00:20Bismillah ar-Rahman ar-Rahim
00:21Daastan Muhammad sallallahu alayhi wa sallam
00:27بات یہاں تک پہنچی تھی کہ ہر ظلم جبر کر کے دیکھ لیا کفار نے
00:33دارِ ارقام کے واقعہ سن لیے صفا پہاڑی کا واقعہ آپ نے سن لیا
00:36پھر حضرتِ بلال کے ساتھ جو کچھ ہوا آپ نے سن لیا
00:39پھر حجرتِ حفشہ کا واقعہ آپ نے کل سن لیا
00:42اور کلم نے یہاں ختم کیا کہ اب اور آگے بڑھیں گے یہ کفار
00:46اور ہم نے سوال چھوڑا کہ اب کیا کر لیں گے سب تو کر لیا
00:49تنز تانے پتھر کاٹے تشدد شہادتیں اور حجرت کی تو وہاں بھی آگئے
00:55تو وہ حفشہ میں بھی حرصوا ہوئے اب کیا کر لیں گے یہ
00:58تو ہم نے کل بات یہاں پر چھوڑی تھی کہ اب یہ کچھ ایسا کریں گے
01:02کہ اب یہ سانسوں کو محدود کرنے کی کوشش کریں گے
01:05ایک عجب کام کریں گے وہ کام کیا تھا اور اس کا انجام کیا ہوا
01:08آج ارس کرتے ہیں
01:13ایک دن مکہ کے سردار جمع ہوئے
01:17باتیں ہوئیں
01:19مشورے ہوئے
01:21پلاننگ یہی ہو کہ بھئی کس طرح یہ سلسلہ ہے
01:23پھیلتا جا رہا ہے اسلام ہم پیدر پہ ہم کوششیں کر رہے ہیں
01:26کچھ کامیابی نہیں ہو پا رہی کیا کریں
01:30مشاورت کے بعد ایک فیصلہ ہوا
01:33عجیب فیصلہ ہوا
01:36سنگدل فیصلہ ہوا
01:39بلکہ ایک معایدہ ہوا
01:40یعنی کہ ایک سٹپ آگے بڑھے
01:42they meant business
01:43they were serious about it
01:44ایسا نہیں ہے کہ اب تیہ کر رہا ہے
01:46اب بات ختم ہو گئی
01:47نہیں نہیں باقیدہ لکھا
01:49لکھا لکھی بات سوک جاتی ہے نا
01:50کہ بھئی اب سب بیٹھے ہیں
01:51دیکھو کہ اب اس کو لکھ رہے ہیں ہم
01:53تاکہ پھر کوئی مکرے گا نہیں کل کو
01:55یہ ہونا ہے کام
01:56زبانی جمعہ خرچ نہیں ہے
01:59معایدہ ہوا
02:02ایسا معایدہ جو تاریخ میں
02:04ظلم کی مثال بن گیا
02:05آج بھی ہے
02:09تیہ کیا ہوا
02:13اس معایدے میں تیہ کیا گیا
02:15کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاندان
02:18خاندان بنی حاشم سے
02:20کوئی خرید و فروخ نہیں کرے گا
02:22معایدے میں تیہ ہوا اور لکھ دیا گیا
02:24خاندان بنی حاشم سے
02:25کوئی لینڈن نہیں کرے گا
02:27معایدے میں تیہ ہوا اور لکھ دیا گیا
02:29خاندان بنی حاشم سے
02:30کوئی رشتہ تیہ نہیں کرے گا
02:32معاہدے میں تہواہ لگ دیا گیا
02:34خاندان بنی آشم سے
02:36کوئی ملاقات نہیں کرے گا
02:37معاہدے میں تہواہ لگ دیا گیا
02:40خاندان بنی آشم سے
02:41رسول اللہ کے خاندان سے
02:42کوئی کسی قسم کی مدد نہیں پہنچ دے گا
02:45یعنی مکمل بائیکارٹ
02:54اس خاندان سے
02:56کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھے گا
02:57آپ اس کا مطلب سمجھ رہے ہیں
03:00بھائی اس معاشرے میں رہ رہے ہیں
03:02In a society, a family, a family, a house is isolated.
03:06What does this mean?
03:08It means that when it's about, it's about being hungry and food is used to go to eat,
03:12so you can sell it to a store.
03:16It means that a society is living here,
03:19and when it comes to the people,
03:20then you can't get it.
03:24What does this mean?
03:26A society, a family, a family, a family is living,
03:28and you will be living in a row.
03:31کوئی رشتہ نہیں تیہ کرے گا
03:37مقصد صاف تھا
03:38رسول اللہ ﷺ
03:40کو تنہا کر دو
03:43اور ان کے قبیلے
03:45کو خاندان کو اتنا کمزور کر دو
03:47کہ وہ خود ہی رسول اللہ کو
03:48روکنے پر مجبور ہو جائیں
03:51As I said
03:53وہ صرف ملے نہیں
03:55صرف کچھ تیہ نہیں کیا
03:56بلکہ لکھا
03:58بات آگے پڑھاتے ہیں
04:00معاہدہ لکھا اور اسے کعبے کے اندر
04:02یا کعبے کے پاس لٹکا دیا گیا
04:05اس جیس کی بڑی
04:06symbolic significance تھی اس زمانے میں
04:09یعنی اس وقت مکیہ کی
04:10breaking news ہوگی ہے سب سے بڑی خبر ہوگی
04:12ارے سنائیں یعنی جو اس معاہدے میں
04:14شامل نہیں بھی ہوگا ایک عام شہری اس کو ہی پتہ لگیا ہوگا
04:18کہ ارے سنائیں یہ تیہ ہوا ہے
04:21ارے کعبے میں لکھ کے لٹکا دیا گیا ہے
04:23کہ اس خاندان سے کوئی کچھ نہیں کرے گا
04:27آپ سوچیں
04:28آج اتنا بڑا شہر ہے
04:30یہ اتنا بڑا شہر تو نہیں تو زمانے میں
04:32شہر کے کسی مرکزی چوک پر
04:34کوئی اس طرح کی کوئی چیز ہو جائے
04:35تو لوگ کہیں گے نا اچھا ارے وہاں یہ ہو گیا
04:37یہاں مکہ ہے اتنا بڑا تو نہیں
04:38اتنا آج کا کراچھی ہے
04:39اور خانہ کعبہ
04:43وہاں پر تحریح لگا دی جائے
04:46اب کیا ہوا
04:47اب صورتحال یہ ہوئی
04:48اب عجیب ہے معاملہ
04:49اب صورتحال یہ ہوئی
04:49کہ بنو حاشم
04:51اور بنو مطلب کے لوگ مجبورا
04:54چونکہ اب تو کچھ ہوئی نہیں رہا
04:55مکہ میں تو
04:56تو ان سب کو مکہ کے
04:58ایک تنگ
04:59وادی نمہ حصے میں جانا پڑا
05:02مکہ کے ایک تنگ
05:04وادی نمہ حصے میں
05:05وہ سمٹ گئے
05:05وہ جگہ
05:06جسے لوگ کہتے ہیں
05:08یا بعد میں کہنا گے
05:09شیب
05:13شیب
05:14اب منظرنامہ مکہ کی گلیوں سے نکل کے
05:16شیب ابھی طالب کی گھاٹی میں آگیا ہے
05:19شیب ابھی طالب
05:21یعنی ایک پوری برادری
05:23ایک پورا خاندان
05:24جس کا خاندان
05:25رسول اللہ کا خاندان
05:26اس سے بڑا کوئی خاندان ہے دنیا میں
05:29ایک پوری برادری
05:31اپنے بزرگ
05:32اپنی ماں
05:33اپنی بہنیں
05:34اپنے بچے
05:34اپنی عورتیں
05:35سب ایک محدود جگہ میں محصور ہو گئے
05:39جیل ہو گئی نہیں
05:43یعنی یہ ستم کی انتہا نہیں ہے
05:45کہ باہر مکہ میں تو چہل پہل ہو
05:47یہ ظلم کی انتہا نہیں ہے
05:49کہ باہر مکہ میں تو بازاروں میں رونکے ہو
05:51یہ ظلم کی انتہا نہیں ہے
05:53کہ گھاٹی کے باہر کے دنیا کچھ اور ہو
05:55یہ ستم کی انتہا نہیں ہے
05:56کہ باہر گھاٹی کے تو
05:58کافلوں کی آمد ہو
05:59یہاں اندر ایک سناٹا ہو
06:01ایک گھٹن ہو
06:02ایک بے بسی ہو
06:04اور رسول اللہ کی فیملی ہو
06:13بازار لگتا ہے تو
06:14بنی حاشم کے لوگ خریداری کے لیے آتے ہیں
06:15لیکن تاجروں کو پہلے یہ حکم دیا جا چکا ہے
06:17انہیں کوئی کچھ نہیں بیچے گا
06:19ایسا بھی ہوتا ہے کہ دور سے کوئی کافلہ آتا ہے
06:22بنی حاشم کچھ خریدنے کا ارادہ کرتے ہیں
06:24پوریش کے لوگ پہلے پہنچ جاتے ہیں
06:25سارا سامان خرید کر ختم کر دیتے ہیں
06:27تاکہ ان لوگوں کے لیے کچھ نہ بچے
06:34یہاں تک کہ اب بڑا سخت مرحلہ شروع ہوا ہے
06:38یہاں تک کہ اب وہ دن آئے
06:41جب کھانے کی قلت حقیقت بن گئی
06:44شوٹیج آف
06:47تاک تھا وہ ختم ہونے لگا
06:52اب کئی کئی دن چولا نہیں جل رہا
06:58بچے کس کے بچے ہیں
06:59رسول اللہ کے بچے ان کی فیملی کے بچے
07:01بچے بھوک سے روتے ہیں
07:05بچے پیاس سے بلکتے ہیں
07:08اور ماں سینے سے لگا کے کہتے ہیں
07:09یہ صبر کر اللہ دیکھ رہا ہے
07:12ماں کی آنکھیں بھی لیکن بھیک جاتی ہوں گی نا
07:14کیونکہ وہ ماں ہے
07:16دل ہے پتھر تو نہیں ہے
07:20شیب ابی طالب کی ان گھاٹیوں میں
07:21رات کے سناٹے میں بچوں کے رونے کی آواز ہیں
07:24باہر مکہ کے گھروں میں کھانا پک رہا ہے
07:27باہر مکہ کے گھروں میں خجموئیں اٹھ رہی ہیں
07:30اندر یہاں پیٹ خالی ہیں
07:31آنکھیں نم ہیں
07:32لبوں پہ دعا ہے
07:34یہ کون لوگ ہیں
07:35کائنات کی عظیم تحرین ہستی
07:37اور ان کے قریبی لوگ
07:38ان کی فیملی
07:47میں آپ سے کیسے عرص کروں کہ
07:49میں نے علماء سے سنا کہ شدت اتنی بڑھ گئی
07:52میں نے کتابوں میں پڑھا کہ شدت اتنی بڑھ گئی
07:54کہ یہ نوبت بھی آئی کہ لوگ درختوں کے پتے تک بھی چھبا لیتے ہیں
08:00رسول اللہ کے
08:06میں آپ سے کس نو سے عرص کروں
08:08کہ میں نے علماء کرام کی زمان سے یہ تک سنا
08:10کہ نوبت یہاں تک آئی
08:11کہ بنی حاشم کی
08:12اب آپ اپنے بچوں کو ذہن میں رکھیں
08:15یہاں تک نوبت آئی
08:16کہ بنی حاشم کے پھول جیسے بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں
08:21پیاس سے بلک رہے ہیں
08:23اور اس کی سوا کوئی چارہ نہیں ہے
08:25کہ سوکھے چمڑے عبال کر
08:28اس کا پانی ان کے حلق میں ٹپکا دیا جائے
08:38بوڑھے کمزور ہونے لگے ہیں
08:42بچے دبلہ پن اڑنے لگے ہیں
08:44عورتوں کی آنکھوں میں تھکن آگئی ہے
08:46جو زمان سے بہت
08:46اور رسول اللہ دیکھ رہے ہیں
08:47رسول اللہ سب دیکھ رہے ہیں
08:51اپنی آنکھوں سے
08:53وہ ہستی جو کائنات میں
08:55خداوندہ تعالیٰ کے بعد سب سے بڑا ہے
08:58وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ
08:59سب ہوتا دیکھ رہا ہے
09:01کچھ ایسے گنے چنے رحم دل لوگ تھے
09:03جو معاشرے سے چھپ کر
09:04کبھی کبار کچھ نہ کچھ کھانے پینے کی چیزیں دے جاتے تھے
09:07اس لیے اسنا میں دن گزرتے گئے
09:08دس دن
09:09دس دن
09:10نہیں نہیں
09:11بیس دن
09:13سو دن
09:16پانچ سو دن نہیں
09:19ایک ہزار دن
09:21تین سال
09:23تین سال
09:24اس عالم میں گزارے ہیں
09:25رسول اللہ نے اپنی فیملی کے ساتھ
09:28یہ محاصرہ تین سال تک چلتا رہا ہے
09:30تین سال یہ تین دن نہیں ہوتے
09:32تین سال میں بچے بڑے ہو جاتے ہیں
09:34چہرے بدل جاتے ہیں
09:35جسم سوپ جاتے ہیں
09:36اور دلوں میں ایک
09:37ایک ایک لمحہ صدی بن جاتے ہیں
09:39جب ایسے عالم میں گزر رہا ہوں
09:48سو دن رات
09:49دن رات
09:49دن رات
09:51ہفتہ
09:52مہینہ
09:53مہینے
09:53سال
09:54دو سال
09:55تین سال
09:56ایک ایک لمحہ صدی بن کے گزر رہا ہے
09:58رسول اللہ صلی اللہ
09:59کائنات کے سب سے پاک خانوادے پر
10:01ان ہستیوں پر
10:02کہ جن کا نام لیتے ہوئے ہماری نظریں جھگ جائیں
10:06اس ہستی پر
10:07کہ جن کا نام لینا ہے
10:08تو ساتھ میں درود پڑھنی ہمیں
10:10اور اللہ کی خاطر ہوئے سب
10:12کہ دن چلتے جا رہے ہیں
10:14چلتے جا رہے ہیں
10:14چلتے جا رہے ہیں
10:15یہاں تک کہ ایک دن
10:16ایک دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا سبب بنا
10:19جس نے اس ظالمانہ معاہدے
10:21کانٹریکٹ کی
10:22روٹس کو ہلا دیا
10:24کیا ہوا
10:24اب سنیے
10:25روایات کے مطابق
10:26رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
10:28ایک روز شیب عبی طالب میں
10:30حضرت ابو طالب کو
10:31حضرت ابو طالب کے کیا کہنے ہیں
10:33رسول اللہ پر
10:33رسول اللہ پر اٹیک کا خطرہ ہے
10:35آپ ان کو پروٹیکٹ کر رہے ہیں
10:37حضرت ابو طالب کو
10:38شیب عبی طالب میں
10:40رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا
10:42کعبے میں لٹکا ہوا وہ معاہدہ
10:45اسے دیمک ریا
10:46کہہ لیجئے کیڑے نے کھا لیا ہے
10:48اس معاہدے میں لفظ اللہ بھی لکھا تھا
10:51صرف اللہ کا نام
10:52یا وہ حصہ باقی رہ گیا ہے
10:54جس میں اللہ کا ذکر ہے
10:56باقی معاہدہ ختم ہو گیا ہے
10:59یا رسول اللہ
11:03صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:11رسول اللہ نے کہہ دیا
11:13حضرت ابو طالب نے سن لیا
11:15آپ confidence دیکھنے ہیں
11:16حضرت ابو طالب کا
11:17رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:19پہ کے کیسے دھال بن کے کھڑے
11:21کہ محمد نے کہہ دیا
11:23صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:23بات ختم ہو گئی
11:25حضرت ابو طالب نے یہ سنا
11:27ہا forenszić اب ابو طالب کوریش کے پاس گئے حضرت ابو طالب نے
11:30سنا مکہ والوں کے پاس گئے اب حضرت ابو طالب ہیں اور
11:33کوئلے ہیں اب ابو طالب ہیں اور وہ لوگ ہیں جنہوں نے بائیک
11:57ुشیلنج پر تیار
11:58سب نظریں خانہ کعبہ پر
12:01اب قدم بڑھنے خانہ کعبہ کی جانے میں
12:04کیونکہ اس کعبے کی تحریر
12:06پر جو ہوگا
12:06اس سے مستقبل کا تائین ہوگا
12:08کہ کیا ہونا ہے کیا نہیں ہونا
12:10شیعہ ابی طالب کے دن جاری رہنے ہیں
12:12یا نہیں رہنے
12:13اب سب جانے خانہ کعبہ کی طرف
12:15سب کی نظریں کعبے پر
12:16سب کی نظریں اس لٹکے ہوئے معاہدے پر
12:19یہاں تک کہ اب یہ سب کعبہ پہنچے ہیں
12:21کعبے میں عجب عالم ہے
12:23دلوں کی رفتار تیز ہے
12:25اب جو معاہدہ اتارا گیا
12:27تو دیکھا
12:28واقعا لکھائی کے بڑے حصے
12:31مٹ چکے ہیں
12:31کھائی جا چکے ہیں
12:33پورا کاغس اپنی زلت کی گواہی دے رہا ہے
12:44فدا کعبی و امی
12:45یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:47یہ منظر قریش کے لئے ایک جھٹکا تھا
12:49جو معاہدہ وہ کعبے میں لٹکا کر
12:51اپنی فتح سمجھ رہے تھے
12:53وہی معاہدہ ان کے ظلم پر گواہ بن گیا
12:56شیب عبی طالب کا معاصرہ ختم ہو گیا
13:03آزمائشیں ختم ہو گئی
13:05نہیں یہ میں نے غلط کہا
13:06یہ والی آزمائش ختم ہو گئی
13:09آزمائشیں ختم نہیں ہوئیں
13:10ابھی رسول اللہ کی زندگی میں ایسا وقت آنا ہے
13:13جس نے آپ کے دل کو بہت گہرہ غم دیا ہے
13:15اب کیا ہو گئے اس زیادہ
13:18جو بعد باتوں سے شروع ہوئی تھی
13:19تانوں تک بڑھی
13:20کانٹوں تک پہنچی
13:21تشدد تک پہنچی
13:22شہادتوں تک آئی
13:23حفشہ تک گئی
13:24اور شیب عبی طالب پر آگئی
13:25اب اور کیا ہوگا
13:28ہوگا
13:29ایسا ہوگا
13:30کہ جو کہ آپ کے دل کو
13:32گہرے غم میں ڈبو دے گا
13:33رسول اللہ کو
13:35اب کیا سہائے میرے اور آپ کے رسول نے
13:39کلرز کریں گے انشاءاللہ
13:48موسیقی
13:56موسیقی
Comments