ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی پر مبنی ایک جامع، سوانحی کہانی۔ بھوپال میں پیدائش سے لے کر یورپ میں تعلیم، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی قیادت، چاغی کے کامیاب دھماکوں تک کے تاریخی سفر کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ہر باب میں ان کی جدوجہد، قربانیوں، کامیابیوں اور تنازعات کو کم از کم الفاظ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کہانی ایک قومی ہیرو کی غیر معمولی کامیابی، پیچیدہ میراث اور پاکستان کی تاریخ میں ان کے ناقابلِ فراموش کردار کو اجاگر کرتی ہے۔
00:00PAKISTAN KA AETME HEIRO DR. ABDULQADİR KHAN KI GAYR MAAMULI SIFR NAMA
00:041936 MEN BBRITANWI HINDOSTAN KEY SHAHR BHOPAL MEN PAYDA HONE WALE ABDULQADİR KHAN KA BACCHPAN ILM KI JSTUJU MEN GUZRA
00:13UNKKE WALID ABDULGHFOR KHAN EK MOHTARM SKOOL TEECHER THE JINHOUNNE BETE MEN TALIM KA SHOCK PAYDA KIYA
00:22CHHUTI SI OMR SE HHI QADİR KITABON OR MASHINON KI TAFCILAT MEN KHOE RAHTAY
00:281947 کے تاریخی حلچل نے ان کی زندگی بدل دی
00:32تقسمن ہند کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے نئے مطق پاکستان کے شہر کراچی میں آباد ہوا
00:39یہاں نئی زندگی کے چیلنجز تھے لیکن قدیر کی علمی پیاس برقرار رہی
00:46انہوں نے کراچی کے ڈی جے سائنس کالج میں داخلہ لیا
00:49جہاں فیزکس اور کمسٹری میں ان کی غیر معمولی مہارت اساطزہ کی توجہ کا مرکز بنی
00:55یہیں ان کے اندر موجود سائنس دان کی چنگاری نے شولہ بھرنا شروع کیا
01:00مستقبل کے غیر متوقع سفر کی بنیاد رکھی
01:04عالی تعلیم کی خواہش نے عبدالقدیر خان کو یورپ کا رخ کرنے پر مجبور کیا
01:09پہلے برلن ٹیکنیکل یونیورسٹی میں میٹلرجیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی
01:15جہاں انہیں دھاتوں کی خصوصیات اور ان کے استعمال کی گہری سمجھ بوجھ حاصل ہوئی
01:20پھر امکی رانی در لینڈز کی ٹیکنیکل یونیورسٹی ڈیلفٹ سے ہوتی ہوئی
01:24بلجیم کی کیٹھولک یونیورسٹی آف لیوین تک پہنچی
01:27جہاں انہوں نے میٹلرجیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی
01:32یہاں ان کی تحقیق کا مہور دھاتوں پر انتہائی درجہ حرارت اور دباؤ کے اثرات تھا
01:38ایک ایسا شعبہ جو مستقبل میں ان کے لیے ناقابل یقین حد تک اہم ثابت ہونے والا تھا
01:44وہ ایک قابل احترام سائنسدان بن کر ابرے
01:47ڈاکٹریٹ کے بعد ڈاکٹر خان نے نیدر لینڈز کی ایٹمی تحقیق سے متعلق ادارے
01:53فیزیکل ڈائنامکس ریسرچ لیبارٹری ایف ڈی او میں بطور سینئر سائنسدان کام شروع کیا
02:00ان کی ذمہ داری یورینیم کی افزودگی انریچمنٹ کے لیے سنٹرفیویج ٹیکنالوجی پر تحقیق کرنا تھی
02:06یہ وہ دور تھا جب انیسو ای قطر کی جنگ کے بعد پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے
02:14جب مئی انیسو چوتر میں بھارت نے پوکرین انامی ایٹمی دھماکہ کر دیا
02:20تو ڈاکٹر خان کا دل دہل گیا
02:22انہیں اپنے آبائی مرک کی غیر محفوظ صورتحال کا شدید احساس ہوا
02:27یہ وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جب ان کے اندر کا مہمن وطن سائنسدان جاگ اٹھا
02:33اور انہوں نے پاکستان واپس جا کر مرک کو ایٹمی طاقت بنانے میں مدد کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا
02:39انیسو چوہتر کے آخر میں
02:42ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنی ڈچ اہلیہ ہینی اور بچوں کے ساتھ پاکستان واپس آ گئے
02:48ان کا استقبال جوش و خروج سے ہوا لیکن چیلنجز بے پناہ تھے
02:53پاکستان کا ایٹمی پروگرام جسے اس وقت انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز یا آرل کہا جاتا تھا
03:01سنٹر فیویس ٹیکنالوجی پر توجہ نہیں دے رہا تھا
03:04ڈاکٹر خان نے اپنی مہارت اور یقین کے بل بوتے پر حکومت کو قائل کیا
03:09کہ یورینیم کی افزودگی کا یہ طریقہ پاکستان کے لیے زیادہ قابل حصول اور مؤثر ہو سکتا
03:15جولائی انیس سو چھتر میں انہیں نیا ادارہ دے کہوٹا ریسرچ لیبارٹریز قائم کرنے اور اس کا ڈائریکٹر جنرل بننے کا اختیار دیا گیا
03:25یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کے ایٹمی خواب کو ایک نئی مضبوط اور عظم سے بھرپور سمت مل گئی
03:32کہوٹا میں کام کا آغاز بنیادی دھانچے اور وسائل کی شدید قلت کے ساتھ ہوا
03:38ڈاکٹر خان نے نہ صرف ایک انتہائی قابل سائنسی اور انجینئرنگ ٹیم ترتیب دی بلکہ ان میں جوش اور جذبہ بھی پیدا کیا
03:47ان کا نعرہ تھا یہ ہمارا مقدس فرض ہے انہوں نے اپنی یورپ میں حاصل کردہ مہارت کو بروے کار لاتے ہوئے سنٹر فیوج ڈیزائن کی پیچدگیوں کو حل کیا
03:58ہر چھوٹے سے چھوٹے پرزے کی تیاری خام مال کی ترسیل اور خفیہ کاری کے لیے بے پناہ جدوجہد کرنی پڑی
04:06ڈاکٹر خان خود لیبورٹریز میں دن رات ایک کر دیتے اپنی ٹیم کی رہنمائی اور حوصلہ افضائی کرتے
04:12بلاخر انتک مہنت رنگ لائی
04:16چار اپریل انیس سو اٹھتر کو میں پہلی بار مقامی طور پر تیار کردہ سنٹر فیوجز کے ذریعے یورینیم کو کامیابی سے افزودہ کر لیا گیا
04:26یہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی پہلی بڑی کامیابی تھی جو ڈاکٹر خان کی قیادت میں ممکن ہوئی
04:33یورینیم کی افزودگی کے حصول کے بعد نے تیزی سے ترقی کی
04:38ڈاکٹر خان کی قیادت میں سنٹر فیوجز کی تعداد میں اضافہ ہوا جس سے افزودہ یورینیم کی پیداوار بڑھتی گئی
04:47ساتھ ہی ایٹمی ہتھیار کے ڈیزائن اور ٹیسٹنگ کے لیے ضروری دیگر شبوں پر بھی کام تیز ہوا
04:53ڈاکٹر خان نے ادارے کو ملٹی ڈسپلنری بنانے پر زور دیا جس کے تحت میٹلرجی، الیکٹرانکس، میکینیکل انجینئرنگ اور ایڈوانسٹ مواد کے شبوں میں بھی شاندار ترقی ہوئی
05:05یہ سفر آسان نہیں تھا
05:08بین الاقوامی دباؤ، پابندیاں اور جاسوسی کے مستقل خطرات موجود تھے
05:14لیکن ڈاکٹر خان اور ان کی ٹیم نے ہمت نہ ہاری
05:18ان کی انتھک محنت، لدن اور ملک سے محبت نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے قابل بنایا
05:25مئی انیس سو اٹھانوے میں بھارت کے دوبارہ ایٹمی دھماکوں، پوکرین، جنہیں خطے میں ادم توازن پیدا کر دیا
05:34پاکستان پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر دباؤ تھا کہ وہ جوابی دھماکے نہ کرے
05:40تاہم، قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدد نظر رکھتے ہوئے
05:44پاکستانی قیادت نے فیصلہ کیا کہ توازن قائم کرنا ضروری ہے
05:48ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں کی تیار کردہ ایٹمی آلات کو بلوچستان کے چاغی پہاڑی سلسلے میں لے جایا گیا
05:57اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے کو پاکستان نے کامیابی سے پانچ زیر زمین ایٹمی دھماکے کیے
06:04یہ لمحہ پوری قوم کے لیے فخر اور تحفظ کا احساس لے کر آئے
06:09ڈاکٹر خان جو کئی دہائیوں کی انتک محنت کے بعد اس مقام پر پہنچے تھے قومی ہیرو بن گئے
06:17ان کا نام پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور سائنٹی عظمت کی علامت بن گیا
06:22پاکستان زندہ بعد کا نعرہ گونج اٹھا
06:26چاغی کے دھماکوں کے بعد ڈاکٹر خان بین الاقوامی توجہ کے مرکز میں آگئے
06:32پاکستان میں انہیں قومی ہیرو کا درجہ دیا گیا
06:36انہیں ایک قوم کا باپ فادر افدبام کہا جانے لگا
06:40انہیں متعدد اعزازات اور تمغے عطا کیے گئے
06:44تاہم بین الاقوامی سطح پر خاص طور پر مغربی ممالک میں
06:49ان کے خلاف خفیہ نیٹ ورک چلانے اور ایٹمی ٹیکنالوجی دیگر ممالک
06:54جیسے ایران، لیبیا، شمالی کوریا تک پہنچانے کے سنگین الزامات لگائے گئے
07:00دو ہزار چار میں پاکستانی حکومت نے ایک بیان جاری کیا
07:05جس میں ڈاکٹر خان پر یہ اعتراف کروایا گیا
07:08کہ انہوں نے قومی سلامتی کے قوانین کے خلاف ورزی کی
07:11انہیں معافی دے دی گئی لیکن انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا
07:16یہ دور ان کی شہرت اور تنازات کے درمیان ایک پیچیدہ جدوجہد تھا
07:21جس نے ان کی مراس پر سوالیاں نشان کھڑے کیے
07:24نظر بندی کے بعد کے سالوں میں اگرچہ ڈاکٹر خان کی سرگرمیاں محدود تھی
07:30لیکن عوامی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی
07:33وہ پاکستانی عوام خاص طور پر نوجوانوں کے لیے حوصلہ
07:38قومی فخر اور سائنسی ترقی کی علامت بنے رہے
07:41انہوں نے کالم لکھنے، تعلیمی اداروں سے خطاب کرنے
07:46جہاں اجازت ہوتی سے اور قومی مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے
07:50اپنی علمی سرگرمیاں جاری رکھیں
07:52انہوں نے تعلیم، خاص طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا
07:58ڈاکٹر ایکیو خان انسٹیٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی
08:03جیسے ادارے قائم کر کے مستقبل کی نسلوں کو علم سے آراستہ کرنے کی کوشش کی
08:08ان کی آواز قومی پالیسیوں پر تنقید اور مشورے کے لیے اہم سمجھی جاتی رہی
08:1510 اکتوبر 2021 کو
08:18ڈاکٹر عبدالقدیر خان طویل علالت کے بعد
08:21اسلام آباد میں انتقال کر گئے
08:23ان کی وفات پر پورے مٹ میں سوگ کا عالم تاری ہو گیا
08:27انہیں پورے فوجی عزاز کے ساتھ فیصل مسجد اسلام آباد میں سپر نخاق کیا گیا
08:33ان کا انتقال صرف ایک عظیم سائنس دان کا نہیں
08:37بلکہ ایک ایسے علامتی شخصیت کا تھا
08:40جس نے پاکستان کی سلامتی اور عالمی شناخت کو نئی شکل دی
08:44ان کی میراس پیچیدہ ہے
08:46یہ ایک طرف وہ پاکستان کے دفاعی استحکام کے بابا ایٹم بم ہیں
08:50جنہیں عوام کی گہری محبت حاصل ہے
08:53دوسری طرف
08:55ان پر لگنے والے بین
08:56الاقوامی الزامات اور تنازات تاریخ کا حصہ ہے
09:00تاہم ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے
09:03کہ انہوں نے ناممکن کو ممکن بنایا
09:06انتہائی مشکل حالات میں پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے مالا مال کیا
09:11اور قوم میں سائنسی جدوجہد اور خود انحساری کا جذبہ پیدا کیا
09:15ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کہانی جدوجہد
09:19قربانی
09:20عظم اور متنازہ فتح کی ایک ایسی داستان ہے
09:23جو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائے گی
09:27اگر ہماری ویڈیو آپ کو اچھی لگی ہے
09:30تو برائے مہربانی ہمارے چینل کو سبسکراب
09:33اور لائک کر کے بیل آئیکن کا بٹن ضرور دبائیں
09:36تاکہ ہر نئی آنے والی ویڈیو آپ کو بروقت مل سکے
Be the first to comment