00:00ھر طرف ھولی بادشاہ اپنے محل کی بالکونی میں کھڑا اپنی سلطنت کو دیکھ رہا تھا
00:05ہر طرف ھولت تھی شان و شوقت تھی
00:07مگر اس کی نظر ایک فقیر پر جا تہری جو محل کے باہر زمین پر بیٹھا سکون سے مسکرا رہا
00:14تھا
00:15بادشاہ حیران ہوا
00:16اس نے فقیر کو دربار میں بلائیا اور پوچھا
00:19اے فقیر
00:21تاو اتنا خوش کیوں ہے
00:23مانگ کیا مانگنا چاہتا ہے
00:25Fakir نے خاموشی سے
00:26اپنا چھوٹا سا پیالہ آگے بڑھایا
00:28اور کہا
00:29حضور مجھے کچھ نہیں چاہیے
00:30بس میرا یہ پیالہ بھر دیجئے
00:33بادشاہ مسکرا دیا
00:35اس نے اپنے قیمتی ہار
00:37اور انگوٹیاں پیالے میں ڈال دے
00:39مگر پیالہ خالی رہا
00:42وزیروں نے بھی اپنے جواہرات ڈال دیئے
00:45پھر بھی پیالہ نہ بھرا
00:47آخرکار سلطنت کا خزانہ لائے گیا
00:50سونا چاندی ہیرے
00:52سب کچھ اس میں ڈال دیا گیا
00:55لیکن پیالہ ویسا کا ویسا خالی رہا
00:58اب بادشاہ پریشان تھا
01:00اس نے فقیر سے پوچھا
01:02یہ کیسا پیالہ ہے جو بھرتا ہی نہیں
01:04فقیر نے سکون سے جواب دیا
01:06حضور
01:07یہ خواہشات کا پیالہ ہے
01:10اسے دنیا کی کوئی دولت نہیں بھر سکتی
01:13یہ صرف قبر کی مٹی سے ہی بھر سکتا ہے
01:16یہ سین
Comments