00:00سال 1862 کی ایک سرطرین رات ایک جرمن کیمسٹری پروفیسر آگ کے پاس بیٹا ہوتا ہے اور اس کی آنکھ لگ جاتی ہے
00:07اچانک خواب میں ایک سامت کو دیکھتا ہے جو اپنی ٹیل کو کاٹ کر ایک گول دائرہ بناتا ہے
00:11پروفیسر ایک دم ہڑ پڑا کر اٹھ جاتا ہے
00:14لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس کا یہ خواب دنیا کو بدلنے والی بینزین سٹرکچر کی ڈسکوری کا پیش خیمہ ثابت ہوا
00:21لیکن سوال یہ ہے ہم خواب کیوں دیکھتے ہیں
00:23دوستو خواب یا سپنے ہمیشہ سے انسانوں کے لیے ایک میسٹری رہے ہیں
00:27اولڈ ایجپشن خوابوں کی تعبیر کرنے والوں سے لے کر مارڈرن سائیکالوجس تک
00:31ہر کوئی خوابوں کے پیچھے چھپے رازوں کی تلاش میں ہے
00:34کیا یہ برین کی بیترتی فلیشز ہیں یا کوئی سگنل
00:37سائنس اب یہ بتاتی ہے کہ خواب ہماری زندگی کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں
00:41کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ سو رہے ہیں لیکن آپ کا دماغ پوری طرح جاگ رہا ہے
00:46آپ کی پرابلم سالو کر رہا ہے
00:47باتیں دھور آرہا ہے اور آپ کو آگے پیش آنے والے خطرات کے لیے بھی تیار کر رہا ہے
00:51کچھ ڈراؤنے خواب جیسا کہ رات کو اندھیرے میں بھاگنا
00:54شاید یہ آپ کے برین کی طرف سے ایک ریسکیو سگنل ہوتا ہے
00:57بعض اوقات ہم دن میں جو دیکھتے ہیں سنتے ہیں
01:00وہی چیزیں ہمارے خواب میں ریپیٹ ہوتی ہیں
01:03لیکن دوستو خواب صرف ڈر اور دہشت تک محدود نہیں
01:05بہت سی کریٹیو ڈسکوریز بھی خوابوں سے پیدا ہوئی ہیں
01:08کیا آپ جانتے ہیں کہ 1818 میں شائع ہونے والا میری شیلی کا فرینکن سٹائن نوول
01:13اور بیٹلز کا فیمس سانگ یسٹرڈے دونوں ہی خوابوں کے پیداوار تھے
01:16اب سائنسدان ڈریم ایکٹیویشن پر کام کر رہے ہیں
01:19یعنی اگر سائنسدان اس میں کامیاب ہوتے ہیں
01:21تو ہم اپنی ڈریم سونے سے پہلے پلان کر سکیں گے
01:24یہ ایک دلچسپ خیال ہے
01:25کہ ہم اپنے خوابوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں
01:28دیکھیں آنے والے وقت میں اس کا کیا حل نکلتا ہے
Comments