سورۃ الکہف کے رکوع 7 (آیات 45 تا 49) میں دنیا کی عارضی زینت، انسان کی آزمائش، اور قیامت کے دن اعمال کے حساب کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ رکوع انسان کو دنیا کی فانی حقیقتوں سے آگاہ کرتا ہے اور آخرت کی تیاری کی ترغیب دیتا ہے۔
---
📖 آیات کا خلاصہ اور اردو ترجمہ:
آیت 45: اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی کی مثال دیتے ہیں کہ وہ بارش کی مانند ہے جو زمین پر اگتی ہے، پھر وہ سوکھ جاتی ہے اور ہوائیں اسے اڑا لے جاتی ہیں۔
آیت 46: مال و اولاد دنیا کی زینت ہیں، لیکن باقی رہنے والے نیک اعمال اللہ کے نزدیک بہتر ہیں۔
آیت 47: قیامت کے دن زمین کو صاف میدان بنا دیا جائے گا، اور سب انسان اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔
آیت 48: سب لوگ صف باندھ کر اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، اور ان کے درمیان کوئی پردہ نہ ہوگا۔
آیت 49: اعمال نامہ کھولا جائے گا، اور مجرم کہیں گے: "ہائے ہماری شامت! اس کتاب نے کوئی چھوٹا یا بڑا عمل نہیں چھوڑا، سب کچھ لکھ دیا ہے۔"
---
📚 اردو تفسیر:
عرفان القرآن کے مطابق:
> "اللہ تعالیٰ نے زمین کی زینت کو انسانوں کی آزمائش کے لیے بنایا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ دنیا کی یہ زینت عارضی ہے اور قیامت کے دن سب فنا ہو جائے گا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی فانی چیزوں کی بجائے اللہ کی رضا کے لیے نیک اعمال کرے۔"
تفسیر ابن کثیر میں بیان کیا گیا ہے:
> "دنیا کی زندگی عارضی ہے، اور قیامت کے دن زمین کو صاف میدان بنا دیا جائے گا۔ اعمال نامہ کھولا جائے گا، اور ہر انسان اپنے اعمال کا حساب دے گا۔"
---
🎧 ویڈیو تفسیر:
مزید تفصیل کے لیے، آپ یہ ویڈیو تفسیر دیکھ سکتے ہیں:
Be the first to comment