00:01پنجاب حکومت نے مختلف ہسپتانوں سے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے ایک لاکھ لوگوں کو نوکری سے نکال دیا
00:09پنجاب گورنمنٹ نے پورے نا چھتیس ازلاع جو ہیں پنجاب کے اس میں ٹوٹل ایک لاکھ جوبز وہ ساری خطرے میں ہیں
00:14یہ سب لوگ بیرزگار ہو جائیں گے
00:16افاتح بھی بتائیے گا کہ جوب سے نکالا گیا کتنا سٹاف تھا
00:21دوکٹرز کا پیرامیڈیکل سٹاف کتنا تھا اور اس کے علاوہ نرسز کتنی ہیں جن کو نکالا گیا
00:25دو زیلی پروگرام تھے پنجاب گورنمنٹ کے انڈر رن ہو رہے تھے
00:28ان کا نام ہے پی ایچ ایف ایم سی پنجاب ہیلتھ فیسیلیٹیز منیجمنٹ کمپنی ایک پروگرام
00:33دوسرے پروگرام کا نام تھا آئی ایر ایم ایم سی ایچ
00:35عام اسلامِ ماں بچہ پروگرام کے جو میٹرنیٹل موٹیلٹی اور جو بچوں کی پیدائش کے وقت اموات ہوتی تھیں اس کو کم کیا جائے
00:43ان دو پروگرام کے تحت جو ہے نا منیمم جو ہے 23,000 جوب تو ہیں کنفرم لوز ہو چکی ہیں
00:49تیس جون کو ہر ایک ایک ساتھ کے کنٹریکٹ ہوتا تھا تیس جون کو کنٹریکٹ ختم ہو چکا ہے
00:53اور پنجاب گورنمنٹ نے خواج امران عزید صاحب وزیر سہت نے اور ہیل سیکرٹری نادیہ ساکیب صاحبہ نے
00:59خیدیا ہے کہ آپ کی جوب اب مزید کنٹریکٹ نہیں ہوگی کیونکہ ہم نے ہسپتال سارے ٹھیکے پہ دے دی ہیں
01:04کس کنٹریکٹ کے تحت آپ کی جوب ہوئی تھی
01:07ہمارے پی ایچ ایف ایم سی کے تحت میں جوب میں آیا تھا
01:10ایک ایک سال کا کنٹریکٹ ہوتا تھا
01:11ہمیں صرف لمب سم سلری دی جاتی تھی نہ اور کوئی مرات نہیں دی جاتی تھی ہمیں
01:15اور یہ ہماری کہہ لیں کچھی نوکریاں تھیں ہم پکے ملازم نہیں تھے
01:19کتنی جوب اس سے متاثر ہوئی ہیں پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے
01:22یہ پورے نا چھتیس ازلاع جو ہیں پنجاب کے اس میں ایک لاکھ تک جوب ایفیکٹ ہوں گی اس سے
01:27اور عوام کو جو ایک مفصیحت میاری صحت مل رہی تھی
01:31اس پہ بہت زیادہ سوالی نشان بن چکے ہیں
01:33ٹونٹی تھری تھاؤزنڈ جوب تو ان دو پروگرام کے ذریعے کنفرم لوز ہو چکی ہیں
01:36لیکن ٹوٹل ایک لاکھ جوب وہ ساری خطرے میں ہیں
01:39اور یہ سب لوگ بیرزگار ہو جائیں گے
01:41اچھا آپ نے کیا سوچا ہوا تھا کہ جب کنٹریکٹ پہ رکھا گیا
01:44آپ کو کیا بتایا گیا یہ مستقبل میں چلے گا یا ایک سال بعد ختم ہو جائے گا
01:49جی بالکل جس طرح کیونکہ ہمیں کنٹریکٹ پہ رکھے
01:52ٹھیک ہے نا اور ہم سے کام جو ہے وہ بہت زیادہ کام لیا گیا ہم سے
01:56ٹھیک ہے نا دوائیاں ہمیں کم دی گئیں
01:58ٹھیک ہے نا جہاں پہ چار ڈاکٹر کی ضرورت تھی وہاں پہ صرف دو ڈاکٹر دیا گئے
02:01جہاں پہ پانچ نرسوں کی ضرورت تھی وہاں پہ صرف تین نرسیں دی گئیں
02:03ٹھیک ہے اس طرح ہاں بہت ساری چیزیں تھی جو ہم نے نا میگر ریسورسز میں
02:07کم وسائل میں محدود وسائل میں ہم نے ایک اچھی سروس عوام کو پیشنٹس کو فراہم کی
02:12ٹھیک ہے
02:13لیکن جو ہے ابھی حکومت نے ہمیں کہا تھا کہ ہر سال کے بعد کونٹریکٹ آپ کا رینیو ہوگا
02:17لیکن اب یک مشتق کلم انہوں نے ہم سب کو فارق کر دیا ٹھیک ہے
02:21اور کہتے ہیں کہ اب آپ کو ٹھیکے دار ہائر کریں گے
02:23ٹھیک ہے اب جہاں پہ نرس کی تنخواہ 55,000 تھی اب اس کو صرف 35,000 کی آفر ہو رہی ہے
02:28ڈاکٹر کیا لیتا ہے تو
02:29ڈاکٹر 80,000 اس کے اگر تنخواہ تھی تو اب اس کو صرف 50,000 کی آفر ہو رہی ہے
02:33اچھا
02:34ایک لیڈی ہیلتھ وزیٹر اس کی تنخواہ 40,000 تھی
02:36ٹھیک ہے نا جو دن رات جو ہے وہ حاملہ خواتین کے خدمت کرتی تھی
02:4040,000 ملتی تھی
02:42اب اس کو صرف جو تھکے دار ہیں جو پرائیوٹ کانٹریکٹرز ہیں وہ صرف 25,000 آفر کریں
02:46یہ تھکے دار کونوں ہیں
02:47یہ تھکے دار جو ہیں جو بی ایچیو ہاسپٹلز کے بنائے گئے ہیں
02:50اس میں حکومت نے صرف ایم بی بیس ڈاکٹرز کو آگے دیا ہے کہ یہ بنیں گے تھکے دار
02:54اچھا اب مجھے بتائیے گا آپ کون سے ہسپتال لاہور کے اندر جوب کر رہے تھے اور آپ کی تنخواہ کتنی تھی
03:00جی میں ڈاکٹر فہد راشد میں بطور میڈیکل آفیسر ایک ایم بی بیس ڈاکٹر بی ایس سیونٹین کے سکیل پر کام کر رہا تھا
03:07گورنمنٹ ہاسپٹل ٹی ایچیو غازیاباد مغلپورہ کے اندر
03:10ٹھیک ہے یہ لاہور کا ایک ٹی ایچیو ہاسپٹل ہے
03:12صحیح ہے
03:13ٹھیک ہے اور میری تنخواہ تھی 87,000
03:15ٹھیک ہے اور میں نے تقریباً دھائی سال یہاں پر کام کیا ہے
03:19یہ ڈگری آپ نے کہاں سے حاصل کی تھی اور کتنے آپ کی اخراجات اس پر لگے تھے
03:23جی میں ایم بی بی ایس جو ہے وہ میں نے بیرون ملک سے ایک عالی یونیورسٹی ہے یینگزی یونیورسٹی
03:28چائنہ سے میں نے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ہے
03:30اور اس پر تقریباً میرا جو خرچہ آیا ہے وہ تیس لاکھ روپے تک خرچہ آیا
03:34اچھے کہا جاتا ہے کہ یہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے احتجاج بھی کیا
03:38کوئی حکومت کو بلیک میل کیا جا رہا تھا
03:41کوئی اپنی ڈیمانڈز رکھی جا رہی تھی
03:43ایسے والے سے کہا ہے
03:44دیکھیں حکومت کے خلاف جو بھی سڑک پہ آ جائے نا
03:47حکومت تو ہر کسی اس کو مافیا کہتی ہے
03:49اور کہتی ہی ہمیں بلیک میل کر رہے ہیں
03:51اس سے پہلے ہم نے لا تعداد دفعہ ان سے کوہش کی گئی
03:53خواجہ عمرانہ جیل ساتھ سے میٹنگز میں بارہا کیا گیا ہے
03:56ہمارے جو ڈی سیز ہیں
03:57ڈیپٹی کمیشنرز ہیں اپنے اپنے ازلا میں
03:59ہمارے لوگ وہاں گئے ازلا میں ان کے پاس ریکرس کی
04:01کہ بھی یہ ٹھیکے داری نظام نہیں چلنے والا
04:03اس کے علاوہ ہم نے میڈیا کے ذریعے بھی اپنی عباد اٹھائی
04:06ہم نے سٹرائک بھی کام کی
04:07اپنی سرویسز ہم نے ویڈراؤ کی
04:09ٹھیک ہے نا تب بھی لوگ نے بات نہیں سنی
04:10پھر مجبوراں سڑک پہ آنا ہمارا کچھ شوق نہیں تھا
04:13کہ خواتین جو ہیں الہویز نرسز وہ سڑک پر آئیں
04:16بچے لے کر آئیں ہمارا شوق نہیں تھا
04:17مجبوری تھی نوکرین جا رہی تھیں
04:19اور ابھی تیس سے ان کو سب کی نوکرین چلی گئے ہیں
04:21اجھے ٹھیک کے داروں کو ہسپتال کون کون سے لاہور کے اگر ہم بات کریں
04:25تو کون سے ہسپتال دیے جائیں گے
04:27لاہور کے تقریباً جو بی ایچوز ہیں نا
04:29آلموسٹ ٹونٹی فائیف بی ایچوز ہیں
04:30اس میں جو ہیں فیز ون میں نائن بی ایچو ہسپٹل
04:34جو ہیں لاہور کی پریفرے میں جو گاؤں ہیں
04:35ٹھیک ہے نا وہ فیز ون میں آؤٹسورٹ ہو چکتے جنوری میں
04:38بڑے ہسپتال کون سے ہیں
04:40بڑے ہسپتال جو ہے رورال ہیلس سینٹرز آر ایچ سیز
04:42وہ پانچ تھے لاہور میں پانچوں کے پانچ وہ ٹھیکے پر دی دی جی گئے
04:45اچھا رورال صاحب آپ کو کیا لگتا ہے
04:47کہ کیا لائے عمل بنایا جائے
04:48کہ آپ کی نوکریاں بھی بچ جائیں
04:50اور پنجاب آپ اومد کے ساتھ
04:52کونٹیکٹ بیس پہ آپ لوگ کام بھی کرتے رہے
04:54جی جناب اس میں جو حل ہم نے جو تذویز کیا ہے نا
04:58سی ایم مریم نواز صاحبہ کے لیے
05:00ہیلتھ امنیسٹر فاجہ امران عزیر
05:01اور ہیلتھ سیکرٹری نادیا ساکب صاحبہ کے لیے وہ یہی ہے
05:04کہ آپ نے فیز ون میں جو
05:05ون ففٹی بی اچو آل آور پنجاب
05:07اپنے آرسورس کیے تھے
05:09ٹھیکے بھی دیئے تھے
05:09اب ان کو چھے ماہ ہو چکے ہیں
05:11تو حل یہی ہے کہ ان کو ایک سال کے لیے
05:14اپنا ایک پائلٹ پروجیکٹ ڈیکلیئر کیا جائے
05:16کہ ون ففٹی بی اچو جو چل رہے ہیں
05:19ایک سال کے بعد تھرڈ پارٹی آرڈٹ کروایا جائے ان کا
05:22ان کے فائنائنس کا بھی ریکارڈ چیک کیا جائے
05:24وہاں پہ مریضوں سے بھی پوچھا جائے
05:26اور ان کا سارا ایک ہو
05:27کہ یہ پروگرام کامیاب رہا
05:28یا یہ فیل ہوا ہے
05:29تو ہمارا ان سے یہی ریکویسٹ ہے
05:31کہ یہ جو پروگرام اپنے یکمشتے ختم کرنی ہیں
05:34بغیر کسی اس کے ان کو دوبارہ بحال کیا جائے
05:35لوگوں کی جو بیرازگار ان کو دوبارہ ری ہائر کیا جائے
05:38ان کو جاری رکھیں
05:39اگر تو وہ پروجیکٹ فیزیبل ہے
05:41تو پھر ٹھیک ہے ہمیں کر دیں
05:43اور ایک فیز کے ذریعے کے بھی اتنے لوگوں کو فارغ کیا جائے گا
05:46آپ کو ادھر جیسٹ کیا جائے گا
05:47آپ کو ادھر کیا جائے
05:47اس طرح ہمیں کریں
05:48اب جن ڈوکٹرز کو
05:49جن پیرامارڈیکل سٹاف کو
05:51نرسیز کو
05:52کمپورٹرز کو نکالا گیا
05:54وہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں بھی لیں
05:55جی بالکل
05:56آج جی تیسرا دین ہے وہ گھروں میں بیٹھے ہیں
05:58ٹھیک ہے
05:58ہم سبارہ کہنے کے بھی
05:59کوئی پروٹیسٹ کے دوبارہ کال دی جائے
06:01مال روڈ کے سامنے
06:02سی ایم ہاؤس کے سامنے
06:03یا ہمارے جو پرائمری
06:04اور سیکنڈری ہیلتھ کیر ہے
06:05ہماری جو بزارے پر صحت ہے
06:06وہاں پر ہم جا کے دھرنا دے دیں
06:08اور کچھ لوگ کے ہرمی کوٹ میں بھی
06:10کیس کیا جائے
06:10کہ ابھی ہم نے اتنے سال کام کیا ہے
06:12تو میں نے تو صرف دھائی سال کام کیا
06:13لیکن ایسے ایسے ملازمین ہیں
06:15کمپاونڈر ڈیسپنسر
06:16اور لیڈی ہیلتھ وزیٹرز
06:17جنہوں نے پندرہ پندرہ بیس سال
06:19اس ادارے کو دیئے ہیں
06:19ہاں جی صرف کونٹریکٹ بیسز پہ
06:21اب کیا مستقبل میں حکومت کو
06:23کیا کہنا چاہیں گے
06:24ایک لاکھ لوگوں کے ترجمانی
06:26اگر آپ کر رہے ہیں
06:26تو اس حوالے سے
06:27میں پنجاب حکومت کو یہی کہوں گا
06:29کہ جو پروجیکٹ آپ لے کر آئے ہیں
06:31آؤٹسورسنگ
06:31ٹھیکے داری سسٹم
06:32مریب نواز ہیلپ کنیلنگ کے نام پر
06:35اس کو خدارہ
06:36آپ پہلے ایک پائلٹ پروجیکٹ کے ذریعے
06:38اس کو ایک ایکسپریمنٹ بیسز پر لانچ کریں
06:39اور ایک سال کے بعد
06:41اس کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے
06:42جس پہ ڈاکٹرز کو
06:43پیرامیڈکل کمیونٹی کو
06:45ہماری تمام تنظیمیں
06:46گرینڈ ہیتھ ایلائنس
06:47وائی ڈی اے
06:47ینگ نرسز ایسوسیشن
06:49ہمارا اس ادارے پر اعتماد ہو
06:51پھر ایک ریپورٹ تیار کی جائے
06:53کہ ان چیزوں پر کامیاب ہوئے
06:55ان چیزوں پر ناکام ہوئے
06:55اگر تو وہ پروجیکٹ کامیاب ہے
06:57تو ہماری طرف سے
06:58سو فید بسم اللہ
06:59آپ اس کو لانچ کریں
06:59اور پچھلے جو پروگرام چل رہے تھے
07:01جن کے ذریعے ہم بھی ملازمت کر رہے تھے
07:03ہم بھی بھرتے ہوئے تھے
07:03جن پروگرام کے ذریعے
07:05ان کو ختم کر دیے جائے
07:23ملازمت کر رہے تھے
Comments