Skip to playerSkip to main content
  • 3 months ago
Lecture Series on Indus Valley Civilization, History of Sindh, Pakistan and south Asia.

Ruk Sindhi
Ruk Sindhi is a Historian, Writer and Journalist. He earned his Bachelor’s degrees at the University of Sindh, Jamshoro, Sindh, Pakistan.
Considered one of the famous writer on the Ancient Indus Valley Civilization, Ruk Sindhi is involved in ongoing research on the Indus Civilization in Pakistan.
He had more than 20 published and unpublished books in Sindhi Language and numerous journal articles to his credit.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00विस्ट गुदि बन्यूच उन्यूंग कर दोचित की तारीक पर तैकिक की सिलसले में में रुक्सिती आप भेदबायूं।
00:10दोस्तों से मुखाटबूं आप सब को मेरी तरफ से सला।
00:14आज हमनों एक आहम मौजू है सिल्द में तमिर के जंगलाउत।
00:19We will talk about our lives and our lives and our lives.
00:26This is an important topic.
00:29We will talk about our lives and our lives.
00:36We will talk about our lives and our lives and our lives.
00:40We will talk about our lives and our lives and our lives and our lives.
00:57We will talk about our lives and our lives.
01:05In the midst of our lives, we will talk about our lives and our lives and our lives.
01:20This is our lives and our lives and our lives.
01:33Tمر کے جنگلات سندھ کے قدرتی خوبصورتی کا خاص حصہ ہے.
01:39جو خاص طور پر دریائے سندھ کی ڈیلٹا کے علاقے میں واقع ہیں.
01:44دریائے جو مہدریات اور سلٹ ان جنگلات کی نشو نما کے لیے اہم ہیں.
01:51جو حیاتیاتی تنو کے لیے مثالی ماہور فرام کرتے ہیں.
01:56تمر کے جنگلات چھوٹی بچلیوں، جینکوں اور اکڑوں کے لیے قدرتی نسری کا کام کرتے ہیں.
02:08ان کی جڑوں کا جو جال دوتا ہے، ان کی جڑوں کا جال زمین کو مضبوط بناتا ہے
02:15اور سائلی کٹا اسے بچاتا ہے.
02:22یہ نہ صرف آکسیجن پیدا کرتے ہیں، بلکہ کاربان کو جذب کر کے
02:28زمینی، ماہولیاتی توازن میں اہم کردہ ادا کرتے ہیں.
02:33برطانوی دور کے ریکارڈ کے مطابق کے سندھو ڈیٹا میں کبھی وسید تمر کے جنگلات موجود تھے
02:42جہاں دریائی، بہاو، کراچی کے قریب سمندر میں گرتا تھا.
02:481966 میں پاکستان میں تمر کے جنگلات تقریباً
02:53چار لاکھ چھاسی ہزارے ہیکٹر پر موئیت تھے جو زیادہ تر سندھ میں مرکوز تھے.
03:02خطرات کیا ہیں، دمر کے جنگلات کو خطرات کیا ہیں، پہلے تو سنتی آلوبگی ہے،
03:08کراچی کے ساحل پر چمڑے، اسٹیل اور تیل صاف کرنے والے جو کارخانے ہیں، سنتے ہیں،
03:17ان سے خارج ہونے والے زہری لے مادے، کرومیم، ہیڈروکاربان،
03:23جنگلات کے لیے، تمر کے جنگلات کے لیے تباہ ہونا ہے۔
03:26دوسرا ہے پانی کی کمی، کوٹڑی بیراج سے نیچے پانی کا بہاو،
03:32اٹھارہ سو بیانوے ایسیو میں، ڈیڑھ سو ملین ایکڑ فٹ تھا، جو اب کم ہو کر صرف
03:40دس ملین ایکڑ فٹ رہ گیا ہے۔
03:45دوسرا ہے مقامی لوگ مہانہ تقریباً 173 کلو گرام لکڑی استعمال کرتے ہیں،
03:53تمر کے جنگلات کو کٹ کر لکڑی آسل کرتے ہیں، اس سے تمر کے جنگلات کو بہت بڑا خطرہ ہے۔
04:01دوسرا ہے سمندری سطح میزہ، ماہرین کے مطابق ٹھٹا اور بدین میں روزانوں تقریباً اسی اکر زمین سمندر نگل رہا ہے،
04:11جس سے تمر کے جنگلات ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
04:15یہ جنگلات ماہی گری کے لیے نرسری فرام کرتے ہیں،
04:19سمندری طوفانوں سے آبادیوں کو بچاتے ہیں، تحفظ دیتے ہیں،
04:25اور مقامی لوگوں کو لکڑی، ایندھن اور کشتی سازی کا سامان مویا کرتے ہیں۔
04:33اب کیا کرنا چاہیے؟
04:37ایک تو بڑے پیمانے پر دوبارہ شجرکاری کرنی چاہیے،
04:41تمر کے جنگلات کی شجرکاری ہونے چاہیے،
04:44کوٹری بیراج سے آج، کوٹری بیراج سے نیچے پانی کے بہاو کی زمانت دی جائیں۔
04:51سنتی فضلے کی رکھ تھام کے لیے پیلانس لگائے جائیں،
04:57سنتی فضلے کو انڈس ڈیلٹا میں، انڈس ریور میں، سمندر میں،
05:04پھینکنے سے اجتلاب کرنا چاہیے،
05:07دوسرا مقامی افراد کی شمولیت سے جنگلات کے تحفظ کا انتظام کیا جائیں۔
05:13قومی موسمیاتی پالیسی جو بنتی ہیں اس میں تمر کے تحفظ کو شامل کرنا چاہیے۔
05:20سندھ کے تمر کے جنگلات صرف حیاتی احساسہ نہیں،
05:25بلکہ سمندری طوفانوں کے خلاف قدرتی دفاعی نظام ہیں۔
05:31ان کی تباہی سے نہ صرف حیاتی تنو بلکہ مقامی محشت بھی قطرے میں ہیں۔
05:38اس لئے فوری اور حملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
05:42آپ کا بہت بہت شکریہ۔
Be the first to comment
Add your comment

Recommended