Skip to playerSkip to main content
  • 54 minutes ago
Hazrat Shaikh Saadi (RA) Talk Show | ARY Qtv
Aired on: 6 May 2026

Host: Sarwar Hussain Naqshbandi
Guests: Peer Irfan Elahi Qadri, Dr. Muhammad Azhar Abbasi

Is episode mein Hazrat Shaikh Saadi (RA) ki taleemat, hikmat aur zindagi ke pehluon par roshni dali gayi hai. Mohtaram ulema ne Islami akhlaq, roohaniyat aur Quran o Sunnat ki roshni mein rehnumai faraham ki, jo rozmarra zindagi mein rah-e-raast dikhati hai.

Is ilm o hikmat se bharpoor guftagu ko dekhiye aur apni zindagi ke liye rehnumai hasil kijiye.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:25Bismillah ar-Rahman ar-Rahim
00:26Muala ayah salli wa sallim
00:32Nاظرین اکرام اس خصوصی پروگرام کے ساتھ جس کا عنوان جس شخصیت کے حوالے سے ہے ان کا نام کسی
00:39تعرف کا محتاج نہیں ہے
00:40فارسی زبان و عدب کے بہترین شاعر بہترین نصر نگار بہترین دانشور اور جتنی بھی جہات علم کی ہو سکتی
00:49ہیں
00:49وہ اس شخصیت کے حوالے سے اگر ان کا ذکر کیا جائے تو وہ کم ہوگا
00:55اس کی اتنی جہات ہیں ان کی علمی اعتبار سے فکری اعتبار سے شیری اعتبار سے
01:00کہ ان کا نام ہی ایسا ہے کہ جیسے کہا جاتا ہے کہ آپ اپنا تعرف ہوا بہار کی ہے
01:06جب ہم پڑھتے ہیں بلغ اللہ بکمالی ہی کشفت دجا بجمالی ہی حسنت جمیع خسالی ہی سلو علیہ وعالی ہی
01:15تو حضرت شیخ سادی رحمت اللہ علیہ کا نام ہمارے ذہن میں آتا ہے یہ روبائی ایسی ہے یہ نام
01:22ایسا ہے
01:22کہ یہ ہمیشہ ترو تازہ ہے جب اس کو سنیں جتنی دفعہ سنیں اس کی تاثیر ختم نہیں ہوتی
01:29اور اسی طرح سے بے شمار اشار ایسے ہیں کہ جو زبان زدہ عام ہیں اور شیر کی بات کی
01:35جائے وہ زبان زدہ عام ہیں
01:37نصر کی بات کی جائے گلستان بوستان کا ذکر کریں تو اس کے بغیر فارسی زبان کا متعلیہ مکمل نہیں
01:44ہوتا
01:44اور ان کا ذکر کیے بغیر نہ فارسی نصر مکمل ہوتی ہے اس کا ذکر مکمل ہوتا ہے نہ تصوف
01:51مکمل ہوتا ہے
01:52نہ شائری مکمل ہوتی ہے تو اتنی کثیر الجہاد شخصیت حضرت شیخ سادی شرازی رحمت اللہ علیہ کا ذکر آج
02:01ہم کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہیں
02:03ان کے حوالے سے یہ خصوصی نشست اور آپ کا مزبان ڈاکٹر سرور حسین نکشبندی حاضر خدمت ہے
02:09میرے لئے یہ سعادت ہے ایر وائی کیو ٹی وی کے لئے سعادت ہے کہ ہم ایسی شخصیات کا ذکر
02:16کرتے ہیں
02:16جن کا ذکر ہمیں طرح تازہ کر دیتا ہے ہماری روحانی اعتبار سے فکری اعتبار سے علمی اعتبار سے ذہنی
02:24اعتبار سے ہمیں طرح تازہ کر دیتا ہے
02:26اور ایسی شخصیت جن کا پورا نام مشرف الدین مسلح بن عبداللہ شرازی رحمت اللہ علیہ
02:33اور جن کو لوگ دنیا حضرت شیخ صادی رحمت اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے
02:39ان کا ذکر آج کرنے کے لئے آج کا یہ خصوصی پروگرام آپ کے خدمت میں پیش کیا جا رہا
02:44ہے
02:44ہمارے ساتھ مہمان تشریف فرما ہے ان سے آپ کا تعرف کرواتے ہیں
02:48اور ان کا ذکر جو ہے وہ آج ہم مختلف حوالوں سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں
02:54حضرت پیر عرفان الہی قادری صاحب زیب آستانہ آلیہ سہوچک شریف آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں
03:00حضرت بہت شکریہ آپ کی تشریف آوری کا
03:03اور آج کے اس پروگرام میں اس نسبت سے آپ کی موجودگی جو ہے وہ بہت شرف کا باعث ہے
03:09بہت شکریہ آپ کا
03:10جنابے ڈاکٹر محمد عزر عباسی صاحب
03:12ہمارے ساتھ مختلف پروگراموں میں آپ ان کو دیکھتے رہے ہیں
03:15بہت نپی طولی اور بہت ٹو دی پوائنٹ گفتگو کرتے ہیں
03:19آپ کی بھی حضرت شریف آوری کا بہت شکریہ
03:21حضرت شیخ صادی رحمت اللہ علیہ کے حوالے سے
03:23میں سمجھتا ہوں کہ جو مہمان تشریف لائے ہیں
03:27وہ بھی اپنی تقریب میں پروگرام میں شریک ہونا بھی باعث سعادت ہے
03:31ان کا ذکر کرنا بھی باعث سعادت ہے
03:34اور اس پروگرام کی میزبانی کرنا بھی باعث سعادت ہے
03:38تو ہم سب جو ہیں وہ اس خوشی کے موقع پر موجود ہیں
03:41گفتگو کا آغاز کرتے ہیں
03:43حضرت شیخ صادی رحمت اللہ علیہ کا ذکر
03:45اور ان کی شخصیت کی مختلف جہاد کا تو ہم ذکر کریں گے
03:49لیکن آپ کی ولادت اور آپ کا جو زمانہ ہے
03:52اس سے آغاز کرتے ہیں
03:53بسم اللہ جناب پیر عرفان الہی قادر
03:55بسم اللہ الرحمن الرحیم
03:57بہت شکریہ دعوی صاحب
03:58بڑا خوبصورت انٹرو آپ نے پیش کیا ہے
04:00حضرت شیخ صادی رحمت اللہ تعالی علیہ
04:04جو کہ ہما جہت شخصیت ہیں
04:06آپ کی ولادت باسعادت پیدائش آپ کی پانچ سو نواسی ہجری میں
04:12ہوئی
04:13اور آپ کا جو وصال ہے وہ چھ سو اکانوے ہجری میں ہے
04:16اس میں مختلف اقوال آراء اور تاریخ نگاروں نے لکھا ہے
04:21بعض کے نزدیک آپ کی عمر مبارک ایک سو بیس برس ہے
04:25بعض کے نزدیک ایک سو دو برس ہے
04:27بعض کے نزدیک نانانوے برس ہے
04:30اور بعض نے ایک اپنے قول میں نوے برس بھی موجود ہے
04:34المختصر یہ کہ آپ طویل العمر تھے
04:37طویل عمری آپ نے پائی
04:38اور آپ کا جو دور مبارک ہے وہ اس وقت شیراز جو ہے
04:43وہ ایران کا دارالخلافہ ہے
04:45اس وجہ سے آپ شیرازی لکھتے ہیں
04:47اور مسلح الدین آپ کا نام ہے
04:49عبداللہ آپ کے والد کا نام ہے جیسا کہ آپ نے بیان فرمایا ہے
04:53اور آپ کا تخلص ہے سادی
04:56سادی کے لیے آپ کے جو باپ ہیں وہ ایک بادشاہ کے ملازم تھے
05:01جس کے نام میں سادھ آتا تھا
05:03اس حوالے سے سادی
05:04لیکن ایک اور روایت میں بھی یہ بات ملتی ہے
05:07کہ آپ حضرت ساد بن عبادہ
05:10رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد میں سے تھے
05:13اس وجہ سے آپ سادی لکھتے ہیں
05:15یہ دو اقوال موجود ہیں
05:17آپ نے علوم و فنون کے لحاظ سے
05:20اگر ہم آپ کو دیکھیں
05:21تو ایک ہی وقت میں آپ عدیب بھی ہیں
05:24مصنف بھی ہیں
05:25شائر بھی ہیں
05:26عالم بھی ہیں
05:28صوفی بھی ہیں
05:29اور اپنے دور کے ولیے کامل بھی ہیں
05:31آپ نے ابتدا ہی سے
05:33بارہ تیرہ سال کی عمر سے
05:35جو ہے آپ کے والد گرامی کا سایہ اٹھ گیا
05:38اور آپ کے والد گرامی نے
05:40آپ کی جو تربیت کی ابتدا عن
05:42شروع سے ہی
05:43وہ ایک بڑے صوفی ولیے کامل تھے
05:45اور آپ نے
05:46حضرت شیخ سادی علیہ رحمہ کو
05:49ابتدا سے
05:50عبادت ریاضت اور آپ کے اندر
05:52قرآن و سنت کی جو تعلیمات ہیں
05:55ان کو سامل کیا
05:56اور شیخ سادی رحمت اللہ تعالی علیہ کے
05:58والد گرامی کے بعد
06:00آپ کی والدہ ماجدہ نے
06:01آپ کی تربیت فرمائی
06:03اور اس کے علاوہ آپ نے
06:05متدد علماء اولیاء
06:07صلحہ سے علوم حاصل کیا
06:09تیس برس تک
06:11آپ علوم حاصل کرتے رہے
06:12تیس برس تک
06:14اور پھر آپ اس وقت
06:16چونکہ ایران میں
06:17جو ہے جنگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا
06:20تو آپ نے بغداد کا رخ کیا
06:22اور جامعہ نظامیہ میں آ بیٹھے
06:24وہاں آ کر آپ نے علوم حاصل کیے
06:26اور محدث عبد الرحمان ابن جوزی جیسے لوگ آپ کے
06:30استاد تھے
06:31آپ نے ان سے بھی
06:32زانوے تلمز حاصل کیے
06:33اور پھر حضرت شیخ الشیوخ
06:35حضرت شیخ شہاب الدین صحروردی
06:38رحمت اللہ تعالی علیہ سے
06:40آپ نے جو ہے وہ طریقت کا فیض
06:42حاصل کیا
06:43اور بعض روایات میں یہ ملتا ہے
06:45کہ حضور کندیل نورانی
06:46غوث سمدانی
06:47الحسنی والحسینی
06:49الشیخ میرا مہیدین
06:51عبدالقادر جیلانی
06:52رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی
06:54آپ نے فیض حاصل کیا
06:55اور یہ تو آپ خود لکھتے ہیں
06:57ایک مقام پر
06:57کہ مکہ تلمکرمہ میں
06:59بیت اللہ شریف کے ساتھ
07:01میں نے ایک ہستی کو دیکھا
07:02جو غلاف کعبہ پکڑ کر
07:04یہ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے
07:06اور زارو کتار رو رہے تھے
07:08کہ یا اللہ
07:09روز محشر مجھے نبی نہ اٹھانا
07:11تاکہ میرے حساب کتاب کا جو معاملہ ہے
07:13وہ آسان ہو
07:15تو آپ آگے بڑھے
07:16اور آپ نے پوچھا کہ آپ کون ہیں
07:18تو انہوں نے فرمایا
07:19میں عبدالقادر جیلانی ہوں
07:20اور آپ نے چودہ حج پیدل فرمائے ہیں
07:23شیخ سعید علیہ رحمہ نے
07:24اور غوث آزم سے فیض بھی حاصل کیا
07:27اور شیخ الشیوخ
07:28حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی
07:31رحمت اللہ تعالی علیہ سے بھی
07:32آپ نے فیض حاصل کیا
07:34اور قید و بند کی صحوبتیں بھی
07:36آپ نے برداشت کی
07:38اور اس کے ساتھ ساتھ
07:40آپ نے علم کو نہیں چھوڑا
07:41یعنی اگر آپ کی سو سالہ عمر مبارک ہے
07:44تو ساری حیاتِ طیبہ
07:46علم میں مشاہدات میں تجربات میں گزری
07:49اور قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ
07:52آپ نے اصفیہ ازکیہ کا جو پیغام تھا
07:54تذکیہ نفس اور تصفیہ قلب پر بھی کار بند رہے
07:58کیا بات
07:58سبحان اللہ
08:00روٹ سب یہ جو ابتدائی تعلیم ہوتی ہے
08:03اور جو ابتدائی تربیت ہوتی ہے
08:05یہ بہت بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے
08:08اور ہم جتنے بھی
08:09اولیہ کرام کا ذکر سنتے ہیں
08:11جتنے بھی صاحبان علم کا ذکر سنتے ہیں
08:13صاحبان تصرف کا ذکر سنتے ہیں
08:16یا ایسے لوگ جن کو تاریخ میں
08:18یاد کیا جاتا ہے
08:18ان کی جو ابتدائی تربیت ہوتی ہے
08:21وہ بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے
08:22تو حضرت شیخ صادی رحمت اللہ علی کے حوالے سے بھی
08:25میں چاہوں گا کہ ہمارے ناظرین جو ہے
08:27وہ جانیں کہ ان کی تربیت کا
08:29وہ جو ابتدائی دور تھا
08:31وہ کس طرح سے آپ پروان چڑھے
08:33بسم اللہ الرحمن الرحیم
08:35اللہم صلی علیہ سیدنا و مولانا
08:37محمد و علیہ و صحبہ و بارک و سلم
08:41رکھ سب بہت شکریہ
08:43ایک اس خوبصورت نشست کا
08:45آپ نے اتمام کیا
08:47اور ہمیں بھی یہ عزاز بخشا
08:49کہ ہم شیخ صادی شرازی
08:51جیسے ہستی ان کی بارگاہ میں
08:53سلام عقیدت کے
08:54چند پھول بونی چھاور کریں
08:56اور اپنی حاضری پیش کریں
08:59اس میں چند گزارشات ہیں
09:01جیسا قادری صاحب نے فرمایا
09:04بنیادی طور پر
09:06شیخ صادی شرازی
09:07آپ جس خطے سے تعلق رکھتے تھے
09:10یہ موجودہ ایران
09:12کا ایک جنوبی ہند
09:13یعنی جنوبی حصہ آتا ہے
09:15جس کو پارس کہا جاتا ہے
09:17اور عربی جب زبان میں
09:19ہم اس کو پرنانس کرتے ہیں
09:21تو یہ لفظ فارس بنتا ہے
09:22اور اس کا علاقہ ہے شیراز
09:25جس کو باغات کا شہر کہا جاتا ہے
09:27اور اس علاقے کے اندر
09:30ایک اور آپ کہہ سکتے ہیں
09:32کہ نواہی بستی ہے
09:34جس کو شعب بوان کہا جاتا ہے
09:36اور عرب لوگ یہ کہتے ہیں
09:39کہ دنیا میں چار ہی تفریقائیں ہیں
09:42جن میں ایک وہ نام دیتے ہیں
09:44سمرکند کو
09:45اور ایک نام دیتے ہیں
09:49ہم کہہ سکتے ہیں بسرا کو
09:50اور اسی میں ایک آتی ہے
09:52یہ شعب بوان
09:53اور عرب شعراء کہتے ہیں
09:55کہ جب سفید محل کے اوپر آپ
09:58کھڑے ہو کر اس بستی کو دیکھتے ہیں
10:00تو آپ ہر غم دکھ تکلیف کو بھول جاتے ہیں
10:04اس بستی میں
10:05شیخ سعید شرازی آپ نے آنکھ کھولی
10:08اور روایات میں یہ آتا ہے
10:10کہ آپ کی ولادت سے قبل
10:12آپ کے والد گرامی کو
10:14حضرت خضر علیہ السلام
10:16ان کی زیارت ہوتی ہے
10:17اور وہ یہ بتاتے ہیں
10:19کہ یہ کسی عام معصوم بچے کی پیدائش نہیں ہے
10:22بلکہ آنے والے وقت میں یہ قوم کا مسلح بھی ہوگا
10:26ایک حکیم بھی ہوگا
10:27رانما اور دانا بھی ہوگا
10:29تو تم نے اس کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہے
10:34جب ہم ان کی تعلیم و تربیت کی بات کرتے ہیں
10:37تو اس کے تین فیزز آتے ہیں
10:39جو فسٹ فیز ہے اس میں ان کے والد گرامی
10:43چونکہ وہ خود بھی دیندار ہیں
10:45اور ان کی تقوی اور دینداری پر سب کا اتفاق ہے
10:50اور مورخین یہ کہتے ہیں
10:52کہ ان کی جو ابتدائی تعلیم ہے
10:55جس میں تہارت کے نماز کے جو بنیادی مسائل ہیں
10:59وہ آپ نے اپنے والد گرامی سے ہی سیکھ لیے
11:01اس کے بعد دو روایتیں ملتی ہیں
11:04ایک یہ کہ آپ کے والد گرامی
11:06ان کا آپ بچپن میں تھے
11:09وصال ہو گیا تو آپ کی والدہ نے پرورش کی
11:11اور دوسری روایت یہ ہے
11:13کہ آپ کے مامو علامہ قطب الدین شرازی
11:16جو مورخ توسی کے شاگرد ہیں
11:19انہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت کی
11:22ابتدائی دور میں
11:23اور بعد ازاں جب خانہ جنگی ہوئی شراز بکھر گیا
11:26تو پھر آپ جامعہ نظامیہ میں
11:28جیسے قادری صاحب نے کہا
11:29وہاں پر آپ تشریف لے گئے
11:31تو یہ جو ابتدائی تعلیم و تربیت ہے
11:34اس کا کردار پھر آپ خود بھی بیان فرماتے ہیں
11:37آپ کہتے ہیں
11:37اپنی مسنوی میں اور اپنی اسی بوستان میں
11:41کہ میرے جو والد گرامی ہیں
11:43انہوں نے بچپن میں جو مجھ پر سختی کی
11:45جو شدت کی
11:46اس کی وجہ سے
11:48مجھے اپنا
11:49آپ یہ کہہ سکتے ہیں
11:50کہ تعلیم کی راہ پر میں
11:51کبھی بھی بھٹکا نہیں
11:52اور میں تعلیم حاصل کرتا رہا
11:54محدث عبد الرحمن ابن جوزی
11:57چونکہ وہ سما کے سخت خلاف تھے
12:00جبکہ شیخ سادی شرازی
12:03آپ وجد اور سما کے بہت دلدادہ اور شوکین تھے
12:06اور وہ اکثر ان کو نصیت کرتے
12:08کہ آپ سما میں نہ جائیں
12:10لیکن آپ چلے جایا کرتے
12:12اور ایک مرتبہ ایسا ہوا
12:14کہ آپ چلے گئے
12:15اور روایات میں آتا ہے
12:16کہ وہاں بد آواز جو قوال تھا
12:19ساری رات اس کی قوالی سنی
12:21اور آخر میں اپنی دستار
12:23اور چند در ہم اس کو دیئے
12:25لوگوں نے پوچھا
12:26کہ اس کی آواز کے بدلے میں
12:28آپ نے اس کو انعام دیا
12:29تو کہتے ہیں
12:30اصل میں جو میرے استاد
12:32مجھے عرصہ دراز سے نصیت کرتے رہے
12:34جو اثر ان کی نصیت نے نہیں کیا
12:37وہ اس قوال کی آواز نے کر دیا
12:40آپ کے معلم اول
12:41آپ کے والد گرامی شیخ عبداللہ
12:43آپ کی معلمہ ثانیہ
12:45آپ کی والدہ فاطمہ ہیں
12:47اور اسی طرح امام
12:49ابو الفرج عبد الرحمن محدث ابن جوزی
12:52یہ آپ کے شیخ ہیں
12:54جن سے آپ نے حدیث اور تفسیر کی
12:56تعلیم حاصل کی
12:57اور اسی طریقے سے روایات میں یہ آتا ہے
13:00کہ ایک مرتبہ اب وہ جو تربیت کا انگل ہے
13:03کہ آپ شکایت کرتے ہیں
13:05اور اپنے شیخ محدث عبد الرحمن
13:08ابن جوزی کے پاس جاتے ہیں
13:09اور کہتے ہیں
13:10کہ مسائل کے حل کے دوران
13:13اور جو درس ہے
13:14اس کی تدریس کے دوران
13:16ایک بچہ مجھ سے حسد کرتا ہے
13:18تو آپ کے شیخ آپ سے کہتے ہیں
13:21کہ اس کا حسد تمہیں یاد رہا
13:23لیکن اپنی غیبت اور بدگوئی
13:26وہ تمہیں بری نہیں لگی
13:28چنانچہ آپ نے پھر اس واقعے کو بھی
13:30اپنی کتاب میں نکل فرمایا ہے
13:32کیا کہنے ہیں
13:33سبحان اللہ سبحان اللہ
13:34ذکر ہو رہا ہے حضرت شیخ سعیدی شیرازی رحمت اللہ علیکہ
13:38اور بہت سارے پہلو ہیں
13:40آپ کی شخصیت کے
13:41یقیناً ایک پرگرام ان کا احاطہ کرنے
13:44کا متحمل نہیں ہو سکتا
13:45لیکن ہم کچھ پہلووں پر بات کریں گے
13:47اور خاص طور پر
13:48وہ جو آپ کی ربائی ہے
13:50اور صدا بہار
13:51کسی ربائی کو کہا جا سکتا ہے
13:53بلغ اللہ و کمالے ہی
13:55اس پر بات کرتے ہیں
13:56ایک مختصر سے وقفے کے بعد
13:58جی ناظرین خوش آمدید کہتے ہیں
13:59وقفے کے بعد آپ کو
14:00حضرت شیخ سعیدی رحمت اللہ علیہ کے حوالے سے
14:03یہ خصوصی پرگرام
14:03یہ خصوصی نشست آپ کے خدمت میں پیش کی جا رہی ہے
14:07اور جیسا میں نے آغاز میں ذکر کیا
14:09کہ کچھ لوگ ایسے ہیں
14:11کہ زبان کا
14:13ذکر جو ہے جب ہم فارسی زبانوں
14:15عدب کا ذکر کریں
14:16تو مکمل ہی نہیں ہوتا
14:18جاہے ہم نصر کی بات کریں
14:19جاہے ہم شاعری کی بات کریں
14:21تو یہ کسیر الجہد شخصیت ہیں
14:23کہ نصر بھی ان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی
14:40یہ ایسی ربائی ہے
14:42کہ شاید میرا خیال ہے
14:44کہ صدیوں سے یہ پڑھی جا رہی ہے
14:46اور اس کا ذکر ہو رہا ہے
14:47اور آج بھی اس کے بغیر کوئی
14:50محفل جو ہے وہ مکمل نہیں ہوتی
14:52تو یہ کیسی باکمال ربائی ہے
14:54اور اس کا ذکر خاص طور پر
14:56حضرت شیخ سعیدی رحمت اللہ علیہ کے حوالے سے
14:58نہ کیا جائے
14:59تو میرا خیال ہے یہ ذکری مکمل نہیں ہوتا
15:01جناب پیر عرفان اللہی قادری صاحب
15:04کیا فرماتے ہیں
15:05اس شورہ آفاق
15:06قبول بارگاہ
15:07زبان زدہ عام
15:08ربائی کے حوالے سے
15:10اور آپ کی شاعری کے حوالے سے
15:11جی ڈرس اب دیکھیں آپ بھی شاعر ہیں
15:14میں نے بھی کئی کتابیں لکھی ہیں
15:16ایک ہوتا ہے شیر کہنا
15:19ایک ہوتا ہے
15:20عزور کی شان میں لکھ دینا
15:22اور ایک ہوتا ہے
15:23اس کو قبول فرما لینا
15:24اللہ اکبر
15:25لکھا تو ہزاروں لوگوں نے
15:28لکھا تو سینکڑوں لوگوں نے
15:30لیکن اس کو قبول فرمانا
15:32یہ شیخ سادی کا بڑا کمال ہے
15:34کیا بات
15:35اور شیخ سادی وہ
15:37ہستی ہیں
15:38کہ آپ کے دورے مبارک سے لے کر
15:41ہم اگر تاریخ کا مطالعہ کریں
15:43تو بعض وہ لوگ ہیں
15:45کہ جب تک وہ سکرین پر ہیں
15:46تو ان کا نام ہے
15:47جب تک وہ زندہ ہیں
15:49تو نام ہے
15:50بعض ایسے لوگ ہیں
15:51کہ جب ان کا انتقال ہو جاتا ہے
15:53تو بعد میں ان کا نام ہوتا ہے
15:55شیخ سادی علیہ رحمہ وہ
15:57ہستی ہیں
15:58کہ نہ تو الیکٹرانک میڈیا ہے
15:59نہ اس قدر ان کے وسائل ہیں
16:02پس ماندگی کے حالات بھی رہے
16:04لیکن اس کے ساتھ ساتھ
16:06آپ کی یہ کیفیت ہے
16:07کہ آپ کے دورے مبارک میں ہی
16:09آپ کے کلام کو جو ہے
16:11وہ مقبول عام تھا
16:12اور اس کی وجہ یہ تھی
16:14کہ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی
16:15بارگاہ میں آپ مقبول ہو چکے تھے
16:17اور آپ کی قبولیت
16:18اللہ رب العزت کے ہاں
16:20اور اس دور سے لے کر
16:21مدارس کے اندر
16:23آپ کی کتابوں کا پڑھایا جانا
16:25اور پھر یہ سات سو سال بعد
16:28آج بھی درسِ نظامی کا
16:30کوئی طالب علم
16:31عالم بننا چاہے
16:32یا کسی خانقہ کا شخص صوفی بننا چاہے
16:35تو اسے شیخ سادی کی بارگاہ میں
16:38زانوِ تلمز تحق کرنے پڑتے ہیں
16:39اور وہ خیرات اور بہار لینی پڑتی ہے
16:42کہ شیخ سادی
16:47یہ لکھ کر بیٹھے ہیں
16:49اور چوتھا مصرہ نہیں آرہا
16:52اور قربان جاؤں یہ کیسی بخت یاوری ہوگی
16:54کہ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم
16:56جلوہ گر ہوئے
16:57اور فرمایا سادی قیدِ صلی اللہ علیہ وآلہی
17:01یعنی یہ آپ کا ایک خاصہ ہے
17:03کہ ایک وہ وقت
17:05کہ آپ کے کلام کو مقبول عام
17:07اور آپ نے آپ کے کلام کے اندر
17:11جو چاشنی ہے جو کیف ہے
17:12آج بھی ہمارے طلباء
17:14جب ہم پڑھتے تھے
17:15یا ہم پڑھاتے ہیں
17:16تو سب سے پہلے کیا ہوتا ہے
17:32یعنی آپ کے کریمہ سادی سے ابتدا ہوتی ہے
17:34اور پھر گلستان سادی
17:36بوستان سادی
17:37اور اگر آپ کی ذات سے
17:40اگر کوئی صوفی فیض لینا چاہے
17:42صاحبِ نسبت فیض لینا چاہے
17:45تو دبنگ فیض ملتا ہے
17:46کہ گلے خوشبوے در ہمام روزے
17:48رسید از دست محبوبِ بدستم
17:51بدو گفتا مشکی یا بیری
17:53کہ عزبوے دل عویستو مستم
17:56بگفتم من گلے نا چیز بودم
17:58ولیکن مدتِ بگل نشستم
18:00جمالِ ہم نشین در من اثر کرد
18:03وگرنا منہما خاکم کے ہستم
18:06آپ کی گلستان کے جو ورک پھولے
18:08بلکہ آپ کا کیا مقام ہوگا
18:11کہ خاجہ نظام و دین
18:12اولیاء محبوبِ الٰہی
18:13آپ کا کلام کھول کر بیٹھے ہیں
18:16اور امیرِ خسرو
18:17جو آپ کے مرید اور محبوب خلیفہ ہیں
18:20جو خود ایک شائر ہیں
18:21نمی دانم چمنزل بود شب جائے
18:24کے من بودم
18:25بہر سو رکس بسم البود شب جائے
18:27کے من بودم
18:28یہ کلام لکھنے والا شخص سامنے ہے
18:31اور نظام و دین محبوبِ الٰہی
18:33جو ہے شیخِ سادی کے کلام کو کھول کے بیٹھے ہوئے ہیں
18:36اور فرماتے ہیں تیرا کلام بھی کمال ہے
18:38لیکن جو سادی نے لکھا ہے
18:40یہ بڑا ہی کمال ہے
18:41تو یہ اس وجہ سے ہے
18:43کہ مقبولِ بارگاہِ رسالت
18:45صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کی وجہ سے
18:46اور پھر آپ کے تصرفات میں یہ بات ملتی ہے
18:49کہ محدثِ دیلوی شاہ ولی اللہ
18:52رحمت اللہ تعالیٰ لے
18:53آپ فرماتے ہیں میرے والدِ گرامی شاہ عبد الرحیم
18:56محدثِ دیلوی
18:58رحمت اللہ تعالیٰ لے
19:00آپ چلتے آ رہے تھے
19:02اور شیخِ سادی علیہ رحمہ کی ایک ربائی کا
19:04تقرار کرتے آ رہے تھے
19:06پڑھتے آ رہے تھے
19:07کہ چوتھا مصرہ ذہن میں نہیں آ رہا
19:09آپ خموش ہو جاتے ہیں
19:11کہ ایک ہستی جلوہ گر ہوتی ہے
19:13اور آ کر چوتھا مصرہ پڑھ کے بتا دیتی ہے
19:16آپ فرماتے ہیں میرے والدِ گرامی نے
19:18وہ جب تھوڑا آگے چلے
19:20تو پانڈ تھے ان کے پاس
19:21وہ پیش کیا
19:23تو انہوں نے فرمایا
19:24ہم رشوت نہیں لیتے
19:25عرض کیا نہیں ہدیہ ہے
19:27ہمارے علاقائی طور پر
19:28یہ ہم اس کو
19:29کیا حضرت جو پان کھانا
19:32منع ہے
19:32فرمایا منع نہیں
19:33میں طبیعت کی وجہ سے نہیں کھاتا
19:35تو یہ کہہ کر آپ
19:36تھوڑا سا چلنے لگے
19:38تو شاہ عبد الرحیم
19:39دیلوی فرماتے ہیں
19:41کہ آپ نے آنن فانن
19:42دور تک چلے گئے
19:44تو میں نے پیچھے سے آواز دی
19:45آپ کون ہے
19:46میں سمجھ گیا
19:47کہ یہ کوئی اللہ کا بزرگ ہے
19:48یہ کسی کی روح ہے
19:49تو میں نے آواز دی
19:50آپ حضرت کون ہے
19:51مجھے یہ بتانے آئے تھے
19:53تو آپ نے فرمایا
19:54فقیر کو ہی صادی کہتے ہیں
19:56تو یہ آپ کا مقام تھا
19:57یہ آپ کے تصرفات تھے
19:59اور یہ تمام تصرفات کی وجہ یہ تھی
20:02کہ آپ بارگاہ رسالتِ ماب
20:03صلی اللہ علیہ وسلم میں مقبول تھے
20:05سبحان اللہ
20:06سبحان اللہ
20:06ڈاٹ سب
20:07اب شائری کی ہم نے بات کی
20:09اور خاص طور پر
20:10اس ربائی کا ذکر
20:11ابھی پھر سب فرما رہے تھے
20:14آپ کی جو تصنیف ہیں
20:16اور شہرہ افاق تصنیف ہیں
20:17جس کو پڑے بغیر
20:18فارسی عدب کا متعلیہ
20:20نہ شروع ہوتا ہے
20:21نہ ختم ہوتا ہے
20:22اس کے بغیر
20:23گلستان اور بوستان
20:24یہ لازم و ملزوم ہیں
20:26ہمارے علماء کے لیے بھی
20:28ہمارے صوفیاء کے لیے بھی
20:30اور عدب کا ذوق رکھنے والوں کے لیے بھی
20:33تو یہ جو
20:34اس کی مقبولیت ہے
20:36گلستان اور بوستان کی
20:37اور آج تک
20:38اس کے سہر سے
20:39جو ہے وہ ہمارا عدب
20:40نکل نہیں پایا
20:41اور نکل نہیں سکتا
20:42جب تک زمان بولی جاتی رہے گی
20:44سیکھی جاتی رہے گی
20:46سنی جاتی رہے گی
20:47بولی جاتی رہے گی
20:48اس حوالے سے کیا فرماتے ہیں
20:51چھڑک صاحب یہ دو
20:52اس میں چیزیں ہمیں یاد رکھنی ہیں
20:54یا کہ
20:56پروفیسر ہیٹی
20:57وہ یہ لکھتے ہیں
20:59کہتے ہیں
20:59کہ
21:00شیخ سادی شرازی
21:02آپ کی تصنیف
21:03کی دو جہتیں ہیں
21:05یا دو طرح کی ہیں
21:06ایک وہ
21:07کہ جو آپ نے
21:08اپنی حیات کے اندر لکھی
21:10اور
21:11قبول
21:12یعنی قبولیت
21:14ان کو حاصل ہو گئی
21:15اور دوسری وہ ہے
21:16کہ جو آپ کے وسال کے بعد
21:18شیخ
21:19علی بن احمد
21:21انہوں نے ان کو کمپائل کیا
21:23آپ کے وسال کے
21:25بیالیس سال کے بعد
21:26اس میں آپ کے
21:28یعنی ان دو کتب کے علاوہ
21:30جیسے آپ کی غزلیات ہیں
21:31قصائد ہیں
21:32اور دیگر ربائیات ہیں
21:34اسی طرح تاریخ اباسیہ کے نام سے
21:37تین جلدوں پر کتاب ہے
21:38یہ ساری آپ کی حیات کے
21:41بیالیس سال کے بعد
21:42کمپائل ہوئی
21:43مگر یہ جو دو کتب
21:45جن کا آپ نے ذکر کیا
21:46بوستان اور گلستان
21:48جن سے ان کو
21:49قبولیت حاصل ہوئی
21:51اس میں کوئی شک نہیں
21:52کہ اس میں جو بوستان ہے
21:54یہ منظوم شکل میں ہے
21:55پویٹری کے انداز میں ہے
21:57مسنوی کی طرز پر
21:58یہ لکھی ہوئی ہے
21:59اور اس میں چار ہزار کے قریب
22:02وہ سٹینزاز یعنی کے ربائیات
22:04یا اشار موجود ہیں
22:05اور اس میں
22:06آپ نے تعلیم
22:08تربیت
22:09اخلاق
22:10معاشرت
22:10آداب
22:11کے ہمہ جہت
22:12جو پہلو ہیں
22:13وہ اس میں آپ نے
22:14ان کو شامل کیا
22:16اور آپ
22:17اس کی قبولیت
22:18کا اندازہ
22:18ڈکٹ صاحب لگائیں
22:19کہ دنیا میں
22:20اس وقت
22:21تیس سے زائد
22:22زبانوں میں
22:23یہ ٹرانسلیٹڈ
22:24اویلیبل ہے
22:25اس میں
22:25انگلیش ہے
22:26اس میں
22:27جرمن ہے
22:28اس میں
22:28اردو ہے
22:29ایون کے
22:30اس میں
22:30عربیق ہے
22:31اور دنیا کے
22:32دیگر زبانے
22:33جیسے لیٹن
22:34اور دیگر
22:34فرنچ زبانے ہیں
22:35ان میں یہ
22:36ٹرانسلیٹڈ
22:37کتاب
22:38موجود ہے
22:38اسی طریقے سے
22:40جو گلستان ہے
22:41یہ
22:42شیخ
22:42سادی شیرازی
22:43آپ نے
22:44بوستان کے
22:45ایک سال کے بعد
22:46لکھی
22:46جیسا پہلے بھی
22:47میں نے ارض کیا تھا
22:48کہ شیراز
22:49در حقیقت
22:50باغات کے
22:50شہر کو
22:51کہا جاتا ہے
22:52اور
22:52تقویم البلدان
22:54میں لکھا ہے
22:55کہ اس کی
22:56بنیاد
22:56وہ محمد
22:57بن قاسم
22:57نے رکھی تھی
22:58اور اس
22:59شہر کی
23:00جو ڈیموگرافی
23:01ہے وہ
23:01اتنی خوبصورت
23:02ہے
23:03کہ ہر گھر
23:04کا اپنا
23:05باغ تھا
23:05اور ہر گھر
23:06کے باہر سے
23:07نہر گزرتی تھی
23:08تو ایسے میں
23:09ایک دن
23:10ایک سال کے بعد
23:11بوستان لکھنے
23:12کے ایک سال کے بعد
23:13آپ اپنے دوست
23:14کے ساتھ
23:15باغ کی سیر
23:16کو جاتے ہیں
23:16اور وہاں
23:18آپ کے دل میں
23:18یہ خیال آتا ہے
23:19آپ کے دوست
23:20کہتے ہیں
23:20کہ جس طرح سے
23:22یہ پھولوں کے
23:22اصاف ہیں
23:23اسی طرح سے
23:24کچھ اصاف
23:25آپ بھی بیان کریں
23:26تو آپ کے دل میں
23:28خیال آتا ہے
23:28کہ میں
23:29الفاظ کا
23:30اور اخلاقیات
23:32کا کچھ ایسا
23:33یعنی
23:33کہ منبع تخلیق کروں
23:35کہ جس کی خوشبو
23:36میرے جانے کے بعد
23:37بھی مہتی ہے
23:38سنانچہ آپ نے
23:40گلستان لکھنے
23:41کا فیصلہ کیا
23:42جو دس ابواب پر ہے
23:43جس کی ایک
23:44ڈیٹیل تمہید ہے
23:45اور پھر بعد
23:46ازاں آپ نے
23:47اس میں تعلیم
23:48تربیت
23:49اخلاقیات
23:49اور معاشرت
23:50اور آداب
23:51کو بیان کیا
23:52یہ دنیا کی
23:53پچاس زبانوں میں
23:54ٹرانسلیٹڈ
23:55اویلیبل ہے
23:56اور اس میں
23:57شیخ سادی شرازی
23:58آپ نے
23:59جو ہے
24:00آپ کہہ سکتے ہیں
24:01کہ جو تعلیم
24:01و تربیت ہے
24:02اسی طرح سے
24:03اللہ سبحانہ و تعالی
24:04کی ذات پر
24:05ایمان
24:06یہاں سے
24:06آپ شروع کرتے ہیں
24:07پھر توقل ہے
24:08صبر ہے
24:09استقامت ہے
24:10اور اس کے بعد
24:11آپ کہہ سکتے ہیں
24:12کہ امید
24:13یہاں پر
24:14آپ اس کا
24:15اختتام کرتے ہیں
24:16چیک
24:16بہت شکریہ
24:18راکس صاحب
24:18یہ بہت اہم
24:20موضوع ہے
24:21اہم شخصیت ہے
24:22کہ جن کی تصنیف
24:23پہ ہم بات کریں
24:24جن کی شائری پہ بات کریں
24:26جن کی حکمت و دانش
24:27پہ بات کریں
24:28اور جن کی
24:29مقبولیت پہ بات کریں
24:30جن کے
24:31کثیر الجہد
24:32شخصیت
24:33واقعی
24:33اگر کسی کو
24:34کہا جا سکتا ہے
24:35زبان کے اعتبار سے
24:36عدب کے اعتبار سے
24:37علم کے اعتبار سے
24:39مسلح ہونے کے اعتبار سے
24:40تو حضرت شیخ صادی
24:41رحمت اللہ علیہ
24:42کی شخصیت
24:43بنتی ہے
24:44ابھی ہم نے
24:45ان کی تصنیف پہ بات کی
24:46اور ان کی شائری
24:48کے اوپر بات کی
24:48اور اس کے اثرات
24:50کے اوپر
24:50جو ہے وہ ایک مختصر
24:51اس کا جائزہ لیا
24:52لیکن بنیادی طور پر
24:54وہ بطور
24:55مسلح
24:55ان کی جو حکمت
24:57و دانش
24:57ان کتابوں کے اندر
24:59موجود ہے
24:59اس میں حضرت شیخ صادی
25:01جو ہیں وہ
25:01کس طرح دکھائی دیتے ہیں
25:03کس مقام پر
25:04دکھائی دیتے ہیں
25:04ان کی حکمت و دانش
25:06جو ہے وہ کس طرح
25:07آج کی جو دانش ہے
25:08اس ان کے ذہنوں
25:10کو بھی متاثر کر رہی ہے
25:11اس پر بات کرتے ہیں
25:12ایک چھوٹے سے
25:12وقفے کے بعد
25:13ہمارے ساتھ رہی ہے
25:14جیناترین خوش آمدیت
25:16کہتے ہیں
25:16وقفے کے بعد
25:17آپ کو پرگرام دیکھ رہے ہیں
25:18آپ خصوصی
25:18حضرت شیخ صادی
25:20رحمت اللہ علیہ کے
25:20حوالے سے
25:21اور بریک پہ جانے سے
25:22پہلے
25:22آپ کی جو گلستان ہے
25:24جو بوستان ہے
25:25اس کے اندر جو
25:26معارف کے
25:27اور علوم کے
25:28اور حکمت و دانش
25:29کے خزانے ہیں
25:30ان کے اوپر
25:31ہم بات کر رہے تھے
25:32اور اب ہم بات کرتے ہیں
25:34کہ اس حکمت و دانش سے
25:36آج تک
25:37کی جو فکر ہے
25:38وہ استفادہ کر رہی ہے
25:39آج تک اس سے
25:41جو ہے وہ
25:41ساری صورتیں
25:42استفادے کی
25:43نکل رہی ہیں
25:44اس کے بغیر
25:45نہ عدب مکمل ہوتا ہے
25:47نہ شاعری مکمل ہوتی ہے
25:48نہ علمی اور
25:49عدبی اعتبار سے
25:51انسان اپنے آپ کو
25:52کوئی بھی عدب کے رستے کا
25:53جو طالب علم ہے
25:54وہ اپنے آپ کو
25:55مکمل کر سکتا ہے
25:56تو آپ
25:57بطور ایک
25:58مسلح کے
25:59ایک دانے کے
26:00اور حکمت و دانش
26:01کو پھیلانے والے کی
26:02حصیت سے
26:03ایک استاد کی حصیت سے
26:05کیسے ہیں
26:05یہ ہم بات کرتے ہیں
26:11تو دانش ان کتابوں کے
26:12اندر سموئی ہوئی ہے
26:13اسے آج تک
26:14استفادہ کیا جا رہا ہے
26:15کیا فرمات ہے
26:15بیدر سب اس میں
26:16سب سے پہلی بات یہ ہے
26:17کہ ہر مثال کا
26:19جو انہوں نے
26:21مثال دی ہے
26:22اس میں اپنی ذات کو
26:24رکھا ہے
26:24ٹھیک
26:25اپنی زندگی بر کے
26:26جو تجربات ہیں
26:28اپنی زندگی بر کی
26:30جو انہوں نے
26:31پریشانیاں
26:32مشکتیں
26:32اور لوگوں سے ملاقات
26:34اہل علم سے ملے
26:35اولیاء سے ملے
26:36صوفیہ سے ملے
26:38ہر لحاظ سے
26:40ان لوگوں سے
26:40ملنے کے بعد
26:41تیس سال کا جو سفر ہے
26:43تو ایک فارسی کا
26:45معقولہ ہے
26:45کہ سفر با وسیلہ زفر
26:47سفر کامیابی
26:48کا وسیلہ ہے
26:49تو آپ نے جو
26:50کامیابی کا
26:51سفر کیا تھا
26:52ان کو
26:53ان میں شامل کر دیا
26:54اور یہ ایک ایسی
26:56اس میں صداقت ہے
26:57کہ پڑھنے والا
26:58جب پڑھتا ہے
26:59تو اس کے من میں
27:00اترتی جاتی ہے
27:01اللہ اکبر
27:02اس کی پہلی وجہ
27:03تو یہ ہے
27:03کہ اللہ اور اللہ کے
27:04رسول کی بارگاہ میں
27:05یہ قبول ہیں
27:06دوسرا یہ ہے
27:07کہ آپ نے اس میں
27:08اپنے تجربات کو
27:08شامل کیا ہے
27:09اب دیکھیں
27:10کتنا خوبصورت
27:11آپ کا شیر ہے
27:12کہ سادیہ شیرادیہ
27:13سب کے مدے کمزادرا
27:15کمزاد چو
27:16آقل شوت
27:17گلا کند استادرا
27:19اب یہ چیز
27:20آج سات سو برس
27:22تک پڑھی جا رہی ہے
27:23سبحان اللہ
27:23اس کے بعد بھی
27:24جب تک پڑھی جائے گی
27:25اس کی صداقت
27:26کو کوئی بندہ
27:27چیلنج نہیں کر سکتا
27:29اسی طرح
27:30آپ نے اپنی
27:30مثالوں سے
27:31واضح کیا ہے
27:32آپ نے ایک
27:33مثال دی ہے
27:34کہ میں مسجد میں گیا
27:36نماز کے
27:37نماز جمعہ کے لیے
27:38جب نکلا
27:39تو میرا جوتا
27:39وہاں سے
27:40گم ہو چکا تھا
27:41تو میں نے
27:42دوسری طرف دیکھا
27:43کہ بادشاہ کا
27:44بیٹا آ رہا ہے
27:45اس کے ساتھ
27:46اس کے ہواری ہیں
27:47وزارہ ہیں
27:48تو میں نے کہا
27:49کہ یا اللہ
27:50میرے پاس
27:50تو پیسے بھی نہیں ہیں
27:51اور جوتا بھی
27:52ایک ہی تھا
27:53اور اس کے پاس
27:54اگر سو جوتے بھی ہوں
27:55یا اس کے گم ہو جائیں
27:56تو اور خدید سکتا ہے
27:57آپ فرماتا ہے
27:58جب میں نے
27:59اسے بغور دیکھا
27:59تو اس کے پاؤں ہی نہیں تھے
28:01تو میں نے
28:01اللہ کا شکر ادا کیا
28:03کہ مجھے
28:04اے میری اللہ
28:04تو نے پاؤں تو دیئے ہیں
28:06چلنے کے لیے
28:06اسی طرح
28:07آپ نے
28:08بے شمار
28:09مثالیں
28:09اس میں جو دی ہیں
28:11گلستان میں
28:12بوستان میں
28:12اور آپ کا جو
28:13مزاج تھا
28:14وہ بڑا خوبصورت تھا
28:15آپ کی جو
28:23بھی چونکہ ایسے تھے
28:24تو ایک دن
28:25انہوں نے کہا
28:25کہ آپ کو
28:26میرے باپ نے
28:27دس دینار میں
28:28خرید کر
28:30لائے ہیں گر میں
28:31آپ کے جو
28:32سسر تھے
28:33انہوں نے آپ کو
28:33خریدا تھا
28:34جس دور میں
28:35آپ خندق نکال رہے تھے
28:36آپ قیدی ہو چکے تھے
28:37خندق نکال رہے تھے
28:39تو اس نے دیکھا
28:39کہ بڑا سادتمند انسان ہے
28:41تو خرید کر گر لے آئے
28:42اور بعد میں
28:43اپنی بیٹی کے ساتھ
28:44آپ کا نکاح کر دیا
28:45تو آپ نے فوراں
28:47فرمایا
28:47کہ ہاں
28:48دس دینار میں
28:49خرید کر
28:50مجھے لائے تھے
28:51اور سو دینار میں
28:53آپ کو
28:53میرے ہاتھوں
28:54فروخت کر دیا
28:55تو یہ آپ کی
28:56ایک حاضر دماغی
28:57آپ کا ایک فہم
28:59ادراک
29:00اور آپ کے اندر
29:01پھر دوسری بڑی بات یہ ہے
29:03کہ ان تمام
29:04کتب میں آپ کی
29:06جو وہ شیر ہوں
29:07یا کے نصر ہو
29:09جس سال میں بھی ہے
29:10اس کے اندر
29:11اخلاقیات ہیں
29:12عدب ہے
29:13اور یہ فطرت کا تقاضہ ہے
29:15کہ اخلاق
29:17اور عدب
29:17اور محبت کے ساتھ
29:18جب بھی بلایا جائے گا
29:19تو ہر کوئی
29:20اس کی طرف
29:21کھینچا چلا آتا ہے
29:22اس میں ترشی نہیں ہے
29:23یہی رسالت
29:24مآب صلی اللہ علیہ وسلم
29:25کا مزاج تھا
29:26کہ سرکار کے اخلاق
29:27کی وجہ سے
29:28انبیاء کے اخلاق
29:29کی وجہ سے
29:29لوگ ان کے قریب آتے گئے
29:31صوفیاء
29:32اولیاء
29:33ازکیاء کی وجہ سے
29:34لوگ ان کے قریب آتے گئے
29:35اور شیخ سادی نے
29:37چونکہ
29:37شیراز ایران سے لے کر
29:39پوری دنیا سے پھرتے ہوئے
29:41اور مکہ تل مکرمہ
29:42مدینہ تل منورہ
29:43دیگر شہر
29:44ہمارے ملتان تک
29:46اصفار کیے ہیں
29:46تو آپ کی زندگی بھر کر
29:48نچوڑ ہے ان میں
29:49تو جو اپنی مثال کے ساتھ
29:51نچوڑ پیش کرتا ہے
29:52تو جو دانا ہے
29:53سمجھنے والا ہے
29:54وہ یہ سمجھتا ہے
29:55کہ اس نے تو چوٹ کھائی ہے
29:57اب میں اس چوٹ سے بچ جاؤں
29:59اللہ اکبر
29:59حضرت یہ جو موضوع ہے
30:01آپ کی حکمت و دانش کا
30:02یہ بہت
30:03اس کے اندر پہلو ہیں
30:04کہ ایک ایسی دانش
30:06جو صدیوں پہلے
30:07جو ہے وہ
30:08تخلیق ہوئی
30:09لیکن آج کا انسان
30:11بھی اس سے استفادہ کر رہا ہے
30:13آپ کی حکمت سے
30:14آپ کی گفتگو سے
30:15آپ کی تحریر سے
30:16آپ کے اقوال سے
30:18آپ کی شائری سے
30:19تو یہ جو اتنا پھیلا ہوا دائرہ ہے
30:21حکمت و دانش کا
30:23علم کا
30:24تصوف کا
30:25اس پہ کچھ آپ بھی
30:26ارشاد فرمائیے
30:28اس میں ٹیک صاحب
30:30جیسے
30:31قادری صاحب نے فرمایا ہے
30:33دو چیزیں
30:34ہمیں یاد رکھنی چاہیے
30:35ایک تو یہ کہ
30:36یہ بی بی سی کی رپورٹ ہے
30:38کہ
30:39شیخ سادی شرازی
30:41آپ کی شخصیت وہ ہے
30:43کہ آج
30:44ساڑھے سات سو سے پونے
30:46آٹھ سو سال ہو چکے ہیں
30:47اور آپ کے جو افکار ہیں
30:50اور آپ کی جو تعلیمات ہیں
30:52اور آپ کے بتائے ہوئے جو
30:53اخلاقیات کے جو مختلف پہلو ہیں
30:55وہ آج بھی دنیا
30:57ان سے استفادہ کر سکتی ہے
30:59اور بی بی سی یہ کوٹ کرتی ہے
31:01کہ ایسی کیا چیزیں ہیں
31:03کہ جو ہم آج کے زمانے میں بھی
31:05شیخ سادی شرازی کی شائری سے
31:07یا آپ کی کتابوں سے سیکھ سکتے ہیں
31:09ہمیں یہ سمجھنا چاہیے
31:11کہ جو آپ کی
31:12جیسے ہم نے پہلے عرض کی تھی
31:14کہ بوستان ہے
31:15اس کو انسائیکلوپیڈیا آف ایتکس
31:18کہا جاتا ہے
31:19اور آپ کی گلستان کو
31:21دیڈور آف پرشین لیٹریچر
31:23یہ یورپ میں کہا جاتا ہے
31:25یہ جو دونوں کتابیں ہیں
31:26جس میں آپ نے انسانیت سے
31:28محبت کا اخلاص کا
31:30اور جو دکھی لوگ ہیں
31:33اور پریشان ہار لوگ ہیں
31:35ان کی مدد کرنے کا
31:36جو آپ نے درس دیا ہے
31:37اس حوالے سے
31:39آپ اندازہ لگائیں
31:40کہ آپ کی جو شائری ہے
31:43اس کا ایک حصہ ہے
31:44کہ آزائے آدم
31:46یک دی گرن
31:47یہ ایسا حصہ ہے
31:49کہ جو آج بھی
31:50ایران کے اندر
31:51جو ان کے سکھیں ہیں
31:53اس کے اوپر
31:54افیشلی آپ کہہ سکتے ہیں
31:56کہ یہ کنیدہ ہے
31:57اور ایران نے
31:58جو اپنا ایک کارپٹ ہے
32:00آپ کو پتا ہے
32:01کہ وہ جو بھی جاتا ہے
32:02نیشنل جب وہ کسی کو
32:03گفت دیتے ہیں
32:04تو وہ ایرانی کارپٹ دیتے ہیں
32:06اور اقوام متحدہ میں
32:08اکیس اپریل کو
32:09عالمی سادی یوم
32:11منایا جاتا ہے
32:11اور ایران نے جب یہ بھیجا
32:13تو وہاں پر بھی
32:14ان کی شائری کا یہ حصہ درج تھا
32:17کہ جو تمام انسان ہیں
32:19وہ ایک دوسرے کا حصہ ہیں
32:21انہیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے
32:23ایک دوسرے کے ساتھ
32:25اخلاص سے پیش آنا چاہیے
32:26اور ایک دوسرے کو
32:28دکھ تکلیف دینے سے
32:29رک جانا چاہیے
32:30چنانچہ آج بھی ضرورت ہے
32:32ہمیں اس چیز کی
32:33کہ جو شیخ سادی شرازی
32:35آپ نے جو تعلیمات دیئے ہیں
32:37اخلاقیات کے مختلف
32:38جو پہلو دیئے ہیں
32:39ہمیں چاہیے
32:40کہ ہم ان کو فالو کریں
32:41اس میں سب سے خوبصورت چیز ہے
32:43آپ یہ کہتے ہیں
32:45کہ جو ہمارا علم ہے
32:46ہم نے جتنا علم حاصل کرنا ہو
32:48سب سے پہلی کوشش
32:50ہماری یہ ہونی چاہیے
32:51کہ ہم علم حاصل کرنے کے بعد
32:53اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں
32:55اس کے بعد پھر آپ فرماتے ہیں
32:57کہ عمل کرنے کے بعد
32:59ہمیں یہ چاہیے
33:00کہ ہم اپنے اخلاق کو بہتر کریں
33:02وہ پہلو
33:03کہ جن سے ہم
33:04اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں
33:06دوسروں کے لیے
33:07خوشیاں اور آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں
33:09ہمیں وہ اخلاقیات سیکھنی چاہیے
33:12اور وہ چیزیں
33:13کہ جن سے ہماری زندگی
33:14یا دوسروں کی زندگی
33:16مشکل ہوتی ہے
33:16یا پریشان ہوتی ہے
33:18جن کو ہم
33:19رضائل اخلاق کہتے ہیں
33:21ہمیں ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے
33:23بلکل ٹھیک
33:24پیر صاحب کیا پیغام آخر میں
33:26عطا فرماتے ہیں
33:27جناب آج کی گفتگو
33:28کی روشنی میں
33:29حضرت شیخ صادی رحمت اللہ علیہ کی
33:31شخصیت کے حوال
33:33ہمیں ہمیشہ
33:34مصبت سوچ
33:35اور مصبت زندگی
33:36گزارنی چاہیے
33:38اور خیر
33:39ناس میں
33:40ینفع
33:40ناس بن کے رہنا چاہیے
33:42ٹھیک
33:42شیخ صادی رحمت اللہ
33:44تعالیٰ کی
33:45بقا اور دوام
33:46اور آج تک
33:47ان کے نام
33:48زندہ ہونے کی وجہ
33:49یہی ہے
33:49کہ انہوں نے
33:50مصبت سوچ
33:52مصبت خیال
33:53اور مصبت زندگی
33:54اختیار کی
33:55اور مصبت زندگی
33:57اختیار کرنے پر
33:58تنبیہ فرمائی
33:58یہی وجہ ہے
34:00کہ صوفیاء کی جماعت
34:01بھی سب سے پہلے
34:02سادی کے پاس
34:04جاتی ہے
34:04اور علماء کی
34:05جماعت بھی
34:06سب سے پہلے
34:07سادی کے پاس
34:08آتی ہے
34:08اور یہاں سے
34:09خیرات لیتے ہیں
34:10اور یہ خیرات
34:11جو ہے ان کے لیے
34:12وہ اپنا
34:14وہ عالم ہوں
34:15وہ زاہد ہوں
34:16وہ صوفیاء ہوں
34:17ان کی زندگی
34:18کے اندر جو
34:18نکھار بنتا ہے
34:20میرے قبل عالم
34:21فرمایا کرتے تھے
34:21کہ جو سادی کی
34:22گلستان اور بوستان
34:24نہیں پڑتا
34:25وہ نہ عالم
34:26بن سکتا ہے
34:26نصوفی بن سکتا ہے
34:27کیا بات
34:27سبحان اللہ
34:28سبحان اللہ
34:29رکس اب کیا
34:30پیغام جناب آخر میں
34:31سر اس میں
34:32چونکہ
34:33سب سے خوبصورت
34:35بات یہ ہے
34:36کہ آپ کی
34:37جو کتابوں کو
34:38قبولیت
34:39عامہ حاصل ہوا ہے
34:40اس کے بارے میں
34:41مفتی
34:42ولی محمد
34:43لکھتے ہیں
34:43کہ در حقیقت
34:44یہ سرکار دعالم
34:45صلی اللہ علیہ وسلم
34:47آپ کی ذات اقدس سے
34:49ان کی
34:49بے پناہ محبت
34:51حضور کی
34:52ذات
34:52ذات سے
34:53اور بعد ازاں
34:54آپ کی آل سے
34:54جو آپ کی محبت ہے
34:56کہ یہ بھی
34:57قبول عام ہے
35:01کہ
35:01اور اس میں
35:09جو آپ نے
35:11ربائی جس کے بارے میں
35:12کہا تھا
35:12کہ یہ اتنی
35:13قبول عام حاصل
35:14اللہ تبارک و تعالیٰ
35:16نے اس کو
35:16قبولیت
35:17عطا کی ہے
35:17کہ
35:18محمد
35:19محب اللہ
35:19نوری صاحب نے
35:20اس ربائی کے
35:21ایک حصے پر
35:22پوری کتاب
35:23سرکار دعالم
35:24صلی اللہ
35:24علیہ وسلم
35:26حسنت
35:27جمی
35:27و خیسالی
35:28اس ٹائٹل
35:29کے ساتھ
35:29ساڑھے آٹھ سو
35:30صفحات کی
35:31آپ نے
35:31کتاب
35:32حضور علیہ
35:33صلی اللہ
35:33کی سیرت
35:34طیبہ
35:35کے حوالے
35:35سے لکھی ہے
35:36ضرورت
35:36اس عمر
35:37کی ہے
35:37کہ ہم
35:38شیخ
35:38سادی
35:39شیرازی
35:39کے ان
35:40جو پیغامات
35:41ہیں خاص طور پر
35:42اخلاقیات
35:43کے حوالے
35:43سے
35:43اور انسانیت
35:45کی ہمدردی
35:46اور انسان
35:47کا احترام
35:48کے حوالے سے
35:48ہم اس جو
35:50پیغام
35:50اس کو سمجھنے
35:51کی کوشش کریں
35:52بہت شکریہ
35:53جناب پیر عرفان
35:54الہی قادری صاحب
35:55آپ کی تشریف آوری
35:56کا
35:56آپ کی رہنمائی
35:57کا
35:57اس پروگرام میں
35:58موجود ہونے
35:59کا بہت شکریہ
36:00جناب دکٹر
36:00محمد عزر عباسی صاحب
36:02آپ کا بہت شکریہ
36:03ناظرین اکرام
36:04حضرت شیخ سادی
36:05رحمت اللہ علیہ
36:06کا ذکر
36:06جو ہے وہ
36:08مکمل نہیں
36:08ہو سکتا
36:09ہم نے تو
36:09ایک اس میں سے
36:10خوشبو کا
36:11ایک جھونکہ
36:11اس سے
36:12اپنے
36:13قلب و روح
36:13کو
36:13منور کیا ہے
36:15موتر کیا ہے
36:16اور
36:16اس کے ساتھ
36:18ہم نے
36:18کوشش کی ہے
36:19کہ ہم
36:20حضرت شیخ سادی
36:20رحمت اللہ علیہ
36:21کی جو
36:22براکات ہیں
36:23ان کی شائری کی
36:24ان کی
36:24ان کی عدب کی
36:25ان کی تصنیف کی
36:26ان کی تحریر کی
36:27ان کی حکمت
36:29و دانش کی
36:29اس سے ہمیں
36:30کچھ نہ کچھ
36:31خیرات مل جائے
36:32اللہ تعالی ہمیں
36:33وہ ضرور
36:34عطا فرمائے
36:35کہ ہم
36:35اس کی روشنی میں
36:36سفر کرتے ہوئے
36:37آگے بڑھیں
36:38اور
36:39آپ کی جو
36:39شائری ہے
36:40اس کا ذکر
36:41بھی ابھی ہوا
36:41تو
36:41چند اشار
36:42آپ کی
36:43ایک نات کے
36:45اور یہ
36:46بہت
36:46چھوٹی بہر کی ہے
36:48اور اس میں
36:48سادگی کا حسن دیکھئے
36:50پرکاری کا حسن دیکھئے
36:51مانویت دیکھئے
36:52اور اس میں
36:53رسالت مآب
36:54صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
36:55سے
36:55جو آپ کی
36:57وارفتگی
36:58اور عشق کا
36:58جو عالم ہے
36:59وہ آپ کو
37:00ان اشار میں
37:00نظر آئے گا
37:01اسی کے ساتھ
37:02میں اس بان
37:02ڈاکٹر سرور
37:03حسین نقشبندی کو
37:04اجازہ دیجئے
37:05چند اشار
37:05آپ کی خدمت میں
37:06میں ارز کرتا ہوں
37:07آہ من گدائے تو
37:15یا رسول اللہ
37:23من گدائے تو
37:28یا رسول اللہ
37:38جان فدائے تو
37:43یا رسول اللہ
37:48جان فدائے تو
37:54یا رسول اللہ
38:06جان فدائے تو
38:22یا رسول اللہ
38:31خواہ کے پائے تو
38:36یا رسول اللہ
38:47کاش حرموے من
38:52زبابو دے
39:03کاش حرموے من
39:09زبابو دے
39:14درسن آئے تو
39:18یا رسول اللہ
39:28درسن آئے تو
39:32یا رسول اللہ
39:43ارہم ارہم ارہمی
39:47ناہم بخشت
39:55بے رضائے تو
40:00یا رسول اللہ
40:05یا رسول اللہ
40:10سر نہا دست
40:15بل درت
40:21سا دی
40:42آئے ارہم ارہم ارہم ارہم دن
40:45برنا جان فدائے تو
40:49یا رسول اللہ
40:57Oh
Comments

Recommended