00:00विस्ट गुदि बन्यूच उन्यूंग कर दोचित की तारीक पर तैकिक की सिलसले में में रुक्सिती आप भेदबायूं।
00:10दोस्तों से मुखाटबूं आप सब को मेरी तरफ से सला।
00:14आज हमनों एक आहम मौजू है सिल्द में तमिर के जंगलाउत।
00:19We will talk about our lives and our lives and our lives.
00:26This is an important topic.
00:29We will talk about our lives and our lives.
00:36We will talk about our lives and our lives and our lives.
00:40We will talk about our lives and our lives and our lives and our lives.
00:57We will talk about our lives and our lives.
01:05In the midst of our lives, we will talk about our lives and our lives and our lives.
01:20This is our lives and our lives and our lives.
01:33Tمر کے جنگلات سندھ کے قدرتی خوبصورتی کا خاص حصہ ہے.
01:39جو خاص طور پر دریائے سندھ کی ڈیلٹا کے علاقے میں واقع ہیں.
01:44دریائے جو مہدریات اور سلٹ ان جنگلات کی نشو نما کے لیے اہم ہیں.
01:51جو حیاتیاتی تنو کے لیے مثالی ماہور فرام کرتے ہیں.
01:56تمر کے جنگلات چھوٹی بچلیوں، جینکوں اور اکڑوں کے لیے قدرتی نسری کا کام کرتے ہیں.
02:08ان کی جڑوں کا جو جال دوتا ہے، ان کی جڑوں کا جال زمین کو مضبوط بناتا ہے
02:15اور سائلی کٹا اسے بچاتا ہے.
02:22یہ نہ صرف آکسیجن پیدا کرتے ہیں، بلکہ کاربان کو جذب کر کے
02:28زمینی، ماہولیاتی توازن میں اہم کردہ ادا کرتے ہیں.
02:33برطانوی دور کے ریکارڈ کے مطابق کے سندھو ڈیٹا میں کبھی وسید تمر کے جنگلات موجود تھے
02:42جہاں دریائی، بہاو، کراچی کے قریب سمندر میں گرتا تھا.
02:481966 میں پاکستان میں تمر کے جنگلات تقریباً
02:53چار لاکھ چھاسی ہزارے ہیکٹر پر موئیت تھے جو زیادہ تر سندھ میں مرکوز تھے.
03:02خطرات کیا ہیں، دمر کے جنگلات کو خطرات کیا ہیں، پہلے تو سنتی آلوبگی ہے،
03:08کراچی کے ساحل پر چمڑے، اسٹیل اور تیل صاف کرنے والے جو کارخانے ہیں، سنتے ہیں،
03:17ان سے خارج ہونے والے زہری لے مادے، کرومیم، ہیڈروکاربان،
03:23جنگلات کے لیے، تمر کے جنگلات کے لیے تباہ ہونا ہے۔
03:26دوسرا ہے پانی کی کمی، کوٹڑی بیراج سے نیچے پانی کا بہاو،
03:32اٹھارہ سو بیانوے ایسیو میں، ڈیڑھ سو ملین ایکڑ فٹ تھا، جو اب کم ہو کر صرف
03:40دس ملین ایکڑ فٹ رہ گیا ہے۔
03:45دوسرا ہے مقامی لوگ مہانہ تقریباً 173 کلو گرام لکڑی استعمال کرتے ہیں،
03:53تمر کے جنگلات کو کٹ کر لکڑی آسل کرتے ہیں، اس سے تمر کے جنگلات کو بہت بڑا خطرہ ہے۔
04:01دوسرا ہے سمندری سطح میزہ، ماہرین کے مطابق ٹھٹا اور بدین میں روزانوں تقریباً اسی اکر زمین سمندر نگل رہا ہے،
04:11جس سے تمر کے جنگلات ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
04:15یہ جنگلات ماہی گری کے لیے نرسری فرام کرتے ہیں،
04:19سمندری طوفانوں سے آبادیوں کو بچاتے ہیں، تحفظ دیتے ہیں،
04:25اور مقامی لوگوں کو لکڑی، ایندھن اور کشتی سازی کا سامان مویا کرتے ہیں۔
04:33اب کیا کرنا چاہیے؟
04:37ایک تو بڑے پیمانے پر دوبارہ شجرکاری کرنی چاہیے،
04:41تمر کے جنگلات کی شجرکاری ہونے چاہیے،
04:44کوٹری بیراج سے آج، کوٹری بیراج سے نیچے پانی کے بہاو کی زمانت دی جائیں۔
04:51سنتی فضلے کی رکھ تھام کے لیے پیلانس لگائے جائیں،
04:57سنتی فضلے کو انڈس ڈیلٹا میں، انڈس ریور میں، سمندر میں،
05:04پھینکنے سے اجتلاب کرنا چاہیے،
05:07دوسرا مقامی افراد کی شمولیت سے جنگلات کے تحفظ کا انتظام کیا جائیں۔
05:13قومی موسمیاتی پالیسی جو بنتی ہیں اس میں تمر کے تحفظ کو شامل کرنا چاہیے۔
05:20سندھ کے تمر کے جنگلات صرف حیاتی احساسہ نہیں،
05:25بلکہ سمندری طوفانوں کے خلاف قدرتی دفاعی نظام ہیں۔
05:31ان کی تباہی سے نہ صرف حیاتی تنو بلکہ مقامی محشت بھی قطرے میں ہیں۔
05:38اس لئے فوری اور حملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
05:42آپ کا بہت بہت شکریہ۔
Comments