Skip to playerSkip to main content
  • 7 months ago
برصغیر کے عظیم اسلامی مفکر، مفسر قرآن، اور جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (1903-1979) کی زندگی، جدوجہد، فکری ارتقاء، سیاسی کشمکش، علمی عظمت اور لازوال ورثے کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ ابتدائی تعلیم سے صحافت، حیدرآباد میں فکری نشوونما، جماعت اسلامی کی بنیاد، پاکستان کی تحریک اور قیام میں کردار، نئے ملک میں اسلامی نظام کے لیے جدوجہد، قید و بند کی صعوبتیں، تفسیر "تفہیم القرآن" کی تدوین، عالمی سطح پر اسلام کی آواز، اور ان کے زندہ علمی و فکری ورثے تک کے تمام اہم پہلوؤں کو اس دلچسپ اور معلوماتی سوانحی کہانی میں شامل کیا گیا ہے۔

Category

😹
Fun
Transcript
00:00مفقرن اسلام سید ابوالالا مودودی کی زندگی کا سفر
00:04بائی صغیر کے عظیم اسلامی مفقر، مفسر قرآن اور جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالالا مودودی اور انیس سو تین تائن سسو اناسی کی زندگی، جدوجہد، فکری ارتقاء، سیاسی کشمکش، علمی عظمت اور لازوال ورسے کو تفصیل سے بیان کرتی ہے
00:23ابتدائی تعلیم سے صحافت، حیدر آباد میں فکری نشونما، جماعت اسلامی کی بنیاد، پاکستان کی تحریک اور قیام میں کردار، نئے ملک میں اسلامی نظام کے لیے جدوجہد، قید و بند کی صعوبتیں، تفسیر، تفہیم القرآن کی تدویم، عالمی سطح پر اسلام کی آواز اور ان کے زندہ علمی اور فکری ورسے تک کے تمام اہم پہلوں کو اس دلچسپ اور معلوماتی سوانی ہی کہانی میں شامل کیا گیا ہے
00:51اورنگ آباد، دکن میں پچیس ستمبر انیس سو تین کو ایک علمی گھرانے میں سید ابوالالہ معدودی کی ولادت ہوئی
01:00ان کے والد، سید احمد حسن، ایک صوفی مشرب اور معزز وکیل تھے
01:06ابتدائی گھریلو ماحول ہی قرآن، حدیث اور فارسی عدب سے ممور تھا، چھوٹی سی عمر میں ہی ان کی غیر معمولی ذہانت اور مطالعہ کی عادت نے والدین کو حیران کر دیا
01:18ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی، جہاں عربی، فارسی، اردو اور بنیادی اسلامی علوم کی تعلیم دی گئی
01:27انیس سو چودہ میں والد کے اچانک انتقال نے گھر پر مالی تنگی کے بادل منڈ لائے، لیکن والدہ کی مضبوطی اور مولانا کی لگن نے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا
01:38انیس سو اٹھارہ میں صرف پندرہ سال کی عمر میں مولوی کامل کا امتحان پاس کر کے ابتدائی تعلیمی سفر مکمل کیا، جس نے ان کی علمی صلاحیتوں کا واضح ثبوت دیا
01:50اس دور نے ان کے اندر گہرے اسلامی شعور اور ذمہ داری کا احساس پیدا کیا
01:55نوجوان مودودی معاشی ضروریات کے پیش نظر صحافت کے میدان میں قدم رکھا
02:01بھوپال سے نکلنے والے اخبار مدینہ، بجنور اور پھر تاج، جبلپور میں انہوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے کام شروع کیا
02:10ان کے مزامین حقیقت پسندانہ، تحقیقی اور اسلامی نکتہ نظر سے لبریز تھے
02:17انیس سو بیس میں جمعیت علمائی ہند کے بھوپال ازلاس میں شرکت نے انہیں بے سغیر کی سیاسی اور سماجی صورتحال سے قریب سے روشناس کرایا
02:27انیس سو پچیس میں دہلی میں قیام کے دوران انہوں نے الجمعیت اخبار کی ادارت سمحالی
02:34یہاں انہوں نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں مسلمانوں کے کردار، خلافت کی بحالی کی جدوجہد اور سیکولر قوم پرستی کے خلاف مزامین لکھ کر اپنی فکری پختگی اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے جہد کا آغاز کیا
02:49قلم ہی ان کا ہتھیار بن گیا
02:52انیس سو ستائیس میں مولانا مودودی حدراباد دکن چلے گئے جو اس وقت علم و عدب کا گہوارہ تھا
02:59یہ دور ان کی فکری تشکیل میں سن میل ثابت ہوا
03:03انہوں نے جامعہ عثمانیہ، دردار یونیورسٹی سیہ میں تدریس کا آغاز کیا اور اسلامیات کے مزامین پڑھائے
03:11ساتھ ہی ترجمان القرآن نامی مہنامہ جریدے کی بنیاد رکھی جو بعد میں ان کا سب سے اہم علمی و فکری پلیٹ فارم بنا
03:21اس رسالے کے ذریعے انہوں نے جدید مسائل پر قرآن و سمت کی روشنی میں گہری تحقیق اور تنقیدی تجزیے پیش کیے
03:29مغربی تحزیب، سیکولرزم، قوم پرستی، سود، عورت کے حقوق اور اسلامی ریاست کے تصور جیسے موضوعات پر ان کے مزامین نے پورے بیسغیر کے دانشوروں کو متاثر کیا
03:42یہیں ان کی شہرہ آفاق کتابیں الجہاد فی الاسلام انیس سو تیس اور تنقید انیس سو باتیس لکھی گئی جنہوں نے انہیں ایک ممتاز اسلامی مفکر کے طور پر متعارف کرایا
03:55انیس سو تیس کی دہائی کے آخر تک مولانا مودودی اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کی اصلاح اور اسلامی نظام کی بحالی کے لیے منظم جدوجہد نہ گزیر
04:06ترجمان القرآن کے صفحات پر انہوں نے ایک منظم اسلامی تحریک کی ضرورت پر زور دیا
04:13انیس سو اتیس میں انہوں نے پہلا باقاعدہ پروگرام اسلامی جماعت کا منشور اشائے کیا
04:20جس میں ایک اسلامی تحریک کے مقاصد، طریقہ کار اور دھانچے کا خاکہ پیش کیا
04:25اس پر پورے ہندوستان سے نوجوانوں اور علماء نے زبردست رد عمل ظاہر کیا
04:31بلاخر چھبیس اگست انیس سو اکتالیس کو لاہور میں ایک تاریخی استعمام جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی
04:39اور مولانا مودودی اس کے پہلے امیر منتخب ہوئے
04:42جماعت کا بنیادی مقصد اے اللہ کی حاکمیت آلہ کو قائم کرنا اور زندگی کے تمام شبوں میں اسلام کے نفاظ کے لیے پرامن اور دستوری جدوجہد کرنا تھا
04:53جماعت اسلامی کے قیام کا دور بائی صغیر میں سیاسی حلچل کا زمانہ تھا
04:59کہریکن پاکستان زوروں پر تھی
05:02مولانا مودودی نے نظریہ پاکستان کی حمایت کی
05:06لیکن ان کا موقف واضح تھا کہ محس ایک الگ ریاست ہی مقصود نہیں
05:10بلکہ ایک حقیقی اسلامی ریاست کا قیام ہونا چاہیے
05:14انہوں نے مسلم لیگ کے سکولر رجحانات پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ پاکستان کا آئین قرآن و سندھ کی بنیاد پر ہو
05:22ان کے خیالات کی وجہ سے کچھ حلقوں میں انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا
05:27اس دوران انہوں نے جماعت اسلامی کو منظم کرنے
05:31اس کے کارکنان کو تربیت دینے اور اسلامی نظام کے بارے میں بنیادی لٹریچر تیار کرنے پر توجہ دی
05:38پاکستان بننے سے قبل ہی انہوں نے نئے ملک میں درپیش چیلنجز کو بھامپ لیا تھا
05:44اور اپنی تحریک کو ان کے لیے تیار کرنا شروع کر دیا تھا
05:48اگر ہماری ویڈیو آپ کو اچھی لگی ہے تو برائے مہربانی ہمارے چینل کو سبسکراب اور لائک کر کے بیل آئیکن کا بٹن ضرور دبائیں تاکہ ہر نئی آنے والی ویڈیو آپ کو بروقت مل سکے
06:00موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended