00:00ہم دیکھیں گے
00:30وہ دن کے جس کا بعدہ ہے
00:36جو لوہے دل میں لکھا ہے
00:42ہم دیکھیں گے
00:45لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
00:52ہم دیکھیں گے
00:55جب ظلموں ستم کے کوہے گنا
01:01روئی کی طرح اڑ جائیں گے
01:08ہم مہدونوں کے پاؤں تلیں
01:14یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑ کے ہی
01:20اور اہل حکم کے سروں پر
01:26اور اہل حکم کے سروں پر
01:35جب بجلی کڑ کڑ کڑ کے بھی
01:40ہم دیکھیں گے
01:43آہ آہ آہ
01:46ہم دیکھیں گے
01:48آہ آہ آہ
01:51لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
01:56ہم دیکھیں گے
01:59آہ آہ آہ
02:01جب عرض خدا کے توبے سے
02:07سبتہ اور اٹھے آہ آہ
02:12جائیں گے
02:14ہم اہل سفا مردود حرم
02:20مسند پر بٹھائے جائیں گے
02:26جب عرز خدا کے توبے سے
02:32سب تو اٹھے آئے جائیں گے
02:38ہم اہلِ صفا مردو دے حرم
02:44مسنت پہ بکھائے جائیں گے
02:50سب تاجی اٹھا لے جائیں گے
02:56سب تاجی اٹھا لے جائیں گے
03:05سب تخت گرائے جائیں گے
03:10ہم دیکھیں گے آہاں
03:16ہم دیکھیں گے آہاں
03:21لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
03:26ہم دیکھیں گے آہاں
03:32بچنا مرہے گا اللہ کا
03:38جو بائے بھی ہے حاضر بھی
03:44جو منظر بھی ہے ناظر بھی
03:51بچنا مرہے گا اللہ کا
03:57جو آیا بھی ہے حاضر بھی
04:03جو منظر بھی ہے ناظر بھی
04:09اٹھے گا انلہ کا نارا
04:19اٹھے گا انلہ کا نارا
04:24جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
04:29ہم دیکھیں گے آہاں
04:39ہم دیکھیں گے آہاں
04:42ہم دیکھیں گے آہاں
04:46ہم دیکھیں گے آہاں
04:56ہم دیکھیں گے آہاں
05:00لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
05:05فیض احمد فیض کی نظم ہے ہم دیکھیں گے
05:07اکثر تو اسے انقلاب اور سیاسی تبدیلی سے جوڑتے ہیں
05:10جی ہاں بلکل
05:11لیکن آج ہم اسے ایک بلکل مختلف زاویے سے دیکھنے کی کوشش کریں گے
05:15قرآن کریم کی روشنی میں
05:18خاص طور پر یومِ حشر کے حوالے سے
05:20جی یہ واقعی ایک اہم نقطہ ہے
05:22اور آپ کہیں کہ ایک چشم کشا زاویہ بھی
05:25عام طور پر تو ذہن فوراں
05:27دنیاوی طاقتوں کی طرف جاتا ہے ہے نا
05:29ہاں بلکل
05:30لیکن قرآن کی نظر سے دیکھیں
05:32تو آخرت وہ حساب کا دن
05:34وہ بہت واضح نظر آتا ہے
05:36صورتِ غافر میں جیسے آتا ہے
05:38آج بادشاہی کس کی ہے
05:39صرف اللہ واحد و کہار کی
05:41بلکل
05:42تو آئیے ذرا اس پہلو کو کھولتے ہیں
05:44ٹھیک ہے
05:45تو نظم شروع ہوتی ہے
05:46ہم دیکھیں گے
05:47لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
05:49وہ دن کے جس کا وعدہ ہے
05:51جو لوہِ ازل میں لکھا ہے
05:52یہ تو بہت سیدھی بات لگ رہی ہے
05:54جی سیدھی بھی اور بہت گہری بھی
05:56یہ کوئی شائرانہ خیال نہیں صرف
05:59یہ اس دن کا ذکر ہے
06:00جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے
06:02جو ہو کر رہنا ہے
06:03یعنی تقدیر کا لکھا
06:05ہاں جی لوہِ ازل کا مطلب یہی ہے
06:12بلکل
06:23تو فیض کے یہ الفاظ
06:25اسی قرآنی وعدے کی بازگشت ہیں
06:28ایک طرح کا یقین دہانی
06:30اور اس دن کی یاد دہانی
06:32جو اللہ کا خوف بھی دلاتی ہے
06:34اچھا تو یہ صرف امید نہیں
06:37ایمان کا اظہار ہے
06:38پھر وہ منظر کشی کرتے ہیں
06:40جب ظلم و ستم کے کوہے گراں
06:42روئی کی طرح اڑ جائیں گے
06:44یہ بڑی طاقتور تصویر ہے
06:46بہت طاقتور
06:47اور یہ این قرآنی منظر ہے
06:49سورة الانبیاء میں اللہ فرماتے ہیں
06:51کہ قیامت کے دن انصاف کے ترازو رکھے جائیں گے
06:54جی
06:55تو جب انصاف ہوگا
06:56تو ظلم چاہے پہاڑ جتنا بڑا کیوں نہ ہو
06:59وہ تو روئی کے گالے کی طرح اڑے گا
07:01کوئی وزن نہیں ہوگا اس کا
07:03یہ سوچ ہی کافی ہے اصل میں
07:05واقعی یہ تو آنکھیں کھول دینے والی بات ہے
07:08اور پھر اسی تسلسل میں
07:11جب تاج اچھالے جائیں گے
07:13جب تخت گرائے جائیں گے
07:14میں تو ہمیشہ اسے دنیاوی بادشاہوں کے زوال سے ہی جوڑتا تھا
07:18وہ تو ہے ہی
07:19مطلب ایک ظاہری مانا تو وہ ہے
07:21لیکن اصل گہرائی تو آخرت کے حوالے سے ہے
07:24کیسے؟
07:25دیکھیں جب سورت غافر کی وہ آیت گونجے گی
07:28آج بادشاہ ہی کس کی ہے؟
07:30صرف اللہ واحد کہار کی
07:32تو اس وقت یہ دنیا کے تاج یہ تخت یہ ساری طاقتیں یہ سب ختم بے مانے
07:39اچھا؟
07:40ہر انسان اکیلا کھڑا ہوگا
07:42سورت الانام میں ہے نا تم ہمارے پاس تنہا آئے ہو جیسے پہلی بار پیدا کیا تھا
07:47کوئی سہارا نہیں ہوگا
07:49یہ احساس یہ تصور ہی اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے
07:52تو گویا سب کچھ فنا صرف اللہ کی ذات باقی
07:56فیض نے بھی تو کہا بس نام رہے گا اللہ کا جو غائب بھی ہے حاضر بھی جو ناظر بھی ہے منظر بھی
08:04جی ہاں یہ تو سیدھا سیدھا سورت القصص کی آیت ہے نا ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے ذات کے
08:12فیض نے یہاں اللہ کی صفات بیان کر کے اس کی عظمت اور بقا کا اقرار کیا ہے
08:17اب آتے ہیں اس حصے پر جو تھوڑا سا پیچیدہ سمجھا جاتا ہے
08:24اٹھے گا ان الحق کا نارہ جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
08:28ان الحق تو منصور حلاج سے منصوب ہے اور اس پر کافی اختلاف بھی رہا ہے
08:34جی یہ اہم نکتہ ہے اور تاریخی طور پر اس نارے کی تشریحات مختلف رہی ہیں
08:39لیکن اگر ہم اسے نظم کے مجموعی بہاؤں میں اور قرآن کے تناظر میں دیکھیں
08:44تو شاید اسے شرک کے بجائے حق یعنی سچائی کی گواہی سمجھنا بہتر ہو
08:50اچھا وہ کیسے
08:51مطلب یہ کہ اس دن قیامت کے دن ہر سچا انسان ہر مظلوم
08:56اللہ کی وعدانیت اور حقانیت کا اعلان کرے گا
09:00یہ ہر نفس کی طرف سے حق کی گواہی ہوگی
09:03جیسے صورت آل امران میں اللہ خود اپنی وعدانیت کی گواہی دیتا ہے
09:08تو یہ نارہ اس دن کی حتمی سچائی کا اظہار ہوگا
09:11اور اور راج کرے گی خلق خدا جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
09:16اس کا کیا مطلب لیا جائے
09:17کیا عوام کا راج
09:19عام طور پر تو یہی سمجھا جاتا ہے
09:21لیکن اگر ہم قرآنی میار دیکھیں
09:23تو خلق خدا سے مراد اللہ کے وہ بندے ہیں
09:26جو اس کے نزدیک مکرم ہیں
09:29اور وہ میار کیا ہے
09:30وہ میار قرآن میں سورة الحجرات میں بتا دیا
09:33بے شک تم میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے
09:38جو سب سے زیادہ پریزگار ہے
09:40یعنی تقویٰ
09:41اچھا
09:42تو مطلب یہ کہ اس دن اصل عزت
09:45اصل راج تقویٰ والوں کا ہوگا
09:48رنگ نسل دولت طاقت کی بنیاد پر نہیں
09:51بلکل
09:52دنیا کے سارے پیمانے ختم
09:54صرف تقویٰ میار ہوگا
09:56یہ دنیاوی نظاموں کی مکمل نفی ہے
09:59تو خلاصہ یہ ہوا کہ ہم دیکھیں گے
10:01کہ وہ صرف ایک سیاسی نعرہ سمجھنا
10:03شاید اس کے ساتھ انصاف نہیں ہے
10:05قرآن کی روشنی میں یہ تو
10:07یوم قیامت کی ایک بڑی
10:09آپ کہیں کہ پرأثر تصویر ہے
10:11جی بالکل
10:12انصاف کا دن
10:13ظلم کا خاتمہ
10:14اور صرف اللہ کی حاکمیت کا دن
10:17یہ نظم ہمیں یاد دلاتی ہے
10:19کہ یہ دنیا تو عارضی ہے
10:20اصل حقیقت وہ آنے والا دن ہے
10:22اور اس دن کی تیاری کتنی ضروری ہے
10:25جی
10:25یہ اللہ کے وعدے کا بیان ہے
10:27اور اس وعدے پر یقین
10:29اور اس کے لیے تیاری
10:30یہی اصل بات ہے
10:32یہ دل میں اللہ کی عظمت
10:34اور جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے
10:36اور یہ گفتگو ہمیں
10:37اسی بنیادی سوال پر چھوڑ جاتی ہے
10:39کہ جب سب تاج اچھا لے جائیں گے
10:42تخت گرائے جائیں گے
10:44جب صرف اللہ کا نام باقی رہے گا
10:46اور میار صرف تقویٰ ہوگا
10:48تو کیا ہم
10:49کیا میں
10:50کیا آپ
10:50اس دن کے لیے تیار ہیں
Comments