Skip to playerSkip to main content
  • 4 months ago
Lecture Series on Indus Valley Civilization, History of Sindh, Pakistan and south Asia.

Ruk Sindhi
Ruk Sindhi is a Historian, Writer and Journalist. He earned his Bachelor’s degrees at the University of Sindh, Jamshoro, Sindh, Pakistan.
Considered one of the famous writer on the Ancient Indus Valley Civilization, Ruk Sindhi is involved in ongoing research on the Indus Civilization in Pakistan.
He had more than 20 published and unpublished books in Sindhi Language and numerous journal articles to his credit.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Thank you very much.
00:30ڈرگون کے قبضے کے بعد سندھ میں کیا صورت تعلوی اس پر بات کریں گے
00:37آپ سے گزارش ہے کہ چینل کو سبسکرائب کریں
00:40دوستوں کے ساتھ شیئر کریں ویڈیوز کو مکمل سنیں اور لائک کریں
00:45سندھ کی تاریخ میں کئی ادوار ایسے آئے
00:51جنہوں نے اس قطعے کی تحزید، ثقافت اور سیاسی ختم مختیاری کو شدید بتاثر کیا
00:57ان میں ارگون، ترخان اور مغل دور خاص طور پر اہم ہیں
01:03جن کی حکمرانی مقتصر رہی مگر اثرہ دیر پا
01:08سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہد دلتی بھٹائی نے ان ادوار کی بیگان کی
01:14ظلم اور ثقافتی جبر کو علامتی انداز میں بیان کیا ہے
01:20ان کا ایک شاعر ہے جو سندھ کی اتماعی درد کی ترجمانی کرتا ہے
01:27میں آپ کو سندھی میں شہست بناتا ہوں
01:29پیم پچھانان سین بولی جے نبوجن
01:33ماں سندھی اجو سائیو کریا ہوں پارشیوں پچھن
01:37وہ پارشیوں پچھن
01:38میں بھی ملاتے ہیں ستیوں سور پر آئے
01:42ہی شہر ان گیر مرکی حکمرانوں کے رویے پر تنقید ہے
01:48جو سندھ پر کابست ہوئے مگر نہ سندھی زبان کو سمجھا
01:54نہ سندھی عوام کی جذبات و ثقافت
01:57شاہ لطیف نے اس شہر میں سندھ کی عوامی درد
02:04ثقافتی بیغانگی اور غلامی کے احساس کو علامتی انداز میں بیان کیا
02:11ارگون خاندان کا جو نصب ہے وہ چنگیز خاند سے جا ملتا ہے
02:19زولنون بیغ ارگون سلطان حسین باکریا کے طرف سے کندھار کا حاکم تھا
02:26جب جنگ میں زولنون مارا گیا تو اس کا بیٹا شاہ بیغ ارگون کندھار کا حاکم بکر ہوا
02:39بید ازان اس نے سندھ پر حملہ کر کے سمہ خاندان کے آخری حکمران جام فیرو سے حکمت چینگی
02:48اس طرح پندرہ سو بیس عیسوی میں سندھ پر ارگون حکمت کا آگاز ہوا
02:55ارگون نے پہلے سبی پر حملہ کیا جو سندھ کا اہم سرحدی شہر تھا
03:01جام نظام دینے دریا خان کو سپی واپس دینے کا حکم دیا
03:05دریا خان سپی سالار تھا سماح حکم جام نظام دین کا
03:10جام ندو بھی اس کو کہتے تھے جام نظام دین جام ندو
03:15اس کا وزیرعظم تھا سپی سالار تھا دریا خان جب ارگون انہیں سبی پر حملہ کیا
03:21سندھ کے شہر پر تو جام نظام دین نے دریا خان کو سپی واپس لینے کا حکم دیا
03:27دریا خان نے ارگون کو شکست دی سندھ کی حکمرانی بحال کی سپی واپس لینے
03:34اس جنگ میں ارگون جو وہاں حاکم پر آیا گیا تھا سلطان محمد وہ مارا جی
03:43اس کے بعد جام نظام دین کے وفات کے بعد سندھ میں سیاسی انتشاہ پیدا ہوا
03:51ایک بہت بڑا مضبوط آکم تھا وہ جب وفات کر گیا تو سندھ میں سیاسی انتشاہ پیدا ہوا
03:57شاہ بیگ ارگون نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھٹے پر حملہ کیا جو سندھ کی راجدانی تھا
04:05دریا خان نے پہدری سے مقابلہ کیا مگر وہ اس جنگ میں شہید ہو گئے
04:10ارگونوں نے ٹھٹے شہر کو نو دن تک لوٹا جلائے
04:16سندھ کو دو حصوں میں تقسیب کیا گیا جنوبی سندھ جام فیروز کے زیر حکمت اور شمالی سندھ
04:45شاہ بیگ ارگون کے تخت بنی
04:48ارگونوں کی حکمت نے سندھ کی سماجی ثقافتی اور سیاسی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا
04:59سندھ کے قلعے دہا مال و دولر گیر ملکیوں کے قبضے میں چلے گئے
05:06خوراسان سے آئے ہوئے امیر جو ارگونوں کے ساتھ آئے تھے خوراسان سے آئے ہوئے جو امیر
05:12اور پناہ گزی ہیں جو وہاں سے مواجرہ آئے ان کے ساتھ لشکر کے ساتھ
05:17سندھ کی امن پسند فضاء کے لئے عذاب بن گئے
05:21سندھی زبان ثقافت اور روایت کو نظر انداز کیا گیا
05:26عوام کی حوصلے فکر اور خودی کو شدید نقصان پہچھا
05:32شاہ لطیف کا مذکورہ شہر اس بیگانگی اور ثقافتی جبر کی علامت ہیں
05:40جو آپ کو میں نے پہلے بتایا
05:41شاہ بیک کے بعد اس کا بیٹا شاہ حسن ارگون تخت نشنوا
05:49اس نے ملکتان فتح کیا بکھر اور سیون کے قلعے مضبوط کیے
05:53پندرہ سو پچپن ایسیوی میں اس کی وفات کے بعد
05:58ترخان خاندان نے سندھ پر قبضہ کر دیا
06:01ارگون و ترخان دور مجبوعی طور پر چھتیس سال پر مہترا
06:07مگر اس کے اثرات سندھ پر آئندہ تین سدیوں تک محسوس کیا گیا
06:13اتنی لوٹ مارکی گیا
06:15سندھ کے ثقافت تحضی کو نقصان رسایا گیا
06:19مہترا تو ان کا دور تو ارگون ترخان کا دور تو چھتیس سال رہا
06:24مگر اس کے اثرات سندھ پر آئندہ تین سدیوں تک محسوس کیا گیا
06:31دریا خان کے بیٹے محمود خان موٹن خان اور جام سارگ نے ارگون
06:39اسے مضاہ مت کی ٹلٹی کے جنگ میں سوڈوں نے بے مثال بہادری دکھائی
06:45مگر بڑی تعداد میں شہید ہوئی
06:48شاہ بیگ نے باگبان سیون اور بکھر میں بغاوتوں کو کچلا
06:54مگر سندھ میں کبھی سکون سے نہ رہ سکا
06:59سندھیوں کی مضاہ مت جاری رہی
07:01ارگون دور میں
07:02ترخان دور میں سندھیوں نے مضاہ مت کی وہ خامش نہیں رہے
07:06قبضے کو تسلیم نہیں کیا
07:08بکھر میں دھاری جا قبیلے نے ارگونوں کے خلاف بغاوت کی
07:12جسے میر فاضر اور سلطان محمود نے ان کے گورنر تھے
07:18انہوں نے سکتی سندھ دبایا
07:19ستائیس سرداروں کو موقع پر سزا دی گئے
07:24باقی کو رات کے وقت قتل کر کے دریائے سندھ میں پھینک دیا جیا
07:29جس برج سے ان کو پھینکا گیا کے لیے کے
07:33بعد میں وہ خونی برج کر لیا
07:39اس کو کہتے ہیں بھئی خونی برج والا واقعہ آج بھی
07:42سندھ کے لوگوں کو یاد ہے
07:44کہ ارگونوں نے اس برج سے لاشیں پھیک کی تھی
07:49سندھیوں کی
07:50اور وہ بعد میں خونی برج
07:52کے طور پر نام پر مشہور
07:56ارگون ترخان اور مغل دور کی مختصر حکمرانی نے
08:02سندھ کے سماجی سیاسی اور ثقافتی بنیادوں کو
08:06سندھیوں تک متاثر کیا
08:08شاہ لطیب کا جو شہر ہے
08:09اس دور کی بیگانگی
08:11ظلم اور سندھی شناحت کی پہمالی کا گہرہ ازار ہے
08:16سندھ کی تاریخ میں
08:18یہ دور غلامی
08:20مضاہمت اور قربانیوں کا باب ہے
08:23جسے یاد رکھنا
08:25اور سمجھنا
08:27آج بھی ضروری ہے
08:29آپ کا بہت بہت شکریہ
Comments

Recommended