سورۃ الانبیاء کی آیات 11 تا 29 (رکوع نمبر 2) میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پچھلی اقوام کی تباہی، انبیاء کرام کی جدوجہد، اور توحید کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ آیات ہمیں عبرت دلاتی ہیں کہ کس طرح ظلم و زیادتی کرنے والی قومیں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئیں، اور انبیاء کرام نے کس صبر و استقامت سے اپنی قوموں کو ہدایت کی طرف بلایا۔
📖 آیات کا خلاصہ اور تفسیر:
آیت 11-15: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے کئی ظالم بستیوں کو ہلاک کیا اور ان کے بعد دوسری قوموں کو پیدا کیا۔ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ بھاگنے لگے، لیکن ان سے کہا گیا کہ اپنے عیش و آرام کی طرف واپس جاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ظالم تھے، اور آخرکار وہ خاموش کر دیے گئے۔
آیت 16-18: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل تماشے کے لیے نہیں بنایا۔ اگر ہم کوئی کھیل چاہتے تو اپنے پاس سے بناتے۔ بلکہ ہم حق کو باطل پر مارتے ہیں، تو وہ اسے کچل دیتا ہے، اور باطل مٹ جاتا ہے۔
آیت 19-22: آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، وہ اللہ کے بندے ہیں۔ جو بھی کہے کہ میں اس کے سوا معبود ہوں، ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے۔
آیت 23-24: اللہ اپنے کاموں کے لیے جواب دہ نہیں، لیکن لوگ جواب دہ ہیں۔ کیا انہوں نے اس کے سوا معبود بنا لیے ہیں؟ کہو، اپنی دلیل لاؤ۔
آیت 25-29: ہم نے تم سے پہلے جو بھی رسول بھیجا، اس کی طرف وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو۔ انہوں نے کہا، رحمٰن نے اولاد بنائی ہے؟ وہ پاک ہے۔ بلکہ وہ معزز بندے ہیں۔
🎥 ویڈیو تفسیر اور لفظ بہ لفظ سیکھنے کے ذرائع:
1. تفسیر اور ترجمہ کے ساتھ ویڈیو: یہ ویڈیو سورۃ الانبیاء کی آیات 11 تا 29 کی تلاوت، اردو ترجمہ اور تفسیر پر مشتمل ہے۔
2. گرامر اور تفسیر کا تفصیلی جائزہ: اس ویڈیو میں آیات 11 تا 29 کی گرامر اور تفسیر کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جو عربی زبان سیکھنے والوں کے لیے مفید ہے۔
3. لفظ بہ لفظ سیکھنے کی ویڈیو: یہ ویڈیو سورۃ الانبیاء کی آیات 11 تا 29 کا لفظ بہ لفظ سیکھنے کے لیے مفید ہے، جس میں ہر لفظ کی تشریح کی گئی ہے۔
Be the first to comment