Skip to playerSkip to main content
Khulasa e Mazameen e Quran | Rehmat e Sehr

✨ Don’t miss our special Ramzan programming:
Watch Shan e Ramzan 2026➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Naimat e Iftar | New Episodes | 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifM_2JI-vR0No8J3zKWTdec&si=ydRLxvXrh8nKk3on

Watch Rehmat e Sehr | Ramzan Episode's 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicMEurbK_1yWAYr02skW7Oq&si=5ZW8tuayXzOGsHwG

Speaker: Shujauddin Shaikh

#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Allah'a ta'a kalamu pardha ya Rasul ne
00:04Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
00:09Nakhmeduhu wa nusalli ala Rasulihil karim
00:12Amma ba'd
00:14Bismillahirrahmanirrahim
00:15Allahumma salli wa sallim ala nabiyyina Muhammad
00:18Rabbish rahali sardri wa yasir li amri
00:20Wachlu lukudata min lisani yafqahu qawli
00:22Wajعل li waziram min ahli
00:24Amin ya Rabbil alameen
00:26Nazir kiram assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
00:29Ami'da ab khair afiyat se hongge
00:30Or hama'di mustakil dhua hai
00:32Que aap johan kahi bhi hou
00:34Allah'a ta'ala aap sab ko
00:35Aap sab ko aapne zoman me rakhye
00:36Aafiyat wa salamati aata firmay
00:38Allah'a ta'ala ki tawfeeq se
00:40Khulasahe mzahamien qur'an hakim ka
00:42Silsla biyan ke atibar se jari hai
00:44Or ad inshaAllah ta'ala
00:45Qr'an hakim ke 27 me pari ka
00:47Muta'ala aap ke sámeni rakhye ghe
00:48Qr'an hakim ke 27 me pari
00:50Iskei ágaz میں
00:51Surahtul zariyat ki aayet nubr 31
00:53Hai
00:53Or aftetam per
00:55Surahtul hadeed ki aayet nubr 29 hai
00:57Or kئi surahti is pari me shamil hai
01:00Mekki surahti shamil hai
01:01Surahtul zariyat ki aad kakye mekki surahti ayin ghi
01:04Surahtul rahman bhi
01:05Or aakhir me surahtul hadeed
01:07Eek mdini surahti hai
01:08Baha hal
01:08Qr'an hakim ke 27 me pari
01:10Surahtul zariyat ki aayet nubr 31 se shuruo ho kar
01:12Surahtul zariyat ki aayet nubr 31 se shuruo ho kar
01:13Surahtul zariyat ki aayet nubr 29 se shura ho kar
01:16Aap ko yad ho ga
01:16Surahtul zariyat ki aayet nubr 31 se shuru ho kar
01:48This is a way of understanding.
02:16ڈبرت کے لیے سبق آموزی کے لیے سامنے آتا ہے سورہ زاریات کے اس تعریف کے بعد چلتے ہیں منتخب
02:22آیت کے متعلق کی طرف اب کیونکہ یہ قرآن پاک کی آخری صورتیں ہیں تو چند ہی آیات ایک صورت
02:27میں سے ہم آپ کے سامنے رکھ سکیں گے جس آیت کا میں انتخاب کیا یہ سورہ زاریات کے آیت
02:31امبر 56 ہے اس کا حوالہ بار بار ہمارے سامنے آتا رہا اس آیت کریمہ کا حوالہ بار بار پہلے
02:37بھی دیا گیا ہے زندگی آمد برائے بندگی زندگی کا مقصد کیا
02:40ہے اس مقام پر بتایا گیا اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم وما خلقت الجن والانس الا
02:48لیعبدون اللہ تعالی نے فرمائے کہ میں نے تمام جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا بڑا
02:55معروف شیر ہے زندگی آمد برائے بندگی زندگی بے بندگی شرمندگی اللہ نے مقصد کے تحر زندگی عطا فرمائی جنات
03:03کو اور انسانوں کو اور وہ مقصد کیا ہے اللہ تعالی کے عبادت کرنا اور عبادت کے بغیر اللہ کے
03:08سامنے حاضر ہوں گے قی
03:10عبادت کے تقادے پورے نہ کرے تو شرمندگی اور ندامت کے سوا اور بربادی کے سوا کچھ نہ ہوگا اسی
03:15کا اقرار ہر نماز میں ہم کرتے ایاک نعبدو اے اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور کئی مطابع بات
03:21ہم نے جاننے سمجھنے کی کوشش کی عبادت عبدالصی رفز بنا عبد غلام کو کہتے ہیں عربی میں غلام چوبیس
03:28گھنٹے کا غلام ہوتا ہے تو اللہ کی جو عبادت ہے وہ چوبیس گھنٹے کی ہے پارشل عبادت نہیں ہے
03:33ہاں غلام مجبوراً غلام بنتا ہے کوئی محبت سے غلام نہیں
03:38بنتا اللہ کی جو عبادت ہے وہ غلاموں کی طرح مجبوراً نہیں محبت کے جذبے کے ساتھ اور اللہ ہمارا
03:44خالق اللہ ہمارا مالک اللہ ہمارا رازق اس اللہ ہی نے ہمیں پیدا کیا اور وہی ہمارا معبود حقیقی ہے
03:51وہ چوبیس گھنٹے معبود ہے تو اس کی بندگی اور عبادت کا تقادہ بھی چوبیس گھنٹے کا ہے اور وہ
03:57انفرادی معاملات زندگی ہوں اجتماعی معاملات زندگی ہوں وہاں اللہ تعالیٰ کے احکامات کے سامنے جھک جانا یہ ہے عبادت
04:04کا جامع تصور اور یہ تب ہ
04:07مکمل ہوگا جب انفرادی سطح سے آگے بڑھ کر اجتماعی معاملات زندگی میں چاہے وہ سیاست ہو معیشت ہو معاشرت
04:13ہو عدالت ہو ریاست ہو ان تمام امور میں بھی اللہ کو بڑا مانا جائے اور اس کے احکامات پر
04:20عمل کیا جائے تب بندگی پوری ہوگی اللہ تعالیٰ ہمیں پوری کی پوری زندگی میں اپنی بندگی کی عبادت کی
04:26توفیع عطا فرمائے قرآن پاک کے ستائی سے پارے کا مطالعہ جاری ہے سورہ زاریات کے بعد قرآن حکیم میں
04:32اس پارے میں ستائی سے پ
04:34تور آتی ہے یہ مکی صورتوں کا سلسلہ جاری ہے آئیے سورہ تور کا تعریف آپ کے سامنے رکھتے ہیں
04:39یہ صورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مکی زندگی کے درمیانی دور میں نازل ہوئی اس صورت میں
04:46بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کا دن ضرور آ کر رہے گا آخری صورتیں جو مکی ہیں ان میں
04:51اکثر موضوع قیامت کے بارے میں ہے اس دن نافرمان اللہ تعالیٰ کے عذاب میں ہوں گے جبکہ فرمبردار اللہ
04:57تعالیٰ کی نعمتوں میں ہوں گے یہ نتائج بار بار بیان کی
05:00گئے توحید رسالت اور آخرت کے بارے میں مشرقین کے اعتراضات اور ان کے جوابات دیئے گئے ہیں نیز انہیں
05:07عذاب پہنچنے کی خبر دی گئی ہے یہ مستقل موضوع مکی صورتوں کا شرک کرنے والوں کی مضمت اور ان
05:13کے اعتراضات کے جوابات اور انہیں وعیدے اور ڈراؤے سنایا جانا یہ مستقل موضوعات ہیں مکی صورتوں کے اور یہ
05:20موضوع سورہ تور میں بھی ہمارے سامنے آتا ہے اس کے بعد جس سے آیت کلیمہ کا ہم نے انتخاب
05:24کیا سورہ تور میں سے یہ سورہ تور کی آیت
05:27امبر اکیس ہے بڑا پیارا مقام جنتی گھرانا کیسا ہوگا اور کیسے لوگ جنت میں ایک ساتھ ہوں گے کیسے
05:33گھر والے جنت میں ایک ساتھ ہوں گے اللہ تعالی ہمیں بھی جنتی گھرانے عطا فرما دے سورہ تور کے
05:39آیت امبر اکیس میں اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا
05:41وَالَّذِينَ آمَنُوا وَتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَتْهُمْ بِأِیمَانٍ اولو جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کیا
05:49یہ اہم بات ہے
05:50ہمارا ایک کونسپٹ ہے معاشرے کا ایک کونسپٹ ہے چلن تو یہی ہے اس وقت ٹرینڈ تو یہی ہے اس
05:55وقت ان تو یہی ہے ہمارے جدی پشتی کاروبار کو اب بچوں نے سمال لیا ہماری اولاد نے سمال لیا
06:01ہمارے جدی پشتی فلا معاملات چلے آرے تب ہمارے بچوں نے سمال لیا
06:11جا پروفیشن ہو کیریئر ہو نوکری ہو کاروبار ہو حلال طریقے پر ہے کوئی مسئلہ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے
06:17ہاں جس بات کی قدر ہے وہ ایمان کے رشتے کی ہے یہ بار بار ہم قرآن پاک میں سمجھتے
06:22ہوئے آئے ہیں
06:22تو جنتی گھرانے کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ شرط کیا بیان فرما رہا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا وَتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَتْهُمْ بِأِیمَانٍ
06:30وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کی
06:35اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ
06:37ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے وَمَا أَلَتْنَاهُمْ مِنْ عَامَلِهِ مِنْ شَيْءٍ
06:42اور ان کے عامل میں ہم کوئی کمی نہیں کریں گے اللہ اکبر کبیرہ جنت کے درجات تو بہت سارے
06:48ہیں
06:48کوئی بہت بلند ہوگا کوئی ذرا درمیان میں ہوگا کوئی ذرا نیچے ہوگا کوئی ذرا اور نیچے ہوگا
06:53یہاں بتایا جا رہا ہے کہ نیچے والوں کو ایلیویٹ کر دیا جائے گا
06:56نیچے والوں کو درجات کی بلندی عطا فرما کر اوپر والوں کے ساتھ ملا دیا جائے گا
07:01کون سے اوپر والے ماباپ نیک ہیں درجات میں اوپر ہیں
07:05اولاد نیچے تو اولاد کو ایلیویٹ کر کے اوپر لے جائے جائے گا اور ملا دیا جائے گا
07:09کس قدر اللہ تعالیٰ کی شان کریمی کا بیان ہے
07:11لیکن شرط کیا ہے
07:12ما باپ ایمان پر اولاد بھی ایمان پر ہو
07:15آج ایمان کے بارے میں کس قدر فکر ہے
07:17ہاں جان بوچ کے نماز ترک کر دی جائے
07:20تو ایمان میں کمی واقع ہو جاتی ہے
07:22بندہ عملاً کفر کی طرف چلا جاتا ہے
07:24حرام کاموں کی وجہ سے ایمان دل سے نکل جاتا ہے
07:26اللہ اکبر کبیرہ
07:28ناشکری کے کلمات کبھی
07:29کفریہ کلمات تک چلے جاتے ہیں
07:31اور ایمان ضائع ہو جاتا ہے
07:32اس کی کس قدر آج ہمیں ہمارے معاشرے میں فکر ہے
07:35جی اور ما باپ ایمان پر ہوں
07:37اور اولاد بھی ایمان میں ان کی پیروی کریں
07:39پھر ایمان کے تقادے بار بار قرآن پاک میں
07:41آمنو وعمل الصالحات
07:42آمنو وعمل الصالحات یہ بات بھی ذہن میں رہے
07:45اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق دے
07:47کہ ہم خود ایمان کی آبیاری
07:49قرآن پاک کے ذریعے ہوگی خیر کے محول کے ذریعے سے ہوگی
07:51اور نیک عامال کو انجام دینے کی کوشش کریں
07:54اپنے گھر والوں کی تربیت کی کوشش کریں
07:56ان کو اللہ کی بندگی کی طرف لانے کی کوشش کریں
07:59کیا ہم نہیں چاہتے ہم جنت میں ساتھ ہوں
08:01ذرا تنہائی میں بیٹھ کے سوچیں ہم کتنی فکر مند ہیں
08:03اور ہم نے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں
08:05اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے
08:07دل سے جنت کی دعا کتنی مرتبہ کی
08:09اور دعا کے ساتھ دعا بھی کرنی ہے
08:12دعا ہوگی تو پتا چلے گا
08:13کوئی فکر ہے اور اگر دعا بھی نہیں ہو رہی
08:15تو پھر ہم سوچیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں
08:18یہاں بتایا جا رہا ہے
08:19وَالَّذِينَ آمَنُوا اَتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُمْ بِإِمَانٍ
08:22اَوَلُّ جُ ایمَان لَائِ
08:23اور ان کی اولاد نے ایمان من کی پیروی کی
08:25اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَمْ
08:27ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ہم ملا دیں گے
08:29وَمَا أَلَتْنَاهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ
08:31اور ان کے عمل میں کوئی کمی نہیں کریں گے
08:33مراد در اجاد بدن کر کے
08:34اللہ پورے گھرانے کو جنت میں کھٹا کر دے گا
08:36کُلُّ اِمْ بِمَا كَيْسَبَ رَحِينَ
08:39ہر ایک اپنی کمائی کے عوث
08:41رہن میں رکھا ہوا ہے
08:42تفصیل کا موقع نہیں
08:43جیسے رہن کولیٹرل کو کہتے نا
08:45قرض لیا تو کوئی شے گروی رکھوا دو
08:47قرض واپس کرو
08:48شے واپس لے لو
08:49ہر ایک کی جان گروی رکھی ہوئی ہے
08:51پھسی ہوئی ہے
08:52ایمان لاؤ
08:53ایمان کے تقاضوں پر عمل لے کر آؤ
08:55اور اپنی جان کو چھوڑا لو
08:57ورنہ جہنم کا ٹھیکانہ ہے
08:59اللہ اکبر کبیرہ
09:00اللہ ہمیں جہنم سے معفوظ رکھے
09:02اور ایمان کے تقاضوں پر عمل کی توفیق دے
09:05اور اللہ ہم سب کو جنت الفردوس عطا فرمائے
09:07قرآن پاک میں
09:08ستائی سے پارے میں سورة تور کے بعد
09:10سورة النجم کا آغاز ہوتا ہے
09:12آئیے سورة النجم کا تعرف آپ کے ساندھے رکھیں
09:15یہ سورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
09:18مکی زندگی کے درمیانی دور میں نازل ہوئی
09:21سورت کے آغاز میں
09:23واقعہ میراج کے آسمانی سفر کا بیان ہے
09:25بہت بڑا موجزہ
09:27جو رسول اکرم علیہ السلام کو عطا ہوا
09:29میراج کا واقعہ
09:30اس کا جو زمین حصہ ہے سفر کا
09:32وہ سور بنی اسرائیل کی پہلی آیت ہے
09:39پاک ہے اللہ سبحانہ تعالی کی ذات
09:41جو رات کے قلیل حصے میں
09:43اپنے پیارے بندے صلی اللہ علیہ وسلم کو
09:45مسجد حرام سے مسجد اقصہ تک لے گیا
09:47یہ زمینی حصہ
09:48اس سفر کا وہ سور بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں
09:51بیان ہوا پندروے پارے کے آغاز میں
09:52اور جو آسمانی حصہ ہے سفر کا
09:55قرآن پاک اس کا ذکر سورت النجم میں آتا ہے
09:58اللہ تعالی نے بہت سارے مشاہدات کرائے
10:00اپنی نشانیوں میں سے دکھایا
10:02شرف ملاقات بخشا نبی اکرم علیہ السلام کو
10:05پھر آحادیث مبارکہ میں
10:07تفصیلات ہے
10:08ساتو آسمانوں کی سیر کرائے گئے
10:09ہر آسمان پر اللہ کے رسول علیہ السلام کا
10:12ملاقات کا معاملہ ہوا
10:13انبیاء اور رسول صلی اللہ علیہ السلام
10:15دوزخ کے عذابوں کی کیفیات دکھائی گئیں
10:18جنت کی نعمت حضور کو دکھائی گئیں
10:20بہت سارے مشاہدات حضور علیہ السلام کو کرائے گئے
10:23اور اللہ تعالی کی قدرت کی بڑی بڑی نشانی
10:25حضور نے دیکھیں
10:26تو یہ میراج کا عظیم الشان واقعہ
10:29اس کا جو آسمانی حصہ سفر کا
10:31اس کی کچھ وضاحتیں
10:32سور نجم کی ابتدائی آیات میں آتی ہیں
10:35اس صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
10:38اور قرآن حکیم کے بارے میں
10:40شکوک و شبہات کو دور کیا گیا ہے
10:42وہی بات اعتراضات کرتے تھے
10:43مشکین شبہات پیش کرتے تھے
10:45جوابات دیئے گئے ہیں
10:46فرما بردار اور نافرمانوں کی صفات بیان کی گئی ہیں
10:49کون لوگیں جنت میں جانے والے
10:51ان کا تذکرہ کونیں جہنم میں جانے والے
10:53ان کی صفات کو بھی ذکر کیا گیا
10:55اور یہ بات کیوں بیان کی جاتی ہے
10:56تاکہ وہ صفات اختیار کی جائیں
10:58جو جنت کی طرف لے جانے والی
11:00اور ان صفات سے بندہ بچے جو جہنم کی طرف لے جانے والی ہوں
11:03آخر میں قیامت کے ذکر
11:05اور رب کائنات کی بندگی
11:07بجا لانے کا حکم دیا گیا ہے
11:09مستقل آخرت اور قیامت
11:11کا موضوع یہ آخری صورتوں میں آ رہے
11:13اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا تقادہ
11:15پھر سے بیان کیا گیا
11:16صورت النجم میں سے جن آیات کا ہم انتخاب کیا
11:19وہ صورت نجم کی آیات تین اور چار
11:21معروف آیات ہیں
11:23ان کا حوالہ پہلے بھی دیا جا چکا ہے
11:24صورت نجم کی آیت عمد تین اور چار
11:26حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احمیت
11:29حدیث رسول کہیں
11:30سنت رسول کہیں
11:32انگریزی میں افتھورٹی اور سنہ کہیں
11:34اس کی احمیت خود قرآن پاک میں اس مقام پر بیان ہو رہی
11:43ارشاد نہیں فرماتے
11:44وہ وہی کچھ ارشاد فرماتے
11:47جو ان پر اللہ تعالیٰ کی طرح سے وحی کی جاتی ہے
11:50آپ کی زبان مبارک سے جاری ہو رہا ہے
11:53وہ وحی کے مطابق ہے
11:55پہلی بات تو یہ کہ
11:56اللہ خود فرمارے اپنی مرضی سے حضور
11:58کلام نہیں فرماتے
11:59صلی اللہ علیہ وسلم
12:00اللہ کی وحی کے مطابق کلام فرماتے
12:02گویا کہا جائے گا
12:03اب بالکل درست بات ہے
12:04کہ حضور کا فرمان جو ہے وہ وحی کے مطابق
12:07حضور کا عمل بھی وحی کے مطابق
12:09قرآن پاک میں کم از کم تین مرتبہ
12:11رسول اکرم علیہ السلام کے بارے میں کہلوایا گیا
12:14ان اتبعو اللہ ما یوحا علی
12:17بے شک میں اسی بات کی پیروی کرتا ہوں
12:19فالو کرتا ہوں
12:20جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے
12:22تو حضور کے اقوال بھی وحی کے مطابق
12:24حضور کا عمل بھی وحی کے مطابق
12:26تو سین پرسنٹ
12:27ہنڈر پرسنٹ
12:28ڈیوائنلی سرٹیفائٹ لائف ہے
12:30رسول اکرم صلی اللہ علیہ السلام کی
12:32جو فرمایا وحی کے مطابق
12:33اور جو عمل کیا وہ بھی وحی کے مطابق
12:35ایک اور بات جو ہم نے بار بار سمجھی
12:37قرآن پاک کے علاوہ بھی
12:39اللہ کے رسول علیہ السلام پر وحی نازل ہوتی تھی
12:42جو تلاوت ہم کرتے ہیں
12:43قرآن پاک میں سے وہ بھی وحی ہے
12:44اس کو وحی متلو کہا جاتا ہے
12:47یعنی جس کی تلاوت ہم نماز میں کرتے ہیں
12:49اور قرآن پاک کے علاوہ بھی
12:50رسول کرمہ علیہ السلام کو وحی عطا کی گئی
12:53اس کو وحی غیر مطلوع
12:55کہتے ہیں یعنی اس کی تلاوت
12:56نماز میں نہیں کی جاتی
12:58قرآن پاک بھی حضور کو عطا ہوا
13:00قرآن پاک کے علاوہ بھی وحی حضور کو عطا ہوئی
13:02صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے الفاظ
13:04حضور کو عطا ہوئے قرآن کی وضعات بھی
13:06حضور کو اللہ کی طرف سے عطا ہوئی
13:08اب جو حضور فرماتے قرآن پاک
13:10بھی آپ کی زبان مبارک سے ہمیں ملا
13:12اور آپ کی حدیث
13:14آپ کی تعلیمات آپ کے ارشادات
13:16قرآن پاک کی تشریح یہ بھی آپ کی
13:18زبان مبارک سے ہمیں ملا اور
13:20اللہ تعالیٰ سٹیفائی کر رہا ہے
13:22اثنٹیکیٹ کر رہا ہے وضاحت
13:24فرما رہا ہے کہ وَمَا يَمْتِقُ عَنِ الْحَوَى
13:27اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم
13:29اپنی خواہی سے
13:30کچھ ارشاد نہیں فرماتے
13:31اِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيُّ يُوحَى
13:33آپ جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی
13:36وحی کے مطابق ہوتا ہے
13:38اس کے بعد آگے بڑھتے ہیں
13:40اگلی صورت ہے صورت القمر
13:42اور اس کی ایک آیت بہت مشہور بھی ہے
13:44جس کا ہم مطالعہ کریں گے انشاءاللہ تعالیٰ
13:46صورت القمر بھی مکی صورت ہے
13:48اور آئیے اس کا تعرف آپ کے سامنے رکھتے ہیں
13:50یہ صورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
13:54مکی زندگی کے درمیانی دور میں
13:56اس وقت نازل ہوئی
13:57جب شق القمر کا واقعہ پیش آیا
14:00بہت بڑا واقعہ
14:01شق القمر چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا
14:04اور اللہ کے نبی علیہ السلام
14:06نے انگلی کا ایک اشارہ کیا
14:08یہ آپ کا بہت عظیم شان معجزہ
14:10اور اللہ کے حکم سے
14:11معجزہ اللہ کے حکم سے صادر ہوتا ہے
14:14پیغمبر کے ذریعے صادر ہوتا ہے
14:16ظاہر ہوتا ہے
14:17ہوتا ہے اللہ کے حکم سے
14:18تو اللہ کے حکم سے ہوا
14:19حضور نبی اکرم علیہ السلام نے انگلی کا ایک اشارہ فرمایا
14:23اور چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے
14:25تفاصیر کا متعلق کریں گے
14:26تو دنیا بھر میں اس کو دیکھا گیا تھا
14:29ہندوستان کے علاقے میں بھی اس کیفیت کو دیکھا گیا تھا
14:32اور اس کو بیان بھی کیا گیا
14:33تاریخی ریکارڈ کا وہ حصہ بھی ہے
14:35وہ تفصیل تفاصیر میں ملے گی
14:37تو بتایا جا رہا ہے
14:38یہ سورہ چاند ستارے کس کے اختیار میں ہے
14:41اللہ کے اختیار میں
14:42اللہ کے حکم سے اس کے پیغمبر علیہ السلام کی انگلی کے ایک اشارے سے
14:45چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے
14:47جب قیامت برپا ہوگی
14:48تو زمین و آسمان کا نظام تلپٹ ہو جائے گا
14:50کس کے حکم سے
14:51اللہ کے حکم سے
14:53بارحال مکی دور کے درمیانی عرصے میں
14:55صورت القمر کا نزول ہے
14:57جب شق القمر
14:58یعنی چاند کے دو ٹکڑے ہو جانے کا واقعہ پیش آیا تھا
15:01اس صورت میں عبرت کے طور پر
15:03پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کیا گیا ہے
15:05جن قوموں کے حالات بار بار ہم مکی صورتوں میں پڑھتے ہیں
15:08نو علیہ السلام
15:09حود علیہ السلام
15:10صالح علیہ السلام
15:11لوت علیہ السلام
15:12شعیب علیہ السلام
15:13موسیٰ علیہ السلام
15:14ان کی اقوام
15:14جا بجا مکی صورتوں میں واقعات آئے
15:17اب آخری مکی صورتوں میں مقتصر ان ان واقعات کا ذکر ہے
15:21تو یہاں صور قمر میں پانچ نافرمان قوموں کا ذکر ہوا
15:24ظاہری بات عبرت اور سبق آموزی کے لیے
15:27بلے انجام سے بچنے کے لیے
15:29صورت میں چار بار نصیت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے
15:32قرآن واز ہے
15:33نصیت ہے
15:35ایڈمانشن ہے
15:35دلوں کو نرب کرنے والا کلام ہے
15:37ہدایت کی کتاب ہے
15:38سبق آموزی کے لیے واقعات بیان کی جارہے ہیں
15:41بتائے گیا ہے کہ قرآن حکیم کو
15:43اللہ تعالی نے نصیت حاصل کرنے کے لیے آسان بنا دیا ہے
15:46وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلِذِّكْرِ فَحَلْ مِمُدَّكِرِ
15:50ابھی ہم کلام بھی کریں گے سائد پر انشاءاللہ
15:52صورت کے آخری جسے میں آخرت کی بیان اور
15:55نا فرمانوں کے عبرت نا انجام کے ساتھ
15:58فرما برداروں کے اچھے انجام کا ذکر کیا گیا
16:00گویا قیامت کے نتائجی صورت میں بھی بیان کیے گئے ہیں
16:03اور بہت پیارا مقام ہے
16:05سور قمر کے بالکل آخر میں
16:07اللہ عزیم الشان ہستی
16:09وہاں اس کے حکم سے جنت میں
16:11اللہ کے محبوب بندوں کو بلن درجات اور آلہ مقامتہ ہوگا
16:16اللہم اِنَّا نَسْلُكَ جَنَّتِ الْفِرْدَوْسِ
16:18اے اللہ
16:18ہم تو جسے جنت الفردوس کا سوال کرتے ہیں
16:22یہ ناظر اکرام سور قمر کا تعریف و مکمل
16:24اب آئیس کی ایک منتخب آیت کا مطالعہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں
16:27بہت مشہور آیت ہے
16:28یہ سور القمر کی آیت نمبر سترہ
16:31گو کے چار مرتبہ یہ آیت دہرائی گئی ہے
16:34سور القمر کی آیت نمبر سترہ
16:36پھر آیت نمبر بائیس
16:37پھر آیت نمبر بتیس
16:39پھر آیت نمبر چالیس
16:41ایک آیت چار مرتبہ
16:43ایک ہی صورت میں دور آئی گئی
16:44تو کس قدر ایمفیسائز ہے
16:46اللہ کے طرف سے کس قدر زور دیا جا رہا ہے
16:48اس کے طرف
16:48قرآن نصیحت کے لیے آسان
16:51آئیے سمجھتے ارشاد ہوا
16:52وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلْذِكْرِ فَحَلْ مِمُدَّكِرِ
16:56اور یقیناً اس قرآن کو ہم نے ذکر کے لیے
16:59آسان کر دیا ہے
17:01پس کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے
17:03میں نے ذکر کا ترجمہ نہیں کیا
17:04اب میں کر دیتا ہوں
17:05ذکر یہ یاد دہانی کے لیے بھی لفظ استعمال ہوتا ہے
17:09نصیحت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے
17:11اور بعض نے حفظ قرآن کا بھی ذکر کیا ہے
17:13قرآن بھی تو یاد رکھا جاتا ہے نا
17:15بار بار دہرائے جاتا ہے
17:16تو قرآن پاک حفظ کے لیے بھی آسان ہے
17:18نصیحت کے حصول کے لیے آسان ہے
17:21پہلا نکتہ تو یہ ہے
17:22پانچ اقوام کے حالات اس صورت میں بیان کیے گئے
17:25اور ان اقوام پر جو اللہ کا عذاب آیا
17:27اس کا بھی ذکر ہوا
17:28اور ان عذابوں کے بیان کے بعد یہ آیت آتی ہے
17:31اور چار مرتبہ سور قبر میں آتی ہے
17:33کہ یقینا نصیحت کے لیے اس قرآن پاک کو
17:35ہم نے آسان کر دیے تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے
17:38یہ قرآن پاک کا اوپن انویٹیشن ہے
17:40بندہ زندگی کی بنیادی حقائق کو سمجھنا چاہے
17:43مجھے کس نے پیدا کیا
17:44مجھے کیوں پیدا کیا
17:45میں کون
17:46کائنات کیوں بنائی گئی
17:47میری زندگی کا مقصد کیا ہے
17:49کل کیا پیش آنے والا ہے
17:51نتائج کل کیا ہوں گے
17:52کن باتوں سے میرا خالق راضی ہوگا
17:54کن باتوں سے ناراض ہوگا
17:56یہ باتیں تو آسان ہیں
17:57اور یہ بہت بڑی تعداد جو ریورٹڈ مسلم کی ہے
18:00پہلے بھی ہم نے ذکر کیا
18:01وہ غیر مسلم جو اسلام قبول کر رہے ہیں
18:04بہتر لفظ کنورٹ نہیں بلکہ بہتر لفظ ریورٹ ہے
18:07جو ریورٹڈ مسلم ہیں
18:08ان کی اکثری تو قرآن پاک کا ترجمہ پڑھ کر
18:11اسلام قبول کر رہی ہے
18:12تو قرآن پاک کی جو بنیادی ہدایت ہے
18:15بیسک میسج ہے
18:16جو اس کے سرفس پر موجود ہے
18:18وہ ساری مخلوق کے لئے کھلا ہوئے
18:20جو چاہے قرآن پاک سے استفادہ کرے
18:22ترجمہ سے آغاز کرے گا
18:23پھر عربی زمان مندہ سیکھ دو
18:25سبحان اللہ اور اس میں آگے پیش رفت ہوگی
18:28ہاں قرآن حکیم کی گہرائی اور گیرائی
18:30اس کے ڈیپت کا کوئی عالم نہیں
18:32اب قرآن پاک سے علم و حکمت کے موٹی تلاش کرنا
18:35گہرائی مترکر غور و فکر کرنا
18:37یہ اسپیشلائیزیشن والا کام ہے
18:38ہاں آپ کو یاد ہوگا
18:40سورہ سعد کی آیت نمبر 29 کا ہم نے مطالعہ کیا تھا
18:43وہاں تدبر اور تذکر کا ذکر تھا
18:46تدبر گہرہ غور و فکر
18:48تذکر آسان سا پیغام قرآن پاک کا
18:50تدبر اسپیشلائیزیشن والا کام ہے
18:53اہل علم کریں گے علماء کریں گے
18:54وہ فصلین کریں گے
18:55اللہ ہمیں توفیق دے
18:56اور تذکر کا پہلو سب کے لئے کھلا ہوا
18:59ترجمہ تشریح سے بندہ شروع کریں
19:00قرآن پاک کی زبان کو سیکھیں
19:02قرآن پاک کی دروس میں شرکت کریں
19:04یہ ایک محنت ہو رہی خلاصہ مزامین قرآن پاک کی
19:06بنیادی باتیں کچھ تو سمجھا رہی
19:08اللہ کی توفیق سے تو بندہ آگے بڑھے
19:10اب قرآن پاک کو اللہ نے نصیت کے لئے
19:12آسان فرما دیا
19:13اب بعضوں کو مشکل بنا دے
19:15لوگوں کو روکے اور لوگوں کو منع کرے
19:17تو وہ اپنی خیر منائیں
19:18اور بندہ خود محنت نہ کرے
19:19کوشش نہ کرے
19:20تو اپنی خیر منائے
19:21کل اللہ کو کیا جواب دے گا
19:22دنیا جہاں کی باتوں کو ہم نے سمجھا ہے
19:25سمجھ کر پڑھا
19:25ہر چیز کو اور کتاب کو
19:26اور قرآن پاک کو بغیر سمجھے پڑھے ہیں
19:28ہدایت حاصل نہ کرے
19:30نصیت قبول نہ کرے
19:31تو بھی جواب تو دینا ہے
19:32اللہ سبحانہ وتعالی کے سامنے
19:33اللہ پاک قرآن پاک کی تلاوت کی بھی
19:35ہمیں توفیق دے
19:36مزید سمجھنے کی
19:37ہدایت حاصل کرنے کی
19:38اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے کی
19:40توفیق عطا فرمائے
19:41سورہ قمر کے بعد قرآن پاک میں
19:43سورة الرحمن کا آغاز ہوتا ہے
19:45ستائیسے پارے میں
19:46ہم سب واقف ہیں
19:47الحمدللہ
19:47اور اس کے مضامین سے بھی واقف ہیں
19:49اور ہمیں سیکسر کو سورة الرحمن
19:51یاد بھی ہے
19:52اور ہم اس کی تلاوت بھی کرتے
19:54آئیے آج اس کا تعرف بھی لے لیتے
19:56اس میں مضامین کیا بیان ہوئے
19:57سورة الرحمن
19:58اس کے تعرف کے حوالے سے پہلا نکتہ ہے
20:00یہ سورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
20:04مکی زندگی کے درمیانی دور میں نازل ہوئی
20:07یہ قرآن حکیم کی حسین ترین سورت ہے
20:10جسے عروس القرآن
20:11یعنی قرآن حکیم کی دلہن بھی کہا گیا ہے
20:14یہ ایک روایت ہے بحقی شریف میں
20:15عروس القرآن
20:16الرحمن
20:17سورة الرحمن
20:18عروس القرآن
20:19یہ قرآن پاک کی دلہن
20:20بڑا خوصورت اس میں سوتی آہنگ ہے
20:23ایک دیوائن قسم کا سوتی آہنگ
20:26ہمیں اس میں محسوس ہوتا ہے
20:27آگے لکھا ہے
20:28اس سورت میں آیت
20:30فَبِأَيِّ آلَا يَرَبِّكُمَا تُكَذِّبَانَ
20:33اکتیس مرتبہ دہرائی گئی
20:34اٹھتر آیات سورة الرحمن میں
20:36اکتیس مرتبہ یہی ایک آیت دہرائی گئی ہے
20:39اور آگے لکھا ہے
20:40اس سورت میں انسانوں اور جنات
20:42دونوں سے خطاب ہیں
20:43یہ دونوں مخلوقات مکلف ہیں
20:45اللہ کہاں ایکاؤنٹبل ہیں
20:47اللہ کہاں جواب دے ہیں
20:48سورة ذاریات کے آیت نبت چھپن میں
20:50ہم نے کیا پڑھا
20:51ان جنات اور انسان
20:52عبادت کے لیے پیدا کیے گئے
20:54اس سورت میں دونوں سے بیق وقت
20:55اللہ کا کلام
20:56فَبِأَيِّ آلَا يَرَبِّكُمَا تُكَذِّبَانَ
20:59بس تم دونوں یعنی جنات اور انسان
21:01تم دونوں اپنے رب کی
21:02ان کی نعمتوں اور قدرتوں کو جھٹلا ہوگے
21:04آگے لکھا ہے
21:05عظمتِ قرآنی حکیم
21:06اور قدرتِ باری تعالیٰ کا بیان ہے
21:08اہلِ جہنم اور اہلِ جنت کا ذکر
21:11تفسیر سے کیا گیا
21:12جنت کی نعمتوں کا تذکرہ
21:13اور جہنم کے عذابوں کا ذکر
21:15بھی سورت الرحمن میں تفسیر سے آیا ہے
21:17اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے
21:18عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
21:20اب چلتے ہیں
21:21سورت الرحمن کی چند منتخب آیات کے متعلقی طرف
21:24سب سے پہلے ہم نے پہلی چار آیات کا انتخاب کیا
21:27ہم سب کو یاد بھی ہیں
21:28بہترین صلاحیت قرآن کے لئے لگاؤ
21:31سورت الرحمن کی پہلی چار آیات
21:33بڑا پیارا مقام
21:34الرحمن انتہائی رحم فرمانے والا
21:37علم القرآن
21:38اس نے قرآن سکھایا
21:40خلق الانسان
21:41اس نے انسان کو پیدا فرمایا
21:44علمہ البیان
21:45انسان کو بیان بولنے کی صلاحیت عطا فرمائی
21:48ہمارے استاد محترم
21:51وہ فرماتے کہ ان چار آیات میں
21:54اللہ نے چار چوٹی کی باتوں کو
21:56کلائمکس کی عروج کی باتوں کو بیان فرمایا
21:59اور اس کا ایک بڑا اہم نتیجہ
22:00قرآن پاک کے سیکھنے سکھانے کے حوالے سے
22:02سامنے آتا ہے
22:03الرحمن
22:04اللہ جو انتہائی رحم فرمانے والا ہے
22:06علم القرآن
22:08اس نے بہترین علم قرآن سکھایا
22:10کس کو
22:10خلق الانسان
22:11بہترین مخلوق انسان کو سکھایا
22:13تو پھر کیا کرنا چاہیے
22:15علمہ البیان
22:20صلاحیتوں کو قرآن حکیم کے سیکھنے
22:23اور سکھانے
22:24اور اس کی خدمت میں لگانی چاہییں
22:26اللہ تعالیٰ
22:27کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث
22:29بار بار ہم نے پیش کی
22:30خیرکم من تعلم القرآن و علمات
22:33تم میں سے بہترین لوگوں ہیں
22:34جو قرآن حکیم سیکھیں
22:35اور دوسروں کو سکھائیں
22:36ایک بندے کے ہاتھ میں
22:37ایک کلاشنکوف ہو
22:39یہ ایک بڑا ہتیار ہو
22:40اور مکھی مچھر مارے
22:41تو ہسی آئے گی نا
22:42بے وقوف ہے بھائی
22:43کلاشنکوف اور
22:44اتنی بڑے ہتیار کو
22:45تم مکھی مچھر مارنے کے
22:46استعمال کر رہا ہوں
22:47ہم اپنے آپ پر بھی تو غور کریں
22:49انسان بہترین مخلوق ہے
22:50بیان بہترین صلاحیت
22:52انسان کو دی گئی
22:53اور وہ اپنی صلاحیتیں
22:54بہترین کام میں نہ لگائے
22:55اور بہترین علم کے سیکھنے
22:57سکھانے کے لیے نہ لگائے
22:58تو کس قدر قابل افسوس کیا
22:59قابل مضمت بات ہے
23:01اللہ مجھے اور آپ کو توفیق دے
23:02ہم قرآن پاک کی تلاوت سے
23:04آگے بڑھ کر اس کو سمجھنے والے بنیں
23:06قرآن پاک کی زبان کو بھی سیکھیں
23:07قرآن پاک کی کورسز ہوتے ہیں
23:09محافل ہوتی ہیں
23:10دوروں سے قرآن ہوتے ہیں
23:11فیزیکل کلاسز
23:12آن لائن کلاسز
23:13یہ سب کچھ نسیاب ہے
23:14اللہ تعالیٰ ہم استفادہ کرنے
23:16اور قرآن پاک سیکھنے سکھانے
23:18اور اس کے پیغام کو آگے بڑھانے
23:19اور اس کے احکامات کے نفاظ
23:21کے محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں
23:22اس کے بعد اگلی جسے آیت کا
23:24ہم نے انتخاب کی ہے
23:25ہم سب کو یاد ہے
23:25یہ سورہ رحمان میں
23:27اکتیس مرتبہ دھورائی گئی
23:28آیت تنبہ تیرہ بھی ہے
23:29رب کی کس کس نعمت کو جھٹلا ہوگے
23:31فَبِئَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
23:34پس تم دونوں یعنی جنات اور انسان
23:36تم اپنے رب کی کن کن
23:37قدرتوں کو کن کی نعمتوں کو جھٹلا ہوگے
23:39آلہ کا ترجمہ قدرتوں کا بھی آتا
23:42اور نعمتوں کا بھی
23:43اس آیت پر جنات ایک بڑا پیارا جواب دیا
23:45اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
23:47نے صحابہ اکرام کو سکھایا
23:49یہ جامع تلویزی شریف کی روایت ہے
23:51جنات نے پتہ کیا جواب دیا
23:52لَا بِشَيْمِ نِعِمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْ
23:56اے ہمارے رب تیری نعمتوں میں سے
23:58کوئی شئے نہیں جسکا ہم جھٹلاتے ہوں
23:59کوئی نعمت نہیں جسکا ہم جھٹلاتے ہوں
24:01تیری نعمتوں میں سے کچھ نہیں جسکا ہم جھٹلاتے ہوں
24:03فَلَكَ الْحَمْ
24:05پس اے اللہ تیرے لیے تمام حمد ہے
24:06تعریف اور شکر ہے
24:07اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اپنے شکر گزار
24:10بندوں میں شامل فرمائے
24:12جنات نے تو ہی پیارا جواب دیا
24:13ہمیں بھی جواب سیکھنے چاہیے
24:15تفاصیل میں ہمیں ملے گا
24:16اللہ تعالیٰ پس شکر گزار بندوں میں
24:18ہمیں شامل فرمائے
24:19یہ الحمدللہ سور رحمان کی چند منتخب آیات کا
24:21مطالعہ مکمل ہوا
24:22اب حاصل کلام کے طور پر چند نکات آپ کے سامنے رکھتے ہیں
24:26جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد
24:28صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے
24:30اللہ تعالیٰ مومن اولاد کو من نیک والدین کے ساتھ
24:34جنت کے عالی درجے میں ساتھ ملا دے گا
24:36اور ان کے مرتبے میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی
24:39اللہ ہم سب کو جنتی گھرانے عطا فرمائے
24:41نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو بات بیان فرماتے ہیں
24:45وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق ہوتے ہیں
24:47اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنا دیا ہے
24:51ہمیں قرآن حکیم سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے
24:54اللہ ہمیں مزید توفیق عطا فرمائے
24:57رحمان یعنی اللہ تعالیٰ نے بہترین مخلوق انسان کو
25:00بہترین کلام قرآن حکیم عطا فرمایا
25:03ہمیں چاہیے کہ اپنی بہترین صلاحیتوں
25:05کس کے سیکھانے کے لیے استعمال کریں
25:07اللہ ہمیں مزید توفیق دے
25:08ہمیں اللہ تعالیٰ کے کسی بھی نعمت کے ناشکری نہیں کرنی چاہیے
25:11اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے
25:14ناظر اکرام ایک وقفہ لیتے ہیں اس کے بعد انشاءاللہ
25:16اس اصلاح خلاصہ مزامین قرآن حکیم کا رہے گا جاری
25:19السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
25:22السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
25:24ناظر اکرام خوش آمدید کہتے ہیں آپ کو
25:26اللہ تعالیٰ کی توفیق سے خلاصہ مزامین قرآن حکیم کے بیان کا سسلہ جاری ہے
25:31آج ہم قرآن حکیم کے ستائیس پارے کی صورتوں کا تعرف اور مطالع آپ کے سامنے رکھ رہیں
25:36اب جو آیات ہیں ستائیس پارے میں
25:38وہ سورت الواقعہ کی پہلی آئیت سے لے کر
25:41سورت الحدیر کی آئیت نمبر 29 تک
25:44یعنی اب یہ دو سورتیں مزید ہیں ستائیس پارے میں سورت الواقعہ اور اس کے بعد سورت الحدیر
25:49چلتے ہیں اپنا مطالعہ آگے بڑھاتے ہوئے اور سورت الواقعہ کا تعرف آپ کے سامنے رکھتے ہیں
25:54سورت الواقعہ پہلا نقطہ اس کے حوالے سے تعرف کے ذیل میں ہے
25:57یہ سورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کے درمیانی دور میں نازل ہوئی
26:03آغاز میں بتائے گیا کہ قیامت کے روز انسانوں کو تین گروہوں میں تخصیم کر دیا جائے گا
26:08یہ تین گروہ کونسے ہوں گے قرآن پاک بتاتا ہے ایک مقربین آلہ بلند درجات پانے والے اہل جنت
26:16ایک گروہ ہے دائیں ہاتھ والوں کا عام اہل جنت
26:19تو جنت دے مقربین ہے اللہ تعالی ہمیں ان میں شامل لکھے
26:22اور پھر عام اہل جنت ہے جن کو دائیں ہاتھ والے کہا جاتا ہے
26:26تیسرا گروہ کونسا ہوگا بائیں ہاتھ والوں کا یہ اہل جہنم ہے
26:30یہ تین گروہ کا تذکرہ ہے سورت الواقعہ میں مقربین آلہ درجات والے
26:36اور دائیں ہاتھ والے عام اہل جنت اور بائیں ہاتھ والے اہل جہنم
26:40اللہ تعالیٰ جہنم کے عذاب سے ہم سب کی حفاظت فرمائیں
26:43آگے لیکھا ہے مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کی جنتوں اور ان کی شاندار نعمتوں
26:49اور بائیں ہاتھ والوں یعنی اہل جہنم پر عذاب کی ہولانک سزاؤں کا بیان ہے
26:55اللہ اکبر بہت ساری نعمت جنت والوں کی اللہ تعالیٰ نے ذکر کی ہیں سور nigga고요
26:59اور جہنم کے مختلف عذابوں کو اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا
27:03مطالع کرنا چاہیے اللہ تعالی ہمیں جہنم سے معفوظ رکھے
27:06اللہ تعالی ہمیں جنت الفردوس عطا فرمائے
27:09اور مطالع کرنے سے مراد کیا ہے
27:10تاکہ جنت کا شوق پیدا ہو اور جہنم کا خوف پیدا ہو
27:14پھر اہل جنت کی صفات کا مطالع کریں تو ان کو اختیار کیا جائے
27:17اہل جہنم کی صفات اور جرائم کا ذکر پڑھیں
27:20تو ان جرائم سے بچنے کی کوشش کی جائے
27:22یہ مراد ہے مطالع کرنے سے
27:24آگے لکھا ہے ہم نے
27:25درمیان میں اللہ تعالی کی بے شمار قدرتوں کی نشانیوں میں سے
27:28انسان نباتات پانی اور آگ کا ذکر کیا گیا ہے
27:33کہ یہ بھی اللہ تعالی کی بہت بہت بہت بڑی نعمتیں ہیں
27:36باران قدر نہیں کرتے لیکن اللہ کی نعمتیں بے شمار
27:40آخر میں انسان کی موت کا نقشہ کھینچا گیا ہے
27:42اور تینوں گنہوں کا انجام بیان کیا گیا ہے
27:45یہ بھی بتایا گیا ہے
27:46جب موت آتی شخص کو تم قریب ہوتے ہو نا
27:49وہ تمہیں دیکھ بھی رہا ہوتا ہے جانے والا
27:51اور تم اس کے قریب ہوتے ہو مگر تم اس کو بچا نہیں سکتے
27:55جب موت کا وقت آ گیا تو نہ ماباپ
27:57نہ خر والے نہ ڈاکٹرز نہ میڈیکل سٹاف
27:59نہ ہسپیٹل والے نہ کئی اور بچا سکے گا
28:01تمہاری نگاہوں کے سامنے وہ چلا جاتا ہے
28:04روک سکتے ہو بچا سکتے ہو
28:07کیا خیال ہے تمہارے اختیار ہے تم پر
28:09تم اپنے آپ کو خود مختار سمجھتے ہو
28:11تو جو جانے والا اس کو روکے دکھا دو نہیں روک سکتے
28:13تو تم پر بھی تمہارے اختیار نہیں ہے
28:15یہ کل اختیار زندگی موت کا کس کے پاس ہے
28:17اللہ کے پاس
28:18آخر میں سورہ واقعہ کے آخری آیات میں
28:21تینوں گروہوں کا انجام ذکر کیا گیا
28:23مقربین کا بھی دائیں ہاتھ والوں کا بھی اور
28:25بائیں ہاتھ والوں کا بھی
28:27سورہ واقعہ کے تعریف کے بعد چلتے ہیں
28:29چند منتخب آیات کے متعلق کی طرف
28:31جو ہم نے سورہ واقعہ میں سے منتخب کی ہیں
28:35سورہ واقعہ کی آیات
28:36اٹھاسی تا چھانوے
28:38ایٹی ایٹھ سے نائنٹی سکس
28:39ان کا مختصر مطالعہ کے سامنے رکھیں گے
28:41روز قیامت لوگوں کے تین گروہ
28:44شروع میں تفصیل سے ان گروہ کا ذکر آیا
28:46اور اب بالکل آخری آیات سورہ واقعہ کی
28:48اور آخر میں ان کے انجام کو
28:50اللہ تعالیٰ نے مختصر الفاظ میں ذکر کیا
28:53اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
28:55بسم اللہ الرحمن الرحیم
28:58فَأَمَّا اِنَا كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ
29:00بس اگر وہ
29:01یعنی مرنے والا
29:02مقرمین میں سے ہوگا
29:05فَرَوْحُونَ وَرَيْحَانُ وَجَنَّةُ نَعِيمٌ
29:07تو آرام بھی ہے
29:08اور خوشبدار پھول بھی ہے
29:10اور نعمت و بھری جنت بھی ہے
29:13سبحان اللہ
29:14آرامی آرام جنت میں
29:15اور جنت کے پھولوں کا کیا عالم ہوگا
29:17ہم تصور نہیں کر سکتے
29:18اور جنت کی نعمتوں کا عالم کیا ہوگا
29:20ہم تصور نہیں کر سکتے
29:22بارہا وہ حدیث سے قصی پیش کی گئی
29:24بخاری شریف کے الفاظ ہے
29:29نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھا
29:32نہ کبھی کسی کان نے سنا
29:33نہ کسی کے دل
29:34اس کا خیال آیا
29:35اللہ ہمیں مقربین میں شامل فرمائے
29:37اعلیٰ ترین درجات عطا فرمائے
29:40جنت الفردوس عطا فرمائے
29:42اب دائیں ہاتھ والوں کا تذکرہ
29:44وَأَمَّا إِنُنْ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينَ
29:47اور اگر وہ
29:48یعنی مرنے والا
29:48دائیں ہاتھ والوں میں سے ہو
29:51فَسَلَامُ لَكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينَ
29:54تو اے وہ شخص
29:55کہ تُو دائیں ہاتھ والوں میں سے ہے
29:56سلامتی ہو تجھ پر
29:58جنت کا ایک نام دار السلام ہے
30:00سلامتی ہی سلامتی
30:01دنیا میں تو کیاوس ہے
30:03انتشار ہے
30:04اونچ ہے
30:05نیچ ہے
30:05زوال بھی ہے
30:06تقالی بھی ہیں
30:07پریشانیاں بھی ہیں
30:08رہت کے بعد تکلیف آ جاتی ہے
30:09صحت کے بعد بیماری آ جاتی ہے
30:11دائیں ہی سلامتی دنیا میں نہیں ہے
30:13دائیں ہی سلامتی
30:15فور ایور کا پیس
30:17وہ جنت میں ہے
30:18اور دائیں ہاتھ والوں کو
30:19سلامتی کی بشارت دی جارہی ہے
30:21اور جنت کا نام دار السلام بھی ہے
30:24سلامتی کا گھر
30:25اللہ ہم سب کو جنت الفردوس عطا فرمائے
30:28اگلا بیان ہے
30:28دائیں ہاتھ والوں کا
30:29جہنم والوں کا
30:30اللہ ہمیں معفوظ رکھے فرمایا گیا
30:33وَأَمَّا اِنْكَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ بَالِينَ
30:37اور اگر وہ جو مرنے والا ہے
30:39وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہوگا
30:42فَنُزُلُمْ مِنْ حَمِيمِ
30:43تو اس کی زیافت ہوگی
30:45کھولتے پانی سے
30:46استغفراللہ
30:47پہنچتے ہی کھولتا ہوا پانی ملے گا
30:49گرم کھولتا
30:50کھولتا ہوا پانی گرم ہی ہوتا ہے
30:52انتہائی گرم جیسے کہے
30:53کھولتا ہوا پانی
30:54وہ نزل
30:55یعنی زیافت کے توپہ شروع شروع
30:58وہ بھی ملے گا
30:58بعد میں بھی عذاب ہے
30:59پہنچتے ہی جو زیافت ہونی ہے
31:01وہ کھولتے پانی سے
31:02استغفراللہ
31:04وَتَسْلِيَةُ جَعِيمِ
31:05اور وہ جھلسے گا جہنم کی آگ میں
31:08جلایا جائے گا جہنم کی آگ میں
31:10اور ہم نے پہلے پڑھا
31:11ہمیشہ مستقل عذاب ملنے والا ہے
31:13سورہ نساء کی آیت امبر چھپن میں ہے
31:15ایک مرتبہ کھال جلے گی
31:17تو دوبارہ کھال دی جائے گی
31:19لیہ ذوق العذاب
31:20تاکہ وہ جلنے کا عذاب مستقل چکتے رہے
31:22اللہ ہمیں جہنم سے معفوض رکھے
31:24یہ بائیں ہاتھ والو
31:25اہل جہنم کے عذابوں کا ذکر ہوا
31:27اِنَّا هَذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ
31:30بے شک یہ یقینی بات ہے
31:32یہ حق بات ہے
31:33اس میں کوئی شک نہیں
31:34جنت کا بیان ہے
31:35جنت برحق ہے
31:36اور جہنم کا ذکر ہے
31:38جہنم بھی حق ہے
31:40سچ مچ موجود ہے
31:41اللہ کا کلام سچا ہے
31:43اس میں کوئی شک نہیں ہے
31:44اللہ کے رسول علیہ السلام
31:46قیام اللہ لیل رات کی نماز میں
31:48کھڑے ہوتے تحجد میں
31:49تو آپ کے الفاظ ہوتے
31:50وَالْجَنَّةُ حَقُّنُ
31:52وَالْنَّارُ حَقُّنُ
31:53جنت میں اللہ حق ہے
31:55اور جہنم کی آگوی حق ہے
31:57اللہ ہمیں جہنم سے معفوض رکھے
31:59اللہ ہمیں جنت الفردوس عطا فرمائے
32:02آگے ارشاد ہوا آخری آیت میں
32:03فَسَبِّحْ بِسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ
32:06پس آپ اپنے رب عظیم
32:08کے نام کی تسبیح کیجئے
32:10جب یہ آیت کریم نازل ہوئی
32:12تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
32:14نماز میں رکو میں اس کو جاری کر دی
32:16کیا پڑھتے ہیں رکو میں
32:17سبحان ربی العظیم
32:19یہی الفاظ ہے
32:19فَسَبِّحْ بِسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ
32:22آپ اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کیجئے
32:24رکو میں ہم پڑھتے ہیں
32:25سبحان ربی العظیم
32:27یہ الحمدللہ سورہ واقعہ
32:29کہ چند منتخب آیات کا مطالعہ بھی مکمل ہوا
32:32یہاں پہنچ کر مکی صورتوں کا سلسلہ مکمل ہوتا ہے
32:35کس معنی میں
32:36چھبیس پارے میں سور قوف ہے
32:38وہاں سے آخری منزل شروع ہوتی ہے
32:41وہاں سے مکی صورتیں شروع ہوتی ہیں
32:43تو سور قوف سے جب یہ سلسلہ شروع ہوا
32:45تو اب یہ سور واقعہ تک
32:47سات مکی صورتیں آگئیں
32:48اب دس مدنی صورتیں آ رہی ہیں
32:51اگری سورہ سورت الحدید ہے
32:52جو کہ ستائیس پارے میں ہے
32:54اور پھر اٹھائیس پارہ مکمل مدنی صورتوں پر مشتمل ہے
32:58چلتے ہیں سورت الحدید کے تعارف کی طرف
33:00سورت الحدید کے تعارف کے حوالے سے پہلا نکتہ
33:03سورت الحدید مدنی صورت ہے
33:05بڑی جامع صورت ہے
33:06امت مسلمہ کے حوالے سے رہنمائی
33:09اور امت کے تقاضوں کا ذکر آ رہا ہے
33:12اب جو صورتیں ہیں وہ مدنی ہیں
33:14یہ سورت الحدید ستائیس پارے کی آخری صورت ہے
33:17اور مدنی صورت ہے
33:18اور یہاں سے دس مدنی صورتوں کا بڑا قیمتی گلدستہ سامنے آرہے ہیں
33:22مزید نو مدنی صورتیں وہ 28 پارے میں آتی ہیں
33:25تو جن طویل مدنی صورتوں کا ہم نے پہلے متعلق کیا
33:29البقرہ، عالمران، النساء، المائدہ، سورہ انفال، سورہ توبہ، سورہ نور، سورہ عذاب
33:34ان میں جو موضوعات آئے اب ان کے خلاصے ہیں جو ان دس مدنی صورتوں میں ہمارے سامنے آئیں گے
33:40امت سے تقاضے کیا ہیں، ایمان کے تقاضے کیا ہیں، انفاق کے تقاضے کیا ہیں، نفاق کا مرس کیا ہوتا
33:47ہے
33:47جہاد و قتال کا معاملہ، غلب دین کے جد و جہد کا معاملہ
33:51یہ مدنی صورتوں کے موضوعات بڑے جامعے اور مختصر انداز میں ان آخری مدنی صورتوں میں ہمارے سامنے آتے ہیں
33:57چلتے ہیں مزید آگے سورہ حدید کے تعارف کے حوالے سے
34:04تو اللہ تعالیٰ کی جامعے انداز میں صفات بیان کی گئی ہیں
34:12اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کی شان بیان کی گئی ہے ابتدائی آیات میں سورت الحدید
34:17میں
34:17دین کے کل تقاضے کو حقیقی ایمان لانے اور انفاق کے مطالبات میں بیان کیا گیا ہے
34:22دو تقاضے، ایمان لاؤ اور انفاق کرو، ان دو میں پورا دین آ گیا
34:27کیا مطلب؟ حقیق ایمان دل میں ہوگا تو عمل نظر آئے گا
34:30عمل کے لئے کبھی عمل صالح کے الفاظ آتے، کبھی جہاد کا لفظ آتا ہے
34:34یہاں انفاق کا لفظ آیا
34:36انفاق جان کا بھی ہوگا، مال کا بھی ہوگا، وقت کا بھی ہوگا
34:39سلاحیتوں کا پوری زندگی آ گئی
34:41تو ایمان اور انفاق ان دو تقاضوں میں پورے دین کے تقاضے بیان کیے گئے ہیں
34:47قربِ الٰہی کے حصول کے لئے راہِ الٰہی میں خرش کرنے کی ترغیب دی گئی ہے
34:51مال کی محبت کے ساتھ اللہ کی محبت میں قدم آگے نہیں بڑھتے
34:55مال کی محبت کا بریک اگر لگاو ہے جب تک کہ بریک نہیں ہٹے گا
34:59اللہ کے دین کے تقاضوں پر عمل نہیں ہو سکے گا
35:02اور سور حدیث میں امتِ مسلمہ کے حوالے سے اللہ تعالی نے رہنمائی دیا
35:07امت سے تقاضے کیا ہیں؟ انقلابی مشن اللہ کے نبی علیہ السلام کا
35:11یہ عدل کا نفاذ ہو یہ ظلم کا خاتمہ ہو اس مشن کو بیان کیا گئے آگے ذکر آ رہا
35:16ہے
35:16اور اس کے حوالے سے امت سے مطالبات کیے جارہے
35:19تو جب تک یہ مال کی محبت کا بریک نہیں ہٹے گا
35:22ان تقاضوں پر تم آگے عمل کرنے میں بڑھ نہیں سکو گے
35:26قیامت کے دن سچے مؤمنوں کے نورِ ایمان سے سرفراز ہونے کا بیان ہے
35:30منافقوں کے اس نور سے محروم ہونے اور ان کے برے ٹھکانوں کا ذکر ہے
35:34یہ دین کے تقاضوں پر عمل کرنے والے سچے ایمان والے اور فرار اختیار کرنے والے وہ منافقین
35:40ان کے برے حال کا ذکر ہے اور ان کا ٹھکانہ کفار کے ساتھ جہنم میں ہوگا منافقین کا
35:45اللہ ہمیں نفاق اس سے معفوظ رکھے
35:47کیا ہے نفاق؟ دنیا کی محبت میں ڈوب کر اللہ کے دین کے تقاضوں سے بھاگ لینا
35:53یہ تو منافقین کا طرز عمل ہے
35:54سچے ایمان والے سب کچھ اللہ کی رحم پیش کرنے کے لیے تیار رہتے
35:58اللہ ایمان والوں میں ہمیں شامل رکھے اور نفاق کے مرض سے ہم سب کی حفاظت فرمائے
36:03اگمزی چند نکات ہے سور حدیث کے تعریف کے تعلق سے
36:07دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے اور تقدیر الہی پر راضی رہنے کا تقاضہ بیان ہوا ہے
36:14بدلتے حالات میں مشکلات آتی ہیں
36:15مسائب آتے ہیں یہ کس کے حکم سے ہوا؟
36:17اللہ کے حکم سے
36:18تو اللہ کے فیصے پر راضی رہنے کا تقاضہ
36:20اور دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینا
36:23دنیا کی محبت میں ڈوب کری تو نفاق کا مرض شروع ہوتا ہے
36:26نہیں آخرت کی طلبگار بنو گے
36:28تب ہی درجات کی بنندی کا بھی راستہ کھولے گا
36:31تب ہی دین کے تقاضوں پر عمل ہو سکے گا
36:33رسولوں کا انقلابی مشن عدل کے قیام کی جد و جہد کو قرار دیا گیا
36:37تمام رسولوں کا مشن بیان ہوا
36:39لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْتِ
36:40انسانیت قِسْتِ پر عدل بر قائم ہو
36:42آگے ہم جانیں گے
36:43اور اب ختم نبوت کے بعد یہ مشن کس کا ہوگا
36:46یہ نبی اکرم علیہ السلام کی امت کا ہے
36:48اس امت نے سوری سے کو انجان دینا ہے
36:50عدل کے نظام کو قائم کرنے کی جد و جہد کرنا
36:55رحبانیت کی نفی کی گئی ہے
36:56رحبانیت مسیحیت کے ماننے والوں نے رویہ اختیار کیا
36:59جنگل بیابانوں میں نکل جاؤ
37:00کونک حضر میں بیٹھ کے بس اللہ کو پکارو
37:02ہاں اور معاشرے میں شیطان جو ہے وہ
37:04اپنی چال چلتا رہے ننگا ناشتا رہے
37:06اور شیطان کی دعوتیں چلتی رہے
37:08یہ بھی شیطان کی پڑائی پٹی
37:10کہ کونک حضرے میں جا کر بیٹھ جاؤ
37:12اور تم معاشرے میں اسلاح کی کوشش نہ کرو
37:14نظام کے بدلنے کی جد و جہد نہ کرو
37:16کونک حضرے میں بیٹھے رہو
37:17یہ ہے شیطنت کا ایک بہت بڑا ہتیار
37:19یہ مسیحیت کے ماننے والوں نے رحبانیت اختیار کی
37:22حدیث مبارک میں آتا ہے
37:24لا رحبانیت فر اسلام
37:25اسلام میں کوئی رحبانیت نہیں ہے
37:28رحبانیت کی نفی کی گئی
37:29اور اہل کتاب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر
37:32ایمان لانے اور ان کے اتباع کی تعلیم دی گئی ہے
37:35اللہ ہمیں واقعتا نبی کرم علیہ السلام کی اتباع کی توفیق دے
37:39اور اتباع کا سب سے بڑا میدان کیا ہے
37:4223 برس کی محنت
37:43دعوت دین کی محنت کرنا
37:44اور نفاظ دین غلب دین اور
37:46نظام عدل کے قیام کی جد و جہد کرنا
37:49اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے
37:51یہ تعرف کے حوالے سے چند باتیں
37:53سورہ حدید کے زمن میں اب آئیے چلتے ہیں
37:55سورة الحدید کی چند منتخب آیات کے متعلق کی طرف
37:58ذہن میں رہے
37:59مدنی صورت ہے
38:01اور امت سے تقادے کیا ہیں
38:02ان کو بیان کیا جا رہا ہے
38:04سب سے پہلے ہم نے سورہ حدید کی آیات
38:06سات تا گیارہ کا انتخاب کیا ہے
38:09ایمان اور انفاق کے تقادے
38:10دو جامع استلاحات میں
38:12دین کے کل تقادے آ رہے ہیں
38:15اشاد ہو رہا ہے
38:16آمنو باللہ ورسولی
38:18ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر
38:21مسلمانوں سے خطاب ہو رہا ہے بھئی
38:23ہاں تو مسلمانوں کا جا رہا ہے
38:24ایمان لاؤ کیا مطلب
38:25زبان کا دعویٰ کافی نے دل سے ایمان لاؤ
38:28جب ایمان دل میں ہوتا ہے
38:29تو عمل ثبوت پیش کرتا ہے
38:31آمنو باللہ ورسولی
38:32ایمان لاؤ سچے ایمان والے بنو
38:35اللہ پر ایمان لاؤ
38:36اس کے رسول علیہ السلام پر ایمان لاؤ
38:38وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَالَكُمُ مُسْتَخْلَفِينَ فِي
38:41اور جس جس شہے میں
38:42ہم نے تمہیں جانشینی دی ہے
38:43اختیار دیا ہے
38:44اس میں سے انفاق کرو
38:46اس میں سے خرچ کرو
38:47اب جسم دیا ہے
38:48مال دیا ہے
38:49عقل کی صلاحیت
38:50بولنے کی صلاحیت
38:51اسباب دیئے ہیں
38:52ٹکنالوجی دی
38:53وَوَٹْ ایورِ
38:54اٹھ می بھی
38:54جس جس شہے میں تم اختیار دی ہے
38:56اس کا انفاق کرو
38:57اب اللہ کی بندگی کرنی ہے
39:08میں اللہ نے عطا فرمائی لگا دو
39:09اب پوری زندگی آگئی کے نہیں
39:11تو ایمان اور انفاق
39:12بہت پیارا مقام
39:13بڑا جامع مقام
39:14فرمایا
39:15فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَأَنَفَقُوا لَهُمْ عَجْرٌ کَبِيرٌ
39:19پس تم میں سے جلو ایمان لائے
39:20اور انہوں نے انفاق کیا
39:22ان کے لئے بہت بڑا عجر ہے
39:24ایمان اور انفاق
39:26دو تقاسے آگئے
39:27اور یہ کام کرو تو بہت بڑا عجر ہے
39:29اگلی دو آیات میں ایمان کا ذکر آئے گا
39:31اور اس سے اگلی دو آیات میں انفاق کا ذکر آئے گا
39:35بہت پیارا مقام
39:36توجہ کیجئے گا
39:36اگلی دو آیات میں ایمان کا ذکر
39:39اور اس سے اگلی دو آیات میں انفاق کا ذکر
39:42اور پھر اس میں بھی خوبصورت ترقیب ہے
39:44پہلے جنجوڑا جگیا ہے
39:46پھر ترقیب دلائی گئی ہے
39:47پہلے ذرا ڈانٹ ڈبٹ کی گئی ہے
39:49اور پھر موٹیویشن دی گئی ہے
39:51ایمان کے حوالے سے بھی ڈانٹ ڈبٹ پہلے
39:53اور پھر ترغیب و تشویق
39:55پھر انفاق کے حوالے سے ڈانٹ ڈبٹ پہلے
39:57پھر ترغیب و تشویق
39:58بڑا جامع مقام
39:59فرمایا اب ایمان کے حوالے تھے
40:00وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
40:03اور تمہیں کیا ہوگئے
40:04تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے
40:05وَالرَّسُولِ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ
40:08اور رسول علیہ السلام تمہیں پکارتے
40:10کہ تم اپنے رب پر واقعتن ایمان لاؤ
40:11وَقَدْ أَخَدَ مِيْثَاقَكُمْ
40:14اور وہ تم سے پکا وعدہ لے چکے ہیں
40:16اِن کنتم مؤمنین
40:17اگر تم ایمان والے ہو
40:18تو حقیق ایمان کا ثبوت پیش کرو
40:20بہت زبان کے دعوے نہ کرو
40:22جیسے منافقین تھے
40:23دعویٰ زبان پر ایمان کا ہوتا
40:24اور ایمان کے تقادوں کے خلاف ورزی کرتے
40:26نبی علیہ السلام کے مشن من کا ساتھ نہ دیتے
40:28کیا ہو گیا تم
40:29کیوں واقعتن ایمان کیوں نہیں لاتے
40:31اللہ اکبر جن جوڑا گیا
40:32اب ترغیب و تشویق موٹیویشن انسپیریشن ہے
40:35هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَى عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ
40:39وہ اللہ ہے جو اپنے پیارے بندے
40:40صلی اللہ علیہ السلام پر واضح آیات نازل فرماتا ہے
40:44قرآن پاک کی
40:48کہاں سے گمراہی کے اندھیروں سے
40:50ہدایت کی روشنی کی طرف
40:51قرآن پاک ہدایت کی کتاب ہے
40:53اور نبی مکرم علیہ السلام
40:55تمہیں اس کے ذریعے تعلیم دے رہے
40:57تاکہ تم گمراہی کے اندھیروں سے نکلو
40:59اور ہدایت کی روشنی کی طرف آ جاؤ
41:01تو قرآن ہدایت کا کلام ہے
41:03قرآن کے ذریعے ایمان کی آبیاری ہوگی
41:05یہ جو ڈانٹ ڈپٹ کی گئے
41:06کہ تم واقعاً ایمان کیوں نہیں لاتے
41:08یہ ایمان کہاں سے ملے گا
41:17اور بے شک اللہ تمہیں بڑا شفقت فرمانے والا
41:20بڑا رحم فرمانے والا ہے
41:22یہ ایمان کا بیان ہوا
41:23اگلی دو آیات انفاق کا تذکرہ
41:25پہلے ڈانٹ ڈپٹ آئے گی
41:27اور پھر ترغیب تشویق اور انسپیریشن بھی آ رہی ہے
41:33اور تمہیں کیا ہو گیا
41:35تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہو
41:36اللہ کے دین کی پکار لگی ہوئی ہے
41:38اللہ کے پیغمبر علیہ السلام
41:40اپنی جان تک کو پیش کر رہے ہیں
41:42صحابے کرام جانے لگا رہے ہیں
41:43اور ایمان کے جھوٹے دعوے دار منافقین
41:46مال کو بچا بچا کے رکھتے
41:47جان کو بچا بچا کر رکھتے
41:49وَمَا لَكُمَ اللَّهُ تُنفِقُوا فِي صَبِيْلِ اللَّهِ
41:52اور تمہیں کیا ہو گیا
41:53تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے
41:54وَلِ اللَّهِ مِیرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
41:57اور آسمان و زمین کی میراث
41:58تو سب اللہ کی ہے
41:59مال بچاؤ گے
42:00کیا قبر پر ساتھ لے کے جاؤں گے
42:01سارے مر جائیں گے
42:02سب کس کا ہے
42:03اللہ تعالیٰ کا ہے
42:04دادا کہتا باپ کے پاس آگئے
42:05باپ کا انتقال وہ بیٹے کے پاس
42:07بیٹے کے انتقال
42:08اس کے بیٹے کے پاس
42:08دادا باپ اور بیٹا
42:10تو چلے گئے نا خالی ہاتھ
42:11سب کس کا ہے
42:12سب مر جائیں گے
42:13کس کا ہے سب
42:13اللہ کا
42:14تو جس کا ہے
42:15اسی کو لوٹاو
42:15وہ بڑھا چڑھا
42:16سات سو گناہ
42:18اس سے بڑھ کر بھی
42:19تمہیں عطا فرمائے گا
42:20اللہ اکبر
42:21اب ایک انسپریشن ہے
42:22ترغیب
42:22ڈھانٹا پٹ آگئی
42:23انفاق پر ڈھانٹا پٹ آگئی
42:25اب ترغیب
42:26تشفیق کا انداز ہے
42:27لا يستوی منکم
42:29من انفق من قبل
42:30الفتح وقاتل
42:31تم میں سے برابر نہیں
42:32وہ
42:32جنہوں نے خرچ کیا
42:34فتح سے پہلے
42:35اور قتال کیا
42:36مراد ہے کہ ایک وہ ہیں
42:38جنہوں نے فتح سے پہلے
42:39خرچ کیا
42:40اور قتال کیا
42:40فتح سے ایک مراد
42:41فتح مکہ ہے
42:42تو ایک فتح سے پہلے
42:44خرچ کرنے والے
42:44جب ابھی مغلوبیت
42:46کا دور ہے دین
42:46دین غالب اور قائم نہیں
42:48مشقت ہے
42:48جھیلنا پڑھ رہے
42:49ایمان والوں کو
42:49ایک اس دور میں
42:50خرچ کرنے والا
42:51اور ایک وہ ہے
42:52جو فتح اور غلب ہے
42:53دین کے بعد
42:54خرچ کرنے والا ہوگا
42:55فرمایا جو پہلے
42:56خرچ کرنے والے
42:57ان کا ذکر آ رہا ہے
42:58اولائک اعظم درجت
43:00من الذین آنفقوا
43:03یہ درجات میں
43:04ان لوگوں سے بڑھ کر ہیں
43:05جو بعد میں
43:06انفاق کریں گے
43:07اور قتال کریں گے
43:08پہلے والوں کا عجر
43:10بعد والوں سے زیادہ
43:11مغلوبیت کا دور ہے
43:13دین کی اسوہ
43:13خرچ کرنے والے
43:14قتال کرنے والے
43:15ان کا عجر
43:16زیادہ ہوگا
43:17اس دور میں
43:18خرچ کرنے والوں کے
43:19مقابلے میں
43:20جو دین کے غالب
43:21ہو جانے کے بعد
43:21خرچ کریں گے
43:22ہاں
43:23وَكُلَّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَةُ
43:25اور اللہ تعالی نے
43:25ہر ایک سے
43:26امدہ وعدہ فرمائے
43:27سواب سب کو ملے گا
43:28عجر سب کو ملے گا
43:30مگر بہرحال
43:30مغلوبیت کے دور میں
43:32جان لگا رہا ہے
43:32مال لگا رہا ہے
43:33وقت لگا رہا ہے
43:34اس کا عجر
43:35بعد والوں سے
43:36زیادہ ہوگا
43:36وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
43:38اور تم جو کچھ کرتے ہو
43:39اللہ تعالی خوب و واقف ہے
43:41آج بتائیے
43:42اللہ کے دین کی
43:42مغلوبیت کا دور ہے کہ نہیں
43:44اے خاصہ
43:45خاصانِ اصل وقتِ دعا ہے
43:46امت پہ تیری آکے آج
43:48جب وقت تو پڑا ہے
43:49وہ دین جو بڑی شان سے
43:50نکلا تھا وطن سے
43:52پردیس میں
43:52وہ آج غریب الغوربہ ہے
43:54تو آج اس دین کو
43:55کس نے تھامنا ہے
43:56اس کے لئے محنت کس نے کرنی
43:57محنت اور آپ نے کرنی
43:58کر رہے ہیں
44:00جان مال وقت
44:01اولاد صلاحیت
44:02کیپیسٹی
44:02جو کچھ بھی ہے
44:04لگری اللہ کے دین کی دعوت کے لیے
44:05لگری اللہ کے دین کی
44:07جد و جہد کے لیے
44:08مجھے اور آپ کو غور کرنا چاہئے
44:09آگے ایک اور بڑا پیارا انداز
44:11ترغیب تشویق و موٹیویشن
44:12انسپیریشن کا
44:13من ذا اللہ یقرض اللہ قردن حیسنن
44:16کون جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے
44:19فیضاعفہو لہو
44:20بس اللہ اسے اس کے لیے بڑھا دے
44:21عجر میں
44:22ولہو عجرن کریم
44:23اور اس کے لیے عزت والا عجر ہوگا
44:25سبحان اللہ
44:26اللہ قرض حسن کیا ہوتا ہے
44:28اللہ کے دین کی
44:30سربلندی کی
44:31جد و جہد کے لیے
44:32جو خرچ کیا جائے نا
44:33دعوت دین
44:33نفاظ دین کے لیے
44:34یہ قرض حسن ہے
44:36اچھا ہے
44:36اللہ نے دیا ہمارا ہے کیا
44:38لیکن اللہ کی شان کریم
44:39وہ اس کو قرض قرار دیتا ہے
44:41لوٹاؤں گا تمہیں میں
44:41سبحان اللہ
44:42حسن کیا ہے
44:43حلال میں سے
44:44حرام میں سے نہیں
44:44حلال میں سے خرچ ہو
44:46اخلاص نیت کے ساتھ ہو
44:47اللہ بڑھا کر دے گا
44:48اور البقرہ آئیت 261 میں
44:50ہم نے پڑھا
44:51اللہ ساتھ سو گناہ
44:52اور اس سے بھی بڑھ کر
44:53عطا فرمائے گا
44:54اور عزت والا جر ہوگا
44:55دنیا میں نیچے والا
44:56لینے والا
44:57نیچے ہوتا ہے نا
44:58وہ تو نیچے ہو گیا
44:59اللہ جو دے گا
45:00اللہ اکبر نیچے نہیں کرے گا
45:02اللہ عزت کے ساتھ دے گا
45:03اللہ ہم سب کو ایمان
45:04حقیقی عطا فرمائے
45:06قرآن پاک سے ایمان
45:07کی دولت لینے کی
45:08توفیق عطا کرے
45:09اور اللہ اپنے دین کی
45:10سربلندی کی جد و جہد
45:11کے لیے جان
45:12مال
45:13وقت
45:13اوقات
45:14صلاحیت
45:14اولاد
45:15اس سب کو لگانے کی
45:16مجھے اور آپ کو
45:16توفیق عطا فرمائے
45:17اس کے بعد
45:18اگلی جیس آیت
45:19کم نے انتخاب کیا
45:20بہت ہی انقلابی آیت ہے
45:22سورہ الحدید کی آیت
45:24امبر پچیس
45:24رسولوں کا انقلابی مشن
45:26قیام عدل
45:27عدل کا قیام ہو
45:28جسٹس کا قیام ہو
45:29ہاں
45:30پیغمبروں سے وعد
45:31و نصیت کی باتیں نہیں کی
45:32وہ وقت کے
45:33ظالم و جابروں
45:34کو بھی دعوت دیتے تھے
45:35موسیٰ علیہ السلام نے
45:36فرون کو دعوت دی
45:37کی نہیں دی
45:38اور وہ نظام
45:39کو چیلنج کرتے تھے
45:40اور نظام کے بدلے
45:41کی جد و جہد کرتے تھے
45:42یہی رسول
45:43اکرم علیہ السلام
45:43کا 23 برس کا
45:44مشن
45:44اور سورہ
45:46صف میں
45:47یہ بات
45:47ہمارے سامنے
45:49آئی گی انشاءاللہ
45:50و تعالیٰ
45:5028 سے پارے میں
45:51سورہ صف کے آیت
45:52امبر 9
45:52کیا مشن تھا
45:53نبی علیہ السلام
45:56اس دین حق کو
45:57کل نظام زندگی
45:58پر غالب فرما دے
45:59یہاں تمام
46:00رسولوں کا
46:00انقلابی مشن
46:01بیان ہو رہے ہیں
46:02سورہ حدیر کے
46:02آیت امبر 25 میں
46:03اشاد ہوا
46:07یقیناً ہم نے
46:07تمام رسولوں کو
46:08بھوئے جا
46:09بالبیانات
46:10واضح نشانیہ دے کر
46:11یعنی موجزات دے کر
46:12اور ہم نے
46:15ان کے ساتھ
46:16کتابیں نازل فرمائی
46:17اور میزان
46:18میزان سے قرار
46:18شریعت کی میزان
46:19شریعت کا قانون
46:29موجزات پیغمبر کو دیئے
46:30کتاب عطا کی
46:31شریعت عطا کی
46:32کس لیے
46:32صرف پڑھنے پڑھانے کے لیے
46:34صرف بیان کر دینے کے لیے
46:36صرف وعد و نصیت
46:36و دعوت و تبریغ کے لیے
46:38نہیں
46:38وعد بھی ہوگا
46:39نصیت بھی ہوگی
46:39دعوت بھی ہوگی
46:40تبریغ بھی ہوگی
46:41پڑھنا پڑھانا بھی ہوگا
46:42سیکھنا سکھانا بھی ہوگا
46:43سب کچھ ہوگا
46:44لیکن شریعت کیوں عطا کی گئی
46:46لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْتِ
46:47تاکہ انسانیت عدل پر قائم ہو
46:49آج کوئی ظالم بن کر
46:50پوری دنیا کو لوٹ رہے
46:51پوری دنیا کو کیپچر کر کے
46:53بیٹھے ہوئے
46:53قابض بن کر بیٹھے ہوئے ہیں
46:55ظلم کی انتہا ہے
46:57بدترین استعمال ہے
46:58بہترین ٹکنالوجی کا
46:59ظلم ہے نا
47:00اس ظلم کا خاتمہ ہونا چاہیے
47:02بندوں کو بندوں کو غلام نہیں بننا ہے
47:04بندوں کو رب کا غلام بننا ہے
47:06آج اس عدل کے لیے
47:07یہ پکار لگی ہوئی ہے
47:08ظلم کے خاتمے کے لیے
47:10عدل کے نفاس کے لیے
47:11رسولوں کو بھیجا گیا
47:12لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْتِ
47:14تاکہ انسانیت قسط پر عدل پر قائم ہو جائے
47:16آگے فرمایا
47:17وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدِ
47:18ہم نے لوہا پیدا کیا
47:19فِهِ بَعْسٌ شَدید
47:21اس میں شدید قوت مراد جنگ کی
47:22وَمَنَافِعُ لِلِنَّاسُ
47:24اور لوگوں کے لیے اور فائدے بھی ہیں
47:26لوہے سے بہت سی چیزیں تم بناتو
47:27بڑا فائدہ ہے
47:28جنگ کی سلائے
47:29جنگ کیوں
47:29ایمان والوں کے جنگ ہوگی
47:31حق کے قلمے کی سربلندی کے لیے
47:32ظلم کے خاتمے کے لیے
47:34مظلوموں کی دادرسی کے لیے
47:36اور عدل کے نفاس کے لیے
47:38تاکہ بندوں کو جینے کا حق ملے
47:39اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات ملے
47:42اور بندے رب کی غلامی اختیار کر کے
47:44اپنی آخرت کی اصل منزل کی تیاری کر سکے
47:46اللہ اکبر
47:49اور تاکہ اللہ ظاہر فرما دے
47:51کون غیب میں رہتے ہوئے
47:53اللہ کے اور اس کے رسولوں کی نصرت کرتا ہے
47:55عالم ظاہر میں
47:56اہل ایمان نے محنت کرنی ہے
47:58اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے
48:00اللہ ظاہر کر دے گا
48:01کون ایمان کے جھوٹے دعوے دار ہیں
48:03اور کون ایمان کے سچے دعوے دار ہیں
48:05جو اللہ اور اس کے پیغمبروں کی نصرت
48:07یعنی دین کی جد و جہت میں
48:08اپنے آپ کو کھپاتے ہیں
48:09اِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيز
48:11بے شک اللہ قوی ہے
48:12قوت والا ہے
48:13عزیز ہے
48:14کل طاقت رکھتا ہے
48:15کل اختیار رکھتا ہے
48:16اللہ سب کچھ خودی کرنے کے لیے
48:17پورا اختیار رکھتا ہے
48:18لیکن دنیا اس نے امتحان کے لیے بنائی ہے
48:21اور ایمان والوں کا بھی امتحان لے رہا ہے
48:23کلمے کا دعویٰ کرنے والوں کا امتحان لے رہا ہے
48:26اس کی پکار پر لبائی کہہ کر
48:27اس کے پیغمبر کی نصرت کرتے ہو کے نہیں
48:29عدل کے نفاس کے جد جہد کرتے ہو کے نہیں
48:31تو یہ تم نے ظاہر کے اسباب میں کرنا ہے
48:34اور پھر اس کے نتیجے میں
48:35اللہ نے تمہارے لئے عجر عظیم تیار کیا
48:37اللہ اس پکار پر لبائی کہہ کر
48:39عدل کے نفاس کے جد جہد کے لیے
48:41ہم سب کو قبول فرمائے
48:43الحمدللہ
48:44ستائیس سے پارے کی صورتوں کا مطالعہ
48:45کسی درجہ میں ہم نے آپ کے سامنے
48:47مزامین کے خلاصے کے اعتبار سے رکھا
48:49اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے
48:50آخر میں حاصل کلام کے حوالے سے
48:52چند باتیں آپ کے سامنے رکھتے ہیں
48:53مقربین کے لیے آرام
48:55خوشبودار پھول اور نعمت و بھری جنت
48:57اور دائیں ہاتھ والوں کے لیے جنت میں
48:59سلامتی کی خوشخبری
49:00جبکہ بائیں ہاتھ والے
49:02یعنی گبراہوں کے لیے
49:03کھولتے پانی کی زیافت
49:05اور جہنم کے عذاب کی وعید ہے
49:08انفاق کا وسیع تصور یہ
49:09کس نے مال و دولت نہیں
49:10بلکہ ہر شئے جس پر
49:12اللہ تعالی نے ہمیں دنیا میں
49:13عارضی اختیار عطا فرمایا ہے
49:15مثلاً ذہنی و جسمانی صلاحیتیں
49:18حکومت و اقتدار
49:19مال و اولاد
49:20اور دیگر وسائل
49:22سب کو اللہ تعالی کے راہ میں
49:24اس کی رضا کے مطابق خرچ کیا جائے
49:26اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے
49:28قرآن حقیم کی واضح آیات
49:30ہمیں کفر
49:30شرک
49:31الحاد
49:32مادہ پرستی
49:33ظلم
49:34اور تمام قسم کی گمراہیوں کے اندھیروں سے نکال کر
49:37توحید و رسالت کی روشنی میں لاتی ہیں
49:39اور اللہ تعالی کی رحمت
49:40رشد و ہدایت
49:41اور ایمان کے حصول کا بھی ذریعہ بنتی ہیں
49:44اللہ نے ہمیں مزید توفیق عطا فرمائے
49:46دین کی مغلوبیت کے دور میں
49:47جو لوگ اللہ تعالی کے راہ میں خرچ کرتے ہیں
49:49اور قتال کرتے ہیں
49:51وہ ان لوگوں سے کہیں
49:52آلہ درجات پر ہوں گے
49:53جو غلب ہے دین کے بعد
49:54اللہ تعالی کی راہ میں مال خرچ کریں گے
49:56اور قتال کریں گے
49:58اللہ تعالی کے دین کی سربلندی کے لئے
50:00خرچ کیے گئے مال کو
50:01اللہ تعالی نے اپنے ذمہ قرض قرار دیا ہے
50:04جسے وہ کئی گناہ بڑھا چڑھا کر
50:06واپس عطا فرمائے گا
50:07اللہ ہمیں لگانے کی توفیق دے
50:09تمام رسولوں کو زمین پر بھیجنے
50:11اور ان کے ساتھ کتابوں کو نازل کرنے کا اصل مقصد ہی یہ تھا
50:14کہ عدل کا نظام قائم کیا جائے
50:15یہ اسی صورت ممکن ہے
50:17کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر
50:20عمل کرتے ہوئے
50:21نظام عدل کے قیام کے لئے
50:23اپنی تمام صلاحیتیں صرف کر دیں
50:25اور اللہ تعالی کی عطا کردہ کتاب
50:27اور شریعت کے نفاظ کی بھرپور کوشش کریں
50:29یہ امت کی ذمہ داری ہے
50:30اللہ ہمیں عدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے
50:33آخر میں حدیث رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش خدمت
50:37رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
50:40بے شک اللہ تعالی قرآن کریم کو تھامنے کی وجہ سے
50:42قوموں کو عروج عطا فرمائے گا
50:44اور اس کو ترکر دینے کی وجہ سے رسوا کر دے گا
50:53تاریخ قرآن ہو کر
50:54آج ہی امت اپنا عروج چاہتی ہے
50:56قرآن کو تھامنا ہوگا
50:57اس کی حقوق کو ادا کرنا ہوگا
50:59اور اس کے احکامات کے نفاظ کی جد و جہد کرنا ہوگی
51:01اللہ تعالی مجھے آپ کو ہم سب کو اس کی توفیق دے
51:04اللہ میری آپ کے ہم سب کی ہمارے گھر والوں کی
51:06تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے
51:08اللہ ہمیں جہنم سے آزاد فرمائے
51:10اللہ ہمیں جنت الفردوس عطا فرمائے
51:12آمین یا رب العالمین
51:13وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
51:16والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
51:19اللہ کا کلام پڑھایا رسول نے
51:23اسحام بے بغ صفحہ کو لکھایا رسول نے
Comments

Recommended