Skip to playerSkip to main content
یہ بہت خوبصورت اور متوازن اسلامی اصول ہے۔ آئیں اس کی تفصیل اور مکمل تشریح دیکھتے ہیں:


---

تفصیل:

"اگر اللہ تعالیٰ نے مالی فراوانی دی ہے"

اللہ تعالیٰ جسے چاہے رزق میں کشادگی عطا فرماتا ہے۔ یہ اس کی طرف سے ایک آزمائش اور نعمت دونوں ہو سکتی ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ خوشحالی ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور اس کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔

"تو کھانے پینے اور پہننے میں اس کا اظہار ہونا چاہئے"

اسلام ظاہری نعمتوں کو چھپانے کا حکم نہیں دیتا۔ اگر اللہ نے مال دیا ہے تو اچھی خوراک کھانا، صاف ستھرا اور معیاری لباس پہننا جائز ہے بلکہ پسندیدہ ہے، کیونکہ یہ اللہ کی نعمت کا اظہار ہے۔

"شرط یہ کہ فضول خرچی اور تکبر نہ ہو"

یہ نکتہ بہت اہم ہے:

فضول خرچی: مال کو بے جا اور غیر ضروری کاموں میں لٹانا حرام ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
"بیشک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں۔" (سورۃ بنی اسرائیل: 27)

تکبر: اچھے کھانے اور اچھے لباس کے ساتھ عاجزی اور شکرگزاری ہونی چاہیے۔ اگر کسی کے دل میں برتری یا غرور آ جائے تو یہ اللہ کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے۔



---

خلاصہ:

اسلام ہمیں توازن سکھاتا ہے:
نعمت کا اظہار بھی ہو، مگر اس میں حد سے نہ بڑھیں، اور کبھی بھی تکبر نہ کریں۔


#اللہ_کی_نعمت

#شکرگزاری


#اسلامی_اخلاق


#فضول_خرچی_سے_بچیں


#تکبر_سے_اجتناب


#سادگی_اور_وقار


#مال_کا_صحیح_استعمال


#اسلامی_تعلیمات

#زندگی_کا_توازن


#حلال_رزق


#hafizmehmood

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم عن عمران بن حسین رضی اللہ تعالی عنہ قال
00:05قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
00:09من انعم اللہ علیہ نعمتا فإن اللہ يحب أن يرى اثر نعمته على خلقه
00:16رواہ احمد
00:17نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
00:21جس شخص پر اللہ تعالی نے اپنا انعام کیا
00:24تو اللہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس کی مخلوق پر نظر بھی آئے
00:30دوستو یہ مضمون کہ نعمت کا اثر مخلوق پر بندے پر نظر آنا چاہیے
00:38یہ بہت ساری احادیث میں وارد ہوا ہے
00:41ایک روایت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو دیکھا
00:46جنہوں نے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے
00:49میلے کپڑے پہنے ہوئے تھے
00:51تو حضور علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا
00:53کیا تمہارے پاس کوئی مال ہے
00:56تو صحابی کہتے ہیں میں نے ارز کیا
00:58یا رسول اللہ جی ہاں من کل المال
01:00ہر طرح کا مال ہے میرے پاس
01:01تو حضور علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
01:03تو اس مال کا کچھ اثر بھی تو نظر آنا چاہیے
01:06کہ مال ہے لیکن کپڑے دیکھو اپنے کیسے پہنے ہوئے ہیں
01:09تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
01:12اس بات کی ترغیب دی ہے
01:13کہ اگر اللہ نے وسعت دی ہے مالی وسعت
01:16تو کھانے میں پینے میں پہننے میں
01:23یہاں دو باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے
01:25اور اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
01:27دوسری روایت میں بیان فرمایا
01:29حضور نے فرمایا
01:30کلو وشربو وتصدقو کھاؤ پیو اور صدقہ کرو
01:34والبسو مالم یخالت اسرافن ولا مخیلہ
01:37اور پہنو جب تک کہ اسراف اور تکبر نہ ہو
01:41یعنی فضول خرچی نہ ہو
01:43اور تکبر کے لیے کہ دوسروں سے اچھا لگنا
01:46اور مجلس میں سب سے نمائع معلوم ہونا
01:49کہ جی میں بڑا ہوں میرے کپڑے بھی
01:51علا اور علی شان ہونے چاہیے
01:52یہ مقصود نہ ہو
01:53بلکہ بس اپنی نفاست
01:55اپنی اللہ کی دی ہوئی نعمت کا اظہار
01:59بس یہ مقصود ہو
02:00اگر اسراف نہیں ہے تکبر نہیں ہے
02:02تو پھر اگر اللہ نے مال دیا ہے
02:05تو اس مال کا اظہار کرنا
02:07کھانے میں پینے میں پہننے میں
02:08شریعت نے اس کی اجازت دی ہے
02:10و سلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended