00:00Thank you very much.
00:30ڈرگون کے قبضے کے بعد سندھ میں کیا صورت تعلوی اس پر بات کریں گے
00:37آپ سے گزارش ہے کہ چینل کو سبسکرائب کریں
00:40دوستوں کے ساتھ شیئر کریں ویڈیوز کو مکمل سنیں اور لائک کریں
00:45سندھ کی تاریخ میں کئی ادوار ایسے آئے
00:51جنہوں نے اس قطعے کی تحزید، ثقافت اور سیاسی ختم مختیاری کو شدید بتاثر کیا
00:57ان میں ارگون، ترخان اور مغل دور خاص طور پر اہم ہیں
01:03جن کی حکمرانی مقتصر رہی مگر اثرہ دیر پا
01:08سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہد دلتی بھٹائی نے ان ادوار کی بیگان کی
01:14ظلم اور ثقافتی جبر کو علامتی انداز میں بیان کیا ہے
01:20ان کا ایک شاعر ہے جو سندھ کی اتماعی درد کی ترجمانی کرتا ہے
01:27میں آپ کو سندھی میں شہست بناتا ہوں
01:29پیم پچھانان سین بولی جے نبوجن
01:33ماں سندھی اجو سائیو کریا ہوں پارشیوں پچھن
01:37وہ پارشیوں پچھن
01:38میں بھی ملاتے ہیں ستیوں سور پر آئے
01:42ہی شہر ان گیر مرکی حکمرانوں کے رویے پر تنقید ہے
01:48جو سندھ پر کابست ہوئے مگر نہ سندھی زبان کو سمجھا
01:54نہ سندھی عوام کی جذبات و ثقافت
01:57شاہ لطیف نے اس شہر میں سندھ کی عوامی درد
02:04ثقافتی بیغانگی اور غلامی کے احساس کو علامتی انداز میں بیان کیا
02:11ارگون خاندان کا جو نصب ہے وہ چنگیز خاند سے جا ملتا ہے
02:19زولنون بیغ ارگون سلطان حسین باکریا کے طرف سے کندھار کا حاکم تھا
02:26جب جنگ میں زولنون مارا گیا تو اس کا بیٹا شاہ بیغ ارگون کندھار کا حاکم بکر ہوا
02:39بید ازان اس نے سندھ پر حملہ کر کے سمہ خاندان کے آخری حکمران جام فیرو سے حکمت چینگی
02:48اس طرح پندرہ سو بیس عیسوی میں سندھ پر ارگون حکمت کا آگاز ہوا
02:55ارگون نے پہلے سبی پر حملہ کیا جو سندھ کا اہم سرحدی شہر تھا
03:01جام نظام دینے دریا خان کو سپی واپس دینے کا حکم دیا
03:05دریا خان سپی سالار تھا سماح حکم جام نظام دین کا
03:10جام ندو بھی اس کو کہتے تھے جام نظام دین جام ندو
03:15اس کا وزیرعظم تھا سپی سالار تھا دریا خان جب ارگون انہیں سبی پر حملہ کیا
03:21سندھ کے شہر پر تو جام نظام دین نے دریا خان کو سپی واپس لینے کا حکم دیا
03:27دریا خان نے ارگون کو شکست دی سندھ کی حکمرانی بحال کی سپی واپس لینے
03:34اس جنگ میں ارگون جو وہاں حاکم پر آیا گیا تھا سلطان محمد وہ مارا جی
03:43اس کے بعد جام نظام دین کے وفات کے بعد سندھ میں سیاسی انتشاہ پیدا ہوا
03:51ایک بہت بڑا مضبوط آکم تھا وہ جب وفات کر گیا تو سندھ میں سیاسی انتشاہ پیدا ہوا
03:57شاہ بیگ ارگون نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھٹے پر حملہ کیا جو سندھ کی راجدانی تھا
04:05دریا خان نے پہدری سے مقابلہ کیا مگر وہ اس جنگ میں شہید ہو گئے
04:10ارگونوں نے ٹھٹے شہر کو نو دن تک لوٹا جلائے
04:16سندھ کو دو حصوں میں تقسیب کیا گیا جنوبی سندھ جام فیروز کے زیر حکمت اور شمالی سندھ
04:45شاہ بیگ ارگون کے تخت بنی
04:48ارگونوں کی حکمت نے سندھ کی سماجی ثقافتی اور سیاسی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا
04:59سندھ کے قلعے دہا مال و دولر گیر ملکیوں کے قبضے میں چلے گئے
05:06خوراسان سے آئے ہوئے امیر جو ارگونوں کے ساتھ آئے تھے خوراسان سے آئے ہوئے جو امیر
05:12اور پناہ گزی ہیں جو وہاں سے مواجرہ آئے ان کے ساتھ لشکر کے ساتھ
05:17سندھ کی امن پسند فضاء کے لئے عذاب بن گئے
05:21سندھی زبان ثقافت اور روایت کو نظر انداز کیا گیا
05:26عوام کی حوصلے فکر اور خودی کو شدید نقصان پہچھا
05:32شاہ لطیف کا مذکورہ شہر اس بیگانگی اور ثقافتی جبر کی علامت ہیں
05:40جو آپ کو میں نے پہلے بتایا
05:41شاہ بیک کے بعد اس کا بیٹا شاہ حسن ارگون تخت نشنوا
05:49اس نے ملکتان فتح کیا بکھر اور سیون کے قلعے مضبوط کیے
05:53پندرہ سو پچپن ایسیوی میں اس کی وفات کے بعد
05:58ترخان خاندان نے سندھ پر قبضہ کر دیا
06:01ارگون و ترخان دور مجبوعی طور پر چھتیس سال پر مہترا
06:07مگر اس کے اثرات سندھ پر آئندہ تین سدیوں تک محسوس کیا گیا
06:13اتنی لوٹ مارکی گیا
06:15سندھ کے ثقافت تحضی کو نقصان رسایا گیا
06:19مہترا تو ان کا دور تو ارگون ترخان کا دور تو چھتیس سال رہا
06:24مگر اس کے اثرات سندھ پر آئندہ تین سدیوں تک محسوس کیا گیا
06:31دریا خان کے بیٹے محمود خان موٹن خان اور جام سارگ نے ارگون
06:39اسے مضاہ مت کی ٹلٹی کے جنگ میں سوڈوں نے بے مثال بہادری دکھائی
06:45مگر بڑی تعداد میں شہید ہوئی
06:48شاہ بیگ نے باگبان سیون اور بکھر میں بغاوتوں کو کچلا
06:54مگر سندھ میں کبھی سکون سے نہ رہ سکا
06:59سندھیوں کی مضاہ مت جاری رہی
07:01ارگون دور میں
07:02ترخان دور میں سندھیوں نے مضاہ مت کی وہ خامش نہیں رہے
07:06قبضے کو تسلیم نہیں کیا
07:08بکھر میں دھاری جا قبیلے نے ارگونوں کے خلاف بغاوت کی
07:12جسے میر فاضر اور سلطان محمود نے ان کے گورنر تھے
07:18انہوں نے سکتی سندھ دبایا
07:19ستائیس سرداروں کو موقع پر سزا دی گئے
07:24باقی کو رات کے وقت قتل کر کے دریائے سندھ میں پھینک دیا جیا
07:29جس برج سے ان کو پھینکا گیا کے لیے کے
07:33بعد میں وہ خونی برج کر لیا
07:39اس کو کہتے ہیں بھئی خونی برج والا واقعہ آج بھی
07:42سندھ کے لوگوں کو یاد ہے
07:44کہ ارگونوں نے اس برج سے لاشیں پھیک کی تھی
07:49سندھیوں کی
07:50اور وہ بعد میں خونی برج
07:52کے طور پر نام پر مشہور
07:56ارگون ترخان اور مغل دور کی مختصر حکمرانی نے
08:02سندھ کے سماجی سیاسی اور ثقافتی بنیادوں کو
08:06سندھیوں تک متاثر کیا
08:08شاہ لطیب کا جو شہر ہے
08:09اس دور کی بیگانگی
08:11ظلم اور سندھی شناحت کی پہمالی کا گہرہ ازار ہے
08:16سندھ کی تاریخ میں
08:18یہ دور غلامی
08:20مضاہمت اور قربانیوں کا باب ہے
08:23جسے یاد رکھنا
08:25اور سمجھنا
08:27آج بھی ضروری ہے
08:29آپ کا بہت بہت شکریہ
Comments