Skip to playerSkip to main content
  • 2 hours ago
Transcript
00:00مَانَا جِسْنَ ہے اور جَانَ ہے یہ عبیاء اللہ
00:13بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:15الحمدللہ فی الارض والسما والصلاة والسلام على اکرم القرماء وعلى آلہی وصحبہی والعیمت والعلماء
00:23اما بات
00:24معزز ناظرین و سامین آج ایک مرتبہ پھر پرم سرمایہ اسلاف لے کر ہم آپ کی خدمت میں حادر ہیں
00:30آج ہمارا موضوع سخن ہے سید تابعین فقیح الفقہ
00:35امام ابو محمد سعید بن مسیب راہیم اللہ متوفہ چورانوے سنہ حجریہ اور آپ کے بارے میں لکھی گئی بعض
00:43کتابیں
00:43ناظرین امام سعید بن مسیب راہیم اللہ کی کیا اونچی شان ہے آپ کا لقب ہے فقیح الفقہ
00:52فقہہ کے فقی
00:54آپ کا لقب ہے سید تابعین تابعین کے سردار کیا بلند پایا شان کے آپ حامل تھے جل قدر تابعین
01:03آپ کو سید تابعین قرار دیتے تھے
01:05یعنی تابعین خود وہ حضرات جنہوں نے صحابہ اکرام علی مردوان کا زمانہ پایا حالت اسلام میں اور حالت اسلام
01:11میں ان کا انتقال ہوا وہ تابعین کہلاتے ہیں
01:14تو تابعین خود سعید بن مسیب راہیم اللہ کو سید تابعین کہا کرتے تھے فقیح الفقہہ کہا کرتے تھے
01:21بلکہ مدینہ منورہ میں سات فقہہ مشہور تھے تابعین میں سے جنہیں فقہہ سبا کہا جاتا ہے
01:28وہ تابعی فقیح تھے ساتوں اور ساتوں مشہور تھے سات فقہہ سات مجتحد فقہہ سبا
01:34وہ فقہہ سبا بھی یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ سیدنا سعید بن مسیب راہیم اللہ ہمارے سردار ہیں ہم
01:41میں سب سے بڑھ کر علم والے ہیں
01:43ان میں سے ایک تو خود یہی سیدنا سعید بن مسیب ہیں چھے حضرات اور تھے
01:47تو ان کو فقہہ سبا کہا جاتا ہے تو باقی جو فقہہ ہیں وہ سارے تسلیم کرتے تھے
01:51کہ ہم میں سب سے بڑھ کر علم والے ہمارے سردار سیدنا سعید بن مسیب ہیں
01:56بقاعدہ ان سے الگ الگ کلمات بھی منقول ہیں
01:58انہی سات فقہہ میں سے ایک تھے امام قاسم بن محمد راہیم اللہ جلیل قدر تابعین ہیں
02:04اونچے درجے کے فقی ہیں انہوں نے ایک دفعہ ایک آدمی نے آ کے مسئلہ پوچھا
02:08تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے اور کس کس سے پوچھا ہے
02:10تو اس نے حضر عربہ بن زبیر کا نام لیا سعید بن مسیب کا نام لیا اور ایک اور نام
02:14لیا
02:14تو اس پر جو آپ نے اسے آگے سے فرمایا
02:17سعید بن مسیب کی پیروی کرو جو بات انہوں نے فرمائی ہے
02:22جو فتوہ انہوں نے دیا ہے اس پر عمل کرو
02:24کیوں آگے وجہ بیان فرمائی
02:26فرمایا ہوا سیدنا وعالمنا
02:28وہ ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بڑھ کر علم والے ہیں
02:31تو یہ خود جو فقی ہیں فقائے سبا میں سے ایک ہیں
02:35اور ان کا اپنا توتی بولتا ہے
02:36وہ یہ ٹریبیوٹ پیش کر رہے ہیں
02:38کہ امام سعید بن مسیب راہی محلہ ہمارے سردار ہیں
02:41اور ہم میں سب سے بڑھ کر علم والے ہیں
02:44تو خود سارا مدینہ اس بات کو جانتا تھا
02:46سارے مدینے میں سعید بن مسیب راہی محلہ کو فقہا کا سردار کہا جاتا تھا
02:51بلکہ یہ بات مدینہ منورہ میں مشہور تھی
02:53باہر سے کوئی بھی آتا تھا
02:55وہ اگر پوچھتا تھا کہ سب سے افقہ
02:57یعنی سب سے بڑا فقی کون ہے مدینہ منورہ میں
03:00تو سارے لوگ بیق زبان اس کو یہی کہا کرتے تھے
03:03کہ سعید بن مسیب راہی محلہ
03:05کہ سعید بن مسیب راہی محلہ کا مدینہ منورہ کے
03:08تمام فقہا کا سردار ہونا
03:11سب سے بڑا ہونا یہ ایک حقیقت ثابتہ تھی
03:14یہ مسلم تھا سارے ہی اس بات کو مانتے تھے
03:17یعنی کوئی مدینہ منورہ میں ایسا نہیں تھا
03:19کہ جو یہ تسلیم نہ کرتا ہو
03:20کہ سعید بن مسیب راہی محلہ سب سے بڑے فقی ہیں
03:23سارے ان کو سب سے بڑا فقی مانتے تھے
03:25اور صرف ایک مدینہ منورہ نہیں
03:27بلکہ مدینہ منورہ سے باہر بھی
03:29امام حسن بسری راہی محلہ خود اونچے درجے کے
03:32محدث بھی ہیں
03:33فقی بھی ہیں
03:34مجتحد بھی ہیں
03:35امام حسن بسری راہی محلہ اور صوفیہ میں بھی ان کا نام ہے
03:38امام حسن بسری راہی محلہ کے بارے بھی بقاعدہ یہ بات منقول ہے
03:41کہ امام حسن بسری بھی جب کسی معاملے میں پھنس جاتے تھے
03:45انہیں بھی کہیں رہنمائی کی ضرورت پیش آتی تھی
03:47تو وہ باقاعدہ سعید بن مسیب رائم اللہ کو خط لکھتے تھے
03:50اور آپ سے استفتا کرتے تھے آپ سے مسئلہ پوچھتے تھے
03:53اور کیوں نہ ایسا ہو کہ سعید بن مسیب تو وہ ہیں
03:57کہ صحابہ اکرام علی مردوان کی موجودگی میں فتوہ دیا کرتے تھے
04:01آپ کی بھائی گرافی میں سب نے ہی یہ بات باقاعدہ لکھی ہے
04:04نکل کی ہے کہ سعید بن مسیب رائم اللہ یفتی وصحابت احیاء
04:09کہ سعید بن مسیب تو اس وقت بھی فتوہ دیا کرتے تھے جب صحابہ اکرام زندہ تھے
04:14یعنی صحابہ اکرام کی موجودگی میں بھی سعید بن مسیب رائم اللہ باقاعدہ فتوہ دیا کرتے تھے
04:20اور صحابہ اکرام علی مردوان بھی ان کے فتوے پر اعتماد کرتے تھے
04:25بڑے اونچے درجے کے تعوی ہیں امام مکہول
04:27وہ فرماتے ہیں میں پوری دنیا گھوما ہوں پوری دنیا کا میں نے سفر کیا ہے علم کی خاطر
04:32لیکن میں نے سعید بن مسیب سے بڑا فقی نہیں دیکھا
04:36یہ خود اونچے درجے کے فقی امام مکہول جائے وہ یہ بات امام سعید بن مسیب کے لئے کہہ رہے
04:41ہیں
04:41فقی بھی ہیں محدث بھی ہیں امام شعبی رائم اللہ آپ کا لوحہ تسلیم کرتے ہیں
04:45جتنے اس وقت کے تابعی بزرگ تھے
04:47بعد والے تو بعد والے ہیں وہ تو لوحہ مانتے ہیں جو آپ کے ہم اثر تھے
04:51حالانکہ ہم اثروں کے وارے میں تو مشہور ہے
04:53کہ المعاصر لا یناسر
04:56المعاصرہ اصل المنافرہ
04:57کہ معاصرت جو ہے ہم اثر ہونا ہم زمانہ ہونا یہ بعض اوقات نفرت کا سبب بن جاتا ہے
05:02اور جو ہم زمانہ ہوتا ہے وہ ہم زمانہ کی تائید یا حمایت نہیں کرتا
05:06ام طور پر اس سے حسد رکھتا ہے یا دشمنی رکھتا ہے
05:09لیکن آپ دیکھیں سعید بن مسیب تو وہ ہیں
05:11کہ ان کے ہم اثر بھی سارے مل کر ان کو سب سے بڑا فقی مان رہے ہیں
05:16فقیح الفقہ آپ کا ٹائٹل تھا
05:18آپ اس وقت بھی اس لقب سے مشہور تھے
05:20اپنی زندگی میں ہی فقیح الفقہ
05:22فقیح الفقہ کے لقب سے مشہور
05:24سید التابعین کے لقب سے بھی آپ مشہور تھے
05:27اور جن بعض تابعین کے لیے یہ اقوال موجود ہیں
05:30افضل التابعین کا مختلف اقوال ہیں
05:32ان میں سے ایک کال سیدنا سعید بن مسیب کے بارے میں بھی ہے
05:34افضل التابعین ہونے کا
05:36کہ تابعین میں سب سے افضل یہ تھے
05:39اور صحابہ کا اعتماد ان پر دیکھی ہے
05:41ایسا اعتماد کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ
05:44جل قدر صحابی ہیں
05:45سیدنا فاروق آدم کے شہدادیں ہیں
05:47وہ بھی جب کسی معاملے میں انہیں کوئی الجن ہوتی
05:50اور سیدنا فاروق آدم کا اس معاملے میں موقف جاننا ہوتا
05:54تو وہ بندہ بھیجتے تھے
05:55سعید بن مسیب کے پاس کے جاؤ
05:56اس سے پوچھ کر آؤ
05:57کیونکہ سیدنا سعید بن مسیب راہیمہ اللہ کا بقاعدہ
06:01یہ لقب تھا مشہور ہو گئے تھے
06:02وہ راویہ تو عمر کے نام سے
06:04راویہ جو ہے وہ عربی میں کہتے ہیں
06:06بہت زیادہ روایت کرنے والا
06:08یہ جو راویہ میں تا ہے
06:09یہ تا تانیس نہیں ہے
06:11تا مبالغہ ہے
06:12مبالغہ کے لئے استعمال ہوتا ہے
06:13جب کوئی بندہ کسی سے بہت زیادہ روایت کرے
06:17اس کی باتیں اسے سب سے زیادہ یاد ہوں
06:19تو اس کے لئے پھر یہ بولا جاتا ہے
06:21کہ راویہ تو فلان ہے
06:22کہ یہ فلان کا راویہ ہے
06:23اور سب سے مستند راویہ ہے
06:25تو سیدنا فاروق آدم کے لئے
06:27یہ سیدنا سعید بن مسیب کو کہا جاتا تھا
06:29راویہ تو عمر
06:30کہ سیدنا فاروق آدم کی
06:31اس آراء اور اجتہادات
06:33اور فیصلے اور قضاء اور معاملے
06:36سب سے زیادہ جاننے والے
06:37سعید بن مسیب راہیم اللہ ہیں
06:39یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن عمر
06:42رضی اللہ عنہ
06:43سیدنا فاروق آدم کے خود بیٹے ہیں
06:45براہ راست
06:45آپ کے سلبی شہدادیں ہیں
06:47اس کے باوجود انہیں بھی کسی معاملے میں
06:49اگر الجھان ہوتی
06:50اور سیدنا فاروق آدم کی رائے جاننا ہوتی
06:52اور انہیں معلوم نہ ہوتی
06:53تو سعید بن مسیب کے پاس بندہ بھیج کر
06:55ان سے معلوم کرواتے ہیں
06:57کہ اس سے ضرور پتا ہوگا
06:58اور ایک دفعہ باقاعدہ جو ہے
06:59کسی بندے نے آ کر ان سے کہا
07:01سیدنا عبداللہ بن عمر سے
07:01کہ آپ اتنے بڑے ہو کر
07:03آپ ان سے مسئلہ پوچھتے ہیں
07:04یا ان سے بات پوچھتے ہیں
07:06اور اسی طرح دیگر لوگ بھی ان سے پوچھتے ہیں
07:08وہ لوگ آپ صحابہ ہیں
07:10آپ کے ہوتے ہوئے وہ جو ہے
07:11فتوہ دے رہے ہوتے ہیں
07:12لوگوں کو مسئلے بتا رہے ہوتے ہیں
07:14تو اس پر سیدنا عبداللہ بن عمر
07:15رضی اللہ تعالیٰ انہوں نے
07:17قسم کھا کر فرمایا
07:18آپ نے قسم کا ہی فرمایا
07:20انہو واللہ من المفتین
07:23کہ وہ اللہ کی قسم مفتیوں میں سے ہے
07:26یعنی بڑا مفتی ہے
07:27تو وہ اس بات کا استحقاق رکھتا ہے
07:30اس بات کا حقدار ہے
07:31کہ فتوہ دے
07:32یعنی وہ بھی اعتماد کرتے تھے
07:34آپ کے فتوے کے اوپر
07:35سیدنا سعید بن مسیب رائیم اللہ
07:37ان کو بڑے بڑے آئمہ
07:39امام احمد بن حمل رائیم اللہ
07:41جیسے امام یحی بن مہین
07:42رائیم اللہ جیسے
07:43امام علی بن مدینی
07:44یہ تو بات کے آئمہ ہیں
07:45یہ تو مانتے ہی مانتے ہیں
07:46جب ان کے اپنے دور کے
07:48جو تابعین ہیں
07:49انہوں نے تسلیم کر لیا
07:50کہ آپ فقی الفقہ ہیں
07:52آپ افقہ ناس ہیں
07:53سب سے بڑے فقی ہیں
07:54آپ سید و تابعین ہیں
07:56جب آپ کے ہم زمانہ
07:57بڑے بڑے نامی گرامی لوگ مان رہے ہیں
07:59تو آپ کے بعد آنے والے
08:00تو سب نے ہی آپ کے سامنے
08:02سر تسلیم خم کیا ہے
08:04سب نے آپ کے کمال کا
08:05لوہہ مانا ہے
08:06یہ سیدونا سعید بن
08:08مسیحی رحمہ اللہ تھے
08:09سیدونا ابو حریرہ
08:10رضی اللہ تعالیٰ
08:11کی شہدادی
08:15سیدونا سعید بن
08:16مسیحی رحمہ اللہ
08:18کے نکاح میں
08:19تھی
08:19آپ داماد
08:21حریرہ ہیں
08:21سیدونا ابو حریرہ کے
08:22داماد
08:22اسی وجہ سے
08:23سیدونا ابو حریرہ
08:24کی جو
08:25مسند روایتے ہیں
08:26جیو سادший ان تعالیٰ من مستند زخیرہ محايا og عمراء صحابہ حماعت وقت
08:33سادح orphزن ابو حريرہ اگر نور حaminی اعنی عمراء حانك مخصورت
08:35سعود انبو حريرہ صحابہ ح collagen و Kollegen بمہات و جن最近 سے
08:44معا tin اللہ عنہ Contin amplifying the French shrine
08:45حلال تقنی جیوolaél começ ب accent
08:47حندوق یہ بلاہ اللہ علماء صرح انہاء حسمے بالاقل
08:54我是 organic viruses
08:55foreign
09:25some of these facts are true
09:26This is the actually true
09:27All of these facts
09:29This is true
09:29The law of the Lord
09:33So you can't say that
09:36Nicholas has got past
09:37The law of the Lord
09:41So you big
09:45The law of the Lord
09:46So you can't say that
09:48You can't say that
09:49That's for your own
09:51That way
09:52You can't say it
09:55अब्स सीखा अपने डियस अपने तयर रोसे इसन ए ताय कहा रोगर
10:12और वालिए ऑन छिखा अपने वाल वेगराफी की तो
10:22رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
10:23تو یہ امام سعید بن مسیح ابراہیم
10:26اللہ اور ایسے سیدنا
10:28سعید بن مسیح ابراہیم اللہ کہ آپ نے
10:29جمع بين العلم
10:31والفقہ والحدیث
10:34والتفسیری والزہد
10:35والعبادت والورا
10:37بخائدہ سب نے یہ بات کی کہ آپ
10:40نے علم کو فقہ کو حدیث
10:42کو تفسیر کو
10:43زہد کو عبادت کو تقوی
10:46پریزگاری اس سب کو آپ نے اپنے
10:47اندر جمع کر لیا تھا کہ ایسا
10:49بہت کم ہوتا ہے کہ کسی میں یہ سارے
10:51اور صاف جمع ہو جائیں کہ کوئی علم و فضل
10:53میں آگے ہوتا ہے لیکن تقوی پریزگاری
10:55میں آگے نہیں ہوتا لیکن آپ علم
10:57و فضل میں بھی آگے تقوی پریزگاری
10:59میں بھی آگے تھے پھر جو ہے کوئی عبادت
11:01میں آگے ہوتا ہے لیکن علم و فضل میں آگے
11:03نہیں ہوتا آپ علم و فضل میں بھی آگے
11:05عبادت میں بھی آگے اور
11:07ورا تقوی پریزگاری اس میں بھی
11:09آگے جائے علم کا کمال تو آپ
11:11نے جو ہے وہ سن ہی لیا کہ آپ
11:13Oh, this is so much jahe.
11:22I can see that in the future,
11:24and that's what we have identified now.
11:27That's what we have done with.
11:28We've got a lot of different ways.
11:33We've got a lot of different ways.
11:37We've got a lot of different ways.
11:46وہ
11:56شاگردی رشید
11:59بڑے بڑے لوگ
12:04آپ کے شاگرد
12:05foreign
12:13foreign
12:15foreign
12:15foreign
12:16foreign
12:17mahir علم الانصاب کے mahir بلکہ آپ کے بیٹے محمد وہ بھی علم الانصاب کے
12:21mahir تھے ان کا بھی علم الانصاب میں شورتہ چرچہ تھا پھر جو ہے آپ کے
12:26علم الانصاب کے ساتھ اسباب النزول ہے اس کے بھی آپ mahir یعنی کئی علوم
12:31و فنون پر آپ کو بیق وقت دسترس حاصل تھی ید طولہ حاصل تھا مشہور
12:36تھے یہ تو علم کی عظمت ہے علم کی عظمت کے ساتھ اب آئیے آپ کی عبادت
12:40کی طرف آئیے تو عبادت میں بھی آپ ایسی ہمیں سید و تابعین نظر آتی
12:44ہیں خود آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ چالیس سال تک کبھی میری جماعت
12:48نہیں چھوٹی آپ نے چالیس سال تک آپ کہتے ہیں چالیس سال ہو گئے
12:53مجھے ایک موقع بھی یہ فرمایا تھا چالیس سال ہو گئے مجھے میں نے
12:56کبھی جہاں وہ جماعت ترکنی کی جماعت ہی سے نماز پڑھتا ہوں اور
12:59فرما اس بات کو تو تیس برس ہو گئے کہ ادان ہوتی ہے میں اس سے پہلے
13:04مسجد میں ہوتا ہوں یعنی ادان ہونے سے پہلے ہی میں مسجد میں آ جاتا ہوں
13:07اور تیس برس ہو گئے مجھے لوگوں کی گدیاں دیکھے ہوئے گدی پیچھے
13:11یعنی ظاہری بات ہے صفحے اول میں جب بندہ ہوگا تو پیچھے لوگوں کی
13:14گدی نظر نہیں آئے گی جو پچھلی صفحوں میں ہوگا اسے آگے والے لوگوں کی
13:17گدی نظر آئے گی تو کہتے ہیں تیس برس ہو گئے میں نے لوگوں کی
13:20گدی نہیں دیکھی ہے یعنی صفحے اول میں موجود ہوتا ہوں اور ادان سے
13:23پہلے موجود ہوتا ہوں یہ آپ کی جو نماز کے ساتھ جماعت کے ساتھ
13:28مسجد کے ساتھ محبت کا عالم تھا اور پھر جو نفلی عبادت رات کی
13:33سبحان اللہ آپ کی بیوگرافی میں زمنی لکھا کسی نے چالیس برس لکھا
13:37کسی نے پچاس برس لکھا کسی نے تیس برس لکھا الگ الگ اقوال آئے
13:41کہ اتنے اتنے برس تک اور کئی نے اگر تھوڑا یہ بھی دیکھ لیا جائے
13:44کہ اس میں مبالغہ ہے تو مبالغے سے قطع نظر بھی کر لیا جائے
13:47تو یہ بات تو تیشدہ ہے ایک لمبے عرصے تک ایسا ہوا
13:51کہ آپ نے عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی
13:54اور رات قرآن کی تلاوت میں گزارتے تھے
13:56قرآن مجید فرقانیمی سے محبت تھی نوافل اور قرآن کی تلاوت میں گزارتے تھے
14:00یہ تو تھی نماز کی نوافل کی اور قرآن کی تلاوت کی بات
14:05روزے کی طرف آئیے تو نفلی روزوں سے ایسا آپ کو شگف تھا
14:09کہ آپ سائم و دہر تھے وہ پانچ ایام جن میں شریعت نے منع کیا ہے
14:14روزے رکھنے سے ان پانچ دنوں کو چھوڑ کر باقی سارا سال آپ روزے سے گدارہ کرتے تھے
14:19لگتار روزے رکھا کرتے تھے یہ آپ کی روزوں سے محبت تھی
14:22حج کی طرف آئیے تو حج سے آپ کی ایسی محبت
14:25اللہ اللہ سبحان اللہ چالیس حج آپ نے کی ہیں زندگی میں
14:29نماز کو دیکھیں عبادت میں تو وہ بھی کیا بات ہے
14:32اللہ اللہ روزوں کو دیکھیں تو بھی اللہ اللہ حج دیکھیں
14:35تو حج بھی آپ نے چالیس حج فرمائے ہیں
14:38اور جو ہے وہ زکاة کا معاملہ نفلی صدقات لوگوں پہ مال اپنا لٹایا کرتے تھے
14:43بلکہ آپ خود کاروبار کرتے تھے اور کاروبار کی وجہ یہ بیان کرتے تھے
14:47کہ کاروبار اسی لیے کرتا ہوں تاکہ کسی کے آگے دستے سوال دراز نہ کروں
14:51حرام سے بچوں لوگوں کی محتاجی سے بچوں
14:54اور فقیروں پر محتاجوں پر مسکینوں پر بیواؤں پر صدقہ خیرات کروں
15:00اس کا عجر پاؤں
15:01اس لیے جہاں وہ مال کماتا ہوں
15:03ترغیب بھی دلاتے تھے کہ مال کماؤ
15:04اور لوگوں کے تحفے قبول نہیں کیا کرتے تھے
15:07کہتے تھے میں خود کماتا ہوں
15:08اپنے ہاتھ سے کماتا ہوں
15:09لوگوں کے تحفے قبول کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے
15:12حالانکہ جائز ہے لیکن پھر بھی آپ اپنے تقوی پریزگاری کی وجہ سے قبول نہیں کرتے تھے
15:17اور اس کے ساتھ ساتھ پھر آپ کا جو روب اور دب دبا تھا وہ بھی ایسا ہی تھا
15:21لوگوں پر بادشاہانے وقت کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے
15:24اپنے حق موقف پر ڈٹ جاتے تھے
15:26اور جب ڈٹ جاتے تھے پھر کوئی آپ کو پائے سبات میں لگشنی آتی تھی جو مرضی ہو جائے
15:30تین دفعہ آپ کو بقاعدہ
15:32کوڑوں کی سدا ملی بادشاہوں کی طرف سے
15:34لیکن آپ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے
15:36جو حق موقف تھا
15:37اس پر ڈٹے رہے کھڑے رہے کوڑے کھا لیے
15:40قربانی دی
15:40صدا جھیلی
15:41صعوبتیں برداشت کی
15:42جیل کٹی
15:43لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے
15:45جو حق موقف تھا
15:46اس پر برقرار رہے ہیں
15:47اللہ کی خاطر جائے وہ ڈٹے رہے
15:49دین کی خاطر
15:49ڈٹے رہے ہیں
15:50سیدنا سعید بن مسیب راہیم اللہ ہیں
15:52حضرت عمر بن عبدالعزیز راہیم اللہ
15:54وہ جب مدینہ منورہ کے گورنر تھے
15:57تو جو بھی اہم امور ہوتے تھے
15:58قضاء کے فیصلے
15:59عدالتی فیصلے
16:00سیدنا سعید بن مسیب کی
16:01مشاورت سے ہی
16:03وہ فیصلے کیا کرتے تھے
16:04آپ کی مشاورت کے بغیر
16:05کوئی بھی اہم فیصلہ
16:06نہیں کرتے تھے
16:07ایسا اعتماد کرتے تھے
16:09آپ کی اوپر
16:09اور یہ سیدنا سعید بن مسیب راہیم اللہ
16:12کہ ایک طرف یہ آپ کا علم و فضل ہے
16:14زہد و تقوی پریزگاری ہے
16:15لوگ کی نظر میں مقام ہیں
16:16سید و تابعین ہیں
16:17لیکن آپ نے اپنی بچی کے رشتے کی جب بات آئی
16:20تو بادشاہ تھا
16:21خلیفہ تھا
16:22وقت کا عبد الملک بن مروان
16:24اس نے اپنے بیٹے ولید کے لیے
16:26رشتہ بھیجا
16:26لیکن سیدنا سعید بن مسیب راہیم اللہ
16:28نے انکار کر دیا
16:29کہا نہیں دوں گا
16:30اور آپ نے اپنے ایک شاگرد
16:31جو علم و فضل میں مائر تھا
16:33تقوی پریزگاری میں بھی
16:34اعلی مقام رکھتا تھا
16:35ابن عبی ودا
16:35اور وہ فقیر منش آدمی تھے
16:38ان کے پاس کوئی مال و دولت نہیں تھا
16:40وہ چند دن تک غائب رہے
16:41آپ نے پوچھا کہ بھئی کہا ہو
16:43کتنے دن غائب کیوں رہے
16:45تو انہوں نے بتایا
16:45کہ میری سوجہ بیمار ہوئی
16:47پھر انتقال ہو گیا
16:48تو آپ نے کہا کہ بھئی
16:49مجھے بتاتے تھا
16:50کہ میں عیادت کرتا
16:51اور جب انتقال ہوئے
16:51بتاتے ہم بھی جنادے میں آتے
16:53دعائے مغفرت کرتے
16:54اور ثواب کماتے
16:55بارال بیٹھے رہے
16:57جب لوگ اٹھ کر گئے
16:58تو ان سے کہا
16:58کہ چاہیے بتاؤ
16:59تم کوئی
17:00اب تم کمارے نہیں رہو
17:02اللہ سے کمارے نہ ملنا
17:03یعنی کمار پن کی حالت میں نہ مرنا
17:06شادی کر کے ہی مرنا
17:07تو شادی کر لوگوں نے کہا
17:09میرے پاس تو تین چار درم کے علاوہ
17:10ہے ہی نہیں
17:11تو مجھ سے کون شادی کرے گا
17:12آپ نے فرمایا
17:13میں اپنی بچی کی شادی کروں گا
17:14اور آپ نے اپنی بیٹی کی شادی
17:16ان کے ساتھ کر دی
17:17سیدنا سید بن حسیب راہی مولا نے
17:18علم کو دیکھ کر
17:19تقویٰ کو دیکھ کر
17:21بادشاہ وقت کا رشتہ ٹھکرایا
17:23اس نے اپنے بیٹے کے لیے
17:24ولیہد کے لیے مانگا
17:25ٹھکرایا اور بڑے بڑے عمران
17:26رشتے بھیجے ٹھکرایا
17:27لیکن کس کو دیا
17:28رشتہ دیا تو
17:29علم کو اور تقویٰ کو
17:30بنیاد بنا کر
17:31ایک فقیر منش آدمی کو دے دیا
17:33کہ ولی مال زیادہ نہیں تھا
17:34لیکن علم کی دولت تھی
17:35تقویٰ کی دولت تھی
17:36تو آپ نے اپنی بچی کا نکاح
17:37اس کے ساتھ کیا
17:39یہ سیدنا سید بن مسیح
17:40علم اللہ کا
17:41زہود تقوی
17:41دین سے محبت
17:42علم سے محبت
17:44اور یہ آپ کی پریزگاری ہے
17:45تو سیدنا سید بن مسیح
17:46علم اللہ کی کیا بات ہے
17:48سیدنا سید بن مسیح
17:49نے چونکہ
17:49کوئی کتاب باقاعدہ نہیں لکھی
17:51لیکن اب جو کتابیں
17:52آپ کے حوالے سے لکھی گئی ہیں
17:54ان میں سے چند منتخب کتابوں کا
17:55میں ذکر اختصار کے ساتھ کر دیتا ہوں
17:57ایک کتاب ہمیں نظر آتی ہے
17:58فقہ الامام
18:00سید بن المسیح
18:02علم اللہ
18:02یہ کتاب جو ہے
18:03دکتور حاشم جمیل عبداللہ نے لکھی
18:05چار جلدوں میں شائع ہوئی ہے
18:06بڑی امدہ کتاب ہے
18:08سیدنا سید بن مسیح
18:09علم اللہ کی جو اجتہادی آرہا ہیں
18:11جو فقی آرہا ہیں
18:12اس کو مختلف کتابوں سے
18:13آثنٹک سورسے سے جمع کر دیا ہے
18:15اور اس کا پھر جہاں وہ تقابل بھی کیا ہے
18:17کچھ جگہوں پر دلائل بھی ذکر کی ہیں
18:19دوسری فق سے تقابل کیا ہے
18:21بڑا امدہ کام ہے
18:22فقہ الامام سید بن المسیح کے نام سے
18:24پھر ہمیں کتاب نظر آتی ہے
18:26مرویات الامام سید بن المسیح
18:29و آراؤہ الفقہی من خلالی موتتہ
18:31الامام مالک بن انس
18:32یہ محمد زکریہ محمود ساری محقق ہیں
18:35انہوں نے موتتہ امام مالک کے اندر
18:37جو امام سید بن مسیح
18:38رحم اللہ کی روایات ہیں
18:39ان کو جمع کیا اور جو آپ کی فقی آرہا ہیں
18:41ان کو جمع کیا اور اس کا ایک دراسہ کیا
18:43بڑا امدہ بھی امدہ کتاب ہے
18:44لاکہ مطالعہ
18:45پھر ایک کتاب نظر آتی ہے
18:46امام مطابعین سید بن المسیح
18:48دکتور عبدالحلیم محمود
18:50شیخ العزر تھے سابق
18:52بڑے عالم تھے
18:53اونچے درجے کے اور بڑے صوفی بھی تھے
18:54انہوں نے امام سید بن مسیح کے بارے میں
18:56کتاب لکھی ہے
18:57امام مطابعین سید بن مسیح
18:58بڑی زبردست کتاب لاکہ مطالعہ
19:00پھر دکتور بہباز و حیلی
19:01بڑے اونچے درجے کے عالم محقق تھے
19:03فوت ہو گئے
19:04ان کی کتاب ہے
19:05سید بن المسیح سیدو تابین یہ بھی
19:06امدہ کتاب ہے
19:07سید بن مسیح بارائم اللہ کے
19:09والد مسیحز ہے
19:19اہل عراق مسیح贅 کہتے تھے
19:21اہل مدینہ مسیح کہتے تھے
19:23خود سیدنا سید بن مسیح
19:24مسیح کینا پسند کرتے تھے
19:26مسیح کو نا پسند کرتے تھے
19:28اور کوئی اگر کہتا تھا
19:30مسیح تو ڈانٹتے تھے
19:31اور کہتے تھے
19:32سیب اللہ ہو میں مسیح ابھی
19:34Tomorrow is what my beloved means is that Allah
19:47It does not because my beloved is mine
19:52foreign
19:58foreign
20:06foreign
20:07foreign
20:09foreign
20:13foreign
20:39وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
Comments

Recommended