00:00مکہ میں اہلِ ایمان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدت کا اندازہ
00:03اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے
00:05کہ خود سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
00:08نے اپنے دور جاہلیت کا ایک واقعہ بعد میں بیان فرمایا
00:11کہ وہ زمانہ تھا جب حق اور باطل کی کشمکش اپنے عوروج پر تھی
00:16اور اسلام قبول کرنا
00:18کھلے اعلان خطرہ کے مترادف تھا
00:20سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
00:23کہ ایک موقع پر وہ ایک کمزور مسلمان خاتون کو
00:26صرف اس جرم میں کوڑے مار رہے تھے کہ وہ اسلام لے آئی تھی
00:29وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے انہیں اتنا مارا
00:32کہ مارتے مارتے خود تھک گیا
00:34اب بتاؤ کرو کہ قبول اسلام کو
00:36محمد کو اور اس کے خدا کو ماننے سے انکار کرو
00:39ورناج
00:44جب ہاتھ رک گیا تو میں نے کہا
00:46میں تمہیں اس لیے نہیں چھوڑ رہا کہ مجھے تم پر رحم آ گیا ہے
00:50بلکہ اس لیے چھوڑ رہا ہوں کہ میں خود تھک چکا ہوں
00:52اس انتہائی تکلیف دہ حالت میں بھی
00:55بی بی زنیرہ رضی اللہ عنہم کے ایمان میں
00:57کوئی لغزش نہ آئی
00:58انہوں نے نہایت وقار اور یقین کے ساتھ کہا
01:00کہ اللہ تمہیں بھی اسی طرح بدلا دے گا
01:03یہ جملہ اس بات کا ثبوت ہے
01:05کہ کمزور جسموں میں بھی ایمان
01:07کس قدر مضبوط ہو چکا تھا
01:09پل ویڈیو یوٹیب کے چینلز روک ٹی وی پر
01:11لنک ڈسکرپشن میں
01:12نیکس پارس کے لیے سبسکرائب کریں
Comments