیق کیا گیا.
29:47اگر ہم لفظ والد کو دیکھیں
29:49تو یہ جن حروف کا مرقب ہے
29:51یہ واو سے ولایت کا پیکر بھی ہے
29:55یہ علف سے الفت کا مرکز بھی ہے
29:57یہ لام سے لطف و کرم کا پیکر بھی ہے
30:01اور یہ دال سے دانائی اور دستگیری کا پیکر بھی ہے
30:04تو اس حوالے سے والد کا احترام اور عزت
30:07اس معاشرے کے اندر انسان کو سمجھنی چاہیے
30:09اولاد کو سمجھنی چاہیے
30:10ہمارا معاملہ یہ ہے
30:12کہ ہم ایک ورچول زندگی گزار رہے ہیں
30:15ورچول دور کے اندر زندگی گزار رہے ہیں
30:16جہاں پر ہمارے پاس یہ موبائل سکرین کا ٹائم اویلیبل ہو گیا
30:20ہم نے اپنی اٹیشمنٹ موبائل سکرینز کے ساتھ زیادہ کر لی
30:24ہم نے سوشل کنیکشنز زیادہ کر لی ہے
30:27ہمارے فیس بک فرینڈز اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فرم پر فرینڈز بڑھتے چلے جا رہے ہیں
30:31لیکن انفورچنیٹلی ہم اپنی فیملی کے ساتھ بائی کٹ کر رہے ہیں
30:35ہم سکرین کے قریب ہو گئے اور گھر کے افراد سے دور ہو گئے
30:38تو بالخصوص یہی وجہ تھی کہ جس کی وجہ سے جو ایک اولاد ہے
30:43وہ ایک باپ سے زیادہ ماں سے زیادہ اپنے دوستوں پر ریلائے کر رہے ہیں
30:47ہم جیسا کہ آپ نے کہا کہ کیونکہ میرا ایجوکیشن فیلڈ کے ساتھ تعلق ہے
30:51تو جب ہم پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ ہوتی ہے
30:53تو ہمیں پیرنٹس کی طرف سے زیادہ جو ایک ایشیوز فیس کرنے بڑھتے ہیں
30:58وہ سب سے پہلی چیز ہوتی ہے باپ یا ماں کی طرف سے
31:01کہ یہ بچہ ہماری بات نہیں سنتا
31:03اب ہمارا ایک پیرنٹس کی بھی تربیت کی ضرورت ہے
31:08پیرنٹس بچوں کے اوپر بڑا ایک سخت قسم کا ایک عبیس قسم کا رویہ رکھتے ہیں
31:12اپنی بات منوانے کے لیے
31:14یہاں پر پیرنٹس کو اپنی بھی تھوڑی سی ایک تربیت کرنی شاہی ہے
31:19اگر آپ فیل کریں کہ آپ کا بچہ آپ کی بات نہیں سن رہا
31:21آپ سے وہ دور ہوتا چلا جا رہا ہے
31:23تو ضروری نہیں ہے کہ بچے میں کوئی فالٹ ہو
31:24یہاں پر آپ کو بھی اپنے کتھارسز کے لیے
31:27کسی سائیکیٹریس کے پاس جانا پڑے گا
31:28آپ کو اپنی پرابلم ڈسکس کرنی پڑے گی
31:30کہ وجہ کیا ہے کہ مجھ سے میری اولاد دور ہوتے چلے جا رہی ہے
31:33کیا وہ وجہ پیچھے سختی تو نہیں ہے
31:34لیکن ایک چیز یہ چیز یہاں پر یہ بھی بات عرض کروں
31:37کہ بہرحال میں ایک گھر کی بات کروں
31:41ایک سوسائیٹی کی بات کروں
31:42جہاں پر افراد خانہ اگر متفق ہوں گے
31:45اگری ہوں گے
31:46ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور الفت کا پیکر بن کر رہیں گے
31:49تو معاشرہ وہ گھر انتہائی پرسکون رہتا ہے
31:52مجھے میاں محمد بخص صاحب کا وہ شیر پنجابی والا یاد آیا
31:56کہ بھائی بھائیاں تھے
31:58سجن ہوندے
31:59درد بنا دے
32:00بھائی بھائی دیاں با ماں
32:02باپ سران دے تاج محمد نے ماں ماں
32:04تھنڈیاں چھاواں
32:04یہ جو ایک سوسائیٹی ہے
32:06اس کے اندر بھائی برادر ماں باپ
32:08یہ مین رکن ہے سوسائیٹی کے اندر
32:11اگر یہ متفق ہو جائیں گے
32:12ایک پلیٹ فارم پر آ جائیں گے
32:14ایک دوسرے کے ساتھ سکون اور محبت کے ساتھ رہنا شروع کر دیں گے
32:17تو انہی کے ساتھ معاشرہ بھی اچھا ہو جائے گا
32:19صحیح صحیح
32:20مفتی صاحب ایک بات کی طرف اشارہ کیا ہے
32:23غیر محسوس طریقے سے
32:25پروفیسر صاحب نے
32:27کہیں والد کے اندر کوئی بچے
32:29محسوس کرتے ہیں
32:30کہ کوئی ان کے اندر کسی بھی
32:32سوشل معاملات میں
32:33گھرے لو معاملات میں
32:35کوئی کمی ہے
32:35کجی ہے
32:36تو کیا ایسا پوسیبل ہے
32:38کہ وہ اس کمی کو
32:40اس کتاہی کو
32:40کم از کم اس کو
32:41باور کرا سکے ہیں
32:43یا کوئی ایسی
32:44ریزن کے کیوں بچے جو ہیں
32:46وہ دور ہوتے ہیں
32:47پیرنٹ سے
32:47یا والد سے کم از کم دور ہوتے ہیں
32:49تو اس کا کوئی
32:51کوئی طریقہ کار ہے
32:52کہ اس کو بھی
32:53اڈریس کیا جا سکے
32:54جب کے والد صاحب
32:55بس جو مرضی
32:56کریں وہ والد صاحب ہیں
32:57اببائی جی ہیں
32:59ڈاکٹر صاحب کیولا
33:01کسی بھی جگہ
33:02جو مسٹ کونسپشن
33:03پائی جاتی ہے
33:04اس میں جو
33:05بنیادی فالٹ ہوتا ہے
33:07وہ دونوں اطراف
33:08کا ایک دوسرے کے حقوق
33:09سے آگہی کا
33:10نہ ہونا ہے
33:11چھیک
33:11سب سے پہلے تو
33:13یہ اویرنیس
33:14بہت ضروری ہے
33:15کہ والدین کے حقوق
33:17کیا ہیں
33:17اور اولاد کے حقوق
33:18کیا ہیں
33:18تاکہ دونوں
33:19اپنے اپنے دائرے میں
33:20رہیں
33:21اور کوئی بھی
33:21اپنے دائرے سے
33:22تجاوز نہ کرے
33:23جس طرح
33:25اولاد کے والدین
33:27پر حقوق ہیں
33:27اسی طرح
33:28والدین کے
33:29اولاد پر حقوق ہیں
33:30والد کو کیا چاہیے
33:32نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
33:33نے فرمایا
33:33کہ اولاد کے لیے
33:35جو بہترین
33:36توفہ ہے
33:37باپ کی طرف سے
33:38وہ اچھی تربیت ہے
33:39اگر تربیت
33:40اچھی ہوگی
33:41تو پھر ایسا
33:43ممکن نہیں ہے
33:44کہ کسی موقع پر
33:45وہ
33:46ان کے حقوق میں
33:47کوئی کمی
33:47یا کتاہی کر دے
33:49اور ان کی
33:50کسی پہلو کو
33:52تشنا چھوڑ دے
33:53نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
33:55کے تربیت
33:56یافتہ
33:56جناب سینہ عمر
33:57رضی اللہ تعالیٰ عنہ
33:58کی بارگاہ میں
33:58ایک شکایت آئی
33:59یہ والد کے لیے
34:01وارننگ ہے
34:01وارننگ ہے
34:02کہ انہیں بھی
34:02اپنے حقوق
34:03باہر صورت
34:04ادا کرنے ہیں
34:05ہر وقت
34:05وہ
34:06ایڈمنیسٹریشن
34:07کو
34:08ڈیل کرتے ہو
34:09ایڈمنیسٹریٹر نہیں ہے
34:10بلکہ
34:11بہت ساری
34:11مرتبہ
34:12وہ گائیڈر بھی ہیں
34:13بہت ساری
34:14مرتبہ
34:14وہ
34:15رہنمائی
34:16کرنے والے بھی ہیں
34:17شفقت کرنے والے بھی ہیں
34:18اور ان کے
34:19اولاد کے حقوق
34:20کو ادا کرنے والے بھی ہیں
34:22اور ان پر
34:22صرف نظر کرنے والے بھی ہیں
34:24جناب عمر
34:25رضی اللہ تعالیٰ عنہ
34:26ان کی بارگاہ میں
34:26کیس آیا
34:27کہ
34:28والد
34:28کی
34:29شکایت
34:30والد
34:30اپنے بیٹے کی شکایت
34:31لے کے آ گیا
34:32آپ نے
34:33بیٹے کو بلایا
34:34جب بیٹا آیا
34:35تو آپ نے پوچھا
34:37کیوں ایسا کیا
34:38کہا باقی سوالوں
34:39کا جواب
34:40بعد میں دوں گا
34:41پہلے میرے والد سے
34:42اتنا پوچھ کے
34:42بتا دیجئے
34:43کیا انہوں نے
34:44اپنا حق تربیت
34:45بھی مجھ پر
34:46ادا کیا ہے
34:46کہ نہیں کیا
34:47اگر حق تربیت
34:48ادا ہو جائے گا
34:49تو پھر امید ہے
34:50کہ ایسا
34:51کوئی مسئلہ
34:52سامنے نہیں آئے گا
34:53کی جا سکتی ہے
34:55بچوں کو
34:56بلکل ہی نا
34:57نا وہ کر دیا جائے
34:58تاکہ وہ بھی
34:59سائیڈ تھوڑی سی
35:00ہم ضرور
35:00اس کو ڈسکرک کر
35:01اس اب کیا پیغام ہے
35:02جناب
35:02کبلہ ڈاکسہ
35:03بہت شکریہ
35:03ڈاکسہ کبلہ
35:05والدین کی عظمت
35:06اور شان کے حوالے سے
35:07لوگوں کو
35:08پیغامات دینے چاہیے
35:09اور حدیث رسول سے
35:11اور انبیاء
35:12علیہ السلام کی
35:13سیرت کا نور
35:14بچوں کو دکھانا چاہیے
35:15اور ان کی عظمت
35:16کے پہلو دکھانے چاہیے
35:17حضرت سلمان علیہ السلام
35:18کو اللہ پاک نے
35:19بڑا مقام
35:19اتا فرمائے
35:20بڑی بلندی
35:21بادشاہت اتا فرمائی
35:23اور آپ
35:23ہر چیز یہ
35:24عجوبہ ہے آپ کی
35:25تخت پر جلوہ
35:26فرما ہوتے
35:27جانور بھی
35:27جنوں اونسو ہوتے
35:28عجوبہ تھا
35:29لیکن آپ نے ایک
35:30مطقہ کہا
35:30یا اللہ مجھے
35:31کوئی عجوبہ دکھا
35:32والدین کے عظمت
35:33دیکھی گا
35:34کیسی ہے
35:35آپ نے کہا
35:35مالک مجھے کوئی عجوبہ
35:36دکھا فرمایا
35:37اچھا چلو آؤ
35:37سمندر کے کنارے پہ آؤ
35:39میں تمہیں عجوبہ دکھاتا ہوں
35:40یعنی والدین کی دعا
35:41اور اس کی خدمت میں
35:42کتنی برکتیں
35:44وہ آئے
35:45سمندر کے کنارے پر
35:46تو دیکھا
35:46کچھ نظر نہ آیا
35:47آپ نے ایک
35:48جن کو بیجا
35:49کہ سمندر کی تیہ میں
35:50جاؤ جا کے دیکھو
35:51کہ اسمی عجوبہ کیا
35:52وہ گئے
35:53اور وہ
35:54دیبلی
35:54اس نے ڈائیو کی
35:55لیکن واپس آگیا
35:55کچھ نظر نہ آیا
35:56ایک اور جن کو بیجا
35:57اس سے بھی کچھ نظر نہ آیا
35:58آپ نے
35:59آصب بن برخیہ کو بیجا
36:00کہ دکھ صاحب وہی ہیں
36:01جو
36:02یہاں جبکنے سے پہلے
36:03ہیں جی
36:04تخت کو لے آئے تھے
36:05وہ گئے تو
36:05انہوں نے
36:06بالکل تیک اندر گئے
36:07تو ایک بڑا خوبصورت
36:08کبہ پڑا ہوا تھا
36:09کافوری کبہ تھا
36:11اس کے چار دروازے
36:12چاروں اوپن ہیں
36:12اور ایک ہیرے کا ہے
36:14ایک یکوت کا ہے
36:15ایک مرجان کا ہے
36:16ایک موٹیوں کا ہے
36:16تو اٹھا کے باہر لائے
36:18تو ایک نوجوان
36:19بڑی خوبصورت داڑی مبارک
36:20اس کی نور چم کر آئے
36:21تو باہر لائے
36:22تو اللہ کے پیغمبر نے پوچھا
36:24کہ اللہ کے بندے
36:25تو کب سے یہاں عبادت کر رہے ہیں
36:26تو اس نے کہا
36:26جی میں عبراہیم علیہ السلام کے دور سے عبادت کر رہا ہوں
36:29آپ نے اسحاب لگایا
36:30دو ہزار سال ہو گئے
36:31دو ہزار سال سے عبادت کر رہا ہے
36:33فرمایا
36:34تو یہاں پہنچا ہے کیسے
36:35اب دکھ سب دیکھئے گا
36:36دعا کے طاقت کتنی ہے والدین کی
36:38جو کبلا مفتی صاحب نے کہا
36:39کہ دیگر نے بیان کیا
36:40پروفیس صاحب کبلا کے محرز کرتا ہوں
36:42کہ آپ نے فرمایا
36:43کہ میں نے
36:44اپنی ماں کی خدمت کی
36:46اس کی برائی نہیں تھی
36:47تو جب وہ جانے لگی
36:48تو اس نے دعا کی یالے
36:49اس کی عمر لمبی کر
36:50اللہ
36:51تو ہزار سال ہو گئے
36:52میں ابھی تک جوان بیٹھا ہوں
36:53تو کہا یہاں پہنچا ہے کیسے
36:54کہا جب میں نے اپنے باپ کی خدمت کی
36:56جب وہ جانے لگے
36:57تو انہوں نے دعا کی
36:58یالے اس نے وہاں عبادت کا ذوق اتا کر
37:01کہ وہاں شیطان بھی نہ جا سکے
37:02وہاں جن بھی نہ جا سکے
37:03تو میں یہاں بیٹھ کے عبادت کر رہا ہوں
37:05یہ دعا کی برکت ہے والدین کی
37:07تو اللہ کے پغمبر نے پوچھا
37:08کہ میری ماں عیت میں رہنا چاہتا ہے
37:31کہ آج اس دور کے اندر مغربی معاشرے کو دیکھیں
37:34تو جہاں پر سوسائیٹی کے اندر
37:36اولڈ ایج ہوم کا کنسپ پایا جاتا ہے
37:38تو اسلام اس چیز کی تردید کرتا ہے
37:40اسلام کہتا ہے کہ والدین تمہارے لیے
37:42روحانی سرمایہ ہیں
37:43تمہارے لیے دعاوں کا مرکز ہیں
37:44ان کی خدمت کی دنیا بھی سوار لو
37:47اور اپنی آخرت بھی سوار لو
37:48بہت شکریہ جی
37:49مہمانہ نے گرامی کی تشریف آوری کا
37:51رہنمائی کا
37:52ابھی کلام جو ہے وہ بھی
37:53ہم شہزاد لیاکت صاحب سے لیتے ہیں
37:55نات کے چند اشار
37:56ارز کرتے ہوئے آپ سے اجازت طلب کرنی ہے
37:59سربسر بل یقین ہے ساری
38:01سربسر بل یقین ہے ساری
38:05پیروی ان کی دین ہے ساری
38:08جو بچھائی گئی مدینے میں
38:11جو بچھائی گئی مدینے میں
38:14آسمانی زمین ہے ساری
38:16آسمانی زمین ہے ساری
38:19شہر تیبہ میں آکے لگتا ہے
38:21زندگانی حسین ہے ساری
38:24آفیت جو زمین پر اتری
38:27اس نگر میں مقین ہے ساری
38:30شب اترتی ہے کیا مدینے میں
38:32تیرگی مہجبین ہے ساری
38:35جو رسالت اتا ہوئی ان کو
38:38عظمتوں کی امین ہے ساری
38:40آپ کی خاکے پائے نقش قدم
38:43منزل کاملین ہے ساری
38:46الفتِ آلِ سیدِ عالم
38:49جانِ دینِ مطین ہے ساری
38:52بندگانِ خدا کی ہر لمحہ
38:54مصطفی مہین ہے ساری
38:57چھب حسین و حسن کے چہرے پر
39:00اکسِ روحِ بمین ہے ساری
39:02ان کا دیدار ہونے والا ہے
39:05موت بھی دل نشین ہے ساری
39:08نا تیسی بٹھاس ہے سرور
39:11شہد ہے انگبین ہے ساری
39:14ساری کل آپ سے ملقات ہوگی کلام شامل
39:16کرتے ہیں جناب شہدادلہ
39:18شہد ہے ساری
39:48Satsang with Mooji
40:19Satsang with Mooji
40:48Satsang with Mooji
41:19Satsang with Mooji
41:45Satsang with Mooji
42:15Satsang with Mooji
42:41Satsang with Mooji
43:13Satsang with Mooji
43:37Satsang with Mooji
43:40Satsang with Mooji
43:40Satsang with Mooji
Comments

Recommended