Skip to playerSkip to main content
Khasail e Nabvi SAWW - Rabi-ul-Awwal Special

Rabi ul Awwal Special Programs ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLP5yWzXgMC1Q

Topic: Nabi Kareem ﷺ Ki Shan-e-Zuhd-o-Qana'at

Islamic Scholar: Mufti Abu Muhammad

#aryqtv #islam #KhasaileNabviSAWW #rabiulawwal #rabiulawwal2026

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00صلی علی نبینا صلی علی محمدنا
00:06الحمدللہ رب المشرقین ورب المغربین
00:09والصلاة والسلام علی جد الحسن والحسین ام آباد
00:15بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:18ساری کائنات کے
00:21تمام درود و سلام جناب آقید و جہان صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر
00:27آپ دیکھ رہے ہیں پرگرام خسائل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:31اور اس پرگرام میں آج ہم جس عنوان پر گفتگو کرنے جا رہے ہیں
00:37وہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان زہد و قنات
00:42زہد و قنات کیا ہے
00:45اس کو سننے کے بعد سمات فرمانے کے بعد
00:49آپ بخوبی سمجھ سکیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی
00:54کتنی آسان بنائی ہے
00:55مگر انسان نے دوبارہ سے
00:58اپنے آپ کو دنیاوی مشکلات میں ڈال دیا ہے
01:01زہد کہتے ہیں
01:04دل کی دنیا کو
01:07دنیا کی چیزوں سے خالی رکھنا
01:10دنیا کا نہ ہونا یہ زہد نہیں ہے
01:14دنیا کا ہونا یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے
01:17مگر اس دنیا کی محبت دل میں نہ ہونا اسے زہد کہتے ہیں
01:21اور قنات کہتے ہیں
01:23اللہ تعالیٰ نے آپ کو جتنا دیا
01:26اس پر آپ راضی ہو جائیں
01:28ایک حدیث مبارک ہے
01:31آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
01:34جو اسلام لایا
01:36اس نے اللہ کی تابداری کی
01:39اللہ کے احکامات کی پیروی کی
01:43اور جتنا رزق بقدرِ ضرورت
01:46اللہ تعالیٰ نے اسے دیا
01:47وہ اس پر راضی ہو گیا
01:50تو یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگا
01:55آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زہد کیسا تھا
01:58دنیا کی کسی چیز کی محبت
02:01آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نہ تھی
02:05اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عاملی زندگی کیا تھی
02:08اس کے متعلق آقا دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ سے آپ اندادہ لگا سکتے ہیں
02:14حضور سے کسی نے پوچھا
02:15یا رسول اللہ دنیا میں یہاں زندگی کیسے گزاریں
02:18کس رسول سے کہ جو پاؤں رکھیں
02:20تو اللہ اس زمین کو اتنا قیمتی بنا دیں
02:23کہ اللہ اس کے قرآن میں قسمیں اٹھائے
02:25اور حضور نے فرمایا کہ اگر میں دعا کروں
02:28تو تمہارے لئے اہد پہاڑ سارا سونا ہو جائے
02:31اور یہ آج کی دنیا جانتی ہے
02:33کہ حضور کی برکت سے اہد کا سارا پہاڑ اندر سے گولڈ ہے سونا ہے
02:38لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تربیت حضرات صحابہ اکرام
02:42اہل بیت اعزام کی فرمائی
02:43وہ زہد و کناعت کی بنیاد پر تھی
02:46کہ اس دنیا کے اندر دنیا کی محبت کو
02:50اپنے دل میں اتنی بھی جگہ نہیں دینی
02:54کہ کہیں اس کی وجہ سے آپ اللہ اور اس کے رسول سے دور ہو جائیں
02:58زہد و کناعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا
03:00حضرات صحابہ اکرام کا
03:02اہل بیت اعزام کا کیسا شیوہ بنا
03:04کہ بہت سارے صحابہ اکرام
03:07آج ہم جب صحابہ اکرام کے اہل بیت اعزام کے
03:10واقعات کو بیان کرتے ہیں
03:12تو کبھی کبھی یہ تاثر ملتا ہے
03:14کہ شاید صحابہ اکرام بہت زیادہ غریب تھے
03:17ان کے پاس دنیا نہیں تھی
03:18ایسا نہیں تھا
03:20صحابہ اکرام کے بعد دنیا بہت زیادہ تھی
03:22اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہوئی تھی
03:24اللہ کی عطا کردہ بے شمار نعمتیں
03:27حضرات صحابہ اکرام کے پاس دیں
03:29وہ ایک ایک وقت میں
03:30کئی کئی سو اونٹ
03:32صدقہ کیا کرتے تھے
03:33خیرات کیا کرتے تھے
03:35ہزاروں کی تعداد میں درم و دینار
03:37اشرفیاں واللہ تعالیٰ کے راستے میں
03:40لٹایا کرتے تھے
03:41بہت سارے واقعات ایسے ہیں
03:43ان واقعات سے یہ سبق ملتا ہے
03:46کہ صحابہ اکرام نے حضور کو دیکھ کر
03:49کہ حضور کا زہد و قناعت کیسا ہے
03:51اس پر حضور کیسے کارفرما ہیں
03:54اس بنیاد پر صحابہ اکرام نے اختیاری فقر اختیار کیا
03:57جیتے حضرت علی کرم اللہ وجہ الكریم
04:00رضی اللہ تعالیٰ کے بارے میں
04:02یہ بڑا معروف واقعہ ہے
04:03کہ ایک درخت کے نیچے
04:05آپ رضی اللہ تعالیٰ نماز پڑھ رہے ہیں
04:08اور آپ کے پاس ایک خوشک روٹی
04:09کا ٹکڑا رکھا ہوا ہے
04:11اور ایک سائل وہاں سے گزرنے لگا
04:13تو اسے بڑی بھوک لگی ہوئی ہے
04:14اب وہ یہ چاہ رہا ہے
04:16کہ یہ بزرگ جو یہاں بیٹھے ہوئے
04:17وہ جانتا نہیں ہے
04:18کہ یہ حضرت علی ہیں
04:20امیر الممنین ہیں
04:21حسنین کے ابباجان ہیں
04:24رسول اللہ کے داماد ہیں
04:25وہ یہ نہیں جانتا
04:26اس نے دیکھا کہ ایک بزرگ بیٹھے ہوئے
04:28اور وہ نماز پڑھ رہے ہیں
04:30ان کے پاس روٹی کا ٹکڑا رکھا ہوا ہے
04:32لہٰذا یہ سلام پھیریں گے
04:34تو میں ان سے درخواست کروں گا
04:36اور وہ مجھے روٹی کا ٹکڑا دیں گے
04:38تو میں اپنی بھوک پیاس ختم کروں گا
04:40جیسے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
04:43سلام پھیرا
04:44تو سلام پھیرتے ہی دیکھتے ہیں
04:46کہ پاس ایک سائل کھڑا ہے
04:48حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا
04:50کیا بات ہے
04:50کہنے لگے آپ نماز پڑھ رہے تھے
04:52مگر آپ کے پاس روٹی کا ٹکڑا رکھا ہوا ہے
04:55تو آپ مجھے دے دیں
04:56مجھے شدید بھوک لگی ہوئی ہے
04:57تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہنے لگے
05:00یہ کھانا ہے یا تازہ کھانا ہے
05:02وہ بندہ حیران ہوا
05:04کہ خود انہوں نے اپنے پاس خوش روٹی رکھی ہوئے
05:07اور مجھے تازہ کا ایڈریس بتا رہے ہیں
05:09فرمایا فلان جگہ سامنے چلے جاؤ
05:11وہ درخت کے نیچے تازہ لنگر چل رہا ہے
05:14آپ تازہ لنگر جا کے کھانا چاہیں
05:16تو وہاں تازہ کھانا کھا سکتے ہیں
05:18اور اگر یہ کھانا کھانا چاہیں
05:20تو یہ بھی میں آپ کو دینے کو تیار ہوں
05:22خیر
05:23وہ بندہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سن کر
05:26تازہ کھانا کھانے کے لیے
05:27وہاں چل پڑا
05:28جب وہاں پہنچا
05:30تو وہاں دو بڑے خوبصورت نوجوان
05:33بڑی تیزی کے ساتھ آنے والے مہمانوں میں
05:35تازہ کھانا تقسیم فرما رہے ہیں
05:39وہ بندہ بھی بیٹھایا
05:40اسے کھانا ملا
05:41اس نے کھانا کھایا
05:42کھانا کھانے کے بعد وہ اٹھا
05:44اور جو کھانا بچ گیا
05:45تو وہ اسے لپیٹنے لگا
05:47رکھنے لگا اپنے پاس
05:48ایک نوجوان آگے بڑھا
05:50انہوں نے کہا جی آپ کون ہیں
05:51اور یہ روٹی اپنے پاس کیوں رکھ رہے ہیں
05:53فرمایا میں آپ میں نے خود کھا لیا ہے
05:56میں فلان جگہ پر ایک بزرگ بیٹھے ہوئے
05:58ان کے پاس خوشک روٹی رکھی ہوئے
06:00یہ ان کے لیے لے جا رہا ہوں
06:03تو انہوں نے کہا جناب
06:04یہاں کھانے کی اجازت ہے
06:06لے جانے کی اجازت نہیں ہے
06:08آپ جن بزرگوں کی بات کر رہے ہیں
06:10وہ میرے والد حضرت علی ہیں
06:12اور میں ان کا بیٹا حضرت حسین ہوں
06:15حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے وہ شخص
06:18تاجب کی نگاہ سے پوچھتا ہے
06:20کہ کیا آپ حسین ہیں
06:21اور وہ آپ کے والد حضرت علی ہیں
06:24فرمایا جی ہاں
06:25وہ میرے والد حضرت علی ہیں
06:27فرمایا آپ کے والد نے
06:29مجھے تازہ کھانے کا ایڈریس بتایا
06:31میں یہاں آپ کے پاس آیا
06:33مجھے تازہ کھانا مل بھی گیا
06:35اور میں نے کھا بھی لیا
06:36لیکن یہ بات تو بتائیے
06:38کہ آپ کے والد اگرامی حضرت علی رضی اللہ عنہ
06:41اپنے پاس خوشک روٹی رکھ کر
06:43کیوں بیٹھے ہوئے ہیں وہ تازہ کھانا
06:45کیوں نہیں کھا رہے ہیں
06:46تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے
06:48جو جملے ارشاد فرمائے
06:49اپنے والد اگرامی
06:50حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق
06:53وہ سونے کے پانی سے
06:55آج ہر مسجد کے محراب میں
06:57لکھنے کے قابل ہیں
06:58حضرت حسین فرمانے لگے
06:59ہمارے والد نے اختیاری فقر اختیار کیا ہوا ہے
07:03میرے والد نے کئی مرتبہ
07:05میں نے نانا حضرت محمد مصطفیٰ
07:07صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشک روٹی کا ٹکڑا
07:10کھاتے ہوئے
07:11چباتے ہوئے دیکھا
07:12تو میرے والد اس لیے چاہتے ہیں
07:15کہ وہ اختیاری فقر اختیار کریں
07:17اس لیے وہ تازہ کھانا کبھی کبھی کھاتے ہیں
07:20ہر وقت نہیں کھاتے
07:21صحابہ اکرام پر زہد و
07:23کناعت کی
07:26اس قدر
07:27ان پر یہ کیفیت تاری ہو چکی تھی
07:30کہ وہ کبھی بھی اس کیفیت سے
07:31باہر نہیں آئے
07:32ان کے دل میں ایک لمحے کے لیے بھی
07:36جو دنیا کی محبت تھی
07:38وہ ایک لمحہ بھی ان کے دل میں
07:40گھر نہیں کر سکی
07:41اس بات کا اندازہ
07:43آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں
07:44کہ حضور نبی کریم
07:46صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:48اعلان فرمایا
07:49ایک غزوہ کے موقع پر
07:51کہ کون
07:52کتنا مال لے کر
07:54آج اللہ کی رضا کے لیے
07:55میرے پاس پیش کرے گا
07:56حضرت عمر رضی اللہ تعالی
07:58اپنے گھر کا آدھا مال رکھا
07:59آدھا مال لے کر
08:00حضور کے پاس آئے
08:01اور حضور نے پوچھا
08:03عمر کتنا لائے
08:03فرمایا یا رسول اللہ
08:04آدھا گھر میں چھوڑ دیا
08:05آدھا آپ کے لیے لے آیا
08:07حضور بہت خوش ہوئے
08:08اس کے بعد تھوڑی دیر بعد
08:10ایک گھٹڑی سر پہ اٹھائے
08:11تاجدار صداقت جناب خلیفہ
08:14بلافصل سیدنا
08:15صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ
08:17تشریف لائے
08:17سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ
08:20سے حضور نے پوچھا
08:20ابو بکر گھر میں کیا چھوڑا ہے
08:23فرمایا یا رسول اللہ
08:24گھر میں
08:25اللہ اور اس کے رسول کا نام چھوڑا ہے
08:27کوئی چیز نہیں چھوڑی
08:29سب کچھ لا کر
08:30آپ کے قدموں میں ڈال دیا ہے
08:32تھوڑی دیر بعد
08:33سیدنا صدیق اکبر
08:34واپس اپنے گھر جاتے ہیں
08:35اور گھر جا کر
08:36دیوار پہ ہاتھ پھیرتے ہیں
08:38آپ کی بیٹی حضرت اسمہ
08:40بنتی ابی بکر پوچھتی ہیں
08:41آپ باجان
08:42دیوار پہ ہاتھ کیوں پھیر رہے ہیں
08:44فرمایا میں نے ایک سوئی رکھی تھی یہاں پر
08:47میں دیکھنا چاہتا ہوں
08:48کہ کہیں ایسا نہ ہو
08:49کہ وہ سوئی میرے گھر میں رہ جائے
08:51اور کل قیامت کے دن
08:53اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھ نہ لے
08:54کہ ابو بکر سارا مال
08:56تو تم نے میرے رستے میں
08:57خرش کر دیا تھا
08:59مگر وہ سوئی تم نے باقی کیوں رکھی تھی
09:01یہی وجہ تھی
09:03یہ زہد و کنات
09:04اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا
09:06کہ اتنا صدیق اکبر نے
09:08اپنے کپڑے بھی اتار کر
09:09حضور کے پاس پیش کیے
09:11اور پھر جو کپڑے خود پہنے
09:13وہ ٹارٹ کا لباس تھا
09:15وہ موٹا ٹارٹ کا لباس
09:17جب پہنا
09:18تو اس میں بٹن تو تھے نہیں
09:19اب بٹن کی جگہ آپ نے
09:21وہ کی کر کے کانٹے لگائے
09:23کانٹے لگا کر
09:24جب آپ حضور کے دربار میں پہنچے
09:26تو اسمان سے جبرائیل علیہ السلام
09:28تشریف لائے
09:29سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھ کر
09:32حضور نے پوچھا
09:34جبرائیل یہ کون سا
09:35آپ نے لباس اختیار فرمایا ہے
09:38فرمایا ہے
09:39یا رسول اللہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں
09:40آج سیدنا صدیق اکبر نے
09:43ٹارٹ کا لباس پہنے
09:44اور بٹن کی جگہ کی کر کے
09:46کانٹے لگائے ہیں
09:47صدیق اکبر کی یہ ادا
09:49اللہ تعالیٰ کو آسمان پہ
09:50اتنی پسند آئی ہے
09:53کہ پورے آسمان پر جتنے فرشتے ہیں
09:56اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے
09:57کہ زمین پر
09:58میرے مصطفیٰ کے صدیق نے
10:00ٹارٹ کا لباس پہنے
10:02اور آسمان پر تم سارے کے سارے
10:05ٹارٹ کا لباس پہنو
10:06تو یہ وہ لوگ تھے
10:08جنہوں نے
10:09زہد و کنات کو
10:10اتنا اختیار کیا
10:11کہ ان کے دل میں
10:13ایک لمحہ کے لیے بھی
10:14دنیا کی کوئی محبت
10:15اپنی جگہ نہیں بنا سکی
10:17یہی وجہ ہے
10:18کہ جب دنیا کا میار
10:20نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:23سے پوچھا گیا
10:23اور عرص کیا گیا ہے
10:25یا رسول اللہ دنیا کی زندگی
10:26کیسے بسر کریں
10:28تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
10:29نے دو جملوں میں
10:30اس دنیا کی حقیقت بیان فرمائی
10:32فرمایا
10:34کن فی الدنیا کا انہ کا غریب
10:37او آبر السبیل
10:39دنیا میں ایسے رہو
10:40جیسے کوئی مسافر یا رہ گزر رہتا ہے
10:43ایک مسافر جب پیدل بھی چلے گا
10:45راستے پہ بھی چلے گا
10:46دھوپ بھی ہوگی
10:48وہ اپنے کندوں پر
10:49کتنے ایک وزن اٹھا کر چل سکتا ہے
10:51ایک من سے زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتا
10:53بیس پچیس کلو
10:54اور جب سفر بھی اتنا لمبا ہو
10:56کہ قیامت تک ایک مسلمان نے سفر کرنا ہو
10:59تو وہ اپنے اوپر کتنے بوجھ اٹھائے گا
11:01جتنا بوجھ کم ہوگا
11:03اتنی بندہ آگے سفر کر سکے گا
11:05ہمارے صوفیاء اکرام نے لکھا ہے
11:07کہ دنیا کی محبت پانی کی ہے
11:10اور دل کی
11:10دل کی مثال کشتی کی ہے
11:12کشتی کے جب تک پانی نیچے رہتا ہے
11:15یہ دنیا جب کشتی کے نیچے رہتی ہے
11:18تو کشتی اپنا سفر کرتی رہتی ہے
11:20آتی رہتی ہے جاتی رہتی ہے
11:21مسافروں کے کام آتی ہے
11:23کارگو کے کام آتی ہے
11:25مگر جب یہی پانی اس کشتی کے اندر آ جاتا ہے
11:28تو اس کشتی کو بھی ڈبو دیتا ہے
11:30بلکل اسی طرح ہے
11:32کہ دنیا جب دل کے ارد گرد ہو
11:34تو پھر یہ مسلمان اس سے کام لیتا رہتا ہے
11:36مگر جب یہ دنیا
11:38دل کے مسلمان کے دل کے اندر آ جائے
11:40تو پھر یہ مسلمان کے دل کو
11:42اللہ اور اس کے رسول سے اتنا غافل کرتی ہے
11:45کہ اللہ اور اس کے رسول کے تعلق کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے
11:49اسے کہتے ہیں زہد و کنات
11:51نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زہد و کنات کیسا تھا
11:54آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مرتبہ نرم بستر لایا گیا
11:58تو آپ نے اسے پسند نہیں فرمایا
12:00آپ رات کو جس طرح بستر پر سوتے
12:03ام الممنین امہ جان حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں
12:08کہ صبح کو جب حضور اس بستر سے اٹھتے
12:11حالانکہ حضور بہت کم لیٹتے تھوڑا لیٹتے زیادہ ہماری طرح جو سونے کا بڑا لمبا چوڑا ہمارا وقت ہے
12:17اس طرح حضور لمبا چوڑا حضور نہیں سوتے تھے
12:20بہت تھوڑی دیر کے لیے حضور آرام کرنے کے لیے لیٹتے
12:23لیکن اس میں بھی حضرت عائشہ فرماتی ہیں
12:26کہ خجور کے چھال کے جو پتے ہوتے ان پتوں کے نشانات
12:30نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نظر آتے
12:34حضرت عائشہ فرماتے ہیں
12:36ایک مرتبہ میں نے حضور کا بستر دیکھا
12:39تو مجھے رونا آ گیا
12:40حضرت عائشہ باہر آئے آنکھوں میں آنسویں
12:43کسی نے پوچھا میر المنین حضرت عائشہ سے
12:45کہ آپ رو کیوں رہے ہیں
12:47فرمجئے آج مجھے حضور کا بستر یاد آیا
12:50کہا کیسا بستر تھا
12:52کہا وہ ایسا بستر تھا
12:53کہ کوئی آرام پسند بندہ
12:56اس بستر پر زیادہ دیر لیٹ نہیں سکتا تھا
13:00حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زہد و قنات کیا تھا
13:04ام المنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی
13:09اس حدیث مبارکہ سے آپ اندازہ کر سکیں گے
13:13حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں
13:17کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں
13:20چالیس راتیں ایسی گزاری ہیں
13:23کہ چالیس دن تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں
13:28a month to fill it neither
13:30you can eat it
13:32you can eat it
13:33you can eat it
13:34and if you have a cup of soda
13:39you can eat it
13:40so you can go anywhere
13:41so that you can do it
13:42that in the experienced
13:44after the evening
13:45the evening has çıktı
13:51is not
13:52this the entire community
13:54is what about
13:55حضور نے فرمایا میرا تعلق انبیاء سے ہے اور میں انبیاء کا نبی ہوں
14:00آپ خاتم النبیین تھے صلی اللہ علیہ وسلم
14:04اور فرمایا نبیوں کا ورثہ درم اور دینار نہیں ہوا کرتے
14:08اور اگر کسی نبی کے ورثے میں کوئی درم دینار چھوڑا بھی جائے
14:13تو وہ صدقہ کر دیا جاتا ہے
14:15یہی وجہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
14:19جس رات دنیا سے جا رہے ہیں پردہ فرما رہے ہیں
14:23اس رات بھی آپ کی گھر میں دیوہ جلانے کے لیے تیل تک موجود نہیں تھا
14:30آج ذرا آپ اپنا احتساب کیجئے میں اپنا احتساب کروں
14:33سوائے دنیا کی محبت کے ہمارے دل میں ہے کیا
14:38آج آپ اپنا احتساب کریں میں اپنا احتساب کروں
14:41ہماری زندگی میں جو قنات ہے وہ کس درجہ ہے
14:44زہد کہتے ہیں دل کے اندر دنیا کی محبت کا نہ ہوتا نہ ہونا
14:48ہمارے دل میں دنیا ہی دنیا ہے
14:51کنات اسے کہتے ہیں کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے
14:54آپ اس پر راضی رہیں
14:56ہم اپنے سے بڑوں کو دیکھتے ہیں
14:58فلان کے پاس جہاز ہیں
14:59فلان کے پاس دس ایٹی ایم ہیں
15:01اس کا بینک بیلنس اتنا ہے
15:02اس پر ہم حرس کی دنیا میں آگئے
15:05تمہ کی دنیا میں آگئے
15:06یعنی جتنا ہے اس پر راضی نہیں ہے
15:08مزید کے چکر میں آگئے
15:10یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا
15:11حاسد بنتی چلی جا رہی ہے
15:13اللہ کی تقدیر پہ اور تقسیم پہ
15:16راضی کوئی نہیں ہے
15:17لہٰذا آپ کو چاہیے
15:19مجھے چاہیے
15:20کہ ہم اپنا احتساب کریں
15:22ہم مراقبہ کریں
15:23اور دیکھیں
15:24کہ کیا ہماری زندگی میں زہد
15:26حضور کی طرز پر ہے
15:28نہیں ہے تو فکر کیجئے
15:29ہماری زندگی میں کنات
15:31حضور کی طرز پر ہے
15:32نہیں ہے تو فکر کیجئے
15:34اپنا بہت خیال لکھیں
15:35السلام علیکم ورحمت اللہ
15:36سلی علی نبینا
15:40سلی علی محمد
Comments

Recommended