00:00شازر شفا کو اپنے پیار کا یقین دلانے کے لیے اپنی ساری پروپرٹیز شفا کے نام کر دیتا ہے
00:04اسی وقت نبیل کو جب یہ خبر ملتی ہے تو اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں وہ فوراں ماز کے
00:08پاس پہنچتا ہے
00:08اور کہتا ہے مجھے پتا ہے تم بھی شازر سے بدلہ لینا چاہتے ہو
00:11اگر ہم دونوں مل جائیں تو شازر کو آسانی سے راستے سے ہٹا سکتے ہیں
00:14یہ سن کر ماز بھی نبیل کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے
00:17اور دونوں مل کر شازر کے خلاف ایک خطرناک لین بنا لیتے ہیں
00:20دوسری طرف شازر شفا کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے
00:22اب ہم سب کچھ بھول کر ہنیمون کے لیے جائیں گے
00:24شفا بھی اس کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے
00:26شازر شفا کو لے کر علیان بھائی کے گھر پہنچتا ہے
00:28لیکن پیچھے سے نبیل اور ماز بھی بہاں آ جاتے ہیں
00:30شفا جیسے ہی شازر کے ساتھ باہر نکلتی ہے
00:32تب ہی ماز شازر پر گولی چلا دیتا ہے
00:34اچانک گولی شازر کے پیٹ میں لگتی ہے
00:36اور وہ زمین پر گر جاتا ہے
00:37شازر کے گارڈز فوراں اسے اسپتال لے کر جاتے ہیں
00:39دوسری طرف تیمور علی کو جیسے ہی پتا چلتا ہے
00:41کہ شازر کو گولی لگی ہے
00:42وہ نبیل سے کہتے ہیں
00:43یہ سب کچھ شفا کی وجہ سے ہوا ہے
00:45تم شفا کو کڈنیپ کر کے فارم ہاؤس لے جاؤ
00:46اور اس ماملے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دو
00:48نبیل فوراں اپنے آدمیوں کے ساتھ شفا کا پیچھا کرتا ہے
01:04وہ کہتا ہے
01:05شفا مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی
01:06مجھے یقین ہے وہ زندہ ہے
01:08اور اسی وقت شازر اسپتال سے نکلنے کا فیصلہ کر لیتا ہے
01:10دوسری طرف فارم ہاؤس میں نبیل شفا کو دھمکاتا ہے
01:12اور پروپرٹی کے پیپرز اس کے سامنے رکھ دیتا ہے
01:14وہ کہتا ہے ان پیپرز پر سائن کر دو
01:16ورنہ تمہارے لیے بہت برا ہوگا
01:17شفا کسی بھی صورت میں سائن کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی
01:20اور کہتا ہے
01:20میں تمہارے دھمکی دینے سے اپنا حق نہیں چھوڑوں گی
01:22اسی وقت شازر سیدھا ماز کے گھر پہنچتا ہے
01:24ماز کو دیکھتے ہی شازر غصے میں آ جاتا ہے
01:26اور کہتا ہے
01:27تم نے مجھ پر گولی کیوں چلائی تھی
01:28ماز ہاتھ جوڑ کر مافی مانگتا ہے
01:29اور کہتا ہے
01:30میں نے یہ سب نبیل کے کہنے پر کیا تھا
01:31یہ سن کر شازر فورا پولیس کو بلاتا ہے
01:33اور ماز کو ارسٹ کروا دیتا ہے
01:35اس کے بعد وہ نبیل کا پتہ لگوانا شروع کرتا ہے
01:37کچھ ہی دیر میں اسے پتہ چل جاتا ہے
01:38کہ نبیل فارم ہاؤس میں موجود ہے
01:39شازر فورا فارم ہاؤس پہنچتا ہے
01:41لیکن نبیل اسے دور سے دیکھ لیتا ہے
01:42اور سمجھ جاتا ہے
01:43کہ اب وہ بچ نہیں سکتا
01:44وہ شفا کو اپنے ساتھ لے کر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے
01:46لیکن راستے میں
01:47نبیل کی گاڑی کا بیلنس بگڑ جاتا ہے
01:49اور گاڑی ایک پیڑ سے ٹکرا جاتی ہے
01:50نبیل کی موت ہو جاتی ہے
01:51اور شفا اس مصیبت سے بچ جاتی ہے
01:53شازر فورا شفا کو اپنے ساتھ گھر لے کر آتا ہے
01:55شفا بھی اب سمجھ چکی ہوتی ہے
01:56کہ شازر نے اس کے لیے کتنا کچھ کیا ہے
01:58دھیرے دھیرے شفا کے دل میں
01:59شازر کے لیے پیار پیدا ہو جاتا ہے
02:00اور وہ پہلی بار
02:01اس کے قریب آنے سے انکار نہیں کرتی
02:02اگلے دن شازر فیصلہ کرتا ہے
02:04کہ میں یہ گھر چھوڑ کر چلا جاؤں گا
02:05کیونکہ میری وجہ سے
02:05صفا کو بہت کچھ سہنا پڑا ہے
02:07لیکن تیمور علی اسے روک لیتے ہیں
02:08اور کہتے ہیں
02:09اب صفا میری بہو ہے
02:10اس گھر میں کوئی اس سے کچھ نہیں کہے گا
02:11تبھی نرمین بھی صفا کے پاس آتی ہے
02:12اور اپنے غلطیوں کی مافی مانگتی ہے
02:14وہ کہتی ہے
02:14صفا مجھے ماف کر دوں
02:15میں تمہارے ساتھ بہت غلط کرتی رہی
02:16اب تمہیں اس گھر
02:17اور شازر کے بزنس کو سمحلو
02:18صفا اس کی بات مان لیتی ہے
02:19تیمور علی بھی صفا کو گلے لگا لیتے ہیں
02:21اور پہلی بار
02:21اسے دل سے اپنے گھر کی بہو مان لیتے ہیں
02:23اگلے ہی دن شازر صفا کو ہنیمون کے لیے
02:25امریکہ لے کر جاتا ہے
02:26دونوں وہاں کچھ وقت ساتھ گزارتے ہیں
02:27اور صفا کی زندگی میں
02:28پہلی بار سکون واپس آتا ہے
02:29لیکن کہانی میں
02:30ایک اور بڑی خوشی صفا کا انتظار کر رہی ہوتی ہے
02:32اچانک اگلے دن صفا کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے
02:34شازر فوراں اسے اسپتا لے کر جاتا ہے
02:35ڈاکٹر چیک اپ کے بعد جو خبر دیتی ہے
02:37اس سے شازر کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا
02:39ڈاکٹر کہتی ہے
02:39مبارک ہو صفا ماں بننے والی ہیں
02:41یہ سن کر شازر خوشی سے پاگل ہو جاتا ہے
02:42وہ فوراں صفا کے پاس جاتا ہے
02:44اور اسے گلے لگا کر کہتا ہے
02:45آج میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی مجھے مل گئی ہے
02:47شازر صفا کو پاکستان واپس لے کر آتا ہے
02:49اسی وقت علیان کو بھی جب پتا چلتا ہے
02:50کہ صفا ماں بننے والی ہے
02:51تو وہ فوراں شازر کے گھر پہنچتا ہے
02:53اور اپنی بہن کو گلے لگا لیتا ہے
02:54صفا بھی علیان بھائی کو
02:55اپنی کمپنی میں ایک بڑی ذمہ داری دے دیتی ہے
02:57دھیرے دھیرے صفا اور علیان مل کر
02:58شازر کے بزنس کو اور