Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Hazrat Musa Ali Salam aur firaun Rula dene wala Waqia peer azmal raza kadri 😭😭😭😭😭😭
Transcript
00:00فیرون کو اس نے وہ خواب دیکھ لیا تھا کہ ایک ستارہ اٹھے گا اور پھر وہ گرے گا تو
00:06میری ساری سلطنت کو تباہ کر دے گا
00:08نجومیوں سے اس نے پوچھ لیا اس نے کہا کہ ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیری سلطنت کو تباہ کرے
00:14گا
00:14اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ توبہ کرتا لیکن اس نے کیا کیا کہ اس نے بچوں کو قتل
00:21کرانا شروع کیا
00:23یوزب بیحونا بناکم
00:25زیبہ کرا دیتا تھا تمہارے بیٹوں کو اور بچیوں کو وہ زندہ رکھتا تھا
00:29اللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرت دیکھئے رابو بڑا ہی کریم ہے
00:34آپ یقین کریں مولا کے دینے کے انوکھ ہی انداز ہیں
00:37یعنی حضرت موسیٰ کو یہ تور کے پاس آگ لینے جائیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ پہلی وحی فرما کے
00:43نبی بنا لے
00:45بھائی حضرت یوسف کو کمے میں ڈالیں تو رابو وہاں سے نکال کے مصر کا حکمران بنا دے
00:50وہ بڑا ہی بنیاز ہیں
00:52مولا کے دینے کے انداز بڑے انوکھیں
00:54وہ بڑے انوکھیں انداز میں نوازتا ہے
00:59تو حضرت موسیٰ جب پیدا ہوئے تو ان کی والدہ نے پتہ کیا کیا
01:03ان کو ایک صندوق میں بند کر کے دریاء میں بہا دیا
01:07اب دریاء میں بہتے جا رہے ہیں تو مانت ہی تو پریشان بھی ہو گئی
01:11ان کی ہمشیرہ کو کہنے لگی ذرا دیان رکھنا کدھر جاتے ہیں
01:15حضرت موسیٰ علیہ السلام دریاء میں بہتے بہتے نا
01:18فیرون نے نا دریاء کے کنارے مکان بنایا ہوا تھا
01:22آپ کو بتا ہے بادشاہوں کا ذوق ہوتا ہے
01:24آج کال ہمارے جو حکمران ہیں انہوں نے اس کا نام فام آوز رکھا ہوا ہے
01:28میرا فام آوز ہے
01:30اور پرانے زمانے میں لوگ ڈیرہ کہتے تھے
01:33تو اس نے بھی اس طرح کا فام آوز بنایا ہوا تھا
01:36وہاں پہ حضرت موسیٰ علیہ السلام
01:40تیرتے ہوئے تابوت کے اندر سندوق کے اندر جا رہے ہیں
01:44فیرون اور ان کی بیوی حضرت یاسیہ بے اولاد تھی
01:47بڑی تڑپ تھی بیٹے کی وہ بھی وہاں کڑی تھی
01:50سندوق تیرتا ہوا آیا تو فیرون نے کہا
01:53کہ جب وہ پکڑ کے لاؤ دیکھو کیا ہے
01:55جب وہ لے کے آئے نا
01:57تو آپ کی ہمشیرہ جو نگرانی کر رہی تھی
01:59پریشان ہوگی کہ یہ تو اس کے عادلہ گئے
02:03یہ تو اب مارنا لے گا
02:04لیکن جب خوبصورت اور چمکتا ہوا بچہ دیکھا
02:08تو بیوی یاسیہ کہنے لگی
02:10یہ بنی اسرائیل کا ہے ہی نہیں ہے
02:12تو پتہ نہیں کہاں سے بیٹا ہوا یہاں آگیا ہے
02:14تو ایسے ہی چھوڑ یہ پتہ نہیں کہاں سے
02:17رکھ نہ لیں
02:20رکھ نہ لیں
02:22تو حضرت موسیٰ علیہ السلام
02:25وہ کہنے لگا نہیں انہی کے ہیں
02:27موسیٰ علیہ السلام اسی کے ہیں
02:29تو آس یہ کہنے لگی
02:30تیرے تو سر پہ نہ بس بہتی سوار ہو گیا
02:33ہر وقت وہی لوگ تجھے یاد رہتے ہیں
02:35یہ پتہ نہیں کہاں سے بہ کیا ہے
02:37اب رکھ لیا مان گیا
02:39فیرون آپ
02:40فیرون کے گھر میں
02:44جو اس لیے بچے مروہ رہا تھا
02:46کہ میری سلطنت حضرت موسیٰ پیدا نہ ہو جائیں
02:48تو اسی کے گھر میں پرورج پانے لگے
02:50اسی کے گھر میں
02:51اب عورتیں مگائیں گئیں دودھ پلانے کے لیے
02:54تو حضرت موسیٰ علیہ السلام
02:55کسی بی بی کا دودھ نہیں پیتے
02:57تو آپ کی ہمشیرہ نہ وہیں دائے بائیں گھومتے رہتی
02:59تو کہنے لگی جناب آسیہ سے
03:01کہ میں ایک بی بی کو جانتی ہوں
03:03بڑی ساو ستری ہے
03:05مجھے امید ہے یہ بچہ
03:07اس کا دودھ پیے گا
03:09تو فیرون کہنے لگا دھوڑ کے لاؤ
03:12تو وہ اپنی والدہ
03:13کو لے کے آئیں تو حضرت موسیٰ نے فوراں
03:15دودھ پینا شروع کر دیا
03:17فیرون کو پھر تھوڑا شک ہوا
03:20ایک روایت
03:21یوں بھی لکھی ہے بعض لوگوں نے کہ
03:22فیرون ایک دن اٹھایا ہوا تھا حضرت موسیٰ کی
03:24ابھی تھوڑی سی عمر تھی تو آپ نے اس کی داڑی پکڑ کے
03:27تو ایک گھونسہ دے مارا جلالی تو شروع سے
03:29ہے نا تو کہنے لگا
03:30آسیہ تو مان نہ مان یہ بچہ وہی ہے
03:34تو حضرت بی بی آسیہ
03:35کہنے لگیں کہ
03:36تجھے غلط فہمی ہے یہ وہ نہیں ہے
03:38اس نے کہا دیکھو نا یہ
03:40تو اٹھاتی ہے تو پیار کرتا ہے
03:42اور میرے جب قریب آتا ہے تو
03:44اس کے لب و لہجے میں میں تلخی محسوس کرتا ہوں
03:47اس نے کہا بچوں کو کیا پتا
03:49خیر ایک طرف
03:51اس نے کھانے پینے کی چیزیں رکھتی
03:52ایک طرف انگارے رکھ دیئے وہ بھی حضرت
03:54آسیہ کہتی ہیں کہ تجھے سمجھ آئے بچے بچے ہوتے
03:57حضرت موسیٰ بچے تو
03:58تھے پر تھے تو اللہ کے نبی نا
04:01اللہ کے نبی تھے
04:02جب اس نے کہا نا یہ بچے ہیں تو حضرت
04:04موسیٰ علیہ السلام بجائے
04:07انگاروں کی طرف
04:08جانے کے نبی تھے وہ سیدھے کھانے پینے
04:10والی چیزوں کی طرف بڑھنے لگے
04:12پھر انہوں نے لگا آپ بتا
04:13اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کو بیجا
04:16انہیں کہا ادھر نہیں جانا آپ ادھر جائیے
04:18تو آپ آگ کے طرف گئے
04:20اور ایک کوئلہ اٹھا کے زبان پر رکھ لیا
04:22تو آسیہ کہنے لگی سمجھ آئی
04:24بچے کو کیا پتا کدھر جانا ہے کدھر نہیں جانا
04:26اگر وہ اتنا ہی خیال ہوتا
04:28وہ ہی بچہ ہوتا تو آگ
04:30اور بعد مفسرین نے لکھا یہ جو حضرت
04:32موسیٰ دعا مانگتے تھے
04:34رب شرح لی صدری و یا سیر لی امری
04:37یہ وہ آگ کا انگارہ
04:38جب کوئلہ موں میں رکھا تھا نا
04:40تو اس کی وجہ سے زبان میں کچھ لکنت آگئی
04:42تو آپ دعا کرتے تھے
04:44کہ یا اللہ میری زبان کی وہ بند گرہ کھول دے
04:47تاکہ میں کھل کے
04:48فیرون کے سامنے بات کر سکوں
04:50وہیں حضرت موسیٰ پلنے لگے
04:53وہیں پلے
04:54وہیں جوان ہوئے
04:55وہیں اللہ نے ساری دولتیں دی
04:57بہن بھی ملی
04:58ماں بھی ملی
05:00اور سارے عزیزوں کا پیار بھی ملا
05:02اسی گھر کے اندر اللہ نے پرورش کر کے
05:05فیرون کے ظلم سے بنی اسرائیل کو نجات عطا فرمائے
05:09موسیٰ پھر فیرون کے گھر میں پلنے لگے
05:12اور جب جوان ہو گئے
05:15تو فیرون کے ہاں جو ظلم ہوتا تھا
05:17حضرت موسیٰ اس پر بول پڑتے تھے
05:20جلال فرماتے تھے
05:21تو فیرون پھر نراز نراز رہنے لگا
05:24یہاں تک کہ اس نے آپ کو نکال دیا
05:26آپ تشریف لے گئے وہاں سے
05:30تو
05:31حضرت موسیٰ ایک دن شام کے وقت
05:34دوبارہ آئے بستی میں
05:35لوگ سوئے ہوئے تھے
05:37تو دو آدمی
05:39ایک بنی اسرائیل میں سے
05:40اور ایک فیرون کی اپنی قوم میں سے
05:44وہ دو ناپد میں جھگڑ رہے تھے
05:46لیکن وہ جو
05:47حضرت موسیٰ کی بنی اسرائیل کی قوم کا شخص تھا
05:51اس پر وہ قبطی
05:53وہ جو فیرون کے قریبی لوگوں میں سے تھا
05:55وہ ظلم کر رہا تھا
05:56اور بود اٹھانے کی بات کر رہا تھا
05:59اب اس نے حضرت موسیٰ کو پکارا
06:01کہ نہیں دیکھیں میرے ساتھ کس طرح کی بات کر رہا ہے
06:03تو حضرت موسیٰ کا ارادہ بھی نہیں تھا
06:06آپ نے بس اس کو سمجھایا
06:07پر کچھ لوگوں کو سمجھ
06:09تو حضرت موسیٰ نے پھر ایک مکہ مارا
06:12ایک گھنسہ مارا صرف ایک ہی
06:15ایک ہی
06:16یہ کئی تگڑے اور دلیر اس طرح کے بھی ہوتے ہیں
06:19کہ گھنسہ ایک بھی برداشت نہیں کرتے
06:21وہ ایک مارا آدمی
06:22دھڑام سے زمین پہ گرا اور ماری گیا
06:25حضرت موسیٰ کا ارادہ نہیں تھا
06:27ایک وہ مر گیا
06:30حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
06:32اس بات پر اپنے رب سے استقوار بھی فرمائی
06:34قرآن کہتا ہے کہ انہوں نے معافی چاہی
06:36کہ اللہ میرا ارادہ نہیں تھا
06:38بہرحال
06:39اگلے دن نا
06:42حضرت موسیٰ دوبارہ آئے
06:44وہ سنا کرتے تھا نام
06:47کہ بے وکوف
06:48دوست سے
06:50اکل مند دشمن
06:52بہتر ہوتا ہے
06:53وہ کم از کم
06:54دشمنی تو اکل مندی سے کرتا ہے
06:57لیکن جو بے وکوف دوست ہو
06:58بے وکوف
06:59حضرت موسیٰ دوبارہ آئے
07:00تو وہ بنی اسرائیلی اگلے دن
07:02کسی اور سے جھگڑا کر رہا تھا
07:05پھر اس نے مدد کے لئے پکارا
07:07تو حضرت موسیٰ کہانے لگے
07:08مجھے لگتا یہ ہے
07:09کہ تیری عادت ہے
07:10تو خود بڑا جھگڑا لو ہے
07:11تو انہیں روز نیا جھگڑا شروع کیا ہوتا ہے
07:14حضرت موسیٰ دب اس کی طرف
07:15بڑے نہ ڈانٹنے کے لئے
07:17تو اس نے شور کرنا شروع کر دیا
07:18کہنے لگتا ہے
07:19جس طرح آپ نے اسے کل قتل کیا تھا
07:21مجھے بھی قتل ہی کریں گے
07:24یہ انسانوں کا مزاج ہے
07:26کہ آپ جب تک کسی کے
07:28طبیعت کے مطابق چلیں گے
07:29وہ راضی رہتا ہے
07:31اور ذرا
07:32آپ اس کی طبیعت سے اٹھتے ہیں
07:34تو وہ شور کرتا ہے
07:34اس نے کہا جی آپ مجھے بھی لگتا ہے
07:36ماریں گے
07:37حضرت موسیٰ قلیم اللہ
07:39اللہ نبی ناو علیہ السلام کے بارے میں
07:42جب اس نے شور کیا
07:43تو بات پھر فیرون کے دربار تک گئی
07:45وہ تو پہلے ہی بہانہ تلاش کر رہا تھا
07:47اس نے کہا
07:48ڈھونڈو پکڑو اور ماز اللہ شہید کریں گے
07:50کسی نے آکے خبر دی
07:52کہ آپ جہاں سے ہجرت کر جائیں
07:54اس لیے کہ آپ کے لئے
07:55یہاں حالات درست
07:57اور بھائی
07:58یہ چھوڑ دیا کریں بات
08:00کہ فلا آدمی کے حق میں فلان لگا
08:02حالات کیسے خراب ہوئے
08:03تو نبی کریم علیہ السلام مکہ چھوڑ کے کیوں آئے
08:06حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
08:08ہجرت کیوں فرمائی
08:09یہ ایک ایسی عجیب بحث ہے
08:11جس کو لوگ بلا وجہ چھوڑ دیتے
08:13بلا وجہ چھیڑ دیتے
08:15اور بالخصوص
08:16ایک خاتون نے ایک دفعہ مجھے پیغام دیا
08:19تو میں
08:20بڑی اس کی بات سن کے
08:22مجھے عجیب لگا
08:23وہ کہنے لگی
08:24کہ دوسری جگہ میری شادی ہوئی ہے
08:26مجھے طلاق ہو گئی تھی
08:28تو مجھے ایک تانہ رو سننے کو ملتا ہے
08:30تو اتنی اچھی ہوتی
08:31تو وہاں نہ رہ لیتی
08:34تو بھئی یہ کوتانے والی بات ہے
08:36کوئی ضروری ہے
08:37کہ بیوی غلط ہوتی ہے
08:38تو طلاق ہوتی ہے
08:39اللہ کے معبوب علیہ السلام کے دو صاحب زادیوں کو
08:43ابو لہب کے دو بیٹوں نے طلاق بھیج دی تھی
08:45کس کی غلطی تھی
08:47تو آپ کیا کہہ سکتے ہیں
08:49جہاں کیوں طلاق
08:49تو اتنی جلدی بات تھوڑی کر دیں گے آپ
08:51تھوڑی احتیاط فرمائیں بولنے
08:53تو حضرت موسیٰ علیہ السلام وہاں سے نکلے
08:56اور آپ مدین کی طرف چلے گئے
08:59مدین وہ علاقہ تھا
09:00جہاں فیرون کی حکومت کوئی نہیں تھی
09:02حضرت موسیٰ جیسے ہی وہاں پہنچے
09:05تو ان کے اندر ایک جذبہ تھا
09:07ظلم ہوتا نہیں دیکھ سکتے تھے
09:09جب وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا
09:11لوگ اپنے جانوروں کو گھاڑ پر پانی پلا رہے ہیں
09:14اور دو خمتین ہیں وہ بلکل پیچھے کڑی ہیں
09:17تو حضرت موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کے
09:18کہنے لگے تم کیوں نہیں پانی پلاتی
09:20تو وہ کہنے لگے ہمارا بھائی کو
09:22انہی باپ ہمارا بوڑا ہے
09:25اللہ اکبر
09:26مجبوری یہ ہے
09:28ہم ہیں بھی پردہ دار گرانے کی
09:31مجبوری ہماری یہ ہے
09:32کہ جب تک یہ سارے لوگ پانی پلا نہیں لیں گے
09:35اتنی دیر تک ہماری باری نہیں آئے گی
09:38تو حضرت موسیٰ علیہ السلام
09:40فرمانے لگے اچھا یہ بات ہے
09:42تو جانور مجھے دو
09:45وہ ہو یہ رہا تھا
09:46کہ چونکہ مرد پانی پلا رہے تھے
09:48اور جتنے بھی مرد آتا جاتے تھے
09:50وہ گستے جاتے تھے
09:53اور عورتیں مچاری کھڑی تھیں
09:54حضرت موسیٰ جات سے آگے بڑھے
09:56پیچھے اٹھو
09:57ان دو خواتین پاک باز عورتوں کے جانوروں
10:00کو پانی پلایا
10:02اور پھر آپ دوبارہ وہیں بیٹھ گئے
10:04وہ بیبیاں جلدی جلدی گھر گئیں
10:06جا کے اپنے والی سے کہنے لگی
10:07عبدی کمال ہو گیا
10:10اس بستی میں ایک ایسا آدمی ملا ہے
10:12جو عورتوں کی طرف دیکھتا ہے
10:14تو نیکی کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے
10:17جو مجبور اور بے قص کے لیے
10:19اچھے جذبات رکھتا ہے
10:20فرمایا جلدی لاؤ
10:21کچھ مفسرین اور طرف بھی گئے ہیں
10:24لیکن جمہور نے لکھا ہے
10:25کہ وہ حضرت شویب علیہ السلام تھے
10:29حضرت شویب نے گھر بلایا
10:30اپنی ایک بیٹی کو بھیجا فرمایا
10:36میرے ساتھ عجرت تیہ کر لیں
10:37آٹھ سال یا دس سال آپ میری بکریوں کو چرائیں
10:41میرے گھر میں رہیں
10:42اور پھر فورا نہیں فرمانے لگے
10:44اگر آپ ہمارے گھر میں رہیں
10:45کہ دیکھ بال کھریں گے
10:47تو میں اپنی ایک بیٹی کا نکاح بھی آپ کے ساتھ کر دوں
10:50تو آٹھ سے دس سال
10:53حضرت موسیٰ نے وہاں قیام فرمایا
10:56اور پھر جب
10:58آپ کا نکاح ہو گیا
11:00تو آپ اپنی بیوی کو لے کے
11:01مصر کی جانب جا رہے تھے
11:03تو رستے میں نہ ٹھنڈ زیادہ ہو گئی
11:05تو اپنی زوجہ سے کہنے لگے
11:06وہاں آگ جال رہی ہے
11:07میں تیرے لیے آگ لے کے آتا ہوں
11:10تاکہ تو تاپ سکے
11:12گرمی حاصل کر سکے
11:13وہاں گئے تو درخت سے آواز آئی
11:15موسیٰ میں تیرا راب ہوں
11:18درخت سے آواز آئی
11:19موسیٰ میں تیرا راب ہوں
11:22اور حضرت موسیٰ قلیم اللہ
11:23تو وہاں وہی آنی شروع ہوئی
11:26وہاں
11:26وہی اللہ تعالی نے انہیں وہ
11:27اسحاہ آتا فرمایا
11:29جو پھر بعد میں
11:30ازدہہ بنتا تھا
11:31رب کریم نے
11:33وہی حضرت موسیٰ قلیم
11:34کو وہی
11:35یدے بیزہ آتا فرمایا
11:36اپنا ہاتھ گرے بان میں
11:38ڈال کے نکالتے تھے
11:40تو چاند اور سورٹ
11:41کی طرح روشنی دیا کرتا
11:42یدے بیزہ لیے
11:44بیٹھے ہیں اپنی
11:45میں کبھی کبھی
11:46کہا کرتا ہوں
11:47کہ مولا کے دینے
11:48کے انداد بڑے انوک ہیں
11:50بھائی یوسف
11:56دیتا ہے
11:57بظاہر حضرت موسیٰ کو
11:58دیس سے نکالتا ہے
11:59تو اللہ تبارک و تعالی
12:01انہیں نبوت کی دولت
12:02عطا کر دیتا ہے
12:03تو یہ اللہ تبارک و تعالی
12:05کی تقسیم ہے نا جی
12:06اور مولا کے دینے کی انداز
12:09انوکھ ہیں
12:10نرالے ہیں
12:11بے نیاز ہے نا
12:12جب دیتا ہے
12:13تو پھر کمال ہی کرتا ہے
12:15تو پھر حضرت موسیٰ
12:16وہاں سے واپس آئے
12:17اور آ کر
12:18کہ آپ
12:18ڈھیل دو
12:19اور جادوگروں کو جمع کرو
12:23جادوگر آئے
12:23انہوں نے فیرون سے کہا
12:25کہ ہم حضرت موسیٰ کے مقابلے میں
12:27جادو تو دکھائیں گے
12:29ماذا اللہ
12:29لیکن اگر ہم غالب آگئے
12:31تو پھر ہمارا انعام کیا ہوگا
12:33سودہ پہلے تیہ کرنا ہے
12:35کیا انعام ملے گا
12:37اس نے کہا
12:38کہ اگر تم غالب آگئے
12:39تو میں تمہیں اپنا قریبی بنا لوں گا
12:42بادشاہوں کا قریبی ہونا
12:44بھی تو بڑی بات ہے نا
12:45لوگ بڑے پاپڑ بھیلتے ہیں
12:46قریبی ہونے کے لئے
12:47اور یہ جو قریبی ہوتے ہیں نا
12:49بالخصوص جو بادشاہوں کے قریبی ہوتے ہیں
12:51بادشاہوں کی تباہی کا سبب بھی
12:53یہی لوگی بنتے ہیں
12:55یہ ان کو روز خبر دیتے ہیں
12:57کہ سب اچھا ہے
12:57سب اچھا ہے
12:59اور دنیا کے زیادہ تر حکمران
13:01انہی لوگوں کی وجہ سے تباہ ہوتے ہیں
13:03چونکہ ان کا خود عوام سے رابطہ نہیں رہتا
13:05اگر وہ خود عوام کے ساتھ
13:07ڈائریکٹ رابطہ کریں
13:09تو شاید انہیں اچھی اور صاف ستری چیزیں سمجھنے کو مل جائیں
13:13خیر
13:16جادوگروں نے جب کہا
13:17ہمیں کیا دوگے تو اس نے کہا
13:18تمہیں قریبی بنا لوں گا
13:19جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا
13:22کہ آپ پہل کریں گے
13:24یا ہم پہل کریں
13:26تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا
13:28تم پہل کرو
13:29جب جادوگروں نے اپنی رسیاں زمین پہ ڈالیں
13:32تو لوگوں کی نگاہوں کو سہر زدہ کر دیا
13:34جادو کر دیا
13:35اور انہیں ڈروا دیا
13:38انہوں نے
13:39کہا یہ تو بڑا جادو لے آئے
13:41اللہ تعالی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا
13:44کہ آپ بھی اپنا آسا زمین پہ ڈالیں
13:46ان کی رسیاں سام بن گئی تھی
13:48دراصل وہ سام بنی نہیں تھی
13:50لوگوں کی آنکھوں پر جادو ہو گیا تھا
13:52انہیں سامپ نظر آرات
13:53فرمایا آپ بھی اپنا آسا زمین پہ ڈالیں
13:56وہ آسا سام بنا
13:58اور جادوگروں کی ساری چیزوں کو نگلی گیا
14:02ان کی بہت ساری رسیاں سام بنی تھی
14:05ان کا ایک ہی
14:06آسا سام بنا اور سب کو
14:08نگل گیا
14:10اس طرح کے موجدے کی حکانیت اور
14:13جادوگروں کا بوتلان ثابت ہوا
14:15اور فرونی رسوا ہو گئے
14:16جادوگر سجدے میں گر گئے
14:19اور اللہ پر ایمان لے آئے
14:20فرون نے انہیں دھمکی دی
14:22کہ تم میری اجازت کے بغیر ایمان لے آئے ہو
14:24میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سندھ سے کٹ دوں گا
14:27یعنی الٹا ہاتھ کٹ دوں گا
14:29سیدھا پیر کٹ دوں گا
14:31میری بغیر ایجازت ایمان لے آئے ہو
14:34اور تمہیں سولی پہ بھی چڑھوا دوں گا
14:36انہوں نے کہا
14:38کہ ایمان لانے کی پاداش میں
14:39تم ہمیں صدا دینا چاہتے ہو
14:41پھر انہوں نے اللہ تعالی سے
14:43صبر اور استقامت کی دعا کی
14:45اس کے بعد فرون نے
14:47بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کی
14:49اور بیٹیوں کو زندہ چھوڑنے کا حکم دے دیا
14:52موسیٰ علیہ السلام نے قوم کو
14:53صبر کی تلقین کی اور کہا
14:55کہ نیک انجام اہلِ تقویٰ کے لیے
14:57یہاں ایک لطیف بات
14:59ہمارے صوفیاء نے بھی لکھی ہے
15:00صوفیاء کہتے ہیں کہ فرون نے کلمہ نہیں پڑا
15:03پر جادوگر کلمہ پڑ گئے
15:05وہ کس طرح کلمہ پڑ گئے
15:07تو کہنے لگے دراصل انہوں نے آتے ہی
15:09حضرت موسیٰ کا عدب بڑا کیا تھا
15:14جادوگر حضرت موسیٰ کے مقابلے میں
15:16آکے بھی ان سے کہتے ہیں
15:17کہ رسین آپ پہلے ڈالیں گے
15:19کہ ہم ڈالیں
15:21آپ اصحاب پہلے رکھیں گے
15:22کہ ہم رکھیں
15:23تو اتنا سا عدب کیا
15:25تو رب کریم نے فرمایا
15:26جو نبی کا عدب کرے
15:27وہ بھی ایمان نہیں رہ سکتا
15:30جو نبی کا عدب کرے
15:31وہ بھی ایمان نہیں رہ سکتا
15:34اور جو نبی کی بید بھی کرے
15:35وہ ایماندار نہیں رہ سکتا
15:37ختم ہو گئی بات
15:38یہاں ہمارے صوفیاء نے یہ بات لکھی ہے
15:41کہ چونکہ انہوں نے آتے ہی کہا تھا
15:42کہ آپ پہلے ڈالیں گے
15:44تو حضرت موسیٰ سے انہوں نے پوچھ لیا
15:47نبی کے پوچھے بغیر پہل نہیں کی
15:49تو اللہ نے انہیں ایمان کی دولت عطا کر
15:51اللہ تعالیٰ نے فیرونیوں پر
15:53کہت سالی کا عذاب نازل کیا
15:55فیرونیوں کا طریقہ یہ تھا
15:57کہ اچھائی کو اپنا کمال کردانتے تھے
15:59کہتے تھے یہ ہماری طرف سے
16:01اور برائی کو
16:02ماذا اللہ بد شگونی کے طور پر
16:04موسیٰ علیہ السلام کے طرف منصوب کرتے تھے
16:07کہتے تھے ماذا اللہ آپ کی وجہ سے
16:09یہ سارا کچھ ہو رہا ہے
16:10ہوتے نہ نہیں کہتے ہیں جب سے میں وہاں گیا ہوں
16:12تب سے ہمارے بزرگ
16:14ایک لطیفہ بھی سنایا کرتے تھے
16:16کہ کسی زیمیندار نے نماز پڑھنے شروع کی
16:18تو اس کے جانور مرنے شروع ہو گئے
16:20اب لوگ سمجھتے ہیں کہ ماذا اللہ شاید
16:22یہ کسی بزرگ کے سبب سے ایسا ہے
16:25حالانکہ یہ تو اللہ کی طرف سے
16:26آزمائش ہوتی ہے اس کی حکمتیں ہوتی ہیں
16:30اللہ تبارہ
16:31کا وطالہ نے ان پر عذاب کیا
16:32نازل کیا آیت نمبر
16:34ایک سو تیس اور ایک سو تین تالیس
16:36کبھی آپ سورہ عراف کی پڑھیں
16:38تو اللہ تعالی نے ان پر ٹڈیوں کا
16:41جمعوں کا
16:42مینڈکوں کا اور خون کا عذاب نازل کیا
16:46یہ کس قسم کا عذاب ہے جمعے پڑھ گئے
16:49ٹڈیاں آگئے
16:50یہ اللہ نے عذاب نازل کیا
16:52جب وہ عذاب میں مبتلا ہوئے
16:54تو موسیٰ علیہ السلام سے کہا
16:56کہ آپ اللہ سے دعا کریں
16:57کہ ہم سے یہ عذاب دل جائے
16:59تو پھر اللہ تعالی نے
17:02بنی اسرائیل کو سمندر پار کر کے
17:05ایسی قوم کے پاس پہنچا دیا
17:07جو بطوں کی پرستش کرتی تھی
17:09وہ تو بچ گئے لیکن
17:11فیرونی سارے دریاء کے اندر
17:13غرک ہو گئے
17:16حضرت مقصہ علیہ السلام سے کہنے لگے
17:18کہ ہمارے لئے بھی یہ خدا بنا دیجئے
17:21حضرت مقصہ علیہ السلام نے فرمایا
17:23بط پرستی کرنے والے جاہل ہیں
17:25یہ بط پرست قوم کے پاس جب گئے نا
17:27بنی اسرائیل والے بط پوچھتے ہوئے دیکھا
17:29دکانے لگے ہمارے لئے بھی سامنے بنا کے راک دو
17:32فرمایا یہ تو جاہل ہیں
17:33تمہیں دیکھ کے اثر قبول کر رہے ہیں
17:36اور اپنی جاہلیت کے باعث
17:38یہ ہلاک ہونے والے بھی ہیں
17:39پھر اللہ تعالی نے بنی اسرائیل پر
17:41اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا
17:43اور مقصہ علیہ السلام
17:45نے اپنی قوم میں حارون علیہ السلام
17:48کو اپنا جانشین فرمایا
17:49اور کوہ تور پر تشریف لے گئے
17:52اللہ نے فرمایا وہاں آ جائے میں آپ کو
17:54تورات عطا کرتا ہوں
17:55چالیس دن کا یہ عرصہ تھا
17:58موسیٰ علیہ السلام نے وہاں پہ جا کے
18:00وہ سارا واقعہ بھی انہی آیات میں ہے
18:02کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا تھا
18:04کہ رب بیارنی
18:05یا اللہ میں تجھے
18:07دیکھنا چاہتا ہوں تو فرمایا
18:09لن ترانی تو نہیں دیکھ سکتا
18:11وہ بھی یہاں اللہ نے ذکر فرمایا
18:13پھر اللہ تعالی نے اپنی ایک تجلی جب کوہ تور پہ جان لی
18:16تو حضرت موسیٰ علیہ السلام
18:18تعاونہ لاسکے اور بہوش ہو گئے
18:20اور پہاڑ بھی ریضہ ریضہ ہو گئے
18:22اس کا ذکر بھی اللہ نے نہیں آیات میں فرمایا
18:25آیت نمبر 144 سے 155 تک
18:28حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسالت عطا کرنے
18:32قلیم اللہ کا منصب عطا کرنے
18:34تورات عطا کرنے کا ذکر ہے
18:37آگے چل کے بتایا
18:39کہ جو متقبر لوگ ہیں نا
18:40وہ آیاتِ الہیہ سے مو پھیرتے
18:44اور جو لوگ اللہ کی آیات اور قیام
Comments

Recommended