Skip to playerSkip to main content
  • 11 months ago
Episode 2_7 📜 KATIB-E-AZAM _ Drama Serial on Karbala History 🎤
Transcript
00:00اے لوگو میری بات سنو اور جلبازی سے کام مت لو
00:06تاکہ میں تمہیں نصیحت کروں جو تمہارا مجھ پر حق ہے
00:10اور تم پر حجت تمام کرتوں
00:13بس اگر تم انصاف سے کام لو تو فلاح پا سکتے ہو
00:17بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
00:36بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
00:55جفا کے تیر کھائے جا رہے ہیں
01:12بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
01:26بیٹھاتے تھے نبی
01:34کاندھوں پہ جن کو
01:40بیٹھاتے تھے نبی
01:48کاندھوں پہ جن کو
01:54وہ نیزوں سے گرائے
02:00جا رہے ہیں
02:06بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
02:28تم یہی تحضیریں لے کر گئے تھے
02:29سب کی سب واپس لے آئے ہو
02:31ہاں
02:32تم موتمائن رہو
02:43بلاخر ہماری طرف بھی آ گیا
02:45کس کا کہہ رہے ہو
02:47امیر کا جاسوس
02:49امیر کا جاسوس
02:51وہی جو خود کو چرواہ بتا رہا تھا
02:53وہی لڑکا
02:55مجھے پتا چلا ہے
02:57کہ کل چرواہ نے اپنی بھیڑوں کی رقم
02:59اصول کر لیا ہے
03:00یعنی وہ جھوٹ کہہ رہا ہے
03:01کہ وہ چرواہ ہے
03:03کل والا چرواہ
03:05اپنی بیس بھیڑوں کے سککوں کے لیے یہاں پر آیا تھا
03:07نہیں جانتا وہ چرواہ ہی تھا
03:09ان ہزاروں کے لشکر کے لیے بیس بھیڑے کافی رہیں گی
03:13اس دن تو یہاں پر بھیڑوں کے کئی ریور لائے گئے
03:15یقیناً ہر ریور کا ہی چرواہ بھی ہے
03:17اس کی طرح
03:19کیسے پتا چلے کہ
03:21کل کے
03:23چرواہ کی بھیڑیں ہمارے باورشی خانے میں لائے گئی تھی
03:27مجھے کیا بتاؤں
03:31جانتے ہو یہاں کتنے باورشی خانے کے خیمے لگائے گئے ہیں
03:35شکم پرستوں کی تعداد کے مطابق
03:37تعداد کے مطابق
03:39تمہاری خبر کی اہمیت نہیں رہی
03:43تمہیں خبر دینے والا قابل اعتماد ہے
03:45یہ کیا ہے؟
03:47آمیر لے کر آیا ہے
03:49ہاں یہ نال ہے
03:51مرید مرید
03:55اسے یہاں سے اٹھاؤ اور اس صندوق کے پاس رکھو
03:59میں مطمئن نہیں ہوں
04:01اگر آمیر نے صحیح کہا ہے تو
04:03یہ شخص چرواہ نہیں ہے
04:05اس سہرہ میں سنی سنائی پر اکتفا نہ کرو
04:08سوئے زن سے کام مت لو
04:10وہ بیچارہ سیدھا سادھا ہے
04:12آیا ہے کہ اپنے حق کو خلیفہ کے ملکوتی خزانے سے حاصل کرے بس یہی
04:16وہ اتنا بھی سادھا نہیں لگتا
04:19اس سے حقیقت اگلواؤ
04:21کیا کرو؟
04:22اس کے ہاتھ پاؤں باندھو سب کچھ سچ بتا دے گا
04:24چھوڑ دیں اسے
04:26جتنا میں نے اسے دیکھا ہے
04:28وہ مجھے بلکل بھی ایسا نہیں لگتا
04:30جو چھپایا ہے اسے اگلواؤ کی رہوں گا
04:33خود کو اس کا حریف مت پناو
04:35ہاسن بیٹا تم ہو
04:38تمہاری موجودگی میری روح کو سکون دیتی ہے
04:56تمہارا ہونا دوسروں سے بہت مختلف ہے
05:00بہت مختلف ہے
05:02حسن میٹے مجھ سے دور کیوں جا رہے ہو
05:06آہستہ اتنا ہچا کیوں بول رہی ہو
05:10آخر لوٹ آئے
05:13دل بہت پریشان تھا میرا
05:16ابھی بھی حسن کے انتظار میں ہو
05:22کیا ہوا
05:35بیڑوں کی تعداد
05:37ابھی کوئی حتمی تعداد نہیں بتائی
05:39محل کی ہوس میں جان کی بھی بھروا نہیں
05:42تم کہنا کیا چا رہے ہو
05:44عالم اسلام کی اس قدر اہم جنگ کے ایسے حساس موقع پر
05:48ایک چرواہ گردو نوا کے اقتحاد سے آتا ہے
05:51تاکہ وہ اپنی بھیڑوں کی رقم وصول کر سکے
05:53اس بات کو تسلیم کرنے میں تھوڑی سی پریشانی ہو رہی ہے
05:57پھر کیا کرتا جب میرا سرمایہ خلیفہ کے نام پر میرے سے لوٹ لیا گیا
06:01اگر سبر کر کے بیٹھ جاتا تو جنگ کے بعد اپنا حق کیسے وصول کر پاتا
06:05واقعا تمہیں اس قدر مال کی ضرورت ہے
06:07گھر میں معذور ماں ہے جس کی کفالت میرے ذمہ ہے
06:13چاہے تمہاری جان چلی جائے
06:16میری ایمان ہے مجھے زندگی بخشی ہے
06:19ان کے لیے جان بھی دے سکتا ہوں
06:21تمہارا باپ کہاں ہے وہ بھی معذور ہے
06:30اس دنیا کو خیر آباد کہے انہیں زیادہ عرصہ نہیں گزرا
06:33ان کی قبر پر جانے سے بھی محروم ہوں
06:35اللہ اس کی مغفرت لگے
06:38ہمارا
06:44اس سے زیادہ پوچھ گچھ نہ کرو
06:47جتنا ہو سکے احتیاط سے کام لو
06:49ابو رافع کے آنے پر دھیان رکھو
06:52میں کچھ تیر میں واپس آتا ہوں
06:56چروہے
06:58بتاؤ ابن سبیق کو کیوں ڈون رہے ہو
07:01اسے جانتے ہو تم
07:04تم
07:05تم چروہے کو اس سے کیا کہوں
07:07میرا نصبی تعلق ہے
07:09مجھے خبر ملی ہے کہ وہ زرہ پہنے میدان چنگ کی طرف آیا ہے
07:15تو اتنے بھی بے خبر نہیں ہو تم
07:18اس کی کوئی خبر ہے
07:19کوفہ سے ہے اور اکیل کے بیچے کا طرف دار
07:23مسلم ابن اکیل
07:25مسلم ابن اکیل
07:26ابن سبیق مسلم کا حمایتی تھا
07:30کوفہ میں رفت و آمد پر پاوندی لگ گئی اور ابن سبیق قید ہو گیا
07:34کیا وہ اس وقت بھی قید میں ہے
07:36قید میں نہیں رہا وہ
07:38اس کا چچا ذات زامن بنا اور ابن سبیق سے معافی نامہ لے کر رہا کر دیا گیا
07:43رہا ہونے کے بعد کوفہ کی لشکر میں شامل ہو گیا
07:46حسین کے مقابلے میں
07:47ہاں
07:48عقل کے مطابق نہیں ہے
07:51کوفہ والوں کا کون سا کام ہے جو عقل کے مطابق ہے
07:55پہلے دسیوں ہزار خط حسین کی مددہ میں لکھیں
07:58اور اب آئے ہیں اس کا خون بہانیں
08:00تم نے بھی لکھا تھا
08:01میں کوئی بے وکوف ہوں
08:05مجھے پہلے ہی پتہ چل گیا تھا کہ حسین خلافت کی بازی ہار جائے گا
08:10اب خلیفہ کے خلاف قیام کیا ہے تاکہ اپنی شکست کو چھپا سکے
08:14خلیفہ کے خلاف قیام کے لئے لشکر ضروری ہے
08:16یہ کیسے عرب ہیں کہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ جنگ میں آئے ہیں
08:19پھر وہ میدانیں جنگ میں کیوں ہیں
08:22تم لوگوں نے انہیں یہاں گھیل لیا ہے
08:25حسین تو کوفیوں کے بلانے پر آزے میں سفر ہوئے
08:27اور اب انہوں نے ہی اس جنگ میں لاکھڑا کیا ہے
08:30کیسے چرواہے ہو کہ حسین کے قیام کی تفسیر بھی جانتے ہو
08:34اور ابن سبیغ جیسے مشکوک انسان کی جستجو میں بھی ہو
08:39مشکوک کیوں ہے وہ
08:40ابن زیاد کے لشکر میں شمولیت میں کوئی چال لگتی ہے
08:45اگر وہ شامل نہ ہوتا تو زندہ بچ جاتا
08:47بہت سے لوگ اپنی جان بچانے کیلئے اس لشکر میں شامل ہوئے ہیں
08:51لیکن ابن سبیغ ہوشیار ہے
08:54بائید نہیں کہ کوفے کے لشکر میں کسی فتنے کا منصوبہ رکھتا ہے
09:00پر اسرار ترین چرواہے ہو تم
09:06ہمارا نسل بھی تعلق ہے
09:08ایک نسل سے
09:14کیا چاہتے ہو کہ اس فتنے کو بے اثر کرو
09:21اگر کوئی فتنہ ہوا تو
09:24ابن سبیغ کوئی سیدھا سادھا انسان نہیں ہے
09:27سرکش گھوڑے کی مانند ہے
09:29مجھے بے اس ہی کا ٹر ہے
09:32گھبرانی کی ضرورت نہیں ہے
09:35تو میں ابن سبیغ کے پاس لے جاتا ہوں
09:38یہ پتہ لگا ہو کہ اس کا منصوبہ کیا ہے
09:41ہمارا
09:43تمہارے قدموں کی آواز میں بھی پیخام ہے
09:44میرے بیٹے حسن کے قدم
09:45ہمارے قدموں کی آواز میں بھی پیخام ہے
09:46میرے بیٹے حسن کے قدم
09:47ہمارے قدموں کی آواز میں بھی پیخام ہے
09:48میرے بیٹے حسن کے قدم
09:51ہمارے قدموں کی آواز میں بھی پیخام ہے
10:07تمہارے قدموں کی آواز میں بھی پیخام ہے
10:11میرے بیٹے حسن کے قدم
10:17کہیں مت جاؤ بیٹا
10:18یہ ہی رکو
10:29ساتھ بھیڑیں
10:31خالد اپنے واہب تیر اندازوں کے لئے لے گیا تھا
10:34باقی تیرا کو امارا نے دکھا ہوگا
10:36تو کیا ان بھیڑوں کی تعداد بیس ہی تھی
10:38ہاں تعداد تو اتنی ہی ہے جتنی میں نے بتائی تھی
10:41وہ بھولے نہیں ہوں کہ جاؤ اپنی رقم لے لو
10:43میں لشکر کے خیموں میں جا رہا ہوں
10:45تاکہ اپنے سبیغ کو ڈھون سکوں
10:46خود کو مشکل میں ڈالنے کا شوق ہے
10:51بس تم اپنے سکے لے اور چلے جاؤ
10:53اس آفت کا دیمے اپنے سبیغ کی فکر چھوڑ دو
10:55ہمارا نے کہا ہے کہ مجھے اس کے پاس لے جائے گا
10:57میدان میں بغیر تلوار اور زرہ کے جاؤ گے
10:59اپنے سبیغ کو تو چھوڑو
11:01تلوے آفتاب بھی نہیں دیکھ پاؤ گے
11:03بغیر زرہ اور تلوار کے بہت ہیں میدان میں
11:06لیکن ہر کسی کی کوئی پہچان اور مقصد معیین ہوتا ہے
11:09تم جب تک بتاؤ گے کہ کون ہو اور کیوں آئے ہو
11:12تب تک تمہارا سر ہوا میں ہوگا
11:14اپنی جان بچاؤ اور جاؤ
11:16یہ ٹھہرنے کی جگہ ہر کس نہیں ہے
11:18اس چروہے کی بیس بھیڑے تھیں جن میں سے ساتھ کو تیر اندازوں کیلئے لے گئے تھے
11:34اچھا
11:36آپ نے کہا تھا کہ بھیڑوں کی قطعی تعداد پتاؤں
11:39اور پھر اپنے صدو کے مبارک کو کھولیں گے
11:41اب بیس کا حساب ہے یا پھر تیرا کا
11:44پکانے والوں کو بہتر پتا ہے
11:47چروہے اپنی بھیڑوں کی رقم سے پیسالار کے خیمے سے جا کر لے لو
11:51جنگ کے درمیان میں تو نہیں نہیں سکتا
11:53اس جنگ کی اخراجات بیت المال سے نہیں ہو رہے ہیں یہ بھی انہی میں سے ایک ہے
11:56اس صندوق کے اندر سکھے منظورِ نظر افراد کے لئے مخصوص ہیں
12:00منظورِ نظر اب کون ہے
12:02وہی افراد جنہوں نے علمِ اسلام کو اس بائعبام میں بلند کیا ہے
12:06وہی لوگ جنہوں نے اس دھوب میں زرہ کی عزیت کو برداشت کیا
12:10یہ سکھے صرف لشکرِ اسلام کے لئے ہیں دین کے جانساروں کے لئے ہیں
12:16بھیڑے بھی انہی کے زورِ بازو پر نسار ہوئی ہیں
12:19میں خلیفہ کی امانت میں خیانت نہیں کر سکتا
12:22تم بھی اس فانی دنیا سے رقمت کم کرو تاکہ خلیفہ کے منظورِ نظر ہو جاؤ
12:26تمہاری زندگی کی بھی قدر و قیمت ہو
12:28بھیڑوں کی قیمت سے کہیں زیادہ سکھے تمہیں مل سکتے ہیں
12:31اب اس سے زیادہ اسرار نہیں کر سکتی میں
12:35میری دعا ہے کہ اللہ تمہیں ان لوگوں کے ظلم کا مقابلہ کرنے کی حمد دے
12:40باورچی خانے کی آگ اور سہرہ کی دھوپ نے اس کا دماغ خوشک کر دیا ہے
12:45تم اس کی باتوں میں نہ ہو
12:47دیکھنے میں تو تم بہت ہی سمجھدار لگ رہے ہو
12:50لشکر کے سپاہیوں کی صفیں
12:53دولو ارز میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے
12:55ایک تم بھی
12:57کب؟
13:00جب تمہاری بھیڑوں کی قیمت سے کئی گناہ زیادہ سکھے تمہارے ہاتھ میں آ جائیں
13:04اس کے مقابلے میں آ جاؤں جس کی امامت میں لوگ نماز پڑھ رہے ہیں
13:12ہاں ہم بھی نماز پڑھتے ہیں
13:15نماز تو حسین بھی پڑھتا ہے
13:17مایار حق ہے
13:19جنگ جمل میں بھی دونوں لشکر اہلِ عبادت تھے اور اہلِ تقوی
13:23جنگ سفین اور نہروان میں بھی
13:26علی کی خلافت کے دوران
13:28اور اب اس کا بیٹا ہوں
13:30اس خاندان نے مسلمانوں کو لڑانے پر کمر کرسی ہوئی ہے
13:34حق اور ناحق کی یہ جنگ روزِ روشن کی طرح آیا ہے
13:38میں حق اور حقیقت سے ناشنا ہوں
13:40اس لڑائی سے میرا کوئی واسطہ نہیں
13:42کسی بھی لشکر کی خاطر نہ خون دوں گا اور نہ خون بہاؤں گا
13:46میں فقط ایک چروہا ہوں جس کی سکے آپ کے خزانے میں ہیں
13:49مجھے وضوع کے لیے پانی چاہیے
13:53باورچی خانے سے لے لو
13:55نماز پڑھنے کے بعد اپنے سکے لوں گا اور واپس چلا جاؤں گا
14:01حامید دھمکا کر گیا ہے
14:09مجھے ایسا ہی لگا
14:12اس پر بدکمانی بڑھ گئی ہے
14:15مجھے تو یقین ہو رہا ہے
14:17یہ آدمی مسلسل ابن سبیخ کی تلاش میں تھا
14:20مسلم کے انتقام لینے والوں اور ابن زیاد کی تشمنوں میں سے ایک
14:24ابن زیاد نے تو سب کے ہاتھ پاؤں باندھیے تھے
14:27ابن سبیخ ان میں سے کون تھا
14:28معروف نہیں جو سب کو یاد رہے
14:30یہ بتاؤ کہ ابن سبیخ کا بھلا ہم سے کیا واسطہ
14:34امیر کی جاسوسوں کو نہیں پہچانتے
14:36عقیدوں تک کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں
14:42ابن سبیخ کے ذریعے
14:44یقیناً اس کے نام کے ذریعے ہمارے لیے جال بچھایا ہوگا
14:48جنگ کے دوران
14:50کوئی بائید نہیں
14:52تبلے جنگ بچ چکا ہے اور
14:54لشکر والوں کے دل انتہائی مسترب ہے
14:57امیر نے جاسوس زیادہ کر دی ہوں گے
14:59تاکہ جنگ کے علاوہ کوئی اور رہ نہ بچے
15:01ابن زیاد نے جو لشکر کربلا کی جانب بھیجے
15:04ان میں سے گروہ کے گروہ فرار ہو گئے
15:06اب وہ ہمارے اعتقاد جاننا چاہتے ہیں
15:10سنا نہیں تھا
15:12کہتا ہے کسی لشکر کا طرف دار نہیں ہوں
15:14ہم میں سے کون ایسا کہنے کی حمد رکھتا ہے
15:18بھیڑوں کی صحیح تعداد بھی نہیں جانتا تھا
15:22چرواہوں کی طرح نہیں لگتا
15:24گفتگو کا انداز
15:26اور ایسے الفاظ
15:28شاید یہ چرواہا
15:30کاتبوں کے خیمے کی جاسوسی کے لیے ہے
15:34اب تک تو امیر کے جتنے جاسوس تھے وہ سب سپاہیوں کے لیے آئے تھے
15:38جناب معاویہ نے کم نقصان نہیں اٹھایا
15:42بدعقیدہ کاتبوں کی وجہ سے
15:44یہ تحریریں تاریخ ہیں
15:46تم لوگ کیا کہتے ہو اس جاسوس پر کڑی نظر رکھنی چاہیے یا نہیں
15:50بتاؤ
15:52میرا شک اور بھی زیادہ بڑھ گیا ہے
15:56مطلب بھیڑے اور اتنے سبیخ سب بہانہ تھا
15:59کوئی اقل مند شخص ان دونوں کے بارے میں پوچھنے کے لیے آخری خیمے تک جائے گا
16:05کیا میرا لہجہ اس کے ساتھ سخت تھا
16:08بھاگ گیا
16:10سردار بھاگ گیا
16:12کون سا سردار
16:14اس طرف گیا اور کب
16:16خیام حسین کی طرف
16:18نماز پڑھنے کے بعد
16:20گھوڑے کو پانی پلانے کا بہانہ کر کے وہاں سے پرار ہو گیا
16:24بھاگ گیا بھاگ گیا
16:26شاید وہ لڑنے کے لیے گیا
16:28نہیں صلاح کے لیے
16:30اکیلے بغیر کسی اصلے کے ذرا اور تلوار کے بغیر
16:33یہ وہی شخص تھا جس نے سب سے پہلے
16:35حسین کا راستہ روکا تھا
16:37اب باس نے اسے زندہ کیسے چھوڑا
16:39حسین ابن علی خود اس کے استقبال کو آیا
16:41میرا پورا دھیان وہاں تھا کہ سب کچھ اپنے ذہن میں محفوظ کرلوں
16:46خیام حسین کے پاس
16:48گھوڑے سے اترا
16:50سر کو چھکایا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھا
16:54تلوے صبح کی
16:56روشنی میں اس کا سایہ کسی ایسے شخص کے مانند تھا
17:00جیسے کسی کے کندھوں پر وزن ہو
17:02واپس آ گئے ہو
17:23ماں کے پیارے
17:26دنیا کی دھدکاری ہوئی ہو
17:29تم تو ایسا نہ کرو
17:32دور نہ جاؤ مجھ سے حسین بیٹا
17:35دن کا اجالہ ہو جانے دو
17:38تمہارا دل بھی نورانی ہو جائے گا
17:41اندھیرا ختم ہو جائے گا
17:44اندھیرا ختم ہو جائے گا
17:48یہ اپنے بیٹے کی آگ میں ہے
17:51امی سرید نے بتایا تھا
17:54تم اس کے پاس سے گزرتے ہو
17:56تو اس سے اپنا مراوہ بیٹا یاد آ جاتا ہے
18:00ماں کی محبت کا تقاضہ ہے
18:02اس کے بیٹے کو جانتے ہو
18:04میں نہیں جانتا ہوں
18:06جس دن سے آئی ہے کہتی ہے
18:08اس کا ایک فرمبردار بیٹا ہے
18:10ہم نے دو سے نہیں دیکھا
18:12ایسا لگتا ہے کہ اس کا بیٹا جنگ سے فرار ہو گیا ہے
18:16اور کل خبر آئی ہے کہ امیر کے سپاہیوں نے جنگ سے فرار ہونے والوں کو مار ڈالا ہے
18:21سب کو؟
18:23نہیں جانتی
18:25وضو کے لئے پانی چاہیے
18:29حسن
18:31پیارے بیٹے حسن
18:35حسن
18:37حسن جان
18:39حسن جان
18:41حسن جان
18:43نماز کس کی امامت میں؟
18:45فرادا
18:47یہاں نماز مت پڑھو
18:49یہ جگہ غصب شدہ ہے
18:51یہ تمہارے یہاں ہونے سے بیتاب ہو رہی ہے
18:53خدا کا شکر ہے کہ یہ جنگ اس وسیع بیعاوہ میں
18:55اس کا کوئی مالک نہیں جہاں بھی جو عبادت کا ہے
18:59حسن جان
19:01کہاں چلے گئے میرے پانی
19:03حسن جان
19:05سلام ہو بیعاوہ کے خیمہ نشینوں پر
19:11حسن جان
19:13حسن جان
19:15حسن جان
19:17تم میری جان کیوں نہیں چھوڑتے؟
19:19تمہیں اس تلخ لینجے سے کچھ حاصل ہوتا ہے؟
19:21حسن کی موت کی خبر صحیح لے کر آئے ہو؟
19:25کیا بلکل جون کا تُو آگاہ کروں؟
19:27ایک خبر لائے تھا جو دیکھا تھا وہ بتا دیا
19:35اس نے خود نشانیاں بتائیں میں جھوٹ بولتا کیا؟
19:39حسن کی خاطر مری جا رہی ہے
19:41یہ بات پرانی ہو گئی ہے
19:44اس شخص کی موجود کیسے حسن کی یاد دلاتی ہے؟
19:49وہ؟
19:50جس نے جنگی لباس نہیں پہنا؟
19:52ہاں
19:53جنگ کے دسویں دن لشکر جوشو جذبے میں ہے بہت
19:57اور ایسے میں یہ جنگی لباس کے بغیر؟
19:59کہتے ہیں وہ چروہا ہے؟
20:02ہاں
20:03امارا نے بھی کہا تھا
20:07کل چروہا آیا تھا اور اپنی بھیڑوں کی رقم لے گیا
20:12یہ ہی تھا؟
20:14اس نے چہرہ ڈاپا ہوا تھا
20:16لیکن جسامت تو بلکل اسی کی طرح رکھ رہی ہے
20:19کہیں یہ جاسوس تو نہیں ہے؟
20:23جاسوس بہت زیادہ ہو گئے
20:25پورے لشکر میں گھوم رہے ہیں
20:27اور پہچان میں بھی نہیں آتے
20:29اس کے بارے میں میرے باپ کو دلا دو
20:31اس کے بارے میں؟
20:33جا کر کہو کہ ہو سکتا ہے امیر نے نیا جاسوس یہاں بھیجا ہو
20:37دیر کس بات کی ہے؟
20:41اگر تمہیں تمہارے بابا سے پہلے پہچان گیا تو؟
20:43کوئی میرے باپ کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟
20:45مگر یہ کہ تم نے کسی کو بتایا ہوں؟
20:47اگر میرے باس میں ہوتا تو تمہیں ہر نظر سے چھپا کر رکھتا میں
20:51کوئی میرے باپ کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟
20:55مگر یہ کہ تم نے کسی کو بتایا ہوں؟
20:57اگر میرے باس میں ہوتا
20:59تو تمہیں ہر نظر سے چھپا کر رکھتا میں
21:02موسیقی
21:30کیا اس ہرزاروں کے لشکر میں ایسا کوئی نہیں تھا جو ہر پر وار کر سکتا؟
21:35کسی کے گمان تک میں نہیں تھا کہ حسین اسے اپنے قلعے لگائے گا
21:39حسین کا اسے معاف کرنا بہت بڑی بات ہے
21:43اور اپنے دشمن کی فوج کے سردار پر اعتماد کرنا بھی بہت بڑی بات ہے
21:48اس کے دل سے آگاہ تھا شاید
21:51لشکر میں شورو غل کیوں ہے؟
21:55اور ابن یزید ریاہی حسین کے لشکر میں شامل ہو گیا
21:58وہی سردار جو کوفہ سے تھا؟
22:00اکیلا یا اپنے لشکر کے ساتھ؟
22:02اکیلا؟
22:04اگر سردار ہی فرار ہو جائے تو لشکر والوں کا وہ جذبہ نہیں رہتا
22:08اب یہ سردار مخالف لشکر میں شامل ہو گیا
22:11لشکر میں شورو غلی سی بات کا ہے
22:14سب مزدرب ہیں
22:16فقط اس جیسے بے وقت لوگ ہی مزدرب ہیں
22:20سب کے دل کا حال تو فقط اللہ ہی بہتر جانتا ہے
22:25یاد رکھو جو دشمن کی فوج کے
22:27امیر کے پیچھے نماز پڑھا کرتا ہے
22:29اس میں سردار ہونے کی قابلیت ہی نہیں تھی
22:32اور نے خلیفہ کی خاطرخواہ خدمت کی ہے
22:34افسوس کہ اپنی جان کو سرسوائی کی بدلے بیچ ڈالا
22:38بہت ہی عجیب سمانہ ہے
22:40کہ دل کسی اور طرف ہے اور وہ خود کسی اور طرف ہے
22:45آنکھیں بند کر لینی چاہیے
22:47اور اپنی گریبان میں جھاکا جائے
22:50بیڑوں کی رقم؟
22:53سردار کے خیمے سے لا کر دیتا ہوں
22:57یقین آ گیا
22:58تمہاری بات بلکل ٹھیک تھی
23:00یہ دسترخان لوگوں کی اقتلفی سالودہ نہیں ہونا چاہیے
23:04میرے آنے تک تم یہی پر رکو
23:06میں ابھی آتا ہوں
23:08میدان میں جا کر لکھو گی؟
23:15ڈر ہے کہ بھول نہ جاؤ ابو نومان
23:18اس وقت لشکر کی حالت کو لکھا جانا چاہیے
23:20ابو تمیم اور ابو حمدان کا ہور کے بعد اس لشکر میں کیا کام ہے؟
23:33اگر امیر کی جگہ ہوتا تو حسین کا کام اب تک تمام کر چکا ہوتا
23:41اور کونسے قبائل ہیں جو یہاں جنگ کے لیے آئے ہیں؟
23:45قیس ابن عشاء سکندی
23:49تقریباً چار ہزار ربی اور کندہ کے جنگجوں کے ساتھ آیا ہے
23:55اس کے علاوہ عصدی اور مزہجی
23:58عبدالرحمن ابن ابی اسپرہ جوفی کی قیادت میں ہیں
24:03اس کے ساتھ ساتھ گوفہ شہر کے لوگوں کو
24:07عبداللہ ابن زہر ابن سلیم عزدی کی رہنمائی حاصل ہے
24:15قیس بن عشاء امرو ابن حجاج
24:19اور گوفہ کے بہت سے معززین کے جنہوں نے حسین کو خط لکھے تھے
24:24وہ بھی لشکر میں شامل ہیں
24:27عربوں کی اس خاندان سے نفرت کی کوئی حد نہیں
24:30شاید عربوں کی دولت سے محبت بھی بے انتہا ہے
24:37کہیں اور سے یہ حاصل نہیں ہو سکتی تھی
24:40اس قدر نہیں
24:41اس لشکر کے خون کے کترے ان لوگوں کے لیے سککوں کی بارش کے برابر ہیں
24:46یہ فقط نفرت میں نہیں آئے
24:48بہت سے لوگ کربلا کے راستے میں ہی فرار ہو گئے
24:54وہ بیغیرات اور بزدل
24:56جن لشکروں نے پڑاؤ کیا
24:58ان میں سے کوئی فرار ہوا
24:59ہاں بہت سے
25:02مثلاً وہ بوڑی عورت کا بیٹا بھی کربلا سے فرار ہوا
25:06کہاں
25:12نماز
25:13سورج طلوع ہونے والا ہے
25:15ابن سبیق کا پوچھ پتا چلا
25:17اور کے جانے کے بعد لشکر میں ہنگامہ برپا ہے
25:21ابن سبیق کو ٹھوڑنا ممکن نہیں
25:22حسین میدان میں آ گیا ہے
25:26جنگ کے لیے
25:30خطاب کر رہا ہے
25:34بلکل اپنے والد کی طرح
25:35جنگ کے آغاز سے پہلے کا خطاب
25:38آؤ تحریر کرو
25:39تحریر ابو عزیز اور ابو رافع کا کام ہے
25:43میرے ذمہ ان تحریروں کی جمع و ترطیب ہے
25:46وہ دونوں موجود نہیں ہے
25:48دل حسین کے الفاظ سننے کو بیچین ہے
25:50یہ لو
25:56لیکھنا شروع کرو
25:58اس حادثے
26:02میرا یہ حادثے ہی کام نہیں کرتا
26:05تمہیں نظر تو صحیح آتا ہے
26:06دیکھتے نہیں مجھے کام ہے
26:08اگر وہاں گیا تو میری نماز قضا ہو جائے گی
26:11تو نہ جاؤ
26:12خالیفہ بھی راضی نہیں ہوگا
26:13کہ اس کے بھیجے ہوئے سے واجب ترک ہو جائے
26:15ایک کام کی وجہ سے
26:32ابو نامان بھی ابن سبیغ سے کم نہیں ہے
26:34کس حوالے سے
26:35دو طرف ہونے میں
26:37جیسا تم نے کہا
26:38دل کسی طرف ہے اور خود کسی طرف
26:40اس کا دل اس طرف ہے
26:43نہیں جانتا
26:45مجھے شک ہے اس پر
26:46کبھی کبھی اس کی باتوں میں
26:49منافقت نظر آتی ہے
26:50ابن زیاد کا بھیجا ہوا نہیں ہے
26:53نہیں اسے خالیفہ نے شام سے بھیجا ہے
26:55ابو رافعہ اور ابو عزیز
26:57اس کے تابعے ہیں
26:58ہاتھ نہ کہا رہا ہے
27:00بس فضول بولتا رہتا ہے
27:02اگر دار الخلافہ سے آیا ہو
27:04تو تمہارا شک صحیح نہیں
27:05شام کے سب لوگ
27:07ایک جیسا عقیدہ اور سوچ رکھتے ہیں
27:09اگر یہ شام سے نہ آیا ہوتا
27:10تو اس کا خون بہانے میں دیر نہ کرتا
27:12کاتب اور قتل
27:13میں کاتب نہیں ہوں
27:15جب میں نے تلوار حمائل کی
27:17تو میری عرضو تھی
27:18کہ صفحے اول میں جنگ کروں
27:19پھر اس خیمے میں کیوں
27:23کہنے لگے تم جنگ میں مہارت نہیں رکھتے
27:25مفت میں جان گوا دو گے
27:27اور جو محکم پہاڑ تھا
27:29اس نے بھی اپنی جگہ چھوڑ دی
27:30اور میں جس کے خون میں
27:32حسین سے نفرت اور دشمنی ہے
27:34یہ جنگ عقیدوں کی جنگ ہے
27:36نہ کہ جسموں کی
27:37کس کا عقیدہ جیتے گا
27:41ابن ساتھ کے لشکر کا
27:43یہ جنگ کے بڑوں سے غلطی ہوئی ہے
27:46جن کا ایمان مضبوط تھا
27:48انہیں کلم اور
27:49ان کا کمزور تھا انہیں تلوار دیتی
27:50اس حد تک دشمنی کیوں ہے
27:52ہمیشہ خلفہ کے حکم کی مخالفت کرتے آئیں
27:55مجھے یہ بات کبھی اچھی نہیں لگتی
27:58اب جب کہ شجر اسلام مضبوط ہو رہا ہے
28:02چاہتے ہیں کہ اس کی شاخوں کو کارٹ ڈالے
28:05تمہارا یہاں آنا دشمنی کی آگ
28:08بجھانے کے لیے ہے
28:09فقط اس لیے نہیں
28:15عقیدے سے بڑھ کر بھی کچھ ہے کیا
28:20عشق
28:21اللہ کی پناہ
28:25ابو صاحب کی ایک لوتی بیٹی ہے
28:28تم اسی کوفہ کے سروتمند بوڑے شخص کی بات کر رہے ہو
28:32اس کی سب سے چھوٹی بیٹی
28:34اس نے تمہیں عصیر عشق بنا دیا ہے
28:37نہیں
28:37کوئی مجھے اپنے عشق کا عصیر نہیں کر سکتا
28:40میرا دل ان لوگوں سے ویسے ہی بھڑ چکا ہے
28:43یعنی دل نہیں ہارے
28:45میرا دل ابو صاحب کے مال پر فدہ ہوا ہے
28:51اس کی بیٹی پر نہیں
28:52خلیفہ کے سکھوں کی چمک نے ہزاروں کی لشکر کو چندیا دیا ہے
28:58اور میں بھی انہی میں سے ایک ہوں
29:03ابو صاحب نے کوئی شرط رکھی تھی
29:06میرا اسرار بے فائدہ تھا
29:08ابو صاحب اپنی اکلوتی بیٹی کا نکاح مجھ جیسے غریب و نادار کے ساتھ کیوں کرتا
29:14ایک بار میں نے اپنی جرات اور دلیری کے بارے میں کہا
29:19مطلب اس نے بہادری دیکھ کر تمہیں جنگ میں بھیج دیا
29:23نہیں ثبوت مانگا ہے
29:25ثبوت
29:26اس کی بیٹی کے حق مہر کی جگہ حسین سے کوئی غنیمت
29:36کیسی غنیمت
29:37جو بھی اس خنجر کی مدد سے حاصل ہو جائے
29:47اگر وہ اپنے وعدے سے پھر گیا
29:50تو یہ خنجر صرف حسین کے لیے نہیں ہے
29:55اگر چاہو تو ہم ایک معاملہ کر سکتے ہیں
29:59حسین کے الفاظ
30:07کس نے تحریر کیا
30:09ابو رافے
30:11ان کو ترطیب دو
30:13جب تک وہ اور لاتا ہے
30:15تعریف و تمجید ہے اس پروردگار کی
30:19جس نے دنیا کو زوال بزیر اور فانی قرار دیا
30:22بدبخت وہ ہے جو اس دنیا سے دل کو وابستہ کرے
30:25اور اس کے دھوکے میں آئے
30:26جو کوئی بھی اس سے امید باندھے مایوس ہو کر رہے گا
30:31حسین کی باتوں سے ان لوگوں پر کوئی اثر ہونے والا نہیں
30:36پورا میدان اس کی گفتگو میں گم تھا
30:40لشکر والی بھی
30:41اللہ بہتر جانتا ہے
30:43ابھی ختم نہیں ہوا
31:02ہمارا معاملہ بیچ میں ہی رہ گیا
31:04جو میں چاہتا ہوں وہ مشکل ہے
31:07لیکن ابو صاحب کے مطالبے سے زیادہ نہیں
31:11کتنے دوگے
31:13بھیڑوں کی رقم
31:16کس کام کے بدلے
31:18تم نے ادنے سبیق کو لانا ہے
31:20اس ہنگامے میں
31:22اس سے پہلے کی سورج دلو ہو جائے
31:25قبول ہے
31:27تمہارے لیے یہ مشکل کام نہیں اور اس کے تمہیں سکے بھی مل جائیں گے
31:31میں تو جانتا ہوں
31:34بھیڑوں کے سکے ملنے والے نہیں
31:36اگر میرا امتحان لینا چاہتے ہو
31:39تو بتا دوں
31:40میں ابن سبیق کے ساتھ نہیں ہوں
31:42لیکن اس کے بدلے سکے لوں گا
31:45اگر بھیڑوں کی رقم سے
31:48تمہارا دل راضی نہیں ہے تو
31:49ابن سبیق کے پاس میری امانت ہے
31:52اس میں سے تمہیں راضی کر دوں گا
31:53موسیقی
Comments

Recommended