00:00السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:02دوستو صحابہ اکرام رضی اللہ ہم کی زندگیاں ہمارے لئے ایمان، اخلاص اور قربانی کا روشن نمونا ہے
00:09آئیے آج انہی مبارک ہستیوں کی زندگی کا ایک ایمان افروز واقعہ سنتے ہیں
00:13ایک مرتبہ لد بن ولید، عبد الرحمن بن عوف، ابو ذر غفاری اور حضرت بلال رضوان اللہ علیہم آپس میں
00:20گفتگو کر رہے ہیں
00:20کسی بات کے جواب میں حضرت ابو ذر نے کہا کہ یہ کام ایسے کرنا چاہیے
00:25جواب میں حضرت بلال نے کہا نہیں ایسے کرنا غلط ہے
00:30حضرت ابو ذر نے کہا
00:32اکالے انسان کے بیٹے تم میری بات کو غلط کہتے ہو
00:35حضرت بلال غصے کی حالت میں اٹھے اور سرکار دعالم صلی اللہ علیہم کی شکایت کی
00:40آپ یہ سن کر سخت غصے ہو گئے
00:42ادھر حضرت ابو ذر غفاری میں حاضر ہو گئے
00:45آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا
00:47ابو ذر تم نے بلال کو ان کی ماں کی وجہ سے آر دلائی
00:50تمہارے اندر جاہلیت کسی خصلت ہے
00:53حضرت ابو ذر یہ سن کر رونے لگے
00:55یا رسول اللہ
00:56اللہ سے میری اس خطا پر مغفرت طلب کر دیجئے
00:59پھر مسجد سے روتے ہوئے نکل گئے
01:01راستے میں انہوں نے حضرت بلال کو جاتے ہوئے دیکھا
01:04تو ان کے راستے میں اپنا چہرہ زمین پر رکھیں
01:07بلال
01:07اللہ کی قسم میں اپنا چہرہ مٹی سے اس وقت تک نہیں اٹھاؤں گا
01:11جب تک آپ اپنا پاؤں رکھ کر اس پر سے نہ گزر جائیں
01:14تم معزز ہو اور میں گھٹیا
01:16حضرت بلال یہ دیکھ کر رونے لگے
01:18اللہ کی قسم میں اس چہرے پر کیسے پاؤں رکھنے کا سوچ سکتا ہوں
01:23جو صرف اللہ کے لیے سجدہ ریز ہوتا ہے
01:26پھر دونوں ایک دوسرے سے گلے ملے اور راضی ہوگا
01:29آج ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو دوسروں کے ساتھ بیسیوں دفعہ برا سلوک کرتے ہیں
01:34لیکن مجال ہے کہ کبھی ان سے معذرت کی ہو
01:37غلطی انسان ہی کرتے ہیں
01:41غلطی پر معافی مانگنے سے آپ کی عزت کم نہیں
01:44بلکہ ہزار گناہ مزید آپ کی عزت بڑھ جاتی ہے
01:47آئیے آج سے اہد کریں کہ کسی کا دل نہیں دکھائیں گے
01:50اگر کبھی کسی کو ہماری وجہ سے کوئی تکلیف پہنچی
01:53تو بلا جھجک اس سے معافی مانگ کر
01:55صحابہ کرام کے بہترین اسوا کو زندہ کریں گے
Comments