00:00پاک پتن سرکاری ہسپتال میں بیس بچوں کی امواد کی اصل وجہ کیا؟
00:05وہ پری میچور بھی تھے وہ کریٹیکل عیل بھی تھے ہمانے ڈاکٹرز نے ان کو اٹینڈ بھی کیا ہے
00:10یہ کہا جا رہا ہے کہ اکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے ان بچوں کی ڈیتھ ہوئی ہے
00:13ناظرین چند دن پہلے پاک پتن ڈی ایچ کیو ہسپیٹل کے اندر تقریباً بیس سے زائد معصوم جانے جان کی بازی ہار جاتی ہیں
00:25کس وجہ سے وہ بچوں کی موت ہوتی ہے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ یہ بات ٹرینڈنگ ہوئی ہے
00:31اس بات میں اصل حقیقت کیا ہے؟
00:33کیا واقعی ہی ان بچوں کی جو ڈیتھ ہوئی ہے وہ ہسپیٹل انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے ہوئی ہے
00:40یا اس کے پیچھے کچھ اور وجہ ہے؟
00:42میرے ساتھ اس وقت پاک پتن ڈی ایچ کیو ہسپیٹل کے ایم ایس موجود ہیں
00:46تمام تر تفصیلات ہم ان سے جانتے ہیں
00:49جو سوشل میڈیا پر خبر آئی ہے یہ سولہ سے بائیس تاریخ تک کی خبر آئی ہے
00:53کہ بیس بچے جو ہیں وہ ایکسپائر ہو گئے ہیں
00:55اس میں کچھ یہ ہے کہ اس میں بچے جو ہیں
01:00وہ باہر کے نیجی ہسپتالوں سے یا پیریفریز سے ریفر ہو کے آئے ہیں
01:05جو باہر نارمل ڈیلیوری بھی ہوئی ہے گھروں میں بھی ہوئی ہے
01:08تو وہ جو ریفر ہو کے آئے ہیں وہ پری میچور بھی تھے
01:11وہ کریٹیکل بھی تھے
01:13تو ان کو یہاں پہ ایڈمیٹ کیا گیا ہے
01:15ہمارے ڈاکٹرز نے ان کو اٹینڈ بھی کی ہے
01:17پراپر ان کو اکسیجن بھی ملتی رہی ہے
01:20اس میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا
01:22اور بیک اپ پہ بھی ہمارے پاس اکسیجن
01:24کافی مقدار میں موجود ہے
01:26جو کہ یہ بات کی جا رہی ہے
01:27اکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے ان کے ایکسپائر
01:29یہی وجہ ہے کہ یہ کہا جا رہا ہے
01:31کہ اکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے ان بچوں کی ڈیتھ ہوئی ہے
01:34اگر تو اکسیجن آپ کے پاس پوری تھی
01:36تو اس کی پیچھے پھر کیا وجہ تھی
01:37بیسیکلی وہ پریمیچور تھے
01:39جب ہمارے پاس ریسیجن ہوئے
01:41جو ہمارے ڈاکٹرز نے دیکھا
01:42وہ آلریڈی کریٹیکل کنیشن کے اندر تھے
01:44پریمیچور میں بچوں کا لنگز
01:46جو ہیں وہ صحیح طور پر ڈیویلپ بھی نہیں ہوتے
01:48تو ان کا ففٹی ففٹی چانس ہوتا ہے
01:50یا وہ زندہ رہیں یا وہ ایکسپائر ہو جائیں
01:52تو ڈاکٹرز نے آلریڈی ان کو ایکسپلین بھی کیا ہوا تھا
01:55ان کی ساری صورتحال کے بارے میں
01:57اچانک اس طرح کہ ہم نے آج تک حادثات
01:59اور اس طرح کا سانیہ ہم نے نہیں دیکھا
02:01کہ دو سے تین دین کے اندر
02:03یا چار دین کے اندر بیس سے زائد بچے
02:04جو ان کی اچانک ڈیتھ ہو جائیں
02:06تو وہ سارے بچے ہی کریٹیکل تھے جو آپ بتا رہے ہیں
02:09سارے پرائیویٹ ہاؤسپیٹلز
02:11نیجی باہر کے نیجی ہسپلوں اور پیریفریز سے آئے ہیں
02:13نورمل ڈیلیوری بھی ہوئی ہیں
02:15اس میں کوئی سنیک بائیڈ کا بھی ایک آدھا بچہ تھا
02:17جس کو سامنے کاٹا تھا
02:19اور وہ کافی دیر گھر رہا اور بعد بھی ہمارے پاس آیا
02:22اسی طرح کی بچے ہمارے پاس رسیب ہوتے ہیں
02:25جو باہر دائیں وغیرہ ڈیلیورییں کر دی ہیں
02:28یا کچھ نیجی ہسپتال اس طرح بھی ہیں
02:30پریمیچور بچوں کی ڈیلیوری ہو جاتی ہے
02:32اور کچھ جو ساتھویں مہینے پہ آٹھویں مہینے پہ
02:35اس طرح ڈیلیوری یا سی سیکشن ہو جاتا ہے
02:37تو وہ والے بچے ہمارے پاس رسیب ہوتے ہیں
02:39نہ وہ صاف ظاہر ہے گھر میں
02:41وہاں پہ ان کو وہ سہلیت مل سکتی ہے
02:42اور نہ یہاں پہ
02:44اور پریمیچور جو ہوتے ہیں وہ آپ کو پتا ہے
02:45کہ ہمارے پیریفری کے علاقوں میں
02:47مال نیوٹریشن کافی ساری ہے
02:50تو ماں کو غزائی قلت ہے
02:52وہ بھی ایک وجہ ہے جو پریمیچور پیدا ہوتے ہیں
02:55جب یہ واقعہ ہوتا ہے
02:59اس کے بعد انتظامیہ کی
03:00ہسپٹل کی انتظامیہ انکوائری لگتی ہے
03:02کن پانچ ڈاکٹرز کو
03:04کن پانچ افسران کو پھر معتل کیا جاتا
03:06اور کیوں کیا جاتا جبکہ آپ یہ کہتے ہیں
03:08کہ اکسیجن کی کمی نہیں تھی ساری چیزیں
03:09جی وہ جو پانچ افسران
03:12معتل ہوئے ہیں وہ سیکٹری صاحبہ کی
03:14ڈریکشن پہ ہوئے ہیں وہ اس کا معاملہ
03:16الگ ہے وہ اس کے ساتھ لنک کیا جا رہا ہے
03:18سر وہ کونسا معاملہ تھا
03:19وہ ان کے اوپر آل ریڈے انکوائری تھی
03:21اور ان کی کار کردگی کے اوپر جو بھی معاملات تھے
03:24وہ سیکٹری صاحبہ کی ڈریکشن پہ سرنڈر ہوئے ہیں
03:26ان کا اس کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں ہے
03:28اندر ہسپٹل کے ذرائے سے یہ خبر آئی ہے
03:30کہ چند دن پہلے اکسیجن ہی نہیں تھی
03:32یہاں پہ ہسپٹل کے اندر
03:34اور وہاں پہ آپ کو ایک لیٹر بھی لکھا گیا
03:36آپ کو بتایا بھی گیا تھا کہ یہاں پہ
03:38اکسیجن نہیں ہے
03:39تو یعنی کہ اس کے باوجود آپ نے بھی
03:41ایکسسائید ایکشن نہیں لیا
03:43تو کیا تھا یہ بات میں کتنی حقیقت ہے
03:45وہ لیٹر اس طرح کی
03:48اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے
03:49اس وقت بھی ہمارے پاس اکسیجن سلنڈر
03:51ٹاک کے اندر آلماس بیس سے پچیس موجود تھے
03:54اچھا تو ابھی مجھے یہ بتائیے
03:55ابھی کتنے بچے آپ کے پاس ہیں
03:57اور ان کی کیا کنڈیشن ہے
03:59اور آپ کے پاس اکسیجن کی جو چیزیں ہیں
04:02وہ ساری چیزیں موجود ہیں
04:03یہ اکسیجن کنسنٹریٹر بھی ہیں
04:05اور ہمارے پاس اکسیجن سلنڈر
04:06جو امرجنسی میں سلنڈر سپلائی ہے
04:08وہ بھی جاری ہے
04:08اور ٹونٹی فور بائی سیون ہی ہم ان کو دے رہے ہیں
04:11اور اس میں کوئی کسی قسم کی بھی منتقلی نہیں ہو رہی
04:14بچوں کی جو بالت ہے
04:15بلکل بیک ورڈ ایریا سے آتے ہیں
04:17بہت زیادہ اور اس شہر کے اندر ایک بڑا شہر ہے
04:20اور ہوسپیٹل بلکل چھوٹا ہے
04:22یعنی کہ سہولیات بہت زیادہ کم میں
04:24جبکہ یہ زیادہ ہونی چاہیے تھیں
04:25آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ جو ہوسپیٹل ہے
04:27اس کے اوپر مزید چیزیں ڈیویلپ ہونی چاہیے
04:30سیٹیں آنی چاہیے
04:31نیا سٹاف آنا چاہیے
04:32یا مزید ہوسپیٹل بنانا چاہیے
04:33یہ بلکل اس کی ایسے نہیں کوئی
04:36اپروب ہونا چاہیے
04:37مریم نواز صاحبہ چیف منسٹر پنجاب سے
04:39درخواست بھی کرتے ہیں
04:41کہ یہاں ایچ آر کا بھی اضافہ کیا جائے
04:43اور ان کی نرسری کی بھی اپگرڈیڈیشن کی جائے
04:46تاکہ جو ہے نا اس طرح کے معاملات پیش نہ آئیں
05:06تاکہ جو ہے
Comments