Skip to playerSkip to main content
  • 10 months ago
Episode 1_7 📜 KATIB-E-AZAM _ Drama Serial on Karbala History 🎤
Transcript
00:00اے لوگو میری بات سنو اور جلبازی سے کام مت لو
00:06تاکہ میں تمہیں نصیحت کروں جو تمہارا مجھ پر حق ہے
00:10اور تم پر حجت تمام کرتوں
00:13بس اگر تم انصاف سے کام لو تو فلاح پا سکتے ہو
00:17بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
00:36بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
00:55جفا کے تیر کھائے جا رہے ہیں
01:12بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
01:26بیٹھاتے تھے نبی
01:34کاندھوں پہ جن کو
01:40بیٹھاتے تھے نبی
01:48کاندھوں پہ جن کو
01:54وہ نیزوں سے گرائے
02:00جا رہے ہیں
02:06بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
02:10بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
02:26موسیقی
02:36موسیقی
02:38موسیقی
02:40موسیقی
03:06حسن
03:10حسن
03:14ماں کی جان
03:20کہاں دیکھ رہے ہو
03:24تمہارا غم کافی نہیں تھا جو اب خود کو ماں کی نگاہوں سے دور کر رہے ہو
03:29میرے سامنے کیوں نہیں آتے
03:36مجھ سے ناراض ہو کیا
03:41عالمِ پر ہوت ہے یا قیامت سے پہلے ہی میدانِ حشر پر پا ہے
03:51میری طرف دیکھو
03:54کچھ تو بولو تاکہ یقین ہو کہ تمہاری موت کی خبر سچ نہیں
04:01میرے دل کو راحت بخشو میرے لال
04:05یہ عذیت ختم کرو
04:09تم سے کہہ رہی ہوں حسن
04:12حسن
04:14حسن
04:23حسن
04:27حسن
04:31موسیقی
04:37موسیقی
04:39موسیقی
04:41پانی کیوں تم نے ضائع کیا لڑکی
04:47اسے چہہ نہیں آ رہا
04:48اپنے چہرے سامنے نہیں لاتے
04:50لیکن میں ان کی نگاہوں کو محسوس کر رہی ہوں
04:53آخر کون کمبخت ہے جو دیکھ رہا ہے یہاں
04:56ہاں کہاں ہے
04:57بتاؤ مجھے
04:58جلدی بتاؤ کہاں ہے میں اس کی آنکھیں باہر نکال دوں گی
05:01تمہیں خدا کا واسطہ ہے
05:03اپنے آپ کو نہ چھوپاؤ
05:04اپنے آپ کو نہ چھوپاؤ
05:06آرام سے
05:07کیا تم انہیں دیکھ سکتی ہو
05:10کون ہے وہ
05:11حسن ان کے ساتھ تھا
05:14میرے حسن کو بچا لو
05:18میں تم سے اتجا کرتی ہوں
05:20اس کی آنکھوں کو تو کھولنا ہی نہیں چاہیے تھا
05:22میرے حسن کو بچا لو
05:26میری دنیا کو اندھیر مت کرو
05:31میری دنیا کو اندھیر مت کرو
05:35وہ عربی ہے یہ عجمی
05:37حسن ان کے ساتھ تھا
05:39میں نے دیکھا ہے وہ مجھے دیکھے بغیر چلا گیا
05:43اپنے آپ کو قابو میں رکھو
05:44تمہاری یہ پاگلوں والی باتیں سننے تو تمہاری جان بھی جا سکتی ہے
05:47اگر انہوں نے جان نہیں لی تو میں مار دوں گی
05:49کل کو تم ہی مجھے دعا دوگی کہ میں نے تمہیں اسے باندھ کر
05:53تمہاری زندگی کو خود تم سے ہی نجاتی لائی ہے
05:55آرام سے باندھو اس کا زخم تازہ ہے کھل جائے گا
05:59اگر میں نہ بانتی تو اپنے بیٹے کے غمیں خود کو ہلا کر لیتی ہے
06:02اس قدر حسن حسن نہ کرو
06:04وہ تمہاری لیے شرم ساری کا باعث ہے
06:06دیکھو اپنے ساتھ کیا کیا ہے تم نے
06:08واقعی حسن کی موت شرم کا باعث ہے
06:10وہ مرا نہیں ہے
06:12میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا میرا یقین کرو
06:15سنی سنا ہی باتوں کا کیا بھروسہ
06:17آج دن میں مرنے والوں کے بارے میں جب بتا رہے تھے
06:20تم نے خود کہا تھا ان میں سے ایک حسن ہے
06:22شاید اس کو غلط فہمی ہو گئی ہو
06:24اور اب اپنے ہی کہے پر پشمہ ہو
06:26شت کیا غلطی
06:28اسی امید مت دلاو
06:29سچ سمجھنے دو تاکہ اسے چین آ جائے
06:32اس کے غم کو تازہ کیوں کہہ رہی ہو
06:35میں چاہتی ہوں اس کی جان بچائے کم اقل
06:37اس کی جان اپنے اکلوتے بیٹے حسن میں تھی
06:39اس نے خود ہی اپنی اس جان کو خطرے میں ڈالا
06:42اور خود ہی اس نے حسن کو بھگانے کی را بھی ہموار کی
06:45وہ رہنا ہی نہیں چاہتا تھا
06:46اب بھی نہیں رہا
06:47نہ جنگ کے لیے اور نہ ہی اپنی ماں کے لیے
06:49غم کو تازہ نہیں گرے
06:51پہلے ہی حسن کے فراق نے اس کی یہ حالت بناتی ہے
06:54اس کی ساری پریشانی اپنے بیٹے کے غم کی وجہ سے نہیں
06:58پتہ نہیں
06:59اس بیابان میں ایسا کیا ہے جو وسوسوں کو جنم دیتا ہے
07:02کل میں نے بھی کچھ سائے دیکھے
07:05امہ حسن کی بیماری تمہیں بھی لگ گئی
07:08یہ تنس کرنے کا وقت نہیں ہے
07:10میں تنس نہیں کر رہی
07:12جلدی کرو لڑکی
07:13سورج نکلتے ہی اس یاجوچ ماجوچ کے لشکر کو بھوک لگ جائے گی
07:17اور اگر کھانے میں دیر ہوئی تو پھر ہماری خیر نہیں ہوگی
07:20کہا ہو تم حسن
07:30تھوڑا صبر کرو
07:33اتنا پریشان نہ ہو تم نے اپنے بیٹے کو اچھی جگہ بھی جائے
07:37اگر وہ مر گیا ہو تو
07:39اس کی شرمناک موت کو کیسے پیتاش کروں گی
07:43ہمارا زندہ رہنا شرمناک ہے
07:45ناک ہے حسن کی موت
07:47کہا ہو حسن
07:50حانیہ
07:51تم تو مجھ سے ملنے بھی نہیں آئے
07:57کب سے یہاں ہوں
08:03کل رات سے
08:07کھاتے اور سوتے نہیں ہوں
08:09میری بھوک اور نین کسی نے چھن لی ہے
08:11یہاں کیوں آئے ہو
08:12بس اسی کی تلاش میں آیا ہوں
08:14لشکر کی طرف لوٹ جاؤ
08:16صبح ہونے تک یہاں پر کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے
08:18غصہ مت کرو حانیہ
08:20میں غصہ نہیں کر رہی
08:24تم بے شرمی کی حد سے گزر رہے ہو
08:26اس سے پہلے کہ امی صلیب کو آواز دوں
08:28چلا جاؤں
08:30تمہارے لیے خبر لے کر آیا ہوں میں
08:33اب کسی اور کو مصیبت میں ڈالنا ہے
08:35مجھے کیا معلوم تھا
08:37اس نے خود ہی کہا تھا
08:39کہ لاشوں میں سے اگر کسی جوان کو دیکھا ہے
08:40تو اس کے بارے میں بتاؤ
08:41اس کی موت کا اعلان کرنا ضروری تھا
08:44میں نے جو دیکھا تھا بس وہ بتایا
08:46جاؤ یہاں سے اپنا کام کرو
08:49ادھر دیکھو سرا
08:50کیسا لگ رہا ہوں میں
08:52سب کہہ رہے تھے کہ لگتا ہے
08:56خدا نے تمہارے لیے خاص طور پر
08:58یہ جنگلی باز بنوا کر بھیجا ہے
08:59ویسے تم نے اس طرح موں کیوں بنا لیا ہے
09:02تمہیں پسند نہیں آیا
09:03تم آخر میرے لگتے کیا ہو
09:09جو میں اپنی پسند یا نا پسند کا تمہیں بتاؤں
09:11تمہارے بابا نے ہی شرط رکھی تھی
09:13کہ پہلے کوئی کام دھندہ کروں
09:14اس کے بعد تمہارے لیے رشتہ لے کر آؤں میں
09:16اس لشکر سے مجھے بہت سے سکھے ملنے والے ہیں
09:19تم تو پسندل تھے
09:22آشک ہونے کے لیے شیر کا دل چاہیے
09:25تمہاری فضول باتیں سننے کی عمد نہیں ہے مجھ میں
09:27کہتے ہیں کہ جو آج تلوار ہمائل کر کے آئے گا
09:30اسے انعام میں بہت سے سکھے دیے جائیں گے
09:32تم تو جانتی ہو
09:35مجھ میں تلوار چلانے کا حوصلہ نہیں ہے
09:37یہ سب کچھ بس تمہاری خاطر
09:40میں چلتا ہوں اس سے پہلے کے سپاہی آ کر
09:48مجھ سے پوچھ گچھ کرنے لگے
09:49ہانیا
09:52ایک شکستہ دلاشک کے ساتھ
09:55اس طرح کبرداؤ کرنا بلکل ٹھیک نہیں
09:57جلدی اٹھ جاؤ
10:18یہ کیا کوئی سونے کا وقت ہے
10:22تو میں کہہ رہا ہوں امارا
10:27اب نین سے جاگ جاؤ
10:29کہ ہماری عبدی نین میں اب زیادہ وقت نہیں بچا
10:32اٹھ جاؤ
10:33میرے علم کے مطابق اللہ نے رات اس لیے بنائی ہے
10:37کہ اس کی مخلوق آرام کر سکے
10:39ذرا اٹھ کر دیکھو
10:41یہاں خیمے میں نقب لگی ہوئی ہے
10:43یہ
11:04تمہیں ڈر ہے کہ یہاں سے کوئی اندر آیا ہوگا
11:08تمہارا شور ان تحریروں کی قدروں اہمیت تک نہیں پہنچ سکتا
11:13میری اکل اتنا تو سمجھتی ہے
11:15کہ یہاں سے کوئی بکری کا بچہ بھی آسانی سے نہیں گزر سکتا
11:18چور کیسے آئے گا
11:19سنو
11:24تم نے کسی کو یہاں تو نہیں دیکھا
11:28کوئی بہار سے کہیں اس خیمے میں داخل تو نہیں ہوا تھا
11:31چلاو مات
11:33یہ گنگا ہے یا گدھا ہے
11:38تمہیں دار الخلافہ لے جایا جائے تھا کہ لوگوں کو ہنساؤ
11:43تمہیں نہ جنگ آتی ہے نہ کتابت
11:47آخر کیوں کوئی یہاں ان تحریروں کی تلاش میں آئے گا
11:51ان سب کو اچھے سے دیکھو کچھ کم نہ ہوا ہو
11:54یہاں کیا لینے آئے ہو
12:07مسافر ہو
12:09میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میدان جنگ میں کسی خاتون کو دیکھوں گا
12:12میں نے بھی ابھی تک کوئی سپاہی جنگی لباس کے بغیر نہیں دیکھا
12:16سپاہی نہیں ہوں
12:24اگر جنگ دیکھنے کے لئے آئے ہو
12:27تو جان لو جلد ہی دونوں لشکروں کے درمیان کا فاسطہ
12:31تلواروں چیخ و پکار کی صداوں سے پور ہو جائے گا
12:34جنگ سے کوئی سروکار نہیں
12:36اس بیعبان میں تفریقی غرص سے آئے ہو
12:44ہانیا
12:45کہاں ہو لڑکی
12:47باورچی خانے کے کام ابھی بھی رہتے ہیں
12:50کیا کہہ رہا ہے یہ
12:52نہیں جانتی
12:55ہمارے خیمے میں کس کام سے آئے ہو
12:57دراصل میں ایک چروہا ہوں
12:59نزدیکی دھیات سے آئے ہو
13:00تاکہ اپنی بھی
13:01تفریق کے لئے مناسب دن نہیں ہے
13:02میں تفریقی غرص سے نہیں آیا
13:05پھر آنے کی وجہ
13:06یہاں سب کی زبانیں اتنی تلخ کیوں ہیں
13:08دوسرے خیمے والوں کی زبانیں تلواروں کی طرح ہیں
13:10کہیں تم وہی چروہی تو نہیں
13:12جو دو دن پہلے سپاہی چند بھیڑ لائے تھے پکانے کے لئے
13:16بیس بھیڑ تھے وہ
13:22یہ کاتیبوں کا باورجی خانہ ہے
13:24ہم عورتوں کا کوئی عمل دخل نہیں
13:26اپنے سکو کا تقاضہ اس خیمے کے مردوں سے کرنا چاہیے تمہیں
13:29آپ ابن سبیغ نام کی کسی شخص کو جانتے ہیں
13:31یہاں ہزاروں سپاہیوں میں سے کوئی ایک نہ ایک تو ہو گئی
13:35میں نے سنا ہے کہ ابن سبیغ کربلا کی طرف آیا ہے
13:38کب اور کس کام سے آیا ہے جانتے ہو
13:40ہر روز سیکڑوں لوگ اس لشکر میں شامل ہوتے ہیں
13:44اگر معلوم ہو کہ کب آیا ہے اور کس کام سے
13:47تو شاید اسے ڈھونڈ پاؤ
13:48آج بہت خطرناک دن ہے
13:51انسان اپنے آپ کو ہی گم کر دے گا
13:55تو پھر کیسے ممکن ہے تم اس شخص کو ڈھونڈ پاؤ
13:57صحیح کہہ رہی ہے
14:00کل رات سے اس بیابان میں عجیب و غریب آہٹے سنائی دے رہی ہے
14:04یہ بیابان خطروں کو جنم دیتا ہے
14:08تلواریں نیام سے باہر ہیں
14:10خون اور جنون کی بھوم احسوس نہیں کر رہے
14:14پہلی غلطی تمہاری یہ ہے
14:17کہ آج کے دن اپنی رقم کے لیے آئے ہو
14:19اور دوسری غلطی اپنی موت کو دعوت دینے کے برابر ہے
14:23اگر اپنی جان پیاری ہے تو کسی کو تلاش نہ کرو
14:27خاموشی سے اس خیمے میں جاؤ
14:29سوچ کیا رہے ہو
14:34اس عورت کو نہیں دیکھ رہے
14:36کیا وہ قیدی ہے
14:37جان سے جاتی ہے گربانتے نہیں
14:39یہاں کے زمینوں آسپان پریشانیوں کو جنم دیتے ہیں
14:42سیدھے ساتھے چرواہے لگ رہے ہو مجھے
14:45تم بھی مبتلا ہو سکتے ہو
14:47ویسے ایک بات بتا دوں تمہیں
14:53اس خیمے کے بھیڑیوں سے
14:56اپنا حق لینا تمہارے بس کی بات نہیں
14:58میرے ساتھ آؤ
15:00اور تم خیمے میں جاؤ
15:02پانی کی مشکے بھر کے یہاں سامنے رکھ دوں
15:04یہ تو میرے حسن کی قدو کی آواز ہے
15:08حسن
15:10ماں قربان جائے
15:12اتنا حسن حسن کرو
15:13کہ وہ تمہاری رسوائی کا بائز بن جائے
15:15آجاؤ
15:17اب یہ بے زبان کیا کہہ رہا ہے
15:31یہ کہہ رہا ہے کوئی اس سندوق کی طرف نہیں گیا
15:34یہ سندوق پر سامپ بن کر بیٹھا رہتا ہے
15:39پھر کوئی کیسے جائے گا اس سندوق تک
15:42اس طرح سے دیکھتا ہے جیسے میں نے اس کے باپ کا کرز دینا ہے
15:46دے ہو گئی کا
15:47یقیناً پھر وہ تمہیں پہچان گیا ہوگا
15:50میں اس سندوق پر نگاہ ڈالنے کی جرد کر سکتا ہوں
15:54ان صفوں کے درمیان ابو رافی کی تحریر
15:59مجھے کہیں نظر نہیں آ رہی
16:01خود دیکھ لو
16:02میں دیکھتا ہوں
16:12تم صحیح کہہ رہو ان میں تو کوئی رب نہیں ہے
16:20امارا یہ دیکھو یہ وہی تحریر نہیں
16:24پڑھو
16:25اس تحریر میں لکھا ہے رات ہے اور
16:28سورج تلو ہونی ہی والا ہے
16:31لشکر اسلام حملے کے لیے تیار تھا
16:34اور ایسے میں دشمن نے
16:35محلت مانگ لی
16:36امیر کے پاس ایسا لشکر تھا جو اسلحے اور ایمان سے لیز تھا
16:41جان ہتھیلی پر اور
16:43ارادے مسمع
16:45آج سب امیر کا ایک آسد پہنچا
16:46سلام ہوں محترم قاطبوں پر
16:48یہ شخص چرواہ ہے
16:53اور اپنی بھیڑوں کی رقم لینے آیا ہے
16:55بھیڑوں کی
16:56جی بالکل وہی جس کا دو دن پہلے گوشت کھایا ہے
16:59تمہارا نام
17:02حاتم
17:03باپ کا نام بتانے کے لائق نہیں ہے
17:06دراصل ہمارے ہاں اپنے اجداد کے ناموں پر فخر نہیں کیا جاتا
17:10خود کو قابل فخر بناتے ہیں
17:13تمہارا بھو
17:20یہی نزدیک کا رہنے والا ہے
17:22کیسے بے رسم و رواج عرب
17:25میں چاہ رہی ہوں اس کی رقم اسے دے دیجئے کہ ہی اس جنگ میں بے گناہ نہ مارا جائے
17:30ہم قاطب ہیں
17:31یہاں قلم و دوات اور الفاظ ہیں اور کچھ نہیں
17:35ہمیں سکھوں سے کوئی سا روکار نہیں
17:37امیر کے خیمے میں جاؤ تمہارا کام وہی ہوگا
17:42امیر کا خیمہ تو لشکر کے درمیان میں ہے
17:45یہ بے حضب و نصب تلوار اٹھا لے گا
17:50ابو شجا کا سندوق اس خیمے میں ہے
17:56وہ خود نہیں ہے
17:57یہ وحشی اس کی نگرانی کر رہا ہے جو ایسے دیکھتا ہے جیسے ابھی کھا جائے گا
18:01چروہے کو لے جاؤ یہاں سے
18:04چلو یہاں سے
18:08یہ چروہہ کون تھا
18:14نہیں جانتا
18:17کہیں ابو عزیز کی جگہ ابو رافع کا نام تو نہیں رکھ دیا
18:22اور ان کی تحریریں مخلوط ہو گئی ہوں
18:25ان دونوں کی لکھائی کو بہت اچھے سے جانتا ہوں میں
18:29جانتا ہوں میں
18:31وہ جو تمہارے ہاتھ میں ہے وہ ابو رافع کی تحریر ہے
18:36آخر کون ہو سکتا ہے جو یہاں آئے اور سفے چُرا کر لے جائے
18:48یہاں سے کوئی گزر ہی نہیں سکتا ہوں
18:52ایک بار پھر پورے دھیان اور مکمل غور سے دیکھو
18:56اس کے انکشاف سے پہلے
19:00مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں
19:02خیمے کے اس طرف کھڑا تھا اور میدان کی طرف دیکھ رہا تھا
19:06کہ یہ بے زبان خیمے سے باہر آیا
19:08اور خوف کی حالت میں مجھے اندر کھینچ رایا
19:12مجھے یہ ڈر ہے کہ وہ بھی تمہاری طرح سو گیا ہو
19:15اور کوئی ہماری نظروں سے اوچھل ہو کر
19:17خیمے میں داخل ہو گیا ہو
19:19یہ بھی تو ممکن ہے نامارا
19:21اگر تحریریں نہیں ملتی ہیں تو
19:27انھیں ہم خود لکھ لیتے ہیں
19:30امیر کی شان میں
19:32میں لکھ سکتا ہوں
19:34کیا ابو نوامان مر گیا ہے جو
19:37تم جیسے کم عقل اور کم تجربکار کے ہاتھوں
19:40تاریخ میں کسی طرح کی تحریف ہو
19:42یہ آذان پہلے جیسے نہیں ہے
19:59یہ حسین کے خیموں کی طرف سے آ رہی ہے
20:02یہ حسین کے خیموں کی طرف سے آ رہی ہے
20:11روح ہے الفاظ میں
20:18لگتا ہے فرشت موزن کے دہن سے الفاظ لے کر
20:24ہم تک پہنچا رہے ہیں
20:32یہ کس کی آواز ہے
20:41نہیں جانتا
20:44رسول خدا جیسی آواز ہے
20:48شیریوں خوشکوار
20:51اپنے دشمنوں کے دلوں میں روپ ڈالتی ہوئی
20:58پرغمبر کی تلاوت قرآن جیسی آواز
21:01تم لوگوں کو بھی اس آواز کے جادو نے جکڑ رکھا ہے
21:07یہ آزان کون دے رہا ہے
21:09حسین نے علی اکبر کو آزان دینے کے لیے کہا ہے
21:13اس کا کوئی خاص مقصد
21:16حسین کی جان ہے اپنے اس بیٹے میں
21:19جنگ کی صرف اپنے سب سے پیارے بیٹے کو آزان کے لیے منتخب کرنا
21:25یعنی اب جو بھی اس طرف ہے
21:27اپنی جان سے ہاتھ دو بیٹھا ہے
21:30اس بیابان میں اور کوئی بھی موزن تھا
21:37ابو عزیز کا دھیان رکھنا کہیں تہریروں کی طرف نہ جائے
21:42میں نہیں چاہتا اسے معلوم ہو کہ ہم سے کچھ کم ہو گیا ہے
21:47اگر اسے پتا چلا تو فوراں خلیفہ کو خبر پہنچائے گا اور پھر شاید ہمارے جنازی بھی کھر نہ پہنچیں
21:57یہ بیچارہ کیا کرے؟
22:03ویسے وہ تمہارا کیا لگتا ہے؟
22:10کچھ وقت پہلے تک تو اچنا بیٹھا اور اب ہم دردی کا رشتہ ہے
22:13درس آتا ہے اس پہ
22:16چاہتی ہوں کہ اس کا مسئلہ حل ہو جائے
22:18اس رحم دلی کو لے جاؤ باورچی خانے والے خیمے میں
22:22اس سے پہلے کہ بھوکے کوفی اور شامی تمہاری جان کے دشمن بن جائیں
22:29جا رہی ہوں میں
22:31آپ اس کی رقم کو توفان میں ٹوپنے سے روک لیجے
22:34چرواہے کا میدان جنگ سے کیا واسطہ؟
22:37کچھ زیادہ ہی فکر ہو رہی ہے تمہیں
22:39میرا خیال ہے کہ تم بھی اپنے ہاتھوں کو وہاں جا کر باندھ لو
22:44صندوق جو آپ کے خیمے میں سکوں سے لبالا پڑا ہوا ہے
22:48اس صندوق کا مالک ابو شجا ہے
22:52چند سکی اگر کم ہو جائے تو کس کو بتا چلے گا؟
22:55وہ محافظ جو خیمے میں بیٹھا ہے
22:56اس کی نظر بھی اس کے خنجر کی طرح تیز ہے
22:59یہ بیچارہ کیا کرے پھر؟
23:03صبر کرے جب تک ابو شجا پہنچتا ہے
23:14تاجب ہے اس وحشی کے چہرے پر بھی مسکراہت نظر آئی
23:19کچھ معلوم نہیں ہے کہ یہ کیوں ہس رہا ہے
23:22اس گرمی نے اس کے مغس کی بچی کچی نمی کو بھی خوش کر ڈالا ہے
23:26تمہارا اسے کوئی کام نہیں
23:29اصول ہے جو بول نہیں سکتا اپنا غصہ خنجر کے ذریعے نکالے گا
23:35یہ نہیں تحریر ہے آزان صبح تک کی
23:37یہ کس لشکر کی ہیں؟
23:43یہاں تو کچھ نیا نہیں تھا
23:46وہی ہر رات کی طرح تساحل اور ازدراب
23:49تو تم گاتبِ حسین تھے آج رات؟
23:54کیا کروں کہ اس جنگ کے اجائب
23:56اسی طرف سے نمدار ہوتے ہیں؟
24:00اندھیری رات ہے اور روشن بیابان
24:03جنگ کے دونوں اطراف سب کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں
24:11اگرچہ یہ جنگ کی خصوصیت ہے
24:15کہ وہ اس طرح آپ کو جنم دیتی ہے اور امید کا قلعہ گھوٹی ہے
24:20مگر حسین کے خیموں کے احوال نے مجھے اپنے لشکر سے بلکل الگ کر دیا
24:29دشمن کے خیموں کے نزدیک؟
24:36میں اندھیرے میں چھپ گیا تھا
24:38کیا دیکھا؟
24:40ایسا امیر لشکر جس سے لوگ دلی طور پر وابستہ ہیں
24:43رات جب وہ اپنے پیروکاروں کے درمیان میں موجود تھا
24:47ایسا لگتا تھا جیسے انگوٹھی میں نگینہ ہو
24:51حسین نے کہا کہ وہ چلے جائیں
24:55انہوں نے اپنے اصحاب سے بیعت واپس لے لی تھی
25:00اس لشکر کا امیر بہت عجیب لگا مجھے
25:04جو جنگ اور مقابلے کی ایسی فضا میں گنتی کے اصحاب سے بھی بیعت واپس لے لیتا ہے
25:10کتنے لوگ چھوڑ گئے؟
25:12چھوڑ گئے؟
25:16بلکہ اپنے امیر کے ساتھ پہلے سے زیادہ بڑھ کر ازار محبت کیا
25:20ہر ایک اس امیر کی خاطر اپنی ہزار جانے قربان کرنے کو تیار تھا
25:25سب کو موت کا اشتحاق ہے
25:28جیسے تم بتا رہے ہو پھر تو وہ زیادہ ہیں
25:35اس جذبے کے ساتھ
25:39ہر ایک کو دو کے برابر گنا جانا چاہیے
25:41دس کے برابر
25:42سو سو بار جانے قربان کریں گے اس کی خاطر
25:47کاش تم وہاں ہوتے اور دیکھتے
25:53حسین کے جانساروں کی رات تلاوت قرآن
25:57اور دعا و مناجات کی رات تھی
26:00رات میں ابو رافق کے ساتھ میدان میں گیا تھا
26:04کچھ لوگوں کو حسین کے خیموں کے پیچھے دیکھا
26:06بتاؤ وہاں پر کون لوگ تھی؟
26:10حسین نے خیموں کے پیچھے خندق کھو دی ہے
26:12اس کے اصحاب نے پورے جوش و جذبے سے اس کا ساتھ دیا
26:16اور خندق کو لکڑیوں اور کانٹوں سے بھر دیا
26:19یقیناً وہ چاہتے ہیں کہ جنگ
26:21آمنے سامنے ہی لڑی جائے
26:24میں اچھی طرح جانتا ہوں
26:26کوفی خبیصوں میں بے غیرت لوگوں کی کمی نہیں
26:29آدھی رات کا وقت تھا کہ اصحاب حسین نے
26:32تلواروں کو نیام سے نکالا
26:33بغاوت؟
26:35مجھے یہی محسوس ہوا
26:37میں نے ارادہ کیا کہ فوراں واپس پلٹوں اور امیر کو
26:40اس واقعے سے باخبر کروں
26:42اچانک حبیب ابن مظاہر کی آواز سنائی دی
26:45سب آخری خیمے کے باہر اکھٹے ہو گئے تھے
26:49وہ جو خیمہ پوشیدہ تھا
26:52خواتین کا خیمہ
26:53خواتین کے خیمے سے انہیں کیا کام؟
26:57ویسے خواتین بہت پریشان تھی
26:59ہزاروں کے لشکر کو دیکھنے کے بعد
27:01حسین کی زندگی کے لیے فکر مند تھی
27:06آشقان حسین آئے تاکہ
27:10حسین کے ساتھ وفاداری کو ثابت کریں
27:14حسین کے اصاب شاید نہیں جانتے
27:16آج ان کا کام تمام ہے
27:19ہمارے لشکر کی تعداد
27:22اس سہرہ کی ریت کے ذرات کی مانت ہے
27:24ان کے خیمے ایک ایک کر کے خالی ہوتے جائیں گے
27:27اور پھر آخر میں وہ پوشیدہ خیمہ
27:31حسین
27:33ماں کی جان
27:37ماں
27:44میری پیاری ماں
27:51یہ رہا لشکر کا تفصیلی اور آخری منظرنامہ
28:16جو بھی دیکھا یا سنا سب قلم بر کر لیا
28:20سلام جنابِ قاتب
28:23آپ نے میدان سے واپسی پر کیا ابو شجا کو تو نہیں دیکھا
28:28دوبارہ پھر وہی
28:29اس مشکوک اجنبی کو جانے دو
28:32جو بھی اہلِ جنگ نہیں کیا مشکوک ہے
28:34کون ہے یہ شخص
28:36چرواہا
28:37جس کی بھیڑوں کے گوشت کا دو رات پہلے شانہ کھانا کھایا گیا تھا
28:42اللہ کی قسم میرے والد بیگ چرواہے تھے
28:45اور ایک دن ان کے پاس کچھ سپاہی آئے اور ان سے دو بھیڑے لے گئے
28:49جب تک وہ زندہ رہے ان بھیڑوں کا غم ان کے دل سے نہیں گیا
28:52وہ خود کہاں آئے
28:54یہی خیمے کے باہر
28:56ابو شجا کا منتظر ہے
28:58میں کیا اسے اندر بلاؤں
29:00نہیں نہیں ضروری نہیں
29:01آزان سے قبل دیکھا تھا اسے
29:06امیر کے خیمے کی طرف جا رہا تھا
29:08وہ کب آئیں گے
29:10جو سپاہیوں سے ہمیں پتا چلا ہے
29:12جیسے ہی سورج نکلے گا
29:14تبلے جنگ بجا دیا جائے گا
29:16اگر اس وقت وہ جنگ میں ہے
29:17تو فیلال واپسی ممتی نہیں
29:19وہ واپس ضرور آئے گا
29:20اس کا سب کچھ یہاں ہے
29:22یہی رہو جب تک ابو شجا آتا ہے
29:29ان لوگوں کے سامنے ڈٹ کے کھڑے رہو
29:32تمہارے سکھے انہی کے پاس ہیں
29:33لیکن اپنی جان سے نہ چلے جانا
29:35میں باور جی خانے میں جا رہی ہوں
29:38یہی رکھو اس کے
29:38کیا یہ لوگ بھی ابنے سبیق کو نہیں جانتے
29:40اب اتنے سادھا پینا منو
29:42بہتر ہے ابنے سبیق کو بھول جاؤ
29:44جس نے میں تمہیں کہا ابنے سبیق سکھ کے
29:46تمہاری ہتیلی پہ رکھتے گا
29:48تو غلط کہا ہے
29:49تم نہیں جانتے یہ لوگ شیطان کو درست دیتے ہیں
29:52کہیں اپنی سادھا لوہی کی وجہ سے
29:54اپنی جان نہ گوا دینا
29:55یہی رکھو
29:57یہ ابو شجا تو نہیں
29:59سلام ابو شجا پر
30:05یہ چرواہ ہے
30:22دو دن پہلے والی بھیڑنے اسی کی تھی
30:24پھر
30:25اپنے سکھوں کیلئے آیا ہے
30:26تمہیں یہاں سکھ کے نظر آ رہے ہیں
30:28یہ سب کاتب ہیں بیچارے
30:31وہ بھی کاتب ہیں
30:33وہ محافظ ہے
30:36کاتبوں کے خیمے کو محافظ کی ضرورت ہے
30:40تاکہ کسی اجنبی کی تہریروں تک رسائی نہ ہو
30:44پھر وہ سکھوں کی صندوق پہ کیوں بیٹھا ہے
30:46تمہاری زبان بہت چلتی ہے
30:50موت سے پہلے ہی مرنے کی خواہش مند ہو
30:53میں اس بیچارے کی خاطریہ ہوں
30:55کہیں اس کا حق نہ سایا ہو جائے
30:57موت سبھال کے بولو
30:58لشکر اسلام اور کسی کا حق ضائع کرے
31:01میں نے بھی اس سے یہی کہا ہے
31:03اس کی بھیڑوں کی رقم اسے دیں
31:05تاکہ اسلام پہ کوئی بات نہ آئے
31:06جاؤ اپنے سکھے امیر کے خیمے مچا کر لے لو
31:09آج
31:11اس خطرناک جنگ میں
31:13جس کی تیاری میں کئی دن گزر گئے
31:16اسے سکھے دیں تاکہ ہی زندہ سلامت
31:18اس بیابان سے اپنے گھر کو لوٹے
31:19کتنی بار کہوں
31:21کہ اس صندوق میں بھیڑوں کے لیے سکھے نہیں ہیں میرے پاس
31:24بس تھوڑے سی سکھے دیں تاکہ یہاں سے چلا جائے
31:26بس بھی کرو
31:27آپ نے میرے دماغ سے سب منظر بھلا دیئے
31:30اب جاؤ یہاں سے امی سعید
31:36پھر اس بیچارے کا کیا
31:38اس کے بھیڑت تھے کتنے
31:40تیرہ تھے
31:42بیس تھے
31:43اور میں نے خود ہی انہیں پکایا تھا
31:46اس عورت کو خریدہ ہے
31:48اپنے اس شاکر سے کہو کہ فضول نہ بولے
31:52میں نے خود سپاہیوں سے بھیڑے لی تھی
31:59تیرہ تھی
32:00تم بتاؤ
32:04کتنی بھیڑے تھی تمہاری
32:07بیس تھیں
32:08یہ دونوں جھوٹے ہیں
32:10بس بھی کرو
32:11مال کی حوث ہیں دونوں کو
32:12مجھے لکھنے کے لیے خاموشی چاہیے
32:14باہر جاؤ
32:15جب فیصلہ ہو جائے
32:17کہ کتنی بھیڑے تھی
32:18پھر اپنے سکھوں کا تقاضہ کرنا
32:20فلحال خیمے سے باہر جاؤ
32:21اگر اس کے سکھے ابو شجا کی
32:23سندوق میں ہوئے
32:23تو اسے مل جائیں گے
32:25جاؤ یہاں سے
32:25چروہے تمہاری یاداشت کمزور ہے
32:33یاداشت کی کمزوری
32:35کام اقلی سے بہتر ہے
32:36میں نے کوئی دیہاتی
32:37اتنا حضر جواب نہیں دیکھا
32:39کیوں ایسے اپنے حق نہیں لینے دیتے
32:41کیونکہ یہ اپنے حق سے زیادہ مانگ رہا ہے
32:42اس رات بیس پھیڑے تھی
32:44مجھے تیرہ کی تعداد پر کوئی شک نہیں ہے
32:45وہ لڑکے جس نے اس رات پھیڑے لیں دی
32:47وہ ابھی بھی باورچی خانے میں ہے
32:48یقیناً وہ بہتر جانتی ہے
32:50تم کہو
32:51اپنی یاداشت کی اتمنان کے لیے
32:54اس خیمے سے اپنی نظریں مت اٹھاؤ
32:58ابو شجا جن ہے
33:00یہ نہ ہو کہ وہ غائب ہو جا
33:02اور تم اسے ڈھونتے پھرو
33:03اس پیچارے کو اب جانے تو یہاں سے
33:09کوئی بھی چلتا پھرتا آئے
33:11اور خلیفہ کے مال سے یوں ہی سکے لے جائے
33:13گوشت کو تو چبا چبا کر کھائے
33:14آپ چاہتے ہو کہ اس کا حق بھی نہ دی
33:16اسے اپنا حق ملے گا
33:17تیرا بھیلوں گا
33:18پتہ نہیں کیوں اتنا فضول بولتے ہیں
33:19امی سعید
33:20پتہ نہیں تم اس کی اتنی ترداری کیوں کر رہی ہو
33:23سیدھا سادھا ہے
33:25اس کی آنکھوں میں ہیا نہیں دیکھی
33:27میں نہیں جانتی صبح سے کسی شخص نے اسے بھیجا ہے
33:30اپنے سبیغ کے لیے
33:32کون
33:32اپنے سبیغ
33:34میرے خیال میں
33:36نہیں معلوم کہ یہ اس لشکر کا سپائی ہے بھی یا نہیں
33:39اور خود بھی نہیں جانتا
33:41اسی کی تلاش پہ تھا
33:43مجھے اس کی سادگی پر ترسا گیا
33:44حسن بیٹا تم ہو
33:55یا ہی رکو میں آتیوں
34:25تم یہاں کیا کر رہے ہو
34:42یہ تو میں پوچھنے والا تھا
34:46تم یہاں کیا کر رہے ہو
34:47جنگ ابھی شروع بھی نہیں ہوئی اور تم نے غنیبت بھی جمع کر لی
34:51یہ ابو شوجہ کا سامان ہے اس نے کہا تھا کاتیبوں کے خیمت تک پہنچا دوں
34:54ہاں بہر سکے
34:55میں پہلے بھی کوئی سکے نہیں لیا
34:58گھڑوں کی نال ہے
35:00بتایا نہیں یہاں کیا کر رہے ہو
35:04ایک مسئلے کے حل کے لیے کھڑا ہوں
35:06باورچی خانے کے باہر
35:08دو دن پہلے پکانے کے لیے یہاں بھیڑے لائی گئی تھی
35:13اب ان کی تعداد کے حوالے سے اختلاف ہے
35:15وہ بیس بھیڑے تھی
35:17تو اختلاف کیسا
35:20کل میں اسے امیر کے خیمے لے کر گیا تھا
35:23تاکہ وہ اپنی رقم وصول کر لے
35:25وصول کی
35:28ہاں
35:31آؤ کاتیبوں کے خیمت
35:36تمہاری مدد کرو
35:38خدا تمہیں اس کا عجر دے
35:40یہ واقعی بہت وزنی ہے
35:42یہ چند قدم بھی غنیمت ہے میرے لیے
35:44میری اجازت کے بغیر کیوں
35:53مجھے نہیں پتا تھا کہ تمہارے لیے اتنا زیادہ عام ہے
35:57تمہیں یہاں رہنے کے لیے کیوں بھیجا گیا ہے میں نہیں جانتا
36:02مجھے معاف کر دو کاتیب
36:05اگر اپنے ساتھ یہ نہ لے جاتا تو امیر مجھ سے خوش نہ ہوتا
36:08اور اس کے کرم کے خزانے سے یہ سکھ کے نام میں
36:10نہ ملتے تم یہی تحریریں لے کر گئے تھے
36:13سب کی سب واپس لے آئے ہو
36:15ہاں تم مطمئن رہو
36:19بلاخر ہماری طرف بھی آ گیا ہو
36:30کس کا کہہ رہے ہو
36:32امیر کا جاسوس
Comments

Recommended