Skip to playerSkip to main content
  • 7 months ago
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی پُراثر زندگی سیستان سے اجمیر تک کا روحانی سفر، تعلیمات، کرامات، خلفاء اور ان کی لازوال میراث کو دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ دریافت کریں کہ کیسے "غریب نواز" نے محبت اور خدمت کے ذریعے ایک عظیم روحانی سلطنت کی بنیاد رکھی جو آج بھی لاکھوں دلوں کو منور کر رہی ہے۔

Category

😹
Fun
Transcript
00:00خواجہ غریب نواز، اجمیر کے سلطان محبت، خواجہ مہین الدین چشتی کی مکمل روحانی سیرت
00:07خواجہ مہین الدین چشتی اجمیری رحمت اللہ علیہی کی پراصر زندگی
00:12سعستان سے اجمیر تک کا روحانی سفر، تعلیمات، کرامات، خلفہ اور ان کی لازوال میراس کو دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے
00:22دریافت کریں کہ کیسے اے غریب نواز نے محبت اور خدمت کے ذریعے ایک عظیم روحانی سلطنت کی بنیاد رکھی جو آج بھی لاکھوں دلوں کو منور کر رہی ہے
00:33ایران کے قدیم شہر سستان، موجودہ ایارانا فغانستان سرحدے میں ایک ہزار ایک سو بیالیس عیسوی کے قریب ایک نورانی رونے جنم لیا
00:44نام رکھا گیا مہین الدین حسن، ان کے والد سید غیاس الدین حسن، ایک معزز عالم تھے
00:52جبکہ والدہ سیدہ بی بی مانور کا گھر علم و تقو کا مرکز تھا
00:56بچپن ہی سے مہین الدین غیر معمولی ذہانت اور روحانیت کی طرف مائل تھے
01:02جب وہ صرف نو سال کے تھے، ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا
01:07یہ صدمہ ان کے دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا
01:12انہوں نے اپنے چچا کے پاس پناہ لی جنہوں نے انہیں ابتدائی تعلیم دلائی
01:17ایک دن جب وہ باغ میں بیٹھے تھے، ایک صوفی بزرگ ابراہیم قندوز کا قافلہ وہاں پڑھاؤ ڈالا
01:24مہین الدین کے خدمت گزاری اور شائستگی نے بزرگ کو متاثر کیا
01:29قندوز نے انہیں ایک انگور دیا اور کہا
01:32پیارے بچے یہ انگور کھاؤ اور ہمیشہ یاد رکھو کہ علم کی تلاش دل کو روشن کرتی ہے
01:38یہ سادہ سا واقعہ مہین الدین کے دل میں روحانی علم کی پیاس بھر گیا
01:43چچا کے گھر میں رہتے ہوئے مہین الدین کی علم و مرفت کی تشنگی بڑھتی گئی
01:48مقامی مدرسے کی تعلیم ان کی گہری سوچ کو سہراب نہ کر سکی
01:53سولہ سال کی نوجوانی میں ایک اور صوفی بزرگ شیخ نجم الدین کبر ان کے شہر سے گزرے
02:01مہین الدین نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بیچینی کا اظہار کیا
02:07شیخ کبر نے ان کی آنکھوں میں چمکتا ہوا جذبہ دیکھ کر مشورہ دیا جوان
02:13حجاز کی سرزمین علم و عرفان کا سمندر ہے
02:17وہاں جا کر اپنی پیاس بجھاؤ یہ کہہ کر انہیں سمرقند اور بخارہ کے عظیم مدارس کا راستہ بتایا
02:23مہین الدین نے فیصلہ کیا
02:26ماں کی دعائیں اور چچا کی اجازت لے کر وہ علم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے
02:31سفر طویل اور دشوار گزار تھا
02:35ریکزاروں کو عبور کرتے پہاڑوں پر چڑھتے اور مختلف شہروں میں قیام کرتے وہ پہلے سمرقند پہنچے
02:43وہاں عربی، فارسی، تفسیر، حدیث، فقہ اور فلسفہ کی گہری تعلیم حاصل کی
02:51ان کی محنت اور ذہانت دیکھ کر اساتذہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے
02:56سمرقند و بخارہ میں علم حاصل کرنے کے بعد مہین الدین کا دل اب بھی بے قرار تھا
03:03وہ محسوس کرتے تھے کہ ظاہری علم کے ساتھ باطنی مرفت کی ضرورت ہے
03:08اسی جستجو میں وہ خراسان پہنچے
03:11یہاں ان کی ملاقات اپنے دور کے عظیم صوفی شیخ حضرت عثمان حارونی سے ہوئی
03:18شیخ حارونی علم و عمل، زہد و تقو اور شریعت و طریقت کے پیکر تھے
03:24مہین الدین ان کی آجزی، خلوص اور عملی تصوف سے بے حد متاثر ہوئے
03:30انہوں نے شیخ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور خلوص دل سے بیت کی درخواست کی
03:36شیخ حارونی نے ان کے خلوص کو پرکھا اور انہیں اپنا مرید بنا لیا
03:41اب مہین الدین کا سفر صرف ظاہری نہیں رہا
03:44بلکہ باطنی تسکیہ نفس اور روحانی تربیت کا آغاز ہوا
03:48وہ شیخ کے ساتھ رہے، ان کی ہر بات پر عمل کیا
03:53چاہے وہ سخت ریاضتیں ہوں یا خدمت خلق کے مشکل کام
03:57شیخ کے ساتھ انہوں نے حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کی
04:01مکہ اور مدینہ کی روحانی فضا نے ان کے دل پر گہرے نقوش چھوڑے
04:07سالوں کی ریاضت، خدمت اور شیخ عثمان حارونی کی نگرانی میں روحانی تربیت کے بعد
04:13وہ وقت آیا جب شیخ نے مہین الدین کو مکمل طور پر تیار پایا
04:18ایک یادگار دن پر شیخ حارونی نے مہین الدین کو اپنے پاس بلا کر فرمایا
04:24اے مہین الدین
04:25اب تم روحانی علم و مرفت کے سمندر میں غوطہ زن ہو چکے ہو
04:30تمہارا دل پاک ہو چکا ہے اور تم لوگوں کی رہنمائی کے لائق ہو چکے ہو
04:35یہ کہہ کر انہیں خلافت اور اجازت ارشاد لوگوں کو روحانی رہنمائی دینے کی اجازت عطا فرمائے
04:41ساتھ ہی انہیں ایک اہم ہدایت دی اب تمہارا مقام مشرق کی طرف ہے
04:46اپنے علم و محبت کی روشنی کو ان علاقوں میں پھیلاؤ جہاں تاریخی چھائی ہوئی ہے
04:52یہ سن کر مہین الدین کے دل میں ایک نیا جذبہ موجزن ہوا
04:56انہوں نے شیخ سے رخصت لی اور مشرق کی طرف اپنے روحانی مشن پر نکل کھڑے ہوئے
05:02جہاں انہیں اپنی منزل کا انتظار تھا
05:05شیخ حارونی کی ہدایت پر خاجہ مہین الدین چشتی نے مشرق کی جانب سفر شروع کیا
05:11وہ مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے غزنی لاہور جو اس وقت غزنوی سلطنت کا حصہ تھا
05:19اور ملتان ہوتے ہوئے بلاخر ایک ہزار ایک سو نووے عیسوی کے لگ بھگ ہندوستان کے دل دہلی پہنچے
05:25اس وقت دہلی پر غلام خاندان کے سلطان قطب الدین ایبک کی حکومت تھی
05:31خواجہ صاحب نے دہلی میں کچھ عرصہ قیام کیا
05:35یہاں ان کی ملاقات سلطنت کے مشہور بزرگ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سے ہوئی
05:42جو خود بھی عظیم صوفی تھے
05:44دونوں بزرگوں کے درمیان گہرے روحانی تعلقات قائم ہوئے
05:49خواجہ غریب نواز نے دہلی میں لوگوں کو محبت، بھائی چارے اور خدا کی وحدانیت کا پیغام دینا شروع کیا
05:56ان کی سادگی، خلوص اور بیلوس محبت نے مقامی لوگوں کے دلوں کو چھو لیا
06:02تاہم ان کا دل کہیں اور ٹھہرنے کا اشارہ دے رہا تھا
06:06ایک دن انہوں نے خواب دیکھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
06:12انہیں اجمیر جانے کا حکم دے رہے ہیں
06:15یہ خواب ان کے لئے فیصلہ کن ثابت ہوا
06:18خواب کی تعمیل میں خواجہ موین الدین چشتی دہلی سے اجمیر کی جانب روانہ ہوئے
06:25اس وقت اجمیر راجپوت راجہ پرتھوی راج چوہان کا دار الحکومت تھا
06:31جو ایک طاقتور مگر کبھی کبھار ظالم حکمران سمجھا جاتا تھا
06:35جب خواجہ صاحب اجمیر پہنچے
06:37تو انہوں نے شہر کے باہر انہائی انامی پہاڑی پر قیام کیا
06:41یہ جگہ آج بھی ان کے نام سے منصوب ہے
06:45ان کی آمد اور سادہ زندگی نے مقامی لوگوں کو متوجہ کرنا شروع کیا
06:51خواجہ صاحب کا طریقہ کار انتہائی منفرد تھا
06:55وہ کسی سے مناظرہ نہیں کرتے تھے
06:57نہ کسی پر زبردستی اپنا عقیدہ تھوکتے تھے
07:00اگر ہماری ویڈیو آپ کو اچھی لگی ہے
07:03تو برائے مہربانی ہمارے چینل کو سبسکراب
07:06اور لائک کر کے بیل آئیکن کا بٹن ضرور دبائیں
07:09تاکہ ہر نئی آنے والی ویڈیو آپ کو بروقت مل سکے
Be the first to comment
Add your comment

Recommended