00:00السلام علیکم
00:01آج ہم بات کر رہے ہیں
00:03اللامہ اقبال کے فلسفہ خودی پر
00:06یہ ان کی شائری اور
00:07فکر کا ایک بنیادی نکتہ ہے
00:10ہمارے پاس کچھ مختلف
00:11ذرائع ہیں کچھ گفتگویں
00:13کچھ تحریریں جن سے ہم سمجھنے
00:15کی کوشش کریں گے کہ آخر یہ
00:17خودی ہے کیا اس کا اصل جوہر
00:20کیا ہے پہلا سوال تو
00:21ذہن میں یہی آتا ہے کہ بھائی اقبال
00:23نے یہ تصور لیا کہاں سے
00:25ایک روایت ہے سید نظیر نیازی
00:28کی طرف سے کہ اقبال نے خود
00:30سورت الحشر کے ایک آیت کا
00:31حوالہ دیا تھا آیت نمبر انیس
00:33اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو
00:36جانا جو اللہ کو بھول
00:37بیٹھے پس اللہ نے انہیں
00:39ان کی اپنی جانوں سے غافل کر دیا
00:42یہی لوگ نافرمان ہیں
00:44جی بالکل تو یہ
00:45یہ تھوڑا سمجھنا مشکل لگتا ہے
00:47اللہ کو بھولنے سے اپنی
00:49جان یعنی اپنی روح سے غافل ہونا
00:51یہ کیسے کیا مطلب
00:53ہم اپنے روزمرہ کے کام بھول جاتے ہیں
00:55نہیں نہیں ایسا نہیں ذرائع واضح کرتے ہیں
00:58کہ یہاں مراد
00:59اپنی اصل حقیقت سے غافل ہونا ہے
01:02اپنی روح سے
01:03دیکھیں جب انسان
01:05اللہ کو بھولتا ہے نا
01:07تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی اپنی
01:09ذات کی پہچان سے
01:11اس کی روح کی حقیقت سے آپ کہلیں
01:13کہ بے خبر کر دیتا ہے
01:16اور یہی روح تو ہے
01:17جو ہمیں جانور سے ممتاز کرتی ہے
01:19صحیح؟ شیخ سادی نے کہا تھا نا
01:22کہ انسان وہ فرشتہ اور حیوان کا مرکب ہے
01:25تو جب اللہ سے دوری ہوتی ہے
01:28تو حیوانی پہلو جسے ہم نفس کہتے ہیں
01:30وہ حاوی ہو جاتا ہے
01:32تو یہ روح سے غفلت کی کوئی مثال؟
01:36ذرائع میں ایک کہانی کا ذکراتہ
01:37وہ بڑی دلچسپ ہے
01:39جی جی وہ بادشاہ اور کنیز والی؟
01:41ہاں وہی
01:42ایک بادشاہ ہے
01:43ایک کنیز سے شادی کرتا ہے
01:45وہ ملکہ بن جاتی ہے
01:47لیکن رہتی اداس ہے
01:49پھر ایک حکیم آتا ہے
01:51وہ تشخیص کرتا ہے
01:52کہ یہ تو دمشق کے کسی سنار کی عشق میں مبتلا ہے
01:55اچھا
01:56حکیم اس سنار کو بغداد بلوا لیتا ہے
01:58ملکہ خوش ہو جاتی ہے
02:00مگر پھر حکیم آہستہ آہستہ
02:02وہ زہر ملا شربت پلا کر سنار کو مار دیتا ہے
02:05جی
02:05ملکہ کچھ عرصہ تو ظاہر ہے غم کرتی ہے
02:08مگر پھر بادشاہ کو قبول کر لیتی ہے
02:10بلکل
02:11اور ذرائع اس کی تشریح یوں کرتے ہیں
02:13کہ جیسے ملکہ جو ہے وہ جسم ہے
02:16اچھا
02:17بادشاہ روح ہے
02:18ٹھیک
02:19اور سنار وہ نفس امارہ ہے
02:22یعنی وہ خواہشات جو انسان کو بھٹکاتی ہیں
02:25تو حکیم
02:26حکیم یہاں ایک مرشد ایک رہنما کی طرح ہے
02:30جو اس نفس کو اس سنار کو کابو میں لاتا ہے
02:34اسے ختم کرتا ہے
02:35تاکہ جسم یعنی ملکہ
02:37روح یعنی بادشاہ کی طرف مائل ہو
02:40اس کی اطاعت کرے
02:41اچھا
02:41اچھا
02:42تو یہ کہانی اصل میں خودی کے راستے کے ایک تمثیل ہوئی
02:45جی بالکل
02:46یہ اسی آیت کی طرف اشارہ ہے
02:48کہ اللہ سے غفلت میں
02:50انسان اپنی روح سے غافل ہو کر
02:53نفس کے چنگل میں پھس جاتا ہے
02:55یہ بات مغربی فکر سے کافی مختلف ہے
02:57ہے نا
02:58وہ تو اکثر انسان کو بس ایک
03:00آپ کہیں کہ ترقی آفتہ حیوان سمجھتے ہیں
03:03درست فرمایا
03:04وہ روح کے انصر کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں
03:07اقبال اسی پر تو کہتے ہیں
03:09ہے نور تجلی بھی اسی خاک میں پنہا
03:12غافل
03:13تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے
03:15واو
03:16یعنی انسان صرف اقل والا جانور نہیں
03:19اس میں خدا کا نور بھی ہے
03:21یقینا
03:21تو پھر خودی کیا ہوئی
03:24ذرائع کے مطابق یہ ہے
03:26سیلف ریالائزیشن
03:27خودشناسی
03:28خودشناسی یعنی اپنی پہچان
03:31جی
03:31اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جاننا
03:33اور اس سے بھی بڑھ کر
03:35اپنے اندر جو خدای جوہر ہے
03:37جو روح ہے
03:38اسے پہچاننا
03:39رومی کا قول ہے نا
03:41تم سمندر میں ایک قطرہ نہیں ہو
03:43تم ایک قطرے میں پورا سمندر ہو
03:45بہت خوب
03:46قرآن بھی کہتا ہے
03:48لقد خلقنا الانسان فی احسن التقویم
03:51ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا
03:54یہ صرف جسمانی خوبصورتی نہیں
03:56یہ وہ روحانی اور ذہنی صلاحیتیں ہیں
03:58جو اللہ نے ہمیں دی ہیں
03:59خودی اسی خزانے کو پانا ہے
04:02اور پھر اقبال کا وہ شیر
04:04خودی کو کر بلند اتنا
04:07اچھی بات لگتی ہے
04:08کہ ہر تقدیر سے پہلے
04:10خدا بندے سے خود پوچھے
04:12بتا تیری رضا کیا ہے
04:14کیا یہ واقعی مطلب عملی طور پر ممکن ہے
04:17دیکھیں ذرائع اس کے ممکن ہونے کی طرف
04:20اشارہ کرتے ہیں
04:21وہ مثالیں دیتے ہیں
04:22جیسے تحویل قبلہ کا واقعہ
04:24قرآن میں ذکر ہے کہ
04:25اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر
04:28قبلہ بدلا
04:29یا طائف کا واقعہ یاد کریں
04:32اتنی تکلیف کے بعد بھی
04:34جب اللہ نے اختیار دیا
04:35کہ آپ چاہیں تو عذاب آ جائے
04:38مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی
04:42بلکل یہ کیا تھا
04:44یہ اپنی ذات پر اپنی خودی پر
04:46ایک غیر معمولی کنٹرول
04:47اور اللہ سے خاص قربت کی دلیل ہے
04:50تو خودی انسان کو
04:52اللہ کے قریب لاکر ایک طرح کی طاقت دیتی ہے
04:54نگاہ مرد مومن سے
04:56بدل جاتی ہیں تقدیریں
04:58تو یہ تکبر یا گرور نہیں ہے
05:00نہیں ہرگز نہیں
05:02یہ وہ خداگاہی ہے
05:03جو انسان کو اس کی اصل حقیقت
05:05اور اس کی اصل طاقت سے ملواتی ہے
05:07جو اسے اللہ سے جوڑتی ہے
05:09تو خلاصہ یہ ہوا
05:10کہ خودی اپنے اندر جھانکنا ہے
05:12اپنی روح کو پہچان کر
05:14اسے مضبوط کرنا ہے
05:16اپنی صلاحیتوں کو جاننا
05:17اور اللہ سے تعلق قائم کرنا ہے
05:20بلکل یہ اپنی حقیقت کو پانے کا سفر ہے
05:23وہ کہانی کا سبق بھی یہی تھا
05:25کہ نفس یعنی سنار پر قابو پانا ہے
05:28تاکہ روح یعنی بادشاہ رہنما بن سکے
05:30صحیح
05:32اور ایک آخری نکتہ
05:33جو آج کے دور کے لیے بڑا اہم ہے
05:35اور ذرائع سے نکلتا ہے
05:37اکبال کا خیال تھا
05:39کہ جب خودی مضبوط ہو جاتی ہے
05:41تو پھر مادی ہتیاروں کی
05:44ظاہری طاقت کی ضرورت کم رہ جاتی ہے
05:46اچھا؟
05:48جی ان کا شیر ہے
05:49اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
05:53ہو جس کے جوانوں کی خودی
05:55صورت فولات
05:56اب سوال یہ ہے
05:58کہ آج کی دنیا
06:00جو اتنی زیادہ ٹیکنالوجی
06:02مادی طاقت
06:03ہتیاروں پر انحصار کرتی ہے
06:05کیا اس دنیا میں
06:06یہ اندرونی طاقت
06:08یہ پروان چڑھیوی خودی
06:10واقعی افراد اور قوموں کے لیے
06:12حقیقی طاقت اور اثر و رسوک کا ذریعہ بن سکتی ہے؟
06:16واقعی یہ ایک بہت گہرا سوال ہے
06:18سوچنے کے لیے
06:19اس پر غور کرنا چاہیے
06:20موسیقی
Comments