- 11 months ago
Category
🎥
Short filmTranscript
00:00اے لوگو میری بات سنو اور جلبازی سے کام مت لو
00:06تاکہ میں تمہیں نصیحت کروں جو تمہارا مجھ پر حق ہے
00:10اور تم پر حجت تمام کرتو
00:13بس اگر تم انصاف سے کام لو تو فلاح پا سکتے ہو
00:17بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
00:36بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
00:55جفا کے تیر کھائے جا رہے ہیں
01:12بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
01:26بیٹھاتے تھے نبی
01:34کاندھوں پہ جن کو
01:40بیٹھاتے تھے نبی
01:48کاندھوں پہ جن کو
01:54وہ نیزوں سے گرائے
02:00جا رہے ہیں
02:06بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
02:10بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
02:26حسین کے ساتھ خدا کی غیبی داقت ہے
02:33ابو رافع نے کہا
02:37قاسم کے پاس اس کے باپ کا پیغام تھا
02:42اس نے کہا
02:44وہ تحریر حسن کی وسیعت تھی
02:48اپنے قاسم کے لئے وراثت
02:52والد اپنی اولاد کیلئے مراز چھوڑتے ہیں
02:58حسن کی اپنی دکھی تحریر تھی
03:02اس لئے حسین نے قاسم کو جنگ کی اجازت دی
03:09بعض دولت چھوڑ کر جاتے ہیں
03:12اور بعض پیغام
03:14اس طرح بعض اپنے باپ کے پیغام کے وارث بن جاتے ہیں
03:19میری طرح
03:21قاسم کی طرح
03:23جو چیز قاسم کو جنگ کی طرف کھینچ لائی
03:29وہ اس کے باپ کی تحریر نہ تھی
03:34وہ بیج تھا جو حسن نے اپنے بیٹے کے سینے میں بویا
03:41جس نے آج پھل دیا
03:43اور تمہیں کیا حاصل ہوا؟
03:47اپنے باپ کے اس پیغام کا دل پر سنگین بوجھ محسوس کر رہا ہوں
03:51سوچ رہا ہوں کہ مجھے یہ تحریر آج ہی کیوں ملی؟
03:55اپنے باپ کے اس پیغام کا دل پر سنگین بوجھ محسوس کر رہا ہوں
04:03سوچ رہا ہوں کہ مجھے یہ تحریر آج ہی کیوں ملی؟
04:07کیونکہ آج کا دن تو حسین کا دن ہے
04:11کیا میں اسے پڑھ سکتا ہوں؟
04:21یہی تحریر باعث بنی میرے باپ کے قتل کی
04:25اس وحشے لیے اچانک خنجر نکالا
04:39اس کا جنگی لباس تو اپنے ہی لشکر کا لگتا ہے
04:46جانتے نہیں ہو
04:52آمیر؟
05:00ابو شجا کے آدمی کو مار ڈالا؟
05:11اس لڑکی نے دوبارہ مصیبت کھڑی کر دی
05:16ابو شجا کے غلام مرید نے تلوار چلائی ہے
05:19کس پر؟
05:21وہ یہ اشارہ کر رہا ہے کہ وہ اس کی رسی کھولنے والا تھا
05:25رسی کھول رہا تھا
05:28بہت چانے والے ہیں تمہارے
05:32اس سے جانتے ہو
05:38ابو شجا کے لیے کام کرتا تھا
05:43اور اس کا عاشق
05:47تمہاری زبان بند ہونے میں سیادہ وقت نہیں بچائے
05:50تم پر خدا کی لانت
05:53غصہ آ گیا
05:55اس کا یہ کام عاشق
05:59نہیں ہے تا پھر کیا ہے؟
06:01اس ظرفات میں ابلیس بہت ہے
06:05اے کاش میں بھی کسی ایک کو کنکر مار سکتی
06:08ابلیس تمہارا باپ ہے
06:12اس کا مو بان دو
06:15اس کی بکوات سننے کا حوصلہ نہیں ہے
06:22رشکر اسلام میں ایسے منافق اور خائن بہت ہو گئے
06:30شور کیوں ہے؟
06:33مارت میدان میں آیا ہے
06:36مارت اپنے صدیف
06:38ایک پہاڑ کی
06:40مانند ہے یہ شور
06:42شور کیوں ہے؟
06:48مارت میدان میں آیا ہے
06:51مارت اپنے صدیف
06:54ایک پہاڑ کی
06:57مانند ہے یہ شخص
07:00وہ وقت
07:04عباس سے جنگ کرنے کے لیے آیا ہے
07:07فقط ان دو کی لڑائی ہے
07:10اب عباس کا کام تمام ہے
07:16عرب میں
07:22اس کے مقابلے کا
07:28اس کے مقابلے کا
07:33کوئی مرد ابھی تک پیدا نہیں ہوا
07:36اس جیسے ستر بھی آ جائیں پھر بھی
07:39عباس کا مقابلہ کبھی نہیں کر پائیں گے
07:42یا تم مارت کو نہیں جانتے
07:45یا جنگ کی مہارتوں سے واقف نہیں
07:50ایک مہینہ پہلے کا واقعہ بھول گئے
07:54جب امیوں کی تلواروں نے نیام میں ہی شکست مال لی تھی
08:00یاد آیا کچھ
08:01کہاں
08:02بکہ میں حج کے دوران
08:04انہوں نے احرام میں تلواریں چھپا رکھی تھی
08:08اور حسین کو قتل کرنے کی طرح پہ تھے
08:11عباس کعبے کی چھت پر گیا
08:14اور فسی و بلیخ خدبہ دیا
08:16کہاں
08:17کہ اگر حسین نے نہ روکا ہوتا
08:19تو جس طرح ایک باز پرندوں کا شکار کرتا ہے
08:22بلکل ویسے ہی تم لوگوں کا شکار کرتا
08:25پھر انہوں نے عباس کے خوف سے تلواروں کو
08:28نیام سے باہر نکالنے کی جنرت ہی نہیں یہ
08:31بہت عجیب بات ہے
08:33علی کے بیٹے نے مارت کو زمین پر گرا دیا
08:36مارت مجبور ہو کر اپنے لشکر سے مدد طلب کر رہا ہے
08:42لانت ہو ان پر
08:45ہمارے جنگچو مردوں کو
08:50اس بیعبان کی دھوپ نے
08:54پستل بنا دیا
08:59مارت کا کام تمام ہو گیا
09:02اب باز جہاں سے جا رہا ہے سپاہی وہاں سے دور بھاگ رہے ہیں
09:08کسی میں بھی اتنی حمد نہیں کہ مارت کی مدد کو آئے
09:12اس کی مدد کو کوئی نہیں پہنچ پائے گا
09:15اس لشکر نے
09:19عربوں کی عزت خاک میں ملا دی
09:25ایسے رکھ اور مارت
09:31میں سمجھتا تھا
09:34کہ کچھ سپاہیوں کی جان گوانے کے بعد
09:40حفظین کی جان
09:45اب باز مارت کا گھوڑا لے گیا
09:55وہ مارت کا گھوڑا نہیں تھا
10:02وہ گھوڑا حسن ابن علی کا تھا
10:06مارت بن صدیف بہت فقر کیا کرتا تھا
10:10کہ جنگ جمل کے فاتح کا گھوڑا
10:13یہ گھوڑا وہ اپنے ساتھ چُرہ کر لے آیا ہے
10:16شاید یہ گھوڑا چاہتا تھا خود کو اب باز تک لے جائے
10:19ورنہ مارت میں اکباس سے مقابلے کی جرت ہرگز نہیں تھی
10:26زندہ ہے
10:33موت نزدیک لگ رہی ہے
10:35کہو جہنم دور نہیں ہے
10:39زندہ ہے
10:40موت نزدیک لگ رہی ہے
10:46کہو جہنم دور نہیں ہے
10:51یہ لڑائے غروبِ آفتاب تک نہیں جائے گی
10:56جانتا ہوں
10:57جانتا ہوں
11:07تم کیا کروگے
11:10ابن زیاد کے سککوں کے لیے رکوگے
11:16نہیں اس کے لیے
11:22کیا لکھا ہے کاتب آزم نے تمہارے لیے
11:25صرف میرے لیے نہیں
11:29تاریخ کے لیے ہے
11:32تاریخ کا اہم باب ہے
11:36وہ راز ہے جو اگر فاش ہو جائے تو
11:39بہت سے چہرے بے نغاب ہو جائیں گے
11:42اس کے بارے میں مجھے علم نہیں تھا
11:45میرے پاؤں کی زنجید بن گیا ہے
11:49جیسے میرے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہو
11:55یعنی ہم نے جو کچھ سنا تھا وہ ایک حقیقت ہے
12:08پیغمبر اور ان کے اہلِ بیعت کی مظلومیت کو چھپایا نہیں جا سکتا
12:16یہ خط اسی مظلومیت کا تحریری ثبوت ہے
12:21امیرِ شام کے سپاہی اسی خط کی تلاش میں تھے
12:27ابھی بھی تلاش میں ہیں
12:32یہ انہیں رسوا کر دے گا
12:35یقیناً
12:37قاطبِ آزم کی وراثت یہی ہے
12:42اسی کی وجہ سے میرا باپ بے جہن رہتا تھا
12:46زندگی کے آخری دنوں میں
12:50ہمیشہ علی اور اس کی تنہائی کی بات کرتا تھا
12:53آج کی یہ جنگ
12:56علی کی اسی تنہائی کا تسلسل ہے
13:00حق کبھی اس خاندان سے جدہ ہونے والا نہیں ہے
13:08میرے باپ نے اپنی جان اور مال اسی حقیقت کے لیے قربان کر دی ہے
13:12تم اسی طرح تردد کے شکار رہو گے
13:17یا اس پر یقین لاؤ گے
13:20اس عورت کو کیوں باندھا ہے
13:22اس کی وجہ سے
13:25ابھی زندہ ہے
13:27یہ ابھی بے ہوش ہے
13:29جنگ سے کوئی خبر ہے
13:31ابباس اور حسین
13:33دونوں نے مل کر میدان کو تاوبالہ کر دیا
13:37دونوں نے
13:39لشکر پر چڑھائی
13:40نہیں
13:41پانی کے لیے
13:43جب ابباس گھوڑے پر سوار ہوا
13:46تو پانی کی مشک اس کے بازو پر نظر آئی
13:49حسین نے ابباس کو پانی لانے کی اجازت دی تھی
13:54جنگ کو ایسے ہی چھوڑائے ہو
13:57لڑائی اب ختم ہو گئی ہے
13:59یہ منظر لکھنا بہت ضروری ہے
14:03ابباس اگر ایک بار سہراب ہو گیا
14:06تو یہ جنگ
14:09دیکھنے کے دائک ہوگی
14:11مدینے کا ایک رہنے والا کہتا ہے
14:15کہ اس نے کبھی نہیں دیکھا کہ حسین کی لب خوشک ہوں
14:19اور ابباس کی لب در
14:21حسین سے پہلے پانی نہیں پیے گا
14:24اگر فورات پر بھی پہنچ جائے
14:29اگر یہ بیابان دریا میں تبدیل ہو جائے
14:33تب بھی حسین سے پہلے پانی نہیں پیے گا
14:36بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
14:54بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
15:12بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
15:29بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
15:42دیکھنے کے لائک تھی
15:46بہت دردناک اور غمگین ہے
15:50اس بیابان میں دکھ اور تکلیف کے علاوہ اور کیا ہے؟
15:59وہ تیر جو مشک پر لگا
16:03اس نے ابباس کی جان لی
16:06ہاں دیکھا
16:10بس یہیں دور سے
16:13رنج و علم دور سے ہی دیکھنا چاہیے
16:15یعنی ابباس کی موت پر حسین کی آہ کو نہیں سنا؟
16:21وہ منظر میں نہیں بھول سکتا
16:25میرا دل غمگین ہے
16:45میرا دل بھی بہت مزدرب و پریشان ہے
16:54حسین کا علمدار ابباس تھا
17:00کہاں جا رہے ہو؟
17:04ابھی آتا ہوں
17:06ماں کی جان بچانے کے لیے سکھے نہیں چاہیے تھے
17:10کہا تھا کہ فہرست میں نام لکھوں
17:13اگر واپس نہ گیا تو بھی آسرا ہو جائے گی
17:16اس طرف فقط حسین بچ گیا ہے
17:22اس کی دلوار تم پر وار نہیں کرے گی
17:32حسین کی دلوار کا خوف نہیں ہے
17:37میرا ڈر کچھ اور ہے
17:40سامنا کرنے کا؟
17:41سامنا کرنے کا؟
17:43اگر اس نے مدد کیلئے پکار لیا تو
17:48حسین کا مدد ماننا اتماع میں حجت ہوگا
17:54یعنی حق سے فرار؟
17:59چاہتا ہوں اس وقت یہاں پر نہ ہوں بس یہی
18:01تو پھر اس حقیقت کو
18:14تاریخ کے حوالے کر دو
18:16اپنے باپ کی میراس کی حفاظت کرو
18:26خاموشی سے اس بیابان سے چلے جاؤ
18:32اور دیان رکھنا خلیفہ کے سپاہیوں کو اس کی
18:36خبر نہ ہو
18:37اور تم؟
18:38میں یہی ہوں
18:48حسین سے اہد و پیبان اور یزید کا دسترخان
18:54میں بس یہ چاہتا ہوں کہ ان دونوں کو یکجا کر دوں
19:01حق کی آواز تم
19:04لوگوں تک پہنچاؤ میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں
19:13حسین کے ساتھ؟
19:15حسین اور حق میں فرق ہے
19:18تم نے کہا تھا کہ حق کی خاطر
19:22جان و مال قربان کرنے سے درےگ نہیں کرنا چاہیے
19:26اس جنگ کا فاتح کون ہے یہ واضح ہے
19:31کیا یہ بات آغاز میں ہی واضح نہیں تھی؟
19:34اگر میری جان حق اور حقیقت پر فیدا ہو جائے
19:39تو میں سمجھوں گا میں فاتح ہوں
19:42میں میدان جنگ کی طرف جا رہا ہوں
19:45اب تو حسین بلکل تنہا ہے
19:48تم جاتے کیوں نہیں ہو؟
19:51تم جاتے کیوں نہیں ہو؟
19:54اب جانے کی ہمت نہیں
19:58تم جاتے کیوں نہیں ہو؟
20:10اب جانے کی ہمت نہیں
20:13رکنے کا حوصلہ ہے؟
20:16میں پریشان ہوں اپنے باپ کی مراس اور منتظر ماں کے لئے
20:28رکھنے کا حوصلہ ہے
20:33میں پریشان ہوں اپنے باپ کی مراس
20:40اور منتظر ماں کے لیے
20:42خدا حافظ
20:58کہا
21:02جناب حاتم فرار ہونا چاہتے ہیں
21:07وہ بھی کاتب آزم کی تحریر کے ہمراہ
21:10وہ جس کی تلاش میں خلیفہ نے کوئی بھی جگہ نہیں چھوڑی
21:14ڈرہو نہیں ابو نومان
21:17کوئی نہیں جانتا کہ میں خلیفہ کا جاسوس ہوں
21:20تمہیں کیا لگتا تھا
21:23کہ خلیفہ اس قدر اہم جنگ میں
21:25کاتبوں کے خیمے کو اپنے حال پر چھوڑ دے گا
21:28میری موجودگی میں جو کچھ ہوا وہ دیکھا بھی اور زنا بھی
21:33جب میں یہاں موجود نہیں تھا
21:36اس وقت بھی خیمے کے اس سراخ سے آگاہ رہتا تھا
21:40کیا اب خیمے میں سراخ کا معاملہ حل ہو گیا جناب کاتب
21:46امارہ کے قتل سے سرف نظر
21:51لیکن یہ تحریر خلیفہ کے حوالے کرنا ضروری ہے
21:54اپنی ماں کے بارے میں سوچو ذرا
21:57شاید تمہیں عقل آ جائے
22:00اپنی زندگی ضائع مت کرو چلو
22:02اپنی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی زندگی ز
22:32اپنی میں اپنی جان فدہ نہیں کر سکا
22:37حسین کیلئے
22:40ابو شجا نے جو نال یہاں چھوڑی ہے
22:49وہ تم اپنے ساتھ لے جاؤ
22:51ہو سکتا ہے
22:57اس طرح شاید حسین پر دوڑائے جانے والی
23:09گھوڑوں میں کچھ کمیا جائے
23:14جاؤ
23:20وقت سیاں مت کرو
23:25میں بس التماس کرتا ہوں
23:30کہ ان
23:31گھوڑوں کی نالوں کو
23:34حسین کے بدن تک پہنچنے مت دینا
23:37جاؤ
23:39جاؤ
23:43فرسند قاطب آسم
23:47جاؤ
23:48چیخو پکار کی آواز تھی
23:55ابن قرزہ تھا
23:56امانت مل گئی تھی
23:58اب ان نمان کو گھیلا زخم لگا ہے
24:00کیا ہوا
24:00اس کی مرم پٹی کرو
24:02کہا جا رہے ہو
24:02حسین کیلئے بے چینو
24:04میرا باپ کہتا تھا کہ قاطب آسم حق کیلئے بے قرار تھا
24:08اسی نے اسے عاشق حق بنایا
24:09حسین کو میرا سلام کہنا
24:11کہنا کہ ابن سبیخ نے اپنی کوشش کی لیکن نہ ہو سکا
24:14میں جنگ میں نہیں جا رہا
24:16کیوں
24:17میں جنگ کی نیت سے نہیں آیا تھا جو اب جنگ میں جاؤں
24:22کیا میرا باپ یہاں جنگ کی خاطر آیا تھا
24:25یا تمہارا باپ
24:26کیا خود حسین کا یہاں آنا جنگ کی خاطر تھا
24:29نہیں جانتا
24:30صرف یہ جانتا ہوں کہ ابھی یہاں رکنا سا ہی نہیں
24:32تم جانتے ہو تم آخر ہو کس طرف
24:34حسین کو ضرورت ہے
24:36وہ تنہا ہے
24:38اب ان نمان کی جان خطرے میں ہے
24:42اس کی جان بچاؤ
24:43بھاگنا مردوں کا شیوہ نہیں ہے
24:49حسین بیٹا نہ جاؤ
24:51کچھ دیر اور رک جاؤ
24:53کیا بچے کے رونے کی آواز نہیں سنی
24:58اس جنگ میں بچی کا کیا کام
25:02اس شور چرابے کے علاوہ کچھ نہیں سنا
25:05حسین کی طرف سے آئی تھی
25:08کوئی بچہ نہیں
25:19اس کی آواز ایک دم سے رک گئی
25:24حسین ہے اور
25:27کافی فاصلے پر کچھ خواتین جبا ہے
25:31کیا کر رہے ہیں
25:33حسین
25:36خیمے کے پیچھے کھڑا ہے
25:38ایک
25:41ایک چھوٹے سے بچے کو اٹھایا ہوا ہے
25:45اور وہ بچہ ایک کپڑے میں لپٹا ہوا ہے
25:49حسین پریشان ہے
25:52رونی کی آواز اسی بچے کی ہوگی
25:56جسے حسین نے اپنے سیمیے سے لگا رکھا ہے
26:04وہ شیر خوار بچہ تھا
26:08اس کے لیے لشکر سے پانی طلب کیا
26:12مجھے یقین ہے
26:14اس کے گریے کی آواز ہر کسی تک پہنچی ہوگی
26:17مگر یہ لشکر والے بہرے ہیں
26:22کیا ہوا حسین بیٹا
26:27جانے کا ارادہ نہیں
26:29کوئی مرد نہیں پچھا اس طرف
26:34میں انہیں دیکھنا چاہتی ہوں
26:39اگر ممکن ہو تو اس رسی کو کھول دو
26:47کہا جا رہے ہو بیٹا
26:59کہا جا رہے ہو
27:08اب تو مجھے دیکھ سکتی ہو
27:10میں حسین نہیں ہوں
27:12حسین کو میں نے بھیج دیا تھا
27:17میں نہیں چاہتی تھی
27:20کہ ان پس لوگوں کا ساتھ دے
27:21اب تو وہ چلا گیا
27:25لوگوں کو ہمارا پتا چلے گا
27:29تو وہ ہمیں ذمہ دار ٹھہرائیں گے
27:32وہ بھاگ جانے والوں پر لانت کریں گے
27:35وہ حسین کے لیے ہوگی
27:39اور تمہارے لیے ہوگی
27:40اب پتا چلا مجھے کہ تمہیں کیوں باندھا ہوا تھا
27:45جب حق سے چشم پوشی کر لی جائے
27:48پھر حق کے لیے بولنے کو جنون کہا جاتا ہے
27:52تاکہ ان کی اکلوں کی مہار ان کے ہاتھوں میں رہے
27:54رک جاؤ
27:58میرے پاس باپ کی امانت ہے
28:05جس کی حفاظت سب سے زیادہ ضروری ہے
28:09حسین سے زیادہ
28:11جس کا کوئی بھی نہیں ہے
28:14کیا وہ ہمارے پاس پیغمبر کی امانت نہیں ہے
28:17اس امانت میں خیانت نے قیامت بربا کی ہے
28:22زمین اور آسمان کا گریہ نہیں سن رہے
28:25مجھے جانا ہوگا میری ماں میرا گھر پر انتظار کر رہی ہے
28:31میں بھی ایک ماں ہوں اور بیٹے کی منتظر
28:33کاش حسین کو میں کبھی نہ بھیج دی
28:36مجھے کیا پتا تھا
28:38کہ حسین کے ساتھ یہ لوگ ایسا سلوک کریں گے
28:41میں سمجھی تھی حسین کے سپاہیوں کو ماریں گے
28:43حسین بیعت کر لیں گے اور مدینہ چلے جائیں گے
28:45حسین کو بھگا دیا تھا
28:47تاکہ اس لشکر میں نہ رہے جو حسین کو بیعت کرنے پر مجبور کر رہا ہے
28:51اے خدا مجھے معاف کر دے
28:54اب مجھے زندہ نہیں رہا
28:55اگر حسین آہستہ بھولو
28:57اس وقت سے اب تک میری آنکھوں کا گریہ ختم نہیں ہوا
29:04حسین کہا ہو بیٹا
29:07کہا ہو بیٹا
29:10قیامت نزدیک ہے
29:13آسمان اور زمین بے قرار ہے
29:17اب وقت ہے کہ آسمان پھٹے اور جوک در جوک ملائکہ زمین پر اترے
29:23خدا کا عذاب نازل ہونے والا ہے
29:26بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں
29:28جاؤ حسین کی مدد کے لیے
29:31کیا کوئی مددکار ہے جو میری مدد کرے
29:34کیا کوئی مددکار ہے جو میری مدد کرے
29:38سنا تم نے یہ تو حسین کی آواز ہے
29:42اس وقت بے یار و مددگار ہے زہرہ کلا
29:46کیا کوئی دفاع کرنے والا ہے جو ہر میری رسول اللہ کا دفاع کرے
29:49وہ دیکھو ان ہزاروں مسلح سپاہیوں کے سامنے اکیلا
29:53ابھی بھی ڈٹ کے کھڑا ہے
29:56کیا کوئی اللہ کا خوف رکھنے والا ہے جو ہمارے بارے میں اللہ سے دری
30:01کیا کوئی مدد کرنے والا ہے جو ہماری مدد کر کے
30:08اللہ کی عطا کا امیدوار ہو
30:11یہ آواز قیامت تک سنائی دے گی
30:14لیکن ان کو نہیں ان کے شکم حرام سے پر ہے
30:19کوئی ہے جو حسین کی مدد کرے
30:27یہ رکھو یہ امانت ہے
30:41یہ امانت اس کے حوالے کرنا
30:44جو اہلِ بیعت کا سچا عاشق ہو
30:47یہ کیا ہے
30:49یہ اہلِ بیعت کی مظلومیت کا تحریری ثبوت ہے
30:53انام و اکرام نہیں لینا چاہتے
30:55انہیں چلدی سے چھپا دو
30:57نال لینے آیا ہوں
30:59حسین کی لاش پر گھوڑے دوڑانے والوں کی تعداد زیادہ ہے
31:03ایک گھوڑا آپ کو بھی لادو تاکہ ان سککوں سے آپ محروم نہ ہو
31:07کٹیا انسان
31:08کیدر بھی تم لوگوں سے زیادہ وفادار ہیں
31:11جانتے ہو تم لوگ جس کا لاشاں پامال کرنا چاہتے ہو وہ کون ہے
31:14حصول خدا کا فرزن
31:15مجھے شک ہوا تھا کہ خلیفہ کے جاسوس نہیں ہو
31:21لیکن گمان میں بھی نہیں تھا کہ حسین کا پیروکار شام اور کوفے کے لشکر میں موجود ہو
31:27اپنے ایمان کا سودا کتنے میں کیا ہے
31:31یا حسین
32:01بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
32:17بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
Comments