اکستان کے عظیم ترین انسانیت دوست حاجی عبدالستار ایدھی کی زندگی کے نشیب و فراز پر مشتمل ایک جامع اور دلچسپ کہانی۔ جانئے کہ کیسے ایک غریب گجراتی لڑکے نے بلا امتیاز انسانیت کی خدمت کا عہد کر کے دنیا بدل دی۔ ان کے بچپن، ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد، انقلابی ایمبولینس سروس، یتیم خانوں اور لاوارث لاشوں کی باعزت تدفین جیسے منفرد کاموں، آفات کے وقت ان کی بہادری، ان کی انتہائی سادہ زندگی، مخالفتوں کے باوجود ثابت قدمی، عالمی پہچان، اور ان کے لازوال ورثے کو قریب سے دیکھیں۔ ایدھی صاحب کی زندگی سے حاصل ہونے والے انمٹ اسباق اور حوصلہ افزا پیغام پر مشتمل یہ کہانی ہر پاکستانی اور انسانیت سے محبت رکھنے والے کے لیے ضروری ہے۔
00:00عبدالسطار ایدھی کی غیر متزلزل انسانیت ایک مکمل کہانی
00:04پاکستان کے عظیم ترین انسانیت دوست حاجی عبدالسطار ایدھی کی زندگی کے نشیب و فراز پر مشتمل ایک جامعہ اور دلچسپ کہانی
00:14جانیے کہ کیسے ایک غریب گجراتی لڑکے نے بلا امتیاز انسانیت کی خدمت کا اہد کر کے دنیا بدل دی
00:22ان کے بچپن، ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد، انقلابی ایمبولنس سروس، یتیم خانوں اور لاوارس لاشوں کی بائزت تدفین جیسے منفرد کاموں، آفات کے وقت ان کی بہادری، ان کی انتہائی سادہ زندگی، مخالفتوں کے باوجود ثابت قدمی، عالمی پہچان اور ان کے لازوال ورسے کو قریب سے دیکھیں
00:44ایدھی صاحب کی زندگی سے حاصل ہونے والے انمیت اسباق اور حوصلہ افضا پیغام پر مشتمل یہ کہانی ہر پاکستانی اور انسانیت سے محبت رکھنے والے کے لیے ضروری ہے
00:55انیس سو اٹھائیس میں گجرات، بھارت میں پیدا ہونے والا عبدالسکتار ایدھی، ایک غریب کپڑے کے تاجر کا بیٹا تھا
01:04بچپن ہی سے زندگی نے اسے سخت اسباق سکھا
01:07صرف گیارہ برس کی عمر میں اس کی ماں، جنہیں وہ بے حج چاہتا تھا، فالج کا شکار ہو گئی
01:14اس کا بچپن ماں کی تیمارداری، دوائیوں کے چکر اور ہسپتالوں کی بے حصی کے درمیان گزرا
01:21یہی وہ وقت تھا جب اس کے دل میں دکھی انسانیت کی بے لوز خدمت کا بیج پڑا
01:28اس نے دیکھا کہ غریبوں کے لیے طبی سہولیات کتنی نایاب اور مہنی ہیں
01:33روزانہ کی یہ کشمکش، اس کی آنکھوں کے سامنے ماں کی تکلیف
01:37اور معاشرے میں پھیلی بے حصی نے اس کے اندر ایک آگ بھڑکا دی
01:41وہ دنیا کو بدلنے کا عظم لے کر جوان ہوا
01:44انیس سو سنتلیس میں تقسم ہند کے ہولناک فسادات نے اس کے دل پر گہرا زخم لگایا
01:52لاکھوں بے گناہوں کا خون بہتا دیکھ کر
01:54اس کا یقین مزید پختہ ہو گیا کہ انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے
01:59وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے کراچی
02:02پاکستان پہنچ گیا جہاں اس کی حقیقی منزل تھی
02:06کراچی پہنچ کر ایدھی نے اپنے خاندان کی کفالت کے لیے چھوٹی موٹی ملازمتیں کی
02:12لیکن اس کا دل تو کچھ اور چاہتا تھا
02:15اس نے اپنے گھر کی چھت پر ایک چھوٹی سی دکان کھولی
02:19مگر اس کی آمدنی کا بڑا حصہ وہ غریبوں، بیماروں اور بے سہارا لوگوں کی مدد پر خرچ کر دیتا
02:25اس نے دیکھا کہ شہر میں صحت کی بنیادی سہولیات تک غریبوں کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے
02:31انیس سو اکیاون میں صرف بیس سال کی عمر میں
02:36اس نے اپنی پہلی چھوٹی سی ڈسپنسری یہ دھی ڈسپنسری کراچی کے ایک غریب علاقے میں قائم کی
02:42یہ ایک معمولی سا کمرہ تھا جہاں وہ خود ہی مریضوں کا ابتدائی علاج کرتا
02:48دوائیاں تقسیم کرتا اور مشورے دیتا
02:51اس نے دوسروں سے چندہ مانگنے میں بھی آر محسوس نہ کی
02:55اس وقت کے معاشرے میں جہاں خیرات اکثر مذہبی یا سماجی حیثیت سے منسلک تھی
03:01ایدھی کا بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب کا فلسفہ انوکھا تھا
03:06اس کی ایمانداری، لدن اور سادگی لوگوں کو متاثر کرتی گئی
03:12یہ چھوٹا سا قدم آگے چل کر ایک عظیم سماجی انقلاب کی بنیاد بنا
03:18ایدھی کی ڈسپنسری وقت گزرنے کے ساتھ مشہور ہونے لگی
03:22لیکن ضرورتیں وسط اختیار کر رہی تھی
03:25انیس سو ستاون میں اپنے مشن کو منظم اور پائیدار بنانے کے لیے
03:30عبدالستار ایدھی نے ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی
03:35اس کا مقصد صرف اور صرف انسانیت کی بلا امتیاز خدمت تھا
03:40فاؤنڈیشن کا پہلا بڑا منصوبہ کراچی میں ایک چھوٹا سا مارٹرنیٹی ہوم قائم کرنا تھا
03:45جہاں غریب خواتین محفوظ ماحول میں بچے جنم دے سکیں
03:49اسی دوران انیس سو پیسٹھ میں ایدھی کی زندگی میں ایک اہم موڑ آیا جب ان کی ملاقات بیل قیس ایدھی سے ہوئی
03:58جو خود بھی ایک پرزم سماجی کارکن تھی
04:00بیل قیس نے نہ صرف ایدھی کی ذاتی زندگی میں شرکن حیات کا کردار ادا کیا
04:06بلکہ فاؤنڈیشن کی ترقی اور بالخصوص خواتین وہ بچوں کے فلاحی پروگراموں
04:11جیسے کہ بے سہارا بچوں کے گھر، یتیم خانے، شادی بیعہ کے بندوبست کو منظم کرنے
04:17اور انہیں نئی جہتیں دینے میں ریل کی ہڈی ثابت ہوئیں
04:21ان کا رشتہ محبت، ہم خیالی اور انسانیت کی مشترکہ خدمت پر استوار تھا
04:26ایدھی کے لیے ایک اور اہم لمحہ اس وقت آیا جب اس نے دیکھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی
04:32ہنگامی طبی امداد کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں اور قیمتی جانوں کا زیادہ صرف اس لیے ہو جاتا ہے
04:39کہ مریض کو بروقت ہسپتال نہیں پہنچایا جا سکتا
04:42اس نے فیصلہ کیا کہ ہر پاکستانی کی پہنچ میں ایک فری ایمرجنسی ایمبولنس ہونی چاہیے
04:49اپنی معمولی سی جمع پونجی اور عوامی چندے سے اس نے پہلی ایمبولنس خریدی
04:55یہ ایمبولنس سروس جسے وہ خود چلاتا تھا فوری طور پر شہر کی جان بن گئی
05:01لوگوں نے اس فری ایک ہزار بائیس نمبر کو دل سے اپنا لیا
05:06وقت کے ساتھ ساتھ اتیات کی بدولت ایمبولنسوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا
05:12ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولنس سروس پورے پاکستان میں پھیل گئی
05:17پہاڑوں سہراؤں اور دور دراز دیہات تک پہنچ گئی
05:21یہ سروس نہ صرف حادثات اور بیماریوں میں بلکہ قدرتی آفات کے وقت بھی سب سے آگے ہوتی تھی
05:28یہ ایدھی کی سوچ کا عملی مظہر تھا ہر متاثرہ انسان میرا اپنا ہے
05:34ایدھی کی نگاہیں معاشرے کے سب سے زیادہ پسے ہوئے اور نظر انداز کردہ طبقوں پر تھی
05:40اس نے دیکھا کہ بے سہارا بچے خاص طور پر بچیاں جنسی استحصال غربت اور بھیک مانگنے پر مجبور ہیں
05:49معذور افراد کو گھروں میں چھپا دیا جاتا ہے
05:53لاوارس لاشیں پولیس مہینوں تک سٹور میں رکھتی ہے یا بے تکریمی سے دفنہ دیتی ہے
05:58ایدھی نے اس پر بھی کام شروع کیا
06:01اس نے پورے پاکستان میں ایدھی ہومس او کا جال بچھا دیا
06:06ان گھروں میں یتیم بچوں، بے سہارا خواتین، معذور افراد اور بزرگوں کو پناہ دی جاتی
06:13انہیں خوراک، کپڑے، طبی امداد اور بنیادی تعلیم فراہم کی جاتی
06:19ان گھروں کا ماحول خاندان جیسا تھا
06:22ایدھی کا سب سے انوکھا اور متاثر کن کام لاوارس لاشوں کا انتظام تھا
06:28اس نے اہد کیا کہ کوئی بھی لاش بے تکریم نہیں رہے گی
06:32فاؤنڈیشن کی ایمبولنسیں لاوارس لاشیں اٹھاتیں
06:36انہیں غسل دیتیں
06:38کفن پہنات اور اسلامی متوفی کے عقیدے کے مطابق
06:42رسومات ادا کر کے باعزت طریقے سے دفن کرتی تھی
06:45یہ خدمت ایدھی کی انتہائی گہری انسانیت کی علامت بن گئی
06:50اگر ہماری ویڈیو آپ کو اچھی لگی ہے
06:53تو برائے مہربانی ہمارے چینل کو سبسکراب اور لائک کر کے
06:56بیل آئیکن کا بٹن ضرور دبائیں
06:59تاکہ ہر نئی آنے والی ویڈیو آپ کو بروقت مل سکے
Be the first to comment