Skip to playerSkip to main content
امریکہ کا اس وقت کیا منصوبہ چل رہا ہے؟

امریکہ و یورپی استعمار میں کیا فرق ہے؟

سلمان علی کی اس تفصیلی وڈیو میں آپ کو بہت کچھ سمجھ آئیگا

#News
#Motivation
#Motivated
#Education

Category

📚
Learning
Transcript
00:02ناظرین آپ کی سکرینوں پر ہر وقت آئے دن کچھ نہ کچھ تھوڑی تھوڑی دیر بعد
00:07ڈانلڈ ٹرم کے چرچے ضرور پہنچتے ہوں گے
00:10وہ کچھ نہ کچھ بول دیتا ہے کچھ نہ کچھ کر دیتا ہے اور کچھ نہ کچھ ہلا جلا دیتا
00:14ہے
00:14گرین لینڈ ہو غزہ ہو ٹیریف ہو ایران کا معاملہ ہو وینیزویلا کا معاملہ ہو
00:20چین ہو روس ہو یوکرین ہو سب کچھ امریکہ کے عرد گھوم رہا ہے
00:25امریکہ سوپر پاور کہلاتا ہے
00:27اس وقت جتنی بھی عالمی بدنظمی پھیلی ہوئی ہے وہ پھیلانے والا وہی ہے جس نے یہ عالمی نظم قائم
00:33کیا ہوا ہے
00:34جی ہاں کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ ٹرمپ کا دور حکومت ہے بس جانے دو گزر جانے دو
00:39چین اور روس اس لیے خاموش ہیں کہ وہ بھی اس عارضی وقت کو نکالنا چاہتے ہیں
00:44اس کے بعد سب نارمل ہو جائے گا
00:46کچھ کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک سٹرکچرل ٹرانسفورمیشن ہے جو کہ عالمی سرمایہ داران نظام کے تعدادات کے نتیجے
00:52میں ہو رہی ہے
00:53کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ٹرمپ پاگل نہیں ہے
00:55بلکل بھی پاگل نہیں ہے
00:57اس کے تمام کاموں کے پیچھے پوری نظریاتی کارگزاری یعنی آئیڈیالوجیکل مومنٹ ہے
01:02اس بات کو سمجھنے کے لیے امریکی وجود کی تاریخ اور امریکی سامراجیت کو ایک نظر دیکھے بغیر کچھ ممکن
01:10نہیں
01:10یہ بات جان لیں کہ امریکی ریاست کا قیام تاریخی طور پر اپنی ایک شرمناک مگر منفرد شناخت رکھتا ہے
01:18یہ صرف معلوماتی ویڈیو نہیں ہے بلکہ بہت ساری چیزوں کو آپ کے سامنے کھل کے بیان کریں گی
01:24تو ہمارے ساتھ رہیے
01:27سب سے پہلے میں چاہوں گا کہ آپ یورپ اور امریکہ کا فرق سمجھ لیں
01:32یہ دو الگ الگ برے آزم ہیں
01:35یورپ کی اپنی ایک تاریخ ہے
01:37یورپ کے اندر سے روایت اور مذہب سے بغاوت کر کے جدیدیت اور اس کے نظریات نے جنم لیا
01:44وہی سے چرچ مورڈنائز ہوا
01:48پروٹیسٹینزم ڈیزم کیٹھولکزم فیوڈلزم یہ سب چیزیں وہی سے نکلیں
01:52مزاروں کو وہاں سرمایہ دارانہ لیبر میں ڈھالا گیا
01:56بادشاہت وہاں موجود تھی
01:58ایبسولیوٹ منارکی کی شکل میں
01:59اسی کو پولٹیکل سورنیٹی میں تبدیل کیا گیا
02:02یعنی جدید ریاستی قالب میں ڈھالا گیا
02:05اس لیے یہ جان لے کہ یورپ میں سارا دستیاب دھانچہ ہی
02:08جدیدیت کے اثرات لے کر سرمایہ دارانہ قالب میں ڈھل گیا
02:12تصور شہریت
02:13حقوق
02:14پھر ویلفیر کا تصور
02:16یوں بتدریج آگے بڑھتے گئے
02:17چرچ سکڑتا ہوا ویٹیکن تک محدود ہو گیا
02:20روایتی تاجر
02:22مرچنٹ سرمایہ دار بن گئے
02:24فیوڈل لارڈ
02:25کیپٹلسٹ لارڈ بن گئے
02:26کارپریشنز بن گئیں
02:28یوں یورپ اپنے پہلے سے موجودہ نظام کو ختم کرنے کے بجائے
02:32اسی کو جدیدیت میں ڈھالتا چلا گیا
02:35یہی سے استہواریت کے نئے نظریات نے جنم لیا
02:39اور زمینوں پر قبضوں کا
02:41صفاق ترین کام شروع ہوا
02:43یہ ہے یورپ کی مختصر سی تاریخ
02:48اب امریکہ چلتے ہیں
02:50امریکہ میں ایسا خوش نہیں ہوا
02:52کیونکہ امریکہ دراصل ایک سیٹلر
02:54یعنی قبضہ سٹیٹ ہے
02:56میں جہاں جہاں سیٹلر کہوں گا
02:58آپ جان لیجئے گا اس کو اردو میں قبضہ کہہ دیا
03:00چودہ سو ستانوے سے وہاں یورپیوں نے
03:03ڈیرے ڈالنا شروع کی
03:04میں نے بتایا آپ کو
03:06کہ یورپ میں جب سرمایہ دارانہ نظام
03:09ڈھلنا شروع ہوا تو انہوں نے
03:11دیگر جگہوں پر جا کر قبضے شروع کیے
03:13بلکل اسی طرح کے قبضے
03:15جیسے انہوں نے یہاں برسغیر میں کیے
03:17جیسے دیگر دنیا کے حصوں میں کیے
03:19ویسے ہی وہ سفر کر کے
03:21امریکہ آس پہنچے
03:23یہاں پندرہ سو پینسٹ میں
03:24پہلی سٹلمنٹ یعنی قبضے کی آبادی
03:27بسائی گئی اس خطے میں جو آج شمالی
03:29امریکہ کہلاتا ہے یورپیوں نے
03:31اس زمین کو دریافت کیا اور
03:32اپنی اضافی آبادی وہاں بھیجنا شروع کر دی
03:35زمینوں پر قبضے کیے
03:37ملیشیا بنائے غلام بنائے
03:39اور زمین پر قبضے کر کے
03:40بڑے پیمانے پر قتل عام شروع کیا
03:43اور اس کے بعد اپنا وہاں نظم قائم کیا
03:45اس لئے یہ بات نوٹ کر لیں
03:47کہ امریکہ کسی بھی
03:49پہلے سے موجود معاشرے سے نہیں
03:51بلکہ انسانوں سمیت
03:53سارا نظام باہر سے
03:55لایا گیا اصل زمین مالکان
03:57کو ختم کیا گیا
03:58یورپ میں انسانوں کا وجود پہلے سے
04:01تسلیم چدا تھا صرف ان کو
04:03بعد میں حقوق دے کر تبدیل کر دیا گیا
04:05امریکہ میں جو لوگ بھی موجود تھے
04:07ان کے وجود کو ہی نہیں مانا گیا
04:09افریقہ سے لیبر لائے گئی
04:11یورپ سے مزارے لائے گئے
04:13پیزنٹس جنہیں کہا جاتا ہے
04:14یورپ سے سرمایہ دار لائے گئے
04:17اور جو مقامی موجود تھے
04:18وہ صرف قابل صفائی
04:20یعنی نسل کشی کے قابل خرار دیئے گئے
04:22اور دل کھول کر مقامی امریکیوں
04:24یعنی ریڈ انڈینز کو قتل کیا گیا
04:26ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے
04:28کہ چونکہ اصل
04:29امریکی جو تھے وہ مقامی تھے
04:32لہٰذا ان کے دلوں میں
04:33اپنی زمینی ملکیت کا احساس تھا
04:35وہ ہزاروں سال سے وہاں رہ رہے تھے
04:37ان کے سامنے یورپی گورے اجنبی تھے
04:40ان کے سامنے یہ گوروں کی تہذیب
04:42تمدد طریقے کار
04:43زبان آلات
04:44سب کچھ اجنبی اور نیا تھا
04:46یہی بات یورپیوں کے لیے بھی تھی
04:48جنہوں نے ان اجنبیوں کے وجود کو
04:51یک سر رد کر دیا
04:52اس لیے ان کے درمیان جنگے بھی ہوئیں
04:55جگڑے بھی ہوئے
04:56اور یورپ نے بدترین طاقت کا استعمال کر کے
04:59ان مقامی لوگوں کو ختم کیا
05:01بلکل یہی کام یورپی
05:03اس وقت برعظم آسٹریلیا
05:04اور نیوزلینڈ میں بھی کر رہے تھے
05:06جی
05:07تو سترمی اور اٹھارمی صدی میں
05:09دنیا میں سب سے بڑی طاقت
05:11سب سے کیمتشہ
05:13زمین بن چکی تھی
05:15مغرب کا سارا سرمایہ داران نظام
05:17اپنی شکل ڈھال چکا تھا
05:19اس کے لیے انہوں نے زمینی ملکیت کا تصور دیا
05:21جو کہ سرمایہ طاقت پیداوار
05:24ہر چیز کا مرکز قرار دی گئے
05:26اسی وجہ سے دنیا بھر میں
05:28یورپی استعمالی قوتیں
05:29زمینوں پر قبضے کر رہی تھی
05:31اس وقت جتنے بھی سیاسی نظریات
05:34نے جنم دیا
05:35ان میں آئیڈیا آف فریڈم کے ساتھ
05:38پروپرٹی کا خاص تعلق جڑا ہوا تھا
05:40برطانیہ باقاعدہ اپنی کالونی
05:42یعنی اس وقت کے
05:44اس امریکہ سے ٹیکس لیتا تھا
05:46یہ بات ان قابض گوروں کو
05:48بہت بھاری لگتی تھی
05:49مگر باپ سے بغاوت کی حمت نہیں
05:52سترہ سو ترے سٹھویں
05:54برطانیہ نے ایک قانون پاس کیا
05:55کہ ہم اب بریعظم امریکہ کے
05:58مغرب میں مزید زمینوں پر قبضے نہیں کریں گے
06:01اس قانون کو وہاں کے
06:02اس قابض سیٹلرز
06:04یورپیوں نے ماننے سے انکار کر دیا
06:06کیونکہ یہ تو زمین پر مزید قبضے میں
06:08رکاوٹ بن رہا تھا
06:09ان سارے قابض گوروں کو
06:11پہلے ہی لاکھوں مقامی لوگوں کا خون
06:13مو کو لگ چکا تھا
06:14اس لیے انہوں نے اپنے باپ
06:16برطانیہ کو ٹیکس دے رہے
06:18اور اس کی چودرہٹ سے نجات پانے کے لیے
06:21برطانوی تسلط کے خلاف
06:23بغاوت کر ڈالی
06:25یہی وہ پرتشدد خونی جدوجہد تھی
06:28جو جارج واشنگٹن نے
06:29برطانیہ سے لڑ کر حاصل کی
06:32اس طرح انہوں نے 1776 میں
06:34دراصل برطانیہ سے آزادی پا کر
06:36امریکہ کو بطور ملک بنائے
06:38اس کو یہ انسانی آزادی کا
06:40سب سے بڑا عنوان اور جمہوری انقلاب
06:43قرار دیتے ہیں
06:47اس جالی آزادی کے نتیجے میں
06:49فیڈرلس پیپر کے نام سے
06:511788 میں
06:52امریکہ میں طویل بحث مباعثوں کے بعد
06:55ایک دستاویز بنا
06:56جس کو فیڈرلس پیپر کہتے ہیں
06:59اس میں انہوں نے ایک وسی جمہوریہ کے حق میں
07:01دلائل دیئے
07:02یعنی اپنا قبضہ پھیلا گئے
07:04جہاں مرکزی حکومت مضبوط ہوگی
07:07اور ریاستوں کا اتحاد قائم ہو جائے گا
07:09جہاں جا وہ قبضے کریں گے
07:11مغربی سرحت پر مقامی آبادیوں کو
07:13قدیم دشمن قرار دیا
07:15اور اس سے ان کو
07:17مزید زمینیں چھیننے کا جواز ملا
07:19یہ پیپرز پوری دنیا کے لیے
07:21جالی جمہوریت اور ہیومن رائٹس کی
07:23بائبل بھی بن گئے تھے
07:24برطانیہ سے نجات مل چکی تھی
07:26معاملہ آگے بڑھا
07:28صورتحال یہ تھی کہ برطانیہ سے
07:30یہ حصہ نجات لے چکا تھا
07:32الگ امریکہ بن چکا تھا
07:34لازمی بات ہے وہاں کے چرچ سے بھی
07:37رابطہ کڑیا تھا
07:38تو ایسے میں اٹھارہ سو پہتالیس میں
07:40فیڈلیس پیپرز ہی کی روشنی میں
07:42ایک مینیفیسٹ ڈیسٹنی کا
07:45نظریہ پیش کیا گیا
07:46اس کا مقصد یہ تھا
07:47کہ جو بھی ظلم اور جبر
07:49ہم کریں گے اس سرزمین پر
07:51اس میں خدای تائید ڈال دی جائے
07:54یعنی مذہبی ٹچ
07:56بدترین قتل عام کے جواز
07:58اور زمینوں پر قبضے تیز کرنے کے لیے
08:00انہوں نے خدا کی طرف سے تائید
08:01اور خدا کی مرضی کے
08:03خود ساختہ تڑکے لگائے
08:05ناظرین آپ نوٹ کیجئے
08:07اس پورے مینیفیسٹ میں
08:09انہوں نے خدا کی تائید کی دلیل
08:11نسلی برتری
08:13یعنی سفید فارم گوری چمڑی کو لیا
08:16انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا
08:17کہ دوسری تمام اقوام
08:19جیسے وہاں کی مقامی آبادی
08:21ریڈ انڈینز
08:22ہسپانوی ہوں
08:23یا افریقی نظات
08:24سب پر
08:25اس گوری چمڑی کو
08:27خدا کی طرف سے فطری برتری حاصل ہے
08:29جی ہاں
08:30آپ نوٹ کیجئے
08:32کہ دو ہزار چھبیس میں بھی
08:34سارے رائٹ ونگ
08:36مذہبی گورے ہیں
08:37چاہے برطانیہ میں ہو
08:39چاہے اسٹریلیا میں ہو
08:40امریکہ میں ہوں
08:41یہ سب نسلی برتری کا نعرہ لگاتے ہیں
08:44اور تمام کو
08:45کم تر قرار دیتے ہیں
08:47جی ہاں
08:47ڈانلڈ ٹرمپ آج بھی
08:49اسی نعرے کو پیش کر رہا ہے
08:51اسی نظریہ کے مطابق
08:52اپنی توسی چاہتا ہے
08:54آئیں آپ نوٹ کیجئے
08:55کہ برطانیہ سے
08:56سترہ سو چھتر میں
08:57جب امریکہ آزاد ہوا
08:58تو اس وقت
08:59اس کی صرف تیرہ ریاستے تھی
09:00پھر یہ سارے نظریات آئیں
09:02خونخوار قسم کے نظریات
09:10لیوزیانہ کی خریداری
09:11اٹھارہ سو تین
09:12ٹیکساس اٹھارہ سو پہنٹاریس
09:14میکسیکو سے جنگ کے بعد
09:16کلیفورنیا
09:17اریزونیا
09:18نیو میکسیکو
09:19اٹھارہ سو اٹالیس تک حاصل کیے جا چکے
09:21اگلے مزید ستر سالوں میں
09:24تیرہ سے پچاس تک پہنچ گئے
09:26پچاس ریاستے
09:27اب آپ اس تاریخ
09:29اور ان نظریات کے تناظروں میں
09:31نوٹ کر لیں
09:31تو صاف معلوم ہو جائے گا
09:33کہ آج ٹرم بھی
09:35گرین لینڈ
09:36کینیڈا
09:37اور یہ تمام خطے خریدنے
09:39اور قبضہ کرنے کی جو بھی بات کر رہا ہے
09:40وہ بھائیے نا اسی نظری کے بنیاد پر کر رہا ہے
09:43جس پر امریکہ کی بنیاد رکھی گئی تھی
09:45ٹرمپ نے
09:45سفید فارم اسمیت ہی کی بنیاد پر
09:48میگا
09:48یعنی میک امریکہ گریٹ اگین
09:50قرارہ دیا ہے
09:51آج
09:52وہ اسی بنیاد پر ہر جگہ کا
09:54قبضہ پیار سے
09:55یا خرید کر
09:57یا تڑی لگا کر
09:58یا فوجی طاقت سے قبضہ کر کے مانگ رہا ہے
10:01اس میں وہ قتل کرنے میں بھی درے نہیں کر رہا
10:03یا کرے گا
10:04کیونکہ یہ پوری تاریخی پریکٹس
10:07مبنی برحقیقت ہے
10:09شمالی امریکہ کی داستان تو آپ نے دیکھ لی
10:11اب ذرا نیچے چلتے ہیں جنوبی امریکہ میں
10:13وہاں سپین پرتگال فرانس وغیرہ کی
10:16ویسی ہی قبضہ کالونیا تھیں
10:18جیسے اوپر شمالی امریکہ میں جاری تھا
10:21اس معاملے میں
10:22ایک امریکی صدر آیا
10:23جیمز مانڈو
10:24اس نے اٹھارہ سو تئیس میں ایک نیا استعماری نظریہ پیش کیا
10:28اس نے کہا
10:29کہ امریکاز
10:31یعنی نورت امریکہ
10:33سنٹرل امریکہ اور جنوبی امریکہ
10:35یہ سارا خطہ صرف
10:37اب امریکہ کے سیاسی مداخلت کی جگہ رہے گا
10:41یہاں اب کوئی یورپی ملک
10:43اپنی کالونی نہیں بنا سکتا
10:45اب دونوں برعظم
10:46یعنی شمالی اور جنوبی امریکہ میں
10:49باہر سے مداخلت کا ٹھیکہ
10:52صرف امریکہ کے پاس ہوگا
10:54یہ وینیزویلا کے صدر کے ساتھ
10:56ابھی ٹرمپ کا معاملہ آپ نے دیکھا
10:58یہ اسی نظریہ کے تناظروں میں ہوا ہے
11:00تو یوں ہم کہہ سکتے ہیں
11:02کہ اس وقت جیمز مانڈو کے نظریات کو
11:04ڈانڈو کے نام سے
11:06امریکہ کی جماعت
11:07ریپبلکنز لے کر چل رہی ہیں
11:09صدر ڈانڈ ٹرم بیشن
11:14ویلسن ایزم
11:15جی ہاں
11:16اس کے بعد صدر امریکہ
11:18غڈرو ویلسن نے
11:19انیس اور تھارہ میں
11:21لبرل عالم گیریت کا منصوبہ بیش کیا
11:24جو امریکی خارجہ پالیسی کا مرکز بن گیا
11:26اس کے تحت امریکہ نے
11:28اپنے برعاظم سے باہر قدم نکالنے کا منصوبہ بنایا
11:32اس وقت عالمی منظر نامہ آپ دیکھیں
11:34تو پہلی جنگ عظیم ہو چکی ہے
11:36اور دوسری جنگ عظیم کی تیاریاں ہیں
11:38اور آپ کو اچھی طرح معلوم ہوگا
11:40کہ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ
11:42کس طرح سے بڑی طاقت کے طور پر سامنے آیا
11:44اس پورے دوران وہ اپنے
11:51اور اپنے آپ کو مضبوط کرتا رہا
11:52یورپ میں باقی ساری استعماری طاقتیں کمزور ہو چکی تھی
11:56لوٹ مار کر کر کے وہ بھی محدود ہو چکی تھی
11:59اب یہ امریکہ کا عالمی استعماری منصوبہ تھا
12:03جو علانیہ پیش کیا گیا
12:05افسوس یہ ہے
12:06کہ ہمارے سادہ لوگ مسلمان اس کو
12:08سازش سازش سازش کہتے ہیں
12:11حالانکہ یہ سب کھلے اور واضح علانات ہیں
12:14جو شائع ہوئے ہیں
12:15ان کے حقمت کتابیں لکھی گئیں
12:17دلائل دیئے گئے
12:18بس مسئلہ مطالعہ کا ہے
12:20وڈرو ویلسن نے دنیا کو
12:22اپنی یعنی امریکہ کی مارکٹ بنانے کے لیے
12:24عالمی سرمایہ داری کے کنٹرول کا جو منصوبہ دیا
12:27وہ امریکہ کی اس وقت دوسری بڑی جماعت
12:30یعنی ڈیموکریٹس لے کر چل رہی ہے
12:32اس کے جتنے بھی صدور آتے ہیں
12:33وہ لبرل ڈیموکریٹس کہلاتے ہیں
12:35اور بلکل اسی نظریہ کے حامل ہوتے ہیں
12:37جو وڈرو ویلسن نے پیش کیا
12:41مسلم ڈاکٹر آئی
12:42ناظرین آپ اس پورے منظر نامے کو
12:44جو ہم نے انتہائی اختصار سے پیش کیا ہے
12:46آپ کے سامنے بات پلیئر ہو گئی ہوگی
12:48کہ ڈانلڈ ٹرمپ
12:50اس وقت جو بھی کر رہا ہے
12:52وہ کوئی پاگلپن نہیں ہے
12:53بلکہ پیچھے سے ایک چلا آنے والا سلسلہ ہے
12:56اور اسی کے مطابق وہ عمل کر رہا ہے
12:58تو ایسے میں علمیاں آج بھی صرف مسلمانوں کا ہے
13:01جنہوں نے غلبہ اسلام کے لیے
13:03مغربی مستشکین کے بہکاوے میں
13:05اپنی تلوار زنگالوت کر ڈالی
13:08یہ کام مغربی مستشکین کو استعمار نے ہی دیا تھا
13:12اس لیے کہ روح زمین پر
13:14ان کے مرتب کردہ نظریات
13:16افکار کا بنیادی مقابلہ صرف
13:18اسلام ہی سے تھا
13:20آپ نوٹ کیجئے
13:21جب یورپ سے استعماری قوتیں دنیا بھر میں گئیں
13:23تو واحد
13:25اسلام ہی وہ بنیادی حقیقی
13:27خدای نظریات کا منبع تھا
13:29جو امریکی یا یورپی استعمار سے
13:32ان کا سب کچھ چھین سکتا تھا
13:33عملا آپ نوٹ کرنے کے اس وقت دنیا میں
13:36عیسائیت کو تو جدیدیت پوری طرح کھا چکی تھی
13:38سراتن یعنی ہندو مت
13:40اور بدھ مت میں ایسی کسی توسی
13:42ایسے کسی غلبے کا کوئی تصوری نہیں
13:45تو سولویں سترویں
13:46اٹھارویں صدی میں استعمار کے سامنے
13:48پوری دنیا میں غلبے کا
13:50کوئی نظریہ رکھنے والی قوت
13:51صرف اور صرف خلاوت عثمانیہ
13:54یا مغلوں کی صورت مسلمان ہی تھے
13:56ماں قبل جدیدیت بھی
13:58سلیوی جنگوں میں ان گوروں کے عباو اجداد
14:00مسلمانوں کی تلواروں کے مزے چک چکے تھے
14:03اس لئے ان کے مفکرین
14:04فلسفیوں نے بہت پیاری کے ساتھ
14:07استعماری نظریات کو ہی
14:09مسلمانوں کے لئے بطور
14:10الاد تجویز کیا
14:12آج جو ہمارے درمیان رینڈ کورپیشن مسلم کی بات ہوتی ہے
14:15موڈیریٹ مسلم کی بات ہوتی ہے
14:17اسلامی سیکلرزم کی باتیں کی جاتی ہیں
14:19اسلامی سوشلزم کی باتیں کی جاتی ہیں
14:21یہ سب انہیں کی کارگداری
14:23ہم نے دیکھا کہ
14:25یورپی استعمار نے برسخیر ہی نہیں
14:27پوری خلافت اسمانیہ کو
14:28بڑے مزے ذکھا لیے
14:30اس کے بعد سے لے کر آج تک
14:32دنیا کو مغرب
14:33یعنی برطانیہ پھر روس اور اب امریکہ ہی لیڈ کر رہا ہے
14:37اگر امریکہ کے بعد بھی
14:38کسی اور طاقت کا نام لوگ لیتے ہیں
14:40تو وہ بھی کسی مسلمان ملک کا نام نہیں ہے
14:43بلکہ چین کا لیا جاتا ہے
14:45مسلمان دن رات قرآن مجید میں
14:47کئی کئی بار یہ آیت پڑھتے ہیں
14:49لِيُزْحِرَهُ عَلَدْ دِينِ قُلِّ
14:51بار بار ان کے سامنے بات آتی ہے
14:53کہ اس دنیا پر
14:55تمام انبیاء کا
14:56تمام مسلمانوں کا مقصد ایک ہی ہے
14:58کہ وہ اس دین کو پوری دنیا پر خالب کریں
15:01لیکن افسوس اور دکھ ہے
15:02کہ غلبہ اس وقت مغربی کا چل رہا ہے
15:05یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار
15:07اسلامی نظام زندگی کا شعور ویدار کرنے بھی کوشش کریں
Comments

Recommended