Skip to playerSkip to main content
  • 4 months ago
جموں وکشمیر میڈیکل کونسل کے صدر نے کشمیر میں ڈرگ ڈی ایڈکشن سنٹرز شروع کیے جانے کے حوالہ سے کلیدی نکات پر گفتگو کی۔

Category

🗞
News
Transcript
00:00جمعہ کشمیر میڈیکل کاؤنسل نے حالی میں ایک نوٹیفکیشن جاری کی جس میں نشاور اور سائیکوٹروپک سبسٹنسز کے غلط استعمال کو روکنے کی خاطر پرائیوٹ ڈی ایڈکشن سنٹرز کو ایک حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے
00:13اور یہ حکم نامہ ایسے وقت میں آیا جب جمعہ کشمیر اور خاص کروا دیئے کشمیر میں منشاعت کی وبا خطرناک روح اختیار کر رہا ہے
00:22یہ پرائیوٹ ڈی ایڈکشن سنٹر کون کون سے ہیں اور یہ سبسٹنسز کون کون سے ہیں اس پر بات کرنے کے لیے ہمارے ساتھ اس وقت موجود ہیں
00:30جمعہ کشمیر میڈیکل کاؤنسل کے صدر گوکٹر محمد سلیم خان
00:34ملکم ہے آپ کا ای ٹی او بار میں
00:36پہلے بتائیے کہ کون کون سے پرائیوٹ ڈی ایڈکشن سنٹر ہمارے وادی میں چڑ رہے ہیں اور ریگولیٹ کرنے کی خاطری یہ نوٹیفکیشن جاری کی ہے وہ کیا ہے
00:44دیکھیں جینڈ کے میڈیکل کاؤنسل نے لاسٹ ایئر ایک نوٹیفکیشن جاری کی جس کے تحت جو بھی جینڈ کے میں پریکٹس ڈاکٹر کر رہے ہیں
00:54ان کو جینڈ کے میڈیکل کاؤنسل میں ریجسٹر ہونا ہے
00:56تو جو ایم بی بی ایس ڈگری لے کے آتے ہیں تو ان کو ایک پرمنٹ ریجسٹریشن ملتی ہے
01:00اور اس کے بعد جو ایم ڈی ایم ایس یا باقی ہائر کاؤنسل کرتے ہیں
01:04تو ان کو ایڈیشنل کاؤنسل ریجسٹریشن کرنی ہوتی ہے
01:06سو ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سارے ڈاکٹر ایکسپورٹس ہیں باہر سے آ جاتے ہیں
01:10جو ہے جینڈ کے تو وہاں سے آکے جینڈ کے میں وہ پریکٹس کرتے ہیں
01:15اور جو پیشنٹس جہاں ٹریٹ ہوتے ہیں کبھی ان میں کبھی کمپلیکیشنز ہوتی
01:19ہمارے کافی ڈیفکلٹی ہوتی تھی ان کو ٹری کرنے کی
01:22تو ہم نے یہ آرڈر نکالا ہے نوٹس نکالی
01:25کہ جو بھی باہر سے ڈاکٹرز ہمارے یہاں آتے ہیں
01:27تو لازمیل ان کو جینڈ کے میڈکل کاؤنسل میں بھی ریجسٹریشن کرنی ہے
01:30تاکہ ان پہ بھی نظر رکھیں اور اگر کہیں پہ کئی آنے تھی کلیکٹیوٹی ہو
01:34یا کوئی گریونس ہو تو ہم اس پہ امیجیٹلی ایکٹ کریں
01:37یا دونوں کے لیے ہیں جو پرائیوٹ پریکٹس کرتے ہوگی
01:40یا گورنمنٹ ہسپتاروں میں تائینات ہو
01:42جو کئی ڈاکٹر جینڈ کے میں کسی بھی شعبے میں
01:45کسی بھی لیول پہ وہ گورنمنٹ سیکٹر میں ہو
01:47یا پرائیوٹ سیکٹر میں
01:48تو ان کو یہاں پہ ریجسٹر کرنا لازم ہے
01:50اسی ریسنٹلی ہم نے یہ بھی دیکھا
01:53کہ کچھ ہمارے ہاں اپلیکیشنز آگئی
01:56جو بیرونی ریاست سے
01:58جو خاص طور پر جو سیکیٹریسٹ ہیں
02:00جنہوں نے ایم ڈی کیا ہے
02:02وہ جینڈ کے میں اپنے
02:03ڈی ایڈکشن سینٹرز کو
02:05رن کرنے کی اپلیکیشن
02:08انہوں نے ڈال رکھی ہے
02:08تو جس کے تحت ہم نے یہ ضروری لازمی سمجھا
02:11کہ کس وجہ سے وہ جینڈ کے میں آنا چاہتے ہیں
02:14کیونکہ جو ڈی ایڈکشن سینٹرز
02:15یہاں پہ وہ شروع کرنا چاہتے ہیں
02:17وہاں پہ جو
02:18جو اشخاص
02:20ڈرگ ایڈکشن میں مرتلہ ہیں
02:21تو ان کو وہ دوائیاں دیتے ہیں
02:23اور ان دو دوائیاں ہیں
02:25بوپرنورفو یا نالوکس ہیں
02:27باقی دوائیاں
02:27ان میں ایڈکشن کا احتمال بہت زیادہ ہوتا ہے
02:30کہ وہ ایسے نہ دیا جائے
02:32کہ کل کو کسی بھی شخص کو لگی
02:34اور ان کے ذریعے دو دوسرے لوگوں تک
02:37اس کو ریگلیٹ کرنے کی ضرورت ہے
02:38جو یہ ڈی ایڈکشن سینٹرز پریویٹلی بنایا جاتے ہیں
02:41تو ان کی ریجسٹریشن
02:42صرف ایک ویفائیڈ ریجسٹرڈ
02:45سائکیٹریسٹ جو
02:46میڈیکل کاؤنسل میں ریجسٹر ہو
02:48اسی کو مل سکتی ہے
02:49سو یہ ہم نے لازمان بنا لیا
02:51کہ یہ وہی شخص ریجسٹر کریں گے
02:54جو آلیڈی میڈیکل کاؤنسل میں ریجسٹر ہو رہے ہیں
02:57سو ہمارے پاس ایسی اپلیکیشنز آ رہی ہیں
02:58اسی اصنا میں
03:00جو سی آئیڈی دپارٹمنٹ ہے جی اینڈ کے میں
03:03تو ان کی طرف سے بھی ایک آرڈر آیا ہے
03:05ڈیریکشنز آئی ہیں
03:07کہ جو بھی نیا ڈی ایڈیکشن سینٹر بنانا چاہے
03:09یا جو آلیڈی چل رہے ہیں
03:11ان کی بھی ویریفیکیشن ہونا لازمی ہے
03:13کیا پتہ کہیں وہ کسی اور کام میں مرتلع تو نہیں ہے
03:16جس کے وجہ سے وہ یہ نیا سینٹر بنا رہے ہیں
03:18اور اس کے جارے جو ریکٹ ہے
03:20اس کو اور زیادہ بڑا ہوا نہ ملے
03:23سو یہ بہت لازمی تھا
03:24کہ ہم جو ڈاکٹرز یہاں پہ ریجسٹر کے لیے آئے
03:26ان سے ہم نے کہا کہ آپ کو ایک ایفیڈیوٹ دینا ہے
03:29کیونکہ ایک سائیکیٹریس
03:31صرف ایک ڈی ایڈیکشن سینٹر کا مالک بن سکتا ہے
03:33سو اگر کوئی جی اینڈ کے میں
03:35اس وقت اپلائی کر رہا ہے
03:36اور وہ جی اینڈ کے باہر پہلے
03:38کہیں ریجسٹر ہیں
03:39تو انہیں لکھنا ہے کہ وہ کہیں اور پہ بھی
03:42کئی ڈی ایڈیکشن سینٹر نہیں چلا رہے ہیں
03:45صرف یہاں پہ آنا چاہتے ہیں
03:46اور جب بھی وہ یہاں ہیں
03:47تو جو ہمارے ریگلیٹری آثورٹیز ہیں
03:50چیف میڈیکل آفیسر وز ڈسٹرک ہیں
03:52ان پہ بھی لازم ہے
03:53کہ وہ ریجسٹریشن کرتے وقت
03:56یہ سب چیزیں وہ دیکھی رہے ہیں
03:57تو وہ بھی یہ دیکھیں
03:58کہ کیا یہ ڈاکٹر جی اینڈ کے میڈیکل کاؤنسل میں
04:00آلیڈی ریجسٹرڈ ہے
04:01کیا ایز ایک کالیفائیڈ سائیکیٹریس ریجسٹرڈ ہے
04:05جس کے لئے ان کو ایک ایڈیشنل ریجسٹریشن مل جاتی ہے
04:08جی اینڈ کے میڈیکل کاؤنسل کا جو منڈیٹ ہے
04:10وہ صرف ڈاکٹرز جو کالیفائیڈ ڈاکٹرز ہیں
04:13الوپیتک ڈاکٹرز ہیں
04:14ان کے ریجسٹریشن اور ان کے ایتھکل پریکٹیسز کے متعلقی ہے
04:18اچھا کوئی ایسی اپلیکیشن آئی تھی
04:20جس میں لگا کہ آپ کو یہ نوٹیفیکیشن جاری کرنا ضروری ہے
04:23کہ ان عدویات کا غلط استعمال ہو رہا ہے
04:25واقعتاً کچھ کمپلینٹس ہمارے آئی ہیں
04:28جس کے بنا پر ہم نے یہ نوٹیس جاری کی
04:30کہ کچھ لوگ باہر بیرونی ریاست کشمیر میں آکے
04:35جینڈ کے کے میں آکے
04:36اپنے کچھ ڈاکٹرز کرنا چاہتے ہیں
04:41اور آلڈی ان کے اگینس گالباً کہیں پہ کہا جاتا ہے
04:45کہ آلڈی کیسیز چل رہے ہیں بیرونی ریاست
04:47سو وہ بات نظر رکھتے ہوئے
04:50ہم نے یہ سٹپ لیا تاکہ
04:53جینڈ کے میں نہ آئیں
04:54ہم انہی ڈاکٹرز کو یہاں ریجسٹریشن کرنے کی
04:56اجازت دیں جن کے اگینسٹ کوئی بھی
04:59کیس کہیں پہ نہ ہو
05:01چونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کئی ایسے ذہنی مریض بھی ہیں
05:04جو کہ عدویات تو کھاتے ہیں
05:06لیکن وہ عدویات اگر زیادہ مقدار میں کھایا جائے
05:09تو نشہ بن سکتا ہے
05:10تو کیا جو ہمارے کمیسٹس ہیں
05:12جو عام دکاندار ہے دوا بیجتے ہیں
05:15تو ان کے لئے کوئی لاحی عمل ترتیب دیا گیا ہے
05:17میڈکل کانسل کی جانب سے
05:18تاکہ اس کا میسیوز نہ ہو
05:20جو سائیکٹرزٹ پروائیڈ کرتے ہیں
05:22عدویات ایک ڈرگ اڈکٹرز کے لئے
05:25دیکھیں
05:26جو بھی دوائیوں کی دکانیں
05:28جو فارمسیز سٹارٹ ہوتی ہیں
05:29کمیسٹ شاپ سٹارٹ ہوتی ہیں
05:31اس کو پرمیشن
05:32دسٹرک ہیلتھ سارٹی دیتی ہے
05:33جو سی ایم او ہوتی ہیں
05:35اور جو وہاں پہ جو سٹاف ہوتا ہے
05:37وہ کالیفائیڈ فارمسیز ہوتے ہیں
05:39جن کے پاس لائسنس ہوتی ہے
05:40وہ سٹیٹ کی فارمسی کانسل کی طرف سے
05:42جب تک ان کے پاس وہ لائسنس نہ ہو
05:44وہ دوائی سٹور ڈسپنس نہیں کر سکتے ہیں
05:48سو یہ لازمی نہیں ہے
05:48کہ کالیفائیڈ اور سٹیفائیڈ
05:51لائسنس سٹاف وہاں پہ ہو
05:53جو یہ کرے
05:54اور ہر ایک دوائی جو ہے
05:56وہ ایک شیڈول کے حدات آتی ہے
05:57سو یہ ضروری ہے
05:59کسی کو بکھار ایک سرد درد
06:10اپر اسٹیفائیڈ دے دیتے ہیں
06:11کچھ دوائیاں ہیں
06:14آپ کے ایک معاملی سا مسئلہ ہیں
06:16جو بھی دوائیاں ہیں
06:18خاص طور پر جہاں ہم
06:19سائیکوٹروپک دوائیاں
06:21یا ہیپناٹکس ہیں
06:22یا نورکاٹکس ہیں
06:23سیدیٹیوز ہیں
06:24اس وقتbleاً یہ دوائیاں
06:27نہیں ہی دی جاتی ہیں
06:28असके अलावा भी कुछ दवाइया जो ओपियाइट ग्रूप में आती है
06:30जो पेन्स के लिए चीज़ों के लिए दी जाती है
06:34वहां पर भी बरपूर कोशिश की जा रही है
06:37हमारे जो फार्मेसिस्ट हैं
06:39जो फार्मेसीज हैं
06:40that we can record the prescriptions without prescriptions.
06:44But it is not that you can dispense without prescriptions without prescriptions.
06:50So those who are in the nash in the nash in the nash,
06:53who try to do these things that they can use.
06:57Usually, they can use injectables.
06:59But they can use tablets to use the injectables.
07:03They can use the injectables to use the way to use.
07:07vessels tabae ho jati hain wains tabae ho jati hain
07:10ho kakye waakata aysi bhi ho
07:11ingrain ho gye ho gye ho baas ho bhi kaatnay padi
07:14so is ke liye bhi lazimhan hai
07:15ki joh humare pharmacies hem private sector me
07:17ultimate sector me bhi kiyo
07:19beghar e
07:20prescription from a qualified
07:23register doctor
07:24woh kishi ko bhi dhuayah na dhe
07:26chunke hum dhek rheyen ki wadhi kashmir
07:27mein joh manshiat ki wabahe
07:29woh dhin by dhin phyalti jah rheye
07:31joh khaternakh rukh joh maharin
07:33kehti hai ghi akhtiyar kar saktah
07:34aage jah ke
07:34joh joh private de-ediction center hai
07:37je
07:38wakt ki zharulet hai
07:40dhekhi itna load is wakt pade raha hai
07:42ki joh government ki taraf se established
07:44de-ediction center hai
07:46us ke
07:46alawa bhi
07:48centers establish karne ki zharulet bhi pade sakti hai
07:51but eek joh regulation hai
07:53unko bharapour
07:54uske mutayin
07:55works kama karna hai
07:56kiunki unpeh sahii nazer hai
07:59na صرف
07:59unke issueing authority hai
08:01regulatory authority hai
08:02belkhi government ke joh
08:03wabastah se wabastah joh
08:04woh sarei idaray hai
08:06regulatory hai
08:06belkhi nazer rukhoi hai
08:07کہ
08:08kahi woh koji gilat kama na karen
08:09aur unki license tab woh cancel bhi ki jah sakti
08:12aur
08:12jis doctor ke nama pe woh clinic
08:14شروع kia gaya ho
08:15ya chalaya gaya ho
08:16unki license ko bhi
08:18suspend kiya jah sakti
08:19bhodo shukriya
08:20یہ the
08:20جمہور کشمیر medical council
08:22case صدر
08:22dr. mohammed salim khan
08:24ویڈیو جنلسٹ
08:25سجاد امین
08:25پرویز الدین
08:26ی ٹی وی بھارت
08:27سرینگر
Be the first to comment
Add your comment

Recommended