Skip to playerSkip to main content
This podcast explores Faiz Ahmed Faiz’s legendary Urdu poem “Hum Dekhenge”, a timeless masterpiece that has inspired generations with its message of hope, justice, and resistance against oppression.

In this episode, we dive into the meaning of the verses, their historical context, and why “Hum Dekhenge” continues to resonate with people around the world as a symbol of courage and truth.


یہ پوڈکاسٹ فیض احمد فیض کی شہرہ آفاق نظم "ہم دیکھیں گے" پر مبنی ہے۔
یہ کلام امید، انصاف اور ظلم کے خلاف جدوجہد کا وہ پیغام ہے جس نے نسلوں کو متاثر کیا۔

اس قسط میں ہم اشعار کے معانی، تاریخی پس منظر اور اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ "ہم دیکھیں گے" آج بھی دنیا بھر میں ہمت اور سچائی کی علامت کیوں ہے۔



#FaizAhmedFaiz #HumDekhenge #UrduPoetry #Podcast #Inspiration #Justice #Hope

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ہم دیکھیں گے
00:30وہ دن کے جس کا بعدہ ہے
00:36جو لوہے دل میں لکھا ہے
00:42ہم دیکھیں گے
00:45لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
00:52ہم دیکھیں گے
00:55جب ظلموں ستم کے کوہے گنا
01:01روئی کی طرح اڑ جائیں گے
01:08ہم مہدونوں کے پاؤں تلیں
01:14یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑ کے ہی
01:20اور اہل حکم کے سروں پر
01:26اور اہل حکم کے سروں پر
01:35جب بجلی کڑ کڑ کڑ کے بھی
01:40ہم دیکھیں گے
01:43آہ آہ آہ
01:46ہم دیکھیں گے
01:48آہ آہ آہ
01:51لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
01:56ہم دیکھیں گے
01:59آہ آہ آہ
02:01جب عرض خدا کے توبے سے
02:07سبتہ اور اٹھے آہ آہ
02:12جائیں گے
02:14ہم اہل سفا مردود حرم
02:20مسند پر بٹھائے جائیں گے
02:26جب عرز خدا کے توبے سے
02:32سب تو اٹھے آئے جائیں گے
02:38ہم اہلِ صفا مردو دے حرم
02:44مسنت پہ بکھائے جائیں گے
02:50سب تاجی اٹھا لے جائیں گے
02:56سب تاجی اٹھا لے جائیں گے
03:05سب تخت گرائے جائیں گے
03:10ہم دیکھیں گے آہاں
03:16ہم دیکھیں گے آہاں
03:21لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
03:26ہم دیکھیں گے آہاں
03:32بچنا مرہے گا اللہ کا
03:38جو بائے بھی ہے حاضر بھی
03:44جو منظر بھی ہے ناظر بھی
03:51بچنا مرہے گا اللہ کا
03:57جو آیا بھی ہے حاضر بھی
04:03جو منظر بھی ہے ناظر بھی
04:09اٹھے گا انلہ کا نارا
04:19اٹھے گا انلہ کا نارا
04:24جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
04:29ہم دیکھیں گے آہاں
04:39ہم دیکھیں گے آہاں
04:42ہم دیکھیں گے آہاں
04:46ہم دیکھیں گے آہاں
04:56ہم دیکھیں گے آہاں
05:00لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
05:05فیض احمد فیض کی نظم ہے ہم دیکھیں گے
05:07اکثر تو اسے انقلاب اور سیاسی تبدیلی سے جوڑتے ہیں
05:10جی ہاں بلکل
05:11لیکن آج ہم اسے ایک بلکل مختلف زاویے سے دیکھنے کی کوشش کریں گے
05:15قرآن کریم کی روشنی میں
05:18خاص طور پر یومِ حشر کے حوالے سے
05:20جی یہ واقعی ایک اہم نقطہ ہے
05:22اور آپ کہیں کہ ایک چشم کشا زاویہ بھی
05:25عام طور پر تو ذہن فوراں
05:27دنیاوی طاقتوں کی طرف جاتا ہے ہے نا
05:29ہاں بلکل
05:30لیکن قرآن کی نظر سے دیکھیں
05:32تو آخرت وہ حساب کا دن
05:34وہ بہت واضح نظر آتا ہے
05:36صورتِ غافر میں جیسے آتا ہے
05:38آج بادشاہی کس کی ہے
05:39صرف اللہ واحد و کہار کی
05:41بلکل
05:42تو آئیے ذرا اس پہلو کو کھولتے ہیں
05:44ٹھیک ہے
05:45تو نظم شروع ہوتی ہے
05:46ہم دیکھیں گے
05:47لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
05:49وہ دن کے جس کا وعدہ ہے
05:51جو لوہِ ازل میں لکھا ہے
05:52یہ تو بہت سیدھی بات لگ رہی ہے
05:54جی سیدھی بھی اور بہت گہری بھی
05:56یہ کوئی شائرانہ خیال نہیں صرف
05:59یہ اس دن کا ذکر ہے
06:00جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے
06:02جو ہو کر رہنا ہے
06:03یعنی تقدیر کا لکھا
06:05ہاں جی لوہِ ازل کا مطلب یہی ہے
06:12بلکل
06:23تو فیض کے یہ الفاظ
06:25اسی قرآنی وعدے کی بازگشت ہیں
06:28ایک طرح کا یقین دہانی
06:30اور اس دن کی یاد دہانی
06:32جو اللہ کا خوف بھی دلاتی ہے
06:34اچھا تو یہ صرف امید نہیں
06:37ایمان کا اظہار ہے
06:38پھر وہ منظر کشی کرتے ہیں
06:40جب ظلم و ستم کے کوہے گراں
06:42روئی کی طرح اڑ جائیں گے
06:44یہ بڑی طاقتور تصویر ہے
06:46بہت طاقتور
06:47اور یہ این قرآنی منظر ہے
06:49سورة الانبیاء میں اللہ فرماتے ہیں
06:51کہ قیامت کے دن انصاف کے ترازو رکھے جائیں گے
06:54جی
06:55تو جب انصاف ہوگا
06:56تو ظلم چاہے پہاڑ جتنا بڑا کیوں نہ ہو
06:59وہ تو روئی کے گالے کی طرح اڑے گا
07:01کوئی وزن نہیں ہوگا اس کا
07:03یہ سوچ ہی کافی ہے اصل میں
07:05واقعی یہ تو آنکھیں کھول دینے والی بات ہے
07:08اور پھر اسی تسلسل میں
07:11جب تاج اچھالے جائیں گے
07:13جب تخت گرائے جائیں گے
07:14میں تو ہمیشہ اسے دنیاوی بادشاہوں کے زوال سے ہی جوڑتا تھا
07:18وہ تو ہے ہی
07:19مطلب ایک ظاہری مانا تو وہ ہے
07:21لیکن اصل گہرائی تو آخرت کے حوالے سے ہے
07:24کیسے؟
07:25دیکھیں جب سورت غافر کی وہ آیت گونجے گی
07:28آج بادشاہ ہی کس کی ہے؟
07:30صرف اللہ واحد کہار کی
07:32تو اس وقت یہ دنیا کے تاج یہ تخت یہ ساری طاقتیں یہ سب ختم بے مانے
07:39اچھا؟
07:40ہر انسان اکیلا کھڑا ہوگا
07:42سورت الانام میں ہے نا تم ہمارے پاس تنہا آئے ہو جیسے پہلی بار پیدا کیا تھا
07:47کوئی سہارا نہیں ہوگا
07:49یہ احساس یہ تصور ہی اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے
07:52تو گویا سب کچھ فنا صرف اللہ کی ذات باقی
07:56فیض نے بھی تو کہا بس نام رہے گا اللہ کا جو غائب بھی ہے حاضر بھی جو ناظر بھی ہے منظر بھی
08:04جی ہاں یہ تو سیدھا سیدھا سورت القصص کی آیت ہے نا ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے ذات کے
08:12فیض نے یہاں اللہ کی صفات بیان کر کے اس کی عظمت اور بقا کا اقرار کیا ہے
08:17اب آتے ہیں اس حصے پر جو تھوڑا سا پیچیدہ سمجھا جاتا ہے
08:24اٹھے گا ان الحق کا نارہ جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
08:28ان الحق تو منصور حلاج سے منصوب ہے اور اس پر کافی اختلاف بھی رہا ہے
08:34جی یہ اہم نکتہ ہے اور تاریخی طور پر اس نارے کی تشریحات مختلف رہی ہیں
08:39لیکن اگر ہم اسے نظم کے مجموعی بہاؤں میں اور قرآن کے تناظر میں دیکھیں
08:44تو شاید اسے شرک کے بجائے حق یعنی سچائی کی گواہی سمجھنا بہتر ہو
08:50اچھا وہ کیسے
08:51مطلب یہ کہ اس دن قیامت کے دن ہر سچا انسان ہر مظلوم
08:56اللہ کی وعدانیت اور حقانیت کا اعلان کرے گا
09:00یہ ہر نفس کی طرف سے حق کی گواہی ہوگی
09:03جیسے صورت آل امران میں اللہ خود اپنی وعدانیت کی گواہی دیتا ہے
09:08تو یہ نارہ اس دن کی حتمی سچائی کا اظہار ہوگا
09:11اور اور راج کرے گی خلق خدا جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
09:16اس کا کیا مطلب لیا جائے
09:17کیا عوام کا راج
09:19عام طور پر تو یہی سمجھا جاتا ہے
09:21لیکن اگر ہم قرآنی میار دیکھیں
09:23تو خلق خدا سے مراد اللہ کے وہ بندے ہیں
09:26جو اس کے نزدیک مکرم ہیں
09:29اور وہ میار کیا ہے
09:30وہ میار قرآن میں سورة الحجرات میں بتا دیا
09:33بے شک تم میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے
09:38جو سب سے زیادہ پریزگار ہے
09:40یعنی تقویٰ
09:41اچھا
09:42تو مطلب یہ کہ اس دن اصل عزت
09:45اصل راج تقویٰ والوں کا ہوگا
09:48رنگ نسل دولت طاقت کی بنیاد پر نہیں
09:51بلکل
09:52دنیا کے سارے پیمانے ختم
09:54صرف تقویٰ میار ہوگا
09:56یہ دنیاوی نظاموں کی مکمل نفی ہے
09:59تو خلاصہ یہ ہوا کہ ہم دیکھیں گے
10:01کہ وہ صرف ایک سیاسی نعرہ سمجھنا
10:03شاید اس کے ساتھ انصاف نہیں ہے
10:05قرآن کی روشنی میں یہ تو
10:07یوم قیامت کی ایک بڑی
10:09آپ کہیں کہ پرأثر تصویر ہے
10:11جی بالکل
10:12انصاف کا دن
10:13ظلم کا خاتمہ
10:14اور صرف اللہ کی حاکمیت کا دن
10:17یہ نظم ہمیں یاد دلاتی ہے
10:19کہ یہ دنیا تو عارضی ہے
10:20اصل حقیقت وہ آنے والا دن ہے
10:22اور اس دن کی تیاری کتنی ضروری ہے
10:25جی
10:25یہ اللہ کے وعدے کا بیان ہے
10:27اور اس وعدے پر یقین
10:29اور اس کے لیے تیاری
10:30یہی اصل بات ہے
10:32یہ دل میں اللہ کی عظمت
10:34اور جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے
10:36اور یہ گفتگو ہمیں
10:37اسی بنیادی سوال پر چھوڑ جاتی ہے
10:39کہ جب سب تاج اچھا لے جائیں گے
10:42تخت گرائے جائیں گے
10:44جب صرف اللہ کا نام باقی رہے گا
10:46اور میار صرف تقویٰ ہوگا
10:48تو کیا ہم
10:49کیا میں
10:50کیا آپ
10:50اس دن کے لیے تیار ہیں
Comments

Recommended