Skip to playerSkip to main content
Seerat Un Nabi (S.A.W.W)

Islamic Scholar: Shujauddin Sheikh

Watch All The Episodes Here || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieFK2r6EN6PLqb6_i5G6d8K

#DrMehmoodGhaznavi #ShujauddinSheikh #SeeratUnNabiPBUH #ARYQtv

The words of Allah Ta'ala, the standard of his character and personality is far above that of any other creation. He possessed the best and noblest qualities of the perfect man and was like a jewel illuminating the dark environment with his radiant personality, ideal example and glorious message. Now based on these facts which we wholly and solely believe we are presenting this program for our Muslim as well as non-Muslim viewers to enlighten their lives with the light of the Seerah of Prophet Hazrat Muhammad PBUH.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Alhamdulillahi Rabbil Alameen
00:30مَنْ يُتِعِ رَسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهُ صَدَقَ اللَّهُ الْعَظِيمُ
00:34اللَّهُمَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدِ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدِ وَبَارِكُ وَسَلِّمُ
00:39رَبِّ شْرَحْ لِصَدْرِ وَيَسْرِ لِي أَمْرِ وَحْلُ لُقْدَةً مِنْ لِسَانِ يَفْقَهُ قَوْلِ
00:43وَجَعَلْ لِي وَزِیرًا مِنْ اَحْلِي آمِينَ
00:46یا رب العالمین
00:46ناظر کرام السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:50امید آپ خرافیت سے ہوں گا
00:51ہماری دعا ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں
00:53اللہ تعالی آپ سب کو اور ہم سب کو اپنے ہی زمان میں رکھے
00:56نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک صیرت کا مطالعہ کر رہے ہیں
01:00اللہ ہمیں استفادہ کرتے ہوئے عمل کی توفیق عطا فرمائے
01:03قدشنہ پرگرام میں آپ کو یاد ہوگا ہم کلام کر رہے تھے
01:06نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عصوے حسنہ کے تعلق سے
01:11اس معنی میں کہ غم زدہ لوگوں کے لیے نمونہ بھی
01:15رسول اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے
01:17بیٹوں کا چھوٹی عمر میں انتقال ہو جانا
01:20دو بیٹیوں کو دعوت توحید کے دوران میں طلاق دیا جانا
01:25یہ باتیں ہم نے سمجھی تھیں
01:26انفرادی سطح پر بھی اللہ کے پیغمبر علیہ وسلم پر مشکلات آئیں
01:30اور اللہ کے دین کی دعوت اور اللہ کے دین کے نفاس کی جد و جہد کے دوران میں بھی
01:35اللہ کے پیغمبر علیہ وسلم پر مشکلات آئیں
01:37جب ہم دیکھتے ہیں رسول اکرم علیہ السلام کے مبارک عصوہ کو
01:42تو یقینا ہمارے لئے بڑی رہنمائی اس میں سامنے آتی ہے
01:45تو غم زدہ لوگوں کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ
01:50اس پر ہم نے گدشنہ نشست میں کلام کیا تھا
01:52یہ تو ریکیپ ہوا پچھلی نشست میں جو ہم نے کلام کیا تھا آپ کے سامنے
01:55آج پرگرام کے آغاز میں جو آئیت کریم کا حصہ تلاوت کیا گیا
02:00بہت مشہور مقام قرآن حکیم کا
02:02سورة النساء کی آیت نمبر اسی
02:04سورة النساء آیت نمبر اسی میں
02:07اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا
02:08جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی
02:14اسی نے اللہ سبحانہ وتعالی کی اطاعت کی
02:17عبادت اللہ کی ہے
02:18اطاعت کا حکم اللہ سبحانہ وتعالی نے دیا
02:21البتہ اللہ کی اطاعت کیسے کی جائیں
02:24اس کے لیے رسول اللہ علیہ السلام کی اطاعت لازم ہے
02:28اللہ تعالی کی بندگی کرنی ہے
02:30طریقہ رسول اکرم علیہ السلام سے عطا ملے گا
02:32اللہ کے احکامات پر عمل کرنا ہے
02:34نمونہ اللہ کے رسول علیہ السلام کے احکامات سے ملے گا
02:37سومت سو کہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے
02:39سورہ نساء کے آیت مرسی میں
02:40جس سے رسول علیہ السلام کی اطاعت کی اس لئے اللہ
02:45سبحان و تعالیٰ کی اطاعت کی اللہ تعالیٰ
02:47ہم سب کو اپنی اور نبی مکرم علیہ السلام کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے
02:52آج کے نشیس میں ہم دو عنوانات کے تحت
02:55تقریباً دس نکات پر مختصر بات کریں گے
02:58دو عنوانات میں سے پہلا عنوان ہوگا
03:00غیرت دینی
03:01اللہ کے دین کے لئے غیرت کا ہونا
03:03حمیت کا ہونا
03:05اس تعلق سے ہم چار باتیں سمجھیں گے
03:07انشاءاللہ نبی کرم صلی اللہ علیہ السلام کے مبارک اس سوا سے
03:10اس کے بعد دوسرا عنوان ہوگا
03:12اور وہ ہوگا دعوت دین کی محنت
03:14اللہ کے دین کی دعوت
03:16اس جد و جہد کے دوران میں
03:18اس فریضے کو انجام دینے کے دوران میں
03:20بہت کچھ اللہ کے نبی علیہ السلام کو معاملات پیش آئے
03:23مسائب آئے
03:24تکالیف بھی آئیں
03:25آزمائش بھی آئیں
03:26اس حوالے سے
03:27چھے باتوں کو انشاءاللہ تعالی ہم
03:29سمجھنے کی کوشش کریں گے
03:31کل دس نکات ہیں
03:32آج کی نشیس میں ہم جانیں گے
03:34اور دو عنوانات کے تحت
03:36آج کی نشیس کا پہلا عنوان ہے
03:37غیرت دینی
03:38اللہ کے دین کے لئے غیرت ہونا
03:40اللہ کے دین کے لئے حمیت ہونا
03:42آج ہم آپ دیکھتے ہیں نا
03:43گھروں کے اندر
03:44یہ میری غیرت کے خلاف ہے
03:45قبائل کے اندر
03:46خاندانوں کے اندر
03:48اسی طرح معاشروں میں
03:49یہ میری غیرت کے خلاف ہے
03:50اپنی میری آپ کی غیرت کا تو
03:52معاملہ چلنا ہے
03:53اللہ کے دین کے لئے غیرت ہے کہ نہیں
03:55آئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
03:58معلوم کرتے ہیں
03:59اس غیرت دینی کے حوالے سے
04:01چار باتیں آپ کے سامنے رکھنی
04:02سب سے پہلی بات
04:03بہت مشہور واقعہ
04:05قریش کے سردار
04:06مشرقین بار بار
04:07جناب ابو طالب کے پاس بھی آتے
04:09اور کہتے کہ اپنے بھتیجے کو سمجھائیے
04:11یہ توہیر کی دعوت دیتے ہیں
04:12ہمارے بھتوں کا انکار کرتے ہیں
04:14تو ایک مرتبہ بہت زیادہ پریشر آیا
04:16اور جناب ابو طالب نے
04:17رسول اللہ علیہ وسلم کے سامنے بات رکھی
04:20اب مجھ پر بڑھاپا بھی آ گیا ہے
04:22اب دیکھو یہ لوگ مجھ پر پریشر بھی ڈالنے ہیں
04:24زیرا تم غور کر لو
04:25اس موقع پر بہت ساری تفصیلات ہیں
04:28اللہ کے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
04:30کہ چچا جان
04:31اگر میرے دائیں ہاتھ پر سورج رکھ دیا جائے
04:34اور میرے بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیا جائے
04:37تب بھی میں اس کام سے باز نہ آوں گا
04:39یا تو یہ دین کی دعوت کا کام کرتے کرتے
04:42میں دنیا سے ہی چلا جاؤں
04:43یا یہ کام پائے تکمیل کو پہنچے گا
04:45لیکن میں اس کام کو چھوڑ نہیں سکتا
04:48چاہے میرے دائیں ہاتھ پر سورج رکھ دیا جائے
04:50میرے بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیا جائے
04:52اللہ کے دین کی دعوت کے کام کو چھوڑا نہیں جا سکتا
04:56اس واقعے میں بہت سارے حکمت کے پہلو ہیں
04:59لیکن آگے چلتے ہیں
05:00اگلا نکتہ اور وہ ہے
05:02اس تعلق سے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
05:05کا معاملہ کیا ہوتا
05:06جب اللہ کے حکامات ٹوٹتے ہوئے دکھائی دیتے
05:09آج ہمارے گھروں میں گلاس ٹوٹ جاتا ہے
05:11اور ڈنر سیٹ کا باول ٹوٹ جاتا ہے
05:13سمارٹ فون کی سکرین ٹوٹ جاتی ہے
05:15ایل سیڈی کی سکرین تباہ ہو جاتی ہے
05:18کتنا غصہ آتا ہے گھر والوں پر
05:19غصہ آتا ہے
05:20اپنے بچوں کو پیٹنا بھی لوگ شروع کر دیتے ہیں
05:23کتنی غیرت ہے نا
05:25باول ٹوٹ گیا
05:25گلاس ٹوٹ گیا
05:26سمارٹ فون کی سکرین ٹوٹ گئی
05:29ایل سیڈی کی سکرین ٹوٹ گئی
05:30بڑی غیرت آ گئی
05:31ارے اللہ کے احکامات گھروں میں بھی ٹوٹتے ہیں
05:34خاندان میں بھی ٹوٹتے ہیں
05:35آفیسز میں بھی ٹوٹتے ہیں
05:36سڑکوں پر بھی ٹوٹتے ہیں
05:48صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں
05:48ہم عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں
05:51کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
05:53ذاتی معاملات میں غصہ نہ کرتے
05:55نہ کسی سے بدلہ لیتے
05:56نہ کوئی انتقام کا معاملہ کرتے
05:58ذاتی معاملات میں تو عفو درگزر ہے
06:00معفی ہے
06:01لیکن جب اللہ
06:03سبحان و تعالیٰ کی حدود میں سے
06:05کوئی حد ٹوٹتی
06:06اللہ کے احکام
06:07حدود سے ایک مراد احکام بھی ہیں
06:08اللہ سبحان و تعالیٰ کی حدود میں سے
06:11کوئی حد ٹوٹتی تو سب سے زیادہ غصہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
06:16کو آتا تھا حضور رحمت للعالمین بھی ہیں سبحان اللہ اور حضور
06:20کے بارے میں اللہ یہ بھی فرما رہے ہیں لقد کان لکن فی رسول اللہ
06:24اسوط حسن تمہارے لئے رسول اللہ علیہ السلام کی زندگی میں بہتری
06:27نمونہ موجود ہے تو جب اللہ کے احکامات ٹوٹتے تو سب سے زیادہ
06:32غصہ اللہ کے رسول کو آتا صلی اللہ علیہ وسلم اما عائشہ رضی
06:36اللہ تعالی عنہ ہمیں بتا رہی ہیں تو آپ غور کر لیں کہاں کہاں
06:41ہمیں غصہ آتا ہے کہاں کہاں ہماری چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے
06:44کہاں کہاں ہماری خاندانی روایت رسول سامنے آ جاتے ہیں اور
06:48اللہ کے احکامات کے ٹوٹنے پر کیا ہوتا ہے ہمیں اپنے اندر بلکہ
06:52اپنے گریوانوں میں جھانک لینا چاہیے تیسہ نکتہ غیرت دینی
06:55کے تعلق سے بہت مشہور معاملہ ہوا یعنی بہت مشہور واقعہ ہے
06:59معاملہ کیا ہوا ایک بڑے قبیلے کی عورت اتفاق سے اس کا نام فاطمہ
07:03تھا اور اسے چوری کر لیں یہ مقدمہ رسول اکرم صلی اللہ
07:07علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آیا جب معاملہ کلیر ہو گیا تو
07:10اللہ کے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمانا چاہا
07:14چوری کی سزا ہم سب کو معلوم ہے ذرا سفارش آنا شروع ہو گئی
07:18سفارش آنا شروع ہو گئی بڑے خاندان کی ہے نا بڑے قبیلے کی ہے نا
07:23تو ذرا سا کوئی ہلکہ ہاتھ رکھا جائے کچھ معافی تلافی کا
07:26معاملہ ہو جائے آج ہمارے ایسے ہی ہوتا ہے نا چھوٹے جرم
07:29کرتے ہیں تو ان کو مارا جاتا ہے پیٹا جاتا ہے جیلوں میں
07:31ڈالا جاتا ہے سب کچھ کیا جاتا ہے جرم جرم ہے نہیں کرنا
07:34چاہیے لیکن چھوٹے کرتے ہیں غریب کرتے ہیں تو ان کے
07:37پر جہاں وہ سارا قانون جہاں وہ حرکت میں آ جاتا ہے بڑے
07:41روٹتے رہیں خسوٹتے رہیں اور قتل و غارت گری کرتے رہیں
07:44کوئی پوچھنے والا نہیں اللہ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ
07:48علیہ وسلم نے اشارت فرمایا کہ بالفرض محال بالفرض محال
07:52سپوزنگلی بالفرض محال اگر میری بیٹی فاغمت زہرہ رضی اللہ
07:56تعالی عنہ اگر اس نے بھی ایسا کام کیا ہوتا تو اسی سزا کا
08:00نفاظ ہوتا تو اب یہ چاہے بڑے خاندان کی جس عورت نے چوری کی
08:04جس عورت نے چوری کی چاہے بڑے خاندان کی ہے سزا تو نافذ ہوگی
08:08اور اللہ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی اشارت
08:11فرمایا کہ یاد رکھنا تم سے پشلی قومیں کیوں تباہ برباد ہوئیں
08:15کیا خسورت الفاظ اور کیا بڑا پیارا تذیع قوموں کے حالات پر
08:19اللہ کے رسول علیہ السلام کا تم سے پشلی قومیں کیوں تباہ ہوئیں
08:23جب کوئی بڑا چوری کرتا یعنی بڑا کوئی ظلم کرتا جبر کرتا
08:26یا کوئی بڑا غلط کام کرتا تو اس کو چھوڑ دیا کرتے تھے
08:30مجرم بنتا تو چھوڑ دیا کرتے تھے بڑے کو چھوڑ دیا کرتے تھے
08:34چھوڑے کو سزا دیا کرتے تھے اس وجہ سے قومیں تباہ برباد ہو گئیں
08:38آج ہمارا حال بھی کچھ یہ نہیں بڑے دن دناتے پھرتے ہوں
08:41قوم کو لوٹنے والے خسوٹنے والے قط و غارتگری کرنے والے قفزے کرنے والے
08:46اللہ اکبر لوٹ خسوٹ کرنے والے دن دناتے پھرتے ہیں
08:49اور چھوٹوں کو سزائیں دی جاتی ہیں
08:51پچھلی قومیں کیوں تباہ ہوئیں
08:53بڑے جرم کرتے چھوڑ دیا جاتے
08:55چھوٹے جرم کرتے وہ سزا پاتے تھے
08:57یہ غیرت دینی کے بیان کے حوالے سے تیسا نکتہ تھا
09:00اگلا اور اس زمن میں چوتا نکتہ ہے
09:02اور وہ ہے اللہ کے پیارے پیغمبر علیہ السلام نے
09:05دو افراد کے بارے میں اور بھی احکامات اور بھی واقعات ہیں
09:09دو کا میں ذکر کر رہا ہوں
09:10ایک بڑا سردار تھا یہود کا قعب بن اشرف
09:12قعب بن اشرف
09:14بخاری شریف میں پورا تفسیری واقعہ
09:16اس کے تعلق سے آتا ہے
09:17اور یہ شخصہ یہودی وہ تھا ابو رافع
09:20وہ آباد ہو گیا تھا خیبر میں جا کر
09:22تو قعب بن اشرف
09:23یہود کا سردار
09:25نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں
09:29گستاخیا کرتا تھا
09:30معاذ اللہ
09:31مسلمانوں کو بھی پریشان کرتا
09:32ستایا کرتا تھا
09:33اور نبی مکرم علیہ السلام کی شان اقدس میں گستاخیا کرتا تھا
09:37ابو رافع یہودی تھا
09:39اس کی بھی حرکتیں تھیں
09:40اللہ کے نبی مکرم علیہ السلام ہیں
09:42دو الگ الگ مواقع پر
09:43کبھی یہ فرمایا
09:44کون اس سے اس ناحنجاج سے میری جان چھوڑائے گا
09:47تو صحابہ اکرام گئے
09:48اور اس قعب بن اشرف کو قتل کیا
09:51اللہ کے رسول علیہ السلام کی خواہش
09:52اور بلکہ حکم پر
09:53اور ابو رافع جو خیبر میں جا کر آباد ہوا
09:56صحابہ اکرام کی جماعت گئی
09:57رضی اللہ تعالی عن مجمعین
09:59اور اس کا خاتمہ کر کے آئی
10:01تو یہ قعب بن اشرف ہو
10:02یہودی سردار
10:03یا ابو رافع ہو
10:04ان دونوں کے خاتمے کا معاملہ ہوا
10:06اور یہ اللہ کے پیارے رسول علیہ السلام
10:09نے اس کا حکم عطا کیا تھا
10:11یہ سب کچھ غیرت دینی کے اعتبار سے ہے
10:14چار باتیں میں آپ کے سامنے لکھیں
10:16غیرت دینی کے اعتبار سے
10:18نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
10:19مبارک اسوا سے
10:20آگے چلتے ہیں
10:21اور آج کا اگلا نکتہ ہے
10:22وہ ہے دعوت دین کی محنت
10:24اللہ کی دین کی دعوت دینا
10:25اللہ کی طرف لوگوں کو بلانا
10:27توحید کی دعوت دینا
10:29بندوں کو رب سے جوڑنے کی کوشش کرنا
10:31یہ مسقل انبیاء
10:32اور رسول کی محنت اور سنت رہی
10:35اور یہی تئیس برس کے سنت رہی
10:37رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
10:40اس دعوت دین کے حوالے سے بھی
10:42چھے باتیں میں آپ کے سامنے
10:43رکھنا چاہوں گا
10:44انشاءاللہ تعالی
10:46تو آج کل دس باتیں ہیں
10:47چار باتیں ہم نے سمجھی
10:48اب آئیے پانچویں بات کی طرف چلتے ہیں
10:50دعوت دین کی محنت کے حوالے سے
10:52بہت اہم نکتہ
10:53گھر والوں کو سب سے پہلے دعوت دینا
10:56یہ بہت اہم بات ہے
10:57آج لوگ ٹی وی پر کلام
10:59میں بھی اس پر ٹیلویجن پر بیٹھ کر بات کر رہا ہوں
11:01لوگ باہر نکل کر باتیں کرتے
11:02دنیا جہاں میں جا کر باتیں کرتے
11:04کرنی چاہیے
11:05دین کی دعوت دیتے
11:06اچھی بات ہے
11:07مگر اپنی ذات کو
11:08اور اپنے گھر والوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے
11:10بہار بہت اچھے ہیں
11:11گھر کے اندر معاملاتی
11:12پلٹے ہوئے ہیں
11:13بدلے ہوئے ہیں
11:14یہ کیا بات ہوئی
11:15ساری دنیا کو خیر بات رو
11:17اور اپنے آپ کو فراموش کر جاؤ
11:18اور اپنے گھر والوں کو بھول جاؤ
11:19غلط بات
11:20قرآن پاک کا حکم ہے
11:21سورہ تحریم آیت 6
11:23یا ایوہ اللہ دین آمنقو انفسکم
11:26و اہلیکم نارا
11:28اے ایمان والوں اپنے آپ کو
11:29اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگز سے بچاؤ
11:32تو پہلی بات
11:33گھر والوں کو ست سے پہلے دعوت
11:35اللہ کے نبی علیہ السلام کا
11:36مشہور واقع ہمارے علم میں ہے
11:37جب پہلی پہلی مرتبہ وحی کا نزول ہوا
11:40تو اللہ کے پہلے رسول علیہ السلام
11:42بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس
11:44سشیف لے گئے
11:45اپنی زوجہ محترمہ کے پاس
11:47بہت اہم بات
11:47تفصیل میں نہیں جارے
11:48پھر اللہ کے نبی علیہ السلام پر
11:50ایمان لانے والے
11:52اولین چار افراد کون ہیں
11:54اولین چار افراد جو رسول اکرم
11:56صلی اللہ علیہ السلام پر ایمان لے
11:58وہ قریبی لوگ ہیں
11:59بیوی ہیں آپ کی زوجہ محترمہ ہیں
12:02حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:03بہت قریبی دوست ہیں
12:05صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:07آزاد کردہ غلام حضرت زید
12:09رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:10اور کزن ہیں
12:11بچے ہیں ابھی
12:12سیدنا علی رضی اللہ عنہ
12:14قریب ترین چار افراد
12:16سب سے پہلے حضور پر ایمان لے
12:18پتہ ہے کیوں
12:19اس لیے کہ ان سب کے سامنے
12:20حضور کا عصوہ
12:21حضور کا نمونہ
12:22حضور کا کردار
12:24حضور کی اخلاق
12:25چاریس سال سے بلکہ سامنے تھے
12:26پورے عرب کے سامنے تھے
12:27گھر والوں کے سامنے تھے
12:28تو بلکہ یہ سب کچھ
12:29کھولی ہوئی کتاب کی ایمان موجود تھا
12:32اہم بات
12:33پہلے دن
12:34ایک رائے کے مطابق
12:35پہلے ہی دن
12:36اولین طور پر
12:37جو چار افراد ایمان لائے
12:39وہ گھر کے قریب ترین افراد ہیں
12:41ہم غور کر لیں
12:42دنیا جہاں میں دعوت کا کام
12:44تبلیغ کا کام
12:44تدریس کا کام
12:45بڑی بڑی باتیں
12:46اپنے گھر والوں کو
12:48فراموش تو نہیں کر رہے
12:49فراموش کر کے
12:50اگر یہ کر رہے تو
12:51بڑا ظلم کر رہے ہیں
12:52غور کرنے کی ضرورت ہے
12:53چھٹا نکتہ آپ کے سامنے لگتے ہیں
12:55خاندان والوں کو دعوت
12:57اللہ کے نبی مکرم علیہ السلام نے
12:58کم سے کم دو
12:59اور صیرت کے کتابوں میں
13:01بعض مرتبہ تین
13:02دعوتوں کا ذکر بھی ملتا ہے
13:03صاحب تمام خاندان والوں کو بلایا
13:05ان کے لئے کھانے کا انتظام کیا
13:08اور پہلی مرتبہ وہ کھانا کھا کر چلے گئے
13:10قریش کے لوگ
13:11بنو حاشم کے لوگ
13:12کھانا کھا کر چلے گئے
13:13دوسری مرتبہ پھر حضور نے بلایا
13:15صلی اللہ علیہ وسلم پتہ ہے
13:16کس نے کھانا تیار کیا تھا
13:18اما خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے
13:20صرف کون کر رہا تھا
13:22حضرت زیاد اور حضرت علی
13:23بارحل دوسری مرتبہ جب آئے
13:26تو ان خاندان والوں کو شرم آئی ہوگی
13:28پہلی مرتبہ بھی کھانا کھا کر
13:30ہم چلے گئے تھے بھاگ گئے تھے
13:31پھر اللہ کے نبی علیہ السلام نے خطاب فرمایا
13:33توحید کی دعوت ان کے سامنے رکھی
13:35آخرت کی دعوت ان کے سامنے رکھی
13:37رسالت کی دعوت ان کے سامنے رکھی
13:39تو اپنے خاندان والوں کو بھی
13:41اللہ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
13:44کھانے کی دعوت پر بلا کر
13:46دین کی دعوت ان کے سامنے رکھی
13:48یہ حکم بھی قرآن کریم میں ہمیں ملتا ہے
13:50سورت الشعارہ آیت نبہ دو سو چودہ میں
13:53سورت الشعارہ کی آیت نبہ دو سو چودہ میں
13:56ذکر ہے
13:56وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ
13:59اور اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
14:00اپنے قریب ترین لوگوں کو
14:02اللہ کی پکڑ سے
14:04اللہ کے عذاب سے خبردار کیجئے
14:06تو آپ نے خاندان والوں کو بھی دعوت پر بلائے
14:08اس سے آگے بڑھتے ہیں
14:09اگلا نکتہ ہے
14:10آج کی پوری لسٹ کے مطابق ساتھوہ نکتہ
14:12اوہے کوہِ صفا پر دعوت
14:14صفا مروہ یہ پہاڑی ہیں
14:16ہم جانتے بھی ہیں
14:16جن کے درمیان صعیب ہی کی جاتی ہے
14:18تو صفا کا پہاڑ
14:19یہاں پر عرب کے لوگ کوئی خبر دینا چاہتے تھے
14:22اہم خبر دینا چاہتے تھے
14:24تو یہاں کھڑے ہو جائے کرتے تھے
14:26اور ایک اور بات میں حفظ کرتا ہوں
14:27اس زمانے کا میڈیم یہی تھا
14:29وہ پہاڑ پر کوئی کھڑا ہو
14:31تو دور سے ہر بندہ دیکھ سکتا ہے
14:32اگر کوئی اہم خبر ہوتی
14:34کسی لشکر کے حملے کی خبر دینا ہوتی
14:37لوگوں کو خبردار کرنا ہوتا
14:39وارن کرنا ہوتا
14:41تو کوئی شخص کوئی صفا پر صبح کے وقت کھڑا ہو جاتا
14:44صفا کی پہاڑی پر صبح کھڑا ہوتا
14:46اور وَا صَبَاحَا
14:47وَا صَبَاحَا
14:48ہائے تباہی
14:49یہ نعرے لگا تھا لوگ متوجہ ہوتے
14:52ایک برا کام وہ لوگ اور کرتے تھے
14:54وہ تھا وہ برہنہ ہو کر کھڑا ہوتا
14:56تاکہ لوگ اور متوجہ ہو جائے
14:57یہ تو بری بات ہے
14:58غلط بات ہے خلاف فطرت خلاف شرم و حیاء بھی ہے
15:01اور خلاف شریعت بھی ہے
15:02بارحال اللہ کے نبی مکرم علیہ السلام
15:05کوئی صفا پر کھڑے ہوئے
15:07صبح کے وقت کھڑے ہوئے
15:09وَا صَبَاحَا
15:10کا نعرہ آپ نے لگایا
15:11یہ تین کام حضور نے کیا
15:12چوتھا گام غلطہ حضور نے چھوڑ دیا
15:14صلی اللہ علیہ السلام
15:15اس سے معلوم ہوا
15:17ہر دور کا جو میڈیم ہوگا
15:19جو مینس آف کمیونکیشن ہوگا
15:21جو ذرائع ابلاغ ہوں گے
15:22ان کو اختیار کیا جائے گا
15:23شر کے پہلو کو نکال کر
15:25یہی وجہ ہے کہ آج ہم آپ کے سامنے
15:27ٹیلیویجن کی سکرین پر
15:28یا ممکن سمارٹ فون پر آپ دیکھ رہے ہیں
15:30اور گیجٹس پر دیکھ رہے ہیں
15:31یہ ٹیکنالوجی کیوں استعمال کر رہے ہیں
15:33اس لیے کہ آج کا یہ میڈیم ہے
15:34مینس آف کمیونکیشن ہے
15:36شریعت کے خلاف کوئی بات ہوگی
15:38خلاف اصول شریعت کوئی بات ہوگی
15:40اس کو مائنس کیا جائے گا
15:41باقی آج کی ٹیکنالوجی کو
15:43مینس آف کمیونکیشن کو
15:44محتاط انداز سے اختیار کر کے
15:46دین کی دعوت پریزنٹ کی جائے گی
15:48یہ کوہ صفحہ پر
15:49نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھڑا ہونا
15:52اس سے یہ بات بھی ہمیں سمجھ میں آتی ہیں
15:54پھر آپ نے لوگوں کو دعوت دی
15:56اور لوگ اس سے پوچھا
15:57کیا میں تم سے کوئی بات کہوں
15:58تو تم میری بات مانو گے
15:59کہاں بلکل مانیں گے
16:00کہاں چاہ میں کہوں پہاڑ کے پیچھے سے
16:02کوئی لشکر آرہ بلکل مانیں گے
16:04اسے کہ آپ صادق اور امین سچے ہیں
16:05سبحان اللہ
16:06پھر اللہ کے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم
16:09نے توہید کی دعوت ان کے سامنے پیش کی
16:11ایک اللہ کو مانو
16:12اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کوئی
16:14اس پر یقیناً وہ لوگ ناراض بھی ہوئے
16:16اور ابو لہب نے بد کلامی تک کی
16:18جس پر صورت اللہب کا نزول بھی ہوا
16:21لیکن ارز کرنے کا مطلب
16:22گھر میں دعوت
16:23خاندان والوں کے دعوت
16:25اور علاقے کے افراد کو
16:27اوپن ڈی پبلک میں دعوت بھی دیں
16:29نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
16:30نے آٹھ ون ہوتا
16:31ابو جہل کے دروازے پر
16:33ابو جہل کون ہے
16:34دشمن تھا
16:35اور جب غزوہِ بدر میں قتل ہوا تھا
16:37تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
16:39نے اشارت فرمایا
16:40آج اس امت کا فیرون قتل ہوا
16:42مگر اس کو بھی دعوت دیتے تھے
16:44رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
16:46سیرت کی کتاب
16:47ہمیں ایسے واقعات بھی
16:48ذکر میں ہمیں آتے ہیں سامنے
16:49کہ ایک تفانی رات تھی
16:51یعنی تفانی بارش والی رات تھی
16:52ابو جہل کا دروازہ کھٹ کھٹایا گیا
16:54وہ سمجھا کہ آج کوئی بڑا ضرورت منشص آیا
16:57اور دروازہ کھولا
16:58تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
17:00موجود تھے
17:01کیا ہو رہا ہے
17:02دوہید کی دعوت دے رہے ہیں
17:03تو ابو جہل کے دروازے پر
17:05جا کر بھی اس کو دعوت دیں
17:07یہ اللہ کے رسولوں کی ذمہ داری تھی
17:09دعوت دین
17:10یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
17:12تئیس ورس کی سنت ہے
17:14اور آپ نے اس فریضے کو بھی انجام دیا ہے
17:16حتیٰ کہ سرداروں کے دروازے پر
17:19جا کر بھی ان کے سامنے
17:21دعوت توہید کو اللہ کے رسول نے رکھا
17:23آٹھویں بات
17:24ہم نے آپ کے سامنے رکھی
17:25ابو جہل کے دروازے پر
17:27بھی حضور گئے دعوت دینے کے لیے
17:28اب اگلی بات ہے نوی بات
17:30آج کی لسٹ کے مطابق
17:31نوی بات ہے
17:32بازاروں میں دعوت
17:33جی ہاں
17:34ایک تو بازار ہیں جو عام طور پر حرب
17:36علاقے میں ہوتے ہیں
17:37ایک اس زمانے میں بڑے بڑے بازار لگتے تھے
17:39آج کل ایکسپو لگتی ہے نا
17:41تو عرب کے محول میں لوگ دور درا سے
17:43حچ کے موقع پر آتے
17:44تو بڑے بڑے بازار لگتے تھے
17:45مجنہ اور اکاز اور دیگر
17:48تو ان بازاروں میں عرب کے لوگ جمع ہوتے
17:50وہ اپنے عمر کو انجام دیتے
17:52حلہ گلہ بھی ہوتا تھا
17:53کھیل تماشے بھی ہوتے ہوں گے
17:54لیکن اللہ کے پیارے پیغمبر وہاں جاتے
17:57اور توہید کی دعوت ان کے سامنے پیش کرتے ہیں
17:59جہاں لوگ جمع ہو گئے
18:00تو اللہ کے پیغمبر اس کو ایک
18:02اپورشنٹی کے طور پر لیتے
18:03ایک موقع غریمت جانتے
18:05اور وہاں جا کر بھی دعوت دیتے
18:07تو بازاروں میں جا کر
18:08اس زمانے کے جو بڑے بازار تھے
18:10عرب کے لوگ جب آتے تھے
18:11عمرہ ادا کرنے کے لیے
18:13اس وقت کی بھی ہم بات کر رہے ہیں
18:14تو ان بازاروں میں جا کر بھی
18:16اللہ کے رسول مکرم علیہ السلام نے دعوت پیش کی
18:18اور اسی طرح
18:20دسیل اور آخری بات ہے
18:21منہ کی گھاٹیوں میں دعوت
18:23جی منہ کا مقام آپ کے ہمارے ذہن میں ہے نا
18:26جہاں حجاج کو
18:26آٹھ زلجہ کو وہاں منہ میں جاتے ہیں
18:28پھر اس کے بعد
18:29دس زلجہ کے اعمال کے بعد
18:31حج کے موقع پر
18:32گیارہ بارہ
18:33اور زیادہ سے زیادہ تیرہ زلجہ کو
18:35وہاں پر قیام ہو
18:36تو جہاں خیمے لگائے جاتے ہیں
18:37یہاں حجاج رکھتے تھے
18:38عبرائیم علیہ السلام کے دور سے
18:40حج کے عمل تو عربوں میں
18:41چلا آ رہا تھا
18:42چنانچہ وہاں نبی ابو کرم علیہ السلام
18:44لوگ میسر آتے تھے
18:45آپ ان کے سامنے توہید کی دعوت رکھتے تھے
18:48یوں گھر ہو
18:49خاندان ہو
18:50کوئی صفحہ پر کھڑا ہونا ہو
18:51ابو جہل کا دروازہ
18:53دین کی دشمنوں کے جا کر دعوت دینا
18:55بزاروں میں
18:56اور حج کے موقع پر
18:57ہر ہر موقع کو غنیمت جان کر
19:00اللہ کے پیغمبر
19:01صلی اللہ علیہ وسلم
19:02دعوت دین لوگوں کے سامنے پیش کرتے
19:04آج یہ ذمہ داری میرے اور آپ کے کاندوں پر ہے
19:07ناظرین کرام آج کی نشیس کا وقت مکمل ہوا چاہتا ہے
19:10آخری دو باتیں
19:11آج کا سبق کیا ہے
19:12آج کا سبق یہ ہے
19:13کہ ہمارے اندر بھی غیرت دینی ہونی چاہیے
19:16اللہ کا حکم ٹوٹے تو میں غصہ آنا چاہیے
19:18اور ان احکامات کی پاسداری
19:20اور ان کے نفاظ اور ان کے پاسداری کا جذبہ ہمارے اندر ہونا چاہیے
19:24اور رسول اکرم علیہ السلام دنیا سے تشریف لے گئے
19:27مگر وقت فرصت ہے
19:29کہاں کام ابھی باقی ہے
19:30نور توہید کا اتمام ابھی باقی ہے
19:32دعوت دین کی ذمہ داری میرے اور آپ کے کاندوں پر ہے
19:35آخری بات
19:36اور وہ ہے آج کی حدیث مبارک
19:38اسی دعوت دین کے تعلق سے
19:39بہت پیاری دعا ہے
19:41جو اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے عطا فرمائی
19:43دل کے کانوں سے سنیے گا
19:45جامع ترمیزی کی روایت ہے
19:46اللہ کے پیارے پیغمبر
19:47صلی اللہ علیہ وسلم اشارت فرمایا
19:50کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو تر و تازہ رکھے
19:52جو مجھ سے کوئی بات سنے
19:53اور اس کو اسی طرح دوسروں تک پہنچا دے
19:56کتنی پیاری دعا
19:57اللہ اس بندے کو تر و تازہ رکھے
19:59حضور فرمانے علیہ السلام
20:00جو مجھ سے کوئی بات سنے
20:02اور اسی طرح دوسروں تک پہنچا دے
20:04اللہ مجھے اور آپ کو ہم سب کو
20:06اور ہمارے گھرانوں اور ہماری نسلوں کو
20:08اپنے دین کی دعوت کے کام کے لئے قبول فرمائے
20:11ناظر کرام تیسی کے ساتھ اجازت چاہتے
20:13اور اگلی نشیس میں انشاءاللہ پھر آپ سے ملاقات ہوگی
20:15وآخر دعوانا
20:17ان الحمدللہ رب العالمین
20:18والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended