- 3 months ago
Follow me YouTube
Category
🎥
Short filmTranscript
00:00One day in Medina, a person had fought
00:05and the rest of the brothers and brothers with each other
00:11and with each other, they had to die in the world.
00:16But a person had to stay with you and to stay with you
00:21and to stay with you and to stay with you
00:26As you can see Muslims in Palestine, this man is straight up and behind him.
00:33But you have understood that this man is going to want him.
00:38And he has his face to his face.
00:42He has his face to his face.
00:44He has his face to his face to his face.
00:47And he has seen his face to his face.
00:49And he has seen his face to his face.
00:51All Muslims were shocked.
00:54What did he say?
00:56He asked him to tell him who he is and who he is.
01:01He said he had his face to his face.
01:04He said he was a Jewish man.
01:07But he was not a fool.
01:11But my relationship was the super power of the Persian Empire.
01:24Where my father was a very big brother.
01:27This man became a very big brother.
01:31He became a very big brother.
01:33And his name was Solomon Farsi.
01:37He was a very big brother.
01:42ڈرنسی سلمان فارسی پرزن ایمپائر کے ایک سردار کے گھر میں پیدا ہوئی
01:46اس لیے انہوں نے بچپن سے کوئی کام نہیں کیا تھا
01:50اور ایک شہزادی کی طرح اپنی زندگی گزارتے تھے
01:54جہاں وہ سارا دن اپنے خدا آگ کی عبادت کیا کرتے تھے
01:58کیونکہ اس زمانے میں پرزن ایمپائر کا ریلیجن زوریسٹریان تھا
02:03جس میں لوگ آگ کو پوچھتے ہیں
02:05اس لیے حضرت سلمان فارسی بھی اسی آگ کی عبادت کرتے تھے
02:10جب سلمان فارسی جوان ہوئے
02:13ایک دن ان کے باپ نے انہیں گھر سے باہر کسی کام پر بھیجا
02:17راستے میں انہیں ایک بیلڈنگ نظر آئی
02:19اور اس بیلڈنگ سے کچھ عجیب آوازیں آ رہی تھے
02:21جب وہ اس بیلڈنگ کے اندر گئے
02:26انہوں نے دیکھا کہ کچھ کرسٹنز اپنے خدا کی عبادت کر رہے تھے
02:29حضرت سلمان کو ان کی آواز اور عبادت کرنے کا طریقہ بہت پسند آیا
02:35انہوں نے اپنا سارا دن اسی چرچ میں گزارا
02:37اور یہی پر انہوں نے اپنا ریلڈن چھوڑ کر کرسٹیانٹی قبول کی
02:42اور وہ اتنا امپریس ہوئے
02:45کہ انہوں نے ان کرسٹنز سے کہا
02:46کہ مجھے بتاؤ یہ ریلڈن آیا کہاں سے ہے
02:50ان کرسٹنز نے حضرت سلمان فارسی سے کہا
02:53کہ اگر آپ نے صحیح کرسٹیانٹی سیکھنی ہے
02:56تو آپ کو پرشن ایمپائر چھوڑ کر
02:58رومن ایمپائر کی طرف جانا ہوگا
03:01جیسے ہی سلمان فارسی واپس اپنے گھر گئے
03:09اور یہ سب انہوں نے اپنے باپ کو بتایا
03:11حضرت سلمان فارسی کے باپ کو اتنا خصہ ہے
03:14کہ اس نے انہیں اپنے ہی گھر میں
03:17زنجیروں سے بان دیا
03:19لیکن سلمان فارسی اپنا مائنڈ بنا چکے تھے
03:23انہوں نے کسی طرح ان زنجیروں سے اپنے آپ کو چھوڑایا
03:26اور اپنے گھر سے بھاگ کر
03:27پرشن ایمپائر کو چھوڑ کر
03:30رومن ایمپائر کی طرف چلے گا
03:33اور وہاں پہنچتے ہیں
03:35سب سے بڑے کرسٹین عالم کے
03:37سٹوڈنٹ بنے ہیں
03:39لیکن کچھ ہی عرصے بعد انہیں سمجھا دے
03:41کہ یہ عالم ایک کرپٹ عالم ہے
03:44جو دین کے نام پر
03:47لوگوں سے چندے جمع کرتا ہے
03:49اور ان چندوں سے
03:50اپنے خزانے بھرتا ہے
03:52کچھ ہی عرصے بعد جب یہ عالم مر گیا
03:55اور لوگ جمع ہو کر
03:57انہیں بہت عزت سے دفنا رہے تھے
03:59حضرت سلمان نے
04:01اس عالم کے سارے خزانے
04:02لوگوں کے سامنے کھول دیئے
04:04اور اس عالم کو
04:07سب کے سامنے ایکسپوز کر دیا
04:09یہ دیکھ کر لوگوں نے
04:11اس عالم کو دفنانے کے بجائے
04:13ایک کھمبے پر لٹکا دیا
04:15اور اسے پتھروں سے مارنے لگے
04:17اس کرپٹ عالم کی جگہ
04:21اب ایک نیا سکولر آیا
04:22جس کے بارے میں حضرت سلمان فارسی کہتے ہیں
04:25کہ وہ واقعی میں
04:26ایک بہت ہی نیک سکولر تھا
04:28لیکن جب بہت عرصے بعد
04:30یہ عالم بھی
04:31اپنے ڈیتھ بیڈ پر تھا
04:33حضرت سلمان فارسی ان کے پاس گئے
04:35اور ان سے کہا
04:36مجھے ایک ایسے عالم کے بارے میں بتائے
04:38جو آپ کی طرح ایک نیک آدمی ہے
04:40حضرت سلمان کے ٹیچر نے
04:43انہیں عراق
04:44ایک بہت بڑے عالم کا بتایا
04:46جس کے بعد وہ سیدھا
04:48شام کو چھوڑ کر
04:49عراق کی طرف روانہ ہوئے
04:51اور اس نئے عالم کے ساتھ رہنے لگے
04:53جیسے یہ عالم بھی
04:55مرنے کے قریب ہوئے
04:56حضرت سلمان نے ان سے بھی
04:58سیم قویسٹن پوچھا
04:59اور انہوں نے حضرت سلمان کو
05:00ترکی میں ایک اور عالم کی طرف روانہ کیا
05:03تو اب حضرت سلمان
05:05ترکی میں رہنے لگے
05:06اور جب یہ سکولر بھی
05:07مرنے کے قریب پہنچا
05:08انہوں نے حضرت سلمان کو
05:10ترکی میں ایک اور عالم کی طرف روانہ کیا
05:12And of course,
05:13when this world died,
05:16he would have to ask me to ask me
05:18to ask me to ask me
05:19to ask me to ask me
05:21but this world has said
05:22that no,
05:24I have to ask
05:25my religion in the whole world
05:28there is no big world
05:29because
05:31the Lord's teaching of these teachers
05:32Nestorian Christians were
05:34which were the rest of the Christians
05:37that were completely different
05:38because the world of Christians
05:41isa csalam ko
05:42apna khuda maantay te
05:44lakin ye christians
05:45unhe siraf ek
05:46inshans semaghtay te
05:48ba qui sari christians
05:49maryam alayhi sslam
05:51koh Mother of God
05:54kahtay te
05:54mahtlap khuda ki maa
05:56liekin nestorian christians
05:58mariam alayhi sslam ko
05:59siraf jesus
06:01ek inshans ta maa semaghtay te
06:03juh belkul muslimanun ke believe ke sath
06:06miltay jhuta hai
06:07isi liye us skoller ne
06:09He said that the rest of christians will be for the rest of us.
06:12He will be a new promise to the world.
06:18And I will tell you that the promise to the testament to Abraham's religion will be for the Arab's world.
06:25And they will be as a place of the world.
06:28They will be a place where they will be a place where they will be a place where they will be a place where they will be.
06:35And this is the two volcanic seas that will be in the middle of the two volcanic seas.
06:42They will never have a charity charity.
06:46But if they will give them a gift, they will accept them.
06:50And they will have a unique sign of the Prophet.
06:57And after that, they will have a scholar.
07:00But they will listen to them.
07:02President of the Prophet, he told them to come to their own enemy.
07:05And they can help them in Turkish andussian.
07:07After that, they will leave their enemy in the future.
07:10After aficionated door of Egypt, he said to them.
07:13He told them that if they are enemy to send them,
07:18then they'll also have their hook back in the future.
07:23So that Federalist, the Prophet of the انسان...
07:25After that, the Prophet of the antidote is the enemy enemy.
07:29But as soon as he reached the Arab side of the world,
07:35he had to take a look at the people of Slymán Farsi
07:38and had to take a bazaar in a thief.
07:43Slymán Farsi was a man who had to buy his house
07:47who had to buy his house and had to buy his house
07:50and had to buy his plans.
07:54But when the new city was in the new city, he was surprised to see it.
08:03Because this city was very strange.
08:07And this city was in two volcanic mountains.
08:11And this city was in the middle of the city.
08:14The city was in the middle of the city.
08:17It was at night, the Many of the city shouses one by one of the city were a thousand tribes within the city.
08:37And suddenly, the city of the city
08:41He was the king of the world.
08:45He was the king of the world.
08:47He was the king of the world.
08:49He said to him,
08:50that the people of the world are crazy.
08:53He's a man who is a prophet.
08:55He said to you,
08:56he said to you,
08:58he's the king of the world.
09:01Now,
09:02we'll listen to him.
09:03Salman Farsi,
09:04he said that when I was on the wall,
09:07he said to me,
09:08that I was like,
09:09that I was like,
09:10But he said, I am not afraid to go out of this man's head.
09:15But he said, it was an attack.
09:17He said, once he said, he said, he said, what are you doing?
09:22He said, he said, he said, he said, he said, he said,
09:27he said, he said, he said, he said,
09:31But he said, he said, he said to me,
09:37کہ یہی وہ پیغمبر ہے
09:39جس کا مجھے میرے
09:40ٹیچر نے بتایا تھا
09:42لیکھ
09:43اب بھی کچھ نشانیاں باقی تھی
09:45اسی لیے
09:46اس کے کچھ دنوں بعد
09:47حضرت سلمان چھٹی لے کر
09:49آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے
09:51اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کہا
09:53کہ میں نے سنا ہے
09:54آپ بہت ہی ایک
09:55نیک آدمی ہیں
09:56اور آپ کے ساتھ بہت سارے
09:58غریب لوگ بھی ہیں
09:59تو میں آپ سب کے لیے
10:01یہ چیارٹی
10:02صدقہ لے کر آیا ہوں
10:03یہ دیکھ کر
10:05آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کہا
10:06کہ تم یہ کھا لو
10:08اور خود سلمان فارسی کے صدقے کے کھانے سے
10:11کچھ نہیں کھایا
10:12جس پر سلمان فارسی نے اپنے دل میں کہا
10:14کہ چلو ایک نشانی تو پوری ہو گئی
10:16اب یہاں پر ایک بہت ہی انٹرسنگ کوئسشن ہے
10:19کہ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کیوں نہیں لیتے تھے
10:23کیونکہ کچھ سکولر سمجھتے ہیں
10:25اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
10:26صدقہ ایکسپٹ کر لیتے
10:28تو پھر افکورس
10:30ہر آدمی
10:31اپنا سارا صدقہ
10:33صرف اور صرف
10:34آپ صلی اللہ علیہ وسلم
10:35اور ان کے خاندان کو دیتا
10:37اور باقی صحابہ کو کوئی
10:39کچھ نہ دیتا
10:40اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم
10:42اور ان کا خاندان
10:43کبھی بھی کسی سے چیریٹی نہیں لیتا تھا
10:45تو آپ سلمان فارسی واپس اپنے گھر آئے
10:48اور کچھ دنوں بعد کچھ اور چیزیں جمع کر کے
10:51دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے
10:53اور پھر ان کے سامنے کھانے کی چیزیں رکھی
10:55لیکن اس بار انہوں نے کہا
10:57یہ صدقہ نہیں
10:58بلکہ گفت ہے
10:59تو یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
11:02حضرت سلمان کے گفت کو
11:04باقیوں کو بھی کھلایا
11:05اور خود بھی کھایا
11:07اور سلمان فارسی نے سوچا
11:08کہ دوسری نشانی بھی پوری ہو گیا
11:10اب صرف ایک نشانی رہتی تھی
11:13آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر
11:15نبوت کا نشان
11:17لیکن حضرت سلمان حیران تھے
11:20کہ اب وہ آخر یہ نشان
11:22دیکھیں گے کیسے
11:23اور افکورس پوچھ بھی نہیں سکتے تھے
11:25کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس
11:27حضرت عمر اور باقی صحابہ
11:29ہر ٹائم تلوار لے کر
11:31کھڑے رہتے تھے
11:32آخر حجرت کے کچھ ہرسے بعد
11:35مدینہ میں پہلا صحابی فوت ہو گیا
11:38اور اس صحابی کے جنازے میں
11:39صحابہ کے ساتھ
11:41آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے
11:43اسی لیے اسی دن
11:44حضرت سلمان فارسی
11:46آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا
11:47چھپ چھپ کر پیچھا کرنے لگے
11:49لیکن جیسے ہی وہ
11:50آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قید پہنچے
11:52آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی
11:53اپنی کمر سے
11:54چادر ہٹا دی
11:55اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دیکھا
11:57کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹ پر
12:00وہی نشان تھا
12:01جس کا ان کے ٹیچر نے انہیں بتایا تھا
12:04اور یہ دیکھ کر
12:04حضرت سلمان فارسی رونے لگے
12:06اور اسی قبرستان میں
12:09سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے
12:11and his whole story
12:13you can listen to him
12:14He was a Salman Farsi
12:16who had a very big Christian scholar
12:21and now he finally
12:23Islam accepted the name
12:25But as soon as he accepted the Islam
12:29for a few years
12:31Islam's first war
12:33the war
12:35the war
12:35Now one way when Muslims started to be withered by Bhandari after his death was,
12:44he was in his mind and he was in the back of his mother.
12:50His heart was very happy to be withered by Bhandari's death.
12:54But from his mother, he didn't give his privilege to be withered by Bhandari's death.
12:58He was after his death, when he was withered by Bhandari's death,
13:02It was also for the king of the king of the king.
13:07But after the royal king of the king of the king,
13:10one day the king of the king of the king
13:13had a 자�ptишьs and said,
13:14''Go and have a free freedom to see".
13:20This time the king of the king of the king of the king
13:24was against the king of the king of the king.
13:28He tried to destroy the king of the king.
13:30And when Muslims buy something, the Jews buy double and triple price.
13:37Like when they buy a lot of money, they buy a lot of money.
13:44When they buy a lot of money, they buy a lot of money.
13:50They buy a lot of money.
13:55They buy a lot of money.
13:59And, of course, these are 300 khajur ke dhracht.
14:03When they buy a lot of money, they buy a lot of money.
14:08They buy a lot of money.
14:10The other thing is, they buy a lot of money.
14:13And they buy a lot of money.
14:17And they buy a lot of money.
14:19They buy a lot of money.
14:21Of course.
14:24And in 300,000 so for example, his name was also his own possession of them.
14:32He received his holy name and he received his holy name and he confessed to his holy name and his uncle,
14:37and then he had a blabber to be his servant.
14:43His servant, who was in the Persian Empire, now became the Messians of Medina.
14:50But then at that time, a Muslim would have easily seen a city of Medina's citizenship.
14:56But today in the Arab coast, no Muslim would have thought about nationality.
15:03As the Muslim would have been united, the third big war was the war.
15:08The war was the war.
15:09when the leader of Abou Sufiyan was 10,000 people
15:16in the city of Medina.
15:19When the leader of Medina was reached,
15:22the leader of Abou S.A.V. had asked
15:26how to defend the Medina,
15:29how to defend the Medina.
15:32But the leader of Medina,
15:35the leader of Medina,
15:37which had 10,000 people killed in the city.
15:42After this event, a friend said that they have a idea.
15:48I had a lot of years ago when I was in the Super Power Persian Empire,
15:53and when I was a big fan, I was attacked by them.
15:57We had to protect ourselves in the city of the city.
16:00We had to protect ourselves in the city of the city.
16:03so that he could be a big one
16:06that would cross theals of this ghndak.
16:11This is so many ideas that all of us
16:13all of us will be able to see you.
16:16God has seen you all
16:18and they will be very impressed
16:20which is why all of us
16:23were told that this ghndak is a ghndak.
16:26।
16:56And they don't come to me
16:59But we're our
17:00Our heads of the
17:02It's not
17:03Slamat Farsi
17:05Fresh
17:05Because
17:06We're
17:07Where a
17:07slang
17:08a
17:09And now
17:10You
17:11Only
17:11Family
17:14We'll
17:15He'll
17:16He'll
17:16He'll
17:17He'll
17:17He'll
17:17He'll
17:18He'll
17:18He'll
17:19He'll
17:20He'll
17:21Yeah
17:22He'll
17:23He'll
17:23He'll
17:24He'll
17:25He'll
17:26He'll
17:26If the people of the Persian Empire, you will have to kill them.
17:29You will also have to kill them.
17:32It will be a good thing.
17:34After that,
17:36he has to be a brother of the Prophet,
17:38who made an even brother,
17:39Abu Dardar Azirlanhu.
17:42He created his own brother.
17:45He was a very unique brother.
17:47He was a brother-in-law.
17:48He was a brother-in-law.
17:49He was a brother-in-law.
17:52He was a brother-in-law.
17:53A brother-in-law.
17:55حضرت سلمان سے ان کی شکایت کی
17:58کہ ابو دردہ مجھے اور گھر کو بہت ہی کم ٹائم دیتے ہیں
18:02اور ہر دن روزے اور عبادت میں گزارتے ہیں
18:05اسی بھی آگلے دن جب حضرت ابو دردہ اپنے گھر آئے
18:08اور جب کھانے کا وقت ہوا
18:09حضرت ابو دردہ نے کھانا نہیں کھایا
18:11اور کہا میرا روزہ ہے
18:13لیکن سلمان فارسی رز الانہو نے ان سے کہا
18:15کہ اپنا روزہ توڑو اور کھانا کھاؤ
18:17حضرت سلمان کی بات پر مجبوراً
18:21ابو دردہ نے کھانا کھا لیا
18:22اور اپنا روزہ توڑ دی
18:24جس کے بعد جیسے ہی رات ہوئے
18:26اور جب سب سونے لگے
18:28حضرت ابو دردہ اٹھے اور عبادت کرنے لگے
18:30جس پر حضرت سلمان نے انہیں دوبارہ روکا
18:33کہ بس کرو آپ سو جاؤ
18:35تم پر اللہ کا حق تو ہے
18:37لیکن تمہارے جسم اور تمہاری بیوی کا بھی
18:40تم پر پورا حق ہے
18:41اگلے دن ابو دردہ سیدھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے
18:45اور ان کو یہ ساری کہانی سنائی
18:47کہ کیسے انہیں سلمان فارسی نے
18:49نماز اور روزے سے روکا ہے
18:51لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی
18:53ابو دردہ سے کہا
18:53کہ سلمان نے
18:55بلکل سچ کا ہے
18:56حضرت سلمان کی اسی ذہنت کی وجہ سے
19:00حضرت علی رضی اللہ عنہ
19:01انہیں اپنے دور کا
19:03لقمان حکیم کہتے تھے
19:05اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی
19:07حضرت سلمان کو اپنے
19:09کلوز ایڈوائزرز میں سے بنایا تھا
19:10بلکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
19:12پہلی بار
19:13دنیا کے سارے بادشاہوں کی طرف
19:15لیٹرز بھیج کر
19:17انہیں اسلام کی دعوت دے رہے تھے
19:19اس وقت کے پرشن بادشاہ
19:20خسرو کے طرف لیٹر پر
19:22حضرت سلمان نے ہی لکھا تھا
19:24بلکہ حضرت سلمان فارسی نے
19:26آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں
19:28ہی پہلی بار قرآن
19:30فارسی زبان میں لکھنا شروع کیا تھا
19:32اور اس طرح حضرت سلمان فارسی رضی رانہ
19:36آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دن تک
19:39ان کے سب سے قریبی دوستوں میں سے رہے
19:42بلکہ صرف یہاں تک نہیں
19:44آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفاق کے بعد پہ
19:47حضرت سلمان خلافت کے سب سے بڑے جنرلز میں سے تھے
19:50یہاں تک کہ جب حضرت عمر
19:53مسلمانوں کے خلیفہ بنے
19:55رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث
19:58پوری ہونے کا ٹائم آ چکا تھا
20:00کیونکہ حضرت عمر نے
20:02جب پرشن ایمپائر کے کیپٹل پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا
20:06وہ نے حضرت سلمان فارسی کو بھی
20:08اسی فوج میں جانے کا حکم دیا
20:11تو اب سلمان فارسی رزالیان ہو
20:14جو اس سے بہت سال پہلے
20:15پرشن ایمپائر کو چھوڑ کر
20:17مدینہ کی طرف آئے تھے
20:19اب مدینہ کی فوج کا جنرل بن کر
20:21واپس پرشن ایمپائر کی طرف روانہ بھی
20:24بلکہ کہا جاتا ہے
20:26جب بھی مسلمان پرشن ایمپائر کے
20:28کسی قلعے کو فتح کرنے جاتے تھے
20:31پہلے اس قلعے کے لوگوں سے
20:32حضرت سلمان فارسی
20:34انہی کی زبان میں بات کیا کرتے تھے
20:36اور انہیں کہا کرتے تھے
20:37کہ اگر تم بھی اسلام قبول کرو گے
20:39تو مسلمان تمہیں اتنی عزت دیں گے
20:42جتنی مجھے دیتے ہیں
20:43کیونکہ مسلمانوں کی خلافت میں
20:45ہر مسلمان کی عزت صرف اسلام سے ہوتی ہے
20:48کسی رنگ
20:49کنٹری
20:50یا نسل سے نہیں
20:52لیکن جب انہوں نے سلمان فارسی کی بات نہیں مانی
20:55سلمان فارسی رزالیان ہو نے
20:56مسلمانوں کی پوری فوج کے ساتھ
20:59پرشن ایمپائر کے کیپٹل پر حملہ کیا
21:01اور اسے فتح کر لیا
21:04جس کے بعد حضرت عمر نے
21:10حضرت سلمان کو ہی پوری پرشن ایمپائر کے
21:13کیپٹل کا گورنر بنا دیا
21:15جہاں ان کی تنخواہ پانچ ہزار گولڈ کوئنز تھی
21:20لیکن وہ اپنی اس پوری تنخواہ کو
21:22ہمیشہ غریبوں میں بانٹ دیا کرتے تھے
21:24اور اتنی طاقت ملنے کے بعد بھی
21:26حضرت سلمان کے پاس اپنا گھر بھی نہیں تھا
21:29اب حضرت سلمان کی عمر بھی بہت زیادہ ہو جگی تھی
21:32لیکن پھر بھی وہ انصاف کے لیے
21:34پوری خلافت میں کسی سے نہیں ڈرتے تھے
21:37یہاں تک کہ ایک دن
21:39مدینہ میں
21:40حضرت عمر سارے مسلمانوں کو جمع کر کے
21:43ان کے سامنے خدبے کے لیے کھڑے ہوئے
21:45لیکن جیسے انہوں نے اپنا خدبہ شروع کیا
21:48حضرت سلمان فارسی نے انہیں آواز دی
21:50اور کہا اے عمر ہم تب تک تمہاری بات نہیں سنیں گے
21:54جب تک آپ ہمیں یہ نہ بتائیں
21:56کہ آپ نے جو یہ نیا کرتہ پہنا ہے
21:59اس کے پیسے آپ کے پاس کہاں سے آئے
22:01کیونکہ مالِ غنیمت میں
22:02ہم سب کو ایک ایک کپڑا ملا تھا
22:05جس سے ایک عام آدمی تو اپنے لیے کپڑے بنا سکتا تھا
22:07لیکن حضرت عمر کی ہائٹ
22:09ساڑھے چھے فٹ سے بھی زیادہ تھی
22:11ان کے کرتے کے لیے ایک کپڑا نہیں
22:13بلکہ دو کپڑے لگنے تھے
22:15حضرت سلمان کی یہ بات سن کر
22:17خلیفہ عمر رضیلانہو کو
22:19بلکل خصانیہ ہے
22:20بلکہ انہوں نے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کیا
22:22اور ان کے بیٹے نے وہاں سب سے کہا
22:24کہ میں نے اپنے حصے کا کپڑا
22:25اپنے والد عمر کو گفت کیا تھا
22:28جس سے انہوں نے اپنے لیے کپڑے بنائے
22:30جس پر حضرت سلمان فارسی نے
22:33خلیفہ عمر سے کہا
22:34کہ اب آپ اپنا خدبہ شروع کریں
22:36اور ہم آپ کی ہر بات سنیں گے
22:38اور آخر حضرت عثمان رضیلانہو کی خلافت میں
22:41حضرت سلمان فارسی
22:42اسی پرشن ایمپائر میں
22:44جہاں وہ پیدا ہوئے تھے
22:45بیمار پڑ گئے
22:47اور اپنی زندگی کے آخری دن
22:48انہوں نے اپنی بیوی کو اپنے پاس بلائے
22:51اور کہا میری بیٹ کے
22:52چاروں طرف ایک اچھی سی پرفیوم ڈال دوں
22:55اور جا کر گھر کے سارے دروازے کھول دوں
22:58کیونکہ میرے پاس کچھ بہتی امپورٹنٹ
23:02مہمان آنے والے ہیں
23:03فرشتے
23:08پرشن ایمپائر کو چھوڑ کر چھپ کر بھاگے تھے
23:10اب اسی پرشن ایمپائر کے گورنر بن کر
23:14دنیا سے چلے گئے
23:16سبسکرائب
Be the first to comment