Skip to playerSkip to main content
Dars e Quran - Rabi ul Awwal Special

Speaker: Allama Zaigham Ali Gardezi

Watch All Episodes here ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicvC4nrCXyXnWSIt6IWRNwt

#darsequran #rabiulawwalspecial #aryqtv #shujauddinsheikh

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Surah Al-Fatihah
00:30Surah Al-Fatihah
01:00Surah Al-Fatihah
01:30Surah Al-Fatihah
02:00Surah Al-Fatihah
02:02Surah Al-Fatihah
02:30Surah Al-Fatihah
02:32Surah Al-Fatihah
02:34Surah Al-Fatihah
02:36Surah Al-Fatihah
02:38Surah Al-Fatihah
02:40Surah Al-Fatihah
02:42Surah Al-Fatihah
02:44Surah Al-Fatihah
02:46Surah Al-Fatihah
02:48Surah Al-Fatihah
02:50Surah Al-Fatihah
02:52Surah Al-Fatihah
02:54and they have a good idea.
02:57And they have a good idea.
02:59If you have a good idea for Allah,
03:01Allah is not alone.
03:03If they are good to give up,
03:05then they have a good idea.
03:07God is enough.
03:09He is a good idea.
03:11He is a good idea.
03:13He is a good idea.
03:15He is a good idea.
03:17Surah Taubeah,
03:19Ayat 128-129
03:20and 129
03:21This verse that we have
03:41was his self-monitor.
03:43تذکرہ فرمایا جا رہا ہے
03:44یعنی اگر
03:46ماہ ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
03:48میں ہم دیکھیں حضور کا ملاد کیا جاتا ہے
03:50آپ صلی اللہ علیہ وسلم
03:52کی ولادت کے تذکرہ کیا جاتا ہے
03:54اسی کو محفل ملاد کہا جاتا ہے
03:56کہ جس میں حضور کی ولادت کا تذکرہ ہو
03:58حضور کے عصاف و خسائل کو
04:00بیان کیا جائے
04:01تو اللہ رب العالمین خود حضور کی تشریف آوری کو
04:04بیان فرما رہا ہے
04:05کہ بے شک تمہارے پاس
04:10وہ رسول تشریف لائے جو تم ہی میں سے ہیں
04:12یعنی تم میں سے رہنے والے ہیں
04:15تمہارے خاندان سے ہیں
04:16تمہاری زبان سے ہیں
04:17تمہارے علاقے سے ہیں
04:18اور وہ عظیم و شان رسول
04:21اللہ رب العالمین کی طرف سے تمہارے پاس تشریف لائے
04:24یہی محفل ملاد میں کیا جاتا ہے
04:26کہ حضور کی ولادت کو بیان کر کے
04:28اور پھر حضور کے عصاف و خسائل
04:30کو بیان کیا جاتا ہے
04:31اس آیتِ کریمہ میں اللہ رب العالمین
04:33سب سے پہلے حضور کی ولادت
04:35حضور کی تشریف آوری
04:40Then he said,
05:10and we yout
05:12we
05:15should
05:17to
05:18we
05:37to
05:37we
05:37we
05:39ڈالا ہے کہ تمہارے نبی تم سے اتنی محبت
05:41فرماتے ہیں حضور تم سے
05:43اتنی شفقتیں فرماتے ہیں
05:44کہ پوری زندگی اللہ رب العالمین کی
05:47بارگاہ میں وہ اس قیفیت میں گزار رہے ہیں
05:49تو اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ
05:51نے حضور کی آمد کو بھی
05:53بیان فرمائے آپ صلی اللہ
05:55تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے ساتھ
05:57ساتھ حضور کے اصاف و خسائل
05:59کو اور امت کے لیے
06:01جو حضور کی شفقتیں اور محبتیں ہیں
06:02اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان فرمائے
06:04سب سے پہلے فرمائے
06:06یعنی وہ لباس بشریت میں
06:10تمہارے پاس تشریف لائے
06:11کفار نے کہا تھا نا کہ ہمارے پاس
06:14کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا نبی بنا کر
06:16یا کسی اور مخلوق سے
06:18کوئی کیوں نہیں آیا
06:19تو یہ بالکل عقل سے آری ان کا مطالبہ تھا
06:22کیونکہ انسان
06:23اپنے جو
06:26ہم جنس افراد ہیں ان سے معنوس ہوتا ہے
06:28انسیت ہوتی ہے
06:29ان کے ساتھ ایک رقبت ہوتی ہے
06:31ایک بے تکلف ہوتی ہے
06:33اور ان کے ساتھ تعلق واسطہ ہوتا ہے
06:35انہی میں رہنا سہنا ہوتا ہے
06:37انہی سے ملنا جلنا ہے
06:39تو اس لیے وہ ان کے ساتھ
06:40ایک بے تکلفی والا معاملہ ہے
06:41اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
06:44اعلان نبوت سے چالیس سال کا قبل کا زمانہ
06:46وہ کفار مکہ کے سامنے تھا
06:48کہ جس میں حضور کا بچپن ہے
06:50حضور کا لڑکپن ہے
06:52حضور کی مبارک جوانی ہے
06:53اور یہ وہ عمر کے حصے ہیں
06:56کہ اس میں انسان سے
06:57اکثر اوقات ایسے عامال سرزد ہو جائے
07:01جو نامناسب ہوتے ہیں
07:02تو فرمائیں کہ یہ چالیس سال کی زندگی
07:04تمہارے سامنے ایک بہتری نمونے کے طور پر موجود ہے
07:07دلیل کے طور پر موجود ہے
07:09کہ
07:09یہ تمہیں میں سے رہنے والے ہیں
07:13اگر کوئی فرشتہ آتا
07:15یا کسی
07:17جن کو نبی بنا کر مبوش کیا جاتا
07:19تو ظاہر ہے ان سے انسیت نہ ہوتی
07:21اور ان سے وہ ایک تکلف
07:23کا معاملہ رہتا
07:25ہجاب کا معاملہ رہتا
07:27ایک ہزیٹیشن اس سے رہتی
07:28اس کے قریب نہ آتے
07:29تو فرمائیں کہ
07:30تمہارے درمیان سے نبی بنا کر بیجے گئے
07:33تاکہ یہ سارے تکلفات ختم ہو جائیں
07:35اور یہ ساری
07:37جو ایک
07:37ہچکچاہت والا معاملہ ہے
07:39یہ ساری چیزیں ختم ہو جائیں
07:41اور پھر ان کا زندگی کا
07:43ایک ایک لمحہ وہ تمہارے سامنے
07:45روز روشن کی طرح آیا ہے
07:46انہوں نے بچپن کیسا گزارا
07:49جوانی کیسے گزاری
07:50اس جہالت زیادہ معاشرے میں
07:52ان کی کیفیت کیا تھی
07:53کس قدر پاکیزہ اخلاق و
07:56آدات و اتوار کے وہ مالک تھے
07:58وہ ساری چیزیں تمہارے سامنے موجود ہیں
08:00یعنی کسی کو پرخنے کے لیے
08:02چند دن کافی ہوتے ہیں
08:04کسی کو جاننے کے لیے
08:05کسی کی حیثیت کو سمجھنے کے لیے
08:07کسی کا کردار جاننے کے لیے
08:09چند دن اس کے ساتھ گزار دیں
08:11ہمیں پتہ چل جاتا ہے
08:12کہ وہ کس طبیعت کا مالک ہے
08:13اس کی کیا کیا آدات و اتوار ہیں
08:16کیا اس کا اخلاق ہے
08:17تو یہ نبی آخر الزمان
08:19تو چالیس سال تمہارے درمیان رہے
08:21ان کی زندگی تمہارے سامنے
08:24ایک مکمل
08:25کھلی کتاب کی ماند ہے
08:27کہ وہ پوری زندگی
08:28آپ صلی اللہ علیہ وسلم
08:30نے اسی معاشرے میں گزاری ہے
08:31اور پھر یہ جو مخالفین سامنے کھڑے ہیں
08:33ان کے پاس مخالفت کی کوئی وجہ نہیں ہے
08:36کیونکہ
08:38اس پاکیزہ کردار میں کوئی ایسی خرابی پائی نہیں جاتی
08:41آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آدات و اتوار میں
08:44آپ کے اخلاق و کردار میں
08:46آپ کے حسب و نصب میں
08:48اور آپ سے جڑے ہوئے زندگی کے تمام پہلوں میں
08:52اللہ رب العالمین نے
08:54کمال درجے کی خوبی آتا فرمائی ہیں
08:56تو اس لیے ان کے پاس مخالفت کا کوئی
08:59بہانہ نہیں ہے
08:59کوئی عذر نہیں ہے
09:00سوائے اس کے کہ
09:02یہ ان کو نبوت کیوں ملی ہمیں کیوں نہیں ملے
09:04ان کو نبی کیوں بنایا گیا ہے
09:07ہم تو سردات ہمیں بنا دیا جاتا ہے
09:09تو سوائے اس کے کہ وہ
09:10اپنی ایک زد ہے ہٹ درمی ہے
09:12میں ہے اس کے علاوہ ان کے پاس
09:14کوئی بہانہ نہیں ہے کوئی عذر نہیں ہے
09:16تو فرمایا
09:18کہ
09:18کہ یہ رسول
09:22تمہارے درمیان ہی سے تشریف لائے ہیں
09:24تم نے ان کو دیکھا ہے
09:26تم ان کو جانتے ہو
09:28ان کی صداقت ان کی امانت
09:30ان کی سچائی ان کی زندگی
09:32کے بہترین جو گوشیں ہیں تم خود اس کی
09:34گوائی دینے والے ہو
09:35کہ یہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے
09:37کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیتے
09:39کبھی کسی پر ظلم و ستم نہیں کرتے
09:41کبھی کسی کا حق نہیں مارتے
09:44بلکہ اس جہالت زیادہ
09:46معاشرے میں کہ جب کسی کا حق مار کر
09:47فخر کیا جاتا ہے
09:49اور اپنے لئے عزاز و شرف سمجھا جاتا ہے
09:52کہ ہم نے یہ کام کیا ہے
09:53تو اس جہالت زیادہ معاشرے میں یہ نبی
09:55ان غرباء
09:58فقراء
09:58مساکین
09:59مظلوم
10:01جو کمزور طبقہ ہے
10:02آپ صلی اللہ علیہ وسلم
10:03ان کے دستوں بازو بننے والے
10:05تو اس لئے فرمائیں
10:06کہ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُمْ مِنْ أَنفُسِكُمْ
10:09یہ نبی تمہارے درمیان ہی سے تشریف لائے ہیں
10:12اور اس آیت کریمہ میں
10:14یہ جو مِنْ أَنفُسِكُمْ فرمائے گئے
10:16اس کی ایک اور قرآت ہے
10:18کہ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُمْ مِنْ أَنفَسِكُمْ
10:22کہ تحقیق تمہارے درمیان
10:24ایسے رسول تشریف لائے
10:26جو تم میں
10:26سب سے زیادہ نفیس ترین شخصیت ہے
10:29پوری کائنات کی سب سے بہترین شخصیت ہے
10:33ہر لحاظ سے بہترین
10:34چاہے وہ
10:36آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر تاپا
10:38وہ امام اہل سنت نے فرمایا تھا نا
10:41کہ اللہ کی سر تاپا قدم
10:43شان ہے یہ
10:44انسان ہے ہی انسان وہ انسان ہے یہ
10:47اور قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
10:49ایمان یہ کہتا ہے میری جان ہے یہ
10:52یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر تاپا
10:55اللہ رب العالمین کی طرف سے موجب بن کر ہے
10:57نفیس ترین شخصیت
10:59یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا
11:02معاملہ کیا ہے
11:04کہ حضور
11:05اپنے موہائے مبارک کو کبھی کبھی کنگی فرماتے تھے
11:09لیکن جب بھی کبھی دیکھا جاتا
11:11تو یوں محسوس ہوتا جیسے حضور ابھی کنگی فرما کر تشریف لائے
11:14یعنی اللہ کی طرف سے آپ کے
11:17آپ کی زیبائش و عراج کا اتمام کیا جاتا ہے
11:19آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو استعمال فرماتے تھے
11:22حضور خوشبو کو پسند فرماتے تھے
11:25لیکن حضور کی خوشبو یہ اس خوشبو کی موتاج نہیں ہے
11:28یہ مشکو امبر کی موتاج نہیں ہے
11:32حضرت امی سلیم جو حضرت انس کی والدہ ہے
11:34آپ فرماتی ہیں کہ
11:36حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے تھے
11:40تو حضور ایک چملے کے بستر مبارک پر آپ آرام فرماتے ہیں
11:44اس پر کبھی پسینہ لگ جاتا
11:45حضور کا مبارک پسینہ فرمائے کہ میں اس کو جمع کر لیتی
11:49بڑی احتیاط کے ساتھ
11:50اس کو جمع کر کے
11:51شیشی میں بند کر کے اپنے پاس محفوظ رکھتی
11:54اور کسی تقریب میں جانا ہو
11:57بچے کہیں جانا
11:58ان کو پڑے
11:59فرمائے کہ اسی شیشی میں سے کچھ نکال کے بچوں کو لگا دیا جاتا تھا
12:02پورے مدینہ کی خواتین
12:05جو عالی گرانوں کی خواتین ہیں
12:08مہنگی اتنے استعمال کرتی ہیں
12:10لیکن فرماتی ہیں کہ
12:11خدا کی قسم وہ ہر بار مجھ سے یہ سوال کرتی
12:14کہ ہماری اتر کی خوشبو
12:16تمہاری اتر کے مقابلے میں
12:18وہ ماند پڑ جاتی ہے
12:19کم پڑ جاتی ہے
12:21وجہ کیا ہے تم کونسی اتر استعمال کرتی ہو
12:23آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پسینے کی یہ خوشبو ہے
12:28کہ پورے مکہ میں
12:29پورے مدینہ میں اس جیسی کوئی خوشبو نہیں ہے
12:31بلکہ حضور کسی
12:33راستے سے تشریف لے جاتے
12:35تو راستہ خود بتاتا کہ
12:37حضور یہاں سے تشریف لے گیا
12:38یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے پہچان لیا جاتا
12:42کہ حضور یہاں سے تشریف لے گیا
12:44تو
12:45پوری کائنات میں
12:48سب سے نفیس ترین شخصیت ہے
12:49پوری کائنات میں آپ جیسا
12:51نہ اخلاق و کردار کے لحاظ سے
12:53نہ حسن و جمال کے لحاظ سے
12:55نہ صیرت کے لحاظ سے
12:56نہ حسب و نسب کے لحاظ سے
12:59نہ زمانے کے لحاظ سے
13:01کسی بھی طور پر
13:02اللہ تعالیٰ نے آپ کی مثل کسی کو بنایا ہی نہیں
13:05تو نفیس ترین شخصیت
13:07اور بلکہ ایک مرتبہ
13:10جبریل امین حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے
13:12آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں
13:15عرض کرنے لگے
13:15یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
13:17میں نے مشرق و مغرب دیکھا
13:20شمال و جنوب دیکھا
13:21یا رسول اللہ
13:22نہ آپ جیسی کوئی شخصیت میں نے دیکھی
13:25اور نہ آپ جیسا عظیم خاندان میں نے کسی کا دیکھا ہے
13:28یعنی آپ جیسی عظمتوں علیہ
13:31ہستی بھی اللہ رب العالمین نے کسی کو
13:33اتنی عظمتیں نہیں عطا فرمائی
13:34اور نہ آپ کے خاندان جیسی
13:37اللہ تعالیٰ نے عزتیں کسی کو عطا فرمائی
13:38وہ کسی نے کہا تھا نا کہ
13:41آفا کہا گر دیدہ ام
13:43مہرے بطا ورزیدہ ام
13:45بسیار خوبہ دیدہ ام
13:47لیکن تو چیزیں دی گری
13:49یا صلی اللہ آپ کو اللہ رب العالمین
13:51نے پوری کائنات سے
13:53ماورہ بنایا ہے
13:54اور پوری کائنات میں آپ جیسا
13:56کسی اور کو نہیں پیدا فرمائے
13:58تو فرمائے کہ
13:59کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
14:02پوری کائنات میں سب سے نفیس ترین شخصیت ہے
14:05پوری کائنات میں سب سے بہترین شخصیت
14:08افضل ترین شخصیت ہے
14:10اللہ رب العالمین نے
14:12نہ آپ سے پہلے کسی کو بنایا ایسا
14:14اور نہ آپ کے بعد
14:15اللہ رب العالمین ایسا
14:17خشن و جمال ایسا اخلاق و کردار
14:19ایسی آدات و اتوار و ایسی خوبیاں
14:22اللہ تعالیٰ کسی کو عطا فرمائے گا
14:23اور یہ تو حضرت حسان بن ثابت کا مشہور شعر ہے نا
14:25اور آخری لائن کیا ہے
14:34یاس اللہ گویا آپ جیسا چاہتے تھے
14:40اللہ تعالیٰ نے ویسا آپ کو پیدا فرمائے
14:41یعنی ایک انسان کی خواہش ہوتی ہے نا
14:44کہ میرے لبا رخصار ایسے ہوں
14:45میرے چہرے کے نقوش ایسے ہوں
14:48فلان کو اللہ نے یہ خوبصورتی عطا فرمائے
14:51یا کاش اللہ تعالیٰ مجھے بھی یہ خوبصورتی عطا فرما دے
14:54تو حضرت حسان بن ثابت
14:56عدی اللہ تعالیٰ نے عرض کرتے ہیں
14:57کہ آرشاللہ
14:57اللہ نے
15:01آپ کو ایسے پیدا فرمایا
15:03گویا آپ کی مرضی کے مطابق اللہ نے آپ کو پیدا فرمایا
15:06تو فرمایا
15:07کہ من انفسکم
15:09پوری کائنات میں سب سے نفیز ترین شخصیت
15:12سب سے بہترین شخصیت
15:14سب سے امدہ ترین شخصیت
15:15اللہ رب العالمین نے آپ کو پیدا فرمایا
15:18پھر اس کے بعد فرمائے
15:19کہ عزیز انہیں
15:20کہ تمہاری
15:24مشکت میں پڑھنا
15:25تمہارا کسی تکلیف میں پڑھنا
15:27اور تم پر اگر
15:30کوئی پریشانی آتی ہے
15:31تو جس طرح تم اس سے پریشان
15:34ہوتے ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
15:36تمہاری مشکتوں پر پریشان
15:38ہوتے ہیں ان کا
15:39ان پر یہ چیزیں گناہ گزرتی ہیں
15:41کہ میری امت کے لئے کوئی پریشانی کا مواملہ
15:43یعنی گدشتہ اقوام کا اگر ہم جائزہ لیں
15:46اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
15:49کا امت کے لئے
15:50احسان
15:51پیار اور شفقت کا مواملہ دیکھیں
15:53تو ہمیں
15:54ہر پہلو سے نظر آتا ہے
15:56ہر قدم قدم پر نظر آتا ہے
15:58کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
15:59امت کے لئے کتنے شفیق ہیں
16:01کتنے محربان ہیں
16:02ہم
16:03گدشتہ اقوام کی عبادات کا مواملہ دیکھیں
16:06ابتدائی طور پر
16:07مسلمانوں کے لئے بھی
16:09روزوں کی کیفیت میں تھوڑی مشکل رہی
16:11گدشتہ اقوام کے لئے
16:13مشکل کا مواملہ یہ ہے
16:14کہ وہ روزہ رکھ کر
16:15جب روزہ کھولتے ہیں
16:16آنکھ کھلی ہے
16:18روزہ آپ کا کھلا ہے
16:19آپ کھاتے رہے
16:20آپ کے لئے روک رکاوٹ نہیں ہے
16:22جیسے ہی آپ کی آنکھ بند ہو گئی
16:24اب اگلے دن کا آپ کا روزہ شروع ہو گئی
16:26یعنی چاہے وہ آدھے گھنٹے بعد
16:28آپ کی آنکھ لگی
16:29یا پوری رات آپ جاگتے رہے
16:31پھر جاگے سوئے
16:32جب بھی آپ کی آنکھ لگی گی
16:34آپ کی اگلے دن کا روزہ
16:35آپ کا شروع ہو جائے گا
16:37آپ صلی اللہ علیہ وسلم
16:39اللہ کی بارگاہ میں ارز کرتے ہیں
16:40امت سے اس تکلیف کو
16:42رفع کرنے کے لئے دعا مانگی
16:44اللہ تعالیٰ نے حضور کے صدقے سے
16:47ہمارے لئے آسانی یہ معاملہ فرمایا
16:49کہ روزہ کا دورانیہ انتہائی
16:52مختصر فرما کر
16:53فرمایا کہ پوری رات کھانے پینے کی
16:55تمہیں اجازت ہے
16:56صرف طلوع صبح و صادق سے لے کے
16:59غروب آفتاب تک روزہ رکھو
17:00حضور کے صدقے سے
17:02اللہ رب العالمین نے
17:03ہمارے لئے آسانی فرمائے
17:04پھر اسی طرح ہم دیکھیں
17:06پچاس نمازیں تھی
17:07حضور کے بار بار
17:10اللہ کی بارگاہ میں
17:11ارز کرنے کی وجہ سے
17:13امت کی آسانی کے لئے
17:14درخواست کرنے کی وجہ سے
17:15پانچ نمازوں کا
17:17اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا
17:19فرض فرمائی گئی
17:20لیکن امت کیلئے شفیق کتنے ہیں
17:22امت کیلئے مہربان کتنے ہیں
17:25کہ اگر
17:26پانچ نمازیں بھی
17:27پابندی کے ساتھ پڑھیں گے
17:28اللہ رب العالمین
17:29پچاس کے برابر
17:30سواب اتا فرمائے گا
17:31عزیزن علیہما نتم
17:34کہ جن پر
17:35تمہارا مشکت میں پڑھنا
17:37گناہ گزرتا ہے
17:38حریسن علیکم بالمؤمنین
17:40تمہاری بھلائی کے انتہائی چانے والے
17:42آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:45نے
17:45کئی معاملات میں
17:47ہم دیکھیں
17:47حضور نے مسواق سے متعلق فرمائے
17:50کہ اگر میں
17:51امت پر مشکت کا
17:53مجھے خوف نہ ہوتا
17:54یعنی مجھے یہ خوف نہ ہوتا
17:56کہ میری امت پریشانی میں
17:57مبتلا ہو جائے گی
17:58تو میں ہر نماز کے ساتھ
18:00مسواق کو لازم فرما دیتا
18:02اس میں ہمارے لئے
18:03یہ ایک عقیدہ کا سبق بھی ہے
18:05کہ
18:06اللہ تعالیٰ نے
18:07شریعت کے تمام احکام
18:09پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:11کو اختیار عطا فرمائے
18:12مختار بنایا ہے
18:14آپ جو چاہیں
18:15امت کے لئے حلال فرما دیں
18:17جو چاہیں فرض فرما دیں
18:19جو چاہیں واجب فرما دیں
18:21جس چیز کے لئے آپ فرمائیں
18:23اس میں آسانی فرما دیں
18:24گنجائش عطا فرما دیں
18:25یہ اللہ تعالیٰ نے
18:27آپ کو اختیارات عطا فرمائے
18:28اسی لئے فرمائیں
18:29کہ اگر میں چاہتا
18:30تو امت پر ہر نماز کے ساتھ
18:33مسواق کو لازم فرما دیتا
18:35لیکن فرمائیں
18:36کہ مجھے امت کے لئے
18:37مشکت کا خوف ہے
18:39کہ میری امت پریشانی میں
18:40مبتلا ہو جائے گی
18:41پھر اسی طرح فرمایا
18:42کہ اگر میں چاہتا
18:43تو عشاء کو
18:44تہائی رات تک لازم فرما دیتا
18:46کہ اتنے ٹائم کے بعد عشاء پڑھو
18:48لیکن فرمایا
18:49کہ مجھے امت پر مشکت کا خوف ہے
18:51امت پریشانی میں مبتلا ہو جائے گی
18:53کہ جن پر
18:57تمہارا مشکت میں پڑھنا
18:59انتہائی گرہ گزرتا ہے
19:00تمہاری بھلائی کے انتہائی چانے والے ہیں
19:03تمہاری بھلائی کے چانے والے ہیں
19:05آپ صلی اللہ علیہ وسلم
19:07کئی مرتبہ حضور کا
19:08عمل مبارک ہمیں ملتا ہے
19:09حضور نماز ادا فرمانے
19:11صحابہ اکرام کو
19:11اچانک بچوں کے رونے کی آوازیں آتی
19:14آپ صلی اللہ علیہ وسلم
19:15نماز مختصر فرما دیتے
19:17اور فرمایا کہ
19:19مجھے بچوں کا خوف ہے
19:21بڑوں کا خوف ہے
19:22ان کا خیال ہے
19:23یعنی ان کے خیال کی وجہ سے
19:26آپ عبادات کو مختصر فرما دیتے
19:27بچوں کا حضور اتنا خیال فرماتے
19:30کہ یہ جو نماز پڑھنے کے لیے آئے ہیں
19:31ان کے بچے پیچھے رو رہے ہیں
19:33ان کے نماز کی وجہ سے
19:35بچوں کی جو دیکھ وال ہے
19:37وہ متاثر ہو رہی ہے
19:38اس لیے فرمائیں
19:39کہ نماز اللہ کی عبادتیں
19:40مختصر کر کے پڑھایا جائے
19:41تاکہ کسی کے لیے پریشانی کا معاملہ نہ ہو
19:43پھر اسی طرح ہر سال حج سے متعلق
19:46ایک صحابی رسول عرض کرنے لگے
19:48کہ رسول اللہ کیا ہر سال آج فرض ہے
19:49حضور نے خموشی اختیار فرمائے
19:52تین مرتبہ وہ صحابی حضور کی بارگاہ میں
19:54عرض کرتے ہیں
19:54آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر
19:56تیسری مرتبہ فرمایا
19:57کہ میں اگر کہتا کہ
19:58ہر سال فرض ہے
20:00تو ہر سال فرض کر دیا جاتا
20:01یعنی یہ بھی اختیارات ہے
20:03مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
20:04کہ حضور کو
20:06اللہ نے
20:07مختارے کل بنایا ہے
20:09اختیارات عطا فرمائے ہیں
20:11کہ آپ چاہیں تو
20:13ایک سال فرض فرما دیں
20:14پوری زندگی میں
20:15آپ چاہیں تو
20:16ہر سال فرض فرما دیں
20:18اے حبیب
20:19ہم نے ہر طرح کا
20:20آپ کو اختیار عطا فرما دیا ہے
20:21آپ جو چاہیں فرما دیں
20:23آپ کو شریعت میں
20:24اختیار عطا فرمائے
20:25وہ
20:26حضور تاج الشریعہ
20:28علیہ رحمہ نے فرمایا تھا نا
20:29کہ
20:29جہاں بانی عطا کر دیں
20:31بری جنت ہوا کر دیں
20:33نبی مختارے کل ہیں
20:35جس کو جو چاہیں عطا کر دیں
20:36تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
20:38کو کائنات کے ہر معاملے میں
20:40چاہے وہ دین ہو
20:42یا دنیا ہو
20:42اللہ تعالیٰ نے مختارے کل بنایا
20:44اب
20:45فرمایا کہ
20:46حریصن علیکم بالمؤمنین
20:48کہ مؤمنین کے لیے
20:50انتہائی چاہنے والے ہیں
20:51انتہائی بھلا ہی چاہنے والے
20:52یعنی حضور کا
20:54پوری زندگی کا
20:54عمل مبارک اگر ہم دیکھیں
20:56آپ صلی اللہ علیہ وسلم
20:58راتیں جاگ جاگ کر
20:59امت کی بخشش کے لیے
21:01اللہ کی بارگا میں گریہ فرماتے ہیں
21:03امت کی بخشش کے لیے
21:05استغفار فرماتے ہیں
21:06امت کی بخشش کے لیے
21:08اپنے آرام و سکون کو
21:09چھوڑ دیا جاتا ہے
21:10اللہ کی بارگاہ میں
21:11صرف ایک دعا ہے
21:12کہ رب بھی حبل امتی
21:13بلکہ ایک مرتبہ
21:15آپ صلی اللہ علیہ وسلم
21:17نے چند آیات بینہ
21:18تلاوت فرمائے
21:18رب بھی انہن
21:19اضللن کثیرم من الناس
21:21اور پھر
21:22ان تغفل لہم فائنہم عبادک
21:24یہ ساری آیات
21:26حضور نے تلاوت فرمائی
21:27اب ان آیات کو
21:33تلاوت فرمانے کے بعد
21:34آپ صلی اللہ علیہ وسلم
21:36امت کے
21:37جو ایک بخشش ہے
21:39اس کے غم میں
21:40حضور نے گریہ فرمایا
21:40جبریل حضور کی بارگاہ میں
21:42حاضر ہوئے
21:43عرض کرنے لگے
21:44یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
21:45اللہ رب العالمین
21:47فرماتے ہیں
21:47کہ آپ
21:48گریہ
21:49کا سبب کیا ہے
21:50باوجود اس کے
21:51کہ اللہ رب العالمین
21:52عالم الغیب ہے
21:54وہ جاننے والا ہے
21:56لیکن
21:57جبریل حضور کی بارگاہ میں
21:58عرض کرتے ہیں
21:59کہ
21:59آپ کا رب فرماتا ہے
22:00کہ آپ کی گریہ کی وجہ کیا ہے
22:01حضور نے فرمایا
22:03کہ مجھے
22:03اپنی امت کا خوف ہے
22:05کہ میری امت کے ساتھ
22:07اللہ رب العالمین
22:07معاملہ کیا فرمائے گا
22:09گدشتہ اقوام کی طرح
22:11ان کے لئے
22:12سختیوں کا معاملہ ہوگا
22:13پریشانیوں کا معاملہ ہوگا
22:14ان کی نجات کا کیا
22:16سلسلہ ہوگا
22:17ایسا نہ ہو
22:18کہ وہ
22:18جہنم میں ڈالے جائیں
22:20وہ سختیاں برداشت کریں
22:22آپ صلی اللہ علیہ وسلم
22:24کی بارگاہ میں
22:24جبریل حضور کی بارگاہ میں
22:25پھر حاضر خدمت ہوئے
22:26اور اللہ رب العالمین
22:28کی طرف سے خوشخبری لے کر آئے
22:29خوشخبری کیا ہے
22:30کہ
22:31کہ اے حبیب
22:35اللہ رب العالمین
22:36آپ کو خوشخبری عطا فرماتا ہے
22:38کہ ہم انقریب
22:40آپ کو
22:41آپ کی امت کے بارے میں
22:42راضی فرما دے گیا
22:43یعنی
22:44آپ کی امت کے بارے میں
22:45آپ کو خوش کیا جائے گا
22:46آپ جیسا چاہتے ہیں
22:48ویسا آپ کی امت کے ساتھ
22:49سلوک کیا جائے گا
22:50اور آپ کو
22:51ہرگیز امت سے
22:52متعلق غمگی
22:52نہیں فرمایا جائے گا
22:53یعنی
22:54پوری زندگی
22:55آپ صلی اللہ علیہ وسلم
22:56اپنی امت کے لیے
22:57اللہ کی بارگاہ میں
22:58گریہ فرماتے ہیں
22:59دعا فرماتے ہیں
23:00اور نہ صرف زندگی میں
23:01بلکہ فرمایا کہ
23:04ہر نبی کے لیے
23:05اللہ تعالی نے
23:06ایک خاص دعا عطا فرمائی ہے
23:07اور
23:09ہر نبی نے
23:10اس دعا کے ذریعے
23:11اپنی امت کے لیے
23:12دنیا میں ہی
23:13جو آسانی مانگی وہ مانگی
23:14فرمایا کہ
23:16اللہ رب العالمین
23:16نے مجھے بھی وہ دعا
23:17خاص دعا عطا فرمائی
23:18میں نے
23:20اس دعا کو
23:21امت کے لیے
23:23سب سے مشکل ترین
23:24جو مرحلہ آنے والا ہے
23:25اللہ کی بارگاہ میں
23:26حاضر ہونے کا
23:27امت کی مغفرت کا
23:29بخشش کا
23:30فرمایا کہ
23:31اس نازک ترین
23:32مرحلے کے لیے
23:33میں نے یہ دعا
23:33سنبھال کے رکھی ہے
23:34کہ جب میری امت
23:36پریشانی میں ہوگی
23:37مشکل میں ہوگی
23:38اس دعا کے ذریعے
23:40اپنے رب سے
23:41میں اپنی
23:41امت کی بخشش
23:42مانگوں گا
23:43اور فرمایا کہ
23:44اللہ رب العالمین
23:45سے مجھے یہ یقین ہے
23:46کہ اس دعا کا
23:48سمرہ
23:49اللہ رب العالمین
23:50میرے ہر امتی
23:50کو عطا فرمائے گا
23:51یعنی
23:52اللہ تعالی
23:53اس دعا کی برکت سے
23:54ہر امتی کے لیے
23:56آسانی کا
23:57رحمت کا
23:58مغفرت کا
23:59اور بخشش کا
24:00معاملہ فرمائے گا
24:01اور اسی لیے
24:02ہم دیکھیں
24:02صحابہ اکرام
24:04حضور کی بارگاہ میں
24:05عرض کرتے ہیں
24:05نا یادشلاللہ
24:06ہم قیامت کے دن
24:07آپ کو کہاں پائیں گے
24:08کسیر حدیث ہیں
24:10حضور نے
24:10تین جگہوں کا
24:11تذکرہ فرمایا
24:11اور اس سے
24:13امت کی
24:14جو محبت ہے
24:15جو شفقت ہے
24:16حریصن علیکم
24:17بالمؤمنین
24:18روف الرحیم
24:19کہ امت کی
24:20بھلائی کے
24:21انتہائی چانے والے ہیں
24:22آپ صلی اللہ علیہ وسلم
24:24امت سے
24:25اتنی شفقت
24:25فرمانے والے ہیں
24:26جب نفسہ
24:27نفسی کا عالم ہوگا
24:28ہر ایک کو
24:29اپنی نجات کی پرواہ ہوگی
24:30یوم یفر المر
24:31امی ناخی
24:32و امہی و ابی
24:33ہر شخص
24:35دوسرے سے بھاگے گا
24:36ہر شخص کو
24:37اپنی نجات کی پرواہ ہوگی
24:38ارسی آسل
24:40ہم آپ کو
24:40کہاں پائیں گے
24:41تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
24:43نے تین جگہوں کا
24:44تذکرہ فرمایا
24:45حضور نے فرمایا
24:46کہ پل سرات پہ آ جانا
24:47میری امت
24:49پل سرات کو
24:49پار کرنے کے لیے
24:50مشکل میں ہوگی
24:51فرمایا کہ
24:52میں ان کی مشکلات
24:53کو حل کروں گا
24:54اور پل سرات
24:54ان کو وہاں سے
24:55پار کراؤں گا
24:56ارسی آسل
24:57اگر وہاں بھی
24:57نہ پائیں
24:58تو فرمایا
25:00کہ میزان عمل پر
25:01یعنی جہاں
25:02امتیوں کے
25:03عامال
25:03تو لے جانے ہیں
25:04امتیوں کا
25:06حساب کتاب
25:07ہونا ہے
25:07فرمایا کہ
25:09کسی کے اگر
25:09عمل میں
25:10کچھ کوتا ہی ہوگی
25:11کسی کا اگر
25:13میزان عمل میں
25:14پڑھنا
25:14ہلکا پڑ جائے گا
25:17تو فرمایا
25:17کہ میں
25:18اپنی رحمت کے
25:18صدقے سے
25:19اللہ کی بارگاہ میں
25:20سفارش کر کے
25:21اس کو داخل جنت
25:22فرما دوں
25:22ارسی آسل
25:24اگر وہاں بھی
25:25نہ پائیں
25:25تو حضور نے فرمایا
25:27کہ پھر
25:27حوزے کوسر پہ آ جانا
25:28یہ تین مقامات
25:29فرمایا کہ
25:30میری امت پیاسی ہوگی
25:32میں حوزے کوسر پر
25:33جام بھر بھر
25:34کے اپنی امت کی
25:35پیاس بجا رہا ہوں گا
25:36یعنی
25:37آپ صلی اللہ علیہ وسلم
25:39امت کے لیے
25:40اتنی شفقت
25:41فرمانے والے
25:42کہ جب قیامت میں
25:43نفسہ نفسی کا عالم ہے
25:45ہر ایک کو
25:45اپنی نجات کی پرواہ ہے
25:46امام اہل سنت
25:48نے فرمایا تھا نا
25:49کہ جو نہ بھولا
25:50ہم غریبوں کو رضا
25:51یاد
25:52اس کی اپنی عادت کیجئے
25:53کہ پوری زندگی
25:55آپ صلی اللہ علیہ وسلم
25:56اپنی امت کے لیے
25:57اتنی شفقتیں فرمانے والے
25:58ان کی محق
25:59نے دل کے
25:59گنچے کھلا دیئے ہیں
26:01جس راہ چل گئے ہیں
26:03سکوچے بٹھا دیئے ہیں
26:05اور اللہ کیا جہنم
26:06اب بھی نہ سرد ہوگا
26:08رو رو کے
26:09مصطفیٰ نے دریا بہا دیئے ہیں
26:10تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
26:12امت کے لیے
26:13اتنی شفقتیں فرمانے والے
26:14حدیثنا علیکم بالمؤمنین
26:16رعوف الرحیم
26:18کہ تمہاری بھلائی کے
26:20انتہائی چانے والے
26:21انتہائی شفقتیں فرمانے والے
26:24اور پھر اگر
26:24ان ساری محبتوں کے باوجود
26:27ان ساری شفقتوں کے باوجود
26:29ان ساری انعیات کے باوجود
26:32اگر کوئی شخص آپ سے رو گردانی
26:34اختیار کرے
26:35تو اگلی آیت کریمہ میں فرمایا گیا
26:37کہ فَإِن تَوَلَّو
26:38اے نبی اگر پھر بھی یہ نہیں مانتے
26:41آپ کی اتنی شفقتوں
26:44کے باوجود بھی
26:44اگر یہ نہیں مانتے
26:45فَقُلْحَسْوِيَ اللَّهِ
26:47تو آپ فرما دے
26:48کہ میرے لیے اللہ کافی ہے
26:50تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے
26:52تمہارے ماننے یا ناماننے سے
26:55مقام نبوت و رسالت میں
26:56کوئی فرق نہیں آنا ہے
26:57پوری کائنات اگر مخالفت پر
27:00کمر بستا ہو جائے
27:01مقام مصطفیٰ میں کوئی فرق نہیں آئے گا
27:03حضور کی عزتیں اتنی ہیں
27:05وَلَلْآخِرَةُ خَيْرُ لَكَ مِنَ الْأُولَى
27:07وَرَفَانَا لَكَ ذِكْرَكَ
27:09کہ آپ کے لیے
27:11آپ کا ذکر اتنا ملند فرما دیا گیا
27:13کہ آپ کی ہر آنے والی گھڑی
27:15پشلی گھڑی سے بہتر ہوگی
27:17یعنی ہر آنے والی گھڑی میں
27:19آپ کا مقام و مرتبہ پہلے سے بڑھا دیا جائے گا
27:21تو فَإِن تَوَلَّوْا
27:24اے نبی اگر یہ پھر بھی عراض کریں
27:26پھر بھی نہ مانیں
27:27فَقُلْحَسْبِيَ اللَّهُ
27:29تو اے نبی آپ ان سے فرما دے
27:32کہ میرے لئے اللہ کافی ہے
27:33تمہاری مخالفت یا تمہاری حمایت سے
27:35مجھے کوئی فرق نہیں ہونا ہے
27:36یہ تو تمہاری اپنی دنیا اور آخرت کا معاملہ ہے
27:39اگر تم نجات چاہتے ہو
27:41کامیابی چاہتے ہو
27:42اس در سے وابستہ ہو جاؤ
27:44اللہ رب العالمین کامیابی اطاف فرما دے گا
27:46حَسْبِيَ اللَّهُ
27:47میرے لئے اللہ کافی ہے
27:48لا الہ الا ہو
27:50اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے
27:53وہی خالص عبادت کے لائق ہے
27:55وہی الہ ہے
27:56عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ
27:57میں اسی پر بروسہ کرتا ہوں
27:59میں نے اسی پر بروسہ کیا ہے
28:01وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
28:03وہ بڑے عرش کا مالک ہے
28:04اور اس آیت کریمہ کا یہ حصہ
28:07ایک تو
28:07آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام سے
28:11روح گردانی اختیار کرنے والوں کے لئے
28:13ایک وعید ہے
28:14کہ جو عرش کا مالک ہے
28:16وہ اپنے حبیب کے مخالفین کے ساتھ
28:19معاملہ کیا فرمائے گا
28:20بادشاہ کا کوئی مساحب ہو
28:23کوئی وزیر ہو
28:24اگر اس کو جھٹلا دیا جائے
28:26اگر اس کو رد کر دیا جائے
28:29اس سے عراض کیا جائے
28:30تو بادشاہ کا کہر و غزب کتنا ہوتا ہے
28:32بادشاہ کا قریبی ساتھی ہو
28:34عوام میں جائے
28:36اور اس کے ساتھ یہ معاملہ کیا جائے
28:37تو پھر بادشاہ کا کہر و غزب کیسا ہوتا ہے
28:40تو فرمائے کہ وہ عرش کا مالک ہے
28:41اگر اس کے حبیب سے روح گردانی اختیار کی گئی
28:44تو پھر اس نے کرنا گیا تمہارے ساتھ
28:46وہ تو دنیا اور آخرت میں
28:48زلط اور رسوائی کے سوا اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہے
28:50اور اس آیت کریمہ میں
28:53ہر بندہ مومن کے لئے
28:55ایک بشارت بھی عطا فرمائے گئے
28:57کہ اگر کوئی نہیں مانتا ہے تو نہ مانے
28:59اگر کوئی مخالفت کرتا ہے
29:02حق کے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتا ہے
29:05تو حسبی اللہ
29:06اللہ کافی ہے
29:07کسی کی مخالفت کے کوئی پرواہ نہ کی جائے
29:10کسی کی مخالفت پر
29:12کوئی اس طرح کا
29:13حوصلے کمزور کرنے والا معاملہ نہ کیا جائے
29:17حسبی اللہ
29:17اللہ رب العالمین کافی ہے
29:19علیہ توکلتو میں اسی پر بروسہ کرتا ہوں
29:23وہ رب العرش العظیم
29:25وہ عرش کا مالک ہے
29:25اور پھر حضور نے
29:26وطور خاص آیت کریمہ کے اس حصے کو
29:29امت کے لئے وظیفے کے طور پر
29:32عطا فرمایا
29:33اور بلکہ ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے
29:36تمام ناظرین کو چاہیے
29:37کہ اس عمل مبارک کو
29:39جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود
29:41امت کو عطا فرمایا
29:42اس کو اپنے معاملات میں شامل کریں گے
29:44تو یقیناً اللہ رب العالمین
29:46اس کی برکتیں بھی عطا فرمائے گا
29:47اور ہمیں ادھر ادھر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے
29:50حضور نے فرمائے کہ جو دن کے آغاز میں
29:52یہ تسبیح پڑھ لے
29:54حسب اللہ لا الہی اللہ
29:55صرف سات مرتبہ
30:00اس تسبیح کی تقرار کرے
30:01اللہ رب العالمین
30:03دن پر کے جتنے اہم کام ہیں
30:05مشکل کام ہیں
30:06اللہ رب العالمین تمام سے کفائد فرمائے گا
30:09تمام سے اس کو آسانی عطا فرمائے گا
30:11اس کے لئے راہیں کشادہ فرما دی جائیں گی
30:13اللہ رب العالمین ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے
30:16اس ماہ مقدس میں کسرت سے
30:18اپنا اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
30:21تذکرہ کرنے
30:23حضور کے عصاف و خسائل کو بیان کرنے کا اعتمام کرنے
30:27اور
30:28ان پاکیزت تذکروں سے اپنے لئے
30:30دنیا اور آخرت کی سعادتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
30:32اللہ رب العالمین
30:34عمل کی توفیق عطا فرمائے
30:36کوئی سوال اگر کسی کے ذہن میں ہو
30:37آج کی موضوع سے متعلق تو پوچھ لیں
30:39السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
30:41امید کرتا ہوں مفتی صاحب آپ خیر و حفیت کے ساتھ
30:44ہوئیں گے مفتی صاحب میرے سوال یہ ہے
30:46کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
30:47ملاد کا جشن مناتے ہیں
30:49گڑوں کو سجاتے ہیں اور محافل وغیرہ کرتے ہیں
30:52کیا یہ محافل کرنا سجانا
30:54یہ جائز ہے اس سوالے سے
30:56ہماری رنمائے فرما دے تھوڑے
30:57یقیناً اللہ کی کوئی بھی
31:00نعمت ہے تو اس پر اللہ کا شکر
31:02ادا کرنا خوشیوں کا اظہار کرنا
31:03یہ بقاعدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے
31:05گدشتہ اقوام کا اگر ہم تذکرہ دیکھیں
31:08تو بنی اسرائیل پر دسترخان
31:10نازل ہوا تھا منو سلوہ
31:11تو اس دسترخان کے نزول کا جو دن تھا
31:14اس کو عید کے طور پر وہ مناتے تھے
31:15پھر ہم حدیث کا مطالعہ کریں
31:18جمعہ کو حضور نے عید کا دن قرار دیا
31:19اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ
31:21حضرت آدم کی ولادت کا دن ہے یہ
31:23باقی بھی اس کے اسباب اور وجوہات بیان فرمائی
31:26تو جو دن کسی اللہ کی نعمت کے
31:28نازل ہونے کا دن ہو تو وہ
31:30خوشیوں کا دن ہوتا ہے وہ عید کا دن ہوتا ہے
31:32اور جو تمام نعمت
31:34اسے بڑی نعمت نعمت عزمہ
31:36جن کے صدقے سے
31:38اللہ تعالی نے ساری نعمتیں عطا فرمائی ہیں
31:40تو جو دن آپ کی تشریف آوری
31:43کا ہے تو وہ کس قدر مومنین کے لئے
31:44خوشی کا باعث ہوگا اور
31:46ہر شخص وہ اپنی اپنی کیفیت کے مطابق
31:48خوشی کا اظہار کرے گا کوئی اپنے گھروں کو
31:50سجائے گا کوئی صدقات و خیرات
31:52کا اتمام کرے گا کوئی محافل کا انعقاد
31:54کرے گا کوئی جلوس ریلی
31:56نکال کر شریعت کے دائرہ
31:58کار میں رہ کر اپنی خوشی
32:00کا کوئی بھی طریقہ اگر وہ اختیار کرے گا
32:02تو یقیناً اللہ تعالی اس کے ایمان و عمل میں
32:04اس کے ذریعے برکت عطا فرمائے گا
32:06باقاعدہ جب حضور مدینہ منورہ
32:08تشریف لائے صحیح مسلم شریف کی حدیث ہے
32:10تو مدینہ کے جو رہنے والے
32:12افراد تھے جوان
32:14اور بچے وہ مدینہ کے گلی
32:16کوچوں میں جلوس نکال کر انہوں نے
32:18حضور کا استقبال کیا
32:19یعنی یا محمد یا رسول اللہ کے نعرے لگا کر
32:22اور اپنے
32:24جو امامے کا شملہ
32:26یا کپڑا ہوتا ہے اس کو پھاڑ کر
32:27وہ ڈنڈو سے لگا کر اس کو لہرا کر
32:30وہ جنڈے کی ایک کیفیت اس کو پیدا کر دے
32:32یعنی وہ اپنے ہاتھوں میں جنڈے لگا کر
32:34یا محمد یا رسول اللہ کے نعرے لگا کر
32:36آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
32:38کے مدینہ تشریف آوری پر
32:40انہوں نے خوشیہ منائی جشن کا اظہار کیا
32:42تو کوئی بھی اللہ کی نعمت
32:44تو اس پر خوشیہ منانا
32:45یہ قرآن و حدیث کا تقاضہ ہے
32:47شریعت کے دائرے میں رہ کر جتنا بھی اتمام کیا جائے
32:50وہ یقیناً ایمان میں پختگی کا باعث ہے
32:52عقیدے میں پختگی کا باعث ہے
32:54اللہ رب العالمین
32:56ہمیں اس کے جو تقاضے ہیں
32:57اس کے مطابق اتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے
32:59السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
33:03اس سے میرا سوال یہ تھا
33:05کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ذات گرامی ہے
33:07آپ رحمت اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں
33:09تمام جہانوں کے لئے
33:11تو آپ یہ ایک محض
33:12امت کے ادبار سے اس کے علاوہ بھی
33:14حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی
33:16تمام چرن پرنن تمام
33:18ہر حوالے سے آپ رحمت اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں
33:20اس کے حساب سے بھی آپ ذرا
33:22آپ کی شان کریمی کو بیان فرمائیے
33:24یقیناً قرآن کریم میں
33:26آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان
33:28رحمت اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان فرمایا گیا
33:30تو اس کی تشریح اگر دیکھنی ہے
33:32تو الحمدللہ رب العالمین سے پتہ چلی جاتی ہے
33:35کہ عالمین کا دائرہ کار وہاں وہاں ہیں
33:38جہاں اللہ رب العالمین کی ربوبیت ہے
33:40کہ جس شئے کا رب
33:42اللہ رب العالمین ہے
33:43ہر اس شئے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت ہے
33:46چاہے وہ انسان ہیں
33:48جنات ہیں
33:49بلکہ انبیاء اکرام علیہ السلام کے لئے بھی
33:51حضور رحمت ہے
33:52اور اس کائنات کی جتنی بھی اشیاء ہیں
33:55چرند پرند ہیوانات نبتات جمادات
33:57اس کائنات کی جتنی اشیاء ہیں
34:00وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
34:01اپنے لئے رحمت کا سمرہ حاصل کرتی ہیں
34:04بلکہ مسلمان تو کجا
34:06کافروں کے لئے بھی حضور رحمت ہے
34:08one had been
34:11has maintained
34:12which he has
34:30given and
34:31umt عجابت
34:32تو umt دعوت
34:33اگرچہ انہوں نے
34:34قبول حق سے انکار کیا
34:35لیکن حضور کے صدقے سے
34:37اللہ رب العالمین
34:38نے ان کے لیے
34:38اجتماعی طور پر
34:39عذاب کی کیفیت
34:40نازل نہیں فرمائی
34:41اور قرآن کریم میں
34:42اس لیے
34:43اسے سے متعلق فرمایا گیا
34:44کہ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ
34:46وَأَن تَفِيهِمْ
34:48اے نبی اللہ رب العالمین
34:49ان کو کیا عذاب دے گا
34:50کہ آپ ان میں موجود ہیں
34:51یعنی آپ کے صدقے سے
34:53اللہ رب العالمین
34:54نے ان کے لیے
34:54عذاب کا سلسلہ
34:55وہ مقوب فرمایا
34:56تو پوری کائنات کی
34:57ہر شیعہ کے لیے
34:58آپ صلی اللہ علیہ وسلم
34:59رحمت ہے
35:01اور کائنات کا
35:02ذرہ ذرہ آپ کی
35:03رحمتوں سے مستفید ہو رہے ہیں
35:04السلام علیکم ورحمت اللہ
35:06وبرکاتہ
35:07مفتیصہ میرا سوال یہ ہے
35:10کہ حضور نبی کریم
35:11صلی اللہ علیہ وسلم
35:12کی تشریف آوری
35:14ہماری ہدایت ہے
35:16ماہِ ولادتِ مصطفیٰ میں
35:19اس پہلو سے
35:20ہمارے لیے کیا سبق ملتے ہیں
35:22یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم
35:24امت کی ہدایت
35:25اور رہنمائی کے لیے
35:26تشریف لائے ہیں
35:26تو جہاں
35:28حضور کے اس
35:29ولادت کے مہینے میں
35:30حضور کا تذکرہ کیا جاتا ہے
35:32حضور کی عزتوں
35:33عظمتوں کو بیان کیا جاتا ہے
35:34اسی کے ساتھ ساتھ
35:36ہم عملی پہلو سے دیکھیں
35:37کہ
35:38آپ صلی اللہ علیہ وسلم
35:39کی تعلیمات کو
35:40اپنانے میں
35:41ہم سے جو کتاہیاں
35:43جو کمیاں سرزاد ہوتی ہیں
35:44ہمارا عمل
35:45اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
35:47کی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے
35:48تو یقیناً ہی
35:50آپ صلی اللہ علیہ وسلم
35:51کی جو تشریف آوری کا مقصد ہے
35:52ہم اس مقصد سے
35:53اپنے آپ کو جوڑ نہیں پائیں
35:54تو اس لیے
35:55بطور خاص
35:56اس ماہِ مقدس میں
35:57یہ اتمام کیا جائے
35:58کہ حضور کا چلنا پھرنا کیسا تھا
36:00اٹھنا بیٹنا کیسا تھا
36:01حضور کے شب و روز کے
36:02معامولات کیسے تھے
36:03حضور کی صیرت و کردار
36:05اور تعلیمات کیسی تھی
36:06ان ساری چیزوں کو
36:08اپنا کر
36:08پھر حضور کا
36:09ماہ وعلادت منائیں گے
36:10تو اللہ تعالیٰ
36:11اس کی برکتیں بھی
36:12اتا فرمائے گا
36:12اور حقیقی آپ
36:14صلی اللہ علیہ وسلم
36:15سے وفاداری یہ ہے
36:16کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
36:17کے پیغام کو
36:18اپنے سینے سے لگایا جائیں
36:19اللہ رب العالمین
36:20عمل کی توفیق اتا فرمائے
36:22آج کی اس نشش میں
36:23جو بھی کلام کیا گیا
36:25اللہ رب العالمین
36:27اس کے مطابق
36:28ہم سب کو
36:29اپنے عقیدے
36:29اور اپنے عمل کی
36:30اصلاح کرنے کی
36:31توفیق اتا فرمائے
36:32اور پوری زندگی
36:33اسی طرح
36:33ذکر مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
36:37سے جڑے رہنے کی
36:38توفیق اتا فرمائے
36:39اللہ تعالیٰ عمل کی
36:40توفیق اتا فرمائے
36:41وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاهُ الْمُبِينَ
36:43محمد سید الکونین
Be the first to comment
Add your comment

Recommended