00:03BAHATTER MUKADDAS CHISM
00:08KARBALA KA TAPTA HUA SEHRA
00:14TIN DIN TAK BEHYARU MADDKAR
00:20CHARO TORF YAZIDI FAUJ KA PAHRAH OR KHOF KA RAJ
00:25یہ داستان ہے امام حسین اور ان کے جانسار ساتھیوں کی
00:35پھر تاریخ نے ایک موجزہ دیکھا
00:38ایک قبیلے کی عورتیں اٹھیں اپنے مردوں کو للکارا
00:42خود کو مسلمان کہتے ہو
00:43اور خوف کی زنجیریں توڑ دیں
00:45امام زین العابدین کی رہنمائی میں بنو اسد کے مرد آگے بڑھے
00:51اور پھر وہ ہوا جس نے کائنات کو ہلا کر رکھ دیا
00:57یہ کہانی دراصل شروع ہوتی ہے
01:00نبی کرین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے
01:03آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ
01:06حضرت امی سلمہ رضی اللہ عنہ کو
01:09ایک مٹھی بھر مٹی عطا کی
01:11کربلا کی مٹی
01:13اور فرمایا
01:14امی سلمہ اس مٹی کو سمحال کر رکھنا
01:18جب یہ تازہ خون نے بدل جائے
01:20تو سمجھ لینا کہ میرا حسین شہید کر دیا گیا
01:25حسین
01:27بسر عصد اللہ کو مارا ہے
01:30حضرت امی سلمہ نے وہ مٹی ایک شیشی میں بند کر لی
01:33سال گزرتے رہے
01:35اکسٹھ ہجری کا محرم آیا
01:37دس محرم کا دن تھا
01:40دوپہر کا وقت
01:40حضرت امی سلمہ آرام کر رہی تھی
01:43کہ خواب میں نبی کرین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی
01:47آنکھوں سے آنسو بہ رہتے
01:48سرِ انور پر خاک تھی
01:51حضرت امی سلمہ گھبرا اٹھی
01:53پوچھا
01:54یا رسول اللہ یہ کیسی حالت ہے
01:56آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روتے ہوئے فرمایا
01:59امی سلمہ میں ابھی ابھی کربلا سے آ رہا
02:05میں نے اپنے حسین کا مقتل دیکھا ہے
02:07حضرت امی سلمہ کی آگ کھلی
02:10اور انہوں نے وہ شیشی دیکھی
02:12وہ مٹی جو دہائیوں سے محفوظ تھی
02:14اب خون بن چکی تھی
02:16اور اسی وقت مکہ میں
02:19حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی لیٹے ہوئے تھے
02:23انہوں نے بھی خواب دیکھا
02:24نبی کرین صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ پریشان
02:29ہاتھ میں ایک شیشی خون سے بری
02:33ابن عباس نے ارز کیا
02:35یا رسول اللہ یہ خون کیسا
02:38آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
02:41ارن عباس یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے
02:46میں آج سارا دن کربلا میں رہا
02:49اور ان شہیدوں کا خون اس شیشی میں جمع کرتا رہا
02:53میدان کربلا میں نواسہ رسول
02:55حضرت امام حسین علیہ السلام
02:58اور ان کے بہتر جانساروں کی شہادت کے بعد
03:03آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قیامت ٹوٹ پڑی
03:10رسول زادیوں کو قیدی بنایا گیا
03:12انہیں بے پردہ کوفہ اور شام کے درباروں کی طرف لی جایا گیا
03:17یزید کی فوج آگے آگے فتح کا جشن مناتی جا رہی تھی
03:23اور پیچھے پیچھے رسول اللہ کی بیٹیاں
03:26بے یار و مددکار قیدی بن کر چل رہی تھی
03:29یزیدی فوج کے نیزوں پر شہیدوں کے کٹے ہوئے سر تھے
03:34جبکہ ان کے مقدس جسم کربلا کی زمین پر
03:38بے گور و کفن بکھرے پڑے تھے
03:40تاریخ قواہ ہے کہ تین دن اور تین راتیں
03:44کائنات کے سردار کے خاندان کے جسم مبارک
03:48تبتی ریت پر پڑے رہے
03:50تیرہ محرم
03:51یزیدی فوج کا پہرہ کم ہوا
03:53قریبی گاؤں غازریہ میں آباد قبیلہ بنی اسد کی چند عورتیں
03:58دریائے فرات سے پانی برنے نکلی
04:00جب وہ میدان کربلا کے قریب پہنچی
04:03تو رک گئی
04:04زمین پر مقدس جسم بکھرے پڑے تھے
04:08کہیں بازو
04:09کہیں تھڑ
04:10کہیں پاؤں
04:11کوئی پہچان نہیں تھی
04:13یہ منظر دیکھ کر وہ عورتیں روتی
04:15چیختی چلاتی
04:17واپس اپنے قبیلے کے مردوں کے پاس گئیں
04:19اے کلمہ پڑھنے والو
04:21اٹھو
04:22رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کو شہید کر دیا گیا ہے
04:26ان کے جسم بکھرے پڑے ہیں
04:28چلو ان کی تطفین کرو
04:30مردوں نے خوف سے کہا
04:32آگل ہو گئی ہو
04:33یزید کی فوج نے انہیں قتل کیا ہے
04:36اگر ہم نے دفنایا تو یزید ہمارا بھی دشمن بن جائے گا
04:40یہ سننا تھا
04:41کہ ان عورتوں نے جو جواد دیا
04:43وہ آج بھی تاریخ میں زندہ ہے
04:45حیرت ہے تم پر
04:47خود کو مسلمان کہتے ہو
04:49اور رسول کے نواسے سے محبت کا یہ عالم
04:51کیا تم نے نہیں سنا
04:53کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
04:55میں تم سے اپنی رسالت کا کوئی عجر نہیں مانگتا
04:58سوائے اپنی آل سے محبت کے
05:01چلو اگر تم نہیں جاتے
05:03تو آؤ ہم جائیں گے
05:05کچھ مردوں کی غیرت جاگ اٹھی
05:07وہ اٹھے
05:08اور میدانِ کربلا کی طرف چل پڑے
05:11جب وہ کربلا پہنچے
05:13تو ایک نئی مشکل نے انہیں پریشان کر دیا
05:16لاشے پامال تھے
05:18اکثر جسموں پر سر نہیں تھے
05:20وہ پہچان نہیں پا رہے تھے
05:22کہ کون سا جسم کس کا ہے
05:23وہ سوچ میں پڑ گئے
05:25آخر کار انہوں نے فیصلہ کیا
05:28کہ ایک بڑی اجتماعی خبر کھود کر
05:30تمام شہدہ کو ایک ساتھ دفن کر دیا جائے
05:34ابھی وہ خبر کھود ہی رہے تھے
05:36کہ انہوں نے دیکھا
05:37کہ سہرہ سے ایک گھر سوار نمودار ہو
05:39انہوں نے سمجھا
05:40کہ شاید کوئی یزیدی فوجی ہے
05:42جب وہ قریب آیا
05:43تو انہوں نے پوچھا
05:44کہ تم کون ہو
05:46اس سوار نے روتے ہوئے جواب دیا
05:49میں تمہارے نبی کے نواسے کا بیٹا
05:52علی بن حسین زین العابدین ہوں
05:55یہ سننا تھا
05:57کہ سب کی آنکھوں سے آنسو روا ہو گئے
06:02امام زین العابدین علیہ السلام
06:04جو قیدی ہونے کے باوجود
06:06موجزانہ طور پر وہاں پہنچے تھے
06:08انہوں نے اپنے جدد امجد
06:10رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر بچائی
06:14اور اپنے بابا
06:15امام حسین علیہ السلام کے لاشے مبارک کے ٹکلوں کو چننا شروع کیا
06:20کہیں سے انگلی ملتی
06:21کہیں سے جسم کا کوئی حصہ
06:24امام سجاد علیہ السلام نے ان تمام ٹکلوں کو چادر میں جمع کیا
06:29اور ایک جگہ زمین کھو دی
06:31تو وہاں پہلے سے ایک خبر تیار تھی
06:33آپ نے اپنے بابا امام حسین علیہ السلام کو اس خبر میں دفن کیا
06:38اور ان کے پہلوں میں اپنے بھائی علی اکبر
06:41اور چھے ماہ کے معصوم علی ازغر کو بھی دفن کیا
06:44اس کے بعد ایک بڑی خبر کھوٹ کر
06:47باقی تمام شہدہ کو ایک ساتھ دفن کیا گیا
06:50اسی جگہ کو آج گنج شہیدہ کہا جاتا ہے
06:54جب سب کی تدفین ہو گئی تو کسی نے کہا
06:57ایک بزرد صحابی کا جسم رہ گیا ہے
07:00امام آگے بڑھے اور فرمایا
07:02یہ حبیب ابن مظاہر ہیں
07:05اللہ کی مرضی یہی ہے کہ ان کی قبر ایسی جگہ ہو
07:08کہ جب بھی کوئی زائر میرے بابا کی زیارت کو آئے
07:11تو پہلے انہی سلام کر کے آئے
07:14چنانچہ جناب حبیب کو الگ دفن کیا گیا
07:16سب جانے لگے
07:18تو امام سجاد نے فرمایا
07:20رکو ایک تدفین ابھی باقی ہے
07:23سب حیران ہوئے
07:24کہ اب تو کوئی لاش نظر نہیں آتی
07:27امام نے فرمایا
07:28دریائے فراد کی طرف چلو
07:30جب وہ آگے بڑھے تو ایک کٹا ہوا بازو نظر آیا
07:34تھوڑا اور آگے گئے
07:35تو دوسرا بازو ملا
07:37اور پھر دریائے القما کے کنارے
07:39علمدار کربلا اب الفضل
07:42حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا جسم مبارک ملا
07:46آپ کو وہیں دفن کیا گیا
07:48جہاں آپ گھوڑے سے گرے تھے
07:49آج بھی حضرت عباس اور امام حسین علیہ السلام کے روزے آمنے سامنے ہیں
07:54جو بھائی کی وفا کی گواہی دیتے ہیں
07:56تاریخ متفق ہے
07:58کہ شہداء کربلا کو قبیلہ بنی اسد کے لوگوں نے دفن کیا
08:01کسی ایک فرد کا نام نہیں ملتا
08:04کہ کس نے نماز جنازہ پڑھائی
08:05مبارکین لکھتے ہیں
08:07کہ بہتر شہداء کی تتفین
08:09شہادت کے تیسرے دن عمل میں آئی
08:12ایک سوال یہ بھی ہے
08:13کہ امام حسین علیہ السلام کا سر انبر
08:15جو یزید کے دربار لے جائے گیا تھا
08:17وہ کہاں دفن ہوا
08:19اس بارے میں کئی روایات ہیں
08:21لیکن مشہور ترین دوایت کے مطابق
08:23آپ کے سر مبارک کو واپس مدینہ لاکر
08:26جنت البقی میں
08:27آپ کی والدہ ماجدہ
08:29حضرت فاطمت الزہرہ
08:31اور بھائی حضرت امام حسن
08:34رضی اللہ عنہ کے پہلوں میں
08:35تفن کیا گیا
08:37یاد رکھئے
08:39امام حسین علیہ السلام کی شہادت
08:41دراصل یزیدیت کی موت ہے
Comments