Skip to playerSkip to main content
  • 5 months ago
Follow me for Islamic Historical Movies and videos.
Transcript
00:00Innsan's history of the most big ones, the seven nations, the Israel of Israel and the Israel of Israel.
00:07You believe that Muhammad went to heaven on a winged horse?
00:10Yes, I believe in God.
00:11Shabbat al-Miraj may, sabbat al-untahha.
00:13This is a great experience that was in the world that was the most difficult and difficult time in the world.
00:20First, you have to be caught by God.
00:22Then, you have to be caught by God's heart.
00:24And to top that,
00:36Mekka میں آپ ﷺ کی citizenship بھی ختم کر دی گئی.
00:40اور جب آپ ﷺ مکہ میں کسی اور کی پناہ میں رہ رہے تھے,
00:43اللہ نے اسی سب سے مشکل ٹائم.
00:46آپ ﷺ کو انسانوں کی تاریخ کی سب سے بڑی سیر کرائے.
00:50ساتھ آسمانوں کی سیر.
00:54یہ ساتھ آسمانوں کا سفر نبوت کے گیاروے سال میں ہوا.
01:02Which means almost بالکل میڈل نے.
01:05اور یہ سفر رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ترننگ پوائنٹ تھا.
01:08ساتھ آسمانوں کے اس سفر سے پہلے آپ ﷺ مکہ میں بہت سخت زندگی گزار رہے تھے.
01:13لیکن اس سفر کے ڈائریکٹ بات آپ ﷺ نے مدینہ حجرت فرمائی.
01:18جہاں ایک نئے ریاست کے لیڈر اور بادشاہ کے طور پر ان کی زندگی بالکل بدل دی.
01:24ایک دن مکہ میں آدھی رات کو جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کو براغ پر مکہ سے جروسلہ بیت المقدس کی طرف لے گئے.
01:34یہ براغ نام برک سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے لائٹننگ.
01:39اور ہو سکتا ہے اس کا یہ نام اس کی لائٹننگ سپیڈ کی وجہ سے اس کو ملا ہو.
01:43بیت المقدس میں آپ ﷺ نے سارے پیغمبروں کی امامت کی.
01:47اور وہاں سے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ ﷺ پہلے آسمان کی طرف روانہ ہوئے.
01:51پہلے آسمان کا دروازہ ان کے لیے کھولا گیا.
01:53اور یہ دروازہ ہمارے دروازوں جیسا نہیں تھا.
01:56پہلے آسمان میں آپ ﷺ کی ملاقات آدم علیہ السلام سے ہوئے.
02:00ان کے رائٹ سائیڈ پر جرنت کے لوگ ہیں.
02:02اور ان کے لیفٹ سائیڈ پر جہنم میں لوگ تھے.
02:04آدم علیہ السلام یونیورس کے پہلے انسان اور دنیا کے سارے انسان انہی کی اولاد ہیں.
02:10اور آدم علیہ السلام کا ذکر قرآن میں پچیس دفعہ ہوا ہے.
02:13آپ ﷺ نے انہیں سلام کیا.
02:15انہوں نے سلام کا جواب دیا.
02:17اور آپ ﷺ دوسرے آسمان کی طرف روانہ ہوئے.
02:19وہاں ان کی ملاقات عیسیٰ اور یاہیہ علیہ السلام سے ہوئے.
02:22عیسیٰ اور یاہیہ علیہ السلام ایک دوسرے کے گزنز دیں.
02:25جنہیں کرسیانٹی میں جیزس اور جان ڈی بیپٹسٹ کہا جاتا ہے.
02:29یہ دونوں پیغمبر آج سے دو ہزار سال پہلے رومن ایمپائر کے سٹیٹ فلسطین میں بیدا ہوئے.
02:34اور ان دونوں کزنز کے زندگی بہت ہی مشکل حالت میں گزری.
02:38حضرت یاہیہ علیہ السلام کو ایک ظالم حکمران نے شہید کر دیا.
02:41اور ان کی شہادت کو آج بھی لوگ کربلا میں امام حسین کی شہادت سے کبیر کرتے ہیں.
02:46ان کے کزن عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی یہی ہونے والا تھا.
02:49لیکن اللہ نے آخری ٹائنگ انہیں دنیا سے اٹھا لیا.
02:53قرآن میں یاہیہ علیہ السلام کا ذکر پانچ دفعہ ہوا ہے.
02:55اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر پچیس مرتبہ ہوا ہے.
02:58آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا.
03:00انہوں نے سلام کا جواب دیا.
03:02اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسرے اسمان کی طرف روانہ ہوئے.
03:04وہاں ان کی ملاقات یوسیٰ علیہ السلام سے ہوئے.
03:07یوسیٰ علیہ السلام آج سے almost 3600 سال پہلے فلسطین میں پیدا ہوئے.
03:12And we all know کہ کیسے وہ وہاں سے ایجپٹ جو اس زمانے کا سوپر پاور تھا
03:18اس کے وائس روئے مدد بادشاہ کے بعد سب سے طاقتور وزیر بنے.
03:23یہ ایسے تھا کہ آج کوئی یوکے کا پرائم منسٹر بنے.
03:26یوسیٰ علیہ السلام کا ذکر قرآن میں 27 مرتبہ ہوا ہے.
03:29اور یہ واحد پیغمبر ہے جن کی ڈیٹیلز قرآن میں بائبل سے بھی زیادہ ہے.
03:34آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا.
03:36انہوں نے سلام کا جواب دیا.
03:37اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کے سابق چوتے آسمان کی طرف روانہ ہوئے.
03:42وہاں ان کی ملاقات عدریس علیہ السلام سے ہوئے.
03:44عدریس علیہ السلام دنیا کے پہلے انسانوں میں سے تھے.
03:47عدریس علیہ السلام اور شیط علیہ السلام کے بعد عدریس علیہ السلام کو انسانوں کا تیسرا نبی مانا چاہتا ہے.
03:52اور دنیا میں سب سے پہلے ظلم کے خلاف جہاد انہوں نے ہی کیا تھا.
03:57عدریس علیہ السلام کو دنیا کا پہلا سائنٹسٹ بھی سمجھا جاتا ہے.
04:00کیونکہ انہوں نے پہلی دفعہ دنیا میں پین، قلم یوز کیا تھا.
04:05پہلی دفعہ آسمان میں سٹارز اور پلینٹس کی مومنٹ کو ابزورف کر کے انسانوں کی زندگی آسان بنائی تھی.
04:11عدریس علیہ السلام کا ذکر قرآن میں دو مرتبہ ہوا ہے۔
04:14آپ صلی اللہ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور آپ صلی اللہ علیہ السلام پانچویں آسمان کی طرف روانہ ہوئے۔
04:21وہاں آپ صلی اللہ علیہ السلام کی ملاقات حارون علیہ السلام سے ہوئی۔
04:24جب موسیٰ علیہ السلام پیغمبر بنے تو انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ میرے بھائی حارون کو بھی میرے اس مشن میں شامل کریں تو اس طرح حارون علیہ السلام بھی پیغمبر بنے۔
04:33Moussa al-slam نے Harun al-slam کو صرف اس لیے چوز نہیں کیا کہ وہ ان کے بھائی تھے
04:37بلکہ اس لیے کیونکہ Harun al-slam بنی اسرائیل کے سب سے بڑے سکولرز میں سے تھے
04:42Moussa al-slam بچپن صرف فیرون کے گھر میں پلے بڑے تھے
04:45جس کی وجہ سے انہیں بنی اسرائیل کے کتابوں اور سکرپچرز کا اتنا علم نہیں تھا
04:49تو انہیں ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جس کے پاس ان ساری چیزوں کا علم ہو اور وہ تھے
04:53Harun al-slam اور آج تک یہودیوں میں سب سے زیادہ سکولرز Harun al-slam کی اولاد میں سے ہیں
05:00جس کی وجہ سے Harun al-slam کی اولاد کو یہودیوں میں ایک سپیشل سٹیٹس حاصل ہے
05:04جس طرح اسلام میں سیدوں کو حاصل ہے
05:07Harun al-slam کا ذکر قرآن میں بیس مرتبہ ہوئے
05:09آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا
05:12انہوں نے سلام کا جواب دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھٹے آسمان کی طرف روانہ ہو
05:16وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ایک ایسے پیغمبر سے ہوئے
05:20جن کا ذکر قرآن میں سب سے زیادہ کیا گیا ہے
05:22136 times
05:26کیونکہ موسیٰ علیہ وسلم کی سٹوری کو آج تک دنیا کی سب سے زیادہ interesting اور outstanding سٹوری سمجھا جاتا ہے
05:33اور آج بھی books, comics اور ایون ہالی ووڈ کی سب سے بڑی فلمز
05:38موسیٰ علیہ وسلم کی سٹوری سے کہیں نہ کہیں انسپائرڈ ہوتی
05:41جیسے کہ سوپرمین, ہری پورٹر اور مینی ادرز
05:44یہ سارے سٹوریز billions of dollars کما چکے
05:47ہوا ایسے کہ جب یوسف علیہ وسلم مصر کے پرائم منسٹر بنے
05:54تو انہوں نے اپنے گیارہ بھائیوں کو بھی ایجپٹ میں آباد کیا
05:56اور کافی جنریشنز تک وہ ادھر ہی لیں
05:59اور آہستہ آہستہ وہ ایجپٹ کے سب سے strong اور rich community بنے
06:02as usual
06:04لیکن یہ دیکھ کر مصر کے لوگ ان سے ڈرنے لگے
06:06اور انہوں نے بنی اسرائیل پر ظلم کرنا شروع کیا
06:09اور آخر سارے یہودیوں کو غلام بنا دیا
06:11اور بنی اسرائیل مصر والوں کے چار سو سال تو غلام رہے
06:15جس میں انہوں نے ان پر بہت ظلم کیے
06:17آخر چار سو سال بعد
06:19موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے
06:20اللہ نے بنی اسرائیل کو فیرون کی غلامی سے نکال دی
06:23وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھویں اور آخری اسمان پہنچے
06:26جہاں ان کی ملاقات ان کی great great great grandfather سے ہوئی
06:29حضرت ابراہیم علیہ السلام
06:31پچھلے ہزاروں سال سے
06:33دنیا کے سب سے بڑے ریلیجنز
06:35ابراہیمک ریلیجنز رہے ہیں
06:37اور آج بھی دنیا کی 60%
06:39آبادی انہی ابراہیمک ریلیجنز
06:41کو follow کر دیئے اور ہر دن پانچ
06:43وقت کی نمازوں میں مسلمان ابراہیم علیہ السلام
06:45کے لیے special دعا کرتے ہیں
06:47اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدرت المنتحہ
06:50کے پاس پہنچے
06:50وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المامور دکھایا گیا
06:53جس کا ہر دن
06:5570,000 نئے فرشتے تواف کرتے ہیں
06:57صدرت المنتحہ آخری بانگری ہے
06:59وہ آخری حد ہے
07:01مخلوق کوئی اس سے آگے نہیں جا سکتے
07:03لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت تھی
07:05اسی نہیں وہ جبرائیل علیہ السلام کو چھوڑ کر
07:08اکیلے آگے پڑھیں
07:09اور اللہ کے دربار میں حاضر ہوئے
07:11آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات میں صحابہ نے پوچھا
07:14کہ کیا آپ نے اندر
07:15اللہ کو دیکھا
07:16تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا
07:18کہ میں کیسے دیکھتا
07:19وہاں نور
07:21لائٹ کا پردہ تھا
07:23یہاں اس اتنے عظیم سفر کا
07:25اصلی مقصد ظاہر ہوا
07:27یہاں اسلام کا سب سے بڑا حکم
07:30مسلمانوں پر فرض ہوا
07:32نماز جو پچھلے چودہ سو سال سے
07:35پورے دنیا کے کونے کونے میں عدا ہو رہی ہے
07:38اس سے پہلے نماز فرض نہیں ہوئی
07:40کیونکہ مکہ میں مسجد بنانا
07:42impossible تھا
07:43لیکن آسمانوں کے اس سفر کے بعد
07:45مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی
07:47اور وہاں اسلام کی پہلی مسجد بنائیں
07:49اور اسی نماز کی وجہ سے
07:51مدینہ میں ایک ایسی دسپلنڈ اور
07:53مضبوط کمیونٹی بنی
07:54جس نے آگے جا کہ کچھ ہی سالوں میں
07:56رومن اور پریین ایمپائر
07:58دو بڑی سوپر پاورس کو فتح کر لیا
08:01اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر
08:03پچاس نمازیں فرض ہوں
08:04جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم
08:05وہاں سے روانہ ہوئے
08:06ان کی ملاقات موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی
08:08موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا
08:10کہ آپ کی امت پچاس نمازیں
08:12کبھی بھی آدھا نہیں کر سکتی
08:14تو آپ اللہ کے دربار میں واپس جائیں
08:16اور ان سے اسے کم کرنے کی ریکویسٹ کر
08:18صحیح بخاری میں ہے کہ
08:19رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
08:20واپس گئے اور اللہ سے ریکویسٹ کی
08:21جس پر اللہ نے نمازیں پچاس سے کم کر کے
08:24چالیس کر دی
08:25آپ صلی اللہ علیہ وسلم
08:25واپس موسیٰ علیہ السلام کے پاس گئے
08:27تو انہوں نے کہا کہ چالیس بھی
08:29ایمپوسیبل ہے
08:31واپس جا کر اللہ سے ریکویسٹ کریں
08:33کہ وہ چالیس سے بھی کم کر
08:35اور اس طرح تھوڑا آنا جانا چلتا رہا ہے
08:37اور آخر نمازیں پانچ پر فکس ہو
08:39لیکن
08:40موسیٰ علیہ السلام نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا
08:43کہ آپ کی امت پانچ نمازیں بھی دن میں آدھا نہیں کر سکتی
08:46لیکن
08:47آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا
08:49کہ اس کے بعد
08:50اللہ سے نمازیں اور کم کرنے میں مجھے شرم آتی ہے
08:52میں پانچ نمازوں پر راضی ہوں
08:54آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سفر میں
08:56جنت
08:57توزخ
08:57اور گنہگار لوگوں کی سزائیں
08:59سب دکھائیں گے
09:00آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
09:01جروسلم
09:02واپس بیت المقدس پہنچے
09:04اور وہاں سے واپس مکہ کی طرف روانہ ہو
09:06راستے میں انہیں ایک کافلہ دیکھا
09:08جن کا ایک اونٹ ان سے بھاگ کیا تھا
09:11جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم
09:12واپس مکہ پہنچے
09:13تو
09:13مکہ والے
09:15سارے سو رہے تھے
09:16which means یہ سارا کچھ
09:19آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رات میں کیا تھا
09:21اب یہ کیسے پوسیبل ہے
09:23آئنسٹائن کی تھیوری آف ریلیٹیوٹی کے مطابق
09:25what is
09:26time
09:27time is not absolute
09:29time
09:30is not absolute
09:32جس کا مطلب ہے
09:33کہ اگر ایک شخص تیز مون ہو رہا ہے
09:35اور دوسرا اپنی جگہ پر کھڑا ہے
09:37تو یہ دونوں time کو بالکل
09:39different محسوس کریں گے
09:40اور اگر کوئی light کے سپیڈ کے قریب
09:42travel کرے
09:42تو اس کے لیے time بہت ہی slowly پاس ہوگا
09:45and as we know
09:46مراک کا نام ہی اس کی lightning speed کی وجہ سے رکھا گیا ہے
09:50اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے
09:52یہ رات بہت لمبی تھی
09:54اور پاکی ساروں کے لیے یہ ایک نارمن رات تھی
09:57جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ واپس پہنچے
10:00ان کو بتا تھا
10:01کہ اگر وہ یہ ساری باتیں مکہ والوں کو بتائیں گے
10:04تو مکہ والے ان کا بہت مزاک اڑائیں گے
10:06لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساروں کو
10:09clearly complete story سنا دی
10:11جس کی وجہ سے مکہ والوں نے ان کا بہت مزاک اڑا ہے
10:14اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المقدس کے بارے میں
10:16questions پوچھنے لگے
10:18کیونکہ ان کو پتا تھا
10:19کہ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم
10:21بیت المقدس کبھی بھی نہیں گئے
10:23لیکن اسی time آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی memory کو اور strong کرنے کے لیے
10:27اللہ نے بیت المقدس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا
10:31اسی طرح جس طرح آپ اس time یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں
10:34مکہ والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المقدس کے بارے میں پوچھتے رہے
10:38اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہر بات کا جواب دیتے رہے
10:41جس سے وہ سارے بالکل شوق ہو گئے
10:44آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کافلے کا بھی بتایا
10:46جس کا اونٹ بھاگ گیا تھا
10:48اور اس کے تھوڑی دیر بعد وہ کافلہ بھی پہنچ گیا
10:50اور انہوں نے کہا کہ یہ
10:52یہ سب کچھ سچ ہے
10:54جس سے مکہ والے اور بھی شوق ہو گئے
10:56لیکن یہ ایسا واقعہ ہے
10:58کہ جسے آج بھی اور اس زمانے میں بھی ماننا بہت ہی مشکل تھا
11:03جس کی وجہ سے کچھ کمزور ایمان والے مسلمان بھی
11:06اسلام سے پھر گئے
11:07اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوست
11:09جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دی تھی
11:11انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں مانی
11:14لیکن
11:15جب ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس کا پتا چلا
11:17تو انہوں نے کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے
11:20تو یہ یقیناً بالکل سچ بات ہوگی
11:23جس پر ان کا نام اس دن سے
11:25ابو بکر الصدیق پڑا
11:26یہ سفر کوئی معمولی سفر نہیں
11:28بلکہ اس نے اسلام کی سخت دن ختم کر کے
11:31اسلام کی اروج کے دن شروع کیے
11:33اور اس سے اگلے ہی ساتھ
11:34مدینہ سے سیونٹی ٹو لوگ
11:36آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پادشاہ اور لیڈر کے طور پر
11:40مکہ سے مدینہ کی طرف لے جانے کے لیے ہیں
11:42سبسکرائب
Be the first to comment
Add your comment

Recommended