- 18 hours ago
- #shaneramzan
- #ramzan2026
- #aryqtv
Huqooq ul Ibaad | Naimat e Iftar - Topic: Shehrion ke Huqooq
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Dr. Sarwar Hussain Naqshbandi
Guest: Peer Irfan Elahi Qadri, Qari Yunus Qadri, Syed Ameen ul Hasnat
Sana Khuwan: Amjad Rasheed Saim
#shaneramzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw
Host: Dr. Sarwar Hussain Naqshbandi
Guest: Peer Irfan Elahi Qadri, Qari Yunus Qadri, Syed Ameen ul Hasnat
Sana Khuwan: Amjad Rasheed Saim
#shaneramzan #ramzan2026 #aryqtv
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00Ẹِ مُؤْمِنُو' کے دل کا اُجَالا شانِ رمضان
00:33بسم اللہ الرحمن الرحیم مولا یا صلی و صلیم دائی من عبدا
00:37علا حبیبکا خیر الخلقی کل ہمی
00:40ناظرین اکرام شانِ رمضان کی یہ ٹرانسمیشن لہور سٹوڈیو سے آپ دیکھ رہے ہیں
00:45نعمت افطار میں اور حقوق العباد ہمارا یہ سیگمنٹ ہے
00:49اور میں ہوں آپ کا مزمان
00:50ناکٹر سرور حسین نقشبندی اور روزانہ کی بنیاد پر
00:53ہم مختلف حقوق پر بات کر رہے ہیں
00:56حقوق العباد بندوں کے حقوق جو بندوں کے ذمہ ہیں
00:59اور وہ کس طرح سے ادا کرنے ہیں
01:01اور کس طرح سے ان کی طرف پیش قدمی کی جا سکتی ہے
01:05اس پر ہم بات کر رہے ہیں
01:06آج بھی ایک موضوع پر انشاءاللہ ہم بات کریں گے
01:08مہمان ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
01:10اور ان کے تعارف اور پروگرام کے موضوع سے پہلے
01:14حمد کے روز کی طرح چند اشار میں آپ کی شدت میں ارز کرتا ہوں
01:19اور پھر آگے بڑھتے ہیں
01:21سرِ یقین بھی وہی ہے
01:24پسِ گمہ بھی وہی
01:26سرِ یقین بھی وہی ہے
01:28پسِ گمہ بھی وہی
01:31نشان تمام اسی کے ہیں بے نشان بھی وہی
01:35نشان تمام اسی کے ہیں بے نشان بھی وہی
01:43وہ ذات فہمو شعورو خیال سے بالا
01:48ہر ایک شئے سے آیاں ہے مگر نہاں بھی وہی
01:57زمین پہ سبزہ و گل بھی بچھائے ہیں اس نے
02:05سجا رہا ہے ستاروں سے آسمان بھی وہی
02:13زہور اس کا ہر ایک جا وہ ہر جگہ موجود
02:21اسی کے عرش پہ جلوے مکین جاں بھی وہی
02:30مجال کیا ہے خرد کی سمجھ سکے اس کو
02:38جو بے قرار بھی رکھے قرار جاں بھی وہی
02:46وجود جس نے دیا بے وجود کو سرور
02:51وجود جس نے دیا بے وجود کو سرور
02:55ہری کرے گا پسے مرد شاخ جاں بھی وہی
02:58سر یقین بھی وہی ہے پسے گماں بھی وہی
03:03نشان تمام اسی کے ہیں بے نشان بھی وہی
03:07ہم کے ان اشار کے ساتھ آج کا جو ہمارا موضوع ہے وہ ہیں شہریوں
03:12شہریوں کے حقوق سیٹیزنز کے جو رائٹس ہیں وہ کس طرح سے
03:17ریاست کے ذمہ ہیں ان کو ادا کرنا کتنا ضروری ہے اور کس طرح سے
03:21ان تمام جو امپلیمنٹیشنز ہیں ان رائٹس کی وہ اس معاشرے پہ
03:26اس سوسائٹی میں ان سیٹیزنز کے اوپر جو ہے وہ ذمہ ہے حکومت کے
03:30اس کے اوپر انشاءاللہ بات کریں گے حقوق ہیں کیا سب سے پہلے
03:34تو یہ جانیں گے مہمان ترشیف فرما ہے جناب پیر ارفان
03:37الہی قادری صاحب آستان علیہ صاحب چک شریف اور اے وائی کیو ٹی وی کے
03:41بہت سے پرگراموں میں آپ ان کو دیکھتے ہیں روشن راستے علم و عمل
03:45اور دیگر نشریات میں ہمارے مہمان ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ
03:50تشیف فرما ہے جناب قاری محمد یونس قادری صاحب ترتیل القرآن
03:54آپ کرتے ہیں حکمت قرآن آپ کرتے ہیں اور بہت سارے پرگراموں میں
03:58بطور مزبان اور ہمارے نشست کے مہمان ہوتے ہیں جناب سید
04:02امیر الحسنات شاہ صاحب نوجوان سکالر ہیں بہت اچھی گفتگو
04:05کرتے ہیں اور یہ بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں کہ آپ کو بھی
04:08خوش آمدید کہتے ہیں گوجر خان سے بہت ہی ممتاز سناخان بہت
04:13اچھے لبو لہجے میں نات پڑتے ہیں اور آج تشریف لائے ہیں پہلی دفعہ
04:18خوش آمدید کہتے ہیں عمدد رشید سائم خوش آمدید جناب اور بسم اللہ
04:21قلام عطا فرمائے بہت شکریہ
04:23اللہم صلی اللہ علیہ وسلم
04:32نظر کے روبرو ان کی گلی ہے
04:45نظر کے روبرو ان کی گلی ہے
04:57جہانے رنگو بھو ان کی گلی ہے
05:08جہانے رنگو بھو ان کی گلی ہے
05:19یہاں کا ذرہ
05:23زرہ
05:25زرہ
05:27ماہ تابی
05:34جبی تو
05:36ماہ رو
05:39ان کی گلی ہے
05:44جبی تو
05:46ماہ
05:50ان کی گلی ہے
05:56ہمارا دھیان ہے
05:59اس کی ہی جانب
06:09ہمارا دھیان ہے
06:13اس کی ہی جانب
06:23ہمارے چار سو ان کی گلی ہے
06:33ہمارے چار سو ان کی گلی ہے
06:43یہی عالم کو بٹتے ہیں خزینیں
06:55یہی عالم کو بٹتے ہیں خزینیں
07:08ہمارے چار سو ان کی گلی ہے
07:17اور مکتا ہے
07:19عدب کی انتہا لازم ہے سرور
07:34عدب کی انتہا لازم ہے سرور
07:49جہاں پہنچا ہے تو ان کی گلی ہے
07:59نظر کے روبرو ان کی گلی ہے
08:08اللہ سبحان اللہ
08:13سلامت رہے ہیں جناب بہت شکریہ
08:15بہت خوبصورت عطا فرمایا
08:17اپنے کلام گفتگو کا آغاز کرتے ہیں جناب پیر صاحب
08:20اور شہریوں کے حقوق
08:22ظاہر ہے کہ یہ حقوق اس وقت بھی امپلیمنٹیبل تھے
08:27جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی ریاست
08:29جہاں وہ تشکیل پا رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سربراہ تھے
08:34تو اس وقت بھی جو لوگوں کے شہریوں کے وہاں پہ رہنے والوں کے جو حقوق ہیں وہ متین ہو
08:39رہے تھے
08:39شریعت بھی جو ہے وہ نازل ہو رہی تھی
08:41تو قرآن و حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح سے ہماری رہنمائی کی ہے
08:46کہ جو رہنے والے لوگ ہیں ان کے کیا حقوق ہیں
08:49بسم اللہ الرحمن الرحیم بہت شکریہ ڈاو صاحب دیکھیں
08:53سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حقوق کیا ہیں
08:55وہ مراعات وہ چیزیں وہ اختیارات جو قرآن و سنت نے اور آئین نے لوگوں کو دیئے ہیں
09:02وہ لوگوں کے حقوق ہیں
09:04اگر ہم ان کو کٹیگرائز کریں تو یہ چار طبقات میں ہوتے ہیں
09:12ایک ہے مذہبی حقوق
09:13دوسرے ہیں ان کے سیاسی حقوق
09:15معاشی حقوق اور معاشرتی حقوق
09:18یہ چار چیزیں ہیں
09:20پہلی بات تو ہم یہ سمجھیں کہ ہم جو کہتے ہیں شہریوں کے حقوق
09:25تو ہر وہ فرد جو اس حکومت میں رہنے کی جس کو اجازت دی گئی ہے
09:30وہ شہری کہلاتا ہے
09:31وہ دہات میں ہو
09:33وہ کسی چھوٹی بستی میں ہو
09:34وہ بڑی بستی میں ہو
09:35تو اسے شہری کہا جاتا ہے
09:37اب یہ جو چار حقوق ہیں
09:39ان کے مذہبی حقوق ہیں
09:40سیاسی ہیں
09:42معاشی ہیں
09:42معاشرتی ہیں
09:43اب ان میں مذہبی حقوق میں
09:45اور پھر تھوڑا آگے جا کر ہم اس کو اگر
09:47explain کریں تو یوں نکلتا ہے
09:49کہ ان کی جان و مال کا تحفظ
09:52ان کی عزت و احترام کا تحفظ
09:54ان کے عدل و احترام کا تحفظ
09:57ان کے رہنے سینے کے انتظامات
09:59یہ وہ تمام چیزیں ہیں
10:00جو اس کو دی گئی ہیں
10:02اور ان پر حکومت وقت بھی
10:04اور ہر فرد کا بھی دوسرے پر حق ہے
10:08یہ ان کے معاشرتی اور معاشی حقوق میں سے بات ہے
10:11اگر ہم مذہبی حقوق میں بات کریں
10:13تو قرآن مجید فرماتا ہے
10:14سورہ المائدہ کے اندر
10:16کسی بے گناہ انسان کا قتل جو ہے
10:19وہ اب کبھی بھی اس کو معاف نہیں کیا جائے گا
10:21دوسرے مقام پر فرمایا گیا
10:23کہ جناب عدل و انصاف کیا جائے
10:26تیسرے مقام پر فرمایا گیا
10:28ہم نے بنی آدم کو عزت دی ہے
10:30یعنی یہ وہ تمام چیزیں ہیں
10:32جو ایک انسان کے حقوق بنتے ہیں
10:34اور قرآن مجید دے رہا ہے
10:36پہلے کیا ہے کہ انسان کو عزت دی گئی ہے
10:38حکومت وقت اور معاشرہ بھی اس کو عزت دے
10:41دوسرا یہ ہے کہ بے گناہ قتل جو کیا گیا ہے
10:44اس پر اس پر وعید ہے
10:45اس کو جو ہے سزا دی جائے
10:47حکومت وقت کا بھی فرض ہے
10:49لوگوں کا بھی اس پر جو ہے فرض بنتا ہے
10:52تیسری بات کیا ہے
10:53کہ جناب ہم نے جو عدل و انصاف ہے
10:56اس پر جو ہے
10:58عمل پیرا ہو جائے
11:00آج بڑے بڑے ادارے ہوئے منرائس کی بات کرتے ہیں
11:02لیکن آج سے چودہ سو سال قبل
11:05مساق مدینہ
11:06یہ وہ پہلا تحریری آئین ہے
11:09جو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا
11:11اور ہم اس میں شہریوں کے حقوق میں تھوڑا آگے چل کر پھر دیکھیں
11:15تو پھر دو چیزیں پھر کٹیگرائز ہوتی ہیں
11:18ایک اکثریت کے حقوق ہے
11:20ایک اقلیت کے حقوق ہے
11:21اس پر ہم بات پہلے پروگرامز میں بھی کر چکے ہیں
11:24تو اکثریت ہو یا اقلیت ہو
11:26ان کے حقوق گورنمنٹ کے ذمہ ہیں
11:29شہریوں کے وہ حقوق کہلاتے ہیں
11:31کہ ان کی جان و مال کا تحفظ
11:32ان کے جو ہے
11:34وہ سیاسی طور پر کسی پارٹی سے بھی
11:37تعلق رکھنے والا ہو
11:38لیکن چونکہ حکومت وقت کا وہ شہری ہے
11:41تو اس کو تحفظ دینا
11:43یہ حکومت کی ذمہ داری ہے
11:45معاشرتی طور پر
11:46لیکن اس کو یہ نہیں دیکھا جائے گا
11:48یہ فلان قبیلے سے تعلق رکھتا ہے
11:50اس کے حقوق کو پامال نہیں کیا جائے گا
11:52معاشی طور پر رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
11:54نے ارشان فرمایا
11:55مزدور کی مزدوری پسینہ خوشک ہونے سے پہلے ادا کی جائے
11:59یعنی معاشی طور پر بھی
12:01ان لوگوں پر رحم کیا جائے
12:02لوگوں کو جو ہے
12:04اپنے لوگوں پر وبال جان نہ بنا جائے
12:06اور لوگوں کے اس معاملات کو
12:08مد نظر رکھا جائے
12:09کہ ہمارے پاس کم
12:12اپنا اجرت والے لوگ بھی ہیں
12:13کم سیندری والے لوگ بھی ہیں
12:15غرابہ بھی ہیں
12:16اس ملک میں عمراء بھی ہیں
12:18تو تمام کو مد نظر رکھتے ہوئے
12:20قوانین کی بات آئے
12:22تو طاقتور کے لیے قانون اور
12:23اور غریب کے لیے قانون اور نہ رکھا جائے
12:26بلکہ سب کو یکسانیت
12:32کائنات حضرت سیدن علیہ المرتضی شہر خدا
12:34کررم اللہ واجل کریم
12:36جب آپ خلیفہ وقت ہیں
12:37تو آپ کی زرہ
12:38چوری ہو جاتی ہے
12:40تو یہودی جب مد مقابل آتا ہے
12:43تو چونکہ خلیفہ وقت کے پاس
12:45ثبوت نہیں مل سکے
12:46تو قاضی نے فیصلہ یہودی کے عقمے سنا دیا
12:49اب یہ اسلام نے بہت بڑی مثال
12:52اور عدل کے لیے
12:53یہ بہت بڑی بات ہے
12:55اور شہریوں کے حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے
12:57کہ وہ یہودی ہے
12:58یہاں خلیفہ وقت ہے
12:59لیکن
13:00اس کے حق میں فیصلہ اس لیے دیا گیا
13:03کہ خلیفہ وقت کے پاس ثبوت نہیں ملے
13:05اور اس پر ہوا کیا
13:06کہ وہ یہودی نے جب یہ دیکھا
13:08تو وہ اسلام میں داخل ہویا
13:09کیا بات
13:11بلکل ٹھیک
13:11کچھ ابتدائی باتیں جو ہیں
13:13پیر صاحب نے بیان فرما دی ہیں
13:14مزید جو شہریوں کے حقوق ہیں
13:16جو ریاست کے ذمہ ہیں
13:17وہ کیا کیا ہیں
13:18اس پر رہنمائی فرما
13:19جی ڈاکس صاحب بہت شکریہ
13:21ڈاکس صاحب انفرادی طور پر
13:23اور اجتماعی طور پر
13:24قومی اور بینقامی طور پر
13:26حضرت انسان کو
13:27اللہ پاک نے بڑی فوقیت اتا فرمای ہے
13:29وَلَا قَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمْ
13:31کا تاجہ تا فرمایا ہے
13:35اور حضرت انسان کے لئے
13:36اللہ پاک نے پوری کائنات کو
13:38مستخر کیا ہے
13:39وَسَخْرَلَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمْرَ وَالنَجُومَ وَسَخْرَاتِ مِامْرِ
13:43اور
13:44اللہ پاک نے حضرت انسان کو پروٹوکول دیا
13:46جہاں تک ہم بات کریں
13:48کہ شہری
13:49کے حقوق اس کے حوالے سے ہم بات کریں
13:51تو شہری کے جو حقوق ہیں
13:53سرکاری دعا عالم صلی اللہ علیہ وسلم
13:54کے سیرت متحرہ سے یہاں سے بھی نور اصل ہوتا ہے
13:57حضور علیہ السلام نے فرمایا
13:59حضرت ابو موسیٰ عشری
14:00رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
14:02کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا
14:04کہ تمہارے وجود سے خوشبو آنے چاہیے
14:07تمہارا وجود نافع ہونا چاہیے
14:09مزرنی ہونا چاہیے
14:10فرمایا یہاں تک کہ تم مسجد میں آؤ
14:12یا بازار میں آؤ
14:13تمہارے ہاتھ میں کوئی اتھیار ہو
14:17نیزے ہو
14:18فرمایا اس کے جو بھالے ہیں
14:19اس کے آگے ہاتھ رکھ لو
14:21فرمایا کسی شخص کو
14:23اس کے ساتھ عذیت نہ پہنچے
14:24بلکہ قبلہ ڈاک سب
14:26اتنا زیادہ کریم آقا علیہ السلام
14:28نے شہری کے حقوق کی حوالے سے
14:30آپ نے فرمایا
14:32اور وعید بھی کی
14:33فرمایا اگر کوئی شخص کسی کے پاس
14:35اسلحہ ہے
14:36اور نوکدار چیز ہے
14:38اور وہ اس کو
14:39کسی طرف اشارہ کرتا ہے
14:41تو فرمایا جب وہ کسی کی طرف اشارہ کرتا ہے
14:44تو فرشتے اس پر لانند بیجتے ہیں
14:46یعنی ایسی چیز
14:48بلکہ فرمایا اگر آپ نے سگے بھائی سے بھی کرے
14:50تو فرمایا اس پر لانند ہے
14:51اور آپ نے لئے جہنم خرید رہا ہے
14:54تو کریم آقا علیہ السلام نے
14:56شریعت متحرہ کے اندر شہری کے اتنے حقوق بیان فرمائے
14:59اور پھر سب کے لئے یک سا حقوق ہونا چاہیے
15:01غریب ہے امیر ہے
15:02جس طرح کے حجت الودا کے موقع پر
15:04کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا
15:05کسی عربی کو عجمی پر عجمی کو عربی پر
15:08کالے گھوڑے پر کوئی فقید نہیں ہے
15:10یعنی جو بھی بندہ رہتا ہے
15:12شہر میں اس کو برابر حقوق ہونا چاہیے
15:14دربار مصطفیٰ سجا ہوا ہے
15:15کریم آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں
15:17ہر ایک کی فریعہ سنی جاتی تھی
15:19اور کریم آقا کی بارگاہ اکدس میں ایک عورت آتی ہے
15:21تو کہتی ہے یہ بتائیں تمہیں محمد کون ہے
15:24صلی اللہ علیہ وسلم
15:25لوگوں نے کہا صحابہ نے کہا
15:26وہ جو سب سے چٹے گھرے سونے درمیان میں بیٹھے
15:29نا وہ ہمارے آقا محمد ہے
15:31تو وہ کہنے لگی میں نے آپ سے بات کرنی ہے
15:33تو سرکار ادعالم صلی اللہ علیہ وسلم
15:34اس کی بات سننے کے لیے سارا کچھ چھوڑ کے باہر تشریع لے گئے
15:38اور بڑی دیر تک اس کی بات سنتے رہے
15:40عمر فروغ نے کہا
15:41یا رسولہ اس کی کوئی نہیں سنتا
15:43فرمائے جس کی کوئی نہیں سنتا
15:44اس کی محمد سنتا
15:47ناظرین اکرام برے کا وقت ہے
15:48ہمارے ساتھ رہیے لوٹتے ہیں
15:50ایک مختصر سے وقت کے بعد
15:53شانِ رمضان
15:55شانِ رمضان
15:58شانِ رمضان
16:01شانِ رمضان
16:03ہے مومینوں کے دل کا
16:06اجالہ شانِ رمضان
16:09ہے مومینوں کے دل کا
16:11اجالہ شانِ رمضان
16:14دیر ناظرین خوش آمدیت کہتے ہیں
16:18وقفے کے بعد آپ کو شہریوں کے حقوق
16:20پہ آج ہم بات کر رہے ہیں
16:22اور پہلے حصے میں
16:22ہم نے اس کی کچھ
16:24جہتوں پر بات کی
16:25اور اس کے حوالے سے
16:26ہمارے مہمانوں نے رہنمائی کی
16:28آگے بڑھتے ہیں
16:28ایک بہت اہم پہلو ہے
16:30جناب سید امیر الرسنات
16:31شاہ صاحب ہمارے ساتھ موجود ہیں
16:33عدل اور انصاف
16:35جو ہے یہ بہت
16:36امپورٹنٹ چیز ہے
16:36اور یہ ہر شہری کا حق ہے
16:39اور سیدنا علی کرم
16:40اللہ و جل کریم
16:41نے بھی فرمایا
16:42کہ ظلم والے معاشرے
16:43جو ہیں وہ بھی چال سکتے ہیں
16:44لیکن بے انصافی والا جو معاشرہ ہے
16:46وہ قائم نہیں رہ سکتا
16:47کیا فرماتے ہیں
16:48یہ کتنا حق ہے
16:49کہ ہر شہری کو
16:51عدل و انصاف
16:52جو ہے وہ اس کی دہلیس پر
16:54اور درست زاویہ سے مل سکتے ہیں
16:56بسم اللہ الرحمن الرحیم
16:59فرمانے
17:00سرکار دو عالم علیہ السلام کے ساتھ
17:03آگے علیہ السلام نے فرمایا
17:04تم سے پہلی قومیں
17:05تباہی برباد اس لی ہوئیں
17:07ہلاک ہی اس لی ہوئیں
17:08کہ وہ جب ان میں سے
17:09کوئی چھوٹا گناہ کرتا تھا
17:12تو اسے سزا دی جاتی تھی
17:13اور جب ان کا کوئی بڑا گناہ کرتا تھا
17:16تو اس کے لیے قانون بنا کے
17:17اسے ماف کر دیے جاتا تھا
17:19اور وہی فرمان جو آپ نے
17:20بیان کیا ہے
17:22کہ حکومت کفر پر تو قائم رہ سکتی ہیں
17:24مگر ظلم پر نہیں
17:25تو ہر معاشرہ
17:28ایک چیز کا تقاضہ کرتا ہے
17:30کامیابی کی طرف
17:31رختے سفر باندنے کے لیے
17:33کہ عدل و انصاف قائم کیا جا سکے
17:36سرکار دوالم علیہ السلام نے
17:39جب عدل و انصاف کی بات کی
17:41تو مسلم شریف کی حدیث ہے
17:42کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا
17:44بروز معاشر
17:45کچھ لوگ اللہ رب العزت کی دائیں جانب ہوں گے
17:48اور وہ نور کی طرح چمکتے ہوں گے
17:51تو پوچھا جائے گا
17:52کہ یہ کون لوگ ہیں
17:53جو چمک رہے ہیں
17:54تو کہا جائے گا
17:55یہ وہ لوگ ہے
17:56کہ جب ان کے پاس فیصلہ آتا تھا
17:58تو یہ عدل کے ساتھ کرتے تھے
17:59انصاف کے ساتھ کرتے تھے
18:01اور پھر اگر اسے آگے بڑھ کے بات کریں
18:04تو دور نبوی کے اندر جو عدل تھا
18:07وہ تو تھا ہی
18:08کہ آقا علیہ السلام نے
18:09جس طرح یہودیوں کے ساتھ
18:11عدل کیا
18:12انصاف کیا
18:13اور ایک چیز تیپ آئی
18:15ایک مقام پر
18:16کہ یہودیوں نے کہا
18:17کہ آپ ہمیں سزا نہ دیں
18:19ہمیں درب
18:20یا سے دربدر نہ کریں شہر سے
18:22ہم آپ کے پاس رہتے ہیں
18:24زراعت کریں گے
18:25جو بھی معاملہ ہم کریں گے
18:27آدھ آدھ آدھ
18:27آدھ ہمارا حصہ ہوگا
18:29آدھ حضور آپ لے لیجی گا
18:31میرے آقا علیہ السلام نے تسلیم کیا
18:32اور پھر جب وہ خیبر میں واپس
18:35چلے گئے سارے
18:36اور آقا علیہ السلام نے
18:37جب بھی ان سے مال لینا ہوتا
18:39ایک صحابی جاتے
18:40تو وہ جا کے
18:41جب ان سے تقاضہ کرتے مال کا
18:43تو آدھ آدھ آدھ مال لے لیتے
18:45وہ رکھ دیتے کہ یہ مال ہے
18:46صحابی خود آدھ آدھ آ کرتے
18:48اور آدھ آدھ آ کرنے کے بعد
18:50قبلہ
18:50مزید کی بات یہ ہے
18:52لطف کی بات یہ ہے
18:53کہ وہ صحابی کہتے
18:53دونوں کو میں نے برابر آدھا تقسیم کر دیا ہے
18:56اب تم یہودی ہو
18:57حالانکہ ہم تم سے شدید نفرت کرتے ہیں
19:00اس لیے کہ تم نبیوں پر جھوٹ بانتے ہو
19:02اب تمہاری مرضی ہے
19:04کہ ان میں سے جو مرضی ہمیں دے دو
19:05جو مرضی خود رکھ لو
19:07تاکہ تم یہ نہ کہو
19:08کہ ہم نے تمہارے ساتھ عدل نہیں کیا
19:10اور وہ یہ بات جب سنتے کہ
19:12ہمارے ساتھ شدید نفرت کے باوجودی
19:14ہمارے ساتھ عدل کا رشتہ نہیں توڑتے
19:16انصاف کا رشتہ قائم رکھتے ہیں
19:18تو ان کی زبان ایک جملہ کہتی تھی
19:20اسی وقت
19:21کہ اسی وجہ سے
19:22محمد عربی علیہ السلام کے دین کے
19:24عدل اور انصاف کی وجہ سے
19:26آج زمین بھی اپنی جگہ پر موجود ہے
19:28اور آسمان بھی اپنی جگہ پر موجود ہے
19:30آپ دورے سے آبا اکرام کے اندر جا کے دیکھیں
19:32کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ اتارہوں کا بیٹا
19:35آپ کے سامنے کھڑا ہے
19:36اور سوال جواب کر رہا ہے
19:38آپ حضرت عمر فاروق کو اس مقام پر بھی دیکھتے ہیں
19:40کہ جب کہنے والے نے کہا تھا
19:42کہ جناب ہمیں بھی کپڑا ملا اور آپ کو بھی کپڑا ملا ہے
19:45ہمارے اس کپڑے سے ہمارا کرتہ نہیں بنا
19:47آپ کا کرتہ کیسے بن گیا ہے
19:48اور آپ نے اپنے آپ کو عدالت میں کھڑا کیا
19:51جاجی کے سامنے کھڑا کیا
19:52کازی کے سامنے کھڑا کیا
19:54اور بقاعدہ طور پر بتایا
19:56کہ میرے بیٹے نے مجھے اپنا کپڑا دیا
19:58اور میری کمیز پوری سی لیے
19:59تاکہ تم ہمارے لیے وہ چیز بند کر رہے ہیں
20:01جو اللہ نے ہمارے لیے جائز کی ہے
20:03تو آپ کی زبان نے وہ جملہ بھی کہا تھا
20:05کہ زمانے نے وہ بھی سنا
20:06کہ اس مقام پر یہ بی بی سچ کہہ رہی ہے
20:09اور مجھ سے خطا ہوئی ہے
20:10یہ عدل و انصاف کا جو ایک رشتہ ہے
20:13جو سرکار دو عالم نے قائم کیا
20:15جب تک زمانہ جو جو قومیں
20:17اس عدل و انصاف کے ساتھ چلتی ہیں
20:19کامیابی ان کا مقدر بنتی ہے
20:21جو اسے چھوڑ دیتی ہے
20:23اپر اس وائی ان کا مقدر بنتا وہ دیکھ رہے ہیں
20:26ٹھیک ٹھیک
20:27اچھا کبلہ یہ جو
20:28آزادی رائے کا حق پوری دنیا میں
20:31بڑا اس کا جو ہے وہ
20:32ڈھنڈورہ پیٹا جاتا ہے
20:34اور وہ معاشرے کہتے ہیں کہ
20:36ہم نے آزادی اظہار رائے جو ہے
20:38یہ دیا ہوا ہے
20:39اس کی کیا حدود و قیود ہیں
20:42کتنی آزادی اس کو حاصل ہے
20:43کہ وہ جو اس کا دل چاہے
20:45وہ کہتا پھرے یا اس کی کوئی لیمیٹیشنز ہیں
20:48آزادی رائے اظہار شہریوں کا حق ہے
20:50لیکن کتنا
20:52آزادی رائے کے حق کو
20:54بنیادی حق تسلیم کیے بغیر
20:56اور اس کا خیر مقدم کیے بغیر
21:00کوئی ملک
21:00معاشرہ تحریک جماعت
21:02نہیں رہ سکتی
21:04کوئی آرگنائزیشن
21:05چونکہ اس پر آزادی رائے
21:08اپنی رائے پیش کرنا
21:09قرآن مجید میں بھی حکم ہے سورہ شورہ کے اندر
21:11کے مشاورت کر لینی چاہیے
21:15رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
21:16غزوہ بدر میں جب
21:18حضور علیہ السلام نے جگہ کا تائین فرمایا
21:21تو ایک صحابی تھے
21:23حضور علیہ السلام کے غلام تھے
21:26حباب بن منظر
21:27رضی اللہ تعالی عنہ
21:28تو انہوں نے آگے بڑھ کر ارز کیا کہ
21:30یا رسول اللہ یہ اللہ کا حکم ہے
21:32یا آپ کا حکم ہے آپ کی رائے ہے
21:34حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ میرا خیال ہے
21:37میری رائے ہے تو اس نے عرض کیا کہ
21:39حضور اگر اس جگہ کی بجائے
21:41یہ جگہ کر لی جائے
21:43تو اس میں بہتری ہے حضور علیہ السلام
21:45نے نہ صرف
21:47اس کے مشورے کو قبول فرمایا
21:49بلکہ اس کو سراحہ بھی
21:51اس طرح ابھی شاہ صاحب نے ادرہ سیدنا فاروق عاظم
21:53رضی اللہ تعالی عنہ کی مثال دی ہے
21:55تو اسی طرح حکومت وقت کے سامنے
21:58اپنی ازادی رائے کا اظہار کرنا
22:00لیکن اس کی لیمیٹیشن کی جو بات کی گئی ہے
22:02تو اس میں کیا ہے
22:03کہ اس میں فساد نہ ہو
22:07اس میں جو ہے
22:08تعصب نہ ہو
22:10اس میں بدتمیزی کے ایسا طوفان نہ اٹھا لیا جائے
22:13کہ جو تمام حدودوں کو
22:15یود کو پامال کرتا ہوا نظر آئے
22:17اس کے اندر رہتے ہوئے
22:18ہم کو یہ پہلی بات تو یہ ہے
22:20کہ دیکھنے والی بات سوچنے والی یہ
22:21کہ قرآن و سنت اس پر کیا
22:24جو ہے حق جاری فرماتا ہے
22:26پھر اس کے بعد ہمارا جو آئین ہے
22:29وہ کیا کہتا ہے
22:30پھر اس کے بعد ایک بہت اچھے طریقے سے
22:34بہت اچھے پیرائے میں
22:35اپنے اس اظہار کو
22:37اپنے معاشرتی
22:39اور اپنا قبائل کے لحاظ سے
22:41اس بات کو اٹھایا جائے
22:43اور پھر اس طریقے سے
22:45پیش کیا جائے
22:45یہ نہ ہو
22:46کہ سڑکوں پر بزاروں پر دنگا فساد ہو
22:49اور ہم یہ کہیں
22:49کہ ہم اظہار ازادی رائے کر رہے ہیں
22:51تو یہ اظہار ازادی رائے نہیں ہے
22:53چھیک
22:54اس کے لیے لازم یہ ہے
22:55کہ ایک خاص مقام پر
22:57خاص جگہ پر ہم اس بات کو
22:59حکومت وقت تک
23:00اور اپنے سربراہان تک پچھائیں
23:02کہ بھئی قرآن و سنت
23:03اور جو اپنے ہمارے ملک کا آئین ہے
23:06اس کی پامالی ہو رہی ہے
23:07ان ان معاملات میں
23:09چھیک
23:09تو ہم ان کو آپ تک پچھانا چاہ رہے ہیں
23:12تاکہ ان پر غور و خوض کیا جائے
23:14بلکل چھیک
23:14تو یہ بہت ضروری عمل ہے
23:16اپنی آپ ازادی کا اظہار بھی کر سکتے ہیں
23:19رائے دے سکتے ہیں
23:20رائے دینا اچھی بات ہے
23:21مشورہ کرنا اچھی بات ہے
23:23لیکن اس مشورے
23:25اپنے مشورے کو
23:26اس حالت میں پیش کیا جائے
23:27کہ آپ اس میں
23:28بڑی عزت و احترام کے جذبے
23:30کو مدنظر رکھتے ہوئے
23:32تاکہ فرمایا گیا ہے
23:33کہ اللہ رسول کے بعد
23:34اپنے حاکم کی
23:35بھی تائید کی جائے
23:37تو ہم اپنے جو حاکم وقت ہیں
23:39ان تک بھی اس طریقے سے بات پچھائیں
23:41کہ اس میں
23:42جو ہے ہمارا
23:44جو گفتگو ہے
23:45ہمارا جو طریقہ کار ہے
23:46ہمارا جو اظہار کرنے کا
23:49طریق ہے
23:50وہ بہترین ہونا چاہیے
23:51بلکل ٹھیک
23:51جی کاری صاحب کیا فرماتے ہیں
23:53جناب آپ پہ سوال ہے
23:54اللہ ڈاک صاحب
23:54یہ جو
23:55ایک دوسرک شہری کے حقوق ہیں
23:57بڑا ہم موضوع ہے آج کا
23:58کریم آقا علیہ السلام کا فرمانی
24:00علی شان ہے
24:04مسلمان وہ ہے
24:05جس کی زبان سے
24:06اس کے ہاتھ سے
24:07کسی کو تکلیف نہ پہنچے
24:09حضرت انس بن مالک
24:10رضی اللہ تعالیٰ سے مروی ہے
24:11کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا
24:13جس معاشرے میں تم رہتے ہو
24:14فرمایا
24:15وہ معاشرہ کیسا ہونا چاہیے
24:17اور کیسے حقوق ہونے چاہیے
24:18کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا
24:20کہ تم کسی کے ساتھ حسد نہ کرو
24:22کسی کے ساتھ بغض نہ کرو
24:24اور کسی کی غیبت نہ کرو
24:25یعنی ایسا تمہارا کردان ہونا چاہیے
24:28کہ تمہارے وجود سے خوشبو آئے
24:29پھر کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا
24:31ایک دوست کا
24:32ایک شہری کا دوست ہے
24:34it's true that he's.
24:35He wrote anitésimo,
24:37.
24:37When the prison system is written,
24:40give
24:41right
24:46to
24:47Also, if you have a trust, if you're using it, then you're using it.
24:50You have to write a trust.
24:52If you have a trust in Allah, when you have a trust, if you have a trust, then you have
25:04to write a trust, then you're using it.
25:17What is that if the re-saholic can be at it and where there is a place where he would
25:19be.
25:20The niya'an-tum bait te ho Allah ki raamad mi doop jate ho.
25:23I mean itna itna a dis ka a k dousi ka fiyal rukhna.
25:28Karim Akah alayhi sallam ki bada ga.
25:29had a husband of a yaho dhi bachya jho Ruzana Khudur asal sa liha sallam yaha欢äche yehudi bachya jho, Ruzana
25:32Khudur asal sa lihaf selber ko hasi mahobat kata.
25:34Ruzana Khudur, Karim Akah alayhi sallam shiris yahe否.
25:36Ita egun sir.
25:37Harikarne dikhaa, wou mwjood ngey ka.
25:38کریم آقا نے پوچھا وہ کدھ رہی ہے
25:39صرف وہ تو بیمار ہو گیا
25:40تو کریم آقا شہری کے ہوں
25:43مسلمان کے نہیں
25:44اگر اقلیت ہی بھی ہے
25:46تو کریم آقا اس کے گھر تشیلے گئے
25:47اور کہا کہ تو کلمہ پڑھ لے
25:49تو جنت تیرا انتظار کر دی ہے
25:50اس کے باپ نے شعرہ کیا
25:52جیسے امام الانبیاء کہتے ہیں
25:53بیسے ہی کر لیں
25:55اچھا شاہ صاحب دو بہت بنیادی چیزیں ہیں
25:57اور میں سمجھتا ہوں
25:59کہ اس کے اوپر کوئی بھی معاشرہ ہو
26:00کوئی بھی تہذیب ہو
26:01کوئی بھی شہر ہو
26:04تو اس میں جان اور مال کا جو تحفظ ہے
26:07اور امن و امان
26:08یہ ہر شہری کا حق ہے
26:10تو اس کے حوالے سے کیا فرماتے ہیں
26:12کہ یہ حق جو ہے
26:14وہ دنیا میں بہت مفقود ہوتا جا رہا ہے
26:16جان و مال کا تحفظ اور امن و امان
26:18یہ بنیادی چیزیں ہیں
26:20اور ان کا ہونا بہت ضروری ہے
26:22بڑا اہم سوال ہے
26:23دیکھیں حجت الودا کا خطبہ
26:26اگر سامنے رکھیں
26:27تو آق علیہ السلام نے بڑا واضح فرمایا
26:29کہ تمہاری جان
26:30تمہارا مال
26:32یہ دونوں یہ چیزیں
26:33تمہاری عزت بھی
26:35دوسرے کے لیے فرمایا حرام ہے
26:37کوئی ان کو تحچ نہیں کرے گا
26:39اس پر امان دینی ہے
26:41اور شہری کے لیے بھی سب سے
26:42اہم ترین چیزیں
26:44تین چیزیں ہی ہوتی ہیں
26:45اس کی جان ہے
26:46اس کا مال ہے
26:46اس کی عزت ہے
26:47یہ تینوں چیزیں
26:49اور یہ اس کا بنیادی حق بھی ہے
26:52کہ اس کو عزت بھی ملے
26:53عزت نفس مجرور نہ کی جائے
26:55اس کے مال کو
26:57اس کا امان ملے
26:58اس کی جان کی اس کو امان ملے
26:59اب آگے چلیں
27:01اگر اسی موضوع کو لے کے
27:02تو سرکار دوالم علیہ السلام نے
27:04واضح تین ارشاد فرمایا
27:06کہ جو کسی
27:08جیسے کاریس صاحب قبلہ فرما رہے تھے
27:10کہ بہترین مسلمان کون ہے
27:12اس کے اندر سے آپ نے اشارہ کیا
27:14تو آق علیہ السلام نے بھی اسی طرح فرمایا
27:16کہ جب تم اپنی زبان کی حفاظت کرتے ہو
27:18کسی دوسرے کی عزت محفوظ کر کے
27:20حافظ اللسان
27:22تو فرمایا کہ
27:23پھر تمہارا خود جنت انتظار کرتی ہے
27:25پھر فرمایا
27:26اگر تم اپنے شہری کا خیال رکھتے ہو
27:28چلتے ہو
27:29اور کسی کو کھانا کھلا دیتے ہو
27:30تو مطعیم جیان
27:31تم کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیتے ہو
27:34پتہ اور شہری
27:34تو جنت تمہارا انتظار کرتی ہے
27:36پھر فرما دیا
27:37مکسل اوریان
27:38اگر تم کسی کے اپ پر پردہ ڈال دیتے ہو
27:41تو پھر بھی جنت تمہارا انتظار کرتی ہے
27:43چیزیں ایسی ہیں
27:44جو بلکل ختم ہوتی جا رہی ہیں
27:46اس میں کوئی شک نہیں
27:47جیسے
27:48آپ نے اشارہ کیا
27:50کہ نہ جان کی
27:51نہ مال کی
27:52اور نہ عزت کی
27:53حالانکہ یہ تین چیزیں بنیادی چیزیں تھیں
27:55اور بلکل ہم اس پر کوئی اگری نہیں کرے گا
27:59کہ جیسے بلکل میری محفوظ ہے
28:01وہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے
28:02اور حالانکہ بنیادی تین چیزیں ہی یہ تھی
28:05جس پر ہمارا کوئی بھی
28:06جو ہے وہ بندہ جو ہے وہ
28:08پکا نہیں ہے
28:09کہ میری محفوظ ہے
28:10کسی کوئی شورٹی نہیں ہے
28:12اور بہترین معاشرہ وہ ہے
28:14کہ جس معاشرے کے اندر
28:16انسان کی جان
28:17اس کا مال
28:18اور اس کی عزت محفوظ رہ جائے
28:20یہاں پر میں رکھ کر ایک بات اور کرتا چلوں
28:23ہمارے پاس جب
28:25آزادی جس طرح گفتگو ہو رہی تھی
28:27تو آزادی رائے کے اندر
28:29ایک چیز شامل اور کرتے ہیں
28:31بالکل آزادی رائے کا حق ہے
28:34آرٹیکل نائنٹین کے اندر بھی یہی ہے
28:35کہ وہ بول سکتا ہے
28:36اس کی زبان جو ہے اس کی آواز جو ہے
28:38وہ حق رکھتی ہے کہ بولا جائے
28:40ڈاکس صاحب نے بڑی خوبصورت باز فرمائی
28:43ہمارے پاس دو چیزیں ہیں
28:44ان کو نہیں ٹچ کر سکتے
28:46قومی سلامتی کو نہیں ٹچ کریں گے
28:48اور دفاع کو نہیں ٹچ کریں گے
28:50یہ دو چیزیں چھوڑ کر جیسے ہمارے
28:52ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب نے کہا تھا
28:54کہ آزادی رائے کی آر میں چھپ کر
28:56ہم جو ہے وہ قومی سلامتی کو نقصان نہیں دیں گے
29:00اور دفاعی نظام کو نقصان نہیں دیں گے
29:02ان دو چیزوں کو ہم چھوڑ دیں گے
29:04اور پھر ہم کسی کی پگڑی اچھا لیں
29:06اسے آزادی رائے نہیں کہیں گے
29:08کسی کی عزت نفس مجروع کریں
29:09اسے آزادی رائے نہیں کہیں گے
29:11اور پھر اس کے ساتھ ساتھ ہم کسی بھی جان کو نقصان میں ڈال دیں
29:15قومی سلامتی کے ساتھ یعنی کہ
29:16اس کو ہم آزادی رائے نہیں کہیں گے
29:18آزادی رائے بلکل جائز ہے
29:20کر سکتے ہیں آپ کا بنیادی حق ہے
29:22آپ کریں اور کرنے کا حق بھی ہے
29:24لیکن مختصر یہ
29:26کہ آپ کی زبان سے
29:29قبلہ کاری صاحب کے الفاظ
29:30کہ کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے
29:33اس کی جان بھی محفوظ رہے
29:34اس کی عزت بھی محفوظ رہے
29:36بطور شہری یہ چیزیں ہمارے لئے بلکل ضرور ہیں
29:38بلکل ٹھیک
29:39اچھا پیر صاحب یہ جو معاشی حق ہے
29:42اور یہ بھی
29:44ہر ایک کو ملنا چاہیے
29:45کہ وہ اپنی جو ذمہ داریاں ہیں
29:47معیشت جو اس کی ہے جو اس کا فنانس ہے
29:50اس کی کریئیشن کے لیے
29:53یقصہ سہولتیں
29:54سب کو ملنی چاہیے اس کے اوپر بات کرتے ہیں
29:56لیکن ایک چھوٹے سے وقفے کے بعد
30:10شان رمضان
30:11ہے مومینوں کے دل کا
30:14اجالہ شان رمضان
30:17ہے مومینوں کے دل کا
30:19اجالہ شان رمضان
30:22شان رمضان
30:24جی ناظرین
30:25کشامدیت کہتے ہیں
30:26وقفے کے بعد آپ کو
30:26پروگرام دیکھ رہے ہیں
30:27آپ حقوق العباد اور شہریوں کے حقوق پہ
30:30ہم بات کر رہے ہیں
30:31اور بریک پہ جانے سے پہلے
30:32پیر صاحب کی خدمت میں میں نے ارس کیا تھا
30:34کہ جو
30:34معاش کے حصول
30:36کے جو حق ہیں یا حقوق ہیں
30:39وہ سب کے لیے equal ہونے چاہیے
30:41ہر بندہ اپنی
30:42صلاحیت کے مطابق
30:43اپنی
30:44جو ہے وہ
30:45capability کے مطابق
30:46جو ہے وہ
30:47معاشرے سے اپنا risk کما سکے
30:49یہ بھی بہت important ہے
30:50کیا فرماتا ہے
30:51جی دیکھیں
30:52ڈرس صاحب
30:52شہریوں کے حقوق میں
30:54سب سے پہلا حق
30:55میں سمجھتا ہوں یہ ہے
30:56چیک
30:56کیونکہ ان کے کھانے پینے کے
30:58معاملات میں
30:59آسانیاں پیدا ہوں گی
31:01ہم
31:01تو تب ہی تو دوسرے معاملات
31:02کیے جا سکیں گے
31:03ہم
31:04اگر ان کو فکر معاش ہے
31:06اور معاش پورا ہی نہیں ہو رہا
31:08ایک غریب آدمی ہے
31:09اس کی شہدری بہت کم ہے
31:10اس کے اخراجات بہت زیادہ ہیں
31:12کسیر الایال ہیں
31:13تو اس کے لیے
31:14سب سے پہلی
31:15اور اپنا بڑی چیز یہی ہے
31:16کہ اس کی جو معاشر ہے
31:18وہ بہتر ہو
31:18اس کے معاشری معاملات
31:20دیکھیں
31:21ہمیشہ وہ
31:22حکومتیں ترقی کرتی ہیں
31:23وہ ملک ترقی کرتے ہیں
31:25اپنے معاشرے کو
31:26معیشت کے بہران سے نکالتے ہیں
31:28ہم
31:29تو معیشت کے بہران سے
31:30جو معاشرہ نکلتا ہے
31:31اس معاشرے میں
31:32آسانیہ پیدا ہوتی ہے
31:33ٹھیک
31:33اس معاشرے میں
31:34سہولیات پیدا ہوتی ہیں
31:35ان کا رینڈ سینڈ بہتر ہوتا ہے
31:37دیکھیں
31:38فرمایا گیا
31:38کہ اگر آپ کو
31:39سخت بھوک بھی لگی ہے
31:40اور نماز کا وقت بھی ہو گیا
31:42تو پہلے کھانا کھالیں
31:43پھر نماز پڑھیں
31:44اس لیے
31:44کہ آپ کو اس طرف
31:55معاملات پر آ کر
31:56شہریوں کے حقوق میں
31:57سب سے بڑی بات یہ ہے
31:58ان کی معیشت کے لیے
31:59معاملات کیے جائیں
32:00ان کے لیے
32:01جو ہے
32:02کرخانے لگائے جائیں
32:03سنتکاری کی انتظامات
32:04کیے جائیں
32:05اور پھر جو
32:06اپنا بہترین
32:07ان کو جگہ
32:08مہیا کی جائیں
32:08جس طرح ہمارے ملک میں
32:10آج جو ہے
32:11بہترین طریقے سے
32:12جو ریڈی لگانے والا بھی ہے
32:14اس کو بھی خاص جگہ
32:15دی جا رہی ہے
32:16کہ بھئی یہاں آ کر
32:17تم اپنی دکانداری کرو
32:18یہاں بیٹھ کر
32:19تم جو ہے
32:20وہ ریڈی لگاؤ گے
32:21تمہارے لیے
32:22آسانی پیدا ہوگی
32:23سڑکیں کشادہ ہوگی
32:24راستے کھلے ہوں گے
32:25بازار اچھے لگیں گے
32:27تو یہ تمام چیزیں
32:28حکومتوں کی
32:29جو ہیں
32:29اپنا ان کے ذمہ
32:31جو ہیں ہوتی ہیں
32:32اور ہمارے ملک میں
32:34اس پر بہت غور کیا جا رہا ہے
32:35تو معیشت کے بہران سے
32:37ملک کو نکالا جا رہا ہے
32:38تو یہ جو کابشیں ہوتی ہیں
32:47کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق
32:49کو مدن نظر رکھتے ہوئے
32:50جو ہے ان کے معاملات
32:51کو کر رہے ہیں
32:52اور اپنے ملک کی ترقی کے لیے
32:54ہمیشہ کے لیے کوشہ ہیں
32:55کیا بات
32:56تو اس لیے یہ سب سے پہلا حقوق
32:58جی کاری صاحب کیا جناب
33:00ساری جو گفتگو ہے
33:01شہری حقوق کے حوالے سے
33:03اس کو سمپ کریں
33:04پیغال بھی شامل کریں
33:05جو پی صاحب نے بیان فرمایا
33:07کہ شاہ صاحب نے اس حوالے سے
33:08ارز کرتا ہوں کہ
33:09سب سے بڑی جو ذمہ داری ہے
33:11کمت وقت پہ
33:12انتظامیہ پہ
33:12وہ معاشی ہے
33:14کیونکہ معاشی قتل جو ہے
33:16وہ انسان کے قتل سے بھی
33:18زیادہ خطرناک ہے
33:19یعنی معاشی کہتے ہیں
33:20کہتے ہیں نا
33:20کہ جو غربت ہے نا
33:24انسان کو کفر تک لے جاتی ہے
33:26اور غربت انسان سے
33:27وہ وہ گناہ کراتی ہے
33:28کہ انسان کے وہ گمامے نہیں ہے
33:30سب سے جو اہم ذمہ داری ہے
33:32ایک شہری کا جو حق
33:39پاکستان سے نکل کے باہر چلا جائے
33:40جو حقدار ہیں
33:42جن کے پاس
33:43ڈگرییاں موجود ہیں
33:43ان کو
33:44بہتر مواقع دینے چاہیے
33:45اور جو بندہ معاش
33:47کی تلاش کے لیے چلتا ہے
33:49بڑی خوبصورت حدیث پاک
33:50بڑی پیاری حدیث پاک
33:52کریم آقا علیہ السلام
33:53نے فرمایا
33:54بعض گناہ ایسے ہیں
33:55جو نماز پڑھنے سے بھی
33:57معافنی ہوتے
33:57بعض گناہ ایسے ہیں
33:58جو
33:59زکاة دینے سے بھی
34:00معافنی ہوتے
34:01صدقہ و خیرات
34:02کرنے سے بھی
34:02معافنی ہوتے
34:03یہاں تک کہ
34:04حج کرنے سے بھی
34:04معافنی ہوتے
34:05یا رسول اللہ
34:06وہ کون سے گناہ ہیں
34:07جو ان
34:09احکام پر عمل پیارہ
34:10ہو کے بھی
34:10وہ معافنی ہوتے
34:11تو
34:12کریم آقا علیہ السلام
34:13نے فرمایا
34:13ہاں ایک طریقے سے
34:14معافنی ہوتے ہیں
34:15کہ جب بندہ
34:16معاش کے لیے نکلتا ہے
34:18قصب حلال کماتا ہے
34:19القاسب حبیب اللہ
34:20اس کے راستے پر
34:21گامزن ہوتا ہے
34:21جو اسے پسینہ آتا ہے
34:23پسینہ
34:24فرمایا
34:24اس پسینے سے
34:25وہ گناہ بھی
34:26معافنی ہوتے ہیں
34:27جو نماز سے
34:27معافنی ہوتے ہیں
34:28اللہ حافظ
34:29تو سب سے بڑی تو بات
34:30یہ ہے کہ
34:30معاشی طور پر
34:31حکومت پاکستان کو
34:32چاہیے کہ
34:32ہر بندے کو
34:33بہتر مواقع دینا چاہیے
34:35اور جو
34:36صرف شفارشیں نہیں
34:38ہونی چاہیے
34:38ٹیلنٹ ہونا ہے
34:39تو حق دار کو
34:41حق ملنا چاہیے
34:42یہ حکومت پاکستان
34:43پر انتظامیہ پر
34:44یہ لازم ہے
34:45بلکل ٹھیک جی
34:46قبلہ شاہ صاحب
34:47کیا فرماتے ہیں جناب
34:48اس پہ
34:49کنکلوڈ کر لیں
34:50اور پیغام بھی
34:50شامل کر لیں
34:51بہت اچھی بات کی ہے
34:52اور چونکہ
34:53یہ عوام کا حق ہے
34:55اگر
34:55گورنمنٹ حکومت
34:57یہ دیتی بھی ہے
34:58تو یہ کسی پہ
34:59احسان نہیں ہے
35:00یہ عوامی حق ہے
35:01اگر عوام کو
35:02ملتا ہے
35:03تو بڑی اچھی
35:03عالی بات ہے
35:04کیونکہ
35:05حضرت عمرہ فاروق
35:05رضی اللہ تعالیٰ
35:06نو آپ کا یہ حوالہ دوں گا
35:08آپ نے فرمایا تھا
35:09اگر دریائے
35:10فرات کی کنارے پہ
35:11کتہ پیاسا مر جائے
35:12ہم تو پھر
35:13انسانوں کی بات کر رہے ہیں
35:15اسلام میں
35:16تو کتہ بھی پیاسا مرے
35:17تو اس کا بھی حساب دینا پڑے گا
35:18اور اس کا بھی حساب دینا پڑتا ہے
35:19تو پھر انسان
35:21اگر بھوکا مرے گا
35:22تو پھر اس کا حساب دینا پڑے گا
35:23اور اگر ہمارے
35:25جو ہے وہ
35:26حکومت کے اندر
35:27حباب جو ہیں
35:28وہ اس پر کام کر رہے ہیں
35:29تو یہ بڑی عالی بات ہے
35:30اور
35:31اگر میں اس پر ہی بات کروں
35:33تو
35:34بھوک اور پیاس کی وجہ سے
35:36بڑی عالی بات کی
35:37کہ گناہوں کی طرف
35:38پھر انسان رغبت کرتا ہے
35:40تو اس کا
35:41ذمہ کس کے اوپر جائے گا
35:42پھر یہ بھی دیکھا جائے
35:44اگر وہ
35:45بھوک کی وجہ سے
35:46افلاس کی وجہ سے
35:47وہ گناہوں کی طرف جاتا ہے
35:49تو اس کا ذمہ جو ہے
35:53اگر ہمیں سہولیات ملتی ہیں
35:56تو یہ بھی بڑی عالی چیز ہے
35:57وہ اپنے گناہ کم کروا رہے ہیں
35:59اپنے اوپر برڈن کم کروا رہے ہیں
36:00تو اللہ تعالی انہیں
36:01ہمارے پاکستان کی خیر فرمائی
36:04اور ہمارے شہری جتنے بھی ہیں
36:07شہریوں کے حقوق کی بات ہے
36:08تو شہریوں کے ذمہ داری بھی ہے
36:10مثال کے طور پر
36:11میرے پاس اگر
36:12زیادہ سہولیات ہیں
36:14تو میں ان کو اس طرح سے
36:16یوٹلائز کروں
36:17کہ کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے
36:19مثال کے طور پر
36:20پانی کا زیادہ جو ہے
36:21آپ دیکھیں کتنا بڑا مسئلہ ہے
36:23کہ میرے پاس اویلیبل ہے
36:24تو میں اس کو اتنی برے طریقے سے
36:26استعمال کرتا ہوں
36:27اتنا زیادہ کرتا ہوں
36:27اور کسی کے پاس اویلیبل ہی نہیں ہے
36:29کوئی طلابوں سے پانی پی رہا ہے
36:31تو یہ شہریوں کی ذمہ داری کے اندر
36:33حقوق کے ساتھ ساتھ
36:35شہریوں کی ذمہ داری بھی ہونی چاہیے
36:36کہ اگر آپ کے حقوق پورے کیے جا رہے ہیں
36:39تو کم از کم اپنی ذمہ داری کا بھی احساس کریں
36:41کہ جو چیزیں آپ کو مہیا کی جا رہی ہیں
36:43جن کو نہیں کی جا رہی
36:44آپ ان کا خیال ضرور کریں
36:46بلکہ شہر صاحب
36:46اس میں میں ایک چیز کا اضافہ کرنا چاہوں گا
36:48کہ حقوق
36:50اسلام
36:50اسلام
36:51جو ہے اتنا عالمگیر مذہب ہے
36:53کہ جناب کافر بھی اپنی امانتے رکھواتے ہیں
36:56تو سرکار دو عالم کی بارگمہ رکھو
36:57کیا عالمگیر مذہب ہے
36:59اور یہ یقین کریں
37:01کافر نبی پاک کو مان نہیں لے
37:02کلمہ نہیں پڑھ رہے
37:03لیکن وہ سمجھتے ہیں
37:05کہ مسلمان ایسا ہے
37:06نبی علیہ السلام کی ذات ایسی ہے
37:08کہ جناب وہ اپنی امانتے بھی
37:10کریم آقا کی بارگمہ سپرد کر دیں
37:11تو مسلمان کو بھی ایسا ہونا چاہیے
37:13ایسا ہونا چاہیے
37:14بہت شکریہ
37:15جناب پیر عرفان الہی قادری صاحب
37:17جناب قاری محمد یونس قادری صاحب
37:19جناب سید امیر حسنات شاہ صاحب
37:20جناب عمجد رشید صائم صاحب
37:23ابھی ہم آپ سے کلام لیتے ہیں
37:24ناظرین اکرام شہریوں کے حقوق کے حوالے سے
37:26آج ہم نے قرآن و سنت کی روشنی میں
37:28اور موجودہ جو نظام ہے
37:30اس کے اندر جو شہریوں کی ذمہ داریاں ہیں
37:33اور جو ان کے حقوق ہیں
37:34اس کے اوپر
37:35ہم نے اپنے مہمانوں سے رہنمائی لی
37:37نات کے چند اشار
37:38حرص کرتے ہوئے
37:40آپ سے اجازت طلب کرنی ہے
37:42اور مدینہ منورہ کی
37:44حاضری کے حوالے سے
37:45اور وہاں پر کہے گے
37:47یہ اشار ہیں
37:48اور بہت سارے خوشنصیب جو ہیں
37:49وہ اس مہینے میں
37:50حاضری دیتے ہیں
37:52قافلے موجود ہیں
37:53جا رہے ہیں
37:53جو پہنچے ہوئے
37:55اللہ ان کی حاضری کو
37:56قبول فرمائے
37:57جو جانا چاہتے ہیں
37:58ان کے لئے آسانیاں فرمائے
37:59خیال پر بہار ہے
38:02مدینہ آگیا ہمیں
38:05خیال پر بہار ہے
38:07مدینہ آگیا ہمیں
38:08عجیب سا خمار ہے
38:10مدینہ آگیا ہمیں
38:12میری بسات ہی نہیں
38:14کہ یہاں تلق پہنچ سکوں
38:16میری بسات ہی نہیں
38:18کہ یہاں تلق پہنچ سکوں
38:20عطائے کردگار ہے
38:21مدینہ آگیا ہمیں
38:23دل و نظر کی بیکلی کا
38:25دور تک نشان ہی
38:27قرار ہی قرار ہے
38:29مدینہ آگیا ہمیں
38:32جہاں سے ازن پا رہے ہیں
38:33نکھتوں کے کافلے
38:35وہ صبح نو بہار ہے
38:37مدینہ آگیا ہمیں
38:39قدسیوں کی جس جگہ
38:41کتار ہے لگی ہوئی
38:42یہاں میرا شمار ہے
38:45مدینہ آگیا ہمیں
38:47یہاں میرا شمار ہے
38:49مدینہ آگیا ہمیں
38:51یہاں پہ آکے سوچتا ہوں
38:53اپنے آپ سے ملوں
38:54یہاں پہ آکے سوچتا ہوں
38:57اپنے آپ سے ملوں
39:05کمر جھکی ہوئی ہے
39:07اپنی معصیت کے بوجھ سے
39:13نظر بھی شرم سار ہے
39:15مدینہ آگیا ہمیں
39:17کرم نوازیوں کا شکر ہو
39:19ادا تو کس طرح
39:20بس آنک شکبار ہے
39:22مدینہ آگیا ہمیں
39:24جہاں پہ سرور آکے بس
39:26سکون ہی سکون ہے
39:28یہی وہ خلد ظہر ہے
39:30مدینہ آگیا ہمیں
39:32ناظرین اکرام
39:33اجازت دیجئے
39:34انشاءاللہ کل آپ سے
39:35ملاقات ہوگی
39:36کلام شامل کرتے ہیں
39:37جناب امجد رشید سائم
39:39گوجر خان سے
39:40پانچ اشار
39:40بسم اللہ
39:41بسم اللہ
39:54پسارا کا ساہم
40:00مصطفیٰ آپ کے دل پر ہے
40:10پسارا کا ساہم
40:17رحمت حق سے
40:26سیدہ فاطمہ زہرہ کے
40:31گدا ہے
40:34کدسی
40:39مسئلے چھوڑ
40:42اٹھا تو بھی
40:45اے یارا
40:47کاسا
40:52مسئلے چھوڑ
40:54اٹھا تو بھی
40:58اے یارا
41:02کاسا
41:05جس کو نسبت
41:08ہے
41:12مدینہ
41:13کہ
41:15گلی کونچوں سے
41:23بادشاہوں کی
41:25تجوری سے
41:28ہے پیارا
41:30پیارا
41:32کاسا
41:39آپ کے ایک
41:45اشارے سے
41:48ہی بھر سکتا ہے
41:56دامنے دنیا ہو
41:59گر سارے
42:02کسارا
42:04کسا
42:11بھیک ہو جس میں
42:17درے آلے
42:20نبی کی باست
42:31بھیک ہو جس میں
42:36درے آلے
42:39نبی کی باست
42:44لوگ
42:45لاکھ
42:46کا سو
42:47کا
42:48وہ بنتا
42:50ہے
42:51سہارا
42:54کا
42:55سا
42:59سیدہ
43:00فاطمہ
43:02زہرا
43:05ڈا ہے قدسی
43:18سیدا فاطمہ زہرا
43:24ڈا ہے قدسی
43:31مسئلیں چھوڑ اٹھا تو بھی
43:38اے یارہ کسا
43:58اے مومنوں کے دل کا اجالا شانِ رمضان
44:05اے مومنوں
Comments