00:00حضرت بلال عبشی
00:02حضرت بلال کے بارے میں
00:04بڑے واقعات ملتے ہیں
00:05ایک واقعہ
00:05بڑا منفرد لکھا ہے کتابوں میں
00:08حضرت بلال سے لوگوں نے کہا
00:10اب نبی پاک سے متاثر کیسے ہوئے تو
00:12جناب بلال کہنے لگے
00:14میں زیادہ لوگوں کو
00:16مکہ کے لوگوں کو جانتا ہی نہیں تھا
00:17کیونکہ میری ڈیوٹی تھی گھر میں کام کرنے کی
00:19اور
00:22مجھے سخت صدا ملتی تھی
00:24عمیہ بن خلف کی طرف سے
00:25بلکہ تحقیق یہ ہے کہ یہ عبداللہ بن جدان
00:27کے غلام تھے عمیہ بن خلف نے تو
00:29جب انہوں نے کلمہ پڑا تو پھر
00:31خریدا عبداللہ بن جدان کہنا لگا میں فارغ
00:33نہیں آپ لے لیں آپ اس کو صدایں دیں
00:35تو کہتے ہیں میں
00:38ان کے گھر میں ہوتا تھا
00:40تو میں تو زیادہ لوگوں کو
00:41جانتا ہی نہیں تھا کبھی مجھے موقع ہی نہیں ملا تھا
00:43بار نکلنے کا ہماری غلاموں
00:46کی کوئی زندگی نہیں ہوتی تھی
00:48آج تو
00:50ہر آج میں کہتا ہے نا
00:51میں کچھ آدھری سے لے کے کھاتا ہوں
00:54یہ جو تیرے اندر آسلہ ہے نا
00:55یہ میرے رسول نے تجھے عطا فرمایا
00:57یہ میرے نبی نے تجھے دیا ہے
00:59ورنہ تو غلام بکا کرتے
01:01یہ آسلہ تجھے رسالت امام نے دیا ہے
01:04حضرت بلال کہتے ہیں
01:06میں
01:07اکدہ مجھے بخار چڑ گیا بڑا تیز
01:09میں لوگوں کو جانتا نہیں تھا
01:11فرماتے ہیں مجھے تیز بخار چڑ گیا تو
01:13تھن بڑی سخت تھی
01:15میرے مالک نے مجھے
01:16کئی کلو جون دیئے پیسنے کو چکی پہ
01:21کہتے ہیں میں بیمار تھا
01:24تو میں نے کچھ دوائی لی جو اس وقت موجود ہوتی تھی
01:27تو میں نے ایک لحاف لیا
01:28دودھ پیا تو مجھے نیند آ گئی
01:30جب میں سویا تو میرا مالک آ گیا
01:34اس نے آ کر کہ مجھے سوئے ہوئے دیکھا
01:36تو کھینچ کر کمبل اتارا
01:38رضائی اتاری لحاف اتارا
01:39کہنے لگا اب تیری سزا یہ ہے
01:42کہ تو کھلے میدان میں بیٹھے گا
01:44وہاں چکی پیسے گا
01:46اور دوسری سزا یہ ہے
01:47کہ تجھے کمیز پہننے کی بھی اجازت نہیں
01:49حضرت بلال کہتے ہیں
01:51تیز بخار
01:52تھنڈ کا عالم
01:54اور جب میں چکی پیس رہا تھا
01:56تو رہ رہا تھا
01:57اور میں پوچھ رہا تھا
01:58خدایہ ہمارے نصیب
02:00اللہ ہمارے مقدر
02:02ہے جرم زعیفی کی سزا
02:04مرگے مفاجات
02:05سیجنہ بلال عبشی رضی اللہ تعالیٰ
02:07نے فرماتے ہیں
02:08میرے دروازے کے قریب سے
02:09رسول پاک گزرے
02:11اور مجھے ہائے ہائے کرتے دیکھا
02:13تو دس تک دی
02:15میں نے کہا کون ہے
02:16دروازہ کھلے آ جاؤ
02:17مابو بندر آئے
02:18تو پوچھنے لگے کیوں رو رہے ہو
02:19میں نے کہا جاؤ اپنا کام کرو
02:22یہاں دکھ سارے پوچھتے ہیں
02:24مدعوہ کوئی نہیں کرتا
02:25یہاں تقریریں سارے کرتے ہیں
02:27حقوقِ غریبہ پر بات سارے کرتے ہیں
02:30مدعوہ کوئی نہیں کرتا
02:31جاؤ اپنا کام کرو
02:33کہتے ہیں میں نے سخت جملے کہے
02:39کہہ رہا تھا بس
02:41جا رہے ہو نا
02:42میں نے پہلے ہی کہا تھا جاؤ
02:45کہتے ہیں قربان جاؤں
02:46تھوڑی دیر گزری
02:47تو اللہ کے رسول کے آت میں
02:48گرم دودھ کا پیالہ تھا
02:50خجوریں تھی
02:51حضور تشریف لائے
02:52اور کریم رسول نے مجھے خجوریں دی
02:55دودھ پلایا
02:56اور کہا چل جا کمبل میں بیٹھ جا
02:58تو میں نے کہا چکی کون پیسے گا
03:00وہ تو بڑا مارے گا
03:02کہتے ہیں لوگو
03:03اس نبی کا ملاد اور مراج
03:05بھول نہ جانا
03:09آنے دینا
03:10اس محبوب کا نعرہ
03:12ساری دنیا میں لگا دینا
03:13فرماتے ہیں میرے حبیب کے
03:16میں قربان جاؤں
03:17مصطفیٰ کریم نے فرمایا
03:19تو بیٹھ رضائی میں
03:20اور آج تیرے اسے کی چکی
03:22میں پیسوں گا
03:23کہتے ہیں ساری رات
03:25حضور چکی پیستے رہے
03:26ساری رات
03:27صویرے میں اٹھا
03:29اور میرے حبیب پاک
03:31نے مجھے وہ سارا کچھ دیا
03:32اور خود چلے گئے
03:34اگلی رات پھر آئی
03:35تو حضور پھیرا آگئے
03:36مجھے پھر رضائی میں لٹایا
03:38دودھ پلایا
03:39اور ساری رات
03:39چکی پیسی
03:40کہتے ہیں بس تیسرے دن
03:42حضور چکی پیس کے
03:43جانے لگے
03:43تو میں نے قدم
03:44تھام لیے
03:45میں نے کہا
03:46بیبہ دنیا ساری
03:47جھوٹ بولتی ہے
03:48زمانہ سارا غلط
03:49کہتا ہے
03:50جو غلاموں کے
03:51اسے کا کام کرے
03:52وہ اللہ کا سچا
03:53رسول ہوا کرتا ہے
03:54اب جو کرنے کے کام
03:56جناب رسالت
03:58امام صلی اللہ علیہ وسلم
03:59کی تعلیمات
04:00انپڑ آدمی بھی جانتا ہے
04:02کہ بڑے چھوٹے کا
04:03خیال کرو
04:04غریب کی مدد کرو
04:05تعلیمات جانتا
04:06اب ایک قدم
04:06بڑھانا ہے ہم نے
04:07میں دو چار باتیں
04:09آپ سے وہ والی
04:09کرنا چاہتا ہوں
04:11جو ملاد شریف
04:12پہ سننا
04:13ہمارے لئے بڑا ضروری ہے
04:14میرے عزیزو
04:16جس طرح
04:17ہمارے ذمہ
04:18ماں باپ کے حقوق ہیں
04:20جس طرح
04:21ہمارے ذمہ
04:22استاد کے حقوق ہیں
04:23جس طرح
04:24ہمارے ذمہ
04:25مرشد
04:26گرامی کے حقوق ہیں
04:27جس طرح
04:28ہمارے ذمہ
04:29پڑوسیوں کے
04:29بیوی کے
04:30بچوں کے
04:31اور بیوی کے لئے
04:32شہر کے حقوق
04:33اسی طرح سے
04:34ہمارے اوپر
04:35ہمارے نبی کے بھی حقوق ہیں
04:37یہ حقوق
04:40خود قرآن
04:41مجید نے بیان کیے
04:42رسول پاک نے
04:43بیان کیے
04:43صحابہ کرام
04:44نے بیان کیے
04:45ہمیں قرآن
04:46و سننہ سے
04:47وہ حقوق
04:47ملتے ہیں
04:52allah peh bhi iman lana hai
04:53allah ke rasul peh bhi
04:55or iman lana hai tagra sara
04:57is tarah nahi ke baat abki saiyya hai
05:00rizak halal khana chayye
05:01par gudara bhi to nai nah hota aram ke boghair
05:04jude ke boghair kam bhi to nai nah chalata
05:06yeh nahi
05:07joh huzor kae dhe us peh đٹ ja
05:09yeh iman hai, yeh hak hai nabiy paak ka
05:11joh huzor kae dhe
05:12us peh tu đٹ ja
05:15eek sahabi tehe
05:16حضرت suraqah bin malak radiyallahu taala no
05:18nabiy paak nai fərmaya ta
05:19اس وقت تک موت نہیں آئے گی
05:21کسرہ کا ایک بادشاہ تھا
05:23تو وہ بڑے وزنی سونے کے کنگن پہنا کرتا تھا
05:26اور جب وہ کوئی باد کرتا تھا
05:27نا فیصلہ کرتا تھا
05:29تو کنگن الاتا تھا
05:30عرب کے اندر مشہور تھا
05:32کنگنوں والا بادشاہ
05:34سونے کے موٹے کنگن
05:35اس نے پہنے ہوئے
05:36تو nabiy paak sallallahu sallam
05:38نے حضرت suraqah سے کہا تھا
05:39اس وقت تجھے موت نہیں آئے گی
05:40جب تک کسرہ کے کنگن
05:42تیرے آتھ ہمیں نہیں آجاتا
05:43ایک جنگ کا موقع تھا
05:45کافر قلعہ باندھو گئے
05:47انہوں نے نا
05:47بہت بڑا بڑا ایک قلعہ تھا
05:49بڑی دیواریں تھی
05:50اندر سے کنڈی لگا لی
05:51بار نہیں نکلتے تھے
05:54مسلمانوں کی مجبوری تھی
05:55کہ وہ بار نکلے تو جنگ کریں
05:56ایک منجنیک ہوتی تھی
05:59اس طرح غلیل نہیں ہوتی
06:01اس طرح دو بانس
06:03بہت لمبے باندھ کے
06:04تو اس کے اندر جس طرح وہ
06:05جھولا ہوتا تھا بچوں کا
06:07کہ پینگا کھی دا سی انو
06:09اس طرح اس کو بنایا جاتا تھا
06:12اور پیچھے اس کے اندر گولا راکے
06:13لوگ کھینچتے تھے پیچھے
06:15اور جب چھوڑتے تھے
06:16تو وہ جا کے دشمن پہ لگا کر دی
06:18اسی کو دیکھ کر پھر توپ ایجاد کی گئی
06:22حضرت سوراکہ بن مالک
06:24کہنے لگے اس منجنیک میں
06:25مجھے بٹھاؤ
06:27اور کھینچ کے اندر پھینکو
06:28میں اندر سے جا کے دروازہ کھول دیتا ہوں
06:31یہ میری بات کی
06:32ایمان کی بات کر رہا ہوں
06:34اندر جا کے دروازہ کھولتا ہوں
06:36تو اسے آبا کہنے لگے
06:37پہلی تو بات یہ ہے
06:38کہ جب تو اندر گرے گا
06:39تو تیری یہ ڈیپس لی کوئی نہیں بچے گی
06:41اور اگر بچ بھی گئی
06:43تو جن کے بیچ تو جائے گا
06:44وہ تجھے چھوڑیں گے
06:46رزق نہ لے
06:47تو نہیں بچے گا
06:48اگر اندر گیا تو
06:50جناب سوراکہ بن مالک
06:52آنکھیں کھول کے دیکھا
06:53فرمانے لگے
06:54تم مجھے پھینکو
06:55مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
06:57بلکل بے فکر ہو کے پھینکو
06:59کہا کس لیے
07:00فرمایا اس لیے
07:01کہ میرے رسول نے فرمایا تھا
07:02تو اس وقت تک نہیں مرے گا
07:04جب تک کسر آکے کنگن نہیں آ جاتے
07:06کنگن ابھی نہیں آئے
07:07جب تک کنگن نہیں آئیں گے
07:09حضرت ادرائیل بھی کوئی نہیں آئیں گے
07:11ساڑھے نبی دی زبان
07:12ساڑھے واسطے
07:14قرآن
07:14حضرت سوراکہ بن مالک کو پھینکا
07:18اندر گئے
07:19گرے بھی
07:21دروازہ بھی کھولا
07:22باہر بھی آئے
07:23سارا کچھ ہوا
07:26اور باہر آکے لوگوں سے کہنے لگے
07:28تمہیں کہا نہیں تھا
07:28کہ میرے نبی کے فرمان بڑے سچے ہیں
07:30ہوا ہے کچھ
07:31زمانہ گزر گیا
07:33حضرت عمر کا دور آیا
07:34تو حضرت سوراکہ بڑے بڑے ہو گئے
07:36یہ آنکھیں چھوک گئیں
07:37بال سفید ہو گئے
07:39بیمار ہو گئے
07:40ضعیفی آ گئی
07:41اس وقت کسرہ کا علاقہ فتح ہوا
07:44اور کنگن حضرت عمر کے پاس آئے
07:46تو جناب عمر فاروق رضی اللہ تعالی
07:48انہوں نے فرمایا
07:49جاؤ بلاؤ سوراکہ کو
07:51تو لوگ کہنے لگے
07:52حضور وہ تو اٹھ نہیں سکتے
07:54بڑے ہو گئے ہیں
07:55فرمایا ایک دفعہ کان میں جا کے
07:56کہو تو صحیح
07:58کہو تو صحیح
07:59کہتے کان میں جا کے
08:00سوراکہ کنگن آگے ہیں
08:01تو اس بڑے کو
08:02اللہ نے زلائخہ کی طرح جوانی عطا کی
08:05اٹھے
08:06اور حضرت عمر کے زمانے میں
08:08جب مسجد نبی بھری ہوئی تھی
08:10کس طرح کے کنگن
08:12حضرت سوراکہ نے پہنے
08:14تو صحابہ پھر میرے رسول کے نعرے لگانے لگے
08:17کہنے لگے دیکھو میرے نبی نے جو فرمایا
08:19حق اور سچ فرمایا
08:20ایمان کی مضبوطی لائیں
08:22موسیقی
Comments