Skip to playerSkip to main content
  • 2 months ago
Allah Se Ishq - Auliya Allah ke Hairat Angez Waqiat - Tahir ul Qadri Bayan

Category

📚
Learning
Transcript
00:00حضرت رابعہ بسری بیمار ہوتی خبر پہنچتی ہے ایک عاشق کی بیماری کی دوسرے عاشق کو امام حسن بسری کو وہ عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں
00:16اب یہ بتا رہا ہوں کہ حی و قیوم محبوب سے عشق کرو اس کے نہ حسن پر کبھی خیزان آئے گی نہ تمہارے عشق پر خیزان آئے گی
00:27اور وہ ایسی خبر دے گی ایسا باخبر بنا دے گی کہ پھر ہر خیر سے بے خبر کر دیں
00:33امام حسن بسری رضی اللہ تعالیٰ نے پہنچتے ہیں حضرت رابعہ بسری کے پاس عیادت کے لیے عیادت ہو گئی
00:42جب موقع ملا تو پوچھنے لگے رابعہ کتنا شدت کا بخار ہے یہ بتا دے یہ بخار ہوا کیسے
00:52اتنی شدت کی تکلیف آئی کیسے
00:57حضرت رابعہ بسری نے جواب دیا یہ جواب ہر ایک کو نہیں دیے جاتے
01:02محرم این ہوش جز بے ہوش نیست
01:16مرز بارہ مشتری چونگوش نیست
01:26اس ہوش کا محرم سوائے بے ہوش کے کوئی نہیں ہوتا
01:31زبان جو سودہ دیتی ہے جو کچھ بولتی ہے
01:34زبان کے سودے کا خریدار
01:37جسم کا کوئی اور عضب نہیں ہوتا سوائے کان کے
01:40زبان جو بولتی ہے سودہ دیتی ہے
01:44نہ زبان کا سودے کا خریدار آنکھ ہے
01:47نہ زبان ہے نہ ناک نہ آت
01:50زبان کے سودے کا خریدار کان ہے
01:53تو سودے کے حساب سے
01:55خریدار بھی ہوتا جی
01:57تو یہ بات
01:58ہر ایک سے نہیں ہوتی
02:00پوچھا اصل راز بتا یہ مخار ہوا کیسے
02:03حضرت رابعہ بسری
02:05رضی اللہ تعالیٰ انہوں نے
02:07وہ عاشقہ انہوں نے جواب دیا
02:09کہ میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہی تھی
02:12اور دوران تلاوت
02:14جنت کے ذکر پر
02:16مبنی آیات آ گئی
02:17اس میں جنت کی حسین بہاروں کا ذکر تھا
02:20جنت کے گلو گلزاروں کا ذکر تھا
02:24جنت کے
02:26کی نہروں اور نظاروں کا ذکر تھا
02:29میں ان میں گم ہو گئی
02:31ایسی گم ہوئی
02:33کہ ایک طلب پیدا ہوئی مجھے
02:34میرا دل کھچ گیا
02:35ان جنت کے نظاروں کو دیکھنے
02:37اور وہاں تک پہنچنے کی ایک طلب پیدا ہو گئی
02:40بس یہ قیفیت آنے کی دیر تھی
02:43ایک جڑکی آئی اوپر سے
02:45تنبیہ جڑکی آئی
02:47اور آواز آئی
02:48عالم غیب سے رابعہ
02:50عشق کا دعوی ہم سے
02:52اور تڑپ جنت کے لیے
02:54دعوی ہمارے عشق کا
02:58اور طلب و تڑپ جنت کی
03:00اس کے عشق والوں کے لیے
03:02جنت کے مقامات بھی خیر ہو جاتے ہیں
03:05یہ تو بیتا حضرت رابعہ بسری سے
03:09امام عبداللہ
03:11الیافعی
03:13رضی اللہ تعالی عنہ
03:14بہت بڑے اکابر
03:15اولیاء اور رفعہ اور محدثین میں سے ہوئے ہیں
03:18عارفوں میں سے
03:19وہ اپنی کتاب
03:21روض الریاحین میں لکھتے ہیں
03:23بیان کرتے ہیں
03:24کہ ایک عارف تھا
03:25اور ایک عاشق تھا
03:28وہ خود اپنا حال بیان کرتا ہے
03:30ان کو چالیس ہوریں دکھائی گئیں
03:33وہ فرماتے ہیں
03:36کہ میں نے دیکھا
03:37وہ سونے چاندی کا جیسے کام ہوتا ہے
03:40شادیوں کے لباس بنتے ہیں
03:42سونے چاندی کے کام کے لباس سے آراستہ
03:45مزین ہو کر اڑ رہی تھی
03:48میں نے ان کو اس آراستگی میں دیکھا
03:51اور میری نگاہ ان پر جم گئی
03:55نگاہ جم گئی
03:58میں تکتا رہا
03:59بس ہوروں کو تکنے میں جو لگا
04:02چالیس دن مجھے سزا ملی
04:05میرے قلب پر بولا نے ہجاب تاری کر دیا
04:08اس نے کہا ہوروں کے حسن میں کھو جانے والے
04:11ہر وقت جو ہمارے جلبہ حسن کے مشاہدے میں خرک رہتا تھا
04:16چالیس دن تک ہجاب خفلت ڈال دیا
04:19اور قربت اور مناجات کی لذت جاتی رہی
04:23استا تھا دعائیں کرتا
04:26مناجات کرتا
04:27رونے کی کوشش کرتا
04:29آنکھوں سے گریہ چھین لیا گیا
04:30دل سے تڑپنا چھین لیا گیا
04:33مناجات کی لذت چھین لی گئی
04:35عشق کبھی شرک کو گوارہ نہیں کرتا
04:39چالیس دن جب یہ سزا بھگت لی
04:44اس کے بعد پھر امتحان لیا
04:47فیصلہ کرنے کے لیے
04:49کہ اب بحال کیا جائے
04:50رابطہ یا نہیں
04:52چالیس روز کے بعد
04:54پھر اس کو بیٹھے
04:55اسی ہورے دکھائی گئیں
04:58ان پہلی ہوروں سے زیادہ سجدج کے ساتھ
05:01اور رسل و جمال کے ساتھ اسی ہورے
05:03جو ہی اسی ہورے سامنے آئیں
05:05اس عاشق کے حکنے آنکھی بینچ لی
05:07بند کر لی
05:08اور سجدے میں گر گیا
05:09کہا مولا میرا امتحان نہ لے
05:12مجھے اب کوئی حسن نہیں چاہیے
05:13سوائے تیرے حسن سے
05:15کوئی شیع تکنا نہیں چاہتا
05:17ان کی حلاوت بحال ہو گئی
05:22ان کی حلاوت و لذت
05:23بحال ہو گئی
05:25حضرت عبدالواحد بن زید
05:30بیان کرتے ہیں
05:32یہ حضرت عبدالواحد بن زید
05:35اصحاب امام حسن بصری میں سے ہیں
05:38سیدنا امام حسن البصری کے جو تلامزہ تھے
05:41اور شاگرد تھے
05:43اور ان کے جو رفقات تھے اور اصحاب تھے
05:45ان کی بجلس میں بیٹھ کے سیکھنے والے
05:48پڑھنے والے
05:48ان میں سے بڑا عالی مقام ہے
05:51بلکہ چوٹی کے آٹھ افراد میں سے ایک
05:54وہ حضرت عبدالواحد بن زید فرماتے ہیں
05:57کہ میں نے ایک روز
05:58ایک مرتبہ
06:00تین راتیں مسلسل
06:02اللہ کے ذور ایک سوال کیا
06:03جب نماز پڑھتا
06:06نفل پڑھتا
06:06مسلح پہ ہوتا
06:07تنہائی میں
06:08تو تین راتیں مسلسل
06:10ایک سوال کیا
06:11ایک ہی سوال
06:12وہ سوال کیا تھا
06:14میں نے عرض کیا
06:14باری تعالی
06:15جنت میں جس کو
06:17تُو نے میرا ساتھی بنایا ہے
06:18جنت میں جس کو
06:21تُو نے میری رفاقت
06:22اور میری سنگت
06:23اور ساتھ دیا ہے
06:24مجھے وہ دنیا میں دکھا دے
06:26دکھا دے وہ کون ہے
06:28جس کے ساتھ
06:29جنت میں میری سنگت رکھی ہے
06:31اللہ رب العزت نے اس کو
06:33اس کے قلب میں
06:34الکا کی عالم خواب میں بتایا
06:36ہاں
06:36عبدالواحد بن زید
06:38جنت میں
06:40تیرے ساتھ
06:41جس کو جوڑ دیا ہے
06:42اس کا نام ہے
06:43میمونہ سودا
06:45اس خاتون کا نام ہے
06:49میمونہ
06:49سودا کے لقب سے معروف ہے
06:51اب یہ
06:53خواب میں باری تعالی
06:54ارشاد فرماتے ہیں
06:56اس کو زیارت ہو رہی ہے
06:57باری تعالی وہ کہاں کی ہے
06:59فرمایا
06:59کوفہ سے ہے
07:00فلان قبیلے سے ہے
07:02اس کا پتہ کیا ہے
07:04فلان کوچے میں
07:05صبح
07:06حضرت عبدالواحد بن زید
07:08اٹھے
07:08شوق ہوا
07:09کہ جا کے میں اس کو دیکھوں
07:11جو جنت میں میرا مقدر
07:13بنا دی گئی
07:13کوفہ جا پہنچے
07:15کوفہ میں جا کے
07:16لوگوں سے پوچھا
07:17انہوں نے کہا
07:18اس نام کی خاتون ہے
07:20مگر
07:21اے حضرت عبدالواحد
07:23وہ تو دیوانی ہے
07:24آئے آئے آئے
07:27وہ تو دیوانی ہے
07:29آپ کہاں سے چلے
07:31بسرا سے
07:32اس کو کیوں پوچھتے ہیں
07:34اور کیا لینا اس سے
07:35اس نے کہا
07:36وہ دیوانی ضرور سہی
07:37وہ کرتی کیا ہے
07:38لوگوں نے کہا
07:40وہ جنگلوں میں رہتی ہے
07:42بکریاں چراتی ہیں
07:43بکریاں چراتی ہیں
07:46اور جب
07:47ذوق میں آتی ہے
07:48تو عشق کے شیر پڑتی
07:49عطا پتا لیا
07:53کس جنگل میں
07:54بتایا
07:54فلان جنگل میں
07:55حضرت عبدالواحد من زید
07:57وہاں پہنچ گئے
07:58دیکھا
07:59نماز کا وقت تھا
08:01وہ نماز پڑھ رہی ہے
08:02حضرت محمونہ
08:04سعودہ
08:05نماز پڑھ رہی ہیں
08:06ان کے سامنے
08:08ایک لاتھی گاڑی ہوئی ہے
08:09تاکہ کسی نے
08:10گزرنا ہو تو
08:11اور ایک
08:13اون کا کپڑا ہے
08:14چادر زیب تن کی ہوئی ہے
08:16اور اس کے
08:17کپڑے پہ لکھا ہے
08:18کہ یہ باندی ہے
08:20مولا کی
08:21مگر ایسی باندی ہے
08:23نہ بیچی جا سکتی ہے
08:25نہ خریدی جا سکتی ہے
08:26کپڑے پہ لکھا ہوئی ہے
08:28یہ ایسی باندی ہے
08:29نہ بیچی جا سکتی ہے
08:31نہ خریدی جا سکتی ہے
08:33حضرت عبدالواحد بن زید
08:35نے دوسری بات
08:36بڑی عجیب دیکھی
08:37وہ نماز پڑھ رہی ہے
08:39اور ساتھ ہی
08:39بیڑیے اور بکریاں
08:43اکٹھے کھیل کود کر رہے ہیں
08:44اور اکٹھے چر رہے ہیں
08:46اور بیڑیے
08:47نہ بکریوں پر حملہ کرتے ہیں
08:49نہ کھاتے ہیں
08:50نہ انہیں کوئی وحشت ہوتی ہے
08:52یہ منظر دیکھ کر
08:54حیرت زدہ رہ گئے
08:55جب نماز سے فارغ بھی
08:57سلام کیا
08:58آکے بیٹھے
09:00ان کے پاس
09:01تو مہمونہ سودا نے کہا
09:03عبدالواحد بن زید
09:05چلے جائیے
09:06ابھی ملاقات کا وعدہ نہیں آیا
09:08وہ رات خواب میں
09:12اللہ رب العزت کی طرف سے
09:13پیغام لے کے آیا ہے
09:14یہ جنت کی رفیقہ ہے
09:16وہ کہنے لگی
09:17آپ چلے جائیں
09:18ابھی ہمارے اکٹھے بیٹھنے
09:20رہنے کا وقت
09:20نہیں آیا
09:22وہ وعدے کا دن
09:23آئے گا تو آ جانا
09:24انہیں کہا میں جاتا ہوں
09:27کوئی نصیت کر دیں مجھے
09:29نصیت
09:29اس نے کہا نصیت یہ ہے
09:32کہ بندہ
09:33جب دنیا کی طلب اور
09:35محبت میں ہی لگا رہتا ہے
09:37دنیا کی طلب اور
09:39محبت میں ہی لگا رہتا ہے
09:41تو اللہ تعالیٰ
09:42اس سے اپنی خلوت کی
09:44محبت اور لگن
09:45چھین لیتا ہے
09:46اور قرب کو
09:50دوری سے بدل دیتا ہے
09:51اور اس کی بجائے
09:54وحشت
09:55اور طبیعت کی
09:57بیکانگی
09:58اللہ کے قرب اور
09:59محبت کے ساتھ
10:00طبیعت کی بیکانگی
10:02اس کے دل میں
10:03تاری کر دیتا ہے
10:04پھر اس نے
10:06اپنے ذوق میں
10:07مسی میں کچھ شیر پر دیئے
10:08حضرت عبدالوائد بن زید
10:13نے کہا
10:14اے
10:15اللہ کی
10:16عاشق بندی
10:17مجھے جاتے جاتے
10:19اتنی بات بتا دیں
10:20کہ یہ قصہ کیا ہے
10:22بھیڑیے
10:23بھیڑیے
10:24تیری بکریوں کے ساتھ
10:25کھیل رہے ہیں
10:26نہ بکریوں
10:27ان سے ڈرتی ہیں
10:28نہ وہ ان پہ
10:29چھپٹتے ہیں
10:29یہ ماجرہ کیا ہے
10:30اس نے کہا
10:32اس کے علاوہ
10:33کچھ نہیں پوچھو گے
10:33اس نے کہا نہیں
10:34انہیں کہا
10:35سن لو
10:36جب سے
10:37میں نے مولا سے
10:38سلح کر لی ہے
10:39جب سے میں نے
10:41مولا سے
10:42سلح کر لی ہے
10:44تب سے
10:44بیڑیوں نے
10:45میری بکریوں کے ساتھ
10:46سلح کر لی ہے
10:47جب میں مولا کے ساتھ
10:52موافقت کے رشتے میں آگئی ہوں
10:54تب سے پھیڑیے
10:57میری بکریوں کے ساتھ
10:59موافقت اور یگانگرد کے رشتے میں آگئے ہیں
11:01اس کا مطلب یہ ہے
11:03من کانا للہ
11:04جو بندہ اللہ کا ہو جائے
11:08اور اللہ کے عشق کا شراب کی شراب پی لے
11:11اور اللہ کے ساتھ اپنے دل کی لو لگا گئے
11:15اور دل کے خلوت کدے
11:16کو ہر خیر کی خیال
11:18طلب اور چاہت سے خالی کر دے
11:20اور جڑ جائے
11:22اس کے بن کتار
11:23اس مولا کے عشق کے ساتھ
11:25اللہ پاک دنیا کو اس کی موافقت میں پاڑا لاتے
11:29لوگ اس کے پیچھے آتے ہیں
11:31لوگ اس سے محبت کرتے ہیں
11:33لوگ اس کی تلاش کرتے ہیں
11:35اور بیگانہ
11:36اس کے اپنے جاننے والے بن جاتے ہیں
11:38اپنے بن جاتے ہیں
11:39یہ تعلق اللہ پاک کے عشق کی برکت سے نصیب ہو جاتا ہے
11:43حضرت زنون مصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
11:48کہ مجھے میرے کچھ احباب نے
11:52اولیاء عارفوں نے
11:53عاشقوں نے بتایا
11:54کچھ احباب نے
11:56کہ مصر کے مصر میں
11:58قاہرہ کے قریب
12:00قاہرہ جو کیپیچل ہے
12:01قاہرہ کے قریب مصر میں
12:03کوہ مقتم ہے
12:05جبل مقتم
12:07اس جبل مقتم کی
12:10خاروں میں
12:11ایک اللہ کی بندی
12:13ایک اللہ کی عاشقہ رہتی ہے
12:15اور اس کا عالم عشق عجیب ہے
12:18حضرت زنون مصری
12:21کہتے ہیں
12:21میں اس کی زیارت کے لیے
12:23اور اس سے عشق کا سبق لینے کے لیے
12:26اور اس کے احوال جاننے کے لیے چل پڑا
12:28میں جب وہاں گیا
12:30بہت تلاش کیا
12:32بہت تلاش کیا
12:33وہ تو نہیں ملی
12:35مگر کچھ اور عابد
12:37زاہد لوگ
12:38عبادت گزار
12:38لوگ مل گئے
12:40میں نے ان سے پوچھا
12:42اس عاشقہ کا
12:43اس دیوانی کا
12:43جو عشق الہی میں دیوانی ہو گئی
12:46انہوں نے کہا
12:47زنون
12:48کیا بات ہے
12:50داناؤں سے بھاگتے ہو
12:53اور دیوانوں کو تلاش کرتے ہو
12:55انہوں نے کہا
12:56داناؤں سے بھاگتے ہو
12:57دیوانوں کو تلاش کرتے ہو
13:00اس نے کہا
13:00میں آیا ہی دیوانے کی تلاش کے لیے
13:02مجھے پتا بتا دو
13:04انہوں نے کہا
13:04جائیں اس سمت
13:05آگے ایک بڑا سا پتھر آئے گا
13:08پتھروں کی کسی چٹان پر بیٹھی ہو گی
13:10حضرت زنون پہنچ گئے
13:13اب جب وہاں پہنچے
13:16سلام کیا
13:18سلام کا جواب دیا
13:20تو وہ کہتی ہے
13:21زنون تمہیں دیوانوں سے کیا کام
13:23وہ ان سے سن کے آئے ہیں لب
13:26تمہیں دیوانوں سے کیا کام
13:28آپ کہنے لگے
13:30آپ کیسے دیوانی ہیں
13:31آپ کس طرح دیوانی ہو گئی
13:35اس نے کہا بھی سن کے نہیں آئے
13:37لوگ مجھے دیوانہ کہتے ہیں
13:40سن کے نہیں آئے ہو
13:41اس نے کہا
13:43کس شیئے نے تجھے دیوانہ بنا دیا
13:46کس شیئے نے تجھے اس حال پر پہنچا دیا
13:50اب اس نے جواب دیا
13:52مولا کے عشق نے
13:56دیوانہ بنا دیا
13:58اور اس کی شوق نے
14:01شوق ملاقات نے
14:03مجھے حیرت زدہ بنا دیا
14:06اور اس کو پا لینے میں
14:11مجھے ہر وقت کے لیے تڑپا کے رکھ دیا
14:14اس کی دریافت نے
14:16اس کو پا لینے میں
14:17معرفت نے
14:18اس کے عشق نے دیوانہ بنا دیا
14:21اس کے شوق ملاقات نے
14:24مجھے حیران و متحیر کر دیا
14:27ہر شہ سے بیگانہ کر دیا
14:29عشق نے اس کا دیوانہ کر دیا
14:32اور اس کے شوق ملاقات نے
14:35مجھے ہر شہ سے بیگانہ کر دیا
14:37اور اس کی معرفت جب سے ملی
14:41اس کی معرفت نے مجھے دڑپا دیا
14:43اب میں جنگلوں سہراؤں اور ہاروں میں
14:46صبح و شام تڑپتی پھرتی ہوں
14:48انہوں نے کہا
14:50محبت
14:52قلب میں ہوتی ہے
14:54اور شوقِ لکا ملاقات کا شوق
14:57فعاد میں ہوتا ہے
14:59اور معرفت
15:01اس کی پہچان
15:02سر میں ہوتی ہے
15:04زنون مصری کہتے ہیں
15:06میں نے پوچھا
15:07کہ کیا قلب اور فعاد
15:10الگ الگ چیزیں ہیں
15:11دو الگ چیزیں ہیں
15:12اس نے جواب دیا ہاں
15:14قلب اور شہ ہے
15:16فعاد اور شہ ہے
15:18قلب کو جو نور ملتا ہے
15:21اس نورِ قلب کو فعاد کہتے ہیں
15:23ترجمے میں فعاد کا معنی بھی
15:26دل لکھا جاتا ہے
15:27مگر دل کے اندر ایک دل ہے
15:29عاشقوں
15:31یہ دل تو ایک لوتھڑا ہے
15:33ایک گوشت کا عضب ہے
15:35اس کا کام تو خون کو لینا
15:37اور پمپ کر کے خون کو بھیجنا
15:39خون کو لینا
15:41پمپ کرنا
15:43پھر خون کو بھیپنوں کی طرف
15:44اکسیجن کے ساتھ سترا کرنا
15:46پھر پمپ کر کے خون کو جسم میں
15:48یہ تو خون کا پمپ ہے
15:50یہ تو جسم کی جسمانی زندگی کو رواد دماغ رکھنے کا ایک اوزب ہے
15:55مگر
15:56اس دل کی آنکھیں کہاں
15:58اس دل کا شعور کہاں
15:59اس دل کی معرفت کہاں
16:01اس دل کے اندر ایک دل ہے جو نظر نہیں آتا
16:04اس کو فواد کہتے ہیں
16:06اگر اس دل کو نور مل جائے تو اس نور قلب کا نام فواد ہے
16:11اور فرمایا
16:12اس فواد کو جب
16:14جب وہ فواد سے
16:15بندہ نور ملتا ہے
16:18قلب سے دل سے محبت کرتا ہے
16:21اور فواد
16:22اس نور قلب کی وجہ سے
16:24محبوب کی طرف پرواز کرتا ہے
16:26اور جب مقامیں
16:28سر پر پہنچتا ہے
16:30تو سر پردہ اٹھا کے اس کو پا لیتا ہے
16:33پردہ اٹھا کے اسے پا لیتا ہے
16:36تو یہ ایک سفر ہے
16:37یہ سفر نفس سے شروع ہوتا ہے
16:40نفس درجہ بہ درجہ اس کا حال بدلتا چلا جاتا ہے
16:44نفس کے عمال قلب کو بدلتے ہیں
16:46قلب کا حال فواد کو بدلتا ہے
16:49فواد کا حال سر کو بدلتا ہے
16:52سر کا حال پھر آگے سر اور سر کو بدلتا ہے
16:55وہ بندے کے خفی اور باطن کو بدلتا ہے
16:58وہ بندے کے پھر اخفا کو بدلتا ہے
17:00گربتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں
17:03ہجابات اٹھتے چلے جاتے ہیں
17:05ادھر سے بندہ دنیا سے بے خود ہوتا چلا جاتا ہے
17:09ادھر سے معرفت کے ذریعے بندہ باخبر ہوتا چلا جاتا ہے
17:13اور اس کے باخبر ہونے سے وہ لذت اور سرور ملتا ہے
17:17کہ وہ سرور دنیا کے کسی اور شہ میں عاشق کے لیے نہیں رہ جاتا
17:21زنون مصری کہتے ہیں
17:26اس کے بعد میں نے پوچھا
17:29کہ یہ جو بات آپ نے کی
17:31اس کا ثبوت آپ کی زندگی میں کیسے ملے
17:34کہ آپ کا قلب آپ کا خواد آپ کا سر آپ کا باطن
17:38قربت اور عشق الہی کی وجہ سے قربت کے اس مقام پہ پہنچا یا نہیں
17:43جو آپ کہہ رہی ہے تڑپا دیا
17:45کیسے
17:45اس نے روک ایک شیر پڑھا
17:47اور شیر پڑھ کے چیخ ماری
17:49میں اس کے قریب گیا
17:51تو اس کی روک کفہ سے انسری سے پرواز کر گئی تھی
17:54میں لبکا کے کیا کروں
17:56اب میں عورت ہے
17:58کفن ڈکن کہاں سے کروں
17:59اور آگے قدم بڑھایا تو میری آنکھوں کے سامنے خائب ہو گئی تھی
18:02عالمِ قدس اسے لے گئے
18:04عالمِ خیب نے اسے اپنے آن اٹھا لیا
18:08میں نے کچھ چناؤ کیا ہے آج
18:13کیونکہ بیٹیوں اور بہنیں بھی بیٹی ہیں
18:15وہ یہ نہ سمجھیں کہ صرف مرد ہی عاشقانِ الہی ہوتے ہیں
18:18اور مرد ہی عارفانِ الہی ہوتے ہیں
18:20نہیں تاریخ میں بڑی بڑی عاشق اور عارف عورتیں بھی گزری ہیں
18:25اس میں نہ مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں
18:28جس نے پا لیا محبوب کو وہی مرد ہے
18:32جس نے عشقہ سفر کامیابی سے تیہ کر لیا
18:37تیہ کر لیا
18:39اور اس کے صدق کو دیکھ کر
18:41جس سے محبوب نے اپنے چہرے کا پردہ ہٹا دیا
18:44وہی مرد ہے
18:45تو میں نے ان کے لیے آج کچھ چونا
18:50حضرتِ عطا بیان کرتے ہیں
18:53کہ میں
18:54مکہ موظمہ میں آیا اور بازار گیا
18:58ایک عاشقہ مجنوب
19:01وہ بھی باندھی
19:02اس کو فروخت کیا جا رہا تھا
19:04اور اس کے مالک نے کہا
19:06کہ سات دینار اس کی قیمت ہے
19:09جو خریدنا چاہے خرید لے
19:11میں سات دینار دے کے خرید کے گھر لایا
19:13اور گھر لا کے
19:15میں نے دیکھا یہ
19:17رات اس کی کیسے گزرتی ہے
19:19وہ رات مسلے پہ گئی
19:21اور رونے لگی
19:23اور رو رو کے اس کا دم گھٹنے لگا
19:25میں اندھیرے میں سننے لگا
19:27کہ کہتی کیا ہے
19:28وہ اپنے رب سے مخاطب تھی
19:31رب سے
19:32اور کہہ رہی تھی
19:33اے مولا
19:34تجھے اس محبت کی قسم
19:36جو تجھ کو مجھ سے ہے
19:38تجھے اس محبت کی قسم
19:43جو تجھے
19:45مجھ سے ہے
19:46مجھ پہ رحم کر
19:50میرے حال پہ رحم کر
19:52میں سنتا رہا
19:53میں سمجھ گیا
19:55کہ یہ واقعی دیوانی ہے
19:56لیکن میں نے چاہا
19:58کہ میں اسے سمجھا دوں
20:00میں اس کے قریب جا کے کہا
20:02کہ باندھی
20:03تو اپنا عمل کر
20:05مگر ذرا جملے بدل لے
20:08وہ رب ہے
20:09تو بندی ہے
20:10یوں نہ کہہ
20:12کہ اس محبت کی قسم
20:13جو تجھے مجھ سے ہے
20:14بلکہ یوں کہہ
20:16کہ اس محبت کی قسم
20:18جو مجھے
20:19تجھ سے ہے
20:20بولیں
20:21اس محبت کی قسم
20:22جو مجھے
20:24مولا تجھ سے ہے
20:25یوں کہہ
20:26وہ ہس پڑی
20:27اس نے کہا
20:29یہ عاشقوں کی بولی ہے
20:30تمہیں کیا مالی
20:31یہ عاشقوں کی زبان ہے
20:33تمہیں کیا مالی
20:34اس نے کہا
20:35کیا بات
20:36اس میں راز کیا ہے
20:37اس نے کہا
20:38اگر اس کو
20:39مجھ سے محبت نہ ہوتی
20:40اگر اس کو
20:42مجھ سے
20:43محبت نہ ہوتی
20:45تو تجھے
20:46سلاتا کیوں
20:47اور مجھے
20:47جگاتا کیوں
20:48یہ جو پوری رات سے
20:52تجھے
20:52سلا رکھا ہے
20:53اور مجھے
20:54جگا رکھا ہے
20:56یہ مسلح کیا ہوتا ہے
20:57یہ محبوب کے گھر کی
21:00تہلیز ہوتی ہے
21:01یہ جو
21:02اپنی دہلیز میں
21:03کھڑا کر
21:03رکھا ہے
21:04اور مجھے
21:05اذن اور
21:05اجازت دی ہے
21:06کہ میں اس سے
21:07باتیں کروں
21:08میں اس کو
21:09پکاروں
21:10اس سے باتیں کروں
21:11اور اجازت دی ہے
21:12کہ اسے
21:12یاد کروں
21:13یہ اس کو
21:16مجھ سے
21:16محبت ہے
21:17تو مجھے
21:17جگا رکھا ہے
21:18محبوب کو
21:19جگاتے ہیں
21:20تاکہ ان کی باتیں
21:21سنیں
21:22میں جو رو رہی ہوں
21:23اور تم آرام سے
21:25ہنس رہے ہو
21:26اس لیے
21:27اس کو
21:28تجھ سے
21:28محبت ہوتی
21:29تو تمہیں
21:29رولاتا
21:30مجھ سے
21:32محبت ہے
21:32میرا رونا
21:33سنتا ہے
21:35اپنے دیوانوں کے
21:39نالوں سے
21:41وہ خوش ہوتے ہیں
21:45پسے دیوار
22:00سنا کرتے ہیں
22:02شیون
22:03ان کا
22:04جب اس کے
22:07عاشق ہو جاتے ہیں
22:08پھر عاشقوں کا
22:09رونا سنتا ہے
22:10عاشقوں کی
22:11مناجات سنتا ہے
22:12ان کا شیون
22:13سنتا ہے
22:14اس سے خوش ہوتا ہے
22:15اس کی آواز
22:16سن کر
22:16اس کو
22:17مزہ آتا ہے
22:18اس کی رحمت
22:19جمتی ہے
22:21وہ کہتے ہیں
22:24کہ میں نے
22:24عرض کیا
22:25کہ
22:26اب آج سے
22:29تم مالک ہو
22:29مجھے درس دیا کرو
22:32میری تربیت کیا کرو
22:34حضرت ابو بکر شبلی
22:37فرماتے ہیں
22:38فرماتے ہیں
22:41کہ میں نے
22:42راستے میں
22:42ایک مجنو کو دیکھا
22:44عاشق کو دیکھا
22:45دیکھیں
22:45اولیاء نے
22:46حدثین نے
22:47بزرگوں نے
22:48کتابیں لکھی ہیں
22:49یہ کوئی مضمون
22:50بعض لوگ
22:51جو اس ذوق کے نہیں
22:52اور جن کو
22:53اس سعودے کی خبر نہیں
22:54وہ یہ نہ سمجھیں
22:55کہ یہ کوئی
22:56منگڑت چیزیں نہیں
22:57مثلا یہ کتاب
22:58امام
22:59ابن الجوزی کی ہے
23:00امام ابن الجوزی
23:03اور اس کتاب کا نام ہے
23:05بحر الدمو
23:07آنسو کا دریہ
23:09آنسو کا
23:13دریہ
23:15یہ کتاب
23:17ابھی ادھر موجود نہیں تھی
23:19تو میں نے
23:20آج ہی آپ کو
23:21صرف دکھانے کے لیے
23:22تاکہ شناسہ کر رہا ہوں
23:23آپ کوئی چیزوں کے ساتھ
23:24یہ میں نے
23:25کمپیوٹر سے
23:26مکتبہ شاملہ سے
23:27پرنٹ کروائی
23:29اور علامہ ابن الجوزی
23:31بہت بڑے محدث
23:32اور فن جر و تعدیل
23:34کے بڑے استاد
23:35اور امام ہیں
23:36اور بڑے سخت گیر ہیں
23:38عام کسی صوفی کی کتاب
23:40نہیں ہے
23:41وہ لکھتے ہیں
23:43بحر الدمو آنسو کا دریہ
23:44یہ ایک اور امام ہیں
23:49اور امام ابن الجوزی
23:52حضور سیدنا خوص العظم کے
23:53زمانے کے
23:54پانچویں چھٹی صدی حجری
23:55کے محدث ہے
23:56یہ ایک اور امام
23:58ابو القاسم حسن بن محمد
24:00انیسہ پوری
24:01یہ
24:03چوتھیں صدی حجری کے
24:05حضور داتا
24:07گنج بخش سے بھی
24:08پہلے کے زمانے کے
24:09امام ہیں
24:10چار سو چھے حجری میں
24:12وفات ہے ان کی
24:13چار سو
24:14چھے حجری میں
24:16جو ایمہ حدیث کا دور ہے
24:17ان کی کتاب ہے
24:19اتنی بڑی
24:19اس کا نام ہے
24:20اکلاع المجانین
24:22اکلاع المجانین
24:26دیوانوں میں جو فرزانہ ہوئے
24:28کیا
24:31جو دیوانوں میں
24:34فرزانہ ہوئے
24:35یعنی وہ دیوانیں
24:37جو بے خبر ہو کے
24:39با خبر ہوئے
24:40اس کتاب کا نام ہے
24:42جو بے خبر ہو کے
24:43با خبر ہوئے
24:45بے ہوش ہو کر
24:46ہوش مند ہوئے
24:47جو دنیا کی نگاہ میں
24:50بے ہوش تھے
24:51اور اشتی بستی میں
24:53ہوش مند تھے
24:54یہ امام
24:55ابو القاسم
24:56حسن بن محمد بن حبیب
24:58بن نیسہ پوری
24:59بڑی بڑی کتابوں
25:01امام ابن رجب
25:03الحنبلی کی کتاب
25:04الرقط والمقا
25:06یہ امام
25:07یافعی کے حوالہ جو دے رہا ہوں
25:09رود الریاحین
25:10بڑی کتب اکتبیل
25:12اور یہ جو کتاب میں نے
25:13اوکالا المجانین بتائی
25:16عاشقوں دیوانوں میں فرزانہ
25:18امام ابن حجر اسکلانی
25:20اپنی اسانید اور اثبات میں لکھتے ہیں
25:23کہ میں نے اپنی شیوگ سے یہ کتاب
25:25پوری سنت کے ساتھ پڑھی
25:26اوکالا المجانین
25:29دیوانوں میں فرزانہ
25:32چونکہ ہمارا تعلق کٹ گیا ہے
25:34مزامین عشق سے
25:36ہم روکے لوگ
25:38روکی طبیعتیں
25:39روکا زمانہ
25:40روکا علم
25:41اس میں عشق کی نمی نہ رہی
25:43ہمیں سمجھ نہیں رہی موضوعات
25:47نہ وہ عشق میں رہی گرمیاں
25:53نہ وہ حسن میں رہی شوخیاں
25:58نہ وہ عشق میں رہی گرمیاں
26:02نہ وہ حسن میں رہی شوخیاں
26:07نہ وہ غز نبی میں تڑپ رہی
26:10نہ وہ خم ہے ظلفِ عیاز میں
26:14نہ وہ غز نبی کی تڑپ رہی
26:17نہ ظلفِ عیاز کا خم رہا
26:19نہ وہ میقدے رہے
26:21نہ وہ جام رہے
26:22نہ پلانے والے رہے
26:24نہ پینے والے رہے
26:25نہ عشقِ بازار رہے
26:27نہ عشقِ سودے رہے
26:29ہم روکے ہو گئے
26:30ہماری طبیعتوں کے روکے پن نے
26:33دین کی معرفت ختم کر دی
26:35مولا سے تعلق ختم کر دیا
26:37ہم فتوے لگانے والے بن گئے
26:40نفرتوں کے بیچ بونے والے بن گئے
26:42ارے محبت ان طبیعتوں سے
26:45ہو گئے گی
26:46جن طبیعتوں میں عشق اور محبت
26:48کا بیچ ہوگا
26:49عشق ہوگا
26:52اس لیے یہ
26:53اس زمانے کے عاشق تھے
26:55یہ جتنا بیان کر رہا ہوں
26:56یہ اتابعین اور اتباع
26:58اتابعین کا زمانہ ہے
26:59یہ ہندوستان کا دور نہیں ہے
27:02کہ کوئی کہے
27:03کہ بعد کے زمانوں کے
27:05صوفیاء عاشق لوگ تھے
27:06نہیں یہ تابعین کا دور ہے
27:08اتباع اتابعین کا ہے
27:10صلف صالحین کا دور ہے
27:12اور لکھنے والے یہ احبال
27:14محدثین ہیں
27:15آئی بار ہیں
27:17محقق ہیں
27:18جن سے حدیث کی سند لیتے ہیں
27:20وہ لوگ ہیں
27:21ہم نے ان کو اٹھا کے دین سے باہر کر دیا
27:24وہ فرماتے ہیں
27:26حضرت ابوبکر شبلی
27:27نوجوان دیکھا
27:28لوگ پتھر مار رہے تھے بچے
27:30اور لہو لہان کر دیا تھا
27:32اس کا جسم
27:32میں نے کہا آگے بڑھ کر
27:34کل یا پرسوں میں نے بتایا تھا
27:36حضرت زنون مصری کا
27:38آج دوسرا واقعہ
27:39ابوبکر شبلی کا
27:40وہ زمانہ تھا
27:43ہر شہر میں کئی مجنوں ملتے تھے
27:45ہر شہر میں گلی گلی کے بعد
27:47کوئی عاشق ملتا تھا
27:48لوگ اس کے طورتوار دے کر
27:50مجنوں سمجھتے
27:51باغل سمجھتے
27:52کیونکہ اس کے حوال
27:54سمجھ میں نہیں آتے تھے
27:55میں نے پوچھا
27:56کیوں مارتے ہو
27:57کہتے ہیں
27:58کافر ہے
27:58کفر کی باتیں کرتا ہے
28:00میں اس کے پاس گیا
28:01اس نے کہا
28:03کیا کفر کی باتیں کرتے ہو
28:04جوان
28:05کیا کفر کی باتیں
28:06اس نے جواب دیا
28:08خیالو کا فی اینی
28:11و ذکرو کا فی فمین
28:13و مسوا کا فی قلبی
28:16ف این تغیبو
28:18اس نے کہا
28:20مس اور بھاگ گیا کہا
28:22محبوب کا خیال
28:23میری آنکھوں میں ہے
28:24ذکر اس کا ہر وقت
28:26میری زبان پر ہے
28:27رہتا میرے دل میں ہے
28:30پھر بھی غیب ہے میری آنکھوں
28:31اس کا ہر وقت خیال
28:36میری آنکھ میں ہے
28:37اس کا ذکر میری زبان پر ہے
28:39اس کا بسیرہ
28:41ہر وقت میرے دل میں ہے
28:43پھر بھی لوگ کہتے ہیں
28:44کہ مجھ سے غیب ہے
28:45اگر کوئی رب کو
28:48دل میں بسیرہ
28:49اس کا بنا لے
28:50تو پھر وہ بندے سے
28:51غیب نہیں ہوتا
28:53پھر حضرت زنون مصری
28:56فرماتے ہیں
28:56کہ میں انتا کیا گیا
28:59زنون مصری فرماتے ہیں
28:59انتا کیا
29:01اس کے پہاڑ پر جا رہا تھا
29:03وہاں پھر عشق الہی کی
29:04ایک دیوانی ملی
29:05عشق الہی میں دیوانی ملی
29:08نظر پڑی میں نے سلام کیا
29:10اور سلام کا جواب
29:12انتا کیا کے پہاڑوں پر
29:14مجھے جواب دے کے کہا
29:15زنون ہو
29:17میں نے کہا
29:21تم تو انتا کیا کے پہاڑوں پر
29:24انتا کیا ترکی میں ہے
29:25انتا کیا کے پہاڑوں پر
29:28یعنی شام اور ترکی کے درمیان سردوں میں ہے
29:31تمہیں میری پہچان کس طرح ہوئی
29:33آپ کی میری ملاقات ہی کبھی نہیں ہوئی
29:36اس نے کہا
29:37جن کا تعلق مولا کے ساتھ
29:40عشق اور معرفت کا ہو جاتا ہے
29:41واپس میں بھی پہچان رکھتے ہیں
29:43اس نے پوچھا
29:44زنون مصری سے
29:45پوچھا
29:46آپ بھی عاشق ہیں
29:47اے زنون مصری
29:49آپ ملے ہیں تو ایک سوال کا جواب دے دے
29:51سخاوت کی سے کہتے ہیں
29:53سخاوت کی سے کہتے ہیں
29:56حضرت زنون مصری نے کہا
29:58کہ
29:58سخاوت
30:00کسی غریب کی پرورش کرنا
30:02اس کو عطا کرنا
30:03اس کو دینا
30:04چھولی پر دینا
30:05حاجتوں کی کفالت کرنا
30:07مان لٹا دینا
30:08یہ سخاوت ہے
30:09اس نے کہا یہ نہیں پوچھتی
30:11یہ تو دنیا کی سخاوت ہے
30:13روح کی سخاوت بتائیے
30:16روح کی سخاوت کیا ہے
30:19جسے دین میں معتبر سمجھا جائے
30:22روح کی سخاوت
30:23آپ نے فرمایا
30:25زنون مصری نے
30:26آپ نے جواب دیا
30:27روح کی سخاوت یہ ہے
30:28کہ بندہ
30:29مولا کی اطاعت میں
30:31مست ہو جائے
30:32غرق ہو جائے
30:32اور اسے منانے کی
30:34صحیح اور جد و جہود میں
30:36لگا رہے
30:36اور اس کو منانے کی
30:38جد و جہود میں
30:39صحیح میں
30:39کوشش کرتا رہے
30:41یہاں تک
30:42کہ اس کے قلب پر
30:43تجلی ہو جائے
30:44اور جب تجلی ہو
30:45اس وقت وہ دامن مراد
30:47اللہ کے حضور پھیلائے
30:49اس وقت طلب کرے
30:51تو جو طلب کرے گا
30:52عطا ہوگا
30:53اس کو سخاوت
30:54کہتے ہیں
30:55وہ ہس بڑی
30:58انہیں کہا
30:59زنون
31:00یہ کیفیت
31:02بیس سال سے ہے میری
31:03بیس سال سے
31:07قلب پر
31:08تداد اطاعت میں
31:09غرقوں
31:09عبادت میں غرقوں
31:11تاعت میں غرقوں
31:12ریاضت میں غرقوں
31:13سعی اور مجادہ میں
31:14غرقوں
31:15بیس سال سے
31:17اس کے حسن کی
31:18تجلیات
31:18قلب پر گر رہی ہیں
31:19ہر لمحہ تجلی گرتی ہے
31:21تو اس تجلی کے
31:23لمحے پر جو
31:24مانگنا
31:25جس کو آپ
31:25سخاوت کہتے ہیں
31:27بیس سال
31:28میں اس لمحے پر
31:29کھڑی ہوں
31:29ارادہ ہوتا ہے
31:31کہ کچھ
31:31مانگ لوں
31:32بیس سال سے
31:34ارادہ بنتا ہے
31:36کہ کچھ
31:36مانگ لوں
31:37مگر پھر
31:38شرم آ جاتی ہے
31:39کہ اس
31:40مانگ کر
31:41اس برے
31:41مزدور کی طرح
31:42نہ ہو جاؤں
31:43جو مزدوری کرتا ہے
31:45اور مالک سے
31:45عجرت مانگ لیتا ہے
31:47جو مزدوری کرتا ہے
31:49اور
31:50عجرت مانگ لیتا ہے
31:52اس کی محبت میں
31:53تعظیم اور جلال
31:55اتنا ہے
31:56کہ تجلی بیس سال
31:58سے ہو رہی ہے
31:58دل پر
31:59مگر مانگنے سے
32:00شرم آتی ہے
32:01مانگا نہیں ہے
32:03عشق کا جب
32:05تعلق ہوتا ہے
32:06تو قیفیت
32:07پھر یہ ہوتی ہے
32:09حضرت
32:10ابو القاسم
32:11جنید بغدادی
32:12فرماتے ہیں
32:13حضرت جنید بغدادی
32:14فرماتے ہیں
32:16کہ میں
32:16حج کے لیے گیا
32:17مکہ موظمہ میں
32:19مقیم تھا
32:20اور رات کی تنہائی میں
32:22اندھیرے کے وقت
32:23تنہا قابے کا
32:24تواف کرنے کے لیے
32:25نکلتا تھا
32:26پروس میں قابے کی
32:27مجاورت میں رہتا
32:28اور عادت تھی
32:29کہ رات کی تنہائی میں
32:30تواف کرتا
32:31فرماتے ہیں
32:32ایک رات جب خوب
32:33تاریخی تاریخ ہو گئی
32:34اچانک
32:35ایک عارفہ
32:37عاشقہ کی آواز گنجی
32:38دورانِ تواف
32:39گنگنا رہی تھی
32:41ایک عاشق
32:42ایک عارفہ
32:43گنگنا تھی
32:44میں غور سے
32:45سنا
32:46وہ کہرت
32:46وہ گنگنا رہی تھی
33:09لے میں
33:10اور کہہ رہی تھی
33:11کہ میں نے اپنی محبت
33:13اور عشق کو بڑا چھپایا
33:14مگر اب عشق
33:15اس مقام پر آ گیا ہے
33:17کہ میرے محبوب
33:18اب عشق چھپتا نہیں
33:20اس نے چھپنے سے
33:21انکار کر دیا ہے
33:22اور تیری ملاقات کا شوق
33:25محبوب
33:26اتنا بڑھ گیا ہے
33:27کہ میں حیرت کے
33:28سمندروں میں
33:29خوتا زن ہو گئی ہوں
33:30اور جب اپنے دوست
33:32تیرا
33:32قرب کا
33:33ارادہ کرتی ہوں
33:34تو تُو اپنی
33:36دولتِ قرب سے
33:37محروم نہیں کرتا
33:38تُو بھی ہر لمحہ
33:40مجھے اپنے
33:40قریب سے قریب
33:41تر کرتا چلا جاتا ہے
33:43اے محبوب
33:44جب تُو اپنے حسن کی
33:45تجلی
33:46میرے دل پہ ڈالتا ہے
33:47تو میں تیرے حسن کی
33:49تجلی میں
33:49فنا ہو جاتی ہوں
33:51اور فنا ہو کر
33:52پھر تُو مدد کرتا ہے
33:54مجھے زندہ کر دیتا ہے
33:56میں تیری تجلی میں
33:57پھر فنا ہوتی ہوں
33:59پھر تُو زندہ کرتا ہے
34:00اس طرح جیتی ہوں
34:02مرتی ہوں
34:02ہر لمحہ
34:03میرے تیرے ساتھ
34:04اس شغل میں گزرتا ہے
34:05جب وہ یہ کہہ رہی تھی
34:07حضرتِ جنید
34:13کہ یہ کعبے کے طواب میں
34:16اللہ کے گھر میں
34:17ایسے شیر گنگنا رہی ہو
34:18ایسا کلام پڑھ رہی ہو
34:20اس نے کہا
34:21خوف نہیں ہے اللہ کا
34:23حضرتِ جنید بغدادی نے کہا
34:25وہ عارفہ جواب دیتی ہے
34:27جنید
34:27جواب دیتی
34:29جنیدِ بغدادی
34:31خوف نہ ہوتا
34:32تو وطن چھوڑ کے
34:34یوں بے وطن نہ ہوتی
34:35اور اس کے عشق میں
34:37ہجرت کر کے
34:38اس طرح دیسوں میں
34:39بھاگی بھاگی نہ پھرتی
34:41اسی کے عشق نے
34:42مجھے حیران بنا رکھا ہے
34:45پھر اس نے پوچھا
34:47جنید ایک جواب دے دو
34:48اللہ کے خوف کی بات سنانے والے
34:51جنید بتاؤ
34:52یہاں کیا کرنے آئے ہو
34:54اس نے کہا
34:57تباف کرنے آیا ہو
34:58تباف کرنے آیا ہو
35:00اس عارفہ نے پوچھا
35:01کس کا تباف کرتے ہو
35:03بیت اللہ کا
35:05یا اللہ کا
35:06بیت اللہ کا
35:10یا اللہ کا
35:11اللہ کے گھر کا تباف کرتے ہو
35:14یا اللہ کا تباف کرتے ہو
35:16حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں
35:18میں نے جواب دیا
35:19بیت اللہ کا تباف کرتا ہوں
35:21بیت اللہ کا
35:22اس نے اپنا
35:23چہرہ آسمان کی طرف کر دیا
35:25چیخ ماری
35:27اور چیخ مار کے
35:28کہنے لگی
35:29اللہ مولا
35:30تیری بھی کیا شاہن ہے
35:31ایسے بندے بھی
35:33تُو نے پیدا کیے
35:34کہ ان کو زندگی بھر
35:35اپنے گھر کے تمام میں لگا رکھا ہے
35:38اور تیرا کرم
35:39کہ تُو نے گھر کی بجائے
35:41اپنے تباف میں
35:42زندگی گزار رکھا ہے
35:43دیکھئے
35:46زہب
35:46عبادت
35:47تاعت کی زندگی
35:48بیت اللہ کے تباف
35:50تک بندے کو لے جاتی ہے
35:52مگر اس میں
35:53اگر عشق لگ جائے
35:54تو عشق
35:56اپنے حال میں
35:57رب زلجلال کے جلوے
35:59حسن کے تباف میں
36:00عاشق و مگن رکھتا ہے
36:02وہ جب بیت اللہ کا تباف کرتا ہے
36:05تو جسم اس کا
36:06بیت اللہ کے تباف میں
36:08مصروف ہوتا ہے
36:09مگر روب
36:10اپنے مابوب حقیقی
36:12کے حسن کے تباف میں
36:13مصروف ہوتی ہے
36:14اس کی نگاہ
36:15ایک لمحہ بھی
36:16عاشق کی نگاہ
36:18مابوب حقیقی کے
36:19جلوے حسن سے
36:20ایک طرف نہیں ہوتی
36:21یہ سب نے
36:22جو بڑے بڑے اکابر
36:24اولیاء نے بیان کیے
36:25یہ اپنے
36:26اوائل زمانوں کے
36:27واقعات بیان کرتے ہیں
36:28اپنی مجلسوں میں
36:29کہ میں جب چھوٹا تھا
36:31تو یہ ہوا
36:31نوجوان تھا
36:32تو یہ دیکھا
36:33اوائل زمانہ تھا
36:35تو یہ سنا
36:35اپنے واقعات
36:37بیان کرتے ہیں
36:37اور بڑے لوگ
36:39اپنے اوائل زمانے
36:40کے واقعات
36:40بیان کرنے میں
36:41ججک محسوس
36:42یہ ان کا
36:43بڑا پن ہوتا ہے
36:44وہ سبق دیتے ہیں
36:45تاکہ
36:45سفر کرنے والے بھی
36:47ان مرحلوں سے گزریں
36:48ان منازل کو سیکھیں
36:49زنون مصری فرماتے ہیں
36:51مناجات میں
36:52ارز کرتے
36:53اے میرے اللہ
36:54مجھے ان لوگوں میں
36:56شامل کر
36:56جن کی روحیں
36:58عالمِ ملکوت
37:00میں حیران رہتی ہیں
37:01میرے مولا
37:03اور وہ لوگ
37:04جن کے لیے
37:05عالمِ جبروت
37:06کے ہجابات
37:07تُو نے کھول دیئے ہیں
37:09اور وہ لوگ
37:11جو بہرِ لاہوت میں
37:12غوتہ زنی کرتے ہیں
37:14اور تیرے
37:15قرب کے
37:16باغ میں
37:16مستان میں
37:17گشت کرتے رہتے ہیں
37:19اور توقع کی
37:20کشتی میں
37:21سوار ہیں
37:22اور ہواہِ عشق
37:25کے ساتھ
37:26ان کی کشتی
37:26چل چل کے
37:27ساحلِ اخلاص
37:28تک پہنچتی ہیں
37:30اور جب
37:30ساحلِ اخلاص
37:31تک پہنچتے ہیں
37:32تو اغیار کے
37:34وطن
37:34چھوڑ دیتے ہیں
37:36اور تیری
37:36رضا کے دیار
37:37میں آباد
37:38ہو جاتے ہیں
37:39ان لوگوں میں
37:40شامل کر
37:41جو پردیسی
37:42بن گئے ہیں
37:43خیر کی
37:44محبت سے
37:45دنیا کی چاہت
37:46اس دیس
37:47کو چھوڑ دیا ہے
37:48جاہو منصب کی
37:49طلب کا دیس
37:50چھوڑ دیا ہے
37:51اس دنیا کے غم
37:56دنیا کے
37:57لالچ کے دیس
37:58کو چھوڑ کر
37:59پردیسی ہو گئے ہیں
38:00اور کہاں
38:01آباد ہو گئے
38:02ان کے من
38:03تیری رضا
38:04تیری قربر
38:05تو تیری محبت
38:06کے شہر میں
38:07آباد ہو گئے
38:07وہ خیمہ
38:08زن ہو گئے ہیں
38:09تیری محبت
38:10کے شہر میں
38:10تیری قربر
38:12کے شہر میں
38:12وہ دعا کرتے
38:13کہ مولا
38:14ان لوگوں میں
38:14شریک کر
38:15حضرت مالک
38:18بن دینار
38:19فرماتے ہیں
38:20کہ میں حج
38:21بیت اللہ کے لیے
38:22جا رہا تھا
38:23حج بیت اللہ کے لیے
38:24حضرت مالک
38:25بن دینار
38:25اس دوران
38:27ایک جوان
38:27ملا
38:28میرے بیٹو
38:29ہاتھ کھڑا
38:30کرو نا
38:30عاشق
38:30اب ہاتھ
38:34نیچے کرو
38:34ایک جوان
38:37ملا
38:37میں نے آپ
38:38کو کل بھی
38:39کہا تھا
38:39جوانی
38:40یہی عمر ہے
38:41جو مستانہ
38:42کر دے گی
38:43یہی عمر ہے
38:44جو شراب
38:45عشق پلا دے گی
38:47یہی عمر ہے
38:48جو نشا
38:48چڑھا دے گی
38:49اور اس عمر
38:50کا چڑھا ہوا
38:51نشا
38:51پھر بڑھا پے
38:52تک اترتا نہیں
38:53آپ کا
38:55مددگار ہوتا ہے
38:56ساتھ چلتا ہے
38:56میں آپ کو
38:58قسم کھا کے
38:59کہتا ہوں
38:59دنیا میں
39:00کوئی حسن
39:01ایسا نہیں
39:02رکھا
39:02جو اس کے
39:03حسن کے برابر
39:04لذت دے سکے
39:06دنیا میں
39:07کوئی عیش
39:08ایسی نہیں
39:08رکھیں
39:09جو اس کی
39:10قربت کے برابر
39:11عیش دے سکے
39:12دنیا میں
39:14کوئی
39:14راحت
39:15ایسی نہیں
39:15رکھیں
39:16جو اس کے
39:17عشق
39:17اور محبت کے
39:18تعلق کے برابر
39:19راحتیں
39:20جاں دے سکے
39:21تم نے یہی
39:22کچھ چکھا ہے
39:23بڑا سمجھتے ہو
39:25لات مارو
39:26لات مارو
39:28دنیا بھی
39:29فانی ہے
39:30دنیا کی حسن
39:31بھی فانی ہے
39:32دنیا کی چاہتیں
39:33بھی فانی ہے
39:34فانی سے عشق
39:36نہ کرو
39:36باقی سے عشق
39:38کرو
39:38تمہیں بھی
39:39باقی بنا دے گی
39:40تمہیں بکا دے دے گی
39:42مر کے بھی
39:43جیتے رہو گے
39:44مر کے بھی
39:45جیتے رہو گے
39:46آنکھیں بند کرو گے
39:48مگر نظر آئے گا
39:50سو گے
39:50مگر
39:51سونے میں
39:52بیداری ہوگی
39:53دور ہوگے
39:54مگر دوری میں
39:55قربت ہوگی
39:57پڑا نہیں ہوگا
39:58نہ پڑ کے بھی
39:59علم ہوگا
40:00اسے عشق کرو
40:02دروازے کھل جائیں گے
40:03ہجابات
40:04اٹھ جائیں گے
40:05دوریاں ختم ہو جائیں گی
40:06قربتیں بلائیں گی
40:08اللہ پاک فرماتے ہیں
40:09حدیثِ کوشیبیں
40:10میری طرف
40:11کوئی شخص چل کے آئے
40:13میں اس کی طرف
40:14دوڑ کے جاتا ہوں
40:15کوئی ایک بالست بڑے
40:18میں گف کے برابر بڑھتا ہوں
40:20اے بندے
40:21اور میرے جوان بیٹو
40:22عاشقو
40:22اس مولا سے
40:23عشق کر کے دیکھو
40:25دیکھو عشق
40:26لذت کیا دیتی ہے
40:27دنیا سے
40:28کتنا بیگانہ کرتی ہے
40:30کتنا
40:30بینیاز کرتی ہے
40:32سارے سے
40:32کچھین لے گا عشق
40:34یہ ہر وقت کے فکر
40:35ہر وقت کے
40:36گورک دندے
40:37پریشانیاں
40:38عذیتیں دکھ درد
40:39ختم کر دے گا
40:40اور پھر یہ
40:41کہ عشق آپ کو
40:43وہ سہرابی دے گا
40:44کبھی بیاس نہیں لگے گی
40:47فرماتے ہیں
40:53حضرت مالک بن دینار
41:00فرماتے ہیں
41:01میں نے حج گرام
41:02ایک جوان دیکھا
41:03جوان دیکھا
41:06ہر جوان سوچے
41:07کس کو دیکھا
41:10بولیے نا
41:12ایک جوان دیکھا
41:14میری عرضو ہے
41:16کہ آج
41:17اس زمانے میں
41:18کچھ جوان
41:19پھر ایسے پیدا ہو جائے
41:20کچھ جوان
41:24ایسے پیدا ہو جائے
41:25اس کے پاس
41:26نہ کوئی توشہ تھا
41:28نہ پانی تھا
41:28نہ زادہ سفر تھا
41:30پیدل جا رہا ہے
41:32میں نے سلام کیا
41:34اس نے جواب دیا
41:35میں نے پوچھا
41:36جوان کہاں سے
41:37آ رہے ہو
41:37اس نے جواب دیا
41:39اس کے پاس سے
41:41جا جواب دیا
41:43اس کے پاس سے
41:45آ رہا ہوں
41:45میں نے پوچھا
41:47کہاں جا رہے ہو
41:48اس نے کہا
41:49اسی کی طرف
41:50جا رہا ہوں
41:51میں نے کہا
41:52تمہارا
41:53توشہ سفر
41:53سمان سفر
41:55کس کے پاس ہے
41:55اس نے کہا
41:56اسی کے پاس ہے
41:58میں نے کہا
42:01پانی
42:01ضروریات
42:02زندگی کے بغیر
42:03بھی بھلا سفر
42:04ہوتا ہے تو کیسے گزر اوقات ہوگی اس نے کہا میں نے چلتے ہوئے چلتے ہوئے پانچ حرف لے لیے تھے وہ پانچ حرف پوچھا کیا ہے کہا کاف ہا یا این سواد کاف ہا یا این سواد یہ پانچ حرف لے لیے تھے میں نے پوچھا تو ان کا کیا مطلب ہے کہتے ہیں کاف سے مراد ہے کہ وہی کافی ہے
42:34کاف کا مانا ہے اس نے مجھے بتا دیا میں ہی کافی ہوں کاف ہا اس کا مانا ہے وہی حادی ہے جو ضرورت ہوگی میں کافی رہوں گا جہاں بھولو گے میں ہی رہنمائی کروں گا ہدایت کروں گا یا سے مراد ہے جگہ اور پناہ دینے والا جہاں مشکل آئے گی میں ہی پناہ دوں گا اور این کا مانا ہے عالم
43:01خبر رکھو کہ تمہارے ہر حال کا سب سے بہتر جاننے والا میں ہوں اور سواد کا مانا ہے صادق جو وعدہ اس نے کر دیا ہے وہ اس میں سچا ہے
43:12کہتے ہیں ان پانچ باتوں کے بعد مجھے حاجت نہیں
43:16حضرت مالک بن دینار کہتے ہیں کہ میں اس کی بات سن کے حیران ہوا اور میں نے کوشش کی کہ کچھ ان کو کپڑا کوئی چیز دے دوں
43:25اس نے کہا نہیں مالک بن دینار نہیں اگر لوں گا اور حلال ہوگا حلال ہوگا تو حساب دینا ہوگا حرام ہوگا تو حساب دینا ہوگا
43:41اگر حرام ہوگا تو حضاب بگتنا ہوگا اس لیے مجھے عزمائش سے محفوظ رکھ
43:49وہ کہتے ہیں پھر ہم وقت آ گیا حج کا سب نے ایرام باندھے
43:53لبیک اللہم لبیک کی آوازیں گونجیں وہ چپ دنگ ششدر ایران کھڑا ہے
43:59میں نے کہا جوان تو بھی تلبیہ کہے اس نے کہا مجھے ڈھر لگتا ہے
44:04کہ کہیں میں لبیک کہوں تو جواب نہ آ جائے کہ لا لبیک ولا سادئیک
44:09کہ میں تیری بات نہیں سنتا اور تیری طرف تکتا بھی نہیں ہوں
44:14کہتے ہیں وہ جوان خائب ہو گیا میری نگاہ سے
44:17میں نے اس کو منا میں پایا قربانی کے دن
44:20وہ بیٹھا تنہا یہ شیر کہہ رہا تھا
44:23کہ ہر محبوب اپنے عاشق کی قربانی قبول کرتا ہے
44:28ہر محبوب عاشق کی قربانی قبول کرتا ہے
44:33میرے محبوب ہر کوئی آئی تیرے حضور قربانی دے رہا ہے
44:37کوئی بکرے کی کوئی مہنڈے کی ہر کوئی قربانی دے رہا ہے
44:41میرے پاس اور کچھ نہیں جو قربان کرو سوائے اپنی جان کے
44:45تو اپنے عشق میں میری اپنی جان کی قربانی قبول کر
44:49اس نے یہ شیر پڑھا اور چیخ نکلی چیخ نکلی
44:54ہم آگے بڑھے اس کی روح قفع سے انصری سے پرواز کر چکی تھی
44:58سارا دن پریشان رہے
45:02رات آئی اس کی تدفین ہو گئی
45:04تدفین کے بعد پہلی رات آئی تو وہ خواب میں ملا وہ جوان
45:08عارف وہ عاشق
45:09میں نے پوچھا
45:10اے عاشق تیرے ساتھ کیا معاملہ ہوا
45:13اس نے کہا وہی معاملہ کیا مولا نے
45:16جو بدر کے شہیدوں کے ساتھ ہوا
45:19وہی معاملہ ہوا جو بدر کے شہیدوں کے ساتھ ہوا
45:24میں نے پوچھا وہ کیسے وہ تو بدر کے شہید تھے
45:27کہا انہیں کافروں کی تلوار نے مارا تھا
45:32وہ کافروں کی تلوار سے مارے گئے تھے
45:37میں عشق جببار کی تلوار سے مارا گیا ہوں
45:40مجھے عشق جببار کی
45:42مولا کی عشق کی تلوار نے شہید کی آئی
45:44اللہ نے وہی میرے ساتھ حال کیا
45:46حضرت ابراہیم بن شیبان
45:50رحمت اللہ تعالیٰ علیہ وآمی صلف سالحین میں
45:55ان سے کسی نے پوچھا کہ عارف کی علامت کیا ہے
45:59عارف کسے کہتے ہیں
46:01انہوں نے کہا
46:02میں آپ کو علامت بتاتا ہوں
46:05کہ میں اپنے شیخ حضرت ابو عبداللہ المغربی کے ساتھ
46:09کوہ تور پر گئے
46:11اب تور پر ستر عاشقوں کی جماعت تھی
46:16ستر عاشق تھے
46:18ہمارے اس گروہ میں ایک نوجوان بھی آیا
46:22اس پر بڑی رکت کی قیفیت رہتی تھی
46:24ہم نماز پڑھتے تو ہمارے ساتھ شریک نماز ہوتا
46:28علمی تذکرہ ہوتا تو وہ بڑے غور سے سنتا بیٹھتا
46:32حال کا بیان ہوتا تو اس کے آنسوں گرتے
46:35ہم اس کو سنتے رہتے
46:36میرے شیخ ابو عبداللہ المغربی نے بتایا
46:39کہ ایک روز ہم تور کے ہی علاقے میں
46:44ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے سبزے پر
46:46شیخ نے عشق اور معرفت کا مضمون بیان کیا
46:50عشق اور معرفت کا
46:51وہ جوان سنتا رہا عشق اور معرفت کا مضمون
46:55اچانک اس نے گرم سانس لی
46:57اس نے گرم سانس لی اس نے
47:00آہ بری
47:01اس آہ سے جتنا سبزہ سامنے تھا
47:04اس کو آگ لگ گئی
47:05سبزہ جل گیا
47:08اس نے میرے شیخ نے کہا
47:10جس کے اندر عشق کی اتنی گربی پیدا ہو جائے
47:13اس کو عارف کہتے ہیں
47:15حضرت فتح الموسلی
47:20وہ بیان کرتے ہیں کہ
47:22ایک شخص بیان کرتے ہیں ان کے اصحاب اور تلامزہ میں سے
47:26کہ میں حضرت فتح الموسلی کے پاس گیا
47:29بڑے اقابر علیہ میں سے
47:30وہ رو رہے تھے
47:32اور میں نے دیکھا کہ ان کے آنسوں زردی مائل تھے
47:36آنسوں زردی مائل تھے
47:38میں نے کہا کہ اللہ کی عزت کی قسم آپ کو
47:41مجھے بتائیں لگتا ہے آنسوں میں خون بھی آیا ہے
47:44کیا ماجرہ ہے
47:46آپ نے فرمایا ہاں میں رویا بھی ہوں
47:48اور خون بھی برسا ہے آنکھوں سے
47:51مجھا روئے کیوں ہو
47:53آپ روئے کیوں
47:55فرمایا اللہ سے دور رہنے سے
47:57اس کے حجر اور فراق
47:59کہ مولا یہ حجر کی گھڑیاں کب ختم ہوگی
48:02تیری ملاقات کا لمحہ کب آئے گا
48:05وہ وقت کب آئے گا
48:07جب تیرا جلوہ تکنے کے لیے بیٹھیں گے
48:09کب بلائے گا اپنے پاس
48:10اس حجر کی وجہ سے رویا
48:13پوچھا کہ پھر خون کیوں برسا
48:15کہتا ہے خون اس لیے برسا
48:17رونے کے بعد خیال آیا
48:19کہ شاید میرا رونا محبوب نے قبول ہی نہ کیا ہو
48:22اس کے فراق کا خیال کر کے رویا
48:26جدائی کا خیال کر کے رویا
48:28اور یہ خیال کر کے
48:30کہ شاید رونا قبول ہی نہ ہو
48:32اس پر خون برسا
48:33وہ کہتے ہیں کہ جب ان کی غسال ہو گیا
48:36غسال کے بعد وہ خواب میں ملے
48:39اور خواب میں میں نے پوچھا
48:41کہ سنائیں کیا معاملہ ہوا
48:43فرماتے ہیں اللہ رب العزت نے بخش دیا
48:45اللہ سے کوئی بات بھی ہوئی
48:48خواب میں پوچھتے ہیں جنت میں
48:50کوئی بات بھی ہوئی
48:52فرماتے ہیں ہاں
48:53رب کائنات نے فرمایا
48:54میرے رونے کا
48:56اور خون کے آسو بھانے کا پوچھا
48:58کہ فتح الموسلی
49:00اتنا روتے کیوں تھے
49:01اور خون کے آنسوں کیوں بہاتے تھے
49:04میں نے عرض کیا مولا
49:06ایک تو تیری جدائی رہاتی تھی
49:08اور ایک یہ خیال خون برساتا تھا
49:11کہ شاید تنہیں قبول نہیں کیا
49:13اس پر اللہ رب العزت نے
49:15جنت میں اس کو جواب دیا
49:17کہا کہ فتح الموسلی
49:18ہر روز تیرا نام آمال لے کر
49:21فرشتے میرے حضور پیش ہوتے تھے
49:24جانتے تھے کہ میرا خاص بندہ ہے
49:26تیرا نام آمال ہر روز پیش ہوتا تھا
49:28اللہ پاک نے فرمایا
49:30مجھے اپنی عزت کی قسم
49:31کہ چالیس سال تک
49:34ہر روز تیرے نام آمال کو دیکھتا رہا
49:36چالیس سال میں
49:38ایک دن کے نامہ میں بھی
49:39کوئی گناہ درج نہیں تھا
49:41اطاعت گزاری کا یہ عالم
49:45اور عشق میں گری اوزاری کا وہ عالم
49:48کہ چالیس سال میں ایک گناہ درج نہیں
49:51نام آمال میں
49:52اور تعلق عشق میں
49:55کہ کہیں محبوب کی جدائی کب ختم ہوگی
49:58اور کہیں محبوب رد نہ کر دے میرے رونے کو
50:01تو میں نے آپ کو یاد ہے
50:03یہ کہا تھا کہ عشق
50:05ہر مرس کا علاج اس لیے ہے
50:07کہ ہر زعم اور گمان
50:09مٹا دیتا ہے
50:10ہر قبر اور عجب مٹا دیتا ہے
50:14اپنے عمل کا دیکھنا مٹا دیتا ہے
50:16اپنے عمل میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی
50:19عشق زلت کو گوارہ کرتا ہے
50:23منگتا بنتا ہے
50:24اور سمجھتا ہے محبوب
50:26میں تو تجھے تکنے کے بھی قابل نہیں
50:28تو اگر پردہ اٹھا دے
50:30تو تیرا احسان
50:31میں تیرے در پہ کھڑے ہونے کے قابل نہیں
50:34تو نے کھڑا ہونے دیا
50:36تیرا احسان
50:37میں تیرے لیے جاگنے بیٹھنے کے قابل نہیں
50:40تو نے یاد کرنے کا موقع دیا
50:42تیرا کرم
50:43عاشق کا ذاویہ نگاہ بدل جاتا ہے
50:46وہ یوں سوچنا چھوڑ دیتا ہے
50:49کہ میں نے یہ کیا
50:51اولیاء کہا کرتے تھے
50:52کہ ساری بربادی چار چیزوں میں ہے
50:55ساری بربادی چار چیزوں میں ہے
50:59انا
50:59نحنو
51:01لی و اندی
51:03اولیاء کہتے ہیں
51:05ساری بربادی چار چیزوں میں ہے
51:07میں میں
51:07بولیے کس میں
51:09میں میں
51:10یا ہم میں
51:12انا و نحنو
51:14یا میں میں تباہی ہے
51:15یا ہم میں
51:17اور ہم کا مطلب ہے
51:18کہ پھر گروہ بن جاتا ہے
51:20اطبا پیروکار ہو جاتے ہیں
51:22خاندان مل جاتے ہیں
51:24ماننے والے ہو جاتے ہیں
51:26دست و بازو ہو جاتے ہیں
51:27تو میں سے بڑھ کر بندہ سرچتا ہے ہم
51:30یعنی میں میں طاقت آ جاتی ہے
51:32میں اور بڑی ہو جائے
51:34تو ہم میں بدل جاتی ہے
51:36بندے کو میں تباہ کرتی ہے
51:38پھر بندے کو ہم تباہ کرتا ہے
51:41پھر لی
51:42میرے لیے
51:43یعنی یہ میرا ہے
51:45یہ میرا ہونا تباہ کرتا ہے
51:49کہ یہ شیعہ میری ہے
51:50میری ہونے کا خیال تباہ کرتا ہے
51:52میرے ہونے کا خیال تباہ کرتا ہے
51:55میرا حق ہے
51:56میرا حق تباہ کرتا ہے
51:58میری عزت یہ تباہ کرتی ہے
52:00میری پہچان یہ خیال تباہ کرتا ہے
52:04میری ریکوگنیشن یہ خیال تباہ کرتا ہے
52:06میری اپریسییشن یہ خیال تباہ کرتا ہے
52:09تو کہا یا میں برباد کرتا ہے
52:12یا ہم میں بڑی ہو جائے
52:14اس میں کبر کی ہوا بھر جائے
52:16تکبر کی
52:17تو ہم طاقت بن جاتی ہے
52:19برباد کرتی ہے
52:20یا یہ کہ یہ میری شہ ہے
52:22بس بندے
52:23تو تو خود ہی کچھ نہیں
52:25تو تیری شہ کہاں سے آگئی
52:26سوچ
52:29تو تو ایک حکیر پلید قطرہ تھا
52:33تیری ابتدا کہاں سے ہے
52:35اگر اپنی ابتدا پر نظر لکھ لیتا
52:38تو لی کا خیال نہ آتا
52:41پھر اپنی انتہا کو دیکھ
52:43مر کے جب کبر میں جائے گا
52:45تو کیڑے جسم کو کھا جائیں گے
52:48رینگ دے پھیریں گے تیرے جسم پر
52:50اور پھر کوئی کھولے گا
52:52کبر سے بو آئے گی
52:53ابتدا کو دیکھ
52:55تاکہ انہا ختم ہو جائے
52:57انتہا کو دیکھ
52:59تاکہ نہنو اور لی ختم ہو جائے
53:01اور فرمایا چوتھی چیز
53:03اندھی
53:03کسی کو دیا
53:05تو کہاں یہ میری طرف سے ہے
53:07تیری طرف ہی کیا ہے
53:09عشق ساری طرفیں جلا دیتا ہے
53:12تمہاری طرف سے کیا ہے
53:14بندے
53:15تمہارا اپنا ہے کیا
53:17سوچ
53:19اس لمحے وہ ذات
53:21تمہیں مفلوج کر دے
53:24تو تم کھڑے ہونے کے قابل نہ رہو
53:26اس لمحے ذات تمہیں گنگا کر دے
53:29کلام کرنے کے قابل نہ رہو
53:31اس لمحے وہ ذات
53:33اپنی دی ہوئی بینائی چھین لے
53:35اندھا کہلاؤ
53:37اس لمحے وہ اپنی سنات چھین لے
53:39لوگ تمہیں بہرہ ڈورہ کہیں
53:42وہ ذات تمہارے جسم سے جان چھین لے
53:45لوگ تمہیں مفلوج کہیں
53:47تمہیں بخار آ جائے
53:49بستر پہ پڑ جاؤ
53:51تمہاری صحت کہاں گئی
53:53وہ تمہارا مال چھین لے
53:55لٹ جاؤ
53:56خسارہ ہو جائے
53:58سارا کو چھن جائے
54:00اندھی کہاں گیا
54:01کہ میری طرف سے اتنا لے لو
54:03بندے سوچ
54:05تیری کوئی قرب نہیں
54:07طرف صرف خدا کی ہے
54:09تیری کوئی عزت نہیں
54:11عزت صرف خدا کی ہے
54:13تیری کوئی ملکیت نہیں
54:15ملکیت وقت
54:16خدا کی ہے
54:18منعندی یہ پانچمی چیز ہے
54:20میری طرف سے
54:22یہ منعندی میری طرف سے
54:24منی مجھ سے
54:26انی میری جانب سے
54:28یہ سارے
54:29منی انی منعندی اندی
54:32یہ ساری چیزیں
54:34بندے کے نفس کو
54:35اپنے سامنے لاتی ہیں
54:36اخلاص کی قاتل ہیں
54:39ریاہ کو پرورش دینے والی
54:42تکبر کو پالنے والی
54:43تماظوں کو ختم کرنے والی
54:46ان کے ساری کی جڑ کاتنے والی
54:48یہ نفس کی خرابیاں ہیں
54:51میں کوئی شئے نہیں
54:52میں کا حق کہنے کا
54:55رب ذو الجلال کو ہے
54:56ہم کہنا کسی کا حق نہیں
54:59نہ ننزل نہ ذکر
55:01ہم کا کہنا اس کی شان ہے
55:04دینے والا وہ
55:05لینے والا وہ
55:06وہ تمہیں چلائے تو
55:08تو چلتا ہے
55:09وہ بٹھا دے تو بیٹھتا ہے
55:11کھلا دے تو کھاتا ہے
55:13چھین لے تو
55:14تو کلاش ہے
55:15صحت لے لے تو
55:17تو بیمار ہے
55:18جان لے لے
55:19تو تیرا نام بدل جاتا ہے
55:21لوگ پجھے میت کہتے ہیں
55:23وہی بیٹے
55:25وہ بیٹیاں
55:25وہ بیوی
55:26وہ بچے
55:27وہ بائی
55:27جن کے لیے
55:28تو مرتا تھا
55:30جن کے لیے
55:31تو کماتا تھا
55:33جن کے لیے
55:33حرام لوٹتا تھا
55:35جن کے لیے
55:35خیانت کرتا تھا
55:37جن کے لیے
55:38مارا مارا
55:39پھرتا تھا
55:40وہی کہیں گے
55:41دیر ہو رہی ہے
55:42اٹھاؤ میت کو
55:43لے جاؤ
55:44دفنا ہو
55:45کہاں گئے
55:46تیرے دوست
55:46کہاں گئے
55:48تیرے بیری بچے
55:49کہاں گئے
55:51تیرے خون کے
55:51رشتہ دار
55:52کہا گئے تجھ سے محبت کا راگ
55:55علاپنے والے
55:56اور کہا گئے جن کے لیے
55:58تو مرتا تھا وہ سب رشتے
55:59اب وہ رشتہ
56:00اس نے تیرا نام بدل دیا
56:02پہلے نام تھا اللہ بخش
56:04اب کوئی نہیں کہتا
56:06کہ یہ اللہ بخش پڑا ہے
56:07تیرا نام تھا محمد عرفان
56:10اب کوئی نہیں کہتا
56:12کہ محمد عرفان پڑا ہے
56:13تیرا نام تھا غلام رسول
56:15کوئی نہیں کہتا
56:17کہ غلام رسول ہے
56:18جو بولتا ہے
56:19بیٹا بھی بولتا
56:20کہتا ہے میت اٹھاؤ
56:21ارے تیرا تو نام بھی
56:24اپنا نہ رہا
56:25تیری پہچان نہ رہی
56:27اب تو تیرے گھر والے بھی
56:29تجھے میت کہتے ہیں
56:31اور وہ تجھے لپٹ لپٹ کر رہنے والے
56:34جن کے لیے
56:36تو مرتا خیرت دین بیشتا رہا
56:38وہ کہتے ہیں لے جاؤ میت کو
56:40پھر کندوں پر اٹھاتے ہیں
56:42پھر جنازہ پڑھ کے کرتے کیا ہیں
56:45جن کے لیے
56:46تو نے زندگی گوا دی
56:47اور محبوب کو بلا دیا
56:49وہ تو ایک گڑا کھوڑ کر
56:51اس گڑے کا نام ہے قبر
56:53کھوڑ کر
56:54تمہیں اس میں لٹا کر
56:56اوپر مٹی ڈال کے آ جائیں گے
56:58اے بندے یہ تیرا انجام ہے
57:00یہ ہے تیرا انجام
57:03اے بندے
57:05اپنی ابتداء کو دیکھ
57:07اپنی انتہا کو دیکھ
57:09اپنے انجام کو دیکھ
57:10اپنی حیثیت کو دیکھ
57:12اگر یہ بات سمجھ میں آ جائے
57:14تو پھر میں ختم ہو جائے
57:16میں ختم ہو جائے
57:18اس میں کو مٹا دو
57:19اور مٹانا ہی ہے
57:21تو محبوب کے عشق میں مٹاؤ
57:23اس کے عشق میں جلاو
57:25تاکہ یہ فانی میں
57:27ایسی مٹے ایسی چلے
57:30کہ فنا بکا سے بدل جائے
57:32فنا بکا سے بدل جائے
57:35اور تمہیں رہتی دنیا تک
57:37لوگ یاد رکھیں
57:38شکل
57:50کوئی بڑھیں

Recommended