Law, Justice & the Rizvi Brothers | Full interview
#Pakistan
#Pakistanzindabad
#Pakarmy
#News
#PakistanNews
#Pakistan
#Pakistanzindabad
#Pakarmy
#News
#PakistanNews
Category
📚
LearningTranscript
00:00ہم کہہ رہے ہیں کہ ایک آدمی میسنگ ہے
00:01ایک آدمی کا ویر آباؤٹس نہیں پتا
00:03وہ تیرہ اکتوبر کے بعد آج تک کسی کو نظر نہیں آیا
00:07وہ کہاں ہے وہ کس کے پاس ہے
00:09اسے لاکر اطالت میں پیش کر دیں
00:11اور اس میں انہوں نے ریزن یہ لکھا ہے
00:13کہ جہاں مسجد رحمت اللہ علیہمین واقعہ ہے
00:15اس کی سراؤنڈنگ میں وہ کہتے ہیں
00:17کہ یہ 38 اور مسجدیں دو کلومیٹر کے ریڈیس میں موجود ہیں
00:21جس نے نماز پڑھنی ہے وہ جا کر ان 38 مسجدوں میں پڑھ لیں
00:25کہ رات کے اندھیرے میں ایک آرڈر نکلا
00:28اس آرڈر میں یہ لکھا ہوا تھا wrongly fixed
00:30لبیک کے ووٹرز کی تعداد اس وقت کروڑوں میں پہنچ چکی ہے
00:34لیکن مجھے لگتا ہے کہ لبیک نے تنظیم سازی میں
00:37جماعت اسلامی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہوا
00:39کہ جو باہر نکل کر یہ کہے گا کہ میں پروٹسٹ کرتا ہوں
00:43آپ کیا کہیں گے کہ وہ انٹی گورنمنٹ ہو گیا ہے
00:46اس کی حیبل وطنی پر کوئیسٹن اٹھائیں گے آپ
00:49نباز شریف صاحب نے لانگ مارچ نہیں نکالے
00:51پیپس پارٹی نے لانگ مارچ نہیں نکالے
00:53مولانا فضل الرحمان صاحب نے لانگ مارچ نہیں نکالے
00:56ایک لانگ مارچ نکالے تو اسے فسیلیٹیٹ کرنا
00:59اور دوسرا لانگ مارچ نکالے
01:01تو اس کو اس کے خلاف انٹی ٹیرزم کے کیسز بنا دینا
01:05پولیس لبیک کے ہی کارکن کو
01:08ساد ریزوی صاحب سے گولی مروا رہی ہے
01:12اس کی لوجکہ خود دیکھ لی ہے
01:13کہ بتیس اناسی ایک ایف آئی آر ہے
01:15اس ایف آئی آر میں گھرلو تمام خواتین کے نام دیئے گئے تھے
01:19اور میں نے یہ سوچا
01:21کہ اگر اس تمام پروسیس میں
01:23کسی ایک عاشق رسول کی بھی میں خدمت کر گیا
01:25تو میری دنیا کے ساتھ میری آخرت سمجھ جائے
01:28یہاں پر کیسوں کے فیصلے ہو رہے ہیں
01:30انصاف نہیں ہو رہا
01:32اور میں کیمرے کو دیکھ کر کہہ رہا ہوں
01:35کہ میری بات جو سمجھ سکتے ہیں
01:37وہ اس کی گہرائی تک پہنچ جائیں
01:40بسم اللہ الرحمن الرحیم
01:41السلام علیکم ناظرین
01:43آج کا پوڈکاس انتہائی اہم ہے
01:45اور میرے ساتھ ایک مرتبہ پھر
01:47سینئر قانوندان برحان موظم ملک صاحب موجود ہیں
01:51اس سے پہلے میں جب ان کے انٹرویو کیے
01:53تو وہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے متعلق تھے
01:55ان کے کارکنان سے متعلق تھے
01:57لیکن آج کا جو انٹرویو ہے
01:59یہ تحریک لبیک کی قیادت سے متعلق ہے
02:02ان کے کارکنان سے متعلق ہے
02:04آج جب میں یہ انٹرویو کر رہا ہوں
02:06دو سو بامن دن ہو گئے ہیں
02:09تحریک لبیک کے سربراہ
02:11حافظ سعج رزوی
02:13اور ان کے بھائی حافظ انص رزوی
02:15کو غائب ہوئے
02:17ابڈکٹ ہوئے
02:18ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں
02:20زمین کھا گئی
02:21آسمان نگل گیا
02:22ابھی تک کوئی انفرمیشن نہیں ہے
02:25تحریک لبیک کی قیادت جو ہے
02:27اس نے ہر وہ قانونی راستہ استعمال کیا
02:30جس سے ان کے متعلق کچھ انفرمیشن ملے
02:33وہ کہاں پر ہیں
02:34وہ کس کی تحویل میں ہیں
02:36ان کے خلاف جو الزامات ہیں
02:39ان کے مطابق
02:40ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی
02:42نہیں ہوئی
02:42اسی طرح
02:43جامعہ مسجد رحمت اللہ العالمین
02:45دو سو باون دن سے جو ہے
02:47بند ہے
02:48وہاں پر کوئی نماز جو ہے
02:49وہ ادا نہیں کی گئی
02:51اس سے متعلق بھی سوال کریں گے
02:52حافظ عزوی کی فیملی سے متعلق
02:55جو مقدمات درج ہوئے
02:56اس پر بھی بات کریں گے
02:58اور بہت سے سوالات
02:59جو آپ کے ذہنوں میں ہیں
03:01جو میرے ذہن میں ہیں
03:02وہ بھی ہم جاننے کی کوشش کریں گے
03:05پرحان معظم ملک صاحب سے
03:07سر آپ کا بہت شکریہ
03:08آپ نے خصوصی وقت دیا
03:11میں تو سب سے پہلے سوال یہی ہے
03:13ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے
03:15کہ حافظ سعاد رزوی اور ان کے بھائی
03:17وہ کہاں پر ہیں
03:19ان کے مقدمہ
03:20ان کی تخواستے جو ہیں
03:21وہ آپ نے ہائی کورٹ میں دائر کی
03:23پھر تین ماہ کا وقفہ آیا
03:25پھر عدالت نے سماد کی
03:27کسی جج نے مازد کر لی
03:28یہ معاملہ جو ہے
03:29وہ ابھی تک
03:31نوٹس کی حد تک بھی نہیں ہوا
03:35نہیں
03:36شاگر صاحب اس میں ایسا ہے
03:38کہ ایسا نہیں ہے
03:39کہ نوٹس کی حد تک نہیں ہوا
03:41نوٹس سے بات آگے چلی گئی تھی
03:42لیکن اس کے بعد
03:44کچھ ایسے معاملات ہوئے ہیں
03:45جن کے وضاحت شاید میں بھی نہیں کر سکتا
03:49اور شاید کوئی اور بھی نہ کر سکے
03:52صورتحال اس میں ایسے رہی
03:54کہ تیرہ اکتوبر کو
03:55آخری دفعہ ساد رزوی صاحب کو
03:57اور ان کے بھائی کو دیکھا گیا
03:59بلکل
03:59اس کے بعد سے
04:01ساد رزوی صاحب اور اپنس رزوی صاحب لا پتا ہیں
04:04بلکل
04:04کچھ اور لوگ بھی ان کے ساتھ لا پتا ہیں
04:07اس سے متعلقہ پہلے تو
04:09ذاتی کوشش ہوتی رہی
04:10کہ پتا کیا جائے کہ وہ کہاں ہیں
04:12جب تمام ایف آئی آرز کو اکٹھا کیا گیا
04:15تو پتا چلا کہ
04:16چھپن مختلف ایف آئی آرز ہیں
04:19جن کا اندراج کیا گیا ہے
04:21تحریک لبیک پاکستان کے
04:22اس لونگ مارچ سے متعلقہ
04:26ان میں چون تھانے تھے
04:28جن سے متعلقہ یہ پتا چلا
04:30کہ یہاں پر مختلف ایف آئی آرز کا اندراج ہے
04:32اور چون مختلف تھانوں میں
04:35ساد رزوی صاحب کو اور انس رزوی صاحب کو
04:37تلاش کیا گیا
04:39تمام تر کوشش بروے کار لائی گئی
04:41کہ ان چون تھانوں سے پتا کیا جائے
04:43کہ کیا ان میں کسی ایف آئی آر میں جن میں ساد رزوی صاحب کا نام دیا گیا ہو
04:47انس صاحب کا نام دیا گیا ہو
04:49ان پر کوئی الزام لگایا گیا ہو
04:51تو انہوں نے اس میں کسی میں گرفتار کر لیا ہو
04:54لیکن اس میں ہمیں مکمل ناکامی ہوئی
04:56تمام کے تمام چون پولیس ٹیشنز جو تھے
04:59وہ ان کی کسی قسم کی گرفتاری
05:01ان کی موجودگی
05:02یا ان کے بارے میں پتا ہونے سے مکمل انکاری تھے
05:05اس کے بعد ہم کچھ دن تک کوشش کرتے رہے
05:08کہ ہم پتا کریں کہ وہ کسی ایجنسی کی تحویل میں نہ ہو
05:11وہ کہیں اور ایسی جگہ پہ موجود نہ ہو
05:13جہاں ان کی گرفتاری شو نہیں کی جا رہی
05:15جب ہر طرف سے انکار آ گیا
05:18ہر طرف سے لاعلمی کا اظہار ہوا
05:19اس کے بعد الٹی میٹلی پھر ہم نے
05:22ہیبیس کارپس پیٹیشن جو تھی
05:24وہ دائر کر دی
05:26ہیبیس پیٹیشن دائر ہونے کے بعد
05:27اس کی مارکنگ ہوئی
05:29مسٹر جسٹس جواد زفر صاحب کے پاس
05:31اور جواد زفر صاحب نے اس میں نوٹس جاری کر کے
05:34تھانہ مرید کے
05:35یہ وہ تھانہ ہے جہاں آخری دفعہ
05:37جس کی حدود میں سعاد رزوی صاحب کو
05:39اور حنس صاحب کو دیکھا گیا تھا
05:40ان کے ایس ایچوں سے رپورٹ طلب کر لی
05:43ان کے بہاب پر ایک ڈی ایس پی پیش ہوئے
05:45اور انہوں نے سعاد رزوی صاحب کی
05:48اپنے پاس موجودگی سے انکار کر دیا
05:51ہم نے ہائی کورٹ سے گزارش کی
05:53کہ
05:54باون اور تھانے بھی ہیں
05:55تریپن اور تھانے بھی ہیں
05:57جہاں پر سعاد صاحب کی
05:59ممکنہ موجودگی ہے
06:00ہو سکتی ہے
06:02لہٰذا آپ ان سے بھی رپورٹ طلب کریں
06:04اور پتہ کریں کہ
06:05سعاد رزوی صاحب کہاں پر ہے
06:08اس سارے میں افسوسناک عمر یہ ہے
06:10کہ ہائی کورٹ کا جو عمومی رویہ ہے
06:13وہ یہ ہوتا ہے
06:15کہ اگر کسی بھی
06:16عام شہری کے بارے میں
06:18کوئی ایک عام آدمی
06:19اگر کوئی حیبیس پٹیشن لے کر آ جاتا ہے
06:22تو ہائی کورٹ اسے ہمیشہ
06:24بہت ہی ارجنٹ بیسز پر
06:27اسے بہت سنسٹیو میٹر سمجھا جاتا ہے
06:29اور اس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے
06:32کہ اس سے زیادہ نازک معاملہ
06:33کوئی نہیں ہے
06:34اس آدمی کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے
06:36اس کی آزادی سلب ہو چکی ہے
06:38لہٰذا اس کو کوشش کی جاتی ہے
06:41کہ زیادہ تر کیسز میں
06:42ڈے ٹو ڈے بیسز پر
06:43اس کی سمات کی جائے
06:45سعاد رزوی صاحب علی میٹر میں
06:47ایک عجیب معاملہ ہمارے ساتھ یہ ہوا
06:50کہ عدالت نے کسی ایک دفعہ بھی
06:53ہمیں پندرہ دن یا ایک ہفتے سے کم کی تاریخ نہیں دی
06:56جب بھی اس کی تاریخ ہوئی
06:58عدالت نے اس کی ریپورٹ طلب کرنے کے لیے
07:00پندرہ پندرہ دن کی ڈیٹ ڈالی ہے
07:02اور پندرہ دن کے بعد
07:03مطلقہ پولیس آفیسر سے پوچھا
07:06اس کے بعد ہمیں انہوں نے ہدایت کی
07:08کہ آپ نے چار تھانوں کو پارٹی بنایا ہوا ہے
07:11آپ ایک امنڈٹ پٹیشن دائر کریں
07:13اور پچاس مزید تھانوں کو
07:15اس میں پارٹی بنائیں
07:17ہم نے ان کے حکم کے مطابق ایسا ہی کیا
07:20اس کے بعد جواد زفر صاحب
07:23لاہور بینٹ سے تشریف لے گئے
07:25اور ان کے لاہور بینٹ سے جانے کے بعد
07:28ہم نے متدد بار آفیس سے درخواست کی
07:30کہ اس کو سماعت کے لیے
07:32کسی اور جائش صاحب کے پاس لگا دیا جائے
07:34لیکن وہ پٹیشن فکس نہیں ہو سکتا
07:36آلٹی میٹلی جواد زفر صاحب کے
07:39عدالت کے جتنے کیسز تھے
07:40وہ سارے کے سارے اکٹھے اٹھا کر
07:43جسٹس تارک سلیم شیخ صاحب کو
07:45دے دیے گئے
07:47ہمارا اس وقت ہمارے
07:49سمجھئے کہ ایک امید جاگی
07:51کہ تارک سلیم شیخ صاحب
07:53ایک انتہائی مطبر اور انتہائی
07:55بڑا نام ہیں
07:56وہ ایسے معاملات میں بہت سختی سے
07:59پیش آتے ہیں جہاں کسی
08:01انسان کی آزادی اور اس کے گم ہونے
08:03کا مسئلہ ہو
08:04تو اس خوشی کو لے کر
08:08جب ہم ان کی عدالت میں پہنچے
08:10تو ہمارے لیے حیرت کا باعث تھی
08:12کہ رات کے اندھیرے میں
08:13ایک آرڈر نکلا
08:16اس آرڈر میں یہ لکھا ہوا تھا
08:18wrongly fixed
08:21یعنی جو
08:22habeas petition تھی صاحب صاحب کی
08:24اس کے بارے میں آفس نے ایک آرڈر نکال دیا
08:26wrongly fixed
08:28اب ہمیں عدالت سے بتایا گیا
08:30کہ آپ کی petition ہماری عدالت میں نہیں آئی
08:32اور اس کی لسٹ آ گئی ہے
08:34کہ it was wrongly fixed
08:35جب ہم نے آفس سے پتا کیا
08:37تو پتا چلا کہ اسی دن
08:38وہ petition جو تھی
08:40وہ میڈم جسٹس
08:42عبرگل صاحبہ کی
08:42کوٹ میں لگا دی گئی تھی
08:44جب ہم جسٹس عبرگل صاحبہ کی
08:46کوٹ میں پہنچے
08:47تو لا محالہ اس وقت تک
08:49کافی دیر ہو چکی تھی
08:50ہمارے میں اس وقت موجود نہیں تھا
08:52میرے خیال میں تو وہ لسٹ کینسل ہو چکی تھی
08:54لیکن میرے اسوسیئٹس کو اچانک پتا چلا
08:56کہ وہ جی عبرگل صاحبہ کے پاس لگی ہوئی ہے
08:58وہ بھاگم بھاگ وہاں پہنچے
09:00اس تنی دیر میں
09:01کیس کال ہو چکا تھا
09:03تو لا محالہ ہمیں
09:04عدالت سے درخواست کرنی پڑی
09:06کہ اس میں سینئر کانسل
09:08آویلیبل اس سے نہیں ہے
09:09ان کو تو پتا چلا کہ لسٹ کینسل ہو گئی ہے
09:10تو بہربانی فرما کر
09:12اسے ایک دو دن کے لیے
09:14آپ فکس فرمالیں
09:16یہ بات ہے
09:17اوائل جون کی
09:18یعنی میں دو تین
09:20چار جون کی بات کر رہا ہوں
09:22یہ دو تین تاریخ ہے
09:23جس دن جون کی
09:24جس دن کب ہے
09:25یہ آپ کو معاملہ بتا رہا ہوں
09:27ہمارے یہ درخواست کرنے پر
09:30میڈم جسٹس عبرگل صاحبہ نے
09:32اس کیس کی سمات
09:33انتیس جون تک
09:35ملتوی کر دی
09:36یعنی
09:37حیبیس پٹیشن میں
09:38ایک مہینے کی
09:39ایک مہینے کی
09:40ڈیٹ ڈال دی گئی
09:41یہ تاریخ میں
09:42ہم نے کبھی نہیں دیکھا پہلے
09:43کہ ایک ماہ کی
09:45اور وہ بھی
09:45ابڈکشن کے معاملے میں
09:46اور جس سے تاریخ سلیم شیخ صاحب
09:48کا آپ فرمارے تھے
09:49تو میں
09:50جب ابڈکٹ ہوا
09:52تو میری درخواست بھی
09:53جس سے تاریخ سلیم شیخ صاحب کے پاس لگی تھی
09:55اور یقین کریں
09:57کہ انہوں نے
09:57اس معاملے کو
09:58اتنا سیڈیس لیا
09:59یہاں پر
10:00ایک ماہ کی تاریخیں
10:01دی جا رہی ہیں
10:02پندرہ دن کی تاریخیں
10:03دی جا رہی ہیں
10:03مجھے بتایا گیا
10:04جب میں واپس
10:05بازیاب ہو کر آیا
10:06تو
10:07جس سے تاریخ سلیم شیخ صاحب
10:09نے جمعہ کا دن
10:10اور جمعہ کے دن
10:11تین مرتبہ سمات کی
10:12اور انہوں نے
10:14ہر گھینٹے کے بعد
10:15انہوں نے کہا
10:15کہ آپ اس کے بارے میں
10:16انفرمیشن دیں
10:17پہلے تھانے
10:18جو ایک پرسیجر آپ بتا رہے ہیں
10:19پھر انہوں نے
10:20آئی جی کو طلب کیا
10:21اور دو دن کے اندر اندر
10:23انہوں نے
10:23ایسے احکامات جاری کیے تھے
10:25کہ میری جو
10:26بازیابی تھی
10:27وہ ہو گئی
10:28تو یہ تو آپ نے
10:29بات بلکل درست کہی
10:30کہ جس سے تاریخ سلیم شیخ صاحب
10:32جو ہیں
10:32وہ اتنے دبنگ جاج ہیں
10:33اور ہائی کورٹ میں
10:34جب ان کے پاس
10:35کسی عام سائل کا بھی
10:37کیس لگتا ہے
10:38تو اسے ایک انصاف کی
10:39امید نظر آتی ہے
10:40اور یہاں پر
10:41رونگلی فکس
10:42یعنی فکس
10:43شاکر صاحب
10:44شاکر صاحب
10:45میں نے
10:45جب ایک لفظ استعمال کیا
10:47نا آپ سے
10:48گزارش کرتے ہوئے
10:49کہ جب ہمیں پتا چلا گئے
10:50ہمارا کیس
10:51تاریخ سلیم شیخ صاحب
10:52کے پاس لگ گیا ہے
10:52تو ہم خوشی خوشی
10:54ان کی عدالت کی طرف گئے
10:55کہ آج
10:56ساتھ صاحب
10:57بازیاب ہو جائیں گے
10:58لیکن وہاں پر
10:59آرڈر موجود تھا
11:00رونگلی فکس
11:01اب مجھے سمجھ نہیں آئی
11:02میں نے اپنا سٹاپ بھی بھیجا
11:04ڈیپٹی جسٹار صاحب کے پاس
11:05ان سے پوچھنے کے لیے
11:06کہ جب
11:07جواد زفر صاحب کی
11:08عدالت کے
11:09اگر دو سو کیسز ہیں
11:10اور وہ دو سو
11:11کہ دو سو تاریخ سلیم شیخ صاحب
11:12کی عدالت میں
11:13شفٹ کر دیے گئے ہیں
11:14بائی ون اومنی بس آرڈر
11:26دلوں میں کوئی
11:27صفائی تو نہیں رہے گی
11:29ہم سوچنے پر مجبور تو ہوں گے
11:31کہ یہ ایک کیس
11:32اس کے ساتھ کو منفرد سلوک کیوں کیا جا رہا ہے
11:34بہرحال
11:35آپ کے سوال کا مختصر جواب یہ ہے
11:37کہ دو سو باون دن گزرنے کے باوجود
11:40آج تک
11:41ساد رزوی صاحب اور انس رزوی صاحب کی جو
11:45موجودگی ہے
11:46وہ پتہ نہیں چل سکی
11:47وہ پرسرار ہے
11:49اور اس کے بارے میں
11:51کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا
11:52کہ وہ اس وقت کہاں ہیں
11:53وہ کس کی گرفتہ حراست میں ہیں
11:55اسے کس نے گرفتار کیا ہوا ہے
11:58اور کیوں اسے کسی عدالت میں پیش نہیں کیا جا
12:00جیسر فاروق حیدر صاحب
12:01ان کے پاس بھی یہ کیس سماعت کیلئے گیا تھا
12:04انہوں نے مازد کر لی
12:05تو اس کی کوئی وجوہات
12:08معلوم ہو سکی
12:09سر
12:11سب سے پہلے یہ مارک ہی وہیں پر ہوا تھا
12:14انہوں نے
12:14اپنے ذاتی معاملات کی وجہ سے
12:17لکھا آرڈر میں
12:17کہ میں اپنے پرسنل ریزنز پر اس کو نہیں سننا چاہتا
12:20اور انہوں نے پہلی سماعت کیے بغیر ہی
12:23اس میں مازد کر لی تھی
12:24انہوں نے یہ مازد کیوں کی
12:26اس کا کوئی جواب میرے پاس تواج تک نہیں آیا
12:29عام طور پر ہم یہ دیکھتے ہیں
12:31کہ آپ کے ہزاروں شاگرد ہیں
12:33اور آپ کے سینکڑوں جو ہیں
12:35وہ شاگرد جج بھی بن چکے ہیں
12:37اور جب آپ ان کے سامنے جاتے ہیں
12:39تو وہ یہ ریزن دیتے ہیں
12:40کیونکہ آپ میرے استاد میرے سامنے ہیں
12:42تو یہ انصاف کا تقاضی نہیں ہے
12:44تو وہ اس لیے مازد کر لیتے ہیں
12:46اچھا عموماً یہ ہوتا ہے
12:47کہ جو وکیل جج بن جاتا ہے
12:49اور ماضی میں اس نے
12:51کسی کا کیس لڑا ہوا ہو
12:53تو وہ یہ کہتا ہے
12:54کہ میں اس کو اس بنیاد پر
12:57نہیں سن سکتا
12:58کیونکہ میں ماضی میں ان کا وکیل رہا ہوں
13:00جیسے فاروق حیدر صاحب کی مثال ہے
13:02کہ یہ چودی ورہ ران کے
13:04وکیل رہے ہیں ماضی میں
13:05اور جب بھی کوئی اس طرح کا کیس جاتا ہے
13:07تو وہ مازد کر لیتے ہیں
13:08تو کیا جیسے فاروق حیدر صاحب
13:11ماضی میں کبھی
13:14رزوی صاحب کے وکیل رہے ہوں
13:15یا ان کی پارٹی کے ساتھ
13:17یا کوئی اس طرح کی ریزن
13:18سر کوئی اگر ایسی وجہ ہے بھی
13:20تو میرے علم میں نہیں آئی
13:21نہ ہی مجھے لبیک کی طرف سے بتایا گیا
13:24اور نہ ہی
13:26کوٹ کی طرف سے کوئی ایسی انٹی میشن آئی
13:27کہ کوئی ایسا معاملہ ہے
13:28بہرحال یہ ضرور ہے
13:30کہ انہوں نے پرسنل ریزن کی وجہ سے
13:32کیس کی سماعت سے انکار کیا تھا
13:34ہو سکتا ہے ان میں سے کوئی وجہ ہو
13:36یا ہو سکتا ہے ایسی کوئی وجہ نہ ہو
13:37اچھا بھرحال صاحب ایک
13:39کوئیسٹن ہے
13:40ہمیں لوگ کہتے ہیں کہ آپ باخبر صحافی ہیں
13:43آپ کے پاس کوئی خبر ہوگی
13:45ہمارے سینئرز کو بھی اسی طرح
13:47اسی طرح آپ سینئر کانسل ہیں
13:49قانوندان ہیں
13:50اور آپ کا ایک بڑا تجربہ ہے
13:52تو میں اس حد تک آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں
13:55کہ آپ بڑے باخبر ہیں
13:56تو یہ سننے والے دیکھنے والے
13:59یہ جاننا چاہتے ہیں
14:00کہ سعید عزوی صاحب
14:02انسل عزوی صاحب کی صحر
14:03ان کی لوکیشن
14:05یا ان کے حوالے سے
14:06کوئی ایسی چیز جس سے
14:08یہ کہا جا سکے
14:11یا آپ کے خیال میں
14:12کہ وہ
14:14درست ٹھیک ہیں
14:16ان کی
14:18ابڈکشن کے حوالے سے
14:19یا کب تک ان کی بازیابی ممکن ہو سکتی ہے
14:22آپ اپنے انفرمیشن
14:24یا پھر اپنے خیال
14:25یا اپنے تجربے کی بنیاد پر
14:26کیونکہ اس سے پہلے بھی سعید عزوی صاحب
14:28جب ابڈکت تھے
14:29جب تری ایم پیو کے تحت تھے
14:31تو اس وقت بھی آپ نے ہی یہ مقدمہ لڑا تھا
14:33اور پھر ان کی بازیابی ہوئی تھی
14:35اور لبیک کے بہت سے مقدمات
14:38ماضی میں بھی آپ کر چکے ہیں
14:40دیگر پولیٹیکل پارٹیز کے بھی دیکھ چکے ہیں
14:43دیکھئے شاکر صاحب بات یہ ہے
14:44کہ جہاں تک
14:45اس بات کا تعلق ہے
14:47کہ میں نے بہت ساری پولیٹیکل پارٹیز کے
14:50کیسز کیے
14:52بلا شبہ میں ماضی میں لبیک کا بھی وکیل رہا ہوں
14:55اگر مجھے یہ پتا ہو
14:57کہ ساد رزبی صاحب فلان جگہ پر ہے
14:59اور اس حالت میں ہیں
15:01تو میں بیلپ لے کر وہاں چلا جاؤں
15:04خیال کے مطابق
15:05آپ کی observation کیا کہتی ہے
15:08میں کیسے خیال کا اظہار کر سکتا ہوں
15:10مجھے اگر خیال میں بھی پتا ہوتا
15:12تو میں definitely عدالت کو بتاتا
15:14کہ سر فلان جگہ پر بیلپ بھیجئے
15:16وہاں ساد رزبی صاحب کی موجودتی ممکن ہے
15:18سیون سنس کیا کہتی ہے
15:19سر میری سکھ سنس میرا گمان تو یہ کہتا ہے
15:22کہ ساد رزبی صاحب
15:24خیریت سے ہوں گے
15:25اللہ تعالیٰ انہیں خیریت سے رکھے
15:27اور میں دعا گوں ہوں
15:29کہ وہ کسی بھی تکلیف کسی بھی شر سے
15:32محفوظ ہوں
15:33اللہ تعالیٰ انہیں باخیریت ہم سب کے درمیان واپس لائے
15:36پولیٹیکل پارٹیز کی بات ہو رہی تھی
15:38تو ہم نے یہ دیکھا کہ تحریک لبیک
15:40کو جو ہے وہ قل ادم کراتی دیا گیا
15:43کسی بھی پولیٹیکل پارٹی کو
15:45کل ادم یا اس کے خلاف کوئی کیس کرنا
15:48کوئی بھی اسے ختم کرنا ہو
15:50تو اس کے لیے ایک پروسیجر ہے
15:52ایک تو ناظرین کو صرف پروسیجر بتا دیجئے گا
15:54اور اس معاملے میں
15:55تحریک لبیک کے ساتھ جو ہے یہ اس طرح کا سلوک کیوں کیا گیا ہے
16:00دیکھئے گزارش یہ ہے
16:01کہ جہاں تک پروسیجر کا تعلق ہے
16:02تو قانون یہ کہتا ہے
16:04کہ حکومت اس کے لیے
16:06ایک نوٹیفکیشن جاری کرے گی
16:07اور نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بعد
16:10وہ اس کا بقاعدہ پندرہ دن کے اندر اندر
16:12ایک ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجیں گے
16:14اور سپریم کورٹ اس کی بقاعدہ
16:16ایک کیس کی صورت سماعت کرے گی
16:18جہاں پر وہ اس پارٹی کی ریپیزنٹیشن کو
16:21پارٹی کے نمائندوں کو پوری طرح سے
16:23موقع دیں گے کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے
16:25ہر الزام کا جواب دے سکیں
16:28اگر سپریم کورٹ
16:29اس کو یس کر دے
16:32حکومت کے اس نوٹیفکیشن کو
16:33تو اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے
16:35کہ آپ کسی پولٹیکل پارٹی کو کال ادم قرار دے سکیں
16:38جہاں تک لبیک کا تعلق ہے
16:40میں یہ سمجھتا ہوں کہ لبیک
16:42اس وقت پاکستان کی کوئی چھوٹی
16:44شیاسی جماعت نہیں ہے
16:45آپ پچھلے الیکشنز کو دیکھیں تو مجھے لگتا ہے
16:48کہ لبیک نے اگر میں غلط نہیں ہوں
16:49تو لبیک نے تیسرے نمبر پر پنجاب بھر میں
16:52سب سے زیادہ ووٹ لیے ہوں
16:54لبیک کے ووٹرز کی تعداد
16:55اس وقت کروڑوں میں پہنچ چکی ہے
16:57لبیک نہ صرف ایک
17:00منظم جماعت ہے
17:01بلکہ ہم کسی دور میں کہا کرتے تھے
17:03کہ جماعت اسلامی بہت منظم جماعت ہے
17:05لیکن مجھے لگتا ہے کہ لبیک نے تنظیم سازی میں
17:08جماعت اسلامی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہوا ہے
17:10اس کے امیر
17:11اس کی شورا کے ممبر
17:13اس کے باقی افراد انتہائی منظم ہیں
17:16اور وہ پولٹیکلی
17:17اپنی تمام اکٹیوٹیز کے لیے
17:19اسی طرح پاکستان میں آزاد ہیں
17:20جس طرح دیگر پارٹیز آزاد ہیں
17:22اور اگر ایک پاکستان میں
17:24ووٹوں کی لحاظ سے تیسرے نمبر پر آنے والی جماعت کو
17:27آپ صرف اتنی بنیاد پر
17:29کہ اس نے ایک لانگ اتجاجی لانگ مارچ
17:31کا آغاز کیا تھا
17:32آپ اسے کال ادم قرار دے سکتے ہیں
17:34تو پھر اس کی لوجک تو حکومت کوئی بتا سکے گی
17:37مجھے تو ایسے لگتا ہے
17:38کہ پہلے میں نے دیکھا
17:40کہ پاکستان تحریک انصاف
17:43نے اتجاج کیا
17:45تو اس اتجاج پہ آپ نے
17:47ان کے خلاف اتنی شدید کاروائی کر دی
17:49اس کے بعد لبیک آگئی
17:52لبیک نے لانگ مارچ نکالا
17:54تو آپ نے لبیک کے خلاف کر دی
17:55مجھے ایسے لگتا ہے کہ اگر ہم انہی معاملات پر رہے
17:58تو ہم پاکستان سے جمہوریت کا جو حسن ہے
18:01ابھی ریسلی ایزاد کسپیر میں بھی
18:03جی وہی اپیسوڈ ہے
18:04جو اتجاج جو جمہوریت کا حسن ہے
18:08اتجاج بیسک حق ہے
18:10ہر پاکستانی کا
18:11کونسی چوشنی ایک گرنٹڈ حق ہے
18:13تو آپ اسے ختم کر دیں گے
18:14آپ تو کسی کو اتجاج کہا کر نہیں دیں گے
18:16جو باہر نکل کر یہ کہے گا
18:19کہ میں پروٹیسٹ کرتا ہوں
18:20آپ کیا کہیں گے کہ وہ انٹی گورنمنٹ ہو گیا ہے
18:23اس کی حیبل وطنی پر
18:25کوئیسٹن اٹھائیں گے آپ
18:26آپ یہ کہیں گے کہ یہ پاکستانی نہیں رہا
18:28کیونکہ اس نے گورنمنٹ
18:29دیکھئے ماضی میں یہی کام تو دوسری جماعتیں بھی کرتی ہیں
18:33نواز شریف صاحب نے لانگ مارچ نہیں نکالے
18:35پیپرز پارٹی نے لانگ مارچ نہیں نکالے
18:37مولانا فضل الرحمن صاحب نے لانگ مارچ نہیں نکالے
18:40اندر سے پکنٹ چوز کرنا
18:43ایک لانگ مارچ نکالے
18:44تو اسے فسیلیٹیٹ کرنا
18:46اور دوسرا لانگ مارچ نکالے
18:47تو اس کے خلاف انٹی ٹیرزم کے کیسز بنا دینا
18:51اس کا فیصلہ خود کر دیتی
18:53دیکھیں اس کے لیے تو جدو جہد آپ نے کی تھی
18:55آپ نے عدلیہ کی ازادی کے لیے
18:57جو ہے وہ اتنی جدو جہد کی مارے کھائیں
18:59یہ تو کام عدلیہ کا تھا کہ وہ تحفظ فرہم کرتی
19:01تو عدلیہ تو نہیں کر رہی ہے
19:04جی میں بالکل آپ سے
19:06اتفاق کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں
19:07کہ واقعی یہ کام عدلیہ کا ہے
19:09اور عدلیہ شاید یہ فرض
19:12انجام دینے میں
19:13اتنے اچھے طریقے سے کامیاب نہیں ہو سکی
19:15جتنی عام لوگ اور
19:16عام لائیرز ان سے توکو رکھتے ہیں
19:19سر ہم پابندی کی بات کر رہے تھے
19:22لبیگ کی
19:22اب وزارت داخلہ نے لبیگ پر پابندی لگائی
19:25انصداد دہشت گدی ایٹ کے تحت
19:26اور پھر اس کی نظر سانی کے لیے
19:29جو ہے وہ لبیگ گئی
19:30نوے دن گزر گئے اس کے باوجود
19:32جو ہے سماعت جو ہے اس کے لیے مقرر ہی نہیں ہوئی
19:35یعنی ابھی تک جو ہے وہ
19:36سماعت ہی مقرر نہیں ہوئی جو
19:38وزارت داخلہ نے اقدام اٹھایا تھا
19:40اب کیا قانونی طریقہ جو ہے
19:43وہ لبیگ کے پاس ہے
19:44اور پھر یہ جو اقدام ہے
19:46بزارت داخلہ کا
19:47کہ ایک درخواست آئی
19:48اور اس کے اوپر جو ہے وہ سماعت ہی مقرر نہیں کی
19:50تو وہ کتنے اس میں گلٹی ہیں
19:52شاکر صاحب اس میں
19:54تھوڑا سا میں آپ کو بتا دوں
19:55کہ ابھی تک ہوا کیا ہے
19:57گورنمنٹ نے نوٹفکیشن جاری کیا
19:59کال ادم کرنے کا
20:01ہمارے پاس اس کے خلاف
20:03نگرانی میں جانے کے لیے
20:04تیس دن کا ٹائم تھا
20:05ہم نے اس کی لبیگ کی طرف سے
20:08ریپیزنٹیشن فائل کر دی
20:09جو میرے دفتر کی طرف سے فائل ہوئی ہوئی ہے
20:10اس کی بقاعدہ ہمارے پاس
20:12ریسیونگ موجود ہے
20:13اس کے بعد سے
20:15متعدد بار ہم اور ہمارے نمائندے
20:18انٹیڈیر منسٹری کے پاس جاتے رہے
20:19کہ سر آپ اس کی ڈیٹ فکس کریں
20:21اس کی ڈیٹ فکس کریں
20:22ہمیں سماعت کا موقع دیں
20:23انہوں نے ہمیں سماعت کا
20:25بالکل کوئی موقع نہیں دیا
20:26پھر ہم نے ان سے یہ پوچھنا شروع کیا
20:28کہ ٹائم لیپس کر گیا ہے
20:29ایسا تو نہیں ہے
20:30کہ آپ نے سماعت کے بغیر
20:31اس کا کوئی فیصلہ سنا دیا ہو
20:33اس کا بھی انہوں نے ہمیں کوئی جواب نہیں دیا
20:35جب ہم ہر طرف سے مجبور ہو گئے
20:38تو ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں
20:39ایک رٹ دائر کی
20:40جس میں ہم نے ہائی کورٹ سے گزارش کی
20:43کہ ہمارے پاس نوے دن کا ٹائم تھا
20:45نوے دن میں ہمیں انٹیڈیر منسٹری نے
20:47سننے کے بعد
20:48ہماری ریپزنٹیشن پر
20:50نگرانی پر فیصلہ سنانا تھا
20:51وہ یہ نہیں کر رہے
20:53تو براہ کرم ان کو
20:54وہ حکم جاری کیا جائے
20:55کہ یہ ہماری اس نگرانی پر
20:57اپنا فیصلہ سنائے
20:58وہ رٹ جو ہے وہ لاہور ہائی کورٹ میں
21:00پینڈنگ ہے
21:01اور اس کی ابھی تاریخ فکس نہیں کی گئے
21:05پینڈنگ تاریخ پہ تاریخ
21:07جو بھی آپ پیٹیشن دائر کر رہے ہیں
21:09اس کے اوپر کوئی سنوائی نہیں ہو رہی
21:10آپ میرا انٹریو کریں
21:12آپ ڈپارٹمنٹ کی
21:14میرے ادارے کی جو کمزوریاں ہیں
21:16ان کو پبلس کرنے کی بجائے
21:20نشان دائی کرنا تو سر ہی ہمارا حق کہنا ہے
21:22کہ نشان دائی کریں
21:23میں آپ کی اس نشان دائی پر سے رفیط نہ کہہ سکتا ہوں
21:27کہ آپ درست فرمارے ہیں
21:29سر آپ نے فرمایا کہ
21:30ایک طویل سسلہ چاہد رہا ہے
21:32اور کبھی درخواست سماعت کے لئے مقرر ہوتی ہے
21:34کبھی رونگلی فکس ہو کر
21:37کسی اور جیج صاحب کے پاس چلی جاتی ہے
21:39کہیں پر جو ہے وہ دنبی دنبی تاریخ ہی دیتی جاتی ہے
21:41اب جو اگلی تاریخ ہے
21:42وہ انتیس جون ہے
21:44جیجسس عبرگل صاحبہ کے پاس
21:47یہ کیس سماعت کے لئے مقرر ہے
21:48اور یہ وہی جج ہیں
21:50جنہوں نے ایٹی سی کے اندر نو مئی کے مقدمات کی سماعتے بھی کی ہیں
21:53اور اب یہ ہائی کورٹ میں بھی ہیں
21:54تو اس حوالے سے ان کا ایک بڑا وسیع تجربہ ہے
21:56تو آپ کیا سمجھتے ہیں
21:58کہ یہ اس معاملے کو
22:00تیزی کے ساتھ لے کر چلیں گی
22:02یا پھر یہ معاملہ پھر جو ہے وہ
22:03انتیس کی وجہ ہے پھر آگے پندرہ
22:06یا مہینے کی ڈیٹ میں جائے گی
22:09دیکھئے شاکر اس میں گزارش یہ ہے
22:10کہ جہاں تک سوال یہ ہے
22:12کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں
22:13تو تین ماہ ہو گئے ہمیں
22:15ہیوی اس پیٹیشن ڈائلے ہوئے
22:16ہیوی اس پیٹیشن تین دن کی ہوتی ہے
22:19تین ماہ کی تو آج تا کبھی نہیں سنی
22:22یہ تین ماہ سے بغیر
22:24کسی کاروائی کے پینڈنگ چلی آ رہی ہے
22:27اس میں کس کوئی بھی
22:28کاروائی کرنے کی بجائے
22:29کوشش ہوتی ہے کہ تاریخ پڑ جائے
22:32میری گزارش یہ ہے
22:33کہ اگر تو میں اس ماضی کو دیکھوں
22:35تو مجھے انتیس تاریخ کو
22:37پوری امید ہے کہ پھر تاریخ ہی دی جائے گی
22:40ورنہ میں تو چھوٹی سی
22:42سمپل سی بات کرتا ہوں
22:43ہیوی اس پیٹیشن میں کون سا ایسا قانون ہے
22:45جس کی تشریح کی ضرورت ہے
22:47ہم کہہ رہے ہیں کہ ایک آدمی میسنگ ہے
22:49ایک آدمی کا ویر آباؤٹس نہیں پتا
22:51وہ تیرہ اکتوبر کے بعد آج تک
22:53کسی کو نظر نہیں آیا
22:54وہ کہاں ہے وہ کس کے پاس ہے
22:57اسے لاکر عدالت میں پیش کر دیں
22:59تو ہونا تو یہ چاہیے کہ آرڈر یہ ہوتا
23:01کہ انتیس تاریخ کو جہاں پہ بھی
23:03سات سا موجود ہیں انہیں لاکر پیش کر دیا جائے
23:05انہ صاحب جہاں پہ بھی انہیں لاکر پیش کر دیا جائے
23:08لیکن کیونکہ یہ ایسی کاروائی
23:09کوئی نظر نہیں آ رہی
23:10اب یہ ایسا کیوں ہو رہا ہے
23:11میں تو اس پہ بڑا خاموش ہوں
23:13میں نہیں کچھ بھی کہہ سکتا
23:16لیکن between the lines
23:17پتہ نہیں کیوں ایسا ہو رہا ہے
23:19سمجھ نہیں آ رہی ایسا کیوں ہو رہا ہے
23:20KBS پیٹیشن کو اتنی طویل چلانا
23:22اور اس سب کو دیکھوں
23:24تو مجھے یہی لگتا ہے کہ
23:25انتیس کو بھی کچھ نہیں ہوگا
23:26تو اس میں کون کون فری کون کون سے ہیں
23:31ہم نے گورنمنٹ آ پاکستان سے لے کر
23:34آئی جی تک
23:35ڈی جی ایف آئی اے سے لے کر
23:37ہر ہر اس بندے کو
23:39جو اب بلکہ جو ہم نے
23:40مینڈٹ پیٹیشن دی ہے
23:41اس میں ہم نے 54 ایسا چوز کو بھی پارٹی بنا دیا
23:46ہم نے تو چھوڑے نہیں کسی کو جسے پارٹی نہیں بنایا
23:48ہم نے کہا جس سے بھی جہاں پہ بھی ہوا ہیں
23:50ایک دفعہ سامنے لے آئیں بس
23:51ان پہ مقدمات ہیں
23:54لائیے ان کے مقدمات انہیں فیس کرنے دیں
23:56سامنے کوٹے موجود ہیں جہاں باقی لوگ فیس کر رہے ہیں
23:59وہاں وہ بھی کریں گے
24:01اسی سے
24:02related اگلا سوال کرتے ہیں
24:03سعاد ویدی صاحب جو ہیں
24:06وہ abduct ہیں
24:07ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں
24:09آپ نے درخواست وزارت داخلہ کو دی
24:1290 دن کے بعد سنوائی نہیں ہوئی
24:14کچھ نہیں ہوا
24:14پھر آپ ہائی کوٹ آگے
24:15کچھ نہیں ہوا
24:16آپ سپریم کورٹ گئے
24:18کچھ نہیں ہوا
24:19اب ہم سپریم کورٹ نہیں گئے
24:22اسے کلیر کیجئے
24:24اب ہم سپریم کورٹ نہیں گئے
24:25کیونکہ ہمیں انٹیری منسٹی کا کوئی order نہیں آیا
24:27order نہیں ملا
24:28order ملے گا
24:29یا وہ reference بیجیں گے
24:30تو ہم سپریم کورٹ ضرور جائیں گے
24:32ہاں یہ بات درست ہے کہ ہم نے لاہور آئی کورن میں جو ریٹ فائل کی ہوئی ہے
24:35اس ریٹ کی تاریخ مقرر نہیں کی جا رہی
24:37تاریخ مقرر نہیں ہوئی
24:39آٹھ ماہ سے جامعہ مسجد رحمت اللہ العالمین پند ہے
24:43اور وہاں پر اب تک ہزاروں نمازیں نہیں ہو سکی
24:46اس کے خلاف بھی آپ نے لاہور آئی کورن سے رجوع کیا
24:49تو مسجد کو کھولنے میں کیا مسئلہ ہے
24:52کیوں نہیں اس کی درخواست مقرر ہو رہی
24:54سر ہم نے اس سے مطالقہ جو درخواست فائل کی تھی
24:57وہ پہلی درخواست بوجو واپس لے لی گئی
25:01جو کسی اور لایر نے فائل کی ہوئی تھی
25:04تو وہ واپس ہونے کے بعد اس موضوع پر دوسری جو درخواست ہے
25:08وہ میرے دفتر سے فائل کی گئی
25:11اور اس پہ آنرابل لاہور آئی کورٹ نے ہماری وہ ریٹ پیٹیشن جو تھی
25:15وہ خارج کر دی
25:17اور اس میں انہوں نے ریزن یہ لکھا ہے
25:19کہ جہاں مسجد رحمت اللہ العالمین واقعہ ہے
25:21اس کی سراؤنڈنگ میں وہ کہتے ہیں
25:23کہ یہ اٹھتیس اور مسجدیں
25:25دو کلومیٹر کے ریڈیس میں موجود ہیں
25:27جس نے نماز پڑھنی ہے
25:29وہ جا کر ان اٹھتیس مسجدوں میں پڑھ لے
25:31اس مسجد میں فی الحال نماز کے لیے اجازت نہیں ہے
25:35یہ ریزن ہے
25:36اور کوئی ریزن نہیں ہے
25:37کہ یہاں پہ کوئی اس طرح کی ایکٹیویٹی ہو رہی ہے
25:39یا یہاں پر جو ہے وہ
25:42نہیں سر ایکٹیویٹی کا تو میرے پاس سمپل سا جواب ہے
25:44میں سیدھی سی بات کرتا ہوں
25:46آپ نے چھپن پرچے دیئے تحریک لبیق پر
25:49اگر آپ کو تحریک لبیق کی کسی ایک ایکٹیویٹی میں
25:54مسجد رحمت العالمین ملوث نظر آتی ہے
25:57تو کسی ایک ایف آئی آر کا حصہ بنا دیتے
25:59آپ نے نوہ کورتھانے میں جو اس کی جورس دکشن ہے جہاں پر
26:02آپ نے وہاں پر ایک سے زائد ایف آئی آریں دی ہوئی ہیں
26:04تو یہ اللہ کے گھر کا اتنا خوف و در کیوں ہے
26:10یہ آپ ان سے پوچھیں گے
26:12جنہیں خوف ہے
26:14اور لائٹر موڈ میں میں یہ کہہ سکتا ہوں
26:16کہ اللہ کا شکر ادا کریں
26:17کہ انہیں کسی ایک جگہ پر تو اللہ کا خوف ہے
26:23سارے پاکستان میں انہیں کسی جگہ پر
26:24اللہ کا خوف نہیں ہے
26:25کوئی ایک جگہ تو اللہ کا گھر ایسا بھی ہے
26:27جس پر انہیں اللہ کا خوف ہے
26:29تو آپ اس پر اتمنان رکھیں
26:31لیکن ہم اس کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں
26:32اور وہی اب ہمارے پاس آخری چوائز ہے
26:35یہاں پر ان کا دفتر بھی ہے
26:36جامعہ مسجد الرحمین کے کچھ فاصلے پر
26:39یہاں میں وضاحت کر دوں آپ سے
26:41دیکھئے یہی وہ مسکنسپشن ہے
26:43جسے لے کر بہت ساری دنیا چل رہی ہے
26:46کہ جامعہ مسجد رحمت اللہ العالمین سے ملہکہ
26:50کیونکہ مولانا خادم رزوی صاحب کا مزار مبارک ہے
26:53تو لوگ یہ سمجھتے ہیں
26:56کہ مسجد رحمت اللہ العالمین جو ہے
26:57وہ سیاسی مرکز ہے
27:00اور وہاں پر سیاسیات ہوتی ہے
27:01میں آپ سے گزارش کر دوں
27:03کہ مسجد رحمت اللہ العالمین میں
27:05کوئی سیاسی ایکٹیویٹی نہیں ہوتی
27:07مسجد رحمت اللہ العالمین سے کچھ فاصلے پر
27:10تحریک لبیق کا دفتر موجود
27:12وہ ایک الگ بیلڈنگ ہے
27:13وہ ایک الگ امانت ہے
27:15مسجد سیل ہے
27:16مسجد سیل ہے
27:17وہاں پر آپ عبادت نہیں کر سکتے
27:19جی بالکل ایسی
27:20وہاں پر آپ جا نہیں سکتے
27:21ایسا ہی ہے
27:21اور یہ کہا جاتا ہے
27:22کہ اس علاقے میں
27:24اٹھتیس مساجد ہو رہے ہیں
27:25آپ نماز وہاں جا کر پڑھیں
27:26آپ نماز وہاں
27:27یہ
27:27یہ لکھا ہوا دیا ہے جی
27:29انٹیریل منسٹری نے
27:31ہوم ڈپارٹمنٹ نے لکھ کر دیا
27:32اور اسی لوجک کو
27:34آنوریبل جیج نے
27:35ایکسپٹ کر کے
27:36ہماری پیٹیشن ریجیکٹ کی ہے
27:37ایکسپٹ کر لیا
27:38جی ایکسپٹ کی ہے انہوں نے
27:38تو سر قانون میں
27:40کئی کنجائش ہے
27:41کہ اس بنیاد پر
27:42جو ہے وہ ایک مسجد
27:43بند کرتی ہے
27:43سر میں نے تو کبھی
27:44میں نے تو آج تک جو قانون پڑھا
27:46اس میں ایک ہی قانون تھا
27:47once a mosque is always a mosque
27:49ایک جگہ جو آج مسجد ہے
27:51وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہے
27:52میں نے تو کبھی یہ نہیں پڑا
27:54کہ آپ کسی کو یہ کہیں
27:55کہ ایک مسجد سے
27:56پچیس فٹ دور
27:57دوسری مسجد ہے
27:57لہٰذا دونوں میں سے
27:58ایک مسجد کو بند کر دیا جائے
28:00لیکن افسوس کی بات ہے
28:01کہ ہائی کورٹ نے
28:02اس لوجک کو مان لیا ہے
28:03حافظ سعاد رزوی اور انسزوی
28:05کے خلاف کچھ مقدمات درج ہیں
28:07جن میں یہ کہا گیا ہے
28:09جس مطلب میں
28:09کہ ان کی فائرنگ سے
28:12جو ہے وہ
28:12ان کے ہی جماعت کے قارکن
28:14شہید ہوئے ہیں
28:15جانبہ حق ہوئے ہیں
28:16تو
28:17اس میں
28:18کس حد تک صداقت ہے
28:19یا آپ
28:21سر اس کی لوجک آپ
28:22مجھ سے پوچھنے کی بجائے
28:24صرف اتنا
28:25اگر آپ کو بتا دوں
28:26کہ ہر ایسی
28:28ایف آئی آر کا مدعی
28:29پولیس کا ایک ملازم ہے
28:32اس سے ہی ساری بات
28:33کلیر ہو جاتی ہے
28:34کہ پولیس خود ہی
28:35دیکھئے نا کتنی مزاک
28:36خیز قسم کا الزام ہے
28:38ایک ایف آئی آر میں نے ایسی دیکھی
28:40جس میں انہوں نے کہا کہ
28:43تحریک لبیک کے لوگ آئے
28:45انہوں نے تھانے پر حملہ کر دیا
28:47اور تھانے کے مال خانے سے
28:49انہوں نے کلاشن کوفیں چوری کر لی
28:51اور اسی تفتیشی افسر نے
28:53چار دن بعد لکھا
28:54کہ جناب وہ ساری کی ساری کلاشن کوفیں
28:56جو مال خانے سے چوری ہوئی تھی
28:58وہ میں نے سب سے مکمل
28:59صحیح آلت میں برامت کر لی
29:01برامت بھی کر لی
29:02میری کلاشن کوف ہے
29:04میرے پاس تھی
29:05میں اسے آپ چرا کر لے گئے
29:07چار دن بعد میں نے آپ سے برامت کر لی
29:09آپ کے خلاف میں نے مقدمہ بنا دیا
29:11اب پولیس ہے
29:13پولیس لبیک کے ہی کارکن کو
29:15سعاد رزوی صاحب سے گولی مروا رہی ہے
29:18انس رزوی صاحب سے گولی مروا رہی ہے
29:19اس کی لوجک آپ خود دیکھ لیجئے
29:21کہ ایک پروسیشن ہے
29:24جسے وہ لے کر نکلے ہیں
29:27اس پروسیشن میں
29:28لوگ ان کی قیادت میں
29:31اتجاج کرنے کے لیے نکلے ہیں
29:33اور انس رزوی صاحب
29:35اور سعاد رزوی صاحب کو
29:36اچانک کچھ ایسا ہو گیا
29:37کہ انہوں نے اپنے ہی کارکنوں کو گولیاں مارنی جروع کر دی
29:40بھی اسلم پر بھی یہی زامنوں میں
29:43پوری بات سنیے گا ذرا شاکر پوری بات سنیے گا
29:46انہی نے گولیاں ماری
29:49انہی کے ساتھی
29:50انہی کی ناشیں اٹھا کر بھاگ گئے
29:54آپ کو ناش بھی نہیں ملی
29:55وہ ناش جو تھی وہ اٹھا کر
29:58لبیک والے ہی لے گئے
30:00اور لبیک پہ پرچا کر دیا
30:02اگر وہ ناش مل گئی
30:04تو بھی لبیک پر پرچا کر دیا
30:07یہ تو پتا چلے گا
30:08جب ٹرائل آپ عدالت میں لائیں گے
30:10اور وہ شہید
30:13جب اس کے ورسہ نے آ کر بتایا
30:15کہ اصل گولی کس کی تھی
30:17جب اس کے ورسہ نے آ کر عدالت میں بیان دیا
30:19کہ اس کی گولی کس نے چلائی تھی
30:21کس سے لگی اور کس نے
30:23کس کے خلاف غلط الزام لگایا
30:25حقیقت سامنے آ جائے گی
30:27حقیقت تو سامنے آ جاتی ہے
30:29لیکن فیصلہ آئے گا فیصلے میں
30:31کہا ہوگا نہیں
30:32یہ فیملی غلط کہہ رہی ہے
30:33تو اسی طرف سے جو بات ہو رہی ہے وہ ٹھیک ہے
30:36دیکھئے ہمارا کام ہے کیس لڑنا
30:39جج کا کام ہے فیصلہ دینا
30:41ہمارا کام ہے اس ججمنٹ کے خلاف
30:43لڑنا لڑنا لڑنا اور لڑنا
30:45تا وقتے کے انصاف باہر آ جائے
30:48اب یہ آپ کو میں
30:49کیسے بتا دوں کہ وہ فیصلے کہاں سے آتے ہیں
30:52کون وہ فیصلے کرتا ہے
30:54اور کن فیصلوں کی وجہ سے
30:55کہاں پر کہاں کہاں نائنصافیاں ہو رہی ہیں
30:58میں صرف آپ کو ایک فکرہ بول دیتا ہوں
31:01میں اس سے زیادہ شاہدہ آپ کو
31:02کچھ نہیں کہہ سکوں گا
31:03یہاں پر کیسوں کے فیصلے ہو رہے ہیں
31:06انصاف نہیں ہو رہا
31:09ملکل درست کہہ رہا ہے
31:10یہاں پر کیسوں کے فیصلے ہو رہے ہیں
31:12انصاف نہیں ہو رہا
31:14اور میں کیمرے کو دیکھ کر کہہ رہا ہوں
31:16کہ میری بات جو سمجھ سکتے ہیں
31:18وہ اس کی گہرائی تک پہنچ جائیں
31:22صرف مجموعی طور پر لبیک کی خلاف کتنے مقدمات وہ آپ نے بتا دیئے
31:28کتنے جو ہے وہ کارکن رہنما گرفتار ہوئے اور اب بھی ایٹی سی کے عدالت کے اندر
31:34بچوں کو لے کے آ رہے ہیں انڈر ایج بچے جو ہیں ان کے پر بھی الزامات اور بھی لوگ
31:40اچھا میں نے یہ دیکھا کہ جج صاحب جو ہیں وہ ادھر سے کہتے تھے کہ اس مقدمے میں ہم
31:43کسچارج کر رہے ہیں
31:44ابھی وہ کمرہ عدالت سے باہر نہیں پہنچتے تھے تو انہیں پھر دوبارہ گرفتار کر لیا جاتا
31:49تھا پھر دوبارہ انہیں عدالت میں پیش کیا جاتا تھا جیسا اب دوبارہ
31:52ڈسچارج کرتے تھے تو اب تک کتنے جو ہیں وہ لوگوں کو ڈسچارج کیا گیا ہے اور اس
31:58حوالے سے دیکھئے آپ نے مجھ سے گرفتاروں کا پوچھا اگر میں ڈسچارج لوگوں کی طرف
32:02جاؤں تو میرا خیال ہے ایک ہزار سے زیادہ لوگ ہیں جنہیں عدالت نے گرفتاری سے
32:06بچایا اور ڈسچارج کر دیا یہ بہت بڑا تیگر ہے ایک ہزار سے زیادہ ایک ہزار سے
32:14ملوث نہ پا کر ڈسچارج کیا ہوا ہے دوسرا آپ نے جو سوال کیا بڑا خوبصورت
32:19سوال تھا اس کا ایک جواب میں آپ کو دوں شاکر اگر آپ کیسز اٹھا کر دیکھیں
32:26نا پی ٹی آئی کے اور ٹی ایل پی کے تو آپ کو ایک پیٹرن نظر آتا ہے ایک
32:31یونی فارمٹی نظر آتی ہے آپ اگر ان کے اندر سے ملزمان کے نام تبدیل
32:36کر دیں تو آپ کو لگے گا کہ یہ تو وہی ایف آئی آر ہے جو پی ٹی آئی پہ
32:39دی گئی
32:40تھی اگر آپ پی ٹی آئی کی ایف آئی آر کے اندر لبیہ کے نام ڈال دیں تو لگے
32:44گا کہ یہ تو وہی ایف آئی آر ہے جو پہلے ہی ہم پڑھ چکے ہیں وہی پولیس
32:47آفیسر ہے وہی پولیس کا گواہ ہے وہی گاڑی جلنے کا الزام ہے وہی ایک
32:54انٹی رویڈ سمان چھیننے کا الزام ہے وہی گیس کا شیلت چھیننے کا الزام
32:58ہے وہی توڑ پھوڑ کا الزام ہے وہی کیمرہ توڑ دیا وہی میری طرف غصے سے
33:03دیکھ لیا میری شرٹ کا بٹن توڑ دیا مجھے مارا جس سے مجھے تھپڑ لگیا
33:07آپ دیکھیں ایسے لگتا ہے کہ جیسے ایک فارمولہ ہے اور اس فارمولے کے
33:13تحت تمام ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا ہے اس لیے میں گزارش کر رہا ہوں
33:18کہ یہ بلکل ایک یونی فارمٹی ہے ایک ایسا ایسا دستاویز آپ کو ایف آئی آر
33:24نظر آئے گا جس میں صرف پی ٹی آئی اور ٹی لپی کے ناموں کا فرق ہے باقی سب ایک
33:30اسے صرف ہم نے یہ دیکھا کہ علامہ قادم نظری صاحب کی زوجہ ان کی
33:37صاحبزاتیاں ان کی بہو حتیٰ کہ دودھ پیتے بچے جو ہے ان کو بھی جو ہے وہ
33:41گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی اوپر جو ہے وہ سیون ایٹی ہے لگائی گئی اور
33:45پھر جو ہے ان کی ویہائی بھی ہو گئی اب یہ جو ان کی اوپر سیون ایٹی کا
33:50مقدمہ لگایا گیا گیا گیا گیا تو اس میں کیا الزامات ہیں انہوں نے کیا
33:54کوئی ایسا عمل کیا جو دہشت گردی کے اتنے سنگین مقدمے کی وہ
34:01دفاعات میں شامل ہوتا ہے اس میں گزارش یہ ہے کہ بتیس اناسی ایک ایف آئی آر
34:05ہے اس ایف آئی آر میں گھر علو تمام خواتین کے نام دیے گئے تھے گھر کی
34:10سرج کے دوران کچھ پیسے ملے تھے وہ پیسے انہوں نے الیج کیے اور معاملات
34:15انہوں نے الیج کیے اور اس میں پھر بعد ازاں گورنمنٹ نے ان کو اس میں سے
34:19ریلیز کر دیا تھا وہ تمام الزامات جو ہیں وہ بھی انٹی ٹارزم کے دہتی لگے
34:23ہوئے ہیں تو ابھی تک وہ پچہ جو ہے وہ قاہم ہے جی وہ قاہم ہے تو اس کے
34:28حوالے سے اب کیا ان کی دوبارہ گرفتاری ہو سکتی ہے یا یہ مقدمہ بھی ٹرائل
34:32کیلئے جائے گا یہ مقدمہ ڈیفینٹلی ٹرائل کیلئے جائے گا لیکن ان کے
34:36گرفتاری شاید دوبارہ ضرورت محسوس نہ ہو اس میں یہ بھی نہیں سمجھا رہا کہ
34:42گرفتاری ہوئی تو قانون اور ضابطے کے مطابق تو ایک پورا پروسس ہے وہ
34:48پروسس ہمیں نظر نہیں آیا نہیں گورنمنٹ ریلیز تو کر سکتی ہے نا گورنمنٹ
34:52کو پاس discharge کروانے کا اختیار ہے گورنمنٹ کے پاس تفتیش میں وان
34:56سکسٹی نائن میں چھوڑ دینے کا اختیار ہے گورنمنٹ کے پاس اختیارات
35:00تو ہیں جو پولیس اپنی رضا مندی سے کیجئے کو چھوڑ سکتی ہے وہ اسی
35:04پاور کے تحت چھوڑا گیا ہے ٹھیک ہو گیا وان سکس نائن ہے اس
35:07میں سی ایر پی سی کہ پولیس جب دیکھتی ہے کہ شخص ملاوث نہیں پایا
35:10جا رہا تو وہ اس کو ریلیز کر دیتی ہے اس کے پرسنل بانڈ پر ٹھیک آخر
35:15مصر جو لبیگ کے کارکن ہیں اور ان کے جو اس وقت لوگ قید ہیں ایک
35:23بڑا طویل انہوں نے ایک سفر ابھی تک طے کیا ہے یعنی دو سو باون دن
35:27ہو گئے ہیں وہ ان مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور جو الزامات
35:33ہیں ان ان کے مطابق آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ کب تک ان کو اس
35:39مقدمات میں جو ہے یا تو زمانت ملے گی یا اس مقدمات میں بری ہوں
35:43گے یا یہ معاملہ کب تک چلے گا دیکھئے ہر ایف ای آر میں نامزد
35:48لوگوں کی مختلف کیٹیگریز ہیں ایک وہ کیٹیگری ہے جس جن کے اگینس
35:54کچھ تھوڑا سی سنگین الزامات ہیں تقریبا کوئی سو سو سو کے قریب ایسے
35:59لوگ ہیں جن کے خلاف سنگین الزامات ہیں اور ان کی زمانتیں
36:03ابھی تک ہائی کورٹ سے بھی خارج ہوئی ہیں اور ان کے متعلق اب
36:06ہم سپریم کورٹ کو رجوع کر رہے ہیں چھپن ایف ای آروں کے چالان
36:10آنے ہیں عدالتوں میں جن کے ٹرائل ہونے ہیں ان میں سے ابھی تک پندرہ
36:16کیسز کے چالان جو ہیں وہ انٹی ٹررزم کورٹ میں پہنچ چکے ہیں جن
36:19میں سے چار کیسز میں فرد جنم بھی لگ چکا ہے اور کسی وقت بھی ان کا
36:22ٹرائل شروع ہو سکتا ہے اور تقریبا کوئی گیارہ کے قریب ایسے ہیں جن
36:27میں حاضری مکمل کی جا رہی ہے تو چالان جو ہیں وہ اب وہ میرا
36:32خیال ہے ویدن ڈیز وہ کورٹ میں دیں گے چیک ہوگا اس میں ہم نے دیکھا
36:36کہ پورے پنجاب سے لوگوں کو نامزد کیا گیا اور پنجاب کے مختلف
36:40ازلا سے لوگ جو ہیں وہ یہاں پر آتے ہیں انہیں بڑی مشکلات کا سامنا
36:45بھی کرنا پڑتا ہے تو کوئی پریویزن ایسی موجود ہے کہ ان کی حاضری
36:48معافی ہو جائے یا وہ یہ تو سب جب ٹرائل شروع ہوگا تو پھر اس کے بعد
36:52کوٹ کا معاملہ ہے اور ایسا میرے خیال کے مطابق عدالتوں کو اس لیے
36:57کر دینا چاہیے کہ میں نے دیکھا ہے کہ اس طرف سے اٹک اور اس طرف سے
37:00راجنپور تک کے لوگ ہیں جن کو مختلف قیسوں میں ملوث کیا گیا ہے وہ
37:05ایک طویل فہرست ہے جو لاہور سے باہر کے لوگوں کی ہے اور ان کے لیے
37:11تاریخ ہر تاریخ کو اٹینڈ کرنا بڑا ہی دشوار گزار ہوگا آخر میں ایک
37:15بڑا پرسنل سا سوال ہے میں اس مقدمات کو عدالتوں میں بھی کبر کرتا
37:21رہا ہوں دیکھتا رہا ہوں تاریخ لپیک کے مقدمے میں پیش ہونے
37:25کے لیے کوئی وقیر راضی نہیں ہوتا تھا یہ میں نے اپنی آنکھوں سے
37:28دیکھا ہے تو آپ نے کیا سوچ کر جو ہے یہ مقدمات لیے کیونکہ میں نے
37:35بڑے بڑے بکلا کو دیکھا ہے انہوں نے انکار کرتی ہے انہوں نے
37:38کہا جی میں ہم اس معاملے میں ہم آپ کی کچھ نہیں کر سکتے ہیں دیکھئے شاکر
37:42اس میں دو مختلف نقطے ہیں ایک تو میں پروفیشنل وکیل ہوں آپ کے
37:53علم میں ہے کہ میں پچھلے کئی سالوں سے کرتا ہی فوجداری وقالت ہوں میرے
37:59پاس کوئی سائل آئے گا وہ اپنا کیس مجھے دے گا اگر میرے اس کے
38:02درمیان فیس طے ہو جائے گی تو میں اس کا کیس ضرور کروں گا اور میری
38:06کوشش ہوتی ہے کہ میں کیس جو ہے وہ قانون کی چار دیواری کے اندر
38:09قانون کے دارہ کار کے اندر کسی کا کیس لڑوں میں نے کبھی کسی کیس
38:13کو پرسنل نہیں لیا بلکل اس لیے ایک تو پروفیشنل ہی جب انہوں نے
38:17مجھ سے اور میں اس اپیسوڈ سے پہلے بھی دوزار اکیس میں بھی نبیہ
38:22کا وکیل رہا ہوں جب انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے
38:25پروفیشنل ہی انگیج کیا ہے اور میں ان کے ساتھ کام کر رہا ہوں دوسری ہے
38:30ایک ذاتی ہو جانا وہ بھی میں آپ سے شیئر کیے دیتا ہوں شاکر
38:35مجھے ایسے لگتا ہے کہ ویسے میرے کہنے کا قطن مقصد یہ نہیں
38:40ہے کہ دیگر جو لوگ ہیں وہ آشکان رسول نہیں ہے میں ہر ہر
38:45مسلمان کو آشک رسول سمجھتا ہوں میں ہر مسلمان کے مطالق یہ
38:50سوچتا ہوں کہ اگر وہ عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں
38:53نہیں ہے تو پھر اس کا ایمان ہی نہیں ہے لیکن مجھے کچھ تھوڑا سا ایسا
38:59محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس جماعت میں آشکان رسول بھی دوسروں
39:05کی نسبت کچھ تھوڑے سے زیادہ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا ذاتی
39:10طور پہ اور میں نے یہ سوچا کہ اگر اس تمام پروسیس میں کسی ایک
39:15آشک رسول کی بھی میں خدمت کر گیا تو میری دنیا کے ساتھ میری آخرت
39:18سمجھ جائی تو میرے دوسرا جو نکتہ ہے وہ میرے لیے میرے ذہن کے
39:23مطابق بہت بھاری تھا میں پھر ریپیٹ کر رہا ہوں کہ میں ہر مسلمان
39:28کو آشک رسول سمجھتا ہوں میں ان لوگوں کو بھی آشک رسول سمجھتا
39:33ہوں میں یہ سمجھتا ہوں کہ لبیک کے لوگ جو ہیں وہ عشق رسول صلی اللہ
39:37علیہ وآلہ وسلم سڑکوں پر نکلے ہیں باہر نکلے ہیں اور یہ لبیک
39:42کہتے ہیں نبی پاک کی ہر ہر ذات مقدس سے متعلقہ بات کو تو اگر میں
39:49ان میں سے کسی ایک کی بھی خدمت کرنے میں کامیاب ہو گیا تو میری آخرت
39:54سمجھ سکتی ہے یہ دو وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر میں ٹی ایل پی
39:58کا وکیل ہوں لیکن اس کو محدود نہ کیجئے میں سارے پاکستان کا
40:02وکیل ہوں بے شمار لوگ میرے پاس ایسے بھی ہیں جو جن کا کسی بس بھی
40:08یا سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے وہ عام کرمینلز ہیں تو آپ کے
40:12سامنے ان کے لیے بھی مزدوری کرتا ہوں بلکل تینکیو سر ناظرین
40:16ہوایے ساتھ برحان معظم ملک صاحب جو ہے وہ موجود تھے اور انہوں
40:20نے اپنی قانونی رائے جو ہے حافظ سادریزوی انسریزوی تحیق
40:25لپیک کے کارکنان اور ان کو پر جو ایک اس وقت جو مقدمات کی ایک
40:31سلسلہ چل رہا ہے اس کے متعلق انہوں نے گفتگو کی پھر ان سے
40:37دوبارہ اب کیونکہ ٹرائل شروع ہوگا تو میری کوشش ہوگی کہ میں
40:40کوٹ لکپت چیل میں چاہ کر یہ ٹرائل کور کروں اور یہ جو حقائق
40:45بتا رہے ہیں کیونکہ میں نے برحان صاحب کی جرہ جو ہے وہ
40:48کور کی ہوئی ہے تو وہاں پر یہ جو پوسٹ مارٹم کرتے ہیں اور جس
40:52طرح جو حافظ صاحب والا معاملہ ہے کہ کس طرح انہوں نے فائرنگ
40:56کی یہ معاملہ ہوا تو وہ جرہ اگر آپ کے سامنے آ جائے تو یقین
41:01کریں کہ آپ خود فیصلہ کریں گے کہ کتنا سسٹم میں ہمارے جو ہے اس
41:06میں کنٹرول کر کے کتنی چیزوں کو جو ہے وہ آئین اور قانون کے
41:10خلاف جو ہے وہ کیا جا رہا ہے پھر آپ سے دوارہ ملاقات ہوگی
41:13ہمیں اجازت دیں اللہ حافظ
41:15گھر بیٹھے آن لائن ارننگ کا خواب اب دمراز ریل بنا رہا ہے
41:18دمراز آن لائن سٹور صرف پروڈکس نہیں دیتا بلکہ ایک ریل آن لائن
41:22ارننگ پلیٹ فارم بھی پروائیڈ کرتا ہے اگر آپ گھر بیٹھے سوشل
41:25میڈیا کے ثروع آن لائن ارننگ کرنا چاہتے ہیں تو دمراز آپ کو
41:28سٹیپ بائی سٹیپ گائیڈ کرتا ہے یہاں پر آپ کو سکھایا جاتا ہے کہ آپ
41:32اپنے موبائل سے کام سٹارٹ کر کے کیسے ایک اچھی خاصی انکم
41:35جنریٹ کر سکتے ہیں وہ بھی بینا آفیس کے تو ابھی آپ ہم سے
41:39کانٹیکٹ کریں ہم آپ کو گائیڈ کریں گے کہ کیسے آپ اپنی
41:41آن لائن جرنی کو سٹارٹ کر سکتے ہیں
Comments