Skip to playerSkip to main content
  • 4 months ago
Follow me for Islamic Historical Movies and videos.
Transcript
00:00سلح حدیبیہ کا ایک پوائنٹ یہ تھا
00:02کہ 10 سال تک مسلمانوں اور کافروں کے درمیان
00:05کوئی لڑائی نہیں ہوگی
00:06اس سے مسلمانوں کو تھوڑا ٹائم ملا
00:08اور انہوں نے ریلیکس ہو کر
00:10اسلام کی دعوت دینا شروع کی
00:12اسلام قبول کرنے کے بعد
00:13صحابہ کی زندگی باقی عربیوں سے
00:15بالکل الگ ہو چکی تھی
00:16جس سے عرب کے لوگ بہت امپریس ہوتے تھے
00:19اور آہستہ آہستہ بہت سارے لوگ
00:21اسلام کی دعوت قبول کرنے لگے
00:22ان سب میں مکہ کے دو بہت امپورٹنٹ لوگ
00:25خالد بن ولید اور عمر بن آس بھی تھے
00:28اور خالد بن ولید کے لیے
00:30تو اسلام قبول کرنا بہت مشکل تھا
00:32کیونکہ قرآن میں ولید بن مغیرہ
00:34جو خالد بن ولید کے والد تھے
00:36ان کے بارے میں بہت سخت ورڈز یوز کیے گئے تھے
00:39اور عرب میں خاندان
00:41اور سپیشلی باپ کی عزت
00:43سب سے امپورٹنٹ چیز ہوتی تھی
00:45لیکن پھر بھی خالد بن ولید
00:47نے اپنے والد اور پورے خاندان
00:49کے خلاف چاہ کر اسلام قبول کر لیا
00:52آہستہ آہستہ اسلام پھیلتا گیا
00:55اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک امبیسیڈر
00:57رومن ایمپائر کی طرف بھیجا
00:59لیکن اس امبیسیڈر کو غسانی کنگڈم نے
01:02بہت بری طرح قتل کر دیا
01:04یہ غسانی کنگڈم
01:06عرب اور رومن ایمپائر کے بلکل بیچ میں تھا
01:08اور یہ غسانی کنگڈم
01:10رومن ایمپائر کا ایک ویسل سٹیٹ تھا
01:13ویسل سٹیٹ مطلب ایک
01:14پپٹ سٹیٹ
01:16غسانی کنگڈم کا امبیسیڈر کو مارنا
01:18جنگ کے اعلان جیسے تھا
01:20اور صرف اس زمانے میں نہیں
01:21بلکہ آج بھی یو این چارٹرز میں
01:24امبیسیڈر کو مارنا
01:26سب سے بڑے گرائمز میں سے ایک ہے
01:28رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پتا چلا
01:30دونوں نے فوراں تین ہزار لوگ کی فوج جمع کی
01:32اور رومن ایمپائر پر حملے کا فیصلہ کیا
01:35یہ فوج مسلمانوں کی سب سے بڑی فوج تھی
01:37اس سے پہلے مسلمانوں نے
01:39اتنی بڑی فوج کبھی جمع نہیں کی تھی
01:41رومن ایمپائر اس سے کچھ ہی عرصہ پہلے
01:43پرزین ایمپائر سے ایک بہت خطرنات
01:45جنگ جیت چکی تھی
01:46رومن اور پرزین ایمپائر اس زمانے کے
01:49دو بڑے سوپر پاورز تھے
01:51جس طرح آج امریکہ اور
01:53چائنہ ہے
01:54اور اس جنگ میں کون جیتے گا
01:56یہ قرآن نے اس جنگ کے ختم ہونے سے پہلے ہی بتا دیا تھا
02:00یہ بھی بہت زبدہ سٹوری ہے تو
02:07کمی بھی حملہ نہیں کیا تھا
02:08اور رومن ایمپائر سے جنگ کرنا
02:10بالکل سوسائٹ سمجھا جاتا تھا
02:13جب عربوں کو پتا چلا
02:14کہ صرف تین ہزار مسلمان رومن ایمپائر پر حملہ کر رہے ہیں
02:18تو انہوں نے بہت مزاکڑایا
02:19اور کہا کہ ان تین ہزار میں سے
02:22ایک بھی بندہ زندہ بچ کر واپس نہیں آئے گا
02:25اور رومن ایمپائر اس کے بعد مدینہ پر حملہ کر کے
02:27مسلمانوں کو ختم کر دے گا
02:29رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
02:31اس فوج کا لیڈر زید بن حارسہ رضی اللہ عنہ کو بنایا
02:34اسلام سے پہلے زید بن حارسہ کو
02:36رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا مانا جاتا تھا
02:39اور باقی فوج کو بتایا
02:40کہ اگر زید بن حارسہ شہید ہو جائے
02:43تو تمہارا نیکس لیڈر جعفر بن عبی طالب ہوگا
02:46جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے
02:48اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائے
02:50تو تمہارا لیڈر عبداللہ بن رواحہ ہوگا
02:52اور انہیں کہا اس جگہ پر جاؤ
02:54جہاں انہوں نے ہمارے ایمبیسیڈر کو شہید کیا تھا
02:57اور انہیں اسلام کی دعوت تو
02:58اگر یہ لوگ اسلام قبول نہ کریں
03:00صرف اور صرف تب ان سے لڑائی کرنا
03:03اور ہاں کسی بچے بونے یا عورت کو
03:05انڈر اینی سرکمسٹانسز
03:07نقصان نہیں پہنچانا
03:09اور درختوں کو بھی نہیں کٹنا
03:11زید رضی اللہ عنہ اب تین ہزار فوج لے کر روانہ ہوئے
03:14تو راستے میں انہیں پتا چلا کہ
03:16رومنز دو لاکھ فوج لے کر
03:18مسلمانوں کی طرف آ رہے ہیں
03:19دو لاکھ تین ہزار
03:22ورسس دو لاکھ
03:25اس اینیمیشن کو دیکھیں
03:26اس سے توڑا اندازہ ہوگا کہ
03:28ان دو فوجوں میں کتنا بڑا ڈفرنس تھا
03:30یہ ہے اگزیکلی تین ہزار لوگوں کی فوج
03:33اور اس کے سامنے یہ ہے
03:35دو لاکھ لوگوں کی فوج
03:37اب کچھ ویسٹن اسٹورینز کہتے ہیں
03:44کہ یہ دو لاکھ نہیں
03:45بلکہ اس سے کم تھے
03:47لیکن سب یہ بات مانتے ہیں
03:49کہ رومنز مسلمانوں سے بہت زیادہ تھے
03:52مسلمانوں کے ایک گروپ نے سوچا
03:53کہ ہمیں مدینہ سے اور فوج کا انتظار کرنا چاہیے
03:56لیکن مسلمانوں کے تیسرے جنرل
03:58عبداللہ بن رواہا نے کہا
04:00کہ ہم جنگ یا جیتیں گے
04:02اور یا شہید ہوں گے
04:04جنگ چھوڑ کے جانے والا کوئی آپشن نہیں ہے
04:06تو یہاں مسلمانوں نے ایک زبردست پلان بنایا
04:08وہ اس جگہ کو چھوڑ کر
04:12جہاں پہلے لڑائی ہونی تھی
04:14پیچھے ہٹے اور مدہ کے دو پہاڑوں کے درمیان رکھے
04:17اب اس کا کیا فائدہ تھا
04:19فائدہ یہ تھا
04:20کہ اگر یہ دو پہاڑ نہ ہوتے
04:22اور مسلمان دو لاکھ رومنز پر حملہ کرتے
04:25تو رومنز مسلمانوں کو چاروں طرف سے گیر کر
04:27ختم کر سکتے تھے
04:29لیکن ان دو پہاڑوں کی وجہ سے
04:31رومن فوج زیادہ سٹریچ نہیں ہو سکتی تھی
04:34تو لڑائی میں ان کے زیادہ نمبرز ہونے کا
04:36اتنا فائدہ نہ ہوتا
04:38دونوں فوجوں نے حملہ کیا
04:39اور لڑائی شروع ہوئی
04:40زیاد بن حریصہ نے مسلمانوں کی فوج کا جھنڈہ اٹھایا
04:43اور بہت فیرس لڑائی کی
04:45لیکن وہ شہید ہو گئے
04:47تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرڈر کی مطابق
04:49مسلمانوں کے دوسرے جنرل
04:50جعفر بن عبی طالب نے جھنڈہ اٹھایا
04:53اور لڑنے لگے
04:54لیکن جس ہاتھ میں انہوں نے جھنڈہ پکڑا تھا
04:57وہ ہاتھ کٹ گیا
04:58تو انہوں نے دوسرے ہاتھ سے جھنڈہ اٹھایا
05:00لیکن دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا
05:03اور جعفر رضی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے
05:06جنگ کے بعد ان کے جسم پر تلوار کے پچاس نشان ملے
05:09اور ان پچاس میں سے ایک بھی پیٹ پر نہیں تھا
05:13سارے کے سارے فرنٹ پر لگے تھے
05:15تو اب آؤ
05:15آرڈر کے مطابق
05:17عبداللہ بن رواہا نئے جنرل بنے
05:19اور بہت سخت لڑائی کے بعد
05:21وہ بھی شہید ہو گئے
05:22پھر ایک مسلمان نے جھنڈہ اٹھایا
05:24اور زور زور سے سب کو کہنے لگا
05:26کہ جلدی آپس میں ایک لیڈر چوز کرو
05:29ورنہ ہماری پوری فوج بکھر جائے گی
05:32یہ جنگ مدینہ سے ایک ہزار کلومیٹر دور
05:35مطا میں ہو رہی تھی
05:37لیکن
05:37رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنگ کے بارے میں
05:39مدینہ میں مسلمانوں کو پہلے ہی بتا دیت
05:42کہ سب سے پہلے زید نے جھنڈہ اٹھایا
05:44اور وہ شہید کر دیئے گئے
05:46اس کے بعد جعفر نے جھنڈہ اٹھایا
05:47اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے
05:49اس کے بعد عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈہ اٹھایا
05:52اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے
05:54اس کے بعد مسلمانوں نے سیف اللہ
05:56اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار کو
05:58اپنا لیڈر بنا لیا ہے
06:00اس فوج میں اب تک
06:04خالد بن ولید ایک عام سپاہی کی طرح لڑ رہے تھے
06:06اور لڑتے لڑتے
06:08نو تلواریں توڑ چکے تھے
06:10اور یہ مسلمانوں کی طرف سے
06:11ان کی پہلی جنگ تھی
06:12تو ساروں نے
06:13یونینموسلی
06:15without any doubt
06:16خالد بن ولید کو
06:17جنگ کے درمیان ہی
06:19اپنا نیڈر اور جنرل بنایا
06:21خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پتا تھا
06:24کہ رومنز کو اس جنگ میں ہرانا
06:25impossible ہے
06:26لیکن
06:27اگر وہ یہ جنگ چھوڑ کر چلے گئے
06:29تو رومنز مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر
06:31مدینہ پر بھی حملہ کر سکتے ہیں
06:34تو اب مسلمانوں کو ایک ایسی گیم کلنی تھی
06:36کہ مسلمان واپس بھی چلے جائے
06:38اور رومنز انہیں کمزور سمجھ کر
06:40ان پر حملہ بھی نہ کریں
06:41تو اس رات خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے
06:44اپنی فوج کو ری شفل کیا
06:46مطلب رائٹ والوں کو لیفٹ
06:48اور پیچھے والوں کو آگے کیا
06:50اگلے دن جب جنگ شروع ہوئی
06:51تو پہاڑوں سے دھوہ ہونٹنے لگا
06:53اور کچھ ڈرمز کی آوازیں آنا شروع ہوئی
06:56تو رومنز کو لگا کہ
06:57مسلمانوں کی مدد کے لیے
06:58مدینہ سے ایک بہت بڑی فوج پونج گئی ہے
07:01اور آہستہ آہستہ
07:02مسلمانوں کی فوج بہت ہی
07:04اورگنائزڈ اور پلینڈ طریقے سے
07:06جنگ سے پیچھے ہٹنے لگی
07:08ایسا لگ رہا تھا کہ
07:09مسلمان چاہتے ہیں
07:10کہ رومنز ان کا پیچھا کریں
07:11اور وہ ان کو ٹرپ کر دیں
07:13رومنز نے سوچا
07:14کہ مسلمان ہمارے ساتھ
07:16بہت بڑی گیم کھیل رہے ہیں
07:17یہ چاہتے ہیں
07:18کہ ہم ان کا پیچھا کریں
07:19اور یہ اوبن ڈیزرڈ میں
07:21اپنی بڑی فوج کے ساتھ
07:22ہمیں ختم کر دیں
07:24تو رومنز نے یہ سب دیکھ کر
07:25مسلمانوں کا پیچھا نہیں کیا
07:27اور مسلمانوں کی فوج
07:28آہستہ آہستہ وہاں سے پیچھے ہٹ کر
07:30مدینہ پہنچ گئے
07:32اور مسلمانوں کی فوج کو
07:33رومنز کی مقاملے میں
07:34بہت کم نقصان ہوئا
07:36مدینہ والوں نے سوچا
07:37کہیں یہ لوگ جنگ سے بھاگ کر تو نہیں آئے
07:39تو انہوں نے اس فوج کو
07:41بہت ہی برا بلا کہا
07:42لیکن
07:43رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا
07:44یہ بھاگ کر نہیں آئے
07:45یہ ہماری مدد لینے کے لیے آئے ہیں
07:47اور بہت جلد
07:48ہم رومن پر دوبارہ حملہ کریں گے
07:51یہ جنگ تو رومنز اور مسلمانوں کے درمیان تھی
07:53لیکن پورا عرب
07:55اس لڑائی کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا
07:58کیونکہ پہلی بار
07:59عرب نے
08:00مائٹی رومن ایمپائر کی طاقت کو
08:03چیلنج کیا تھا
08:04تو جب انہوں نے دیکھا کہ
08:06دو لاکھ فوج سے لڑنے کے لیے
08:07صرف تین ہزار لوگ گئے
08:09اور ٹھیک ٹھاک واپس بھی آگئے
08:11تو یہ عرب کی تاریخ میں بہت ہی
08:13انپوسیبل کام ہوتا
08:15جس سے باقی عرب کے دلوں میں
08:16مسلمانوں کے لیے بہت عزت پیدا ہوئی
08:19اور عرب کے وہ قبیلے
08:21جو ہر جنگ میں
08:22خندق، بدر، عہد
08:24میں مسلمانوں کے ہمیشہ خلاف ہوتے تھے
08:26جنگ متا کے بعد
08:28اسلام کی طرف آنے لگے
08:30اور مدینہ کی یہ چھوٹی سی ریاست
08:32آہستہ آہستہ
08:33ہر طرف پھیلنے لگی
08:37رومنز اتنی چھوٹی فوج سے
08:39جنگ صرف اس لیے ہارے
08:41کیونکہ رومن ایمپائر کچھ سال پہلے
08:43پرزین ایمپائر سے جنگ کے بعد
08:45بہت کمزور ہو چکی تھی
08:47اس جنگ میں پرزین ایمپائر نے
08:49رومن ایمپائر کو بلکل تباہ و برباد کر دیا تھا
08:52لیکن اسی ٹائم
08:53قرآن کے سورے روم میں کہا گیا تھا
08:56کہ یہ جنگ پرزینز نہیں
08:57رومنز جیتیں گے
08:59اور یہ بھی بہت انٹرسٹنگ سٹوڈی ہے
09:02شکریہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended