- 4 months ago
Follow me YouTube
Category
🎥
Short filmTranscript
00:00Surah Al-Mahchid
00:30This is Muhammad and this is a divanah, divanah.
00:34Look, this is a man.
00:39This is a story of Surah Lahab.
00:47A lot of Muslim families in the Bible have been placed in the Quran.
00:52This means that 4 of the Surah Lahab should be found.
00:55That's why we need to understand that the Quran is in the Bible but the heart of the Surah Lahab.
01:04What's the Surah Lahab?
01:06What's the Surah Lahab?
01:07Why is the Surah Lahab?
01:10That's the Surah Lahab.
01:12That's the Surah that's the Surah.
01:15Who is the Surah Lahab?
01:18And what did that happen to me?
01:30And what did he do?
01:32That Allah has the Quran and Abulahabu's name in a creator size?
01:36And that's the most important thing that this is living proof of Quran is going to be miraculous in this video.
01:52And that's the most important thing that this is living proof of Quran.
02:00Surah Lahab Mekka میں اس وقت نادل ہوئی جب ابو Lahab نے ظلم کی ساری حدے پار کر دی.
02:05وہ اللہ کے نبی کو پریشان کرتا، ان کو گالیاں دیتا، انہیں بھرے بازار رسوہ کرتا۔
02:10میرے بھتیجے نے باپ دادا کا مذہب چھوڑ دیا ہے، کہتا ہے اس ایک خدا کو مانو، اس سے گھٹیا بات میں نے آج تک نہیں سنی۔
02:23مگر، اس سب کی شروعات اس صبح ہوئی جب سورج کی کرنے مکہ کی زمین کو چوم رہی تھی۔
02:30اوٹ ریتیلے میدانوں میں دول پڑے تھے۔
02:33کوئی صبح صبح خود کو شیشے میں نہار رہا تھا، کوئی ناشتہ کر رہا تھا،
02:37تو کوئی ابھی بستر پر انگڑائیاں لے رہا تھا۔
02:39یہاں ہاتھ بھی جا رہے ہیں اور انہیں دن بھر بستر توڑنا ہے۔
02:43اور کام ہی کیا ہے؟
02:45اے جی، اب سوتے ہی رہو گے کیا؟
02:49لیکن کوئی تھا جو صفا کے پہاڑ پر چڑ رہا تھا۔
02:54وہ پہاڑ پر کون ہے؟
02:56محمد؟
02:58یہ وہ پہاڑ تھا جس پر چڑ کر مکہ والے ایک دوسرے کوئی گھٹا کرتے،
03:03کوئی خاص بات بتاتے۔
03:08صفا کے پہاڑ پر چڑ کر اللہ کے نبی نے ایک گہری سانس لی،
03:12اور پھر زور سے بکارا۔
03:14یہ آزان نہیں تھی، نہ ہی کسی سوداغر کی صدا، یہ خطرے کی پکار تھی۔
03:24اس کا مطلب تھا کہ اے لوگوں اٹھو اور میری بات سنو، تم پر ایک خطران پڑا ہے۔
03:30لگتا ہے کوئی مصیبت آئی ہے۔
03:32لوگ اپنے گھروں سے، اپنی دکانوں سے، اپنی باتوں سے نکل پڑے۔
03:35اور پھر جب سب لوگ صفا کے پہاڑ کے نیچے جمع ہو گئے،
03:38تو اللہ کے نبی نے ان سب کو ایک نظر دیکھا۔
03:43اور پھر ان سے ایک سوال پوچھا۔
03:46کہ اے لوگوں، اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن کی فوج تم پر حملہ کرنے آ رہی ہے،
03:53کیا تم میرا یقین کرو گے؟
03:54لوگ چلا اٹھے۔
03:56ہاں، بلکل کریں گے۔
03:58کیونکہ آپ سچے ہیں۔
04:00آپ امین ہیں۔
04:01آپ صدیق ہیں۔
04:03آپ محمد ہیں۔
04:04ان سب لوگوں کے جواب سن کر اللہ کے نبی ایک لمحے کے لئے رکے۔
04:10اور پھر انہوں نے ان سب سے کہا کہ اے لوگوں،
04:13میں تمہیں خبردار کرتا ہوں اس آنے والے عذاب سے،
04:16جو بڑا سخت ہے۔
04:17اور عبادت کرو اسے ایک رب کی جو ساری کائنات کا مالک ہے۔
04:21یہ بات سن کر اچانک وہاں کی ہوا بدل گئی۔
04:24ان کے چہروں پر چیختہ سناٹا چھا گیا۔
04:26وہ سب ایک دوسرے کو حیرانی سے دیکھنے لگے۔
04:29یہ کیا کہہ رہے ہیں؟
04:31تانچوب ہے۔
04:32یہ بات تمہیں سکی دیکھیں۔
04:33تو کیا اپنے باپ، دادا کا دین چھوڑ دیں؟
04:36اپنے خداوں کو ناراض کر دیں۔
04:39اور پھر ایک آدمی کھڑا ہوا۔
04:42غصے اور نفرس سے بھرا ہوا۔
04:46وہ چلایا۔
04:48عربی کی اس عبارت کا مطلب تھا کہ۔
04:56کیا ناش ہو تیرا؟
04:58ٹوٹ جائیں تیرے ہاتھ۔
05:00کیا تُو نے ہمیں اسی لیے یہاں جمع کیا ہے؟
05:02یہ آدمی اور کوئی نہیں،
05:04بلکہ رسول اللہ کا چچا ابو لہب تھا۔
05:07اس کی بددعا اسمان سے ٹکرا کر واپس اس پر آ گئی۔
05:11اس کے نصیب کے پنوں میں جہنم کا عذاب ہمیشہ کیلئے لگ دیا گیا۔
05:15لیکن اللہ نے ابھی اپنے نبی کو یہ بات نہیں بتائی۔
05:19اسکولرز کہتے ہیں کہ اگر یہ صورت اس وقت نازل ہو جاتی،
05:23تو مکہ کے لوگ کہتے ہیں اس پر کیسے بھروسہ کریں؟
05:27وہ اپنوں کی برائی کرتا ہے۔
05:29اصل میں اس دور میں مکہ میں چاچا کا درجہ باپ کے برابر ہوتا ہے۔
05:33اسپیشلی جب سگے والد کا انتقال ہو چکا ہو،
05:36وقت گزرتا رہا۔
05:38اللہ کی نبی جگہ جگہ گھوم گھوم کر ایک اللہ کی عبادت کرنے کا میسیج پہنچاتے رہے۔
05:45لیکن ابو لہب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے جاتا۔
05:49اب یہ کون سی نئی شائری لے آیا ہے؟
05:55یہاں تک کہ وہ بادار کے شریر لڑکوں کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے لگا دیتا۔
06:00اور ان سے کہتا کہ ان کو پتھر مارو۔
06:03مارو، مارو، بگو دیرے، آگران، مارو، بگو دیرے، مارو، بگو دیرے، مارو، بگو دیرے۔
06:09لیکن اس کا ظلم یہی نہیں رکا۔
06:11اس کی بیوی یعنی رسول اللہ کی چاچی ام جمیل جو کمال کی خوبصورت عورت تھی،
06:17نئینے طریقوں سے نبی کو پریشان کرتی۔
06:19آپ سب تو مکہ کے بڑے سردار ہیں، پھر احمد کا بوائکوٹ کیوں نہیں کرتے؟
06:23صحیح کہا، بوائکوٹ کرو اس کا۔
06:26ہاں بوائکوٹ کرو اس کا۔
06:27صحیح کہا، ہاں بائکوٹ کرو اس کا۔
06:29اور حد تو جب ہو گئی جب اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو یہ حکم دیا،
06:33کہ وہ اپنی بیویوں کو طلاق دیں۔
06:35کیونکہ ان دونوں کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیاں تھیں۔
06:39ام کلسم اور رقیہ دلالہ تعالیٰ انہا۔
06:43تمہارا چہرہ بھی مجھ پر حرام ہے،
06:46اگر تم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دیا۔
06:49بابا، ہم آج ہی انہیں طلاق دیتے ہیں۔
06:52دن شام میں ڈھل گئے،
06:54لیکن ابو لہب کے ظلم میں کوئی کبھی نہ آئی۔
06:59اور جب اس کے ظلم کی انتہا حد سے پار ہو گئی،
07:10تب اللہ سبحانہ وتعالی نے نبوت کے دسویں سال میں سورِ لہب کو نازل دیا۔
07:16ابو حدی، ہمیں وہ سورہ تو سناو جو نبی پر نازل ہوئی ہے۔
07:21بسم اللہ الرحمن الرحیم
07:23آئیے، اب اس سورت کو سنیماتک انداز سے سمجھتے ہیں، آسان طریقے سے۔
07:46آئیے، اب اس سورت کو سنیماتک انداز سے سمجھتے ہیں، آسان طریقے سے۔
07:50تو پہلی آیت ہے،
07:51پہلی آیت میں اللہ نے کہا کہ ٹوٹ گئے دونوں ہاتھ ابو لہب کے اور برباد ہو گیا وہ۔
08:04اب یہاں پر دو باتیں ہیں جو نوٹ کرنے والی ہیں۔
08:06پہلی بات یہ ہے کہ یہ جو پوری آیت ہے، یہ آیت اصل میں پاس ٹینس میں بات کر رہی ہے۔
08:10یعنی ایسا نہیں کہ ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں گے، اصل میں اس کے ہاتھ ٹوٹ چکے۔
08:16جس لمحے اس نے نبی پاک کی شان میں غستاخی کی، اسی لمحے اس کے ہاتھ ٹوٹ گئے۔
08:20تو یہ کام ہنڈر پرسنٹ ہو چکا ہے، اس کے ہاتھ ٹوٹ چکے ہیں۔
08:25لیکن ابو لہب پھر بھی باز نہ آیا۔
08:27جب یہ سورت نادل ہوئی تو وہ لوگوں سے کہتا۔
08:30وہ کہتا ہے میرے ہاتھ ٹوٹ گئے، کہاں ٹوٹے میرے ہاتھ تھا، صحیح سلامت تو ہے۔
08:36ہم جنگے بدر کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کو دیکھیں گے،
08:41تب ہمیں پتا چلے گا کہ کسی بری طرح وہ مرا اور کس طرح سے آیات بلکل سچی ثابت ہو گئی۔
08:46اب یہاں پہ نوٹ کرنے والی دوسری بات ہے، بہت امپورٹنٹ بات ہے،
08:50کہ ہاتھوں کی ہی کیوں بات ہو رہی ہے؟
08:52یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ ہاتھ ٹوٹ گئے؟
08:55یہ کیوں نہیں کہا جا رہا؟
08:56کہ سر ٹوٹ گیا، پیر ٹوٹ گیا، ہارٹ فیل ہو گیا، کیوں نہیں کہا جا رہا؟
09:01میں کہتا ہوں اس کے لیے نا، آپ یہ سین دیکھئے۔
09:03چلیے اس سین کو ایک بار پھر سے دیکھتے ہیں۔
09:19اس سین میں آپ نے نوٹس کیا ہوگا کہ کیسے ایک سپاہی نے ایک فائٹر نے اپنے ہاتھ میں ایک تلوار لی ہوئی ہے۔
09:24اور دوسرے ہاتھ میں خود کو بچانے کے لیے اس کے بعد شیلڈ ایک ڈھال ہے۔
09:28تو اگر کسی انسان کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں گے تو کیا ہوگا؟
09:32نہ تو وہ وار کر سکے گا اور نہ ہی اپنا بچاؤ کر سکے گا۔
09:35تو پھر اندین اب برباد ہو جاؤ گے، ختم ہو جاؤ گے اور اگلا حملہ پھر آپ ہی کے اوپر ہوگا۔
09:40بلکل اسی طرح ہم ابو لہب کی زندگی میں دیکھتے ہیں۔
09:47اس کا مال، اس کے بیٹے، اس کے کنیکشن، اس کے تعلقات، اس کی پاور سب کے سب برباد ہو گئے۔
09:52کوئی بھی اس کے کام نہیں آیا۔
09:54اور ہم آگے جا کے دیکھتے ہیں کہ جب وہ مرا تو اتنی بری موت مرا کہ کوئی اسے چھونے والا نہیں تھا،
10:00کوئی دفنانے والا نہیں تھا۔
10:02کئی دنوں تک اس کی لاش سڑک پر سڑتی رہی، لوگ پریشان ہوتے رہے۔
10:06یہاں تک کہ اس کے اپنے لڑکوں نے بھی اسے چھونے سے گھر میں رکھنے سے منع کر دیا۔
10:11ارے ابو لہب کے بیٹوں، اپنے باپ کی لاش تو ٹکانے لگاؤ۔
10:16بدبو سے لوگ الٹی کر رہے ہیں۔
10:18اب آتے ہیں آیت نمبر دو پر۔
10:20نہ ہی اس کا کوئی مال اس کے کام آیا، نہ ہی اس کی کوئی اولاد اس کے کام آئی۔
10:29اصل میں یہ آیت جواب ہے اس بات کا جو ابو لہب اکثر لوگوں سے کہا کرتا تھا۔
10:34اگر وہ سچا ہے دے دوں گا مال و دولت اللہ کو اور بچا لوں گا خود کو جہنم سے۔
10:40اب یہاں نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ جو کسب کا لفظ ہے اس کا مطلب ہوتا ہے کمائی کے، ارننگ کے۔
10:46کبھی کبھی لوگوں کے بعد بڑا پیسہ ہوتا ہے باپ دادا نے ان کے کما کے چھوڑا ہوا ہوتا ہے۔
10:50پر یہ کسب کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اپنی کمائی کے جو آپ نے خود کمائی ہے۔
10:54آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ انسان کی سب سے بہتر کمائی اس کی اولاد ہے۔
11:00اور اس جس طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی اولاد اس کے کام نہیں آئی۔
11:04اگلی آیت کی طرف بڑھتے ہیں آیت نمبر تین۔
11:07کہ ابو لہب جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا۔
11:15جو بھڑک رہی ہوگی شولے والی آگ ہوگی۔
11:17اب ہم بڑھتے ہیں چوتھی آیت کی طرف جو ہے۔
11:23اور اس آیت کا مطلب ہے کہ اس کی بیوی اپنے سر پر ایندھن اٹھائی ہوگی۔
11:31ایندھن کیا کہ وہ لکڑیاں ڈھو رہی ہوگی جہنم کے اندر۔
11:35اس کا کام یہ ہوگا کہ جلنا تو ہے ہی ہے۔
11:37اور ساتھ میں آپ کو جانا ہے اس کو جانا ہے۔
11:39اور جا کر یہ لکڑیاں لے کر آئے گی اور اس آگ کے اندر لکڑیاں ڈالے گی۔
11:43تو جب ہم آگ میں لکڑیاں ڈالتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟
11:45آگ اور تیز ہوتی ہے۔
11:46تو اپنی آگ یہ خود بخود جلائے گی۔
11:52لیکن یہ مزید کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ بھی کہہ سکتے تھے
11:55کہ وہ جہنم میں جلے گی، وہ جہنم کا عذاب زندگی پر جھیلتی رہے گی۔
12:00یہ ہی کیوں کہا کہ وہ لکڑیاں لے کر آئے گی۔
12:03دیکھئے یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کیا کرتی تھی۔
12:07آپ فکر نہ کریں، اب جو میں کہتی ہوں وہ کرتے جائیں بس۔
12:13تو وہ اس دنیا میں اپنے ہزبین کی نفرت کو فیول کرتی تھی،
12:17اس آگ کو بڑھانے میں اس کا ساتھ دیتی تھی۔
12:20اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں اس کا عذاب یہ رکھا ہے
12:24کہ جاؤ جا کے لکڑیاں اٹھا کے لے کر آؤ،
12:26ڈھو اپنے سر پر اور اپنی آنکھ کو خود بھڑکاؤ۔
12:33اب یہاں پر ایک اور ضروری بات ہے، بہت امپورٹنٹ بات ہے۔
12:35جب بھی آپ نماز میں سورت کو ریسائٹ کریں تو ایسا نہیں کہ آپ گئے
12:39وَمْرَاتُوْهُ هَمَّا لَتَلْحَتَبْ
12:41نا نا نا نا نا نا نا،
12:42ہممہ ایک پاورفل لفظ ہے، بہت ہی زیادہ اس کے اندر اثر ہے، ویٹ ہے،
12:46تو آپ جب بھی پڑھیں گے آپ کو اس پر زور دینا ہے۔
12:49وَمْرَاتُوْهُ هَمَّا لَتَلْحَتَبْ
12:51آیت نمبر پانچ کی طرف بڑھتے ہیں، جو ہے
12:54فِی جی دِهَا حَبِلُمْ مِمْسَدْ
12:58اور اس کے گلے میں مونج کی رسی ہوگی، یعنی ناریل کی چھال والی رسی ہوگی۔
13:02یہاں پر جی دِهَا کو جو لفظ ہے، اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے خوبصورت گردن کے لئے،
13:07ایسی گردن جو زیور سے لدی ہوئی ہو، کمال کی بات یہ ہے، مہدی کی بات یہ ہے کہ رسی کا ذکر کیوں ہیں اور گردن کا ذکر کیوں ہیں،
13:14تو اس کے پیچھے کی بات یہ ہے کہ ام جمیل ایک خوبصورت سپنے گلے میں ہار پہنا کرتی تھی،
13:20وہ مکہ والوں سے کہتی تھی، اپنے نوکروں سے کہتی تھی، عام لوگوں سے کہتی تھی۔
13:25اور اسی وجہ سے یہاں یہ منشن کیا گیا ہے کہ اس کے گلے میں مونج کی رسی ہوگی،
13:37بل والی رسی ہوگی، تکلیف دینے والی رسی ہوگی، اس گلے میں جس میں وہ ہر وقت ہار پہنے رہتی تھی۔
13:43یہ تھی سورے لہب کی understanding، اب سب سے ضروری بات یہ ہے کہ سمجھنا یہ ہے کہ آج ہماری زندگی میں اس کا کیا ریلیونس ہے۔
13:59جو میں سمجھا ہوں اس حطاب سے بتاتا ہوں کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سورت اس لئے نادل کی گئی ہے
14:04کہ وہ جو اللہ کی نبی کا دشمن ہے وہ اللہ کا دشمن ہے۔
14:08جس سپیٹ سے وہ اللہ کے نبی کی طرف بڑھ رہا تھا ظلم کرنے کے لئے اس سے کہیں گناہ زیادہ سپیٹ سے
14:14اللہ کا عذاب ابو لہب کی طرف آ رہا تھا اور آ چکا تھا اسے خبر نہیں تھی۔
14:23اب آتے ہیں دوسرے ریلیونس کی طرف جو میں سمجھا ہوں جو آج ہم اپنی زندگی میں اپلائے کر سکتے ہیں۔
14:29دیکھئے میاں بیوی ایک دوسرے کا سایہ ہوتے ہیں، دوز دوز بھائی بھائی ایک دوسرے کا سایہ ہوتے ہیں۔
14:34اب کئی بار کیا ہوتا ہے کہ ہمارا دوست کسی کی چگلی کرتا ہے۔
14:39تجھے پتا ہے ایسا ہو گیا۔
14:41اکثر میاں بیوی میں بھی ایسا ہوتا ہے۔
14:45اپنی زندگی کو چھوڑ کے دوسروں کی زندگی میں بڑا جھاگتے ہیں۔
14:48ارے فلانے کی لڑکی بھاگ گئی تمہیں پتا چلا؟
14:51تو اب یہ جو وائف ہے یا جو ہزبینڈ ہے اسے کیا چاہیے؟
14:54وہ سے گائیڈ کریں۔
14:55ارے یار ایسا نہیں کرو۔
14:56لیکن ہم لوگ کیا کرتے ہیں؟
15:04اس کو اور فیول کرتے ہیں۔
15:05تو یاد رکھئے کہ جب آپ برائی کا ساتھ دیتے ہو نا تو جو کام برا کرنے والے کا ہے۔
15:11بھئی انجام اس برائی کو انیشیٹ کرنے والے کا ہے، بڑھاوہ دینے والے کا ہے، آئیڈیا دینے والے کا ہے۔
15:17امید کرتا ہوں کہ بات سمجھ آئی ہوگی، ویڈیو پسند آئی ہوگی۔
15:20اس کے علاوہ آپ سے ایک گدارش ہے، ایک التجاہ ہے، ایک ریکویسٹ ہے کہ اگر ہو سکے تو ہماری اس کمیونیٹی کو جوائن کیجئے۔
15:27اکثر لوگ پوچھتے ہیں، بھائی آپ کی ویڈیو دیکھ کے بڑا اچھا لگا، ایسی ویڈیو اور بنائی ہے، اگلی ویڈیو کب آ رہی ہے؟
15:33میں اکیلا بند ہوں یار، نوکری کرتا ہوں، پھر تھوڑا سا وقت چرا کے یہ یوٹیوب کی ویڈیوز بناتا ہوں۔
15:39اگر آپ کمیونیٹی جوائن کریں گے تو میں اپنی ٹیم کو بڑھا سکتا ہوں، اور لوگوں کو شامل کر سکتا ہوں۔
15:44جس سے ہم جل سے جل اور زیادہ اور بہتر ویڈیوز پروڈیوز کر پائیں گے۔
15:48شاید بہت جلدہ پورے قرآن کو مقمل کریں۔
15:51ابھی میرا مقصد یہ ہے کہ میں قرآن کی آخری دس صورتیں بناوں۔
15:55اس کے بعد پھر ہم اور ٹاپکس کو بھی ایکسپلور کریں گے۔
15:58کئی لوگوں کے لئے مشکل ہوتی تو اس کیو آر کوٹ کو اب سکین کر کے کمیونیٹی کو جوائن کر سکتے ہیں۔
16:03اس کی قیمت شاید آپ کے ایک وقت کی بریانی سے بھی کام ہے۔
16:07شاید آپ کے ایک برگر سے بھی کام ہے۔
16:09شاید آپ کے ایک آئیس کریم سے بھی کام ہے۔
16:11جداکم اللہ خیر، اسلام علیکم۔
Be the first to comment