- 1 day ago
#pakistani #classic #ptvdrama #old #drama #ptv #1000subscriber #100k #1ksubscribers #1millionviews #famous #pakistanidrama #historical #tabeer
Category
📺
TVTranscript
00:00اور پھر آپ نے ایک اردو ڈیفنس اسوسییشن قائم کر رکھی ہے جس کے آپ پریزیڈنٹ بھی ہیں
00:06یہ دونوں کام آپ بالکل ساتھ ساتھ نہیں کر سکتے
00:09اگر ایسا آپ کرتے رہیں گے تو حکومت مجبور ہو جائے گی کہ کالج کی یہ انداد بند کر دی
00:15جائے
00:15مکڈونل صاحب مجھے اگر اپنے مقصد کے لیے کسی ایک عوضے سے استفادے نہ پڑا
00:22تو میں اردو ڈیفنس اسوسییشن چھوڑنے کے بجائے کالج کی ملازمت سے استفادے دوں گا
00:30ترک نہیں کی جائے گی سوال آپ کی مخالفت کا نہیں سوال مسلمانوں کی حمایت کا ہے
00:35اور یہ جو آپ نے حکومت کی امداد بند کرنے کی بات کی ہے تو میں آپ سے ارس کروں
00:39کہ حکومت کی امداد ہمارے لیے بہت بڑی چیز ہے ہم کسی قیمت پر یہ نقصان برداشت نہیں کر سکتے
00:44لیکن اگر سوال اردو اور سرکاری امداد کا ہوگا تو ہم اردو زبان کے لیے یہ نقصان برداشت کر لیں
00:51گے
00:52مسلمانوں میں اتنا دم ہے کہ وہ اپنے کالج کو اپنے پیسے سے چلا سکیں
00:57پیسہ پیسہ what پیسہ
01:00ہم دیکھیں گے کہ ہماری مرضی کے خلاف کون کس کو پیسہ دیتا ہے
01:07بہرحال ہم آپ لوگوں کے خیالات جان گئے ہیں
01:20تشریف لائے نواز صاحب
01:21آئیے
01:30نواز صاحب
01:32یہ آپ نے کیا کیا نواز صاحب
01:33آپ نے کالج کے عوضے سے استفادے دیا
01:36ہاں بیٹے
01:38گورنر سے اتنی مخالفت کے بعد اور کوئی چارہ نہیں تھا
01:42میں اگر استعفہ نہ دیتا تو اس سے کالج کو نقصان پہنچ سکتا
01:46گورنر
01:47وہ جو کچھ کر رہا ہے اس کا انجام اسے دیکھنا پڑے گا
01:50نواز صاحب
01:51آپ کے استعفے سے سارے ہندوستان میں آگ لگ جائے گی
01:54مسلمان اسے کبھی برداشت نہیں کریں گے
01:57ہاں نگت
01:59نواز صاحب نے کالج سے استفادے دیا
02:01یہ سب کیا ہو رہے
02:02میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آ رہے
02:05آپ الگ پریشان ہیں
02:06تم صرف میری بات کرتی
02:09ارے دیکھو کون پریشان نہیں ہے
02:11میں آپ کی بات نہ کروں تو اور کس کی بات کروں
02:14میرے لئے تو آپ کے سب کچھ ہیں
02:16نگت
02:18نگت بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جب انسانوں کو اپنے علاوہ کچھ سوچنا پڑتا ہے
02:22میں یہ بڑی بڑی باتیں بلکل نہیں جانتی
02:24مجھے تو صرف ایک بات نظر آ رہی ہے
02:26اور وہ یہ
02:28کہ ان باتوں میں آپ مجھے بھول گئے ہیں
02:30نگت
02:31یہ تم کیا کہہ رہی ہو نگت
02:33تو پھر اور کیا ہے
02:34اسی لئے تو میں آپ کے نگت جانے کی مخالف تھی
02:36علی گت کسی شہر کا نام نہیں ہے نگت
02:40علی گت تو مسلمانوں کی مفاد کا نام
02:42کیا تم
02:43کیا تم چاہتی ہو کہ ہم لوگ اپنی ذاتی خوشی کی خاطر
02:46اور سب کچھ بھول چاہے
02:47دیکھئے ان باتوں کو یاد کرنے سے کیا فائدہ
02:50جن سے دکھ کے سیوہ اور کچھ نہ ملے
02:52میں جانتا ہوں نگت
02:53تم ہمیشہ بجان کی بات کرتی ہو
02:55وقار چچا کی بات کرتی ہو
02:56تم کہتی ہونا ایسی باتوں سے کیا ملا
03:00سچ کہتی ہو تم
03:01مگر میں کہتا ہوں انہیں کیا نہیں ملا
03:03کچھ بھی صحیح
03:04بہرحال آپ ایسی کوئی بات نہیں کریں گے
03:06جس کا اثر میری زندگی پر پڑے
03:08اور جسے میں برداشت نہ کر سکتی
03:10تمہارا کیا خیال ہے نگت میں کیا کر رہا ہوں
03:12کچھ بھی نہیں کر رہا
03:14صرف باتیں کرتا ہوں
03:16کاش میرے پاس کرنے کے لئے کچھ ہوتا
03:18کاش مسلمانوں کے پاس کوئی ایسی تنظیم ہوتی
03:20جو میرے دل کی آگ کا ساتھ دے سکتی
03:23اقبال چچا بھی یہی کہا کرتے تھے
03:25اور آپ بھی یہی کہتے ہیں
03:26ہاں نگت
03:28یہ ایک ایسا خیال ہے جو ہر سوچنے اور سمجھنے والے کے دل میں موجود ہے
03:32اگر حالات کچھ ایسے ہیں کہ ابھی کچھ ہو نہیں سکتا
03:35بہرحال
03:36میں تو نہ حالات کو سمجھتی ہوں نہ سیاست کو
03:40لیکن آجانے کیوں
03:41مجھے ایسی باتوں سے بہت ڈر لگتے ہیں
03:43مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے
03:45جیسے آپ ان باتوں میں پڑھ کر
03:47مجھ سے دور ہوتے جا رہے ہیں
03:49نگت
03:50نہیں نگت ایسی بات نہیں ہے
03:52خیر چھوڑیں
03:53یہ خط آئے رحمان بھائی کٹ ڈھا کسی
03:55خط آئے رحمان کا خط ہے
03:56جی ہاں
03:57وہ بیچارے تو آپ کو خط لکھتے رہتے ہیں
03:59اور آپ ہی تو انہیں جواب ہی نہیں دیتے ہیں
04:01ارے بھئی ہمیں وقتی کہاں ملتا ہے
04:20سجنوں
04:20آج ہم بھارت کے کونے کونے سے
04:23بنگال میں کھٹتا ہوئے
04:25یہاں ڈھاکے میں
04:26کلکتے میں
04:27نوکھالی میں
04:29چاٹگام میں کیا ہو رہا ہے
04:31نگر نگر میں
04:32گاؤں گاؤں میں بھارت ماتا کے سپود
04:34جان ہتیلی پر رکھ کر کھڑے ہو گئے
04:36جانتے ہو کس کارن
04:38اس کارن
04:39کہ باہری حکومت کے ایک ظالم واسرائے نے
04:42جس کا نام کرزن ہے
04:43ہندووں کی اجازت کے بغیر
04:45بنگال کے دو ٹکڑے کر دیئے
04:47وہ کہتا ہے
04:48کہ سرکار کے انتظام کے لیے ضروری ہے
04:51پرنتو میں کہتا ہوں
04:53کہ سرکار کے انتظام کے نام پر
04:55یہ ہندووں سے بدلہ لیا گیا ہے
04:57گرزن نے بنگال کے ٹکڑے نہیں کیے
05:00دھرتی ماتا کے ٹکڑے کیے
05:01اسے بنگال کو باٹھ کر
05:03ہمارا ہندو جاتی کا
05:05اور میں کہتا ہوں
05:06کہ ہمارا اور ہندو جاتی کا نہیں
05:08کالی ماتا کا اپمان کیا ہے
05:10ہم اسے کبھی سین نہیں کرتے ہیں
05:11کالی ماتا کیے
05:12کالی ماتا کیے
05:14کالی ماتا کیے
05:16کالی ماتا کیے
05:16مجھنوں
05:17کل تک کانگریس
05:18برہمو سماج
05:19آریہ سماج
05:21اور تھیسپکل سوسائیٹی
05:22ایک دوسرے سے علاقہ لگ تھی
05:24ان کے مند میں دوسری دشائیں تھی
05:26مگر آج
05:27بھگوان کی کرپہ سے
05:28کالی ماتا کے نام پر
05:30یہ سب ایک
05:32آج
05:33ہم یہاں اس لیے کھٹا ہوئے ہیں
05:35کہ واسرہ کردن
05:36اور اس کی سرکار کو بتا دے
05:38کہ بھارت ماتا کے سبود
05:40مر جائیں گے
05:41مگر بنگال کا
05:42ٹکلے ٹکلے ہونا
05:43سین نہیں کریں گے
05:46یقین جانو مراد بابو
05:48آج تو تم سے مل کر
05:49علی گر کی یاد تازہ ہو گئی ہے
05:52آہا
05:53کیا بات تھی علی گر کی بھی
05:55اور کیا زمانہ تھا
05:56طالب علمی کا
05:57یار بابو
05:58وہ وقت مجھے
05:59رہ رہ کر یاد آتا ہے
06:00ہاں یار واقعی
06:01کیا خوب زمانہ تھا
06:03مراد بابو یہ بتاؤ
06:05تمہارے بیٹے کے کیا حال ہیں
06:06اب تو ما شاہ اللہ
06:07خوب بڑھا ہو گیا ہوگا
06:08ہاں بھئی کیوں نہیں
06:09میری شادی کو بھی
06:10لگ بگ دس سال ہو گئے
06:11ہاں
06:12تو ما شاہ اللہ
06:13کامران کافی کب نکال رہا ہے
06:14ما شاہ اللہ
06:15ما شاہ اللہ
06:15میں ایک تصویر دکھا ہوں اس کی
06:16اچھا
06:17لائے ہو
06:18ہاں
06:18دیتی ہے میری جیمن
06:19ہو بہت ہو
06:20بڑا پیار ہے بیٹے سے
06:21ارے ما شاہ اللہ
06:23ما شاہ اللہ
06:23ارے بھئی بہت
06:24جی چاہتا پیار کرلو
06:25ہاں کر لے
06:26آہا
06:27بھئی مراد بابو
06:28بلکل ہو بہو تم جیسے
06:30نا
06:31ہاں
06:32اللہ اسے زندگی دے بابو
06:33امین
06:33ما شاہ اللہ
06:34خوب بہت خوب
06:36وقت گزرتے دیر نہیں لگتی
06:38ایسے لگتا جیسے کل کسی بات ہے
06:40ہاں
06:41بھئی تمہاری شادی
06:42سید صاحب کے انتقال کے فوراں
06:43باتی تو ہوئی تھی
06:44ہاں رہے ما
06:45سید صاحب کا انتقال
06:47ایسے لگتا چاہتا ہے
06:48ہاں
06:48اور صفارن بعد میری شادی ہوگئی تھی
06:51ہاں
06:51رہمان
06:52ہاں
06:52یہاں کچھ سردی نہیں ہو رہی
06:54ہاں
06:54دھاکے کی سردی ہے
06:56ہاں
06:56ہاں
06:57تمہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے
06:58ہاں
06:58ٹھنڈ لگ رہے
06:58ہاں
06:59ہاں
06:59اچھا تو پھر آو اندر چل کر بیٹھتے ہیں
07:01ہاں
07:01آو
07:03ہاں میرے مراد بابو
07:06ہاں
07:07یہ تو بتاؤ کہ یہ تم نے
07:08اچانک دھاکے آنے کا فیصلہ کیسے کر لیا
07:10ایرادہ تو بہت دن سے تھا
07:12ہاں
07:12محالات کچھ ایسے پیش آتے رہے
07:14جس کی وجہ سے کسی بھی پروگرام پر عمل نہیں ہو سکا
07:16ہاں
07:16اہنا یقین کرو
07:17تمہارے پاس بہت پہلے پہنچ جاتا
07:19ارے چھوڑو مراد بابو
07:20چھوڑو کیوں بے وکوب بناتے ہو یار
07:22اما آنا تو بڑی چیز ہے
07:23تم تو خواب میں بھی نہیں آئے
07:24یار یہ شکایتیں
07:25تو اپنی بھابی کے سامنے کرنا
07:26ہاں
07:27وہ تیرا ساتھ دے گی تو اور مزا آئے گا
07:29ایسے نمان تیری شکایت بھی ٹھیک ہی ہے
07:31یار خط لکھنے میں کچھ کچھ پا جاتا ہوں
07:33یہ تو تمہاری پرانی عادت ہے
07:34خیر چھوڑو ان باتوں کو
07:35یہ بتاؤ کہ تم بھابی کو ساتھ لے کر کیوں نہیں آئے
07:38بھئی ان کی بھی کچھ تفریح ہو جاتی
07:40بھئی اچھے ہوا ہے ان حالات بہنے ساتھ لے کر نہیں آئے
07:42اور ویسے بھی یہ سفریں خاص سیاسی نویت کا ہے
07:45اچھا ہے جو وہ ساتھ نہیں ہیں
07:46ارے آوے یہ تو سناو
07:48کہ تمہاری سیاسی دلچسپیوں کا کیا حال ہے
07:51بھئی مرد بھابی ہم تو لکھائی بڑھائی کے چکر میں
07:53ایسے پڑے ہیں کہ کسی بات کا ہوش نہیں ہے
07:55مگر یار تم تو بہت کچھ کرتے رہے
07:57یہ بتاؤ کہ لکھنہوں کے اجلاس میں کیا ہوں
08:00بھئی تم نے اخباروں میں پڑا ہوگا
08:02وہ ویسے بھائی کو پیش کی جانے والی یاد داشت تیار کی گئی تھی
08:04جس میں برحث کے بعد مسلمانوں کا ایک وقت
08:07آگل خان کی رہنمائی میں ویسے بھائی سے میں نے شملہ گیا تھا
08:09جس میں پورے ہندوستان سے مسلمانوں کے بہت سے نمائی دونوں شرکت کی تھی
08:13اس کا تو تمام حال مجھے معلوم ہے
08:15مرد بھابی یہ بتاؤ
08:17کہ مسلمانوں کی علیہ دہ سیاسی تنظیم کا جو منصوبہ تھا
08:20وہ کس مرحلے میں
08:21اے رمان خدا کا لاک لاک شکر ہے
08:24اب حالات میں نیا روح اختیار کر لیا ہے
08:26اور پوری مسلم قیادت ہی اس بات پر متفق ہے
08:28کہ جب تک مسلمانوں کی علیہ دہ سیاسی تنظیم قائم نہ ہو جائے
08:31ان کے مسائل حل نہیں ہوں گی
08:33تو کیا اس انسلم کوئی فیصلہ ہوا ہے
08:36نواب صلی اللہ نے
08:37کل ہن مسلم کانفیڈریشن کا لاحمل پیش کر دیا ہے
08:40جس میں یہ بات اتفاق رائے سے منظور ہو گئی ہے
08:43کہ مسلمانوں کا ایک نمائندہ اجلاس
08:45دھاکہ منقض ہو
08:45جس میں حالات اور تاریخ تقاضی کے مطابق
08:48مسلمانوں کی علیہ دہ سیاسی تنظیم کا اعلان کر دیا
08:50شاید یار یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے
08:52اس کا مطلب یہ ہے
08:53کہ مسلمان اپنی منزل مقصود کی جانب پہلا قدم اٹھا رہے ہیں
08:56ہا رمان
08:56واہ
08:57اور میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں
08:58کہ مسلمانوں کا یہ پہلا قدم
09:00انہیں کس منزل کی طرف لے چاہ رہا ہے
09:03رمان
09:05خدا کا لاک لاک شکر ہے
09:06اب وہ وقت بہت قریب ہے
09:08جب مسلمان ایک اللہ کے نام پر
09:10ایک پرچم تلے
09:11ایک مقصد کے اصول کے لیے
09:13ایک دل اور ایک قوم ہو کر کوچھ کریں گے
09:14انشاءاللہ
09:15اور تاریخ دیکھیں گی
09:16کہ یہ وہ ایک قوم ہے
09:18کہ جو غلامی میں مبتلا ہونے کے باوجود
09:21ایک مستقبل کی تعمیر کر سکتی ہے
09:23تو یہ اجلاس کس تاریخ کو منقض ہو رہا ہم رات بابو
09:25اگلے ہفتے تیس دسمبر کو
09:27آج سے چھے روز بعد
09:29ٹھیک
09:37نواب صلیم اللہ خان صاحب کے بعد
09:39اب میں نواب وقر ملک صاحب سے درخواست کرتا ہوں
09:43کہ وہ خدبہ صدارہ درشاد فرمائے
09:45نواب وقر ملک صاحب
09:55آج ہمارا اجلاس جس مقصد کے لیے ہوا ہے
09:59وہ اجنبی نہیں ہے
10:02اس کی ضرورت تو اسی دن پیدا ہو گئی تھی
10:06جس دن انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد پڑی تھی
10:10ہم سر سید احمد خان مرہوم کی پالیسی کو
10:15کبھی فراموش نہیں کر سکتے
10:19انہوں نے کانگریس کی
10:22روز عبزوں قوت کو محسوس کرتے ہوئے
10:26مسلمانوں کو مشورہ دیا
10:29کہ اگر انہیں اپنی سلامتی درکار ہے
10:32تو وہ کانگریس میں شریک نہ ہو
10:34نارا اے جبی
10:36نارا اے جبی
10:38نارا اے جبی
10:39نارا اے جبی
10:40نارا اے جبی
10:42نارا اے جبی
10:47آج سر سید ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں
10:53لیکن وقت کے ساتھ ہم محسوس کر رہے ہیں
10:57کہ مرہوم کی رائے کتنی سائب تھی
11:02کانگریس کے رویے کے پیش نظر
11:04سر سید احمد خان مرہوم نے مسلمانوں کو
11:09اپنے سیاسی حقوق کے تحفظ کی جد و جوت کا سبق دیا تھا
11:14نارا اے جبی
11:16نارا اے جبی
11:18نارا اے جبی
11:20خودلی مطار
11:21خودلی مطار
11:23خودلی مطار
11:27مسلمانوں پر
11:28یہ بات ماضح ہو چکی ہے
11:31کہ اگر فوری تدابیر اختیار نہ کی گئیں
11:37اور اگر کسی وقت
11:39ہندوستان سے برطانوی اختیار اٹھ جائے
11:43تو ہندو
11:45بڑی آسانی سے ہم پر غلبہ پا کر
11:48ہمیں غلام بنا لے گا
11:52یہ بات
11:53ہم اپنے دلی سے پوچھ سکتے ہیں
11:56کہ اگر ایسا ہوا
11:58تو ہمارا مذہب
12:01ثقافت
12:02معیشت
12:03جان و مال اور آبرو
12:05کس کے رحم پر ہوں گے
12:10آج
12:13آج برطانوی حکومت کی ہندوستان پر
12:16مضبوط گرفت کے باوجود
12:18ہمیں قدم قدم پر
12:20مشکلات اور مسائف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
12:24تو کل
12:27جب تنگ نظر ہندو
12:29ہمیں اپنی غلامی میں لے لے گا
12:32تو ہمارا کیا انجام ہوگا
12:34لہذا
12:38ہمارا یہ فرض اولین ہے
12:41کہ ہم ایک ایسی سیال تنظیم قائم کریں
12:46اور حد کل وضع کوشش کریں
12:49کہ اپنے دوستوں کو غلط راستوں پر چلنے سے روک دیں
12:56ہم
12:57ایک دوسرے کے ساتھ
13:01اخلاق
13:02اور حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں
13:07آج سے
13:09اس تنظیم کا نام
13:12ہم اول انڈیا مسلم لیگ ہوگا
13:15مسلم لیگ
13:17مسلم لیگ
13:18مسلم لیگ
13:19مسلم لیگ
13:21مسلم اتار
13:22مسلم اتار
13:24مسلم اتار
13:26مسلم اتار
13:26بس
13:27مجھے آپ سے صرف اتنا ہی عرض کرنا تھا
13:35اب حکیم عجبہ خان صاحب
13:37اس قراردات کی تائیت فرمائیں گے
13:40حکیم عجبہ خان صاحب
13:45آج کا دن
13:47ہماری تاریخ کا ایک بہت مبارک دن ہے
13:51آج ہم ایک تاریخ ساز لمحے کے سائے میں کھڑے ہیں
13:53اور اپنے ایمان کی قوت کے ساتھ
13:56ایک ایسے فیصلے پر متفق ہوئے ہیں
13:58جو صدیوں کے باہت کا رخ بدل دے گا
14:01میں اس قراردات کی تائیت کرتا ہوں
14:04نرے جبی
14:06نرے جبی
14:08نرے جبی
14:11اور اب
14:12مولانا محمد علی جوہر صاحب
14:14اس قراردات کی تائیت مزید فرمائیں گے
14:18مولانا محمد علی جوہر صاحب
14:22ہر قوم کی زندگی میں
14:24ایک ایسا وقت آتا ہے
14:26جب اس کا اجتماعی عمل
14:28تاریخ کے تقاضوں سے
14:30ہم آہنگ ہو کر
14:32ایک ایسے فیصلے میں ڈھل جاتا ہے
14:34جسے تقدیرِ الٰہی کا فیصلہ کہتے ہیں
14:36آج ہمارا فیصلہ
14:38تقدیرِ الٰہی کا فیصلہ ہے
14:40میں اس قراردات کی
14:42تائیت مزید کرتا ہوں
14:43نارا جگبیر
14:45نارا جگبیر
14:48نارا جگبیر
14:49مسلم یہ
14:50سننابات
14:51مسلم یہ
14:52سننابات
14:53مسلم اتنابات
14:57اب مولانا زفر علی خان صاحب
14:58اس قراردات کی تائیت فرمائیں گے
15:09میں صرف
15:10ایک لاؤس کہوں گا
15:11آل انڈیا مسلم لیگ کے معنی ہے
15:13مسلمانوں کی فتح
15:14اور میں
15:15اس کی تائیت کرتا ہوں
15:17سننابات
16:15موسیقی
16:45موسیقی
17:14موسیقی
17:25آج کی رپورٹ
17:26سر
17:27شہر کی حالت بہت خراب
17:29صبح سے کئی جلوس نکل چکے ہیں
17:31اور آج ایک کالیج میں
17:32ہوای فائرنگ بھی ہوئی
17:32ہوای فائرنگ
17:34اچھا
17:34یہ کن لوگ کے حرکت ہے
17:36سر ابھی تو کچھ پتا نہیں چلا
17:38لیکن اگر میرا خیال درست ہے
17:40کہ یہ صرف لاہور کے لوگوں کا کام نہیں
17:41اس میں کچھ باہر کے لوگ بھی شامل
17:44تمہارا اشارہ
17:45عبیداللہ سندھی کے لوگ کی طرف ہے
17:47یا سر
17:48ہو سکتا ہے
17:50لیکن اس کا کوئی ثبوت
17:52سر ابھی مکمل ثبوت تو کسی بات کا نہیں
17:54لیکن کل شام میں نے شاہی مسجد کے پاس
17:56ایک مشتبہ آدمی کھونتے پھرتے دیکھا
17:58میں نے تلاشی لیتا اس کے پاس
17:59ایک چھرا اور ایک دیسی پسٹول برامت ہوا
18:01میں نے اسے گرفتار کر لیا
18:02وہ ایک سندھی ہے
18:03مجھے پورا یقین ہے کہ وہ عبیداللہ سندھی کا آدمی
18:06اس کا مطلب ہے کہ ان لوگوں کا جال لاہور میں
18:09آہستہ استقافی پھیل چکا ہے
18:11تم نے سوالات والے آدمے سے کچھ
18:13ریافت کرنے کوشش کی
18:14سر وہ تو بالکل گنگا بن گیا
18:15میری کسی بات کا کوئی جواب نہیں دیتا
18:18لیکن اگر کسی طرح ہم مجھ سے بولنے پر تیار کر سکیں
18:20تو مجھے یقین ہے کہ اس سے بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے
18:23وگر پتھر بھی ہے تو اسے بولنے پر مجبور ہونا پڑے گا
18:26چلو میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں
18:36یہ سو رہا ہے
18:37اٹھاو اسے
18:47اٹھاو
18:50اٹھاو
18:51اٹھاو
18:51اٹھاو
18:52اٹھاو
18:53اٹھاو
18:54اٹھاو
18:55اٹھاو
18:55اٹھاو
18:55اسے تو کچھ کھا کر خود کسی کر لیے
18:58کسی کر لیے
18:59سر
19:00سر اس کرو کا کوئی آدمی گرفتار نہیں ہوتا
19:03اور اگر ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ ایسی کوئی نہ کوئی بات ہو جاتی
19:05اور یہ کامران کا ہے
19:07تو وہ آپ سے کالیج میں نہیں ملا
19:10نہ جانے یہ لڑکا کہاں رہتا ہے میں تو تنک آگئی ہوں اسے
19:13لیکن تم تو خامخہ پریشان ہو رہی ہو
19:15آتا ہوگا
19:16پریشان کیوں نہ ہوں
19:18شہر کی فضا کتی خراب ہے
19:20ہر روز تو جلوس نکلتے رہتے ہیں
19:22لیکن تم تو خامخہ گھبرا رہی ہو
19:24اپنے کسی دوست کے ساتھ ہوگا آ جائے گا
19:26اچھا بھائی مجھے بھوک لگ رہے کچھ کھانے کے لیے تو پھر مجھے کچھ کام بھی کرنا ہے
19:31کام؟ ابھی تو آپ کالیج سے آئے ہیں
19:34لیکن کام تو کرنا ہی پڑتا ہے
19:37تو تنگ آگئی ہوں آپ کی کام سے
19:38ہر روز کوئی نہ کوئی چکر رہتے ہیں
19:40کسی روز جلسے میں جانا ہے
19:42کسی روز جلوس میں جانا ہے
19:43کسی روز مضمون لکھنا ہے
19:45اور میرے لئے تو آپ کو فرزت ہی نہیں ملتی ہے
19:48سنو تو سہی کہاں جا رہی ہو
19:59اچھا تو آپ تشریف دلے آئے ہیں
20:03اب وہ کہاں ہے
20:05ابھی بھی آپ کہانے کی کیا ضرور ہے تھی
20:07کیا بات ہے؟ آج ابھی دن ناراض کرنا ہے
20:09اس لئے کہ میرا دماغ خراب ہو گیا
20:12کامران کان کھول کر سن لو
20:13مجھے تمہارا اتنا دن دن بھر باہر رہنا بلکل پسند نہیں ہے
20:18کسی باتیں گر ہوئی ہیں
20:19ایسی باتیں تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتی
20:22اس لئے کہ تم ایک مرد ہو
20:26تم ایک ماں ایک بیوی کے جس بات کو نہیں سمجھ سکتی
20:28مگر میں تو کچھ بھی نہیں کہا
20:32باتیں
20:34باتیں
20:35صرف باتیں
20:36ہمیں کیا چاہتے ہیں کہ ہم
20:38گھنگے اور بیانوں کی طرح پتھوں کی طرح زندگی گزارتیں
20:42بھی
20:42ابھی عورت ہے
20:44کیا حضرت سینب عورت نہیں تھی
20:46جنہوں نے کربلا میں اپنے بچوں کو خود شہادرت کر دیار کیا جائے
20:50کیا حضرت شہادر عورت نہیں تھی
20:52نہیں بیٹا
20:53میں بہت گناہگار عورت ہوں
20:55ہم صرف
20:57بہت نہیں باتیں
20:59نہ دامت اور کچھ نہ کر چکنے کا
21:02کار چھوڑیں
21:04یہ بتا مجھے کو پوچھنے تو نہیں
21:06ہاں
21:07ابداللہ کائے تھا
21:08تمہیں خان مہدر ساکھیں بلا گیا
21:40برطانیہ
21:41تو خود اس موضوع پر کچھ لکھوانا چاہتا تھا
21:43آپ دیکھئے گرافک میں شیخ الاسلام کا کارٹون چھپا ہے
21:45اور اس میں جس قسم کی باتیں لکھی گئی ہیں
21:47کیا کوئی مسلمان اسے برداشت کر سکتا
21:49ارے صاحب مسلمان تو مارنے اور مرنے پر تل جائیں گے
21:52دیکھئے نا طلبہ میں اکھے جان ہے
21:55اسے ہمیں اطلاع ملی ہے کہ کسی کالج میں ہوای فائرنگ بھی ہوئی ہے
22:00آپ کو تو اس کی اطلاع ہوگی
22:01ارے صاحب روز اسی قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں
22:04ترکی کے خلاف کوئی مسلمان کوئی بات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں
22:07خاص طور پر ایسی حالت میں جبکہ مسلمانوں کو اور ترکی کو زبردستی میں جنگ میں گھسیٹا گیا ہے
22:13حکومت کو معلوم ہے کہ ترکی اور جرمنی کے اتحاد کی وجہ سے
22:16مسلمانوں کی جذبات جرمنی کے ساتھ ہیں
22:19حکومت اسے پسند نہیں کر سکتی
22:21حکومت اور مسلمانوں کا اختلاف نیا نہیں ہے صاحب
22:23لیکن اس طرح غلط پروپیکنڈی سے اختلافات کو ہوا دینا
22:26حکومت کے مقاسد کو نقصان پہنچا سکتا ہے
22:29میں نے اس مضمون میں یہی لکھا ہے
22:33میں آج ہی اسے بھیجوا دیتا ہوں
22:35یہ کل کی اشاعت میں آ جائے گا
22:37اچھا تو اب مجھے اجازت دیجئے
22:39خدا حافظ
22:43پولیس نے تم سے کچھ پوچگش تو نہیں کی تھی
22:45جیک صفائی نے مجھے روکا تھا
22:47لیکن جب اسے پتا چلا کہ میرا تعلق آپ سے ہے
22:50تو اس نے مجھے چھوڑ دیا
22:51تم نے میرا نام لیا تھا
22:53جی ہاں
22:56اسی لئے انسپیٹر دلیت میرے پاس آئے تھے
22:59پھر آپ نے کیا جواب دیا
23:00دیکھو عبداللہ
23:02تمہیں معلوم ہے کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں
23:05مجھے تم پر بھروسہ ہے
23:07میں ہر وہ بات تم سے کہہ سکتا ہوں
23:09جو ایک باپ اپنی اولاد سے کہہ سکتا ہے
23:12تین چار دن پہلے
23:13مجھے کمیشنر صاحب نے بلائیا تھا
23:16انہوں نے مجھ سے کہا تھا
23:17شہر کے بارے میں جو کچھ معلوم ہو سکے
23:19وہ میں انہیں وقتاں فوقتاں پہنچاتا رہوں
23:22آج کل
23:23طلبہ میں بہت زیادہ حیجان ہے
23:26میرا خیال ہے کہ
23:27تم اس سنے میں میری مدد کر سکتے ہو
23:30میں سمجھا نہیں
23:31ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے
23:33تم طلبہ کے حالات سے زیادہ
23:35باقف ہو سکتے ہو
23:36میں نے سنا ہے کہ عبداللہ سندھی کا اثر
23:39آج کل طلبہ میں بہت زیادہ پھیل رہا ہے
23:40کون لوگ کیا کر رہے ہیں
23:42اور کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں
23:44اس کے بارے میں تم مجھے بتاتے رہو
23:46میں ایک بات سوچ رہا ہوں
23:48مجھے شاید اب جہاں نہیں رہنا چاہیے
23:50کیوں؟ آپ یہ کیوں سوچنے لگے ہیں؟
23:53آج خانوادر صاحب سے پوچھ کر چھوئے
23:54کل کچھ اور ہو سکتا ہے
23:56میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے خانوادر صاحب کو
23:59مزید کوئی تکلیف اٹھانے کوئے
24:00آپ کو معلوم ہے؟
24:02باپ سے کتنی محبت گئتے ہیں؟
24:04اس لئے تو مجھے اپنی ذمہ داری زیادہ محسوس ہوتی ہے
24:07منور
24:08میں بچہ تھا جب سے خانوادر صاحب میری سرپرستی فرما رہے ہیں
24:12صرف اس وجہ سے کہ
24:14میں ان کے ایک وفادار ملازم کا بیٹ ہوں
24:17میں ان کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا
24:20لیکن میں انہیں کسی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا
24:22آپ کو ایسی باتیں نہیں سوچنے چاہیے
24:25وہ سنیں گے تو انہیں کتنا دکھ ہوگا
24:28منور
24:29منور
24:30اگر میں یہاں نہیں رہا
24:31یا لاہور سے کہیں اور چلا گیا تو کیا تم
24:34آپ کیا کہنے چاہتے ہیں؟
24:37معلوم نہیں
24:38چھوڑو بیکار کی بات ہے
24:39بیکار کی باتیں تو آپ کر رہے ہیں
24:41آپ کہیں نہیں جائیں گے
24:43منور
24:45اگر کبھی ایسا ہوا تو ایک بات کا یقین رکھنا
24:48میں نے زندگی کا جو حصہ اس گھر میں بسر کیا ہے
24:51وہ میں کبھی نہیں بھول سکوں گا
24:53آپ یہ باتیں بن نہیں کریں گے
24:55تو میں جا رہی ہوں
24:56اے اے سنو دو بھنو بھن
25:00آو آو کامران
25:02میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا
25:04کوئی اور بات معلوم ہوئی؟
25:05ہاں
25:06فضللہ ہی صاحب سے ملاقات ہوئی تھی
25:08تیاری مکمل ہو چکی ہے
25:09تو پھر کب؟
25:10آج سے تیسرے دن رات کو
25:11میری تم سے ملاقت کہاں ہوگی؟
25:14تم رات کو گھر کے باہر میرا انتظار کرنا
25:16ٹھیک ہے
25:45موسیقا
25:47کچھ کہا تھا؟
25:47نہیں تو
25:49وہ واپس کتنے بجے آیا تھا
25:51شام کو تو جلدی آ گیا تھا
25:53مگر کچھ چپ چپ تھا جیسے کسی سوچ میں ہو
25:56چپ چپ تھا؟
25:57ہاں
25:58صفیقم تم ایسا کرو میری شہروان ہی نکالو
26:02میں خان بہدر صاحب کے ہاں دیکھ کر آتا ہوں
26:05شاید عبدالحق کو کچھ بتاؤں
26:10عجیب بات ہے عبدالحق کی رات سے غائب ہے
26:12لیکن یہ لوگ کہاں جا سکتے ہیں
26:14میری تو کچھ سبج میں نہیں آتا
26:17عبدالحق میرے بچوں کو پڑھاتا ہے
26:19اور کئی برق سے میرے ساتھ رہتا ہے
26:21ادھر کچھ دنوں سے اس کے معاملات میں فرق آ گیا تھا
26:23لیکن تین چار دن سے وہ بلکل ٹھیک وقت پر آ رہا تھا
26:26پھر آپ کا کیا خیال ہے کیا کرنا چاہیے؟
26:28میں نے تو عبدالحق کے ریپورٹ لکھوا دی ہے
26:30اسپیٹر دلیب آتے ہی ہوں گے
26:33شہر کی فضا اتنی خراب ہے کہ ذرا سی بات پر ترہ ترہ کے اندیشیں ہونے لگتے ہیں خان بہدر
26:37صاحب
26:38صاحب آپ کے دو بیٹے کا معاملہ ہے
26:39آپ جتنے بھی پریشان ہو کم ہیں
26:41لیکن آخری لوگ جا کہاں سکتے ہیں
26:43اللہ اللہ
26:44اللہ
26:47آئیے اسپیٹر صاحب تشریف لائیے
26:53آپ سے ملیے
26:54آپ میں پروفیسر مراد
26:56میں ان سے غائبان عواقف ہوں
26:58پروفیسر صاحب تو بڑی مشہور ہستی ہیں
27:01تشریف رکھیے
27:02شکریہ
27:09کہیے عبدالحق کا کچھ پتا چلا
27:11جے نہیں عبدالحق کا تو کچھ نہیں پتا چلا
27:14لیکن یہ معاملہ اب کچھ پیچیدہ ہو گیا ہے خان بہدر صاحب
27:18ہماری اطلاعات کے مطابق تقریباً پندھرہ طالب علم اپنے اپنے گھروں سے غائب ہیں
27:23عجیب بات ہے کیا واقعی
27:25جے ہاں
27:26لیکن انسپیکٹر صاحب ان کے غائب ہونے کی کوئی وجہ
27:30اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا
27:32لیکن جہاں تک حالات سے اندازہ ہوتا ہے
27:36اس کے تحت تو یہی پتا چلتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک منصوبے کا حصہ ہے
27:40منصوبہ؟
27:40کیسا منصوبہ؟
27:42اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا
27:44لیکن اگر ہماری اطلاعات درست ہیں
27:47تو یہ سب لوگ ملک چھوڑ دینے کے ارادے سے غائب ہوئے ہیں
27:50یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں انسپیکٹر صاحب؟
27:52میں جو کچھ کہہ رہا ہوں ٹھیک کہہ رہا ہوں
27:55میری باتیں حیرت انگیز ضرور ہیں
27:57مگر بے بنیاد نہیں
27:58ان لوگوں کا یہی منصوبہ ہے
28:01یہ سب لوگ ملک چھوڑ دینے کے ارادے سے ایک ساتھ روانہ ہوئے ہیں
28:05اور اس کے پیچھے یقیناً کوئی بہت بڑی سازش ہے
28:09سازش؟
28:38موسیقی
28:45موسیقی
28:47موسیقی
28:48موسیقی
28:54موسیقی
28:55دیکھو نو جوان سازش بتاؤ تم لوگ یہاں کسی رادے سے آئے
28:58میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں
29:01پوچھو کیا پوچھنا ہے
29:02کیا مولانا عبیداللہ سندھی کابل پہنچ چکے ہیں
29:05تمہارا ان سے کوئی تعلق؟
29:07براہ مہربانی میرے سوال کا جواب دیجئے
29:09ہاں وہ کابل پہنچ چکے ہیں
29:13خدا کا شکر ہے
29:14تم نے بتایا نہیں تمہارا ان سے کیا تعلق ہے
29:16اگر مولانا عبیداللہ سندھی کابل پہنچ چکے ہیں
29:18تو آپ کو بہت جلد آپ کے سوال کا جواب مل جائے گا
29:21دیکھو نو جوان ایک پولیس افسر کی ایسی ایسی میرا فرض ہے
29:24کہ میں ہر بات کی مکمل امکاری رکھوں
29:26میرا تم سے سوال کرنے کا مقصد اپنا فرض پورا کرنا تھا
29:30سمجھے؟
29:31ویسے میں تمہیں خوشی سے متعلق کرتا ہوں
29:33کہ مجھے تمہاری رہائی کا حکم مل گیا ہے
29:36آپ نے لاہور سے آنے والے کچھ طالب علموں کو ذکر کیا تھا
29:40کیا ان کی رہائی کا بھی حکم دیئے گیا ہے؟
29:43ہاں سب کے بارے میں ایک ہی حکم ہے
29:45بہرالا شام تمہیں مولانا عبیداللہ سندھی کے پاس پہنچا دیا جائے گا
29:48یہ بہت بہت شکریہ
30:02بیٹھو بیٹھو
30:03شکریہ
30:04مجھے افسوس ہے تمہیں یہاں پہنچنے میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا
30:09لیکن مجھے امید ہے کہ تم دلبرداشتہ نہیں ہوگی
30:12تم جس مقصد کے لئے اپنا ملک چھوڑ کر یہاں آئے ہو
30:16اور اس سلسلے میں تمہیں جو تکلیفیں اٹھانی پڑ رہی ہیں
30:19اس کاجر خدا تمہیں دے گا
30:22عبدالقادر
30:23جی
30:23تم اپنے ساتھیوں کو ہمارے منصوبے کے بارے میں کیا کچھ بتا چکے ہو
30:27میرے خال سے مولانا یہ لوگ آپ کی زبان سے کچھ سننا پسند کریں گے
30:31ٹھیک ہے
30:33ابتدائی باتیں تو تمہیں معلوم ہو چکی ہیں
30:35اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہندستان میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے
30:42انگریز مسلمانوں کی ترقی اور بیداری کبھی پرداش نہیں کر سکتا
30:46کیونکہ وہ جانتا ہے
30:48کہ مسلمان کی بیداری کی ایک ہی معنی ہے
30:51جہادِ آزادی
30:52اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ مسلمان سوائے خدا کے کسی کی غلامی اختیار نہیں کر سکتا
30:59اور ہندستان میں مسلمان غلام ہیں
31:03ان کی آزادی کے لیے میرے پیر مرشد حضرت شیخ الہند نے ایک جامعہ منصوبت بنایا ہے
31:13اور وہ اس سلسلے میں بہت چلد حجاز روانہ ہو رہے ہیں
31:18ان کے وہاں پہنچنے کے بعد ایسی باتیں رونما ہوں گی
31:21جس کے نتیجے کے طور پر ساری دنیا اسلام میں انگریزوں کے خلاف جہاد کیلئے اٹھ کھڑی ہوں گی
31:28اور جب باہر یہ انتظامات مکمل ہو جائیں گے
31:32تو اسلامی اتحاد کے بدولت ہندوستان کے اندر مسلمانوں کی قوت کو وہ سہارا مل جائے گا
31:38جس کے بعد وہ انگریزوں کی غلامی کا جوا اپنے کاندھوں سے اتار پھیکیں گے
31:43لیکن اس منصوبے کے لیے ہمیں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے
31:47جو اپنی قوم کے اور مذہب کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کریں
31:52میں تمہیں یقین دلاتا ہوں اگر سچے دل سے تم کام کروگے
31:56تو اس مقدس مقصد حضول کے لیے خدا تمہاری مدد کرے گا
32:08خدا کا شکر ہے وہ وقت آ گیا جس کا انتظار تھا
32:12تم لوگوں نے سنا امیر نسللہ خان نائب سلطنت اخوانستان اعلان جہاد کے لیے تیار ہو گئے
32:19خدا امیر نسللہ خان کے ارادوں میں برکت دے
32:23لیکن کیا وہ امیر حبیب اللہ کی مرضی کے بغیر جہاد کا اعلان کر سکیں گے
32:28امیر نسللہ خان کی مرضی امیر حبیب اللہ خان کی مرضی سے مختلف نہیں
32:32انہیں یقین ہے کہ وہ امیر حبیب اللہ خان کی رضا مندی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے
32:37عبدالقادر شیخ الہند کے بارے میں کیا اطلاع ہے
32:40ہاں وہ حجاز پہنچ چکے اور مولانا سندھی کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے
32:44کہ وہ حجاز میں ترکی کے گورنر غالب پاشا سے اعلان جہاد پر دستخط کرانے میں کامیاب ہو گئے
32:50زندہ بات
32:52وقت اور سارے سلسلے ہماری تاہید میں ہیں
32:56ہماری کامیابی یقین ہی ہے
32:57عبدالقادر امیر نسللہ خان کب تک اعلان جہاد کر سکیں گے
33:00انشاءاللہ بہت جب
33:02مولانا سندھی نے ایک سفارت ترکی اور جرمنی کے لیے روانہ کی ہے
33:06خلیفہ اور قیسر جرمنی سے درخواست کی ہے
33:09کہ آپ ساٹھ ہزار کی لشکر سے افغانستان کی امداد کے لیے دیچار رہے ہیں
33:14ادھر سے جواب ملتے ہی امیر نسللہ خان جہاد کا اعلان کرتے ہیں
33:18اور تمہیں پورا یقین ہے کہ خلیفہ اور قیسر جرمنی نے اس انداد کے لیے تیار ہو جائیں گے
33:21بے شک بے یقینی کوئی وجہ نہیں
33:24کیونکہ ترکی اور جرمنی انگریزوں خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے حلیف ہیں
33:28اور اس وقت افغانستان کی طرف سے جہاد کا اعلان ان کے لیے بہت بڑی مادت ثابت ہو
33:34تم مولانا سندھی سے ملے تھے
33:36ہاں میں انہی کے پاس سے آ رہا ہوں
33:37اور ابھی تم دونوں کو میرے ساتھ ان کے پاس چلنا ہے
33:40وہ ایک بہت بڑا کام تم دونوں کے سبورت کرنا چاہتے ہیں
33:43بہت بڑا کام
33:45کیا کام ہے کچھ بتاؤ تو سی
33:47کام کچھ بھی ہو ہم ہر کام کے لیے تیار ہیں
33:49شاہباش
33:49تو پھر جلدی سے چلو وہ انتظار کر رہے ہوں گے
33:54تمہارے اور میرے درمیاں خدا کی یہ مقدس کتاب ہے
33:58اس پر ہاتھ رکھ کر تم اہت کرو
34:00کہ تمہارے سپورت جو کام کیا جا رہا ہے
34:03تم اپنی چان کی بھی پرواہ نہیں کروگے
34:05اور مکمل رازداری سے کام لوگے
34:08انشاءاللہ
34:09آپ ہمیں ہر آزمائش میں ثابت خدم پائیں گے
34:12شاہباش
34:12خدا تمہاری مدد کرے گا
34:14اچھا سنو
34:15تمہیں ریشمی رومال پر لکھے یہ خطوط لے کر
34:18آج ہی ہندوستان کے لیے روانہ ہونا ہے
34:20سفر نہائی دوشاری سے کرنا
34:23خود کو بلا ضرورت خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں
34:26جہاں تک ممکن ہو سکے
34:28اپنے کو بچتے بچاتے
34:29حیدرباد سندھ تک پہنچانا
34:31وہاں تم شیخ عبد الرحیم سندھی سے ملوگے
34:34اور یہ خطوط ان تک پہنچا دوگے
34:36وہاں سے وہ شیخ الہند کو
34:38حجاز کے لیے یہ خط روانہ کر دیں گے
34:40اچھا
34:41اب خدا کا نام لے کر
34:42تم سفر کے لیے تیار ہو جاؤ
34:45تم ایسا کرو
34:46کہ ان کے سفر کا انتظام کرو
34:48بہت پہتر
34:49آؤ میرے بچوں
34:50خدا تمہارا نکبان ہے
34:52میرے کلے لکھ جاؤ
35:06یہ کون لوگ ہیں
35:07سردار کل جو کافلا ہمارے ہاتھ آیا
35:09تو اس میں یہ دو اندوستانے بھی تھے
35:11اچھا اچھا
35:11پھر یہ کیوں لائے
35:12چڑ دو چڑ دو
35:13سردار ہمیں شبہ ہے
35:14کہ یہ لوگ انگلیزوں کے جاسوس ہیں
35:17اچھا اچھا
35:18اچھا اچھا
35:21پھر گولی مار
35:23انگلیزوں کے دشمن ہیں سردار
35:24اچھا اچھا
35:25پھر تک تو ہمارا دوست ہے
35:26ہاتھ پلاونا
35:27سردار یہ جھوٹ بھی بول سکتے ہیں
35:29اچھا اچھا
35:30پھر میں نے کانا گلو مار
35:31لیکن سردار
35:32ہم جھوٹ نہیں بولتے ہیں
35:33پھر کیا بولتے ہیں
35:34ہم سچ بولتے ہیں سردار
35:35اچھا اچھا
35:36یہ تو بڑا اچھا بار
35:37چوڑ دو چوڑ دو
35:38مگر سردار
35:39ان کے سچ کا کیا ثبوت ہے
35:41جواب
35:42تمہارا سچ کا کیا ثبوت ہے
35:44سردار
35:44آپ نے
35:45آپ نے شیخولین کا نام سنا ہے
35:47وہ شیخولین
35:48وہ تو ہمارا پیر و مرشد ہے
35:51تمہارا انسی کے تعلق
35:53ہم شیخولین کے آدمی ہیں سردار
35:55اچھا اچھا
35:56پھر تو تم ہمارا میمان ہے
35:57چھوڑ دو چھوڑ دو
35:58بیٹھو بیٹھو
36:00بیٹھو
36:05سردار
36:06آپ بہت اچھے آدمی ہیں
36:08اچھا
36:09ہم اچھا اتنی ہیں
36:10تو بھی بہت اچھا
36:12آج ہمارا ساتھ کانا کام ہے
36:14نہیں سردار
36:14ہمیں بہت ضروری کام سے جانا ہے
36:16جلسی جلس پشاور پہنچتے ہیں
36:18پہلے تم ہمارا کانا کھائے گا
36:19پھر ہمارا آدمی
36:21تمہارے کو لے کے پشاور جائے گا
36:23وار تم دو پروش
36:24اسلام کان سے ملنا
36:25وہ تمہارا مدد جرور کرے گا
36:31دو سے پیدا نہیں ہوا
36:33دو کھائی تھی
36:35دن میں کتنے مطلبہ کھاتے ہو
36:37مو کھولو
36:39سبان باہر نکالو
36:41تمہیں بالکل فائدہ نہیں ہو
36:43اچھی بات ہے
36:44تم ابھی وہی دوہ استعمال کرو
36:46دو چار دن کے بعد
36:47میں تمہیں دوسری دوہ دوں گا
36:48اگر تمہیں فائدہ نہ ہوگا
36:49سنید ہے
36:50جی
36:51آپ کا نام اسلام خان ہے
36:52جی ہاں کیا بات ہے
36:54آپ کون لوگ ہیں
36:55ہمیں درسل
36:57آپ سے تنہائی میں گفتوں کو کرنے
36:59لیکن آپ کون لوگ ہیں
37:00ہمیں سردار عبدالکریم نے آپ کے باس پیدا ہے
37:03سردار عبدالکریم
37:05چلو میچی جاؤ
37:08فائدہ ہو جائے گھجا
37:14یہاں خطرہ ہے
37:15آپ سامنے والے خیوہ خانے میں چل کر جاؤ بیٹشی
37:19میں ابھی آتا ہوں
37:22اچھے بات
37:22ٹھیک ہے
37:31رات میں آپ لوگوں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی
37:33نہیں نہیں اسلام خان
37:34ایسے تو کوئی بات نہیں ہے
37:36ہاں
37:36ہاں
37:37ہاں
37:37ہاں
37:37ہاں
37:37ہاں
37:37ہاں
37:38ہاں
37:39بڑا آسان پتا تھا
37:42کسی سے بھی پوچھتے
37:43اسلام خان دوا پروشکاں رہتا
37:45ایسے کوئی بات نہیں ہے
37:46ایسے کوئی بات نہیں ہے
37:47ہاں
37:47بیس آپ کا کاروار کیسا چل رہا ہے
37:49بس بھائی گزارہ ہو رہا ہے
37:51بال بچوں کا پیٹ پال رہا ہوں
37:52بس ٹھیک تھا
37:53چل رہا
37:56مگر
37:57آپ نے میری دکان پر آ کر غلط ہی کی
38:01یہاں اکثر سردار عبدالکریم کے لوگ آتے رہتے ہیں
38:04جس کی وجہ سے خفیہ پلیس کے لوگ میری دکان کے آس پاس موجود رہتے ہیں
38:09آپ لوگوں پر کسی کو شک ہو گیا
38:11تو آپ لوگ مسئلے میں پڑ جائیں
38:14مگر ہمیں تو صرف ایک راتیاں بسر کرنی ہے
38:16کالسوں میں تو کھمینا سے چلے جائیں گے
38:18میں آپ لوگوں پر ٹھہرنے کا انظام تو کر دوں گا
38:21لیکن آپ کسی مصیبت میں پڑ گئے
38:23تو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہوگا
38:25اللہ مالک ہے اسلام خان
38:28رات کسی طرح گزاری جائے گی
38:36موسیقی
38:59ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تم کابل سے کوئی خفیہ پیغام لے کر جا رہے ہیں
39:03آپ کی اطلاع غلط ہے
39:05ہم مسافر ہیں اور اپنے وطن واپس جا رہے ہیں
39:08چھوٹ مت بولو
39:10ہماری اطلاع غلط نہیں ہو سکتی
39:12ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں
39:13ہمارا کسی پیغام سے کوئی تعلق نہیں
39:15ہماش
39:17میں انکار کے بجائے اقرار سننا چاہتا ہوں
39:20ہم سچ کہہ رہے ہیں جناب
39:22ہم کابل ملازمت کے لئے گئے تھے
39:24اور ناکام ہو کر واپس جا رہے ہیں
39:26بکوش مت کرو
39:29ورنہ میں سچ اگلوانے کے لئے دوسرے طریقے بھی جانتا ہوں
39:36اچھی بات ہے
39:38آپ اگر سچ سننا ہی چاہتے ہیں تو سنویجی
39:40میں آپ کو ٹھیک ٹھیک بتایا دیتا ہوں
39:42عبداللک
39:44مجبوری ہے کمران
39:46بتانا ہی پڑی
39:47تو اپنے اہد سے غداری کر رہے ہو
39:48جان بچانے کے لئے سب کچھ کرنا پڑتا ہے کمران
39:52عبداللک
39:53شیخ الہند کے آدمی ہیں
39:54عبداللک
39:56ہمیں مولانا سندھی نے
39:57قابل بلائے تھا
40:00مگر وہاں
40:01مگر وہاں
40:03امیر نسولہ خان نے
40:04مولانا سندھی کی مدد کرنے سے انکار کر دیا
40:06عبداللک
40:08اور پورا منصوبہ ناکام ہو چکا
40:10کیا تم ٹھیک کہہو
40:14ہاں
40:14امیر نسولہ خان نے
40:16مولانا سندھی کو گرفتار کر لیا
40:20اور ہم اپنے ساجیوں کو بتانے جا رہے ہیں
40:22کہ قابل کی سازش ناکام ہو چکے
40:30مرکا
40:31ٹھیک ہے
40:32یہ بہت اہم خبریں ہیں
40:35میں تمہیں رنجیس صاحب بہادر سے ملاؤں گا
40:37اگر تمہاری یہ خبریں ٹھیک نکلیں
40:39تو تمہیں بہت سا انام دیا جائے گا
40:42تم دونوں آج رات یہی ٹھر ہوگے
40:44کل صبح میں پھر تمہارے پاس آؤں گا
40:52کامران
40:55کیا تم سمجھتے تھے کہ میں اپنے خدا سے بدہہ دی کروں گا
40:58مسیل ہوگا
40:59ٹھیک ہے
41:16ٹھیک ہے
41:19مجھتے تھے
41:20مجھتے تھے
41:24مجھتے تھے
41:25پیلو
41:26نہیں
41:27میں نہیں پیونگی
42:24موسیقی
42:37جانتا ہوں تم صرف ماں بن کر سوچ رہی ہیں
42:40مگر یہ صرف ایک تمہارا مسئلہ نہیں ہے بیگم
42:43تمہیں معلوم ہے کامران کیوں چلا گیا
42:46کامران اس لیے چلا گیا کہ ہم سب حالات کے جبر کا شکار ہیں بیگم
42:49تاریخ نے ہمیں ایک آسمائش کے لمحے میں پیدا کیا
42:52اور اس لمحے کے تقاضوں کو پورا کرنا ہمارا مقدر ہے بیگم
42:57کامران اس کے چلا گیا کہ ہزار نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں
42:59کہ وقت نے ان پر جو ذمہ داری ڈالی ہے
43:01اسے انہیں ہر قیمت پورا کرنا ہے
43:03ہر قیمت بیگم
43:06یہ کسی ایک ماں
43:08کسی ایک بیٹے کا مسئلہ نہیں ہے بیگم
43:11یہ ہزاروں ماں اور ہزاروں بیٹوں کا مسئلہ ہے بیگم
43:16وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے
43:19انسانوں کو قربانی تینی ہی پڑتی ہے بیگم
43:22قربانی قربانی
43:24ایسے قربانی سے کیا فائدہ جن کا حاصل سوائے
43:27مایوسی اور دکھ کے اور کچھ نہ نکلے
43:29اور پھر ہر قربانی ایک نیک قربانی کا دروازہ کھولتی ہے
43:33نہیں نہیں
43:35یہ قربانیاں رائے گا نہیں جائیں گی
43:38ایک نہ ایک دن ان کا نتیجہ ضرور ظاہر ہوگا
43:41لیکن کب
43:42جب ناجانے کتنی ماں کی کو خجڑ چکی ہوگی
43:45اور ناجانے کتنی سوہاگ لوگا سوہاگ مٹی میں مل چکا ہوگا
43:50انتظار کرو بگم
43:53انتظار کرو اس وقت کا صبر کے ساتھ
43:56صبر کے ساتھ
43:57بیگم صاحب
43:59کامران بھائی آگ ہے
44:00تو کیا ہے
44:01کامران آگ ہے
44:03بیگم صاحب کامران بھی
44:05کامران بھی
44:07میرے بچے
44:13میرے بچے
44:15آپ جان инд率
44:23اچھا تم آرام کرو
44:24بہت تھک گئے ہوگی
44:26باقی باتیں کل صبح ہوں گی
44:29خدا حافظ
44:51میں آپ سے یہ نہیں پوچھوں گی
44:53کہ آپ کیوں چلے گئے تھے
44:55لیکن اتنا ضرور کہوں گی
44:56کہ آپ کو مجھے بتائے بغیر نہیں جانا چاہیے تھا
44:59مجھے افسوس ہے
45:01لیکن میں مجبور تھا
45:02تو آپ مجھے بتا دیتے
45:04تو میں آپ کو روک تو نہ لیتی
45:07منور
45:08تو مجھ سے ناراض ہو کیا
45:10مجھے تو صرف اس بات کا دکھ ہے
45:12کہ آپ نے مجھ پر بھروسہ نہیں کیا
45:14نہیں نہیں منور ایسا نہ کہو
45:18مجھے یقین ہے کہ وہ
45:20زیادہ دیر میرے پاس نہیں رکے گا
45:21اور مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ وہ آپ کے پاس
45:24آکے سکیا لیکن کبھی کبھی
45:26شکار کے خون میں ایسی کمزوری پیدا
45:28ہو جاتی ہے خانبادر صاحب
45:29کہ وہ خود شکاری کی طرف دورتا ہے
45:31آئیئی میرے ساتھ
45:33کیونکہ آپ تنہا چلیں گے
45:35جی نہیں
45:36میرے آدمی میرے ساتھ ہو گیا
45:41دوسر پوکر پریس آگئی ہے
45:44پولیس
45:45تمہارا اندرشاں ٹھیک تھا منور
45:47اب کیا ہوگا کچھ کچی ہے
45:48اب کچھ نہیں ہو سکتا
45:50تمہیں ایک منٹھے
45:55منور
45:56تمہیں ایک امانت اپنے پاس رکھ سکتا ہے
45:58یہ ریشمیر مال
45:59یہ ریشمیر مال مجھے اپنی جان سے بھی جانا عزیز ہے
46:02کیونکہ اس میں میرا ایمان لکھتا ہوا ہے
46:04منور
46:04وعدہ کرو کہ تمہیں اس کی حفاظت اپنی جان سے بھی جانا کرو گی
46:07میں اگر چھوڑ گیا تو
46:08تم سہیں اسے واپس لے لوں گا
46:10بانا تمہیں اسے زائے کریں
46:11عبدالاق بیٹے
46:13عبدالاق بیٹے
46:19عبدالاق بیٹے
46:20اسپیکٹر دلیت تمہیں لینے آئے
46:22انہیں تم سے کچھ ضروری باتیں پوچھنی ہیں
46:27اسے لے گئے
46:30اسے لے گئے
46:32اسے لے گئے
46:33میرے بیٹے کو
46:36میرے بیٹے کو
46:38پچے کو
46:40وہ اس پہ
46:41اس کو ضرور کریں گے
46:43مجھے مہت ہو
46:46میرا گلگ ہو
46:47تو مجھ سے ہی پتاج نہیں ہوتا
46:51وہ
46:53اس ضرور کریں گے
46:56پچے
46:57مہت ہو
46:59مہت ہو
47:01میں
47:02سم لای ہوجائے دوں گے
47:06آپ
47:07آپ
47:08آپ
47:08کیوں
47:08آپ
47:12آپ
47:13میں
47:14آپ
47:21بیٹی
47:22آپ نے مجھے نہیں پیشانا
47:23میں منور ہوں
47:24خان بہدر ردنباز کی بیٹی
47:26خان بہدر
47:28اچھا تو تم ہی منور ہو
47:32بیٹی میرا تو سب کچھ ختم ہو
47:34سب کچھ
47:35گبرائی نہیں
47:36اللہ سمید رکھیے
47:37اللہ بڑا کارساز ہے
47:39ہاں بیٹی
47:40میں آپ کے پاس ایک کام سے آئی ہوں
47:42اب دلہ کی ایک امانت میرے پاس ہے
47:45میرے گھر کے حالات کچھ ایسے ہیں
47:47کہ میں اس اپنے پاس نہیں رکھ سکتی ہوں
47:49مجھے پچان سے ڈر لگتا ہے
47:51اسی لئے میں آپ کے پاس اسی لئے آئی ہوں
47:54آپ اسے حفاظت سے اپنے پاس رکھ سکتی ہیں
47:57یہ
47:59ریشمی رومال
48:01ہاں
48:01یہ وہی ریشمی رومال ہے
48:04جو اس کی تلاش میں پریشن
48:05نے ان دونوں کو گرفتار کر لیا ہے
48:07آپ اسے اپنے پاس رکھ لیجئے
48:10لیکن دیکھئے
48:11خدا کے لئے اس کا پتہ نہ کسی کو چلنے پائے
48:21اچھا
48:23اب میں چلتی ہوں
48:25خدا حافظ
48:32یہ
48:33مجھے
48:35ریشمی رومال
48:40وہ اسے چھوڑ دیں گے
48:43اسے چھوڑ دیں گے
48:47نہیں
48:47نہیں
48:50میں اسے نہیں کر سکتی
48:51میں کیا کروں
48:55میں کیا کروں
48:57مجھے
49:01مجھے
49:04اس کی نوبت بھی نہیں آئی گی
49:06کم از کم
49:07عبدالحق میری کسی بات سے انکار نہیں کر سکے گا
49:10میں خیال ہے آپ
49:11بات تو کر کے دیکھئے
49:13ہاں
49:14یہ ٹھیک ہے
49:14آئیے مجھے
49:17آئیے مجھے
49:18آئیے مجھے
49:25آئیے مجھے
49:26مجھے
49:37تو بیٹے کاؤنان
49:38کیا حافظ بمارا
49:40یہ خدا کا شکر
49:43پولس نے خدا نہ خاستہ
49:44تم لوگوں پر کوئی سختی تو نہیں کی
49:47ابھی تک تو ایسی کوئی نوعبت نہیں ہے
49:50انسپیٹر ڈلیف سے میرے تعلقات ہیں
49:52وہ کی مدد کرنی چاہیے
49:54جوٹی پر کوئی اثر پڑھیں
49:56مقتصر الفاظ میں بتائیے خانبازو صاحب
49:58آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں
49:59صرف ایک معمولی سی بات
50:01تمہیں انسپیٹر ڈلیف کو بتانا پڑے گا
50:03کہ وہ ادلاللہ سندھی اور ان کے ساتھی کابل میں کیا کر دیں
50:07حکومت برطانیہ کے خلاف
50:08ان کا منصوبہ کیا ہے
50:09اور ان کے گروہ کے لوگ کن کن کاموں پر معمول ہیں
50:12بس
50:12صرف اتنی سی بات
50:14ہاں ہاں اور وہ یہ کہ
50:15وہ کون سے کام ہیں جو تم دونوں کے سپر کیے گئے ہیں
50:19کتنی معمول اسی بات ہے
50:21اور اگر ان باتوں کا میں جواب دے دوں
50:22تو انسپیٹر ڈلیف جو ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں
50:25ہمیں رہا کرا دیں گے
50:26یہ کہنا چاہتے ہیں آپ
50:28صحانبہ حضر صاحب
50:29شاید آپ کو احساس نہیں آپ مجھے غداری کا مشورہ دے رہے ہیں
50:32لیکن بیٹے یہ باتیں کسی کو بتائی نہیں جائیں گے
50:35غداری شکاہ کر کی جائے تو کیا اسے
50:36غداری نہیں کہتے ہیں
50:40یہ غداری نہیں صرف مسلحت کا تباہ جائے
50:43مسلحت
50:45مسلحت
50:45آپ جیسے لوگ قوم کی مفاس سے غداری کر کے
50:48دوسروں کو بھی غداری کا سبق پڑھاتے ہیں
50:50یہ ایک مسلحت ہے
50:52یہ ایک مسلحت ہے
50:53مسلحت تو بزدلی اور ریاکاری کا ایک خوبصورت سے نام ہے
50:57میں ایسی ہر مسلحت کو معنی سے انکار کرتا ہوں
51:00سوچ لو بیٹے
51:01یہ موقع بار بار نہیں آئے گا
51:03تم اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا کر
51:06غلطی کر رہے ہو
51:07میرا انکار اگر غلطی ہے
51:09تو میں یہ غلطی قیمت تک دورہ تنوں گا
51:11سن لیا آپ نے جائے اسپیکٹر ڈلیپ سے کہہ دیجئے
51:14ان کی ہندردی کا شکریہ
51:16لیکن انہوں نے مولانہ سندھی
51:17کی ساتھیوں کے کردار کا اندازہ لگانے میں
51:19بڑی غلطی کی ہے
51:26اسپیکٹر صاحب
51:27آپ نے کامران کا جواب سن لیا
51:29جائے آپ مجبوری ہے
51:31مجبوری ہے خان بھادر صاحب
51:32انہیں بند کر دو
51:33اور عبداللہ کو بھیج دو
51:46نوجوان
51:48خان بھادر صاحب تم سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں
51:50اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے
51:52کہ پولیس پتھروں سے بھی ان کے راز اگلوانے کے طریقے
51:54جانتی ہیں
51:56خان بھادر صاحب سے تمہارے
51:58تعلق کی وجہ سے میں نے تمہیں انصبات کرنے کا موقع دیا ہے
52:00تو مجھے امید ہے
52:02کہ تم اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو گئے
52:10بیٹے
52:11صرف تم مجھے بتا سکتے ہو کہ میں تمہاری رہائی کیلئے کیا کرنا چاہیئے
52:14مجھے افسوس ہے
52:16مگر آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیئے تھا
52:19بیٹے
52:20مجھے صرف یہ بتا دو
52:21کہ میں تمہیں کس طرح اس مصیبت سے نجات دلا سکتا ہوں
52:24میں جانتا ہوں کہ آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں
52:29اگر افسوس
52:30میرے پاس آپ کے سوال کا کوئی جواب نہیں
52:32بیٹے اس بیٹے دیویر کو بتا دو
52:34کہ تم کابل کس لیے گئے تھے اور پھر کس لیے واپس آئے ہو
52:36یہ نہ ممکن ہے
52:49خان بہدر صاحب
52:50کون بیٹے نگت
52:53آو آو
52:56آپ حوالات گئے تھے
52:58کیا ہوا
52:59امید لے کر گیا تھا
53:01مایوس واپس آیا ہوں
53:03میرے کامران کو اچھڑا لیجے خان بہدر صاحب
53:06میرے بچے کو بجا لیجے
53:07مجھے افسوس سے
53:09میں کچھ نہیں کر سکتا
53:10خان بہدر صاحب
53:12اگر اس سے کچھ ہو گیا تو میں مجھ جاؤں گی
53:15کاش وہ کچھ بتانے کے لیے تیار ہو جاتے
53:23اسپیکٹر دلیب کچھ نہیں کر سکتے
53:25صرف ایک شرط پر وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں
53:28اوپیدللہ سندھی کے بارے میں اگر کچھ بتا دیا جائے
53:31تو وہ کامران اور عبدالحق دونوں کو چھوڑ دیں گے
53:36آپ کو پورا یقین ہے وہ انہیں چھوڑ دیں گے
53:41ہاں اسپیکٹر دلیب نے مجھ سے وعدہ کیا تھا
53:44خان بہدر صاحب
53:46آپ میرے بچے کو بجا لیں گے
53:48تو میں آپ کا حسان سارے زندگی نہیں بھولوں گی
53:51بیٹی اسپیکٹر دلیب کے شرط پوری کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا
54:05میں اپنے بچے کے لیے ہر شرط پوری کروں گی
54:09یہ ہے وہ ریشمی رومال
54:17یہ ریشمی رومال آپ کی ہر شرط کو پورا کرتا ہے
54:26خان بہدر صاحب
54:28میری رہائی کیسے ممکن ہوئی
54:30خدا کا شکر ادا کرو بیٹے
54:32تم بہت پڑی آزمائش سے بچے ہو
54:34لیکن یہ سب کچھ ہوا کیسے
54:36بیٹے ہمیں عام کھانے سے مطلب ہے پیڑ گننے سے نہیں
54:39میرے لیے یہی کافی ہے کہ تم بہت پڑی مصیبت سے بچ گئے
54:43لیکن یہ بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی خان بہدر صاحب
54:46بیٹے جب خدا مہربان ہوتا ہے تو غیب سے مدد کے سامان ہو ہی جاتے ہیں
54:51اچھا تم بیٹھو مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے
55:04منور میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میری رہائی کیسے ممکن ہوئی
55:07اللہ کا شکر ادا کیجئے
55:09وہ جب مہربان ہوتا ہے تو سب کام آسان ہو جاتے ہیں
55:13منور
55:13جی
55:15میری امانت تو تمہارے پاس ہے نا
55:16جی
55:18کیا بات ہے
55:19تم جواب کیوں نہ جاتے ہیں
55:20جی وہ میرا مطلب ہے
55:23جلدی بتاؤ
55:24غبرائی ہے نہیں وہ محفوظ ہے
55:26محفوظ ہے تو پھر کہا ہے بھائی
55:28میں بھی آپ کو سب کچھ بتائے دیتی ہوں
55:30تو بتاؤ نہ کہا ہے وہ
55:32آپ تو بیکار پریشان ہو رہے ہیں
55:33میں کہا رہا ہوں کہ وہ ریشمی رومال مجھے دو
55:36گھر میں خطرہ تھا
55:38میں نے آپ کی امانت کامران کی امی کے پاس رکھوا دیئے
55:41کامران کی امی کے پاس
55:43خان بہدر صاحب نے واقعی بہت بڑا کام کیا
55:46مجھے میرا بیٹا واپس مل گیا
55:48مجھے زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل گیا
55:50امی ہمیں خدا کا شکر ادا کران چیے
55:52خان بہدر صاحب نے واقعی ہماری بڑی مدد کیا
55:55اچھا بہی بیگم
55:56میں خان بہدر صاحب کا شکریہ دا کر رہا ہوں
55:58لیکن دیکھیں ذرا جلدی آئیے
Comments