- 5 hours ago
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00لا إله إلا الله
00:34ناظرین اگرامی قدر آپ جانتے ہیں سال دوزار چھبیز کی خصوصی اجتماعی قربانی اپیل لی ہے اس وقت ہم آپ
00:40بھی خدمت میں حاضر ہیں اور پوری دنیا میں بالخصوص ہمارے جو اوورسیز پاکستانی حضرات ہیں
00:45یو ایسے اور یوکے سے تعلق رکھنے والے جو ہمارے آباب ہیں قابل قدر ڈونر حضرات ہیں ان کی توجہ
00:51میں اس وقت بالخصوص دلانا چاہوں گا
00:53پاکستان میں رہنے والے ہمارے مستحقین بہن بھائیوں کی جانب ان سفید پوش تبقے سے تعلق رکھنے والے آباب کی
01:01جانب
01:01جو واقعاً اس وقت نہایت ہی مفلوق الحال پریشان حال ہیں زندگی کرب کے ساتھ گزاری جا رہی ہے پاکستان
01:09میں
01:09بھلے وہ شہری علاقے ہوں یا دہی علاقے ہوں حالات اس وقت مختلف محسوس نہیں ہوتے
01:15بلکہ یکسا طور پر ہمیں شہری آبادی میں بھی رہنے والے اور دہی علاقے میں رہنے والے بھی
01:21ہمیں اسی طور پر یکسا طور پر متاثر دکھائی دیتے ہیں اور ناظرین گرام یہ قدر اس کی بنیادی وجہ
01:27ہم سب جانتے ہیں کہ جو ہمارے اس وقت پیش نظر ہے مہنگائی کی دیگر گل صورتحال پیٹرول
01:33یہ مسنوات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور پھر اس ہوشربہ اضافے کے سبب اشیاء خورنوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں
01:40اور پھر جب اس کیفیت سے ہمارا سفید پوشت اپا گزر رہا ہے تو کیا وہ قربانی کرنے کے بارے
01:47میں سوچ سکتا ہے
01:47یقینا یہ possible محسوس نہیں ہوتا ہے اس مشکل دور میں
01:51بلکہ جو لوگ پچھلے سالوں تک قربانی کیا کرتے تھے
01:55یا at least حصہ ہی لے لیا کرتے تھے وہ بھی اس وقت اس بات کے متمنی ہے
02:01کہ احساس ان کی مدد کرے اور وہ احساس کے ساتھ اس وقت align ہے
02:07احساس ان کی خدمت پر معمور ہے جہاں مختلف حوالوں سے وہیں احساس نے اس موقع پر انہیں listed رکھا
02:13ہوا ہے
02:13اور ان کے لیے انشاءاللہ عید قربان کے موقع پر اپنے طور پر جو کچھ کیا جا سکتا ہے
02:18جو خوشیاں باٹی جا سکتی ہیں ان کے درمیان انشاءاللہ جو گوشت کی تقسیم کی جا سکتی ہے وہ ضرور
02:23کی جائے گی
02:24اور آپ سے یہی درخواست ہے کہ اپنے پاکستانی مسلمان بہن بھائیوں کے لیے بڑھ چڑھ کر اپنے ڈونیشنز کو
02:31قربانی کی مدد میں ضرور پیش کیجئے
02:34حصہ جات ہوں یا بڑا جانور آپ پیش کریں تو بسم اللہ کیجئے ضرور ڈونیشنز پیش کیجئے
02:39ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے ممتاز و محتبر سناخان رسول خوشالحان خوشگلو سناخان رسول اور بہت ہی خوبصورت انداز کے
02:48ساتھ پڑھنے والے
02:49جناب محمد افسار رحیم صاحب افسار بھائی ایک گزارش میں نے آپ سے بریک کا دوران کی تھی باندھے ہاتھوں
02:55کی میرے علاج نبائے رکھنا وہ عطا ہو جائے بسم اللہ
02:59اللہ علیہ وسلم
03:37نبائے رکھنا باندھے ہاتھوں کی میرے علاج نبائے رکھنا
04:08نبائے رکھنا میرے سرکار
04:24میری بات بناے رکھنا
04:40باندھے ہاتھوں کی
04:53زرائے خاک کو
05:08خورشید
05:13بنانے والے
05:40بنانے والے
05:46خاک ہوں میں
05:53مجھے قدموں سے لگائے
06:06رکھنا
06:08ماشاءاللہ
06:09ماشاءاللہ
06:10ماشاءاللہ
06:29ماشاءاللہ
06:30میرے سرکار
06:36میری بات بناے رکھنا
06:47رکھنا
06:51باندھے ہاتھوں کی
06:57تیرا کہلا
07:09تو یہ لوگ
07:19مجھے جانتے ہیں
07:49میرے آقا
07:52ماشاءاللہ
07:54مجھے قدموں سے بچائے
08:06ماشاءاللہ
08:21ماشاءاللہ
08:22ماشاءاللہ
08:22مجھے قدموں سے بچائے
08:28مجھے قدموں سے بچائے
08:30رکھنا
08:33میرے سرکار
08:37مجھے قدموں سے بچائے
08:39میری بات بناے
08:42Shabbat Shalom
09:12برکت نصیب فرمائے
09:14ب 180000terim
09:19اسا ڑسی ناظرین اغرامی قدر
09:28جو موجودہ صورتحال ہے
09:30وہ یقینا ہم سب جانتے ہیں
09:34کہ اچھی نہیں
09:35بہتر بھی نہیں
09:36اور ایک ایسی صورتحال ہے
09:39جس سے میں سمجھتا ہوں
09:40Pakistan, if you want to talk about it, it is a person who has a spouse.
09:47If you want to talk about it, if you want to talk about it,
09:54it's a person who has to talk about it,
10:01but if you want to talk about it,
10:06to avoid it now, I think it will be a good cause of it.
10:13I think that, I think it will be a good result.
10:15I think it will be a good quality and what this is.
10:17I think it will be a good quality and help you to get.
10:22We can imagine it is available to people who have access toию
10:26in a mobile network are going to sell.
10:30I am about to say that by now,
10:33it's not available to them in my own country.
10:35اس میں نے کہا کہ اس وقت جو پچاس ہزار روپے کما رہے ہیں اس وقت ان کا کمایا ہوا
10:40پچاس ہزار روپے بیس ہزار روپے کے برابر ہو چکا ہے
10:43یہ پاکستانی معیشت نے جو اپنا تفسرہ پیش کیا ہے میں اس حوالے سے آپ کو بتا رہا ہوں
10:49ناظرین گرامی ایک قدر بات یہ ہے کہ واقعتاً مہنگائی نے جس طرح سے کمر توڑ دی ہے پاکستان میں
10:55رہنے والے لوگوں کی
10:57میں بہت تکلیف کے ساتھ یہ بات کر رہا ہوں
11:00ہمیں یہ باتیں کرنی پڑ رہی ہیں کیونکہ واقعتاً ہمارا جو سفید پوش طبقہ ہے وہ جس کیفیت سے گزر
11:07رہا ہے
11:07یا تو وہ با خدا وہی جانتا ہے یا پھر اس کا رب جانتا ہے
11:11مفتی خورم اقبال الرحمانی صاحب ہمارے ساتھ موجود ہیں
11:13خورم صاحب کیا فرمائیں گے علامہ صاحب کہ اس کیفیت سے جس طرح اس وقت ایک عام پاکستانی گزر رہا
11:21ہے
11:21اور ہم یقیناً اس بات کو بخوبی طور پر محسوس کرتے ہیں اور محسوس کرنا بھی چاہیے درد دل لگتے
11:28ہیں
11:28کیونکہ حبیب جالب نے بہت خوب کہا کہ لاکھ دھڑکتا ہو پہلو میں پتھر ہی کہلائے گا
11:34انسانوں کے درد سے جو دل ہے جالب آباد نہیں
11:37جو موجودہ صورتحال ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا اشارت فرمائیں گے
11:42کتنی ضرورت ہے ہمارے ورسیز پاکستانی جو حباب ہیں
11:44قربانی کے فریضے کی انجام دہی کرنا چاہتے ہیں کر رہے ہیں
11:48تو پاکستان میں رہنے والوں کے لیے کس خصوصیت کے ساتھ انہیں چاہیے
11:52کہ اس وقت تو اپنے حصہ جات اور مکمل جانوروں کے لیے جو قربانی کا مرحلہ ہے
11:56اسے سر انجام دے
11:57خالد بھئی آپ نے بہت خوبصورت انداز میں
11:59اس وقت پاکستان کا جو متوسط طبقہ جسے ہم کہتے ہیں
12:03یا سفید پوش طبقہ کہتے ہیں
12:04اس کا درد آپ نے بیان کیا ہے بہت خوبصورت انداز میں
12:06اور حقیقت یہ ہے کہ جو دور دراز گاؤں دیہات خضبوں میں رہتے ہیں
12:11لوگ صرف وہ نہیں ضرورت مند سمجھتے ہیں
12:14چونکہ ان کی ضرورت لوگوں کو نظر آ رہی ہوتی ہے
12:17لیکن یہ جو سفید پوش طبقہ ہے
12:19یہ اپنا عزت اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے
12:22کوشش کرتے ہیں کہ کسی کے سامنے دستے سوال دراز نہ کریں
12:26لیکن واقعیتاً آپ نے جو کہا
12:29بلکل یہ اس وقت جو حق اور سچ کی کیفیت ہے
12:32کہ جو دھیاری دار طبقہ ہے
12:35یا جو نوکری پیشہ طبقہ ہے
12:37میں اپنے گردوں پیش میں اس بات کو محسوس کر رہا ہوں
12:40دیکھ رہا ہوں ہمارے ادارے کے ساتھ جو لوگ منسلک ہیں
12:42یا جو سورنٹس پڑھنے آتے ہیں
12:44ان کی جو والدین اس وقت آ کے جس طرح کی کیفیات کو میں بیان کر رہے ہیں
12:48کہ واقعیتاً اس وقت گھر میں جہے نا وہ پریشان ہیں کہ ہم کھانا کھائیں
12:52کہ یا اپنے جو ایکسپینسیز ہیں گھر کے کرایا وہ ادا کریں
12:56یا جو آفس جانے میں جو ایکسپینسیز اب ان کے ہو رہے ہیں
12:59یا جو اپنے یوٹیلیٹی بلز ہیں
13:02ٹھیک ہے نا وہ ادا کرنے مشکل ہو رہا ہے
13:04کرایا ادا کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے
13:07تو ایسے میں گوشت کھانا دیکھ لگجری بن گیا ان کے لیے
13:10بلکہ جو روز مرہ روٹین کی ضروریات ہیں
13:12وہ ان کو فراہم نہیں ہو پا رہی ہیں
13:14اور بلکل ایسے ہی ہے کہ وہ بڑی تکلیف کے اندر آ کر
13:19وہ اپنی پریشانی کو بیان کرتے ہیں
13:21چونکہ انہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا
13:22اس طرح کرنے کا
13:23اس طرح ایک طبقہ ہمارے میں ایسا بھی پچھلے دنوں میں رہا ہے
13:27پچھلے سالوں میں رہا ہے
13:28کہ محدود آمدنی ہونے کے باوجود
13:31ان کے دل میں قربانی کا جذبہ تھا
13:33اور وہ کہیں سال بھر میں
13:36کچھ تھوڑی سیونگز کر کے
13:37ایک ہاتھ حصہ قربانی کا جانور میں
13:39ڈال لیا کرتے تھے
13:40کہ کچھ چھوٹا جانور ملپ آٹ کے کر لیا کرتے تھے
13:43کہ جو قربانی ادا ہو جائے
13:44اور بچوں کی خوشیاں ہو جائیں
13:47اس وقت ان کے بچے بڑی آس اور امید کے ساتھ
13:50ان کی طرف دیکھ رہے ہیں
13:51اور وہ اپنے بچوں سے نگاہیں نہیں ملا پا رہے ہیں
13:53کہ گدشتہ سال تو اببو نے
13:55حصہ لے لیا تھا
13:56یا اللہ نے کچھ سلسلہ بنا لیا تھا
13:58اس سال ہمارے گھر پہ کیا ہوگی
13:59بچے بڑی امید سے پوچھ رہے لیکن
14:01جواب دینے کے لیے
14:03خاموش آنکھیں ہیں ان کے پاس کو
14:04جواب دے نہیں سکتے
14:06تو بڑی پریشانی کی کیفیت میں ہیں
14:07تو میں سمجھتا ہوں کہ
14:09اس وقت جو سب سے بڑا حق ہے
14:13پاکستانیوں کے لیے
14:15مسلمانوں کا مسلمانوں کے لیے
14:16ایک جیسے پڑوسی کا حق جیسے ہوتا ہے
14:18ہم کہتے ہیں
14:19کہ سب سے پہلا حقی پڑوسی کا ہے
14:21پریشتداروں کا حق ہے
14:22تو میں سمجھتا ہوں کہ
14:23اس وقت پاکستان کا یہ جو طبقہ ہے
14:25مفلوق الحال طبقہ ہے
14:27متوسط طبقہ صرف نام کو رہ گیا
14:29لیکن حقیقت میں وہ بھی
14:30جو غربت کے لائن سے نیچے
14:33وہ آ چکا ہے
14:34تو ان کی مدد کے لیے
14:35ہمیں دستے بازو دراز کرنا چاہیے
14:37دستے تعاون دراز کرنا چاہیے
14:39اور اپنے حصے جو ہے وہ
14:41قربانی کی صورت میں
14:42بلکل بلکل
14:43قربانی کی حصے میں شامل کرنا چاہیے
14:45تاکہ ایسے
14:46جو ہمارے بھائی ہیں
14:47جو کل تک گوش باٹتے تھے
14:48آج وہ گوش آنے کی
14:50امید میں ہماری طرف دیکھ رہے ہیں
14:52کہ آج ہمارے گھر پہ کوئی گوش پہنچا
14:53اور جس طرح
14:54مفیس صاحب آپ نے فرمایا
14:55کہ گھر کے جو بچے ہیں
14:57جو چھوٹے یہ معصوم ہوتے ہیں
14:59بہت اور یہ بچے
15:00یقیناً جب عید مناتے ہیں
15:01تو ان کے دم سے
15:02اتنی خوشیاں آتی ہیں
15:03اور یہی
15:04اپنے والدین سے
15:05امیدیں اور توقعات رکھتے ہیں
15:06اب ان بچوں کو کون بتائے
15:08کہ جو والد صاحب
15:09جب صبح گھر سے نکلتے ہیں
15:10تو فور انڈر اینڈ سمتنگ
15:11کا ماؤنٹ کا
15:12تو یہ پیٹرول ڈلواتے ہیں گاڑی میں
15:13اس کے بعد پھر ان کے پاس
15:15اتنے بھی نہیں ہوتے
15:16کہ یہ کچھ کھا سکیں
15:17یا واپس جب وہ گھر لوٹ رہے ہوتے ہیں
15:19تو ایک بہت بڑا پہاڑ کی صورت میں
15:21ان کے سامنے جو گھر میں
15:22جو سامان کا اشیاء
15:23خور و نوشت کی حوالے سے
15:24ایک لسٹ ہوتی ہے
15:25ان پر ایک پہاڑ بن کر گرتی ہے
15:27کہ میں کس طرح سے
15:28اسے پورا کروں
15:29یعنی ایک عام آدمی
15:30اگر اپنا پرڈے کا
15:31ایوریج رکھتا ہو
15:32تو وہ جانتا ہے
15:33اچھی طرح کہ
15:34دو ہزار روپے
15:36بہت معمولی رقم ہے
15:37اس وقت پرڈے
15:38خرج کرنے کے لیے
15:39یہ کچھ بھی نہیں ہے
15:40اسی کوئی ورث نہیں ہے
15:41یعنی کہ اگر آپ
15:42400 سمتنگ کا پیٹرول
15:43ڈلوا رہے ہیں فات بھائی
15:44تو یعنی منتھلی
15:45آپ 18-20 ہزار روپے کا
15:47تو پیٹرول
15:47کم از کم آپ
15:48اپنی گاڑی میں
15:49ڈلوا رہے ہیں
15:50تو یہ
15:51پر لیٹر میں بات کر رہا ہوں
15:53جس کی جیسی ضرورت ہے
15:55کیا کہیں گے
15:56اس صورتحال میں
15:57پاکستان کے رہنے والوں کے لیے
15:59اور اس متوسط طبقے کے لیے
16:01قربانی کا اعتمام
16:02کرنا اور
16:03اسے پہنچانا
16:05ان کی دہلیزوں تک
16:06لے کر جانا
16:07احساس کا یہ جو
16:08عملی
16:09جو کارنامہ ہے
16:10اس پر میں چاہوں گا
16:11آپ کچھ ارشاد فرمائیں
16:12ساتھ ہی ساتھ
16:13یہ ضروریات ہیں
16:14ہمارے پاکستانی بہن بھائیوں
16:15کی اس حوالے سے
16:16آپ سے زیادہ بہتر
16:17یقینا ہمارے لیے
16:18کوئی ڈیفائن نہیں کر پائے
16:20دیکھیں ادان بھائی
16:21جو حالات ہیں
16:22موجودہ وہ کسی سے
16:23ڈھکے چھپے نہیں ہیں
16:24ایسے خورم بھائی
16:25نے بھی بتایا
16:25آپ نے بھی بتایا
16:26ہم جو گراؤنڈ پہ
16:28جاتے ہیں
16:28جو دیکھ کے آتے ہیں
16:29بہت ساری چیزیں
16:30ہم نہیں بتا سکتے
16:31جو لوگ
16:33اپنے گھروں کے
16:33حال حوال ہمیں بتاتے ہیں
16:35رہی سی بات ہے
16:36جو گھر میں بیچ رہی ہے
16:37انہی کو پتا ہے
16:38گھر کے سربراہ کو
16:39ساری چیزیں فیس کر رہا ہے
16:42کتنی چیزیں جو ہوتی ہیں
16:43ایک شخص
16:44اگر گھر کا سربراہ
16:45آپ سے کچھ بتاتے ہوئے
16:46رو پڑے
16:47اس کی آنکھوں سے
16:48آنسو جاری ہو جائے
16:49آپ سمجھ سکتے ہیں
16:50گھر کی کیفیت کیا ہے
16:51کتنے کرب سے
16:52وہ گزر رہا ہے وہ
16:53اور
16:54کیا مجبوری تھی
16:55اس کے بعد
16:56اس نے آج تک
16:57کبھی کسی سوال نہیں کیا
16:58باہت آ کے
16:58آپ کو اپنے حالات
16:59بتا رہے ہیں
17:00کہ میرے لئے
17:01فقط ایک مہینے کے
17:02راشن کے انتظام کر دیں
17:03میرے لئے
17:04ایک گوشت کی تھیلی
17:05کے انتظام کر دیں
17:05یہ وہ درناک نامات ہوتے ہیں
17:08جو ہم
17:08کہہ دیتے تھے
17:09پچھلے کچھ سالوں میں
17:10ہمیں نہیں دیکھنے
17:11کوئی ملتے تھے
17:11یہ حقیقت ہے
17:12لیکن اس سال تو
17:13میں نے
17:14لازٹ پروگرام میں بھی کہا تھا
17:15بہت ساری پیشنگ ہوئی
17:16ہمیں پوری
17:17جو ہم لوگ سنتے تھے
17:18وہ نظر آ رہی ہیں اب
17:19کہ یہ یہ وقت بھی آئے گا
17:20معاشر سوری تعلی
17:21بلکل
17:21اپتر ہو جائے گی
17:23لوگ نہیں فرق کر پائیں گے
17:24اور غزائی کلت
17:25وہ آپ کے سامنے
17:26کسی ریڈری چھپی نہیں ہے
17:27دیکھیں
17:27غزائی کلت
17:28کو ایک شیکل یہ بھی ہوتی
17:30کہ چیزیں اتی مہنگی کر دیا ہیں
17:31کہ آپ کی پہنچ سے دور ہو جائیں
17:32اس کے گھر میں
17:34تو یہ چیز کلت کی
17:34اس میں شمار ہوتی ہے
17:36کہ جو چاہتے ہوئے بھی
17:37اس چیز کو حاصل نہیں کر پا رہا
17:40پاکستان میں
17:40یا میں کسی ایک شہر کی بات کروں
17:42تو زیادتی ہوگی
17:43لیکن ہمارے
17:44جو ہمارے لئے
17:44ہر شہر برابر ہے
17:45اگر کسی شہر میں
17:47کوئی پریشان ہے
17:48تو سمجھیں وہ پریشان ہے
17:49واقعی میں
17:50اس کا تعلق کسی شہر سے بھی ہو
17:51اگر اس کے گھر میں
17:52اناج نہیں ہے
17:53پینے کا صاف پانی نہیں ہے
17:55ایک جو سال میں
17:56ایک ایونٹ آتا ہے
17:56اگر آپ رمضان کی بات کریں
17:58اس کے لئے رمضان
17:59راشن نہیں ہے
18:00اس کے پاس
18:00عید کے کپڑوں کے لیے
18:01بچوں کے لیے کپڑے نہیں ہیں
18:03یا قربانی کے موقع پر
18:04اس کے پاس
18:04اتنی سہولت نہیں ہے
18:05وہ قربانی
18:06ادا کر سکے
18:07ایک بڑا جانوار تو
18:08ایک بہت ان کا چیز ہو گئی ہے
18:10ایک طبقے کے لیے بھی
18:11جو استعداد اکتا ہے
18:12اور جس کے پاس ہے ہی نہیں
18:13اب حصہ لینا بھی
18:14تیس پہتیس ہزار
18:16ایک آہم سے بات ہو گئی ہے
18:17بلکل
18:17یہی ایورٹ مانگ سبتہ میں
18:19دکھائی دے رہا ہے
18:19اب سوچئے کہ
18:20جس شخص کی آمدنی
18:21پچاس ہزار ہے
18:22جو ادنان بھائی کہتے ہیں
18:23وہ
18:25کرایا بھرے گا
18:26گروسی لائے گا
18:27بائک میں
18:28فیول ڈالوائے گا
18:29قربانی کرے گا
18:30وہ کرے گا
18:31بلکل ایسے
18:32آپ
18:32آپ سوچ نہیں سکتے
18:34کہ جو کمار ہے
18:34وہ کس حد تک پریشان ہے
18:36اور وہ طبقہ
18:37جس کے پاس
18:37کوئی ذرائع نہیں ہے
18:38آمدنی کے
18:39وہ کس حد تک پریشان
18:40ہو چکا ہے
18:41کتنے لوگ
18:42ہم بتاتے ہیں
18:43کہ ہمیں اگر
18:43بچوں کا چہرہ نہیں ہوتا
18:45ہم ہوتکشی کر چکے ہوتے
18:46ہم گھر میں جاتے ہوئے
18:47شرمندگی ہوتی ہے
18:48ہمیں تو یہاں تک
18:50لوگوں نے بولا ہے
18:50کہ قربانی کے دنوں میں
18:52ہم اپنے بچوں کو
18:52باہر نہیں نکلنے دیتے
18:53جب وہ دیکھتے ہیں
18:54کہ پرابر میں
18:55کوئی جانور لے کیا ہے
18:56ہمارے بچے
18:57فرمائش کرتے ہیں
18:58میں گھر میں
18:59راشن نہیں ڈال پا رہا
19:00تو قربانی کا جانور
19:01کہاں سا لہوں گا
19:02اور فاضح ایک بات اور
19:03کہ اسی وجہ سے
19:04ہم دیکھتے ہیں
19:04اسی تنگدستی
19:05اور پریشانی کی وجہ سے
19:07ادم برداشت بڑھتی جا رہی ہے
19:08ہم یہ دیکھتے ہیں
19:10کہ روز مرہ
19:11کہ جو ہمارے معمولات ہیں
19:12بہت خوبی اس بات کا
19:13مشاہدہ
19:14تجربہ ہمیں ہوتا ہے
19:15کہ لوگ
19:16اپنی برداشت
19:17کھو چکے ہیں
19:17ہر شخص ایسا
19:18محسوس ہوتا ہے
19:19ایسے بس
19:19اگر مجھے موقع دیا
19:21تو میں لڑنے کے لیے تیار
19:22دان بھائی وجہ کیا ہے
19:23کہ جب آپ کے
19:24گھر کی ضرورات
19:24پورے نہیں ہو رہی ہوں گی
19:26آپ کو بنیاری ضرورت
19:27پورے نہیں ہو رہی ہوں گی
19:28تو وہ گھر کے
19:28جو لوگیں کہاں جائیں
19:30وہ سربارہ کی طرف
19:31دیکھتے ہیں
19:31اب گھر کا جو سربارہ ہے
19:32وہ کہاں جائے
19:33وہ کس کے آگے سوال کرے
19:35نہ چاہتے ہوئے بھی
19:36اپنے ادھر ادھر
19:37اپنے دوست کھولی
19:38میں کہیں پہ رابطہ کرتا ہے
19:39اب مسئلہ یہ ہے
19:40کہ سبھی کے حالات
19:41اس نے اپتر ہو چکے ہیں
19:42کون کس کی مدد کرے گا
19:44یہ اس سے کوئی
19:45دھکی چوبی بات نہیں ہے
19:46ہمارے فیملی سرگل میں
19:47آپ سب جب دیکھ رہے ہیں
19:48آپ سب کو پتا ہے
19:49ایڈگری سنرانڈنگ میں
19:50کیا معاملات ہو چکے ہیں
19:52کہ نیشوی لوگ پہنچ چکے ہیں
19:53کہ اپنی دو وقت کی روٹی کیا
19:55ایک وقت کی روٹی بھی
19:55مشکل ہو گئی ہے
19:56بس کوشش کیجے
19:58اس کے ساتھ میں آپ کو
19:59اور مجھے ڈیٹل بتا رہا ہوں گا
20:00لیکن اس وقت
20:00ہمارے سواد ایک اناؤنسمنٹ ہے
20:02ہمیں جوائن کیا ہے
20:15ماشاءاللہ
20:16مرحبا
20:18دو شہر پاکستان میں
20:20بہت بہت شکریہ
20:21بانی صاحب آپ کا
20:22کیونکہ
20:22بسکلی اس وقت
20:23سب سے عادت ضرورت
20:24پاکستان کے لیے
20:25اور ہم یہی ارز کر رہے ہیں
20:27بلکل
20:27کیونکہ آپ
20:27کہاں آپ کا دل چاہے
20:29آپ کو بانی کر سکتے ہیں
20:29لیکن
20:30آپ کی جہاں پہ روٹس ہیں
20:31جہاں سے آپ تعلق رکھتے ہیں
20:33پاکستان سے
20:33جو اوارسیس ہمارے بہن بھائی ہیں
20:35وہاں پہ موجود ہیں
20:36تو اس وقت
20:37آپ کے ملک میں
20:38جو حالات ہیں
20:39میرے حیال میں
20:40سب سے عادت
20:41یہی کے لوگ کرتے ہیں
20:42آپ کے اپنے وطن کے لوگ کرتے ہیں
20:44آپ کے اپنے شہر کے لوگ کرتے ہیں
20:46خواہ آپ کا تعلق
20:46کے پی کے سے ہو
20:47ملتان سے ہو
20:48پنجاب سائٹس ہو
20:49سندھ سے ہو
20:50صبح کراچی سے ہو
20:51آپ کا کہیں سے بھی تعلق ہو
20:52لیکن
20:52یہ وہ لوگ ہیں
20:54جن کو اشد
20:54اس وقت آپ کی مدد کی ضرورت ہے
20:56جس قسمہ پورسی میں
20:57جس مہنگائی کے دفان میں
20:59لوگ پس چکے ہیں
21:00لپٹ چکے ہیں
21:01جو اس سے نہیں نکل پا رہے ہیں
21:02جو کہ اپنی بنیادی ضرورت
21:03نہیں پوری کر پا رہے ہیں
21:04احساس کوشش کرتا ہے
21:05کہ ان لوگ کی بنیادی ضرورت
21:07بھی پوری کی جائیں
21:08لیکن اس وقت
21:09جو ضرورت ہے
21:10سب سے عادت قربانی کے گوشت کے لیے
21:11کیونکہ یہ
21:12وہ اتنی ان کا چیز ہو گئی ہے
21:14اتنا گوھر نیاب ہو گیا ہے
21:16کہ جو لوگوں کو سال میں
21:17ایک ٹائم ہوئی اثر ہو پاتا ہے
21:19صرف قربانے کے
21:21مہینے کے اندر
21:21وہ بھی احساس کے جانب سے
21:23اب کتنے لوگ ہیں
21:24جو پہلے جزنے
21:25اتنا مہینے بھی بتائی
21:26تو میں تو دیکھتا آ رہا ہوں
21:28عرصہ دراز سے
21:29کہ جو لوگ چھائی ڈونیشن
21:30بھی دے دیتے تھے
21:31بھون کی تعداد بھی کم ہو چکی ہے
21:33آپ کے پاکستان سے
21:34اور جو لوگ قربانی کرتے تھے
21:36اب ان کی کمر بھی ٹوٹ چکی ہے
21:37ہم لوگ اپنے سراؤنڈنگ میں
21:39سنتے رہتے ہیں
21:42اور ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں
21:43کہ اپنے گرد و نوا میں
21:45ہم دیکھتے ہیں
21:46اپنی سراؤنڈنگز میں دیکھتے ہیں
21:47کہ جانور جس طرح سے آتے تھے
21:49رونک ہو جائے کرتی تھی
21:51بلکل وہ گہمہ گہمی نہیں ہے
21:52بلکل نہیں آ رہی ہے
21:53اس عرصہ
21:56وہ گہمہ گہمی آرہی نہیں دکھای
21:59وہی جو ہم ڈسکشن کر رہے ہیں
22:01کہ لوگوں کی قوت خرید
22:02بہت شدید ترین متاثر ہوئی ہے
22:05اور وہ لائبلیٹیز کی طرف جا رہے ہیں
22:06اپنی یوٹیلیٹیز کی طرف جا رہے ہیں
22:08اور سچی بات دی ہے
22:09کہ سیونگز ہی نہیں ہے
22:10کہ وہ اس طرف جا سکیں
22:11اشیدانہ جو شرعی معاملہ جائے
22:13ہم کہتے ہیں
22:13کہ قربانی واجب ہونا
22:15تو اس وقت صورتحال یہ ہے
22:17کہ ایک بہت بڑی تعدادی تھی ہے
22:19جو اس نیٹ سے نکل گئی ہے
22:20یعنی پہ قربانی واجب ہی نہیں ہے
22:23جو واجب اپنا ادا کرتے تھے
22:25عبادت کی صورت کے اندر
22:26اس وقت صورتحال یہ ہے
22:27کہ وہ لیول سے نیچے آگئے ہیں
22:29ان کے قربانی واجب ہی نہیں ہو لی
22:31وہ شریف فقیر کی کیفیت کے اندر آ چکے ہیں
22:33صاحب نصاب ہی نہیں ہے
22:34صاحب نصاب ہی نہیں ہے
22:35بہت سارے لوگ
22:36جو گدشتہ سالوں تک قربانی کرتے رہیں
22:38تو یہ واقعیتاً
22:39ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے
22:41اور جہاں ہر شخص
22:43اپنی اس پریشانی کے اندر مبتلا ہے
22:45اور اس کو دور کرنے کی کوشش کر ہی رہا ہے
22:46میں سمجھتا ہوں
22:48کہ احساس کی طرف سے
22:57کہیں دھکے نہیں کھانے پڑ لے
22:59گرمی کے اندر ان کو پریشان نہیں ہونا پڑ لے
23:01بلکہ ان کے دور سٹیپ پر
23:03عزت اور احترام کے ساتھ
23:04اگر انہیں ایک وافر مقدار میں گوش پہنچ جائے
23:07اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ دستر خان سجائیں
23:10اور عید کی خوشیاں منا تو میں سمجھتا ہوں
23:12کہ ہماری طرف سے عید کا بہت خوبصورت تحفہ ہوگا
23:15کہ ہم اپنی فیملی کے ساتھ جو خوشیاں منا رہے ہیں
23:17وہ خوشیاں ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ شیئر کریں
23:20اور یہاں گھر گھر میں
23:21تب یہ خوشی کا سماح ہوگا
23:22تو میں سمجھتا ہوں کہ انشاءاللہ
23:23اس خوشی کی برکتیں
23:24جو تقسیم کرنے والے ان کو انشاءاللہ لازمی ملیں گی
23:27اچھا میں پھر ایک ارس کروں گا
23:29کہ ہم جب خرچ کر رہے ہوتے ہیں
23:31پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بڑی پیاری بات
23:34مجھے یاد آئی
23:34کہ خرچ کرنے والوں کے لیے
23:37کہ ہم ہمیشہ یہ چاہتے ہیں
23:39کہ ہمارے لئے انویسمنٹ ہو جائے کوئی
23:41اپنے پریشانی کے وقت کے لیے
23:43یا ہماری اولاد کے لیے
23:44کوئی نہ کوئی انویسمنٹ ہو جائے
23:45تو اس کے لیے اپنا پیسے بچانے کی
23:48یا کچھ نہ کچھ سیونگز کرنے کی کوشش کرتے ہیں
23:50تو ایک مرتبہ پیارے آقا
23:52صلی اللہ علیہ وسلم کی بھارگرہ میں
23:54کچھ قربانی کا گوشتہ ہے
23:55تو آپ نے وہ
23:56ام المؤمنی سیدہ عائشہ صدیقہ
23:59رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بھی دیا
24:02اور پھر ذرکار جو
24:03صحابہ کرام کے ساتھ جو معاملات
24:05اس میں مشکول ہو گئے
24:06اس کے وجہ اب گھر تشریف لے گئے
24:08تو آپ نے ام المؤمنی سے پوچھا
24:11کہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ
24:13جو گوشت آیا تو اس کا کیا کیا
24:15انہیں کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
24:17باقی سب تو میں نے تقسیم کر دی ہے
24:19بس یہ تھوڑا سا پیس بچا ہے
24:21بس یہ باقی ہے اور باقی سارا کا سارا
24:23میں نے تقسیم ہو گیا وہ سب ختم ہو گیا
24:25بس یہ باقی ہے
24:26تو پیارے آقا نے بڑا حکمت بڑا جملہ عطا فرمایا
24:29کہ عائشہ جو تم نے اللہ کی راہ میں دیا
24:31وہ باقی ہے
24:32وہ جو ہم نے اپنے لیے رکھا یہ ختم ہونے والا ہے
24:35جو ہم خود کھائیں گے
24:37اس کا ہمیں حساب دینا پڑے گا
24:38وہ یہ کھا کے ختم ہو جائے گا
24:40لیکن جو اللہ کی راہ میں دے دیا
24:42گو کہ ختم تو کھا کر وہ بھی کر دیں گے
24:43لیکن وہ اللہ کی بارکہ میں ہمارے لیے
24:45ہمیشہ باقی رہنے والا ہے
24:47تو وہ جو ہم کھا رہے ہیں
24:49الحمدللہ اللہ کی توفیق سے
24:51اب جب ہم یہ اللہ کی رضا کیلئے
24:53اللہ کے بندوں پر اپنے بہن بھائیوں پر
24:55ہم خرچ کریں گے
24:56اور جب وہ اس کو اپنی خوراک کا حصہ منائیں
24:59تو یقین جانئے ایسا عجر و ثواب
25:01ہم اپنے لیے جمع کرنے جا رہے ہیں
25:03کہ ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے
25:05بخاری شریف کی ایک حدیث بھی ہے
25:06پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
25:08سے ایک صحابی نے پوچھے
25:09یا رسول اللہ
25:10اسلام میں بہترین عمل کیا ہے
25:13اب دیکھیں عبادات
25:14اپنی جگہ ہیں
25:16وہ ہم پہ فرائز بھی ہیں
25:17ساری چیزیں ہیں
25:18مگر پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
25:20نے جو صحابی رسول کو بات عطا فرمائی
25:23وہ احساس ہے
25:24وہ احساس کیا ہے
25:26حضور نے فرما
25:27اسلام میں سب سے بہترین کامیں
25:29کھانا کھلانا
25:30تو تعیم الطعام
25:31کھانا کھلاو
25:33تو یہ نہیں بولا کہ
25:34بھئی میری ذمہ داری
25:35تھوڑی کھانا کھلانا
25:36وہ گھر کے سربارہ کی ذمہ داری
25:38اپنے اہل خانوں کو کھانا کھلا ہے
25:39وہ در نے فرما نہیں
25:40یہ ہر مسلمان بھائی کی ذمہ داری ہے
25:43کہ جس کے پاس کھانا میں اثر ہے
25:44وہ اپنے پڑوسی کا حق ادا کرے
25:46اپنے اس بھائی کا حق ادا کرے
25:48یہاں تک کہ سرکار نے
25:49تو یہاں تک ارشاد فرمایا
25:50کہ تم اس وقت تک
25:51کامل مومن نہیں ہو سکتے
25:54کہ تم پیڑ بھر کر کھاؤ
25:55اور تمہارا پڑوسی بھوکا سو جائے
25:56سبحان اللہ
25:57تمہیں اتنی فکر نہیں ہے
25:58اس کی کہ پڑوسی بھوکا سو رہا ہے
26:00تو تم کھانا کھاؤ
26:01اور پیڑ بھر کر سو جاؤ
26:02تمہارا ایمان مکمل نہیں ہے
26:04اس کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے
26:06حضور نے یہاں تک ارشاد فرمایا
26:08کہ جب کھانا بناو
26:09تو اس کے انداز تھوڑا سا
26:10پانی ملاؤ
26:11شوربہ اضافی کر دو
26:12تاکہ اس پڑوسی کے پاس بھیج سکو
26:15وہ بھی کھانا کھا سکے
26:16تو اتنا خیال
26:17ہمارے نبی نے ہم کو سکھایا
26:18ہمارے دین نے ہم کو سکھایا
26:20تو میں سمجھتا ہوں
26:21کہ جو لذت کام ہو
26:22دان اللہ کی طرف سے
26:23میں اثر ہے
26:24جو نعمت میں اثر ہیں
26:25اب وقت ان نعمتوں کو تقسیم کرنے گا
26:27ان ساری کی ساری کیفیات
26:29کو اپنے بھائیوں کے ساتھ
26:30تقسیم کرنے گا
26:31تو اس وقت جو پاکستان کی
26:32موجودہ صورتحال ہے
26:33اور جو
26:34قسمہ پرسی کی صورتحال ہے
26:36بالخصوص سفید پوشتب پر
26:37ہم جو بار بار ذکر کرنے ہیں
26:38چونکہ ہم خود جوج رہے
26:39ان تمام در کیفیات سے
26:41تو میں سمجھتا ہوں
26:42کہ ہمارے جتنے دیکھنے والے
26:43ہمارے بھائی اور بہنیں
26:44اللہ سبحانہ وطہ نے
26:46جن کو یہ توفیق دی ہے
26:47ان کا یہ دیکھنا بھی
26:48ہمارے صدق احساس ہے
26:49اور جو خود نہیں کر سکتے
26:51وہ دوسرے دا کی بات
26:52پہنچا سکتے ہیں
26:53کہ بھئی یہ ساری کی ساری
26:54کیفیات چل رہے ہیں
26:55اور بڑے مستند انداز میں
26:57بڑے مضبوط انداز میں
26:59بڑے مستحقم انداز میں
27:00احساسی سارے کام کر رہے ہیں
27:01تو میں ایک اچھا پلیٹ فورم مل گیا ہے
27:03ہمیں چاہیے کہ ہم اس کے ساتھ
27:04اپنا دست تعاون دلاز کریں
27:06اور وہ جو بات خالد بھائی نے کہی رہا ہے
27:08کہ صرف ان کو ضرورت نہیں ہے
27:09جو بھوکے ہیں
27:11یا جن کو میں اثر نہیں
27:12ضرورت تو ان بھائیوں کی بھی ہے
27:14جو قربانی کرنا چاہتے ہیں
27:15مگر قربانی کی فیسلیٹیز میں اثر نہیں ہے
27:17تو جو ہمارے اوورسیز پاکستانی بھائی ہیں
27:20ان کے ساتھ بھی یہ مسئلہ ہے
27:21کہ واجب ہے
27:22واجب ادا کرنا چاہتے ہیں
27:23مگر وہاں اپنے ہاتھوں سے جانور زبا
27:24نہیں کر سکتے
27:26تو یہاں ان کو ایک ایسا پلیٹ فورم میں اثر آگیا ہے
27:28کہ شریعت کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے
27:31جو شریعت حکامات ہے
27:33اس کو سب پورا کرتے ہوئے
27:34ان کی جو عبادت ہے
27:35اس کی ادائیگی کو آسان کر دیا جائے
27:37اور اتنے اچھے انداد میں ادائیگی ہو
27:39کہ واجب بھی ادا ہو جائے
27:40اور پھر وہ جو گوشت
27:42ان کی قربانی سے میں اثر آئے
27:43وہ مستحقین تک پہنچے
27:45اور ایک ایک بوٹی جو ہے
27:47وہ اس شخص تک پہنچے
27:48جو اس کا ضرورت مند ہے
27:49اور جب وہ کھا کر
27:50اللہ کے شکر ادا کرے گا
27:51اور اس کے لئے دست دعا دراز کرے گا
27:54تو میں سمجھتا ہوں
28:03وہ دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے گا
28:05کیا رب کریم
28:06جس تیرے بندے کے ذریعے سے
28:08مجھے یہ رزق عطا ہوا ہے
28:10یا اللہ
28:10اسے اپنی رحمت میں سے حصہ عطا فرما
28:13ناظرین گرامی قدر
28:14اس وقت ہم
28:16بالخصوص ہمارے
28:17اوورسیز پاکستانی بہن بھائیوں سے
28:19درخواست گزار ہیں
28:20اگر آپ کا تعلق یو ایسے سے ہے
28:22آپ کا تعلق بنیادی طور پر
28:25روٹس لیول سے
28:26اگر ہم بات کریں
28:27پاکستان سے ہے
28:27اور آپ اس وقت مقیم ہیں
28:29یو ایسے میں
28:30یا یوکے میں
28:31تو بالخصوص اس وقت میں
28:32آپ سے دست بستہ
28:34درخواست گزار ہوں
28:35کہ اپنے پاکستان کے رہنے والے
28:37ان مفلوق الحال
28:39پریشان حال
28:40بہن بھائیوں کے جانب
28:41ضرور توجہ کریں
28:42آپ کو
28:43اللہ تبارک و تعالی نے
28:44مالی طور پر
28:45اتنی استعداد
28:46اتنی قوت
28:47اتنی طاقت
28:47اتا فرمائی ہوئی ہے
28:48کہ آپ
28:49جیسے جی چاہتا ہے
28:51اور جو جی چاہتا ہے
28:53اپنے دسترخان پر
28:54اسے تناول کرتے ہیں
28:55اسے کھاتے ہیں
28:56شکر ادا کرتے ہیں
28:57اللہ کا
28:58یقین جانے کہ
28:59آپ اللہ کے
28:59خوش قسمت ترین
29:01اور چنیدہ ترین
29:02بندوں میں سے ہیں
29:03لیکن
29:04پاکستان میں
29:04آپ کے بہن بھائی
29:05بہت زیادہ
29:06تکلیف دے صورتحال میں ہیں
29:08خاص طور پر
29:09اگر میں بات کروں
29:10تو اس وقت
29:10میں
29:11یقصہ طور پر ہی
29:12یہ بات کہنا چاہتا ہوں
29:13کہ نہ صرف شہری آبادی
29:22جو غربت ہے
29:23اس کا جو
29:24یوں کہہ لیجے
29:25اس کی جو اثر انگیزی ہے
29:27وہ ہمیں
29:27یقصہ طور پر دکھائی دیتی ہے
29:28آپ سے معتبانہ درخواست ہے
29:30کہ دل کھول کر
29:32زیادہ سے زیادہ
29:33اپنے پاکستانی
29:34مستحقین
29:35بہن بھائیوں کے لیے
29:36ڈونیشنز کو پیش فرمائیے
29:37سرحد بلوچستان
29:39گلگت بلتستان
29:40راولپنڈی
29:41اسلام آباد
29:42ساہے وال
29:43چکوال
29:44خانے وال
29:45رحیم یار خان
29:46اس کے علاوہ
29:47آپ آجائیے
29:48سندھ میں
29:48انٹیریئر سندھ میں
29:49اگر ہم دیکھتے ہیں
29:50تو جیکب آباد ہے
29:52جام شورو ہے
29:53حیدر آباد ہے
29:54اور سندھ کے دہی علاقے ہیں
29:56جن میں
29:57مختلف مقامات شامل ہیں
29:59آپ جانتے ہیں
30:00کہ ایک بہت بڑی
30:02یوں کہہ لیجے کے
30:03رقبے پر مشتمل
30:04ایک آئیسی آبادی ہے
30:05کہ جس کا تعلق
30:07سفید پوش تبقے سے
30:08یا اس سے بھی نشلے تبقے سے
30:10کہ یعنی کہ ایسے لوگ
30:11کہ جو اپنے سروں پر
30:13پکی چھت
30:14کہ لیجے کہ
30:16حامل نہیں ہیں
30:17ان کے پاس پکی چھتیں
30:18موجود نہیں ہیں
30:19ان کے پاس پینے کا
30:20صاف پانی موجود نہیں ہے
30:22ان کے پاس
30:23لیونگ سٹینڈرز سے
30:24تعلق رکھنے والی
30:25جتنی چیزیں ہیں
30:26جو ضروری ہیں
30:27وہ انہیں
30:28مویسر نہیں ہیں
30:29اور احساس
30:30الحمدللہ
30:31ہر موقع پر
30:32ان لوگوں کے لیے
30:33آگے آ کر
30:33اپنا ملن کرداد
30:34کرتا ہے
30:35موسم سرما کی آمد ہو
30:37یا موسم میں
30:38گرمہ آ جائے
30:38ہر حوالے سے
30:40احساس اپنی اپیل لیا
30:41آپ کے سامنے
30:42حاضر ہوتا ہے
30:42اس کے علاوہ
30:43آپ جانتے ہیں
30:43کہ جب ہم
30:4426 سے زائد
30:45شبجات کی بات کرتے ہیں
30:46تو
30:46فری ڈیل ایچس سینٹرز ہیں
30:48اس کے علاوہ
30:49آپ جانتے ہیں
30:50احساس
30:51موڈل وریج سے
30:52قیام عمل میں
30:53آ چکا ہے
30:54الحمدللہ
30:54اور اس پر
30:55مزید بھی
30:55پورے پاکستان میں
30:56کام جاری ہو ساری ہے
30:57اس وقت
30:57ہم اجتماعی
30:58قربانی کے حوالے سے
30:59آپ سے درخواست
31:01گزار رہے ہیں
31:01روزہ اول سے
31:02جس طرح سے
31:02آپ احساس کا ساتھ
31:03دیتے آ رہے ہیں
31:04اس وقت بھی
31:06موڈبانہ
31:06آجزانہ
31:07آپ سے درخواست ہے
31:09کہ دل کھول کر
31:10پاکستانی بہن
31:11بھائیوں کے لیے
31:12ڈونیشنز کو پیش فرمائیے
31:13اور بسم اللہ کیجئے
31:14جتنے آپ
31:16شیئرز پیش کر سکتے ہیں
31:17شیئرز پیش کیجئے
31:18ایک دو تین
31:19ایز مچ ایز یو کین
31:21اور اگر آپ چاہتے ہو
31:22پورا بڑا جانور پیش کرنا
31:24تو بھی ہم آپ پر خیر مقدم کرتے ہیں
31:26سکسٹی فائیب پاؤنز میں
31:28آپ ایک شیئر پیش کر سکتے ہیں
31:30یا ایٹی فائیب ڈالرز میں
31:31ایک شیئر پیش کر سکتے ہیں
31:32بڑے جانور میں
31:34پاکستان کے رہنے والے
31:36مستحتین
31:36اور غربہ کے لیے
31:37اس کے علاوہ
31:38اگر آپ پورا بڑا جانور پیش کرتے ہیں
31:41تو پاکستان میں رہنے والے
31:42اپنے بہن بھائیوں کو
31:43فیسیلیٹیٹ کیجئے
31:44اور اپنی قربانی کو بھی
31:46ادا کیجئے
31:47آپ کی جانب سے
31:47قربانی کی ادائیگی بھی ہوگی
31:49اور ساتھی ساتھ
31:50وہ گوشت مکمل طور پر
31:52وقف ہوگا
31:52ان لوگوں کے لیے
31:53کہ جو مستحقین ہیں
31:54فور فیفٹی فائیب پاؤنز میں
31:56یا فائیب نائنٹی فائیب ڈالرز میں
31:58آپ بڑے جانور کی قربانی بھی کر سکتے ہیں
32:01ساتھی ساتھ آپ گوٹ کی قربانی بھی کر سکتے ہیں
32:03ون ہنڈرین ٹوئنٹی فائیب پاؤنز میں
32:06یا ون سکسٹی فائیب ڈالرز میں
32:08ناظرین اگرامی قدر
32:09آپ جانتے ہیں
32:10کہ پاکستان میں رہنے والے
32:12مستحقین
32:13ہمارے بہن بھائیوں کے لیے
32:14خاص طور پر دہی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے
32:17احساس جہاں
32:18اجتماعی قربانی کا
32:20فریضہ سر انجام دے رہا ہے
32:21آپ کی جانب سے
32:22اس فریضے کی ادائیگی کی صورت میں
32:24ساتھی ساتھ
32:25ہم یہ بھی جانتے ہیں
32:26کہ ان علاقوں میں
32:27ان میں سے بیشتر علاقے ایسے ہیں
32:29کہ جہاں پر لوگوں کے پاس
32:31انگریڈینٹس موجود نہیں ہیں
32:33گیس موجود نہیں ہیں
32:34اور دیگر ذرائع موجود نہیں ہیں
32:36کہ جس کے ذریعے سے وہ کھانے کو تیار کر سکیں
32:38تو الحمدللہ
32:39احساس کے بانیان
32:41احساس کے پروفیشنلز
32:43اس ضرورت کو بھی جانتے ہیں
32:44محسوس کرتے ہیں
32:45اور یہ احساس رکھتے ہیں
32:47ان لوگوں کا
32:48کہ عید و قربان کے موقع پر
32:49پکا پکایا کھانا بھی انہیں
32:51بہترین پیکیجنگ کے اندر
32:53پیش کیا جاتا ہے
32:54اور فادوی میں چاہوں گا
32:56اس حوالے سے بھی کچھ بتائیے گا
32:57کہ یہ جو پکا پکایا کھانا ہے
32:59اس کی جو ترسیل کا مرحلہ ہے
33:01اور خاص طور پر
33:02پیشلے پروگرامز میں بھی
33:03آپ نے زبارے میں بتایا تھا
33:05کہ عید و قربان کے موقع پر
33:06ایک سپیشلی احتمام بھی کیا جاتا ہے
33:08دسترخان سجائے جاتے ہیں
33:09ان مقامات پر
33:10ان لوگوں کے لیے
33:11نہ صرف انہیں گوشت دیا جاتا
33:13جب وہ گوشت لینے آتے ہیں
33:14تو ساتھی ساتھ انہیں وہاں پر
33:17کچھ یوں کہ لیجے
33:18کہ شکم سیری کا احتمام بھی
33:19ان کے لیے کیا جاتا ہے
33:20بالکل دان بھائی
33:21جیسے کہ آپ کو پتا ہے
33:22کہ جو لوگ آئے وے ہوئے ہوتے ہیں
33:25جو انتظار میں رہتے ہیں
33:27کہ وہ طبقہ ہوتا ہے
33:28کہ جن کے گھروں میں
33:29بنیاری ضروریات پوری نہیں ہوتی
33:31راشن کے حوالے سے
33:32یا تیار کک میل کے حوالے سے
33:35ابھی لوگ صبح سے آئے بھی ہوتے ہیں
33:36انتظار میں رہتے ہیں
33:37ظاہری سے بات ہے
33:38گھر میں کھانا نہیں پکا ہوتا ہے
33:40تو احساس کوشش کرتا ہے
33:42کہ ان کو صرف یہ نہیں بتایا جائے
33:45کہ آپ صرف گوشت لینے آئے ہیں
33:46بلکہ عزت احترام تقریم کے ساتھ
33:48ان کے لیے اس ٹائم پہ
33:50کھانے کے ابھی انتظام کیا جاتا ہے
33:51تاکہ جو لوگ
33:52اپنے فیملیز کو چھوڑ کے
33:54مطلب یہ وہ لوگ ہوتے ہیں
33:55جو کئی کئی دور کلومیٹر سے چل کے آتے ہیں
33:58کیونکہ آپ کو پتا ہے
33:59کہ یہ وہ نعمت ہوتی ہے
34:00اب لوگوں کے لیے
34:01جو پورے سال میں ایک بار محیسر ہوتی ہے
34:04اس کے فقول کے لیے
34:05نہیں جی تا کوئی بھی
34:06میرے حال میں جو اب موجودہ حالات ہو گئے ہیں
34:08اس میں تو کوئی جس حال میں بھی ہوگا
34:11وہ پہنچنے کی پوری کوشش کرے گا
34:13کیونکہ وہ مجبور ہیں
34:15وہ نادواں تپکہ ہے
34:17وہ چاہتے ہوئے بھی
34:18اپنے گھر کی ضروریات کو پورا نہیں کر پاتے
34:20بہت سے گھروں میں
34:21ایسے میں نے بھی دیکھا ہے
34:22کہ جن کے گھروں میں
34:23مرد حضرات نہیں ہیں
34:24ہماری بہنیں ہیں
34:25مجبور ہیں
34:26ان کے گھر میں کوئی کمانے والا نہیں ہے
34:27وہ اپنے بچوں کے ساتھ آتے ہیں
34:29وہاں پہ
34:31تاکہ ان کو بچوں کے ساتھ
34:32وہ کے گھر پہ کوئی سمالنے والا نہیں ہوتا
34:34مطلب یہ عرصے درہا سے میں دیکھتا آ رہا ہوں
34:36اب محضورت صورتحال صاحب
34:38بہت خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں
34:39ہم کس نیچے پہنچ چکے ہیں
34:41میں آپ کو مزید اس کی تفصیلات بتاؤں ہوں
34:43لیکن ابھی ایک مجھے
34:44ایک آناؤسمنٹ موصول ہوئی ہے
34:45ہمیں ایک ڈانر نے جوائنٹ کیا ہے
34:47ایم ڈی حامیس صاحب نے
34:48اور ان کا تعلق ہے یوگے سے
34:51اور انہوں نے ہمارے ساتھ
34:53130 پاؤنڈ
34:54ماشاءاللہ
34:54ایسا 30 پاؤنڈ کا تیہ کیا ہے
35:05کیا بات ہے
35:06آپ سے افیل کرتا ہے
35:07کیونکہ دیکھیں
35:08ویسے تو جہاں آپ کا دل چاہے کریں
35:10لیکن پاکستان میں
35:11اس وقت
35:12اشید سے زیادہ
35:13ضرورت سے زیادہ ضرورت ہے
35:15آپ لوگوں کی
35:16آپ لوگوں کی قربانی کے
35:17جانور کی اس طبقے کے لیے
35:18متوسط طبقے کے لیے
35:20اس صفیت پوش طبقے کو آپ کہہ لیں
35:22یا اس افراد کو کہہ لیں
35:24کہ جن کے گھروں میں
35:24ابھی بیسک چیزیں بھی پوری کرنے کے لیے
35:27انٹیگریٹس نہیں ہیں
35:28جن کے پاس وہ طاقت ہی نہیں ہے
35:30کہ اپنی ضرورت کی
35:30چیزوں کو پورا کیا جا سکے
35:32کوشش کے باوجود بھی
35:34تو سوچیں کہ آپ لوگ
35:35ایسے لوگوں کے لیے ذریعہ بنتے ہیں
35:37ایسے لوگوں کا
35:38آپ سلسلہ
35:39تعلق روکنے کی کوشش کرتے ہیں
35:41کہ جن کے گھروں میں
35:42اگر کوئی چیز نہیں ہوتی
35:43تو آپ کی ویے سے
35:44ان کے گھروں میں
35:45وہ چیز محسوس ہو پاتی ہے
35:47میرے خیال میں
35:48آپ خوشنصیب لوگوں میں سے
35:50ان حالات میں
35:51کہ جس میں اللہ نے آپ کو
35:52اتنا مال دیا ہے
35:54کہ اپنے گھر کی ضرورت
35:55پورا کرنے کے بعد
35:56آپ لوگ احساس کر سکیں
35:58دوسرے لوگوں کا بھی
35:59کہ آپ کو پتا ہے
35:59کہ جس طرح حرم آئین ہے کہ
36:01بھوک کی تکلیف کا اندازہ
36:03وہی شک کر سکتا ہے
36:04جو چیز سے گزرا ہوا
36:05کسی عام شک تو
36:06شاید اس کی
36:08سے توفیق نہ ہوئی ہو
36:11بلکل ایکسپیرینس ہو
36:12وہی یہ چیز کو
36:12محسوس کر سکتا ہے
36:13تو یہ خوشنصیبی ہے
36:15آپ لوگوں کی
36:16اور ہمیں بھی
36:16اپنی خوشنظری بھی
36:17اس طرح حصہ لگتی ہے
36:18کہ اللہ نے توفیق دیئے
36:19ونہ تو جتنے مسائلیں
36:21لوگ اپنے ہی دنیا میں
36:22مغن رہے
36:22اپنی چیزوں کو
36:23پورا کرنے میں لگ رہے ہیں
36:24لیکن یہ اللہ کا انعام ہے
36:25ہر شخص کے اوپر
36:27کہ جو
36:28اپنی طاقت کے باوجود بھی
36:30اپنی چیزوں کو
36:30پورا کرنے کے بعد بھی
36:31ان لوگوں کی مدد کرنے میں
36:33جس طرح میں لگ رہتا ہے
36:34مجھے ایک اور
36:35اناؤسمنٹ موصول ہوئی ہے
36:36ہمارے کنٹرلوم سے
36:37ہمارے ڈونر ہیں
36:38ڈاکٹر افتاب صاحب
36:39ان کا تعلق ہے
36:42یوں کہ سے
36:43ڈاکٹر افتاب احمد خان کا تعلق ہے
36:45اور انہوں نے
36:46ایک سو پچیس پاؤنڈ کا
36:48عطیہ دیا ہے
36:49احساس کو
36:49ایک کاؤ
36:51ایک گوڈ
36:52ایک کمپلیٹ
36:53جو بکرا ہے
36:54اس کے لیے انہوں نے
36:54پاکستان میں قربانی کے لیے
36:56احساس کو ڈونیشن دی
36:57بہت بہت شکریہ
36:58آپ کا
36:58افتاب احمد خان صاحب
37:00دیکھیں یہی وہ جذبہ ہے
37:01جس کے لیے احساس
37:02آپ کو پکارتا ہے
37:03آپ کو
37:04آپ کے
37:04اپنے
37:05بہن بھائیوں کے
37:06جو عدیت آپ کے موجود ہیں
37:07اس وطن سے
37:08آپ کے
37:08روش سے جڑے
37:09جو آپ کے بہن بھائی ہیں
37:10آپ کے
37:11تعلقات والے ہیں
37:12ان لوگوں کی بات کرتا ہے
37:13اور حقیقت میں
37:14وہ طبقہ بھی
37:15بہت مشکلات میں
37:16بہت پس چکا ہے
37:17اب جیسے راہ دان بھائی نے
37:18کہا تھا کہ
37:19ایک
37:19فور
37:19ہنڈیڈ سمتنگ کا
37:21پیٹرول
37:21اگر وہ ڈالوا کے
37:22نکلتا ہے
37:22باپس کی کا
37:23کچھ نہیں پتا ہوتا
37:24ابھی
37:24میں حقیقت میں
37:26میں چاہتا ہوں
37:27ابھی بہت ساری چیزیں
37:28نہیں بتا پاتا
37:29لائف دانے کی ویسے
37:30بہت لوگ مشکل میں
37:32بہت تکلیف میں
37:33لوگ
37:34اگر میں
37:34اکثر کہتا ہوں
37:35کہ اگر گھر کا سربراہ
37:37کوئی
37:37سوال کرتے ہوئے
37:39ایک رو پڑے
37:39تو اس سے زیادہ
37:41اس کی
37:41تکلیف کا
37:42کوئی مرحلہ نہیں ہوتا
37:43کوئی وقت نہیں ہوتا
37:44اس کی زندگی میں
37:45وہ شخص
37:46اس نے کبھی دست سے
37:47سوال نہیں کیا
37:48ہو کسی کی آگے
37:48لیکن صرف
37:49اور ایک اور چیز
37:50میں آپ سے شیئر کرتا ہوں
37:51اور بولتا ہوں
37:52میں نے جب بھی
37:53کسی سے
37:54اپنی مدد کی بات کی ہے
37:56کسی نے بولا
37:57کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے
37:58ہمیشہ ایک ہی لبس
37:59میں نے ان سے سنا
38:00کہ میرے بچوں کو
38:01راشن کی ضرورت ہے
38:03میرے بچوں کو
38:04گوش کی ضرورت ہے
38:05میرے بچوں کو
38:05فلان چیز کی ضرورت ہے
38:07کبھی میں نے
38:07گھر کے سربرہ سے
38:09چاہے کوئی ہمارا بھائی ہو
38:10کوئی ہماری بہن ہو
38:11کوئی مجبور خاتون ہو
38:12کبھی کسی نے سنا
38:13کہ مجھے ضرورت ہے
38:14ہمیشہ جس نے بھی بات کری
38:16اپنی فیملی کے لیے بات سنیے
38:17تو کوشش کیجئے گا
38:19کہ ان لوگوں کی
38:20یہ میسیج آگے تک پہنچا ہے
38:22تاکہ وہ طبقہ
38:23جو انتظار میں
38:25احساس کے احساس
38:25بسکلی وہ آپ سے
38:26احساس کے امید لگائے بیٹھا ہے
38:28تاکہ ان لوگوں کی
38:29اس عید پہ
38:30جو خوشی ہیں
38:31وہ دوسروں کی طرح گزر سکیں
38:33اور ان کے بچوں کے لیے
38:34جو حقیقی خوشیوں کا اعتمام ہے
38:35خاص طور پر
38:36جن کے دم سے عید کی خوشی ہیں
38:38جن کے دم سے
38:39والدین کی عید کی خوشی ہیں
38:41ان بچوں تک
38:42وہ حقیقی خوشیاں پہنچیں
38:43کیونکہ بات یہ ہے
38:45کہ خوف کے سائے میں
38:46بچے کو اگر جینا پڑا
38:48خوف کے سائے میں
38:49بچے کو اگر جینا پڑا
38:51بے زبان ہو جائے گا
38:53یا بد زبان ہو جائے گا
38:54تو بات یہی ہے
38:55کہ جو بچے محرومیاں دیکھ رہے ہیں
38:57زندگی کے اندر
38:58بڑے ہوتے ہوتے
38:59یا تو یہ بچے
39:00خاموش ہو جائیں گے
39:02کیونکہ ہمارے عموماً لوگ
39:03یوں کہہ لی جیے
39:04کہ ٹین ایس سے ہوتے ہوتے
39:12کر دیتے ہیں
39:13یا پھر بد زبان ہو جاتے ہیں
39:14چڑھ چڑھے ہو جاتے ہیں
39:15تو بات یہی ہے
39:16کہ آسانیاں تقسیم کرنے کا
39:19جو یہ مرحلہ احساس
39:20جاری و ساری رکھا ہوا ہے
39:21اس کے ذریعے سے
39:23عید کی جو حقیقی خوشیاں ہیں
39:25میں بار بار یہ بات کہہ رہا ہوں
39:26ہمارے پاکستانی بہن بھائیوں کے لیے
39:28یہ اعتمام ضرور کیجئے
39:30اور ان کے بچوں کے لیے
39:31اتی خوشیوں کا اعتمام ضرور کیجئے
39:33یقین جانے یہ خوشیاں در حقیقت
39:35جب ان بچوں کو حاصل ہوں گی
39:36ان کے بڑے ان کے والدین
39:38خود ہی کھل اٹھیں گے
39:39اور وہ بھی عید منائیں گے
39:41ورنہ وہ جو خاندان کا سربراہ ہوتا ہے
39:44وہ جو باپ ہوتا ہے
39:45وہ مو چھپائے چھپائے گھوم رہا ہوتا ہے
39:48اپنی بیوی سے اپنے بچوں سے
39:49کہ یہ عید کے موقع پر نہ جانے
39:51کس خواہش کا اظہار کر دیں
39:53اور میری جیب اس بات کی اجازت نہیں دیتی
39:56کہ میں ان کے لئے عید کے موقع پر
39:58وہ انواع اقسام کے جو کھانے ہیں
40:00جو بیسک نیڈ ہے جو وہ چاہتے ہیں
40:02اور جو عید کی حقیقی خوشیوں میں شامل ہیں
40:04جو چیزیں
40:05اگر میں وہ بھی نہ انہیں پروائیڈ کر سکوں
40:07تو پھر میری زندگی کیا آئے
40:08میں کیا کر رہا ہوں
40:09وہ آدمی اپنے آپ سے سوال کرتا ہے
40:12ناظرین اگرامی قدر
40:13پاکستان کے رہنے والے
40:14اپنے بہن بھائیوں کو
40:16ضرور یاد رکھئے
40:17عید قربان کے موقع پر
40:18اور یہ خصوصی احتمام کیجئے
40:20ہمارے پاکستانی مستحقین بہن بھائیوں کے لئے
40:23متوسط طبقہ
40:24سفید پوش طبقہ
40:25ہم اس کا ذکر تو کرتے ہیں
40:27لیکن اب یہ طبقہ
40:28جس طرح فہاد بھائی نے بھی
40:29اپنی گفتگو میں کئی بار یہ بات کہی ہے
40:31کہ یہ طبقہ اب ختم ہی ہوتا ہوا
40:33ہمیں دکھائی دے رہا ہے
40:34یوں کہہ لیجئے
40:35کہ اب وہی طبقہ رہ گیا ہے
40:37جو ستھے غربت کی لکی سے
40:40ٹچ ہو چکا ہے
40:41یا اس سے نیچے آ چکا ہے
40:42اور ہر آدمی
40:44جو 35,000, 50,000, 60,000 کماتا ہے
40:48وہ ضرورت مند ہے
40:49وہ سفید پوش ہے
40:50یا اس سے بھی
40:51یوں کہہ لیجئے
40:51کہ نشرے درجے پر آ چکا ہے
40:53جس کی مدد کر دی جائے
40:54تو وہ مدد قبول بھی کر لیتا ہے
40:56بغیر کسی عذر کے
40:57اور اس کو بیان کیے
40:59وہ چاہتا ہے
41:00کہ ہاں اس کی مدد کر دی جائے
41:01وہ راشن بیکس کی صورت میں ہو
41:07اس سے کی جا سکتی ہو
41:08ناظرین محترم
41:0965 پاؤنڈز میں
41:10یا 85 ڈالرز میں
41:12ہم آپ سے ریکویسٹ کریں گے
41:15مودبانہ
41:15پاکستانی بہن بھائیوں کے لیے
41:17آپ بڑے جانور کا
41:18ایک شیئر پیش کر سکتے ہیں
41:19کیا ہی اچھا ہو
41:20کہ یہ احتمام
41:21آپ کی جانب سے
41:22اگر ہو رہا ہے
41:23تو دو شیئرز کی صورت میں ہو
41:25تین شیئرز کی صورت میں ہو
41:26اللہ نے اگر آپ کو
41:27اتنی استطاعت بخشی ہے
41:28کہ آپ پورا بڑا جانور
41:30ڈونیٹ کر سکتے ہیں
41:31سو پلیز ڈونیٹ کیجئے
41:33پورا بڑا جانور
41:35455 پاؤنڈز میں
41:37یا 595 ڈالرز
41:38ہمیں آپ کے
41:40اشد طور پر
41:41ریکوائیڈ ہیں
41:41کیونکہ ہم جانتے ہیں
41:43کہ جو شرع ہے
41:45غربت کی
41:46وہ بہت بڑھ چکی ہے
41:47وہ جو مستحقین ہیں
41:49ان کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے
41:51اس وقت پاکستان میں
41:5360 سے 65 فیصد طبقہ
41:55وہی آباد ہے
41:56کہ جو
41:57سطح غربت کی لکیر سے نیچے
41:59زندگی گزار رہا ہے
41:59جس سے ہم سفید پوش بھی
42:01کہہ دیتے ہیں
42:02لیکن حقیقت
42:03کہ اس وقت
42:03ہر طبقہ ہمیں
42:04ہر
42:05یوں کہہ لیجئے
42:06کہ ہر شخص
42:07جو ایسی ارننگز کے
42:08جن کا ذکر میں
42:09آپ کے سامنے کر چکا ہوں
42:10ان کو حاصل کر رہا ہے
42:11تو وہ
42:12اس وقت
42:12کس طریقے سے
42:13زندگی کی گاڑی
42:14کو دھکا دے رہا ہے
42:15کیونکہ وہ
42:16میڈیسنز بھی خرید رہا ہے
42:17اپنے گھر والوں کے لیے
42:18وہ
42:19اشیاء خور و نوش بھی
42:20کسی طرح سے
42:21پروائیڈ کرنے کی
42:22کوشش کر رہا ہے
42:23وہ
42:23یوٹیلٹی بلز
42:24ادا کر رہا ہے
42:25گیس کے بلز ہیں
42:26اس میں بجلی کے بلز ہیں
42:27اس میں
42:28فیسز ہیں بچوں کی
42:29اس کے اندر
42:30اور گھر کی
42:31یوٹیلٹیز ہیں
42:32اس کے علاوہ آپ جانتے ہیں
42:34کہ گھر کا
42:34کرایا ہے
42:35اس کے علاوہ آپ جانتے ہیں
42:36کہ اس کی اپنی جو
42:38ویکل وہ چلا رہا ہے
42:39اس کے اخراجات ہیں
42:40اس کی سرویس چارجز ہیں
42:41اس کے
42:41جو پیٹرولیم
42:43جو ضرورتیں ہیں
42:44وہ پوری کر رہا ہے
42:45نہ جانے کیا کچھ ہے
42:46آپ جانتے ہیں
42:46مجھ سے بہتر آپ جانتے ہیں
42:48اور نہ جانے آپ
42:49خود
42:49کس
42:50کن اخراجات کو
42:51پورا کر رہے ہوں گے
42:52تو آپ اس تناظر میں
42:53سوچ سکتے ہیں
42:53اور پھر پاکستان کے
42:55رہنے والے بہن بھائیوں
42:56کی کیفیت کو آپ
42:57سمجھ سکتے ہیں
42:58کہ جن کی
42:58ارننگز اتنی نہیں ہیں
42:59وہ کس طرح سے گزارہ کر رہے ہیں
43:01ایک سو پچیس پاؤنڈز میں
43:02یا ون سکسٹی فائب ڈالرز میں
43:04آپ گوٹی قربانی بھی
43:05کر سکتے ہیں
43:06ناظرین اگرامی
43:07یہ قدر یہاں وقت ہوا ہے
43:08ایک مختصر سے
43:09وقفے کا وقفے سے لوٹتے ہیں
43:10اس یقین کے ساتھ
43:12کہ آپ
43:12کہیں نہیں جائیں گے
Comments