00:00તતેએ તેધદ તેદેહદ તેણીદ કલેદે નેધદ આકલેદેદ તેદેદેદેદેદેથ નીધ્યોનીલાયોન ઔભેણ�ંંવવેદ �
00:30foreign
00:37I
00:39I
00:41I
00:43I
00:45I
00:47I
00:49I
00:51I
00:53I
00:55I
00:57I
01:00I
01:02I
01:04I
01:06I
01:08I
01:10I
01:12I
01:14I
01:16I
01:18I
01:20I
01:22I
01:24I
01:27I
01:29I
01:32I
01:34I
01:35I
01:37I
01:39I
01:41I
01:43I
01:44I
01:47I
01:49I
01:51I
01:53بدین ظلے میں ایک ایسا ورثہ ہے
01:56جو اپنی شاندار تعمیر اور سباجی حیثت کی وجہ سے منتاز ہے
02:01میر خدا بشکتال پررہ ظلے بدین کے ایک بڑے زمیندار تھے
02:07جن کے پاس تقریباً تیس ہزار اکڑ زرعی زمین تھی
02:11وہ میر لامبٹ کے نام سے بھی مشہور تھے
02:15میر لامبٹ
02:16یہ محل انہوں نے اپنی اہلیہ صاحب خاتو کی یاد میں تعمیر کروایا
02:23آپ کو پھر بتائیں کہ اپنی اہلیہ صاحب خاتو کی یاد میں تعمیر کروایا
02:28جو ان کے دوست بچو خان کورائی کی بیٹی تھی
02:33محل کے اندر ان کی چھوٹی بیٹی کی قبر بھی موجود ہے
02:37صاحب خاتو کی
02:40جو انیس سب پچاس میں بچ بم میں وفات پا گئے
02:46صاحب منظر تین منظروں پر مشتمل ہے
02:51جس کی تعمیر میں اسلامی مقامی اور نو آبادیاتی فند تعمیر کے
02:57اثرات نظر آتے ہیں
02:59گمبز اور چھجے
03:02یہ محل کے ہر کونے پر آٹھ پہلو والے گمبز بنے ہوئے ہیں
03:08جبکہ آٹھ جوڑے چھجے بھی موجود ہیں
03:12اندروں نے حصے رنگین شیشوں والے لکڑی کے دروازے
03:17ٹائلوں سے فرش بندی اور برامدے محل کے جو جمالیاتی حصوں نے اس میں اضافہ کرتے ہیں
03:27محل کے قریب شالی مار باگ کے طرز پر باگ بنایا گیا تھا جو اب ختم ہو چکا ہے
03:34مگر پانی کا ہوز اور تفریح چھجا بھی موجود ہے
03:39محل کی تیسری منزل اور اوپری حصے میں منظرگاہ کے طور پر استعمال ہونے والے کمرے اور سرخ چاند تارے سے مزین شد چابل ہے
03:52محلات سندھ کے جاگرداروں کی حصے طاقت اور جمالیاتی زب کی علامت ہیں
04:01صاحب محل نہ صرف ایک شخصی یادگارے بلکہ سندھ کے جاگرداروں معاشرے کی گھرے لو زندگی
04:10ثقافت اور جہانہ اور تاریخی اہمیت کا عکس بھی ہے
04:15فیلال صاحب محل کا مالک میر ابوبکر خان ٹالپور ہے
04:19جو اپنے خاندان کے ساتھ یہاں رائش پازی رہے
04:23امارت کی ساخت ابھی قائم ہے مگر باگ اور کچھ سے بے توجہ کی باعث ختم ہو چکے ہیں
04:31صاحب محل سندھ کی جاگرداروں معاشرے اور تیمیری ورسے کی ایک نمیان مثال ہے
04:38اس کی تاریخی اور ثقافت اہمیت کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت اور مقامی سطح پر سنجیدار اقدامات کرنے کی ضرورت ہے
04:49اس امارت کی دیکھ پال نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی ثقافتی ورسے کی فیرست میں شامل کرنے کے لیے بھی اہم ہے
04:59یہ جو محل ہے میر لامبٹ خان
05:03میر لامبٹ خان نے یہ محل جو ہے
05:08یعنی میر خدا بخش تارپور نے 1907 تعلی کے قریب بنوایا تھا
05:14مانا پاکستان بننے سے کچھ
05:18مہینے پہلے یہ جو ہے شاندار امارت بنائی گئی تھی
05:24یہ جو ٹرنڈو باغوں میں ہے جلے بدین میں واقع ہے
05:29آپ بھائیوں کا بہت بہت شکریہ
Comments