Skip to playerSkip to main content
قدیم یونانی روایات میں اسفنکس کی پہیلی دنیا کے سب سے مشہور فکری معماؤں میں شمار ہوتی ہے۔ کہانی کے مطابق قدیم یونانی شہر تھیبس کے باہر ایک خوفناک مخلوق اسفنکس بیٹھتی تھی جس کا منہ عورت کا اور دھڑ شیر کا تھا۔ یہ گزرنے والے ہر مسافر سے ایک خاص پہیلی پوچھتی تھی۔ جو شخص جواب نہ دے پاتا، وہ اسے ہلاک کر دیتی تھی۔

اس کی پہیلی تھی کہ وہ کون سی چیز ہے جو صبح چار ٹانگوں پر، دوپہر کو دو پر، اور شام کو تین پر چلتی ہے؟ برسوں تک کوئی بھی اس کا درست جواب نہ دے سکا اور لوگ خوفزدہ رہے۔ آخر کار ایڈیپس نامی ایک ذہین مسافر وہاں پہنچا جس نے اس پہیلی کی اصل حقیقت کو سمجھ لیا۔

ایڈیپس نے جواب دیا کہ وہ انسان ہے۔ انسان اپنے بچپن یعنی صبح کے وقت گھٹنوں اور ہاتھوں پر رینگتا ہے، جوانی یعنی دوپہر میں دو پاؤں پر کھڑا ہوتا ہے، اور بڑھاپے یعنی شام میں لاٹھی کا سہارا لے کر تین ٹانگوں پر چلتا ہے۔ یہ جواب سن کر اسفنکس نے خود کو پہاڑ سے گرا کر ختم کر لیا اور راستہ کھل گیا۔

#پہیلی #معلومات #اردو #تاریخ #Riddle #Sphinx #BrainTeaser #History

دستبرداری: یہ ویڈیو صرف معلوماتی اور تفریحی مقاصد کے لیے بنائی گئی ہے۔ کہانی عوامی ذرائع سے لی گئی ہے اور تصاویر صرف موضوع کو واضح کرنے کے لیے ہیں۔

Category

🚗
Motor
Transcript
00:00Only one person who punched him in the middle of the night,
00:03when he asked him to get out of the night,
00:06who was who was who was going to see the night?
00:09Then the night after the night,
00:11and the night after the night was that night?
00:14The night after the night,
00:15he asked him how he asked him to get out of the night,

Recommended