00:00شکر غزار شہزادہ
00:30ملے گا وہیں وہ ایک عجیب و غریب انسان سے روبر ہوا
00:34اس کی کمر چھکی ہوئی تھی
00:36کھڑے ہونے کے لیے اس نے ایک لاتھی لی ہوئی تھی
00:39اور اس کی دھاڑی زمین کو چھو رہی تھی
00:42تم کون ہو
00:46تم یہاں میرے جنگل میں کیا کر رہے ہو
00:50کیا تم کھو گئے ہو کاسٹکار
00:52میں کوئی کاسٹکار نہیں ہوں
00:55میں ان علاقوں کا بادشاہ ہو
00:57یہ جنگل میرے ہیں
00:59لیکن ہاں میں یقیناً کھو گیا ہوں
01:01میری مدد کر سکتے ہو
01:03آہ
01:05اچھا تو تم بادشاہ ہو
01:08تمہارے لیے یہ کتنا اچھا ہے
01:10خیر میرے بادشاہ
01:12یہ جنگل میرے ہیں
01:14اور صرف میں ہی یہاں سے باہر نکلنے کا راستہ جانتا ہوں
01:17میں تمہیں راستہ دکھا سکتا ہوں
01:19اگر تم چاہو تو
01:20پر بدلے میں میں تم سے کچھ چاہوں گا
01:23بادشاہ سکتے میں آ گیا
01:25اس بڑے انسان کے روئیے سے
01:27پر اسے گھر واپس آنے کی ضرورت تھی
01:30اسے اپنی بیوی
01:32اور نئے جن میں بچے کے ساتھ ہونے کی ضرورت تھی
01:35بدلے میں تم کیا چاہو گے
01:38اپنی قیمت بتاؤ
01:40مجھے ان میں سے کوئی بھی چیزیں نہیں چاہیے
01:45کیا مجھے دیکھ کر تمہیں ایسا لگتا ہے
01:47نہیں
01:48تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا
01:50جب میں اس بات کا یقین کرلوں
01:52کہ تم اپنی سلطنت کے فاتک تک پہنچ گئے ہو
01:55اس کے اندر سے جو کچھ بھی سب سے پہلے باہر آئے گا
01:58بدلے میں تم مجھے وہ دوگے
02:00میں تمہیں ایک دن دوں گا
02:03تمہیں مجھے یہ وعدہ کرنا ہوگا
02:05کہ وہ ہمیشہ کے لیے میرا ہو جائے گا
02:08یہ کچھ بھی ہو سکتا تھا جو چل کر باہر آتا
02:11باتشاہ نے خود سے سوچا
02:13پر پھر اس نے سوچا کہ وہ بہت عرصے سے بھٹک رہا ہے
02:16ہر کوئی اس کے بارے میں فکرمند ہوگا
02:18اس نے ارادہ کر لیا
02:20اس نے بوڑے آدمی سے ہاتھ ملایا
02:23اور اس کی شرط کو منظور کر لیا
02:25اس بوڑے کبڑے آدمی کے پیچھے جنگل میں چلتے ہوئے
02:30کئی مرتبہ بہشہ کافی حیرت زدہ ہو جاتا
02:33اس بوڑے آدمی کی رفتار اور لچیلے پن کو دیکھ کر
02:36اسے عجیب سا اچمبہ بھی ہوتا
02:38وہ اسے لے جاتا جھیلوں سے اور تنگ راستوں سے گزار کر
02:43پر کسی نہ کسی طرح وہ آگے بڑھتا جاتا
02:46آخر کار بوڑا انسان اپنے وعدے کا پکا رہا
02:49آخر اس نے یہ یقین کر لیا
02:51کہ بہشہ کو اپنے گھر جانے کا راستہ مل گیا
02:54اپنا وعدہ یاد رکھنا میرے بہشہ
02:57بہشہ کے خوشان دیت کی گئی پھولوں اور ہم دو سنا سے
03:03لوگ بہت خوش تھے اسے زندہ دیکھ کر
03:05پر ایک شخص خوشی سے رو رہا تھا
03:09اس کی بیگم
03:10اس سے پہلے کہ بہشہ کچھ کہہ پاتا
03:14وہ اس کی جانیب دوڑی گئی
03:16اپنی باہوں میں اپنے پہل اوٹھے بیٹے کو اٹھا کر
03:19اور وہ پھٹک پار کر دی ہے
03:21اور وہ وہ پہلی شہ بنی ہے
03:23جو بڑا انسان دیکھ سکتا
03:25جب اس نے بچے کو دیکھا
03:27بڑا انسان مسکر آیا
03:29بہشہ مڑا اور اس نے اس کی جانیب دیکھا
03:32جب وہ جنگل میں واپس جا رہا تھا
03:34میرے بادشاہ آپ فکر مند لگ رہے ہیں
03:37کیا بات ہے
03:38بتائیے آپ کو کیا بات پریشان کر رہی ہے
03:40کیا آپ گھر آ کر خوش نہیں ہے
03:42نہیں یہ سچ نہیں ہے
03:45میں بین دہا خوش ہوں گھر واپس آ کر
03:47اور اپنے بیوی اور بچوں سے مل کر
03:49لیکن مجھ سے ایک بہت بڑی خطا ہو گئی ہے
03:53بادشاہ نے اپنی بیگم کو سب کچھ بتا دیا
03:56ہر چھوٹی چھوٹی اطلاع جو اس کی انمن نہیں تھی
04:00بیگم یہ کہانی سن کر سکتے میں آ گئی
04:03اور وہ دونوں سوچنے لگے
04:04کہ اب بھی کیا کریں
04:05شاید میرے پاس ایک تجبیج ہے
04:08بادشاہ نے اپنی وزیروں کو بلائیا
04:09اور پوچھا کہ کیا کوئی ایسے بچے ہیں
04:11جو اسے دن پیدا ہوئے
04:13جس دن اس کا بیٹا ہوا
04:14ایک وزیر نے اس بات کی تقدیس کی
04:17کہ ایک چھوٹی سی بچی پیدا ہوئی تھی
04:19ایک کاستگار جوڑے کی یہاں
04:22بادشاہ نے اس جوڑے اور ان کے بچے کو
04:24اپنے آرام گاہ میں طلب کیا
04:26میرے بادشاہ کیا آپ نے مجھے طلب کیا
04:29بتائیے مجھ جیسا حکیر انسان
04:31کیسے آپ کی خدمت کر سکتا ہے
04:34میری پیاری ریایا
04:36تمہارا بادشاہ آج تم سے کچھ بڑا احسان مانگ رہا ہے
04:40ایسا احسان جس کے بارے میں میں جانتا ہوں
04:42کہ دینا مشکل ہے
04:43لیکن بدلے میں میں تمہیں بہت انام دوں گا
04:47سلطنت کے لیے تمہاری اس قربانی کے عوض میں
04:50بادشاہ نے کاس تکار سے
04:52ہر بات سمجھا کر ہوگفتگو کی
04:54یہ جانتے ہوئے کہ اس کے لیے
04:56یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوگا
04:58اس نے کاس تکار سے مانگا
05:00کہ وہ اپنی نئی جنمی بچی کو دے دے
05:02اس کے بیٹے کے جگے
05:03اس بوڑے آدمی کے پاس جانے کے لیے
05:06بادشاہ نے وعدہ کیا کہ وہ
05:08اس کاس تکار چھوڑے کی ہمیشہ دیکھ بھال کرے گا
05:10اگر وہ یہ قربانی دیں گے
05:13اگلی صبح بوڑے آدمی جنگل میں
05:14کگار پر کھڑا تھا
05:16بادشاہ کے آنے کا انتظار کرتے ہوئے
05:18کچھ وقت بیٹ گیا تھا
05:21اور پھاٹک کھلے
05:22بادشاہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر
05:26بوڑے آدمی کی اور بڑھا
05:28اس کی طرف غصے میں آلودہ
05:30وہ اپنے گھوڑے سے نیچے اترا
05:33اور ایک چھوٹی سی ٹوکری میں
05:34جو سفید کپڑے میں ڈھکی تھی
05:36اس نے وہ رو دی ہوئی چھوٹی بچی
05:38بوڑے آدمی کو دے دی
05:39بوڑے آدمی کے چہرے پر
05:42ایک شیطانی سوراہت تھی
05:44ایک شیطان پر وہ خوش تھا
05:46کہ اسے وہ مل گیا جو وہ چاہتا تھا
05:48ٹوکری کو جکڑ کر پکڑے ہوئے
05:51وہ لنگڑاتا ہوا جنگل میں چلا گیا
05:53اور اپنے ساتھ اس بچی کو لے گیا
05:55بادشاہ بس ٹک ٹکی لگائے
05:57دیکھتا رہا
05:58جب وہ دونوں جنگل میں غائب ہو گئے
06:01سالوں بار شہزادہ
06:03بڑا ہو گیا تھا
06:04وہ رحم دل اور ہوشیار تھا
06:06اور اپنے آنس پاس ہر ایک کی مدد کرتا تھا
06:08مجھے بہت خوشی ہوتی ہے
06:12اس سلطنت کو دیکھ کر
06:13جو میرے والد نے تعمیر کی ہے
06:15لوگ خوش ہیں
06:16ان کے پاس کھانے کے لئے کھانا ہے
06:18اور ان سب کے پاس اپنا خود کا روزکار ہے
06:20ایک بادشاہ کو اور کیا چاہیے
06:22جب شہزادہ خوشی خوشی سڑکوں سے گزر رہا تھا
06:26دور سے کازتگار کی بیوی نے
06:28اسے گھور کر دیکھا
06:29اس نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا
06:31جس نے اپنا سر ہلایا
06:33پر جب اس نے پیٹھ موڑی
06:35وہ شہزادہ کی طرف دوڑی گئی
06:37اس کے سامنے کھڑے ہو کر
06:39اس کا راستہ روکتے ہوئے
06:40آپ مجھے نہیں جانتے میرے شہزادے
06:44پر مجھے آپ سے یہ کہنا ہوگا
06:46ہاں بادشاہ ایک اچھا انسان ہے
06:49اس نے اپنی سلطنت کی دیکھ بھال کی ہے
06:52پر کس قیمت پر
06:54تمہاری
06:55یا ہماری
06:56ان سے میری بیٹی کے بارے میں
06:58جا کر پوچھو جاؤ
07:00شہزادہ فکرمند تھا
07:04اسے علم نہیں تھا کہ یہ عورت کس مضمون پر بات کر رہی ہے
07:07اس رات
07:08رات کے کھانے کی میز پر
07:10شہزادے نے اپنے والدین سے جو ہوا
07:12اس کی بابت پوچھا
07:13مجھے امانداری سے بتائیے اببہ
07:15کیا وہ عورت جھوٹ بول رہی تھی
07:17یا اس کہانی میں کچھ اور بھی ہے
07:20بادشاہ نے سب کچھ بتا دیا
07:24اپنی جنگل کے سفر کے بارے میں
07:26اس بوڑے آدمی کے بارے میں
07:29ایک وعدہ اور قربانی سلطنت کی بہتری کے لیے
07:33مجھے اسے ڈھونڈنا ہوگا
07:36یہ صرف اسی کی قربانی کی وجہ سے ہے
07:38کہ آج بھی میں یہاں کھڑا ہوں
07:40میں تب تک شہزادہ یا بادشاہ نہیں بن سکتا
07:43جب تک وہ آزاد نہیں ہو جاتی
07:44یا تو میں اسے واپس لے آؤں گا
07:46یا میں اس کی جگہ لے لوں گا
07:48کیا آپ سمجھ گئے
07:50امی
07:51اببہ
07:52تمہیں وہی کرنا چاہیے جو تم سوچتے ہو
07:56کہ درست ہے
07:56جیسا میں نے کیا تھا
07:59اگلے دن وہ ایک عام انسان کے لباز میں تیار ہو گیا
08:03اپنی پہچان چھپانی کیلئے
08:05اپنے ساتھ وہ ایک بیجو کا ڈپ پا لے گیا
08:08تاکہ اگر وہ جنگل میں بھٹک جائے
08:10تو وہ اپنے گھر آنے کا راستہ ڈونڈ سکے
08:13تو ایک مرتبہ اپنے والید کی طرح شہزادہ
08:19اس ناختم ہونے والے جنگل میں بھٹک گیا
08:22کچھ دنوں تک شہزادہ بھٹکتا رہا
08:26کچھ دنوں کے بعد تھک کر وہ جنگل میں سو گیا
08:30رات کے بیچوں بیچ
08:33اسی جگایا ایک لاتھی کی مارنے
08:36اے تم
08:38یہ میرا جنگل ہے
08:40میرے حکم کی بنا
08:42تم نے یہاں سونے کی جلد کیسے کی
08:44تم کیا سوچتے ہو کون ہیں تم
08:46کسی شاہی خاندان سے
08:48تم ابھی اٹھو یہاں سے مٹھی کے تھیلے
08:51شہزادہ کی نیند کھل گئی
08:54وہ ڈرہ ہوا بھی تھا اور بھوڑے آدمی کو دیکھ کر
08:56خوش بھی تھا
08:57بھوڑا آدمی ویسا ہی لگ رہا تھا
08:59وہ لنگڑا کر چل رہا تھا اور بہت ہی بھدہ لگ رہا تھا
09:03مجھے ماف کر دیجئے حضور
09:05پر مجھے کام کی ضرورت ہے
09:08میں بھوکا ہوں پر میں تندرست بھی ہوں
09:10اگر آپ مجھ پر مہربانی کریں اور کچھ دنوں کیلئے کھانا اور کام دے سکیں تو
09:14میں بہت شکر گزار رہا ہوں گا
09:17آپ ایک بہت ہی رہم دل اور نیک انسان لگتے ہیں
09:21بھوڑا آدمی نہ تو رہم دل اور نہ ہی نیک لگتا تھا
09:25پر اس نے یہ سمجھ لیا کہ یہ لڑکا اس کی کام آ سکتا ہے
09:30ہاں تم میرے کام آ سکتے ہو
09:34تمہیں میرے قائدوں پر چلنا ہوگا اور تمہیں خانہ کھلایا جائے گا
09:39اور ایک بھی قائدہ تم نے توڑا
09:41تو تمہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی
09:44سمجھ گئے تم
09:45بھوڑے آدمی نے دل سمکہ استعمال کیا شہزادے کو اندھا بنانی میں
09:49اور اسے وہ جنگل میں ہاتھ پکڑ کر لے گیا
09:52حالانکہ شہزادے کو یاد رہا کہ وہ بیچ گراتا رہی
09:55ایک مرتبہ پھر بھوڑا آدمی اس چھوٹے سے ہاتھ سے کا مزا لے رہا تھا
10:00شہزادہ جھیل نے گھر گیا
10:03اس کا موں ایک پیڑ سے ٹکرائیا
10:05یہ سب نظارے دیکھ کر بھوڑا آدمی مزا لے رہا تھا
10:08آخر وہ بھوڑے آدمی کے گھر پہنچے
10:12یہاں تم سوگے
10:15تم کسی سے بات نہیں کروگے
10:17نہ ہی کسی بات پر سوال کروگے
10:20تم وہی کروگے چوٹو میں بتایا گیا ہے
10:22منظور ہے
10:23رات کا کھانا اندر ہوگا
10:25اور پھر کل سے تم اپنا کام شروع کرنا
10:28شہزادہ راضی ہو گیا
10:31جیسے ہی بھوڑا آدمی وہاں سے گیا
10:33اپنا تھیلہ نینچے پھیڑ کر
10:35وہ گھبرائیا ہوا تھا
10:37کہ پتا نہیں آنے والے حالات کیسے ہوں گی
10:39گھنٹوں بیت گئے
10:41اور پھر رات کے کھانے کا وقت ہو گیا
10:43شہزادہ سویا ہوا تھا
10:45جب وہ لڑکی اس کی طرف چل کر آئی
10:47اس نے دو بار اسے جن چوڑا
10:49اور آخر میں اسے ٹھو کر ماری
10:53چاگنے کا وقت ہو گیا ہے
10:57کھانے کے لیے کھانا ہے
10:59کل تمہیں بہت سارا کام کرنا پڑے گا
11:02پھوڑا آدمی تمہیں پھر کبھی آرام نہیں کرنے دے گا
11:06پہتر ہے تم کچھ کھا لو
11:08مل کر وہ اندر گئے
11:11شہزادہ کو اپنے دل ہی دل میں یہ پتا تھا
11:14کہ یہی وہ لڑکی ہے جس کی تلاش میں وہ آیا تھا
11:17اسے وہ مل گئی تھی
11:19وہ کھانے کی میز پر ایک ساتھ بیٹھے
11:24لڑکی انہیں کھانا پر اس سے ہوئے
11:26باورچی کھانے سے اوپر نیچے آتی جاتی رہی
11:29شہزادہ اس لڑکی کو ایک ٹک دیکھتا رہا
11:32سبح بوڑے آدمی نے شہزادہ کو بہت سے کام کرنے کو دیئے
11:37سب سے اونچے درخت سے پھل توڑنے سے لے کر
11:40چھیل سے پانی لانے تک
11:43رول کے پاؤں دھونے سے لے کر
11:45بوڑے آدمی کے دانت برش کرنے تک
11:48شہزادہ کو سب کچھ کرنا تھا
11:51ان سب کے دوران وہ لڑکی اسے دیکھ رہی تھی
11:54وہ فکرمن تھی اور اسے ناز بھی تھا
11:58سارا وقت اس کے چہرے پر ایک مسکان تھی
12:01آخر میں اسے ایک مشکل کام دیا گیا
12:04اسے گھاس کے میدان میں جانی کو کہا گیا
12:07کہ وہ اتنی گھاس کار سکے
12:09کہ ایک ہفتے تک گھوڑے کو چارہ ڈالا جا سکے
12:12ورنہ اسے تین دین تک کھانا نہیں ملے گا
12:17اس نے تمہیں کیا کام دیا ہے
12:20اس کی خواہش ہے کہ میں ایک ہی دن میں یہ سب کاتوں
12:25یہ میں کیسے کر سکتا ہوں
12:27اوہ تم بدکسمت انسان
12:29سنو جو مجھے تم سے کہنا ہے
12:31صرف یہی تمہارے بچنے کا راستہ ہے
12:33اس طرح شہزادہ اسطبل سے دو گھوڑے گھاس کے میدان لے آیا
12:39اس نے گھاس کے کئی چھوٹی چھوٹے گچھے کاتے
12:42اسے گھوڑے کے آگے رکھتے ہوئے
12:44اس نے انہیں ایک ساتھ بہندہ اور گھاس کے میدان کی سواری کرنی لگا
12:49اور اس کے ہاتھ میں بہت بڑی دراتی تھی
12:52اسے خوشی ہوئی کہ یہ تجبیج کامیاب ہوئی
12:55دن کے ختم ہونے تک میدان کی ساری گھاس کاٹ لی گئی تھی
12:59وہ لڑکا تھکے ہوئے گھوڑے پر بیٹھا
13:01اور انہیں کھلایا جب وہ آہستہ آہستہ بڑے آدمی کے گھر کی طرف چل رہی تھی
13:06لڑکی مسکرائی جب اس نے اسے دیکھا
13:09بڑا آدمی پریشان لگا
13:11پھر اگلی صبح
13:13میرے پاس تمہارے لیے کچھ اور ہے
13:17یہ میری سب سے بیشکیمتی گائے ہے
13:19تمہیں اسے دودھ کر سکھانا ہوگا
13:21میری دودھ کی سپلائے کم ہو گئی ہے
13:24اس کے اندر سے دودھ کا ہر کترہ نکال دو
13:27تاکہ میں پھر کبھی بھوکا نہ رہوں
13:30اس کے اندر کے دودھ کا ہر کترہ نکال لوں
13:34ایک ہی دن میں
13:35یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے
13:37ہاں
13:39گھر واپس مت آنا
13:41اگر تم یہ کام کرنے میں ناکام رہے تو
13:44شہزاد نے کچھ مرتبہ اس کی کوشش کی
13:51کئی بار اس نے محو پر گائے کی دلت پی کھائی
13:55آخر وہ بیٹھ گیا اور اس نے ہار مان لی
13:58وہ اس لڑکی کا انتظار کرنے لگا
14:01اس امید میں کہ وہ آئے گی اور اسے بچا لی گی
14:04میرے بینا تم کیا کروگے
14:07لڑکی نے پھر سے شہزادے کی مدد کی
14:10اس کی مدد کی اس کے ہاتھ گرم کرنے میں
14:13جب دودھ دھونے کے لیے شہزادہ گرم ہاتھوں کا استعمال کرتا ہے
14:17تو گائی اس کا جواب دینے لگی
14:19بالٹی دربالٹی بھرنے لگی گائی کے دودھ سے
14:22جب لڑکی نے شہزادے کو مبارک بات دی
14:25اور باقی کام کرنے کے لیے
14:27اس نے اسے وہاں چھوڑ دیا
14:28دن کے ختم ہونے تک
14:30دودھ کی بیس بالٹیاں بھر چکی تھی
14:33وہ کافی تھا کہ اس کے گھر میں لمبے عرصے تک چلتا
14:37بڑا آدمی آیا اور اس نے دیکھا
14:39کہ مسکراتا ہوا شہزادہ دودھ کا گلاس پی رہا ہے
14:42اس نے گلاس اٹھایا
14:43اور بڑے آدمی نے اس کی طرف غصے سے دیکھا
14:46میرے گھر سے نکل جاؤ
14:48میں جانتا ہوں کی کیسے
14:50پر کسی طرح تم نے میرے قائدے توڑے ہیں
14:53یہ کام صرف تمہیں اکیلے کرنے تھے
14:56تم نے اس کی مدد لی ہے
14:58میں یہاں دھوکے بازی برداشت نہیں کروں گا
15:01میری نظروں سے دور ہو جاؤ
15:03میں نے اس کی مدد کی
15:09مجھے سزا دو
15:10اس کا نہیں
15:11جادوگر نے اب اپنے اصلے شکل میں آ کر
15:15ٹرول کو عقیت کر لیا
15:17اس لڑکے سے کہا کہ
15:20سبح وہ وہاں سے چلا جائے
15:22اور کبھی واپس نہ آئے
15:24اس کی لاتھی توڑ دو
15:26وہاں ہی اس کی طاقت ہے
15:28میں اب یہاں اور نہیں رہ سکتی
15:30میں دنیا دیکھنا چاہتی ہوں
15:32اس نے مجھے اور ٹرول کو پنجرے میں قید کر دیا ہے
15:35اس کی لاتھی توڑ دو
15:37شہزاد نے اداس ٹرول کی طرف دیکھا
15:40اور اس نے اس کا حوصلہ بڑھایا
15:42وہ جان گیا کہ اسے کیا کرنا ہے
15:44وہ اس لڑکی سے محبت کرتا تھا
15:47اور اسے وہاں نہیں چھوڑ سکتا تھا
15:49اس نے اپنا تھیلہ گرائیا
15:50اور پاس ہی رکھی ہوئی کلہڑی اٹھائی
15:52اس نے ٹرول کو آزاد کیا
15:54اور وہ مل کر اس کھڑ کی تک رہنگتے ہوئے گئے
15:57جو لڑکی نے کھلی چھوڑ دی تھی
15:59جادوگر کو ڈھونٹے ہوئے
16:01کاموشی سے گھر میں چلتے ہوئے
16:04وہ گھر کے سب سے بڑے کمرے میں پہنچے
16:07اندر انہوں نے دیکھا کہ جادوگر جگہ ہوا تھا
16:10اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر ہس رہا تھا
16:13تم نے سوچا تم مجھے ہرا سکتے ہو
16:17مجھے بیوکو بنا سکتے ہو
16:19اس کی کوئی گنجائز نہیں ہے لڑکے
16:21پر شہزادہ خوف زدہ نہیں تھا
16:25وہ آٹ رول مل کر جادوگر کی طرف دوڑے گئے
16:28اسے وار کرنے کے لیے دو نشانی دیتے ہوئے
16:31اور اسے لڑکی کو آزاد کرتے ہوئے جو ٹرول کے پاس بھاگ گئی
16:43اب تم کبھی کسی کو بھی چوٹ نہیں پہنچا سکو گے
16:47جب وہ تلسمی لڑکی توڑ دی گئی
16:50بھوڑا آدمی زمین پر گر گیا
16:53پھر سے بھوڑا اور سفید بالوں والا بن کر
16:56وہ اپنے ہاتھ اوپر اٹھا رہا تھا
16:58رہن کی بھیس پانگتے ہوئے
17:00ہم اس جگہ سے جا رہے ہیں
17:02اب تم کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا پاؤگے
17:05اب کوئی اور وادے نہیں نبھانے ہوں گے
17:07اب تمہارے اور کام نہیں کرنے ہوں گے
17:09میں تمہارا شہزادہ ہوں
17:11تم میرا حکم مانوگے
17:13ہم اس جگہ سے جا رہے ہیں
17:15اور تم پھر کبھی نظر نہیں آؤگے
17:17جب وہ بھوڑے آدمی کا گھر چھوڑ کر گئے
17:21انہیں وہ بیجوں کی لکیر دکھی جو شہزادے میں چھوڑی تھی
17:25وہ بیج اب گلابوں کے کتار بن گئے تھے
17:29اپنے ہاتھ ایک ساتھ پکڑے ہوئے
17:32وہ سلطنت کی طرف چل کر گئے
17:34بے شک ٹرول ان کے پیچھے چل رہا تھا
17:38شہزادے نے اس لڑکی کا تاروف
17:41اس کے والدین اور بادشاہ اور بیگم سے کروایا
17:45سلطنت میں خوشیاں چھا گئی
17:47اور ہر ایک کے دل میں محبت اٹھ پڑی
17:50یہ میری بیگم بنے گی
17:54یہ بہادر بھوشیار بہوصلہ اور خوبصورت ہے
17:58آخر مجھے اس سے زیادہ اور کیا چاہیے
18:01اور مل کر وہ ہمیشہ رازے خوشی رہے
18:06مل کرنے
Comments