Skip to playerSkip to main content

تین چیزوں کی وضاحت

1. شہد (Honey):

قرآن میں بھی شہد کو شفا قرار دیا گیا ہے: "فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ" (النحل: 69)۔

شہد معدہ، جگر، دل اور توانائی کے لئے بہترین ہے۔



2. حجامت (Cupping Therapy):

خون کی صفائی اور جسمانی درد کے علاج کے لئے نہایت مؤثر ہے۔

حضور ﷺ نے خود بھی حجامہ کروایا۔



3. آگ سے داغنا (Cauterization):

بعض بیماریوں میں پرانے وقتوں میں آگ سے داغ کر علاج کیا جاتا تھا۔

لیکن آپ ﷺ نے اس طریقے کو ناپسند فرمایا اور امت کو اس سے روکا۔





---

یاد رکھنے کی بات

نبی ﷺ نے تین چیزوں کو شفا کا ذریعہ بتایا، مگر ہر مریض کے لئے ہر علاج مفید نہیں ہوتا۔

اسی لئے ڈاکٹر یا طبیب کے مشورے کے بغیر کوئی علاج شروع نہیں کرنا چاہیے۔

جدید دور میں میڈیکل سائنس نے بھی حجامہ، شہد اور بعض مخصوص علاجوں کی افادیت کو تسلیم کیا ہے۔



#شہد #حجامہ #اسلامی_علاج #سنت_نبوی #حدیث #صحت #شفا #طبیب #قدرتی_علاج #ڈاکٹر

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال
00:09الشفاء في ثلاثة في شرطة محجم أو شربة عسل أو كيتم بنار وأن أنهى أمتي عن الكيج
00:22رواه البخاري
00:24نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شفاء تین چیزوں میں ہے
00:31پچھنا لگوانے میں شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں
00:37پھر حضور نے فرمایا لیکن میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں
00:46دوستو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے یہاں تین چیزوں کا ذکر فرمایا ہے
00:51کہ ان تین چیزوں میں شفاء ہے
00:53یاد رکھئے اس سے تحدید مقصود نہیں ہے
00:58مقصود نہیں ہے کہ بس شفاء انہی تین چیزوں میں بند ہے
01:02بلکہ ان تین چیزوں کا خاص طور پہ حضور علیہ السلام نے تذکرہ فرمایا ہے
01:08ایک تو پچھنا لگوانا
01:11حجامہ کروانا
01:13یہ سنت ہے
01:14اس پہ ہم تفصیلی بات کریں گے انشاءاللہ
01:16دوسرا شہد پینہ
01:19ظاہر ہے اس کو قرآن کریم میں بھی شفاء کہا گیا ہے
01:22تیسرا
01:24آگ سے داغنا
01:25اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے
01:29میں اپنی امت کو
01:30آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں
01:32اب اس حوالے سے
01:35بعض روایات میں ہمیں یہ ملتا ہے
01:38کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
01:40بات صحابہ اکرام کو آگ سے داغا
01:44تو اس سے یہ بات سمجھ میں آگئی
01:47کہ آگ سے داغنا
01:49ہر حال میں ممنوع نہیں ہے
01:51یہ کوئی حرام یا مکروع تحریمی نہیں ہے
01:54بلکہ
01:55چونکہ آگ سے داغنے
01:57یا آگ کے عذاب سے
01:58منع کیا گیا ہے
02:00تو اس وجہ سے
02:01حضور علیہ السلام نے اس کو پسند نہیں فرمایا
02:04لیکن اگر کسی جگہ بہت زیادہ ضرورت محسوس ہوئی
02:07خاص طور پر تب
02:08جب کسی کا خون جاری ہو جائے اور وہ رک نہ رہا ہو
02:11تو اس معاشرے میں اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا
02:14کہ اس کو آگ سے داغ دیتے تھے
02:16تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی
02:19آگ سے داغنا ثابت ہے
02:20تو جہاں بہت زیادہ ضرورت ہو
02:24داغا بھی جا سکتا ہے
02:26تو یہ تین چیزیں ہیں
02:28جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے
02:31اب یاد رکھئے
02:32ان کا مطلب یہ نہیں ہے
02:34کہ ہر آدمی
02:35وہ اپنے اعتبار سے
02:37اپنے حساب سے
02:38شہد پینا شروع کر دے
02:39بلکہ یہ عموماً بات بیان کر دی گئی ہے
02:44باقی طبیب سے مشورہ بہت ضروری ہے
02:47ڈاکٹر سے مشورہ بہت ضروری ہے
02:49اور وہ مشورے کے بعد
02:51وہ آپ کی طبیعت اور مزاج کو دیکھتے ہوئے
02:54آپ کے لیے وہ تجویز کریں گے
02:57کہ آپ کس چیز کا استعمال کریں
02:59آپ کو پچھنا لگوانا ہے
03:00ہجامہ کروانا ہے
03:02آپ کو شہد پینا ہے
03:04یا اور کسی چیز کی وہ تجویز کرتے ہیں
03:07تو وہ طبیب اور ڈاکٹر کے مشورے کے ساتھ ہی کیا جائے
03:11السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended