00:00This history has stopped by the time, which only goes away from the time.
00:05This is a history of love, love, peace and love as well as the information that goes on.
00:11We will hear from this story about a short history of the restoration of the Prophet and the Prophet,
00:18the will be revealed at the time of the Prophet and the Prophet.
00:29So we'll see you on the next one.
00:59ڈیشاہ ہٹا کر دیکھا تو وہ چہرہ شناسہ تھا
01:01یہ چہرہ تھا ان کے سب سے قریبی دوست
01:04ابوبکر صدیق کی بیٹی آئیشہ کا
01:06اور پھر جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا
01:09کہ یہ لڑکی آئیشہ
01:11اس دنیا اور آخرت میں آپ کی رفیقہ حیات ہیں
01:14مطلب ایک ایسی ساتھی
01:16جنہیں خاص طور پر آپ کے دکھوں کا مداوا کرنے
01:19اور آپ کے بوچ کو حلکہ کرنے کے لیے چنا گیا ہے
01:22تو جب آسمان سے یہ اشارہ مل گیا
01:25تو اب وقت تھا اسے زمین پر حقیقت کا روب دینے کا
01:28دیکھتے ہیں کہ یہ پیغمبرانہ پیغام کس طرح پیش کیا گیا
01:32نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
01:34نے یہ ذمہ داری حضرت خولہ بنت حکیم کو سونپی
01:37جب پیغام حضرت ابوبکر تک پہنچا
01:39تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی
01:41یہ تو جیسے ان کے دل کی خواہش پوری ہو گئی تھی
01:44لیکن پھر ایک لمحے کو انہیں خیال آیا
01:46کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
01:48تو انہیں اپنا بھائی کہتے ہیں
01:49تو یہ نکاح بھلا کیسے ممکن ہے
01:51اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
01:54نے بہت خوبصورتی سے زلجن کو دور کیا
01:56فرمایا کہ آپ میرے دینی بھائی ہیں
01:58خونی رشتہ دار نہیں
01:59اور اسلام میں یہ رشتہ نکاح میں
02:01کوئی رکاوٹ نہیں بنتا
02:03بس اس وضاحت کے بعد
02:05ایک نہایت ہی سادھا مگر
02:07پروکار تقریب میں نکاح ہو گیا
02:09اور حق مہر کتنا تھا
02:11صرف چار سو درم
02:12یہ اس بات کی علامت تھی
02:14کہ اس رشتے کی بنیاد
02:15دولت پر نہیں
02:16بلکہ سادگی اور روحانیت پر رکھی جا رہی ہے
02:19نکاح تو مکہ میں ہو گیا
02:21لیکن اس دواجی زندگی کا آغاز
02:24کچھ سال بعد ہوا
02:25اس دوران تاریخ کا دھارہ ہی بدل گیا
02:28ہجرت کا وہ عظیم واقعہ پیش آیا
02:30اور اس جوڑے کی نئی زندگی کا آغاز
02:33مدینہ کی بابرکت سرزمین پر ہوا
02:35یہ ٹائم لائن واقعات کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے
02:39دیکھئے
02:40نکاح مکہ میں ہوا
02:42جب حضرت آئیشہ چھے یا سات برس کی تھی
02:45پھر اسلام کی تاریخ کا سب سے بڑا موڑ
02:48یعنی ہجرت آیا
02:49اور اس کے کچھ عرصے بعد
02:51جب وہ نو سال کی ہوئی
02:52تو مدینہ میں ان کی رخصتی عمل میں آئی
02:55یہ منظر کتنا دل کو چھو لینے والا اور حقیقی ہے
02:59ایک بچی اپنے جھولے پر کھیل رہی ہے
03:01اور اسے اس کی والدہ
03:02ایک نئی زندگی کے سفر پر روانہ کرنے کے لیے تیار کر رہی ہے
03:06اس میں کوئی شاہنا تکلفات نہیں تھے
03:08بس اس دور کی پاکیزہ سادگی اور معصومیت تھی
03:12اب ہم اس بابرکت جوڑے کی
03:14ازدواجی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں
03:16یہ ایک ایسی زندگی تھی
03:18جو مادی آساشوں سے تو شاید خالی تھی
03:20لیکن محبت اور سکون سے لبریز تھی
03:23ان کا گھر کوئی محل نہیں تھا
03:25مجد نوی سے جڑا مٹی کا ایک چھوٹا سا حجرہ تھا
03:28جس کی چھت خجور کی ٹہنیوں سے بنی تھی
03:30لیکن اس ظاہری سادگی کے پیچھے
03:32ایک ایسی گہری محبت تھی
03:33جس نے اس چھوٹے سے گھر کو
03:35کائنات کی سب سے پرسکون جگہ بنا دیا تھا
03:38حضرت آئیشہ خود بیان کرتی ہیں
03:39کہ کبھی کبھی تو مہینوں تک گھر میں
03:41چولہ جلانے کی نوبت نہیں آتی تھی
03:43اور رات کو چراغ روشن کرنے کے لیے
03:45تیل تک محصر نہیں ہوتا تھا
03:47لیکن اس مادی تنگ دستی کے
03:49بلکل برعکس ان کے درمیان
03:51محبت کی دولت کا یہ عالم دیکھئے
03:54یہ چھوٹی چھوٹی باتیں
03:55یہ لطیف اشارے یہ اس گہرے تعلق
03:57اور اپنایت کا ثبوت ہیں
03:59جو کسی بھی دنیاوی خزانے سے
04:01کئی زیادہ قیمتی تھے
04:02ان کی زندگی صرف سنجیدگی اور
04:05عبادت پر ہی مشتمل نہیں تھی
04:07بلکہ اس میں محبت بھرے
04:09ہلکے پھل کے لمحات بھی تھے
04:10ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:13گھر تشریف لائے تو دیکھا
04:15کہ حضرت عائشہ ایک ایسے کھلونہ
04:16گھوڑے سے کھیل رہی ہیں
04:18جس کے پر لگے ہوئے تھے
04:19حضرت عائشہ کا یہ برجستہ
04:21اور زہانت سے بھرا جواب سن کر
04:23نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:25اتنا خوش ہوئے
04:27کہ کھل کر مسکرا دیئے
04:28یہ صرف ایک بچی کا جواب نہیں تھا
04:31نہیں
04:31بلکہ یہ اس غیر معمولی زہانت
04:33اور علم کی پہلی جھلک تھی
04:35جس نے مستقبل میں
04:37پوری امت کی وہنمائی کرنی تھی
04:39تو حضرت عائشہ کا کردار
04:41صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:44کی محبوب بیوی تک محدود نہیں تھا
04:46ان کی اصل میں راست و علم
04:48حکمت اور رہنمائی کی ایک
04:50ایسی لازوال داستان ہے
04:52جو آج بھی امت کا راستہ روشن کرتی ہے
04:55ذرا اس عدد کو دیکھئے
04:57دو ہزار دو سو دس
04:59یہ ان احادیث کی تعداد ہے
05:01جو امت کو حضرت عائشہ کے ذریعے ملیں
05:03ان کے علم کے خزانے نے
05:05انہیں اسلامی تاریخ کی
05:06سب سے عظیم سکولرز میں سے ایک بنا دیا
05:09ایک ایسی استاد
05:10جن سے بڑے بڑے صحابہ بھی
05:12رہنمائی حاصل کیا کرتے تھے
05:13حضرت عائشہ خود اللہ کی طرف سے
05:16عطا کیے گئے کچھ ایسے منفرد
05:18اعزازات کا ذکر کرتی تھی
05:20جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوئے
05:22یہ نقاط ان کے اس بے مثال
05:25اور بلند مقام کو ظاہر کرتے ہیں
05:27جو انہیں حاصل تھا
05:28یہ عداد و شمار
05:30ان کی زندگی کی پوری کہانی کا خلاصہ ہے
05:33دیکھئے
05:34صرف نو سال کا ساتھ
05:35نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا
05:37اور محض اٹھارہ سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی
05:40لیکن اس کے بعد کے اٹھالیس سال
05:42یہ اٹھالیس سال انہوں نے
05:44امت کی تعلیم و تربیت
05:45اور رہنمائی کا عظیم فریضہ سر انجام دیا
05:48یہ ان کے بے مثال رشتے کی گہرائی کا
05:51شاید سب سے بڑا ثبوت ہے
06:01یہ ان کی شدید محبت اور قربت کا
06:04حتمی اظہار ہے
06:06یہ کہانی ہمیں رکھ کر سوچنے پر
06:08مجبور کرتی ہے
06:09کہ کیا حقیقی خوشی اور سکون
06:11مادی چیزوں میں پنہان ہے
06:13یا پھر ایک ایسے پاکیزہ رشتے میں
06:15جو سادگی محبت اور ایمان کی بنیاد پر قائم ہو
06:19یہ سوال آج بھی اتنا ہی اہم ہے
06:21جتنا چودہ صدیان پہلے تھا
Comments